Al-Maaida 5:71

Al-Maaida · from ayah 71

5:71

وَحَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ ؕ— وَاللّٰهُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۟وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they thought there would be no [resulting] punishment, so they became blind and deaf. Then Allah turned to them in forgiveness; then [again] many of them became blind and deaf. And Allah is Seeing of what they do.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:71

اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، اس لیے اندھے بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تو ان میں سے بہت سے پھر اندھے بہرے بن گئے، اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس گمان میں ہیں کہ کوئی سزا نہ ہوگی تو اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں بہتیرے اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (ساتھ) یہ خیال کرتے رہے کہ (انبیاء کے قتل و تکذیب سے) کوئی عذاب نہیں آئے گا، سو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ پھر اﷲ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، پھر ان میں سے اکثر لوگ (دوبارہ) اندھے اور بہرے (یعنی حق دیکھنے اور سننے سے قاصر) ہوگئے، اور اﷲ ان کاموں کو خوب دیکھ رہا ہے جو وہ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ واقع نہ ہوگا تو وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر اللہ ان پر مہربان ہوگیا، پھر ان میں بہت سے اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ سمجھتے رہے کہ اس سے کچھ فتنہ رونما نہ ہوگا لہذا وہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بن گئے۔ اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی، پس اندھے اور بہرے بن گئے، پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی، پھر ان میں سے بہت سے اندھے اندھے بہرے بن گئے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ کوئی سزا نہ ہوگی، پس (اس سے) وہ اندھے اور بہرے بن گئے، پھر اللہ نے معاف فرما دیا ان کو (اپنی رحمت و عنایت سے) مگر پھر بھی ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہی رہے، اور اللہ پوری طرح دیکھتا (جانتا) ہے ان سب کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور گماں یہی کرتے رہے کہ وبال کچھ نہ پڑے گا۔ سواندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت سے توجہ فرمائی۔ پھر بھی ان میں کے بہت سے اندھے اور بہرے ہی رہے اور اللہ خوب دیکھ رہا ہے ان کے کرتوت۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہوں نے سمجھا کہ ان پر کوئی پکڑ نہیں آئے گی تو وہ بہرے بھی ہوگئے اندھے بھی ہوگئے پھر اللہ نے انہیں معاف کردیا (نتیجہ یہ ہوا کہ) پھر ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے دیکھ رہا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ نہ اٹھے گا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو ان میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

thinking that no harm would come from it. Thus they became blind and deaf (to the Truth). Thereafter Allah turned towards them in gracious forgiveness; but many of them became even more deaf and blind (to the Truth). Allah sees all that they do.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They thought that no harm would follow. Therefore, they became blind and deaf. Then, Allah accepted their repentance, but again they turned blind and deaf, many of them. Allah is watchful of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani

They thought that no harm would follow. Therefore, they became blind and deaf. Then, Allah accepted their repentance, but again they turned blind and deaf, many of them. Allah is watchful of what they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They thought there will be no Fitnah (trial or punishment), so they became blind and deaf; after that Allah turned to them (with forgiveness); yet again many of them became blind and deaf. And Allah is the All-Seer of what they do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They thought no harm would come of it, so they were wilfully blind and deaf. And afterward Allah turned (in mercy) toward them. Now (even after that) are many of them wilfully blind and deaf. Allah is Seer of what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they thought there would be no [resulting] punishment, so they became blind and deaf. Then Allah turned to them in forgiveness; then [again] many of them became blind and deaf. And Allah is Seeing of what they do.

— Saheeh International

They were blind and deaf in their pride, thinking themselves (to be the chosen nation of God) and thus safe from calamities. God forgave them but many of them out, of pride, again became blind and deaf. God is Well Aware of what they do.

— Muhammad Sarwar

And they thought that there would be no affliction, so they became blind and deaf; then Allah turned to them mercifully, but many of them became blind and deaf; and Allah is well seeing what they do.

— Muhammad Habib Shakir

And they imagined that there would be no trial; so they blinded and deafened themselves. Thereafter Allah relented toward them, then they again blinded and deafened themselves. And Allah is Beholder of that which they Work.

— Abdul Majid Daryabadi

They thought there would be no trial (or punishment); so they became blind and deaf; yet Allah (in mercy) turned to them; yet again many of them became blind and deaf. But Allah sees well all that they do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 70–71

سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

خلاصہ تفسیر ہم نے بنی اسرائیل سے (اول توریت میں تمام پیغمبروں کی تصدیق و اطاعت کا) عہد لیا اور (اس عہد کے یاد دلانے کو) ہم نے ان کے پاس بہت پیغمبر بھیجے (لیکن ان کی یہ حالت تھی کہ) جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا (تب ہی ان کے ساتھ مخالفت سے پیش آئے) سو بعضوں کو (تو) جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے اور (ہمیشہ ہر شرارت پر جب چند روز سزا سے مہلت دی گئی) یہی گمان کیا کہ کچھ سزا نہ ہوگی اس (گمان) سے اور بھی اندھے اور بہرے (کی طرح) بن گئے (کہ نہ دلائل صدق انبیاء کو دیکھا نہ ان کے کلام کو سنا) پھر (ایک مدت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ان پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–71

تفسیر آیت 70 تا 71:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ رُسُلًا ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ۔ یہود کا جرم : اب یہ اس بات کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ کیوں ان اہل کتاب کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دینی حیثیت نہیں ہے ؟ فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا اور جس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

71۔ 1 یعنی سمجھے تھے کہ کوئی سزا نہ ہوگی۔ لیکن مذکورہ اصول الٰہی کے مطابق یہ سزا ہوئی کہ یہ حق کے دیکھنے سے مزید اندھے اور حق کے سننے سے مزید بہرے ہوگئے اور توبہ کے بعد پھر یہی عمل انہوں نے دہرایا ہے تو اس کی وہی سزا بھی دوبارہ مرتب ہوئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–72

48: یہی مضمون سورة بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 70–71

(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔ یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔ (آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی پختہ عہد و پیمان توڑ کر خدا سے غداری کی اس کے سفراء میں سے کسی کو قتل کیا یہ تو ان کے " ایمان باللہ اور عمل صالح " کا حال تھا۔ " ایمان بالیوم الآخر " کا اندازہ اس سے کرلو کہ اس قدر شدید مظالم اور باغیانہ جرائم کا ارتکاب کر کے بالکل بےفکر ہو بیٹھے۔ گویا ان حرکات کا کوئی خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔ اور ظلم و بغاوت کے خراب نتائج کبھی سامنے نہ آئیں گے۔ یہ خیال کر کے خدائی نشانات اور خدائی کلام کی طرف سے بالکل ہی اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو ناکردنی کام تھے وہ کئے حتیٰ کہ بعض انبیاء کو قتل اور بعض کو قید کیا آخر خدا تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط فرمایا پھر ایک مدت دراز کے بعد بعض ملوک فارس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 71 وَحَسِبُوْآ اَلاَّ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ کوئی عقوبت نہیں ہوگی ‘ ہم پر کوئی سرزنش نہیں ہوگی۔ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَاب اللّٰہُ عَلَیْہِم اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں فوراً نہیں پکڑا۔ انہیں توبہ کی مہلت دی ‘ موقع دیا۔ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْہُمْ ط۔ بجائے اللہ کے دامن رحمت میں آنے کے اپنی گمراہی میں اور بڑھتے چلے گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118 بخت نصر کے بعد سیدنا زکریا ویحییٰ کو قتل کروانا :۔ انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم جو کچھ کرلیں ہم پر عذاب الٰہی نہیں آسکتا۔ اس عقیدہ نے انہیں ہر طرح کے جرائم پر دلیر بنادیا تھا۔ پھر ان پر بخت نصر کی صورت میں قہر الٰہی نازل ہوا۔ جس نے ان کی سلطنت کو تہس نہس کردیا اور بیشمار افراد کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ مدتوں وہ قید و بند کی سختیاں جھیلتے رہے۔ آخر اللہ کی طرف رجوع کیا تو اللہ نے پھر ان کی خطائیں معاف کردیں اور ملوک فارس کی مدد سے انہیں بخت نصر کی قید سے رہائی ملی۔ پھر جب اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگے تو پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

241 ۔ (ان پر تکذیب انبیاء اور قتل انبیاء کا) (آیت) ” فتنۃ “۔ کے ایک معنی سزا کے بھی ہیں۔ الفتنۃ العذاب (قاموس) قرآن مجید میں بھی (آیت) ” فتنۃ “۔ ایک دوسرے موقع پر اسی معنی میں آیا ہے۔ ذوقوا فتنتکم ای عذابکم (راغب) اہل تحقیق نے یہی معنی یہاں بھی لیے ہیں، ای عذاب وقتل (معالم صحیفہ زبور میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک مناجات بھی اسی معنی ومفہوم کی تائید میں ہے :۔” اے خداوند، شریر کب تک، ہاں شریر کب تک شادیانے بجائیں گے۔ وہ ڈکارتے اور گستاخی کی باتیں بولتے۔ سارے بدکاری کرنے والے لاف زنی کرتے۔ وہ اے خداوند تیرے لوگوں کو پیس ڈالتے ہیں، اور تیری میراث کو دکھ دیتے ہیں، اور بیوہ اور پردیسی کو جان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–77

قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحسبوا ان لا تکون فتنۃ اور ان کا گمان یہ تھا کہ (انبیاء کی تکذیب اور قتل سے) کوئی وبال (ان پر) نہیں آئے گا یعنی ان پر کوئی مصیبت اور عذاب نہیں آئے گا۔ فعموا وصموا پس (موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد) یہ اندھے اور بہرے ہوگئے تھے یعنی دین اور دلائل کو دیکھنے سے اندھے اور حق بات سننے سے بہرے ہوگئے کیونکہ ان کا گمان ہی باطل تھا۔ ثم تاب اللہ علیہم پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا یعنی جب عیسیٰ ( علیہ السلام) پر یہ ایمان لائے اور توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ ثم عموا وصموا پھر (عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد دوبارہ) یہ اندھے بہرے ہوگئے۔ محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ کثیر منہم ان میں سے بہتیرے۔ اس صورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) توریت میں رسول اکرم ﷺ کی تصدیق اور اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا عہد لیا جب بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسا حکم لایا جس کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے اور انکی یہودیت کے موافق نہیں تھا تو حضرت عیسیٰ ؑ اور رسول اکرم ﷺ کی تو انہوں نے تکذیب کی اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا اور یہی گمان کرتے رہے کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور ان کے قتل کی وجہ سے یہ ہلاک نہیں ہوں گے اور حق وہدایت سے اندھے، بہرے بنے رہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مگر پھر ایمان لائے اور کفر سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا۔ مگر اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ“ فِتْنَةٌ کے اصل معنی آزمائش کے ہیں، مطلب یہ کہ انھوں نے سمجھا کہ ہم کیسے ہی گناہ کرلیں، خواہ انبیاء تک کو قتل کریں، چونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں، اس لیے دنیا میں کسی قسم کی بدبختی و نحوست یا غلبۂ دشمن قسم کی کوئی بلا ہم پر نازل نہیں ہوگی۔ (کبیر) فَعَمُوْا وَصَمُّوْا : مگر حق سے اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے ان پر بلا نازل ہوئی۔ پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا جس نے ان کی مسجد اقصیٰ کو جلا ڈالا، ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی و غلام بنا کر بابل لے گیا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (4 تا 8)۔ ثُمَّ تَاب اللّٰهُ عَلَيْهِمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 71 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وحسبوا الا تکون فتنۃ یعنی ان لوگوں نے گمان کیا جن سے میثاق لیا گیا تھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی آزمائش اور ابتلا نہ ہوگی انہیں اپنے قول سے دھوکا ہوا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرزند اور اس کے چہیتے ہیں اور انہوں نے طویل مدت مہلت ملنے کی وجہ سے دھوکا کھایا۔ ابو عمرو اور حمزہ اور کسائی نے (تکون) رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ رفع اس بنا پر ہے کہ حسب معنی علم اور تیقن ہے اور ان مخففہ ہے اور لا کا دخول، تخفیف کے عوض ہے ضمیر کو حذف کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے ناپسند کیا کہ اس سے فعل متصل ہو اور اس کے حکم سے نہیں ہے کہ اس پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ سے یہود مراد ہیں۔ (2) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ میں فتنہ سے بلا مراد ہے۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا تکون فتنۃ سے مراد ہے کہ قوم نے گمان کیا کہ کوئی آزمائش نہ ہوگی پھر فرمایا لفظ آیت فعموا وصموا یعنی جب کبھی بھی ان پر آزمائش آئی تو وہ اس میں پڑگئے اور اس میں ہلاک ہوگئے۔ (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحسبوا الا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَحَسِبُوْٓا [ اور انھوں نے گمان کیا ] اَلَّا تَكُوْنَ [ کہ نہیں ہوگی ] فِتْنَةٌ [ کوئی آفت ] فَعَمُوْا [ پس وہ لوگ اندھے ہوئے ] وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوئے ] ثُمَّ تَابَ [ متوجہ ہوا (اپنی شفقت کے ساتھ )] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] ثُمَّ [ پھر ] عَمُوْا [ اندھے ہوگئے ] وَصَمُّوْا [ اور بہرے ہوگئے ] كَثِيْرٌ [ اکثر ] مِّنْهُمْ ۭ [ ان میں سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بَصِيْرٌۢ [ ہمیشہ دیکھنے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے ہیں ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس سرکشی میں چلتے رہے پھر اللہ پاک نے ان پر توجہ فرمائی بعض انبیاء کرام ( علیہ السلام) کو بھیجا لیکن وہ پھر بھی اندھے اور بہرے بنے رہے ان میں سے بہت سوں کا یہی حال رہا (وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ ) اور اللہ ان کے سب اعمال کو دیکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کے مفاد اور اتار چڑھاؤ کا تذکرہ سورة بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں قدرے تفصیل سے فرمایا ہے اسکو ملاحظہ کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

رجوع بسوئے ذکر یہود۔ قال اللہ تعالی، لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ یعملون۔ اوپر سے اہل کتاب کے قبائح کا ذکر چلا آرہا تھا اب پھر اس کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق عہد لیا ہم نے اولاد یعقوب سے کہ توحید پر قائم رہنا اور اگر نبی آخرالزمان کا زمانہ پاؤ تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اس عہد کے یاد دلانے کے لیے ہم نے ان کی طرف بہت سے پیغمبر بھیجے لیکن عناد اور سرکشی سے ان کا یہ حال ہوا کہ جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا نفس امارہ پسند نہیں کرتا تھا تو ان لوگوں نے ان میں سے کچھ پیغمبروں کی تو تکذیب کی اور کچھ پیغمبروں کو قتل کرنے لگے اور یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

126 فِنْنَۃٌ کے معنی آزمائش اور ابتلاء کے ہیں۔ فَعَمُوْا دین کی جو راہ رسولوں نے ان کو دکھائی تھی اس سے وہ محض سرکشی اور عناد کی وجہ سے وہ دانستہ اندھے بن گئے وَصمُّوْا اور حق بات سننے سے بہرے بن گئے۔ یعنی بنی اسرائیل نے سمجھا کہ اللہ کی طرف سے ان پر کوئی عذاب یا امتحان نہیں آئے گا کیونکہ وہ نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاء ہٗ (ہم اللہ کے چہیتے اور اس کے محبوب ہیں) کے فخر میں مغرور و سر مست تھے (قرطبی) اس لیے انہوں نے تورات کے احکام سے آنکھیں اور کان بند کرلیے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ 127: پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کی توفیق دینے اور ان کی توبہ قبول کرنے کا سامان اس طرح…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–71

ربط آیات گزشتہ درس میں پیغمبر (علیہ السلام) کو تاکید اً فرمایا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کی طرف سے خوف نہ کھائیں ، اللہ خود آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا۔ پھر اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ ان سے کہ دین کہ تمہارا دین اور مذہب کچھ نہیں۔ جب تک تم کتب سماویہ کو قائم نہ کرو مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک کا جو حصہ نازل ہوتا ہے وہ ان اہل کتاب کے لئے مزید سرکشی اور کفر کا باعث بنتا ہے۔ نیز فرمایا کہ آپ ان کی حالت پر افسوس نہ کریں ، بلکہ اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کو سزا دے گا۔ اب آج کے دس میں اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللہُ عَلَيْہِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْہُمْ۝ 0ۭ وَاللہُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ۝ 71 حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–72

ترکیب : من آمن شرط فلا خوف الخ جواب جملہ خبران والصابئون مبتدا اس کی خبر محذوف جیسا کہ فانی و قیاربہا لغریب ای فانی لغریب وقیار بہا کذلک کلما جاء شرط ھم جاء کا بسبب متعدی ہونے کے مفعول اول بما لاتہویٰ مفعول ثانی رسول فاعل فریقا الخ جملہ جواب۔ تفسیر : چونکہ یہود و نصاریٰ کو یہ گمان تھا کہ نجات یہودی یا نصرانی کے بعد اور کو نہیں ہوگی اور اب تک دونوں فریق کو یہی گمان ہے جیسا کہ ہنود کا گمان ہے۔ حالانکہ یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کا ابطال کرنا منصب خاتم النبوۃ کا فرض تھا۔ اگر یوں ابطال کرتے کہ تمہارا گمان غلط ہے تو چنداں موثر نہ ہوتا بلکہ وہ یہ طعن کرتے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَحَسِبُوْا اَلاَّ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ ط وَ اللہ ُ بَصِیْرٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 71) ” اور انھوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی ‘ بس اندھے اور بہرے بن گئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی ‘ پھر ان میں سے بہت سے اندھے بہرے بن گئے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں “۔ بنی اسرائیل کے سدھرنے کا آخری موقع جیسا کہ گزشتہ آیت کریمہ کی تفسیر میں عرض کیا گیا کہ بنی اسرائیل نے رسولوں کی تکذیب اور ان کے قتل کے بڑے بڑے جرائم کیے۔ لیکن جب ان پر کوئی گرفت نہ ہوئی تو وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ سے باربار عہد شکنی، شریعتوں کی تکذیب، انبیاء (علیہ السلام) پر زیادتی کرنے اور اپنی خواہش کا بندہ بننے کی وجہ سے اہل کتاب بصیرت سے تہی دامن ہوگئے۔ جب کوئی قوم ایمان کی دعوے دار ہو کر اپنی خواہشات کو مقدم سمجھے، حقائق کی تکذیب کرے، مصلحین کی گستاخ اور ان کی جان کے درپے ہوجائے تو وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوجایا کرتی ہے کہ اب انہیں کوئی روکنے، ٹوکنے والا نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ اس جرم میں مبتلا ہونے کے بعد اسی خوش فہمی کا شکار ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حقائق دیکھنے اور سننے سے بےبہرہ اور اندھے ہوگئے یہ تو اپنے آپ کو دیکھنے سے اندھے ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ تو ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کا شدید اندھا پن کہ قتل انبیاء جیسے جرم پر عذاب نہ ہونے کا یقین کرلیا : آیت 71 : وَحَسِبُوْٓا اَلاَّ تَکُوْنَ ۔ قراءت : حمزہ اور علی اور ابوعمرو نے کہا ہے کہ یہ اَنْ مخففہ من المثقلہ ہے اس کی اصل انہ لا تکون ہے پس انّ کو أن تخفیف سے بدل دیا۔ اور ضمیر شان کو حذف کردیا حسبان کو بمنزلہ علم کے رکھا گیا۔ کیونکہ وہ گمان ان کے دلوں میں نہایت پختہ تھا۔ اس وجہ سے حسبان کے فعل کو ان جو تحقیق کے لئے آتا ہے ‘ اس پر داخل کیا گیا۔ فِتْنَۃٌبلاء و عذاب مطلب یہ ہے کہ بنو اسرائیل نے گمان کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قتل انبیاء پر کوئی عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح تکذیب رسل پر ان کو سزا نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–71

آیت نمبر 71, 70, 69, 68 تفسیر : (قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرو اور جو کچھ واجب ہے اس کو ادا کرو ( ولیزیدن کثیراً منھم مآ انزل الیک من ربک طغیاناً وکفراً فلا تاس علی القوم الکفرین اور ان میں سے بہت لوگوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو آپ افسوس نہ کریں اس قوم کفار پر) (ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون والنصریٰ بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–71

(70 ۔ 71) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود اگر پورے طور پر تورات کے پابند نہ ہوں گے تو ان کو راہ راست پر شمار نہ کیا جاوے گا ان آیتوں میں ان کے تورات پر قائم نہ رہنے کی تفصیل ذکر فرمائی ہے جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت { وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہُ } ( 2: 83) کی تفسیر میں گذرچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت نبی اللہ تعالیٰ نے تورات کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے۔ لیکن یہود نے تورات کے اکثر احکام کو چھوڑ کر بجائے ان احکام کے اپنی خواہش کے موافق ایجادی باتیں تراش رکھی تھیں جس نبی نے ان کو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–73

آیت 71 (لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل) ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے واجبات کو قائم کرنے کے بارے میں ان سے بھاری عہد لیا جن کے بارے میں گزشتہ صفحات میں (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل و بعثنا منھم اثنی عشرنقیباً ۔۔۔ الآیۃ) (المائدہ :12/5) کی تفسیر کے ضمن میں بحث گزر چکی ہے۔ (وارسلنا الیھم رسلاً ) ” اور ان کی طرف رسول بھیجے “ جو پے در پے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے اور ان کو رشد و ہدایت کی طرف بلاتے رہتے تھے مگر یہ چیز ان کے کسی کام آئی نہ اس نے کوئی فائدہ دیا (کلما جآء ھم رسول بما لا تھوی انفسھم) ” جب لایا کوئی رسول وہ حکم جس کو ان کے نفس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–74

قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 71–72

180 " صاحبزادگی " کا مرض اور اس کے ساخشانے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے یہ گمان قائم کرلیا کہ ان کو کوئی سزا نہیں ہوگی اس فساد اور نقض عہد کی پاداش میں جس کا ارتکاب انہوں نے کیا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ ہم " صاحبزادے " اور بڑے بزرگوں کی اولاد ہیں۔ ہمارے بڑے بزرگ ہمیں بچا لیں گے کہ وہ ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں وغیرہ۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ ہم جو چاہیں کریں ہماری پوچھ نہیں ہوگی۔ سو یہ " صاحبزادگی " کا وہ مرض ہے جو قوموں کے اندر بھی رہا اور افراد کے اندر بھی۔ اور پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ اور اس کے مظاہر و مفاسد یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 70–71

یہود کے کرتوت تشریح : ان آیات میں وہ عہد جو ہم کلمہ پڑھ کر اللہ سے کرتے ہیں اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے یہود کی مثال دی گئی ہے کہ جو بھی یہود کی طرح نفسانی خواہشات کو ترجیح دے کر اللہ سے کیے گئے عہد کو بھلا دے گا تو وہ ہمیشہ دنیا میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ یہود کو ہمیشہ رسولوں کی باتیں بری لگتی تھیں تو وہ یا تو ان کو جھٹلاتے یا پھر قتل ہی کردیتے جیسا کہ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو انہوں نے قتل کر ڈالا۔ اللہ ارحَمُ الّٰرحِمِین ہے اس نے بار بار یہود کو معاف کیا مگر یہود نے اس معافی اور درگزری سے کبھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کرنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–77

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔ اسرار و معارف : یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 لفظ فتنتہ کے اصل معنی آزمائش کے ہیں مطلب یہ کہ ہم کیسے ہی گناہ کرلیں خواہ انبیا تک قتل کریں چونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہتیے ہیں اس لیے ہم پر دنیا میں کسی قسم کی ادربار و نحوست یا غلبہ دشمن کوئی بلا نازل نہیں ہوگی (کبیر ) 13 مگر ان پر بلا نازل ہوئی چناچہ جب وہ پہلی مرتبہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے زما نہ میں حق سے بہرے اور اندھے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بابل کے کافر اور ظالم بادشاہ بخت نصر کو مسلط کردیا جس نے ان کی مسجد اقصی ٰ کو جلا ڈالا ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی غلام بنا کر بناکر بابل لے گیا ( دیکھئے بن بنی اسرائیل آیت 4 ۔ 8)14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو بخت نصر کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

فتنۃ۔ آفت۔ مصیبت۔ عذاب۔ فتن سے جس کے اصل معنی سونے کو آگ میں تپا کر کھرا کھوٹا جا نچنا۔ یا آگ میں ڈالنا۔ قرآن مجید میں یہ لفظ اور اس کے مشتقات مختلف معنی میں استعمال کئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 70–71

آیت نمبر 70 تا 71 لغات القرآن : لاتھدی (پسند نہ تھا۔ وہ نہ چاہتے تھے) ۔ حسبوا (انہوں نے گمان کیا۔ وہ سمجھے) ۔ عموا (وہ اندھے ہوگئے) ۔ صموا (بہرے ہوگئے) ۔ تشریح : چند الفاظ میں بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کردی گئی ہے۔ جتنے رسول آئے اور ان کی طرف بھیجے گئے، ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پیغمبروں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے۔ کسی دوسری قوم میں اتنے پیغمبر پیدا نہیں ہوئے۔ کسی دوسری قوم کی اصلاح کو اتنے پیغمبر نہیں بھیجے گئے۔ مگر کسی دوسری قوم نے اتنی ضد، کفر اور طغیان کو راہ نہیں دی جتنی وہ اب تک دے رہے ہیں۔ قرآن پاک نے ان کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–71

ان آیتوں میں ان کے توریت پر قائم رہنے کی تفصیل فرمائی۔ جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة ببقرہ میں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے نبی اللہ تعالیٰ نے توریت کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے، لیکن یہود نے توریت کے اکثر احکام بدل دئے تھے، اور جس نبی نے ان کو ان باتوں سے روکا اس سے مخالفت پیداکرکے بعضے نبیوں کو تو شہید کرڈالا اور بعضوں کو جھٹلایا۔ آخر کو فرمایا کہ ان کے یہ سب گناہ کی باتیں اللہ جانتا ہے وقت مقررہ پر ان کو معلوم ہوجائے گا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–71

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے اطاعت انبیاء کا عہد لیا گیا مگر وہ ہمیشہ منکر رہے اور صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ بعض اللہ کے پرستاروں کو شہید بھی کر ڈالا اور یہ قطعا نہ سوچا کہ اس ظلم عظیم کی ہمیں کوئی سزا بھی ملے گی ، نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی غیرت جوش میں آئی اور بخت نصر کے ہاتھوں انہیں ہولناک عذاب میں مبتلا کیا گیا جس سے سارے اسرائیلی لرز اٹھے ۔ حل لغات : فریقا : گروہ ۔ جماعت ۔ فعموا : اندھے ہوگئے ، مصدر عمی ۔ صموا : بہرے ہوگئے ، مصدر صمم :

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 71–73

ف 2 بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے توریت میں عہد لیا تھا اور بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا تھا کہ ہم توریت کے تمام احکام مانیں گے اور ہر پیغمبر پر ایمان لائیں گے چناچہ ہم نے ان کی طرف لگاتار بہت سے رسول بھیجے مگر باوجود عہد و پیمان کے ان کے پاس جب کوئی رسول ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا دل نہ چاہتا تھا اور ان کی نفسانی خواہشات کے وہ حکم خلاف ہوتا تھا تب ہی یہ اس قسم کے احکام لانے والے پیغمبروں میں سے بعض کو جھوٹا بتاتے تھے اور بعض کو قتل کر ڈالتے تھے اور ان بنی اسرائیل نے یہ گمان کرلیا تھا اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان ناشائستہ حرکات کے باعث ان پر کوئی آفت اور کوئی عذاب نہیں آئے گا اور اس غلط گمان کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کے دو بار اندھے اور بہرے ہونے کا مطلب دو بار تباہی کا شکا ہونا ہے : 187: زیر نظر آیت میں بنی اسرائیل کے دو مرتبہ اندھے بہرے بن جانے اور پھر ان پر گرفت ہونے کا بیان ہے اور بنی اسرائیل کی یہ وہ تاریخ ہے جو نزول قرآن کریم سے پہلے کی ہے قرآن کریم کے نزول کے بعد جو ان کے ساتھ ہوا اور آئندہ زمانے میں ہوتا رہے گا اس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اشارات ہی اشارات میں کردیا گیا۔ اس جگہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان کے اندھے اور بہرے بن جانے کی اصل حقیقت اور وجہ کیا تھی ؟ قرآن کریم کے معجزانہ کلام پر غور کرنے سے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس کی وجہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا کہ ” نجات کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–72

Commentary This is an account of how the Bani Isra'il kept breaking the pledge taken from them. As said in verse 70, whenever their Messenger brought a command which did not suit their fancy, they would break their pledge and go about betraying Allah to the limit that they would falsify His Messengers, even kill some of them. They were commanded ` to believe in Allah and act righteously.' But, this was what they did in response. As for the other part of the command - ` Belief in the Last Day' their behaviour was equally reckless. After having committed acts so oppressive, they became totally…

Read the full tafseer →