Explained with ayahs 72–75
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے
نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة الْمَآىِٕدَة 99
دیکھئے سورة بقرہ آیت 62 و 80
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ عین مسیح بن مریم ہے (یعنی دونوں میں اتحاد ہے) حالانکہ (حضرت) مسیح نے خود فرمایا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (اور اس قول میں اپنے مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے، پھر ان کو الٓہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست) بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (خدائی میں یا خدائی خصوصیات میں) شریک قرار دے گا سو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کر دے گا، اور اس کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے، اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں پہنچا سکے، اور جیسے عقیدہ اتحاد…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭوَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ ۭاِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ ۭوَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۔
نصاری کا جرم : یہود کے بعد اب یہ نصاریٰ کے کفروشرک کا بیان ہوا تاکہ ان کی حقیقت بھی واضح ہوجائے کہ دین کے پلڑے میں ان کا کیا وزن ہے۔ ان کا ذکر آل عمران 33۔ 62 اور نساء 171۔ 173 میں بھی ہوچکا ہے۔ وہاں بہت سی باتوں کی وضاحت ہوچکی ہے۔ نساء کی متعلقہ آیات کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ نصاریٰ حلول اور…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہی مضمون آیت نمبر 17 میں بھی گزر چکا ہے۔ یہاں اہل کتاب کی گمراہیوں کے ذکر میں اس کا پھر ذکر فرمایا۔ اس میں ان کے اس فرقے کے کفر کا اظہار ہے جو حضرت مسیح ؑ کے عین اللہ ہونے کے قائل ہیں۔
72۔ 2 چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ یعنی مسیح ابن مریم نے عالم شیر خوارگی میں سب سے پہلے اپنی زبان سے اپنی عبودیت ہی کا اظہار فرمایا، " انی عبد اللہ اٰتنی الکتاب وجعلنی نبیا " (میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مجھے اس نے کتاب بھی عطا کی ہے) حضرت مسیح ؑ نے یہ نہیں کہا میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں۔ صرف یہ کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور عمر کہولت میں بھی انہوں نے یہی دعوت دی " ان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ ھذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
48: یہی مضمون سورة بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 72 تا 76۔
اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔
یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔
نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس…
Read the full tafseer →1 یہاں سے نصاریٰ کے ایمان باللہ کی کیفیت دکھلائی گئی ہے کہ وہ کہاں تک حقانیت کے اس معیار پر پورے اترے۔ ان کے ایمان باللہ کا حال یہ ہے کہ عقل کے خلاف، فطرت سلیمہ کے خلاف اور خود حضرت مسیح کی تصریحات کے خلاف مسیح ابن مریم کو خدا بنادیا۔ " ایک تین اور تین ایک " کی بھول بھلیاں تو محض برائے نام ہیں حقیقتہً سارا زور و قوت صرف حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) خدا کے رب ہونے اور دوسرے آدمیوں کی طرح اپنے مربوب ہونے کا اعلانیہ اعتراف فرما رہے ہیں۔ اور جس شرک میں ان کی امت مبتلا ہونے والی تھی اس کی برائی کس زور و شور سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
آیت 72 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط
یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 17 میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ
اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو
God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن…
Read the full tafseer →119 الوہیت مسیح اور سیدنا عیسیٰ کی تعلیم :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ کچھ انہیں عقیدہ تثلیث کا جزو یا تین خداؤں میں کا ایک مانتے ہیں۔ کچھ انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے جسم میں اللہ نے حلول کیا اور وہ اللہ ہی کا مظہر تھے۔ ان تینوں اقوال میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ الوہیت مسیح کا عقیدہ ہے۔ یعنی سب فرقے انہیں کسی نہ کسی رنگ میں الٰہ مانتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو خود کہتے تھے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے یعنی…
Read the full tafseer →245 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 76 سورة ہذا۔ خوب خیال کرلیا جائے کہ قرآن مجید (آیت) ” النصری “۔ اور ان صریح کافروں بلکہ مشرکوں کے درمیان فرق کرتا ہے۔ ان کا ذکر نام کے ساتھ نہیں، صرف صفات کے ساتھ کرتا ہے، اور انہیں ایک الگ مستقل امت قرار دیتا ہے۔ ہبرٹ جرنل (لندن) دنیائے مسیحیت کا ایک بلند پایہ علمی سہ ماہی رسالہ ہے۔ اس کے اکتوبر 1934 ء نمبر میں ہے :۔” ٹیٹھ مسیحی کے عقیدہ میں مسیح تمامتر خدا نہیں۔ عقلا جو عقیدہ جتنا زیادہ مستبعد ہو، اسی قدر خوش عقیدگی سے قریب ہوتا ہے “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں صاف رد ہے حلول و اتحاد کا جس کے قائل جاہل صوفیہ ہوئے ہیں۔
246 ۔ ملاحظہ ہو پ 3، حاشیہ نمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ہو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوگئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ( علیہ السلام) بن مریم ( علیہ السلام) ہے۔ یعنی فرقۂ ملکانیہ اور یعقوبیہ جو حلول و اتحاد کا قائل ہے (مسیح کے اندر اللہ کا حلول مانتا اور دونوں کو متحد قرار دیتا ہے)
وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی وربکم اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے یعنی جس طرح تم کو پالتا ہے اسی طرح مجھے بھی پالتا ہے اور رب و مربوب کے درمیان نہ اتحاد ممکن ہے نہ حلول۔
انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ جو کسی کو اللہ کا شریک بنائے گا یقیناً اللہ نے اس کے…
Read the full tafseer →(72) ”اللہ عین مسیح ہیں“ یہ نسطوریہ فرقہ کا قول ہے، حضرت عیسیٰ ؑ نے توحید خداوندی کی طرف بلایا اور فرمایا جو کفر پر مرجائے، اس کا جنت میں داخلہ حرام ہے اور مشرکین کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ : اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (17)۔ یہود کے بعد اب نصاریٰ کی گمراہیوں کا بیان اور انھیں سزا سے ڈرانے کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ (کبیر) ان لوگوں سے نصرانیوں کا وہ فرقہ مراد ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ہی تو ہے۔ اللہ اور مسیح ؑ کو ایک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تاکیدی الفاظ ”لقد“ (بلاشبہ، یقینا) کے ساتھ کافر قرار دیا۔ مسلمان کہلانے والوں میں بھی کئی لوگ یہ کہنے والے ہیں کہ ”احد“ اور ”احمد“ میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہیں، اللہ تعالیٰ بشری جامہ پہن کر آگیا، پھر کئی اپنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 72
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یہ یعقوبیہ فرقہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک قطعی حجت کے ساتھ ان کا رد کیا جس کا وہ خود اقرار کرتے تھے فرمایا : مسیح نے خود کہا : اے بنی اسرائیل ! عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے یعنی جس مسیح (علیہ السلام) خود کہتے ہیں : یا رب ! یا اللہ ! تو وہی کیسے اپنی ذات کو پکار رہے ہیں اور کیسے اپنی ذات سے سوال کر رہے ہیں یہ محال ہے۔ آیت : انہ من یشرک باللہ بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ کی طرف سے نئی کلام ہے۔ الاشراک کا مطلب ہے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–76
(1) امام ابن منذر نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اٹھا لیا تو بنی اسرائیل کے علماء میں سے سو آدمی جمع ہوئے۔ ان کے بعض لوگوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں، دس آدمی نکال دو تو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم لوگ بہت ہو ہم خوف کرتے ہیں گروہ بندی کا۔ دس اور نکال دو انہوں نے دس نکال دیئے۔ پھر انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو تو انہوں نے دس اور نکال دیئے۔ اور انہوں نے کہا تم بہت ہو دس اور نکال دو یہاں تک کہ دس باقی رہ گئے پھر انہوں نے کہا تم اب بھی زیادہ ہو پھر اور نکال دو (اب) چار باقی رہ گئے بعض نے کہ تم لوگ عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ [ یقینا کفر کرچکے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] قَالُوْٓا [ کہا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ الْمَسِيْحُ [ ہی مسیح ہے ] ابْنُ مَرْيَمَ ۭ [ جو مریم کا بیٹا ہے ] وَ [ حالانکہ ] قَالَ [ کہا ] الْمَسِيْحُ [ مسیح نے ] يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ اے بنی اسرائیل ] اعْبُدُوا [ تم لوگ بندگی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] رَبِّيْ [ جو میرا رب ہے ] وَرَبَّكُمْ ۭ [ اور تمہارا رب ہے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] مَنْ [ جو ] يُّشْرِكْ [ شرک کرتا ہے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] فَقَدْ حَرَّمَ [ تو حرام کرچکا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِ [ اس پر ] الْجَنَّةَ [ جنت کو ] وَمَاْوٰىهُ [ اور اس کا…
Read the full tafseer →نصاریٰ کے کفر و شرک اور غلو کا بیان
ان آیات میں نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا کفر و شرک اور غلو بیان فرمایا ہے، نصاریٰ کے کئی فرقے تھے ان میں سے ایک فرقہ یہ کہتا تھا کہ اللہ اور مسیح ابن مریم ایک ہی ہیں یعنی وہ حلول کے قائل تھے یہ بھی سراسر کفر ہے خالق کا مخلوق میں حلول ماننا اور اتحاد کا قائل ہونا بہت بڑی گمراہی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسی شخصیت کو خدا بتا رہے ہیں جس نے واضح طریقہ پر بنی اسرائیل کو فرما دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے وہ تو فرما رہے ہیں کہ اللہ میرا اور تمہارا رب ہے اور ان سے عقیدت کا اظہار کرنے والے ان کو عین خدا بتا رہے ہیں، نیز حضرت مسیح ابن مریم…
Read the full tafseer →رجوع بذکر نصاری وابطال عقیدہ الوہیت عیسیٰ علیہ السلام۔
قال اللہ تعالی، لقد کفرالذین قالوا ان اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ من انصار۔
ربط) ۔ یہاں تک زیادہ تر یہود کی قباحتوں اور شرارتوں کا بیان تھا انبیاء کا قتل وغیرہ انہیں سے سرزد ہوا تھا اب نصاری کے عقائد فاسدہ کا بطلان ظاہر فرماتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے ایمان بااللہ کا کیا حال ہے اور یہ ظاہر ہوجائے کہ ان کا دین ہیچ ہے اور وہ کسی چیز پر نہیں جیسا کہ یا اھل الکتاب لستم علی شئی۔ میں بتلایا گیا اس جگہ نصاری کے دو فرقوں کے عقائد بطلان بیان فرماتے ہیں نزول قرآن کے وقت نصاری میں ایک فرقہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کو خدا کہتا تھا ان کا اعتقاد یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →129 یہ دوسرا مسئلہ ہے جو بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ میں داخل ہے یعنی آپ اس مسئلہ کی بھی تبلیغ اور اشاعت فرما دیں کہ جو لوگ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ سے موصوف کرتے ہیں مثلاً ان کو متصرف فی الامور اور مختار سمجھتے ہیں وہ بلاشبہ کافر ہیں شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں نصاریٰ میں دو قول ہیں بعضے کہتے ہیں اللہ یہی تھا جو صورت مسیح میں آیا اور بعضے کہتے ہیں تین حصہ ہوگیا، ایک اللہ رہا ایک روح القدس ایک مسیح یہ دونوں باتیں صریح کفر ہیں۔
فائدہ : حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا یہاں اتحاد سے اتحاد صفات مراد ہے۔ یعنی نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے ان کے تعصب عماد ، سرکشی ، تحریف ، انبیاء کی مخالفت ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر عل یہ السلام ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کو تسلی بھی دی کہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی حکم دیا کہ اہل کتاب کو برملا کہہ دیں کہ جب تک وہ تورات ، انجیل اور اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو قائم نہیں کرتے ان کا عقیدہ باطل ہے اور ان کے دین کی کچھ حیثیت نہیں اللہ نے یہ بھی بتلا…
Read the full tafseer →لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہَ ہُوَالْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ 0ۭ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّيْ وَرَبَّكُمْ 0ۭ اِنَّہٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَيْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰىہُ النَّارُ 0ۭ وَمَا لِلظّٰلِــمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 72
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ترکیب : من آمن شرط فلا خوف الخ جواب جملہ خبران والصابئون مبتدا اس کی خبر محذوف جیسا کہ فانی و قیاربہا لغریب ای فانی لغریب وقیار بہا کذلک کلما جاء شرط ھم جاء کا بسبب متعدی ہونے کے مفعول اول بما لاتہویٰ مفعول ثانی رسول فاعل فریقا الخ جملہ جواب۔
تفسیر : چونکہ یہود و نصاریٰ کو یہ گمان تھا کہ نجات یہودی یا نصرانی کے بعد اور کو نہیں ہوگی اور اب تک دونوں فریق کو یہی گمان ہے جیسا کہ ہنود کا گمان ہے۔ حالانکہ یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کا ابطال کرنا منصب خاتم النبوۃ کا فرض تھا۔ اگر یوں ابطال کرتے کہ تمہارا گمان غلط ہے تو چنداں موثر نہ ہوتا بلکہ وہ یہ طعن کرتے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ…
Read the full tafseer →لَقَدْ کَفَرَ الَّذیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللہ َ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ط اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِ اللہ ِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہ ُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰہٗ النَّارُ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔ (المائدہ : 72)
” بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے اور حال یہ ہے کہ مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو ‘ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ جو کوئی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ان ظالموں کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود کے بعد عیسائیوں کے عقائد اور کردار کابیان۔
یہ حقیقت پہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ یہودی انبیاء ( علیہ السلام) کی تکذیب اور ان کو قتل کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے جبکہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت اور ان کی والدہ کے احترام میں غلو کی وجہ سے صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔
عیسائیوں کی گمراہی کے دو اسباب ہیں ان میں کچھ لوگ تو اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کلمہ قرار دیا ہے جس کا منطقی مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا جزو یعنی اس کی ذات کا حصہ ہے۔ عیسائیوں کے دوسرے گروہ نے جان بوجھ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور اس…
Read the full tafseer →عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے اور ان کے مربوب ہونے میں فرق نہیں کیا :
آیت 72 : لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ حضرت عیسیٰ نے اپنے اور ان کے درمیان اس بات میں کوئی فرق نہیں کیا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مربوب بندے ہیں تاکہ یہ نصاریٰ کے خلاف دلیل بن جائے۔ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ بیشک جو شخص اس کی عبادت میں غیر اللہ کو شریک کرے گا۔ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ کیونکہ وہ موحدین کا گھر ہے۔ یین اس میں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 75, 74, 73, 72
تفسیر : (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا اللہ وہی مسیح ہے مریم کا بیٹا) یہ یہود کا فرقہ ملکانیہ اور یعقوبیہ ہے (وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم ط انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وما وہ النار ط وما للظلمین من انصار اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا ہے کہ اے بنی اسرائیل بندگی کرو اللہ کی رب ہے میرا اور تمہارا۔ بیشک جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا سو حرام کی اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی نہیں گنہگاروں کی مدد کرنے والا) ۔
(لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ بیشک کافر ہوئے جنہوں نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
(72 ۔ 75) ۔ اوپر کی آیتوں میں یہود و نصاریٰ دونوں کو ملا کر یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تک یہ لوگ تورات و انجیل پر پورے قائم نہ ہوں گے تو گویا یہ کسی دین پر بھی قائم نہیں اس کے بعد یہود نے تورات کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال رکھی تھیں ان کا ذکر فرمایا اب ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابند میں جو خرابیاں تھیں ان کا ذکر ہے۔ لیکن ان آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے۔ اسلامی اور عیسائی تاریخ کی کتابوں میں یہ قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب عیسائیوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یہود کو اس پر حسد ہوا اور اس حسد کے سبب سے یہود کا ایک بادشاہ جس کا نام بولس تھا اس وقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت 71
(لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل) ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشرنقیباً ۔۔۔ الآیۃ) (المائدہ :12/5) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ (وارسلنا الیھم رسلاً ) ” اور ان کی طرف رسول بھیجے “ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا (کلما جآء ھم رسول بما لا تھوی انفسھم) ” جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔
اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
180 " صاحبزادگی " کا مرض اور اس کے ساخشانے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے یہ گمان قائم کرلیا کہ ان کو کوئی سزا نہیں ہوگی اس فساد اور نقض عہد کی پاداش میں جس کا ارتکاب انہوں نے کیا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ ہم " صاحبزادے " اور بڑے بزرگوں کی اولاد ہیں۔ ہمارے بڑے بزرگ ہمیں بچا لیں گے کہ وہ ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں وغیرہ۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ ہم جو چاہیں کریں ہماری پوچھ نہیں ہوگی۔ سو یہ " صاحبزادگی " کا وہ مرض ہے جو قوموں کے اندر بھی رہا اور افراد کے اندر بھی۔ اور پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ اور اس کے مظاہر و مفاسد یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔…
Read the full tafseer →نصارٰی کا غلط عقیدہ اور سزا
اگلی آیت میں بھی ان کے کفر کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 1 سلسلئہ بیان کے لیے دیکھئے آیت 17، یہود کے بعد اب نصاری ٰ کی گمراہیوں کا بیان اوان پر تہدید شروع ہورہی ہے (کبیر) ان لوگوں سے عیسائیوں کا کوئی خاصک فرقہ نہیں بلکہ سب کے سب عیسائی مراد ہیں کیونکہ وہ سب تثلیث کے قائل ہیں گو تعبیر و تشریح میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے اس لیے صحیح یہ ہے کہ سب کافر ہیں (ابن کثیر، ابن جریر)2 حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ بیان نصاریٰ کے عقیدہ کی تردید میں حجت قطعی کی حیثیت رکھتا ہے (کبیر) اور انجیل یوحنا باب 7 آیت 3 میں حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا یہ قول آج بھی موجود ہے یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے کہ وہ تجھ حقیقی الہٰ کو اور اس یسو ( علیہ السلام) مسیح (…
Read the full tafseer →(5:72) لقد کفر کا فاعل الذین قالوا ان اللہ ۔۔ ابن مریم ہے یعنی جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی تو ہے وہ کافر ہوگئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیت نمبر 72 تا 75
لغات القرآن : اعبدوا (تم عبادت و بندگی کرو) ۔ من یشرک (جو بھی شرک کرے گا) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ ماوی (ٹھکانہ) ۔ ثالث ثلاثۃ (تین میں کا تیسرا) ۔ لم ینتھوا (وہ نہ رکے۔ باز نہ آئے) ۔ لیمسن (البتہ ضرور پہنچے گا) ۔ لایتوبون (وہ توبہ نہ کریں گے) ۔ یستغفرون (وہ گناہ بخشواتے ہیں) ۔ قد خلت (یقیناً گزرگئے) ۔ امہ (اس کی ماں) ۔ صدیقۃ (سچی۔ پاکباز عورت) ۔ کانا یا کلان (وہ دونوں کھاتے تھے) ۔ الطعام (کھانا) ۔ انظروا (دیکھو) ۔ نبی ن (ہم بیان کرتے ہیں۔ کھولتے ہیں) ۔ انی (کہاں ؟ ) ۔ یؤفکون (وہ الٹے چلے جا رہے ہیں) ۔
تشریح : ” اللہ ھو المیسح ابن مریم “ اس کے دو معنی ہیں۔ (1) اللہ دنیا میں مسیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت نصاریٰ کی غلط فہمی
ان آیتوں میں انجیل کے احکام کی پابندی میں جو خرابیاں ڈال دی تھیں ان کا ذکر ہے۔ یعنی وہ تین خدا مانتے ہیں : ایک تو اللہ دوسرے مریم، تیسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ ی تینوں ملاکر روح القدس نعوذ باللہ من ذالک، اللہ ہیں اور یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی تصویریں اپنے عبادت خانوں میں رکھتے اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے نام کی ایک نماز بھی ٹھرا رکھی ہے جس کو یہ لوگ پڑھا کرتے ہیں۔ آخر کے دونوں فرقے تثلیثی فرقے کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تین خدا کے ماننے والے یہ فرقے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–74
[45] یعنی اطاعت الٰہی اور اطاعت انبیاء کا عہد۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ابن مریم (علیہا السلام) کو خدا کے مقام رفیع پر فائز سمجھنا بڑا کفر ہے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) جب تک زندہ رہے اپنی عبودیت کا اعلان فرماتے رہے اور کہتے رہے کہ اے آل اسرائیل صرف رب اکبر کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا دونوں کا مشترک رب ہے اور کسی شخص کو اس کا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ جنت کی نعمتوں سے یکسر محروم رکھے جاؤ گے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ف 2 بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے توریت میں عہد لیا تھا اور بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم توریت کے تمام احکام مانیں گے اور ہر پیغمبر پر ایمان لائیں گے چناچہ ہم نے ان کی طرف لگاتار بہت سے رسول بھیجے مگر باوجود عہد و پیمان کے ان کے پاس جب کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا دل نہ چاہتا تھا اور ان کی نفسانی خواہشات کے وہ حکم خلاف ہوتا تھا تب ہی یہ اس قسم کے احکام لانے والے پیغمبروں میں سے بعض کو جھوٹا بتاتے تھے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے اور ان بنی اسرائیل نے یہ گمان کرلیا تھا اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان ناشائستہ حرکات کے باعث ان پر کوئی آفت اور کوئی عذاب نہیں آئے گا اور اس غلط گمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 1۔ اس قول میں مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے پھر ان کو الہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کہا وہ کھلے کفر کے مرتکب ٹھہرے :
188: زیر نظر آت کا یہ حصہ ” لقد کفرا الذین قالوا ان اللہ ھو المسیع ابن مریم “ اس سے پہلے اس سورت کی آیت نمبر 17 کے شروع میں گزر چکا ہے اور اس کی تفسیر وہاں بیان کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔ اس جگہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ” اللہ “ کہا انہوں نے کھلا کفر کیا۔ لیکن جن لوگوں نے ” جو احد تھا وہ احمد بن کر مدینہ میں آگیا “ کے الفاظ فرمائے وہ کون ہوئے ؟ اور جن لوگوں نے ” علی اللہ “ کا نعرہ بلند وہ کیا ٹھہرے ؟
مسیح (علیہ السلام) نے ان اندھوں اور بہروں کو کس طرح درست کیا :
189: وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
Commentary
This is an account of how the Bani Isra'il kept breaking the pledge taken from them. As said in verse 70, whenever their Messenger brought a command which did not suit their fancy, they would break their pledge and go about betraying Allah to the limit that they would falsify His Messengers, even kill some of them. They were commanded ` to believe in Allah and act righteously.' But, this was what they did in response. As for the other part of the command - ` Belief in the Last Day' their behaviour was equally reckless. After having committed acts so oppressive, they became totally…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
99. See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, verse 62, and n 80.
Read the full tafseer →