Al-Maaida 5:73

Al-Maaida · from ayah 73

5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ— وَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ؕ— وَاِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟لَـقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ‌ ۘ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ  ؕ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They have certainly disbelieved who say, "Allah is the third of three." And there is no god except one God. And if they do not desist from what they are saying, there will surely afflict the disbelievers among them a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:73

یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ لوگ (بھی) یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ : اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، اور اگر یہ لوگ اپنی اس بات سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے (ایسے) کفر کا ارتکاب کیا ہے، ان کو دردناک عذاب پکڑ کر رہے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے اور خدا تو نہیں مگر ایک خدا اور اگر اپنی بات سے باز نہ آئے تو جو ان میں کافر مریں گے ان کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ایسے لوگ (بھی) کافر ہوگئے ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے، حالانکہ معبودِ یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور اگر وہ ان (بیہودہ باتوں) سے جو وہ کہہ رہے ہیں بازنہ آئے تو ان میں سے کافروں کو دردناک عذاب ضرور پہنچے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بیشک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ الٰہ تو صرف وہی اکیلا ہے اور اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو کافر رہے انہیں دکھ دینے والا عذاب ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود اور اگر یہ باز نہ آئے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جنہوں نے کفر کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ پکے کافر ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں، سوائے ایک معبود (برحق) کے، اور اگر یہ لوگ باز نہ آئے اپنی ان باتوں سے جو یہ کہتے (بناتے) ہیں تو ضرور بالضرور پہنچ کر رہے گا ان میں سے کافروں کو ایک بڑا ہی دردناک عذاب،

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً وہ (بھی) کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے تیسرا ہے۔ حالانکہ کوئی معبود نہیں بجز ایک معبود کے۔ اور اگر یہ لوگ اپنے (ان) اقوال سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر رہیں گے ان پر عذاب درد ناک واقع ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے جبکہ حقیقتاً نہیں ہے کوئی الٰہ سوائے ایک ہی الٰہ کے اور اگر یہ باز نہ آئے اس سے جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جو کافر ہیں ان پر بہت دردناک عذاب آکر رہے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں۔ اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو جنہوں نے کفر کیا ہے ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who said: 'Allah is one of the Three', certainly they disbelieved, for there is no god save the One God. And if they do not give up this claim, all who have disbelieved among them shall be subjected to painful chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, disbelievers are those who say, :Allah is the third of the three while there is no god but One God. If they do not desist from what they say, a painful punishment shall certainly befall such disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, disbelievers are those who say, :Allah is the third of the three while there is no god but One God. If they do not desist from what they say, a painful punishment shall certainly befall such disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Surely, they have disbelieved who say: "Allah is the third of three." And there is no god but One God (Allah). And if they cease not from what they say, verily, a painful torment will befall on the disbelievers among them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They surely disbelieve who say: Lo! Allah is the third of three; when there is no Allah save the One Allah. If they desist not from so saying a painful doom will fall on those of them who disbelieve.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They have certainly disbelieved who say, "Allah is the third of three." And there is no god except one God. And if they do not desist from what they are saying, there will surely afflict the disbelievers among them a painful punishment.

— Saheeh International

Those who say that God is the third of the Three, have, in fact, turned to disbelief. There is no Lord but God, the only One Lord. If they will not give-up such belief, the disbelievers among them will suffer a painful torment.

— Muhammad Sarwar

Certainly they disbelieve who say: Surely Allah is the third (person) of the three; and there is no god but the one Allah, and if they desist not from what they say, a painful chastisement shall befall those among them who disbelieve.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly they disbelieve who say: God is the third of the three; whereas there is no god except the One God. And if they desist not from that which they say, there shall surely befall those of them who have disbelieved a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

They do blaspheme who say: Allah is one of three in a Trinity: for there is no god except One Allah. If they desist not from their word (of blasphemy), verily a grievous penalty will befall the blasphemers among them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 72–75

خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–76

معارف و مسائل (قولہ تعالیٰ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ) مسیح ؑ کی الوہیت کی تردید (قولہ تعالیٰ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 73–76

تفسیر آیات 73 تا 76:۔ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ مَا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭوَاُمُّهٗ صِدِّيْقَةٌ ۭكَانَا يَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۔ قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–74

73۔ 1 یہ عیسائیوں کے دوسرے فرقے کا ذکر ہے جو تین خداؤں کا قائل ہے، جن کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ ان کی تعبیر و تشریح میں اگرچہ خود ان کے مابین اختلاف ہے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ، انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی اللہ قرار دے لیا، جیسا کہ قرآن نے صراحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حضرت عیسیٰ ؑ سے پوچھے گا۔ " ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ " (کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا ؟) (المائدۃ 112) اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ اور مریم (علیہما السلام) ان دونوں کو عیسائیوں نے اللہ بنایا،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–74

49: یہ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی طرف اشارہ ہے، اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (presons) کا مجموعہ ہے، ایک باپ (یعنی اللہ) ایک بیٹا (یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح القدس اور بعض فرقے اس بات کے بھی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریم ؓ ہیں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں، یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں، اس معمے کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اس لئے ان کے متکلمین (theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔ بعض نے تو یہ کہا کہ حضرت مسیح ؑ صرف خدا تھے انسان نہیں تھے، آیت نمبر 72 میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے، اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَـہٍ إِلاَّ إِلَـہٌ وَاحِدٌ(5 : 73) یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے “۔ اور ان تمام باطل عقائد کی تردید کر کے یہ بتا دیتا ہے کہ تمام رسول جو عقیدہ لے کر آئے ہی وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر عیسائی اپنے ان معقولات سے باز نہ آئے اور ذات باری اور ذات مسیح کے بارے میں ایسی ہی کفریہ باتیں کہتے رہے تو بعید نہیں کہ ان پر دردناک عذاب آجائے اور قیامت کا دن دور نہیں ہے ۔ (آیت) ” وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذباللہ) ان میں ہر ایک کا حصہ دار اللہ ہوا پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں۔ عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہی ہے اور اس خلاف عقل اور بداہت عقیدہ کو عجب گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ایک ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں سچ ہے لن یصلح العطار ما افسدہ الدھر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 72–74

آیت 72 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 17 میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 73–74

120 عقیدہ تثلیث اور اس کا رد :۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ ہونے کی گنجائش نہیں خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک انسان ہی کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا۔ اس عقیدہ کی بنیاد تو یونانی فلسفہ کے افکار و نظریات پر اٹھائی گئی تھی جیسا کہ آج کل بعض مسلمان بھی اسی فلسفہ کے مسئلہ عقول عشرہ پر محمد ﷺ کو اللہ کے نور کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے نظریات عموماً پیروں فقیروں میں فروغ پاتے ہیں۔ انبیاء کے متعلق ایسے نظریات عموماً ان کی عقیدت و محبت میں افراط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

248 ۔ موجودہ مسیحیوں کے کافر بلکہ مشرک ہونے پر یہ صاف نصوص موجود ہیں۔ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ باپ، بیٹا، روح القدس، یہ تین اقنوم (اصل) منفردا بھی خدا ہیں۔ اور مجتمعا بھی، تینوں الگ الگ بھی خدا ہیں اور تینوں مل کر بھی۔ 249 ۔ (جو نہ اقنوموں میں تقسیم ہے نہ اور کسی طرح) (آیت) ” من الہ “۔ میں من۔ زائد کلیت یا استغراق کے لیے ہے۔ اور آیت کے معنی ہیں کہ سرے سے ایسے معبود کا کوئی وجود ہی نہیں، جو صفت وحدانیت سے متصف نہ ہو، من مزیدۃ اللاستغراق (بیضاوی) والمعنی وما الہ قط فی الوجود الا الہ موصوف بالوحدانیۃ لا ثانی لہ (کشاف) اکد ذلک بزیادۃ من الاستغراقیۃ (بحر) 250 ۔ (آخرت میں انکے کفر صریح کے پاداش میں)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–77

قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ یقیناً وہ لوگ کافر ہوگئے۔ جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ یعنی فرقۂ مرقوسیہ اور نصطوریہ کافر ہیں جو تین اقانیم (اصول) کے قائل ہیں۔ تین سے مراد بعض کے نزدیک اللہ عیسیٰ اور جبرئیل ہیں۔ اللہ مرتبۂ ذات کا نام ہے اور عیسیٰ صفت علم کا اور جبرئیل ( علیہ السلام) صفت حیات کا بعض کے نزدیک تین سے مراد ہیں اللہ (باپ) عیسیٰ (بیٹا) اور مریم (بیوی) اور تینوں الٰہ ہیں۔ اس قول کی تائید اللہ کے اس قول سے ہوتی ہے جو قیامت کے دن اللہ عیسیٰ سے فرمائے گا اَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ وما من الہ الا الہ واحد حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 73–74

(73۔ 74) اور مرتوسیہ فرقہ کہتا ہے کہ خدا تین میں کا ایک ہے، یعنی باپ، بیٹا، روح قدس، حالانکہ تمام آسمان و زمین والوں کے لیے بجز ایک معبود حقیقی کے اور کوئی معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے اور اگر یہود ونصاری اپنی خرافات سے توبہ نہیں کریں گے تو ان پر اللہ کی طرف سے ایسا درد ناک عذاب مسلط کیا جائے گا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور توبہ ہی پر مرجائے تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تین میں سے تیسرا قرار دینے والے بھی کافر ہوگئے، جبکہ معبود تو ایک ہی ہے، اب خواہ وہ تین اقانیم، باپ، بیٹا اور روح القدس کو الگ الگ خدا قرار دیں یا کہیں کہ یہ تین الگ الگ نہیں بلکہ مل کر ایک ہی خدا ہیں، بہر حال یہ عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے کافر قرار دیا۔ پھر نیکی کا لبادہ اوڑھ کر شرک پھیلانے والے وہ ظالم جو یہ کہیں کہ ہر چیز ہی خدا ہے اور اسے وحدت الوجود کا نام یا کوئی اور نام دیں، ان کے کافر ہونے میں بھی کیا شک ہے، بلکہ اس عقیدے سے تو قرآن و سنت اور اسلام کی ہر بات اور ہر حکم ہی باطل ٹھہرتا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 73–74

آیت نمبر : 73۔ 74 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلٰثۃ یعنی تین میں سے ایک۔ اور زجاج وغیرہ سے روایت ہے کہ ثالث میں تنوین جائز نہیں۔ اور اس میں عربوں کا ایک اور مذہب بھی ہے کہتے ہیں رابع ثلاثۃ اس بنا پر جر اور نصب جائز ہے، کیونکہ وہ جس نے تین کو چار بنایا ان میں سے ہونے کی وجہ سے۔ اسی طرح جب تو نے کہا : ثالث اثنین تو تنوین جائز ہے۔ یہ نصاری کے تینوں فرقوں ملکیۃ، نسطوریہ اور یعقوبیہ کا قول تھا وہ کہتے تھے : اب، ابن اور روح القدس ایک خدا ہے وہ تین خدا نہیں کہتے تھے۔ یہ ان کے مذہب کا مفہوم ہے، وہ عبادت سے انکار کرتے تھے حالانکہ وہ ان کو لازم ہے جو اس طرح ہوا سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–76

(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ كَفَرَ [ بیشک کفر کرچکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ [ تین کا تیسرا ہے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ اِلٰهٍ [ کسی قسم کا کوئی الہ ] اِلَّآ [ سوائے ] اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭ [ واحد الہ کے ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ يَنْتَھُوْا [ یہ لوگ باز نہ آئے ] عَمَّا [ اس سے جو ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ کہتے ہیں ] لَيَمَسَّنَّ [ تو لازما پہنچے گا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نصاریٰ کی ایک جماعت کا یہ کہنا تھا کہ تین معبود ہیں ان میں سے ایک معبود اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم بنت عمران علیہما الرحمتہ بھی معبود ہیں، اللہ جل شانہ نے ان کا قول نقل فرما کر اور تو ان کی تردید فرمائی ( وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (اور ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے) اور پھر فرمایا (وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (اگر یہ لوگ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کفر پر جمے رہیں گے ان کے لئے عذاب ہے (جو لوگ توبہ کرلیں گے ایمان لے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–76

ابطال عقیدہ تثلیث۔ قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث۔۔۔ الی۔۔۔ العلیم۔ گذشتہ آیات میں نصاری کے اس فرقہ کا رد تھا جو یہ کہتا تھا کہ اللہ یہی مسیح کی صورت میں آیا ہے یہ فرقہ ملکانیہ تھا اور یعقوبیہ تھا جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے اب آئندہ آیات میں نصاری کے ان فرقوں کا رد ہے جو تثلیث کے قائل ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ خدا تین حصہ ہوگیا اور ایک اللہ رہا اور ایک مسیح اور ایک روح القدس اور بعض نصاری بجائے روح القدس کے حضرت مریم کو تثلیث میں شامل کرتے ہیں۔ اور مسیح کے ساتھ ان کی والدہ مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتلایا کہ پہلے قول کی طرح یہ تثلیث کا قول بھی صریح کفر ہے چناچہ فرماتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31 یہ تیسرا حکم ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے۔ بعض نصاریٰ حضرت مسیح کے علاوہ ان کی والدہ کی الوہیت کے بھی قائل تھے۔ ان کے نزدیک الٰہ یعنی معبودوں کی تعداد تین ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح اور حضرت مریم صدیقہ (علیہما السلام) جیسا کہ سورة مائدہ کے آخری رکوع میں آرہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے فرمائے گا۔ ء َ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان عیسائیوں کو بھی کافر فرمایا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین معبودوں میں سے ایک ہے۔ 132 حالانکہ معبود اور پکار کے لائق صرف ایک ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 72–74

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے ان کے تعصب عماد ، سرکشی ، تحریف ، انبیاء کی مخالفت ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر عل یہ السلام ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کو تسلی بھی دی کہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی حکم دیا کہ اہل کتاب کو برملا کہہ دیں کہ جب تک وہ تورات ، انجیل اور اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو قائم نہیں کرتے ان کا عقیدہ باطل ہے اور ان کے دین کی کچھ حیثیت نہیں اللہ نے یہ بھی بتلا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ثَالِثُ ثَلٰــثَۃٍ۝ 0ۘ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۝ 0ۭ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 73 إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–75

ترکیب : ثالث ثلثہ ای احد ثلثۃ اور ایسے موقع میں بجز اضافت کے اور کوئی صورت جائز نہیں وما من الہ من زائد اور الٰہ موضع مبتداء میں ہے اور خبر محذوف ہے اے وما للخلق الہ الا اللہ۔ الٰہ واحد بدل ہے الٰہ سے لیمسن جواب ہے قسم محذوف کا اور یہ قائم مقام ہے جواب شرط کے جو ان لم ینتہوا ہے منہم موضع حال میں ہے الذین سے قد خلت موضع رفع میں صفت رسول کی کان یاکلان الخ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔ تفسیر : ابطال الوہیت مسیح : بلغ ما انزل کے بعد مجملاً اہل کتاب کو لستم علی شیء حتی تقیموا التوراۃ والانجیل کہہ کر پھر تفصیلاً ہر ایک عقیدہ فاسدہ پر کلام کرتا ہے۔ چونکہ عیسائی اپنے دین کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ م وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلآَّ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ط وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المائدہ : 73) ” ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود ‘ مگر ایک ہی معبود ہے اور اگر یہ باز نہ آئے ‘ ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا ‘ ان کو ایک دردناک عذاب آپکڑے گا “۔ نصاریٰ کا عقیدہ ” اقانیم ثلاثہ “ دوسری آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نصاری میں سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–74

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی تردید اور انہیں اس عقیدہ سے توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔ آدمی جب حقائق دیکھنے سے اندھا اور دلائل سننے سے بہرہ ہوجائے تو وہ کفر کی وادیوں میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے عیسائی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو حقائق جاننے کے باوجود عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت میں اندھے ہو کر یہ کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے کہ اللہ، عیسیٰ اور مریم ایک دوسرے سے ہیں اور اللہ اس مثلث میں سے ایک ہے۔ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے شرک تمام گناہوں کا منبع، آخری درجے کا ظلم اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

الوہیت عیسیٰ کا عقیدہ بہرحال کفر ہے : آیت 73 : لَقَدْ کَفَرَالَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ تینوں الہٰوں میں تیسرا ہے۔ اشکال کا جواب : ایک اشکال : اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں فرمایا : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ 1 (المائدہ : 17) اور دوسری آیت میں لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓ ا اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ دونوں آیتوں کا مفہوم مختلف معلوم ہوتا ہے۔ جواب : بعض نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح بعینہٖ اللہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی شخص پر تجلی ڈالتے ہیں۔ پس وہ اس وقت عیسیٰ کی صورت میں روشن ہوتا ہے۔ اسی لئے تو عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 72–75

آیت نمبر 75, 74, 73, 72 تفسیر : (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا) یہ یہود کا فرقہ ملکانیہ اور یعقوبیہ ہے (وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم ط انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما وہ النار ط وما للظلمین من انصار اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی رب ہے میرا اور تمہارا۔ بیشک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا) ۔ (لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 72–75

(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–73

آیت 71 (لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل) ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشرنقیباً ۔۔۔ الآیۃ) (المائدہ :12/5) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ (وارسلنا الیھم رسلاً ) ” اور ان کی طرف رسول بھیجے “ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا (کلما جآء ھم رسول بما لا تھوی انفسھم) ” جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–74

قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

186 تثلیث کے قائل پکے کافر ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ پکے کافر ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔ جنہوں نے ایک کی بجائے تین خدا مانے اور کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔ یعنی باپ، بیٹا، روح القدس ۔ اقانیم ثلٰثہ ۔ یا بعض کے نزدیک " باپ، بیٹا اور مریم قدیسہ " اور تثلیث کا یہ عقیدہ ان کے فرقہ ملکانیہ اور نسطوریہ کا تھا۔ (بیان و معارف وغیرہ) ۔ اور تثلیث کا یہ شرکیہ اور خودساختہ عقیدہ جو کہ عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کیخلاف ہے ایسا گورکھ دھندا ہے جو ۔ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ بھلا توحید اور تثلیث دونوں کا آپس میں کوئی توافق آخر کس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–74

نصارٰی کا غلط عقیدہ ” تین خدا “ تشریح : اس آیت میں عیسائیوں کے تثلیث کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے تثلیث کا مطلب ہے تین الٰہ یعنی باپ، بیٹا، روح القدس۔ اس وقت بھی نصارٰی کا یہی عقیدہ ہے کہ یہی تینوں اللہ ہیں یا علیحدہ علیحدہ اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں اس عقیدے کو کفر کہا ہے اور واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ صرف اور صرف ایک ہے کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہوسکتا جو اللہ وحدہ لاشریک لہ نہیں مانتا تو اس کو دردناک عذاب دیا جائے گا۔ لیکن توبہ کا دروازہ ان لوگوں کے لیے کھلا ہے۔ اللہ بےحد رحم کرنے والا، معاف کرنے والا اور بڑا درگزر کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–77

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔ اسرار و معارف : یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی باپ بیٹا اور روح القدس تثلیث کا ہر پہلو ذکر کر کے ان کی ضلالت کو واضح فرمایا ہے (دیکھئے آیت 17)5 اور خالص توحید نہ کریں گے جس کی طرف انبیا دعوت دیتے رہے ہیں (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 73–74

(5:73) ثالث ثلاثۃ۔ تین (خداؤں) میں سے تیسرا (خدا) ہے۔ تین خدا ۔ اللہ ۔ دوسرا مسیح۔ تیسرا۔ حضرت مریم یا روح القدس۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 72–75

آیت نمبر 72 تا 75 لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔ تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 72–75

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت نصاریٰ کی غلط فہمی ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال دی تھیں ان کا ذکر ہے۔ یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں : ایک تو اللہ دوسرے مریم، تیسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ی تینوں ملاکر روح القدس نعوذ باللہ من ذالک، اللہ ہیں اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے نام کی ایک نماز بھی ٹھرا رکھی ہے جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 73–74

ثالث ثلثۃ : (ف 2) عقیدہ تثلیث کے معنی یا تو یہ ہیں کہ عیسائی مریم (علیہا السلام) ، مسیح (علیہ السلام) اور خدا کو لاہوت کے اقانیم مانتے ہیں جیسے قرآن حکیم نے فرمایا (آیت) ” انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ “۔ اور یا یہ مقصود ہے کہ باپ بیٹا اور روح القدس یہ تینوں مل کر اقانیم بنتے ہیں ۔ دونوں صورتوں میں عقیدہ غیر منطقی گمراہ کن اور غلط ہے ، اس لئے فرمایا لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ ۔ یعنی خڈا کے متعلق تثلیث کا عقیدہ رکھنا اس کی تفریط و توحید کی توہین کرنا ہے جو بدترین قسم کا کفر ہے ۔ بات یہ ہے کہ خدا کی ذات والا صفات کا تقاضا یہ ہے کہ سوائے توحید و تفرید کے کوئی عقیدہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 71–73

ف 2 بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے توریت میں عہد لیا تھا اور بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم توریت کے تمام احکام مانیں گے اور ہر پیغمبر پر ایمان لائیں گے چناچہ ہم نے ان کی طرف لگاتار بہت سے رسول بھیجے مگر باوجود عہد و پیمان کے ان کے پاس جب کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا دل نہ چاہتا تھا اور ان کی نفسانی خواہشات کے وہ حکم خلاف ہوتا تھا تب ہی یہ اس قسم کے احکام لانے والے پیغمبروں میں سے بعض کو جھوٹا بتاتے تھے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے اور ان بنی اسرائیل نے یہ گمان کرلیا تھا اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان ناشائستہ حرکات کے باعث ان پر کوئی آفت اور کوئی عذاب نہیں آئے گا اور اس غلط گمان کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 72–73

ف 1۔ اس قول میں مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے پھر ان کو الہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ” تین میں کا “ ایک کہنے والوں کے کفر کا بیان : 191: ” اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ 1ۘ“ مفہوم پیچھے سورة النساء کی آیت 171 میں ” وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ 1ؕ“ کے ضمن میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے وہاں ملاحظہ فرما لیں عروۃ الو ثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة النساء کی آیت 171۔ اس جگہ عیسائی علماء کرام کی اس غلط عقیدہ کی تو جیہات کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ علماء کی ذمہ داری کیا تھی اور انہوں نے اپنے ذمہ کیا کام لے لیا۔ آج یہی حال علمائے اسلام کی اکثریت کا بھی ہے بہت تھوڑے ہیں جو اس امانت الٰہی کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔ ” اللہ تین میں ایک ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ تین شخصیتیں مل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–76

Commentary 1. The words: إِنَّ اللَّـهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ in verse 72, translated here literally as ` Allah is the third of the three,' refers to Sayyidna Masih (Jesus Christ), Ruhul-Quds (The Holy Spirit) and Allah, or to Masih, Maryam (Mary) and Allah - with all three taken as God (Refuge with Allah). Thus, Allah becomes a one-third partner with them, then all three of them become one, and that one is three. This unity in trinity, with three persons in one godhead, is the common belief of Christians. They explain this belief which is supported by neither reason nor revelation with a…

Read the full tafseer →