Al-Maaida 5:70

Al-Maaida · from ayah 70

5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا ؕ— كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤی اَنْفُسُهُمْ ۙ— فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَ ۟ۗلَقَدۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ رُسُلًا ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ ۢ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُهُمۙۡ فَرِيۡقًا كَذَّبُوۡا وَفَرِيۡقًا يَّقۡتُلُوۡنَ

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We had already taken the covenant of the Children of Israel and had sent to them messengers. Whenever there came to them a messenger with what their souls did not desire, a party [of messengers] they denied, and another party they killed.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:70

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسول بھیجے، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول اُن کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے بالیقین بنیاسرائیل سے عہد وپیمان لیا اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجا، جب کبھی رسول ان کے پاس وه احکام لے کر آئے جو ان کی اپنی منشا کے خلاف تھے تو انہوں نے ان کی ایک جماعت کی تکذیب کی اور ایک جماعت کو قتل کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے بنو اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ان کے پاس رسول بھیجے تھے، جب کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسی بات لے کر آتا جس کو ان کا دل نہیں چاہتا تھا تو کچھ (رسولوں) کو انہوں نے جھٹلایا اور کچھ کو قتل کرتے رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول وہ بات لے کر آیا جو ان کے نفس کی خواہش نہ تھی ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو شہید کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے عہد (بھی) لیا اور ہم نے ان کی طرف (بہت سے) پیغمبر (بھی) بھیجے، (مگر) جب بھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جسے ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو انہوں نے (انبیاء کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک کو (مسلسل) قتل کرتے رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ چیز لے کر آیا جسے ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو انھوں نے ایک گروہ کو جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا اور ان کی طرف رسول بھی بھیجے (لیکن) جب بھی کوئی رسول ان کی خواہشات نفس کے خلاف حکم لے کر آیا تو ایک گروہ کو تو انہوں نے جھٹلا دیا اور ایک گروہ کو مار ہی ڈالا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے، جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسی بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی تو ایک گروہ کی انہوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور (اس کی یاد دہانی کے لئے) ان کی طرف بہت سے رسول بھی بھیجے، مگر جب بھی کبھی ان کے پاس کوئی رسول آیا وہ کچھ لے کر جو نہیں بھایا ان کے نفسوں کو، تو انہوں نے کچھ کو جھٹلایا اور کچھ کو قتل کر ڈالا،

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کے پاس (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ جب جب کوئی پیغمبر ان کے پاس (ایسا) حکم لائے جس کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا تو بعض کو جھٹلاتے تھے اور بعض کو قتل ہی کر ڈالتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے (لیکن) جب بھی کبھی ان کے پاس کوئی رسول لے کر آیا وہ چیز جو ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھی تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور بہت سے رسول ان کی طرف بھیجے مگر جب بھی کوئی رسول ان کی مرضی کے خلاف کوئی حکم لایا تو ایک گروہ کو انہوں نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کردیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We took a covenant from the Children of Israel and sent to them many Messengers. But whenever any Messenger brought to them something that did not suit their desires, they gave the lie to some of them and killed the others,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Certainly We took a pledge from the children of Isra‘il and sent Messengers to them. Whenever a Messenger went to them with what did not meet their desires, they cried lie to some, and killed others.

— Muhammad Taqi Usmani

Certainly We took a pledge from the children of Isra‘il and sent Messengers to them. Whenever a Messenger went to them with what did not meet their desires, they cried lie to some, and killed others.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We took the covenant of the Children of Israel and sent Messengers to them. Whenever there came to them a Messenger with what they themselves desired not, a group of them they called liars, and others among them they killed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We made a covenant of old with the Children of Israel and We sent unto them messengers. As often as a messenger came unto them with that which their souls desired not (they became rebellious). Some (of them) they denied and some they slew.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We had already taken the covenant of the Children of Israel and had sent to them messengers. Whenever there came to them a messenger with what their souls did not desire, a party [of messengers] they denied, and another party they killed.

— Saheeh International

We made a covenant with the Israelites and sent Messengers to them. Whenever a Messenger came to them with a message which did not suit their desires, they would reject some of the Messengers and kill others.

— Muhammad Sarwar

Certainly We made a covenant with the children of Israel and We sent to them apostles; whenever there came to them an apostle with what that their souls did not desire, some (of them) did they call liars and some they slew.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly We took a bond from the Children of Isra'il and We sent unto them apostles. Whenever there came unto them an apostle with that which their souls desired not, a party of them they belied and a party they slew.

— Abdul Majid Daryabadi

We took the covenant of the Children of Israel and sent them messengers, every time, there came to them a messenger with what they themselves desired not - some (of these) they called impostors, and some they (go so far as to) slay.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 70–71

سیاہ عمل یہود اور نصاریٰ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

خلاصہ تفسیر ہم نے بنی اسرائیل سے (اول توریت میں تمام پیغمبروں کی تصدیق و اطاعت کا) عہد لیا اور (اس عہد کے یاد دلانے کو) ہم نے ان کے پاس بہت پیغمبر بھیجے (لیکن ان کی یہ حالت تھی کہ) جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا (تب ہی ان کے ساتھ مخالفت سے پیش آئے) سو بعضوں کو (تو) جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے اور (ہمیشہ ہر شرارت پر جب چند روز سزا سے مہلت دی گئی) یہی گمان کیا کہ کچھ سزا نہ ہوگی اس (گمان) سے اور بھی اندھے اور بہرے (کی طرح) بن گئے (کہ نہ دلائل صدق انبیاء کو دیکھا نہ ان کے کلام کو سنا) پھر (ایک مدت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ان پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 70–71

تفسیر آیت 70 تا 71:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهِمْ رُسُلًا ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ۔ یہود کا جرم : اب یہ اس بات کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ کیوں ان اہل کتاب کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی دینی حیثیت نہیں ہے ؟ فرمایا کہ ان سے جس کتاب و شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا اور جس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–70

69۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو سورة بقرہ کی آیت 62 میں بیان ہوا ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 69–72

48: یہی مضمون سورة بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 70–71

(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔ یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔ (آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 گذشتہ آیت میں جو معیار قبول عند اللہ کا بیان ہوا تھا یعنی ایمان اور عمل صالح یہاں یہ دکھلانا ہے کہ یہود اس معیار پر کہاں تک پورے اترتے ہیں۔ 4 غلام کی وفاداری کا امتحان اس میں ہے کہ جس بات کو دل نہ چاہے آقا کے حکم سے کر گزرے اور اپنی رائے یا خواہش کو آقا کی مرضی کے تابع بنا دے۔ ورنہ صرف ان چیزوں کا مان لینا جو مرضی اور خواہش کے موافق ہوں یہ کونسا کمال ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 70 لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمْ رُسُلاً ط یہاں بہت سے رسول بھیجنے سے مراد ہے بہت سے انبیاء بھیجے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں ‘ قرآن مجید میں رسول کا لفظ نبی کی جگہ استعمال ہوا ہے ‘ البتہ جہاں تک لفظ رسول کے اصطلاحی مفہوم کا تعلق ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں رسول صرف ایک آئے ہیں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ‘ باقی سب نبی تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

117 اخروی نجات کے حقدار کون ؟ بنی اسرائیل کی ایسی کرتوتوں کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے اور اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کا دین صرف اپنی خواہشات کی پیروی تھا۔ کتاب اللہ میں سے ایسی چیزوں کی پیروی کرلینا جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوں اور جو باتیں خواہشات کے خلاف ہوں ان میں عصیان و سرکشی کی راہ اختیار کر جانا دراصل کتاب اللہ کی پیروی نہیں بلکہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی ہوتی ہے اور یہی کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اس خواہش نفس کی پیروی میں وہ اس حد تک بڑھے ہوئے تھے اور انبیاء کو جھٹلانا تو درکنار، قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

239 ۔ چناچہ قوم بنی اسرائیل کی تاریخ گویا انبیاء مرسلین ہی کی ایک مسلسل تاریخ ہے۔ (آیت) ” میثاق بنی اسرآء یل “۔ پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔ یہ عہد توحید ہی سے متعلق تھا۔ 240 ۔ یعنی کم وبیش مخالفت تو اپنے سب ہی انبیاء کی کی، جو ذرا سا بھی کوئی حکم ان کی مرضی کے خلاف لے کر آئے، لیکن بعض کو تو تکذیب سے گزر کر ہلاک تک کرڈالا، یہود کے قتل انبیاء وغیرہ پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے ہیں۔ انجیل میں یہ الزام اس سے کہیں زیادہ زور دار الفاظ میں دہرایا گیا ہے۔ ” اے سانپو، اے افعی کے بچو، تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے، اس لیے دیکھو میں نبیوں اور داناؤں اور نقیبوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔ ان سے بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–77

قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لے لیا تھا ‘ یعنی تورات میں حکم دیا تھا کہ تورات پر ایمان لاؤ اس پر عمل کرو تمام انبیاء پر اور خصوصاً محمد پر ایمان لاؤ۔ وارسلنا الیہم رسلا اور ہم نے ان کے پاس پیغمبر بھیجے تاکہ ان کو نصیحت کریں اور دینی امور کھول کر بتائیں۔ کلما جآء ہم رسول بما لا تہوی انفسہم (لیکن) جب بھی کوئی پیغمبر کوئی ایسی تعلیم لے کر پہنچا جو ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھی (اور تعلیم توریت کے موافق تھی) اس کلام میں اس بات پر دلالت ہے کہ بنی اسرائیل نے تورات کی مخالفت کی اور جو عہد و پیمان کئے تھے ان کو توڑ ڈالا۔ فریقا کذابوا (انبیاء کے) ایک گروہ کی تو انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 70–71

(70۔ 71) توریت میں رسول اکرم ﷺ کی تصدیق اور اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا عہد لیا جب بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسا حکم لایا جس کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے اور انکی یہودیت کے موافق نہیں تھا تو حضرت عیسیٰ ؑ اور رسول اکرم ﷺ کی تو انہوں نے تکذیب کی اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا اور یہی گمان کرتے رہے کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور ان کے قتل کی وجہ سے یہ ہلاک نہیں ہوں گے اور حق وہدایت سے اندھے، بہرے بنے رہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مگر پھر ایمان لائے اور کفر سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا۔ مگر اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۔۔ : اس سے مقصود بنی اسرائیل کی سرکشی اور وعدہ پورا نہ کرنے کا بیان ہے، گویا اس کا تعلق ابتدائے سورت ”اَوفُو بالعُقُودِ“ سے ہے، یعنی ہم نے ان سے عہد لیا کہ توحید و شریعت پر قائم رہیں گے اور جو رسول ان کی طرف بھیجے جائیں گے ان کی بات سنیں گے اور مانیں گے۔ اس میثاق کا ذکر اس سورت کی آیت (12) اور سورة بقرہ کی آیت (83 تا 85) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 70 یہ آیت سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ میثاق کا معنی یہ ہے کہ وہ عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور ان احکام کی پیروی کریں جن کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں ہم نے ان کا عذر ختم کردیا ہے ہم نے ان کی طرف رسل کو بھیجا انہوں نے عہود کو توڑا، یہ اس کی طرف راضع ہے جس کے ساتھ سورة کا آغاز کیا گیا تھا اور یہ قول ہے : آیت : اوفوا بالعقود۔ آیت : کلما جآئھم، ھم ضمیر کا مرجع یہود ہیں۔ آیت : رسول بما لا تھوی انفسھم یعنی جو ان کی خواہشات کے مطابق نہ تھا آیت : فریقا کذبوا وفریقا یقتلون یعنی ایک فریق کو جھٹلایا اور ایک فریق کو قتل کیا جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–70

یہود کا تورات پر یہ عمل نہیں تھا (1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن حارثہ، سلام بن مشکم، مالک بن الصیف اور رافع بن حرملہ آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب اور اس کے دین پر ہے تو تو ایمان لے کر آ جو ہمارے پاس توراۃ میں سے ہے۔ اور تو اس بات کی گواہی دے کہ وہ بھی اللہ کی جانب سے حق ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن تم نے کتنی باتیں نکال لیں اور جو کچھ اس میں ہے تم نے اس کا انکار کردیا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ تم نے اس میں سے چھپایا جس کا تم حکم دیئے گئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَقَدْ اَخَذْنَا [ یقینا ہم لے چکے ہیں ] مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کا پختہ عہد ] وَاَرْسَلْنَآ [ اور ہم بھیج چکے ہیں ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] رُسُلًا ۭ [ بہت سے رسول ] كُلَّمَا [ جب بھی ] جَاۗءَهُمْ [ آیا ان کے پاس ] رَسُوْلٌۢ [ کوئی رسول ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ] لَا تَهْوٰٓى [ پسند نہیں کرتے ] اَنْفُسُهُمْ ۙ [ ان کے جی ] فَرِيْقًا [ تو ایک فریق کو ] كَذَّبُوْا [ انھوں نے جھٹلایا ] وَفَرِيْقًا [ اور ایک فریق کو ] يَّقْتُلُوْنَ [ وہ قتل کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بنی اسرائیل کی عہد شکنی اس کے بعد فرمایا (لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، ان کا یہ طریقہ رہا کہ حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) جو دین پیش کرتے تھے اس دین میں سے جو حصہ نفس کو نہیں بھاتا تھا اور اچھا نہیں لگتا تھا اس سے اعراض کرتے تھے، اور اس ناگواری کے باعث بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلادیا اور بہت سوں کو قتل کردیا یہ مضمون سورة بقرہ کی آیت (اَفَکُلَّمَا جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُمْ ) میں بھی گذر چکا ہے، ایمان کی شان یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم دیا جائے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 70–71

رجوع بسوئے ذکر یہود۔ قال اللہ تعالی، لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔ یعملون۔ اوپر سے اہل کتاب کے قبائح کا ذکر چلا آرہا تھا اب پھر اس کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق عہد لیا ہم نے اولاد یعقوب سے کہ توحید پر قائم رہنا اور اگر نبی آخرالزمان کا زمانہ پاؤ تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اس عہد کے یاد دلانے کے لیے ہم نے ان کی طرف بہت سے پیغمبر بھیجے لیکن عناد اور سرکشی سے ان کا یہ حال ہوا کہ جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس کوئی ایسا حکم لے کر آیا جس کو ان کا نفس امارہ پسند نہیں کرتا تھا تو ان لوگوں نے ان میں سے کچھ پیغمبروں کی تو تکذیب کی اور کچھ پیغمبروں کو قتل کرنے لگے اور یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

123 میثاق سے وہی عہد و میثاق مراد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات میں لیا گیا تھا کہ وہ توحید اور تمام احکام و شرائع کی پابندی کریں جیسا کہ سورة بقرہ ع 10 میں فرمایا وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَاتَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا الایۃ قد تقدم فی البقرۃ معنی المیثاق وھو الا یعبدوا الا اللہ و ما یتصل بہ (قرطبی ج 6 ص 247) ۔ ای باللہ لقد اخذنا میثاقھم بالتوحید و سائر الشرائع والاحکام المکتوبۃ علیھم فی التوراۃ (ابو السعود ج 3 ص 623 روح ج 6 ص 203) ۔ 124 عہد لینے کے بعد ہم ان کی طرف لگاتار پیغمبر بھیجتے رہے تاکہ وہ ان کو عہد کی یاد دہانی کراتے رہیں اور ان کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–71

ربط آیات گزشتہ درس میں پیغمبر (علیہ السلام) کو تاکید اً فرمایا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کی طرف سے خوف نہ کھائیں ، اللہ خود آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا۔ پھر اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ ان سے کہ دین کہ تمہارا دین اور مذہب کچھ نہیں۔ جب تک تم کتب سماویہ کو قائم نہ کرو مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک کا جو حصہ نازل ہوتا ہے وہ ان اہل کتاب کے لئے مزید سرکشی اور کفر کا باعث بنتا ہے۔ نیز فرمایا کہ آپ ان کی حالت پر افسوس نہ کریں ، بلکہ اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کو سزا دے گا۔ اب آج کے دس میں اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَرْسَلْنَآ اِلَيْہِمْ رُسُلًا۝ 0ۭ كُلَّمَا جَاۗءَہُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَہْوٰٓى اَنْفُسُہُمْ۝ 0ۙ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ۝ 70ۤ لام اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه : الأول : الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–72

ترکیب : من آمن شرط فلا خوف الخ جواب جملہ خبران والصابئون مبتدا اس کی خبر محذوف جیسا کہ فانی و قیاربہا لغریب ای فانی لغریب وقیار بہا کذلک کلما جاء شرط ھم جاء کا بسبب متعدی ہونے کے مفعول اول بما لاتہویٰ مفعول ثانی رسول فاعل فریقا الخ جملہ جواب۔ تفسیر : چونکہ یہود و نصاریٰ کو یہ گمان تھا کہ نجات یہودی یا نصرانی کے بعد اور کو نہیں ہوگی اور اب تک دونوں فریق کو یہی گمان ہے جیسا کہ ہنود کا گمان ہے۔ حالانکہ یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کا ابطال کرنا منصب خاتم النبوۃ کا فرض تھا۔ اگر یوں ابطال کرتے کہ تمہارا گمان غلط ہے تو چنداں موثر نہ ہوتا بلکہ وہ یہ طعن کرتے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَٓئِ یْلَ وَ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ رُسُلاً ط کُلَّمَا جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ م بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُھُمْ لا فَرِیْقًا کَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَ ۔ (المائدہ : 70) (ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسی بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی ‘ تو ایک گروہ کی انھوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے ‘) بنی اسرائیل کا رسولوں اور نبیوں سے سلوک ‘ امت مسلمہ کے لیے عبرت یعنی ان سے شریعت کی پاسداری احکام خداوندی کے نفاذ اور عدل اجتماعی کے قیام کا جو عہد و میثاق لیا گیا تھا ‘ جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے ایمان باللہ، آخرت پر یقین اور دیگر انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لانے کا عہد لیا گیا تھا۔ اگر وہ اس پر عمل کرتے تو مغضوب ہونے کے بجائے دنیا اور آخرت میں بےخوف ہوجاتے۔ بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے جو عہد لیا تھا اس کی تفصیل سورة البقرہ آیت 83 المائدہ 12 میں گزر چکی ہے البقرہ آیت 83 میں یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت تمام انبیاء کرام سے یہ عہد لیا تھا کہ جس نبی کی نبوت کے دور میں خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ تشریف لائیں اسے اپنی نبوت کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے آخری نبی کی رسالت کا پرچم اٹھانا ہوگا اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 70 : لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ہم نے بنی اسرائیل سے توحید کا وعدہ لیا۔ وَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمْ رُسُلاً ان کی طرف رسول بھیجے تاکہ وہ ان کو ان چیزوں پر جو انہوں نے کرنی ہیں اور جو چھوڑنی ہیں ان کو واقف کرا سکیں۔ کُلَّمَا جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌم یہ جملہ شرطیہ ہے اور رسلاً کی صفت کے طور پر لائے اور ضمیر محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے رسول منہم۔ رسول ان میں سے بِمَا لَا تَہْوٰٓی اَنْفُسُہُمْجو کام ان کی خواہشات کے مخالف تھا اور شہوات سے متضاد تھا۔ جیسے سخت تکالیف اور شرائع پر عمل۔ جواب شرط محذوف ہے جس پر فَرِیْقًا کَذَّبُوْا وَفَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَ دلالت کر رہا ہے گویا اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–71

آیت نمبر 71, 70, 69, 68 تفسیر : (قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرو اور جو کچھ واجب ہے اس کو ادا کرو ( ولیزیدن کثیراً منھم مآ انزل الیک من ربک طغیاناً وکفراً فلا تاس علی القوم الکفرین اور ان میں سے بہت لوگوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو آپ افسوس نہ کریں اس قوم کفار پر) (ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون والنصریٰ بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 70–71

(70 ۔ 71) ۔ اوپر ذکر تھا کہ یہود اگر پورے طور پر تورات کے پابند نہ ہوں گے تو ان کو راہ راست پر شمار نہ کیا جاوے گا ان آیتوں میں ان کے تورات پر قائم نہ رہنے کی تفصیل ذکر فرمائی ہے جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت { وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہُ } ( 2: 83) کی تفسیر میں گذرچکا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت نبی اللہ تعالیٰ نے تورات کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے۔ لیکن یہود نے تورات کے اکثر احکام کو چھوڑ کر بجائے ان احکام کے اپنی خواہش کے موافق ایجادی باتیں تراش رکھی تھیں جس نبی نے ان کو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–70

آیت 69 اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا۔۔۔ لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لئے نجات ہے۔ ان کو کوئی خوف نہ ہوگا، انہیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے۔۔۔ یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–74

قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

178 بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا۔ یعنی ان سے اس بات کا پختہ عہد و پیمان لیا کہ تم ایمان لانا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور زندگی انہی کے اوامرو ارشادات کے مطابق گزارنا۔ اور اگر تم نبی آخر الزمان کا زمانہ پاؤ تو ان کا ساتھ دنیا اور ان کی نصرت و امداد کرنا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل اور مدارک التنزیل، معارف القرآن وغیرہ) ۔ مگر انہوں نے اپنے اس عہد کو پورا نہ کیا اور اپنے دین کے اوامر کی پیروی کرنے کی بجائے انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی کی۔ اور نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کی بجائے ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا اور ان کی دشمنی پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 70–71

یہود کے کرتوت تشریح : ان آیات میں وہ عہد جو ہم کلمہ پڑھ کر اللہ سے کرتے ہیں اس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے یہود کی مثال دی گئی ہے کہ جو بھی یہود کی طرح نفسانی خواہشات کو ترجیح دے کر اللہ سے کیے گئے عہد کو بھلا دے گا تو وہ ہمیشہ دنیا میں نقصان اٹھائے گا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ یہود کو ہمیشہ رسولوں کی باتیں بری لگتی تھیں تو وہ یا تو ان کو جھٹلاتے یا پھر قتل ہی کردیتے جیسا کہ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو انہوں نے قتل کر ڈالا۔ اللہ ارحَمُ الّٰرحِمِین ہے اس نے بار بار یہود کو معاف کیا مگر یہود نے اس معافی اور درگزری سے کبھی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کرنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–77

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔ اسرار و معارف : یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 اس مقصود بنی اسرائیل کی سرکشی اور وفائے عہد سے انحراف کو بیان کرنا ہے گویا اس کا تعلق ابتدائے سورت (اوفو بالعقود) سے ہے (کبیر) یعنی ان سے عہد لیا کہ توحید و شریعت پر قائم رہیں گے اور جو رسول ان کی طرف بھیجے جائیں گے ان کی بات سنیں گے اور مانیں گے (ابن کثیر)10 یعنی شرائع اور احکام کی تعریف وارتشریح کے لے (کبیر)11 تو ان سے دشمنی کی پس کلما کا جواب محذوف ہے ای نا صبوہ کیونکہ بعد کا کلام اس پر دال ہے (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:70) لاتھوی۔ ھوی (باب سمع) سے مضارع منفی واحد مؤنث غائب وہ نہیں چاہتی ہے ۔ وہ نہیں پسند کرتی ہے۔ ھوی نفس کا خواہش کی طرف مائل ہونا۔ بما لا تھوی۔ ایسا حکم لے کر جسے ان کے نفسوں نے (یعنی انہہوں نے) پسند نہ کیا۔ فریقا۔ یعنی رسولوں کے ایک گروہ کو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 70–71

آیت نمبر 70 تا 71 لغات القرآن : لاتھدی (پسند نہ تھا۔ وہ نہ چاہتے تھے) ۔ حسبوا (انہوں نے گمان کیا۔ وہ سمجھے) ۔ عموا (وہ اندھے ہوگئے) ۔ صموا (بہرے ہوگئے) ۔ تشریح : چند الفاظ میں بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کردی گئی ہے۔ جتنے رسول آئے اور ان کی طرف بھیجے گئے، ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پیغمبروں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچتی ہے۔ کسی دوسری قوم میں اتنے پیغمبر پیدا نہیں ہوئے۔ کسی دوسری قوم کی اصلاح کو اتنے پیغمبر نہیں بھیجے گئے۔ مگر کسی دوسری قوم نے اتنی ضد، کفر اور طغیان کو راہ نہیں دی جتنی وہ اب تک دے رہے ہیں۔ قرآن پاک نے ان کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–71

ان آیتوں میں ان کے توریت پر قائم رہنے کی تفصیل فرمائی۔ جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ وہی عہد ہے جس کا ذکر سورة ببقرہ میں ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے نبی اللہ تعالیٰ نے توریت کے اس عہد کے قائم رکھنے کے لئے بھیجے، لیکن یہود نے توریت کے اکثر احکام بدل دئے تھے، اور جس نبی نے ان کو ان باتوں سے روکا اس سے مخالفت پیداکرکے بعضے نبیوں کو تو شہید کرڈالا اور بعضوں کو جھٹلایا۔ آخر کو فرمایا کہ ان کے یہ سب گناہ کی باتیں اللہ جانتا ہے وقت مقررہ پر ان کو معلوم ہوجائے گا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–71

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے اطاعت انبیاء کا عہد لیا گیا مگر وہ ہمیشہ منکر رہے اور صرف انکار ہی نہیں کیا بلکہ بعض اللہ کے پرستاروں کو شہید بھی کر ڈالا اور یہ قطعا نہ سوچا کہ اس ظلم عظیم کی ہمیں کوئی سزا بھی ملے گی ، نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی غیرت جوش میں آئی اور بخت نصر کے ہاتھوں انہیں ہولناک عذاب میں مبتلا کیا گیا جس سے سارے اسرائیلی لرز اٹھے ۔ حل لغات : فریقا : گروہ ۔ جماعت ۔ فعموا : اندھے ہوگئے ، مصدر عمی ۔ صموا : بہرے ہوگئے ، مصدر صمم :

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 69–70

ف 1 یہ امر واقعی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمان ہوئے اور وہ لوگ جو یہود ہیں اور جو صائبین ہیں اور وہ جو نصاریٰ یعنی کوئی بھی ہو جو دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور قیامت کو مانتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ (تیسیر) یہ آیت پارئہ الم میں گذر چکی ہے اور وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے خلاصہ یہ ہے کہ جس کا شرعاً اعتقاد صحیح ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات پر اس کا اعتقاد ٹھیک اور پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جو قیامت بتائی ہے اس پر بھی اس کا ایمان ہے اور شریعت کے بتائے ہوئے اعمال صالحہ کا پابند ہے تو وہ لوگ یقینا قیامت کے دن ہر قسم کے خوو…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کی یہ گمراہی کہ وہ انبیاء کرام کو جھٹلانے اور ان کو قتل کرنے میں چھوٹ تھے : 186: بنی اسرائیل کی ان زیادتیوں اور نافرمانیوں سے قرآن کریم کے صفحات کے صفحات بھرے پڑے ہیں خصوصاً سورة البقرہ انہی داستانوں کا دوسرا نام ہے آل عمران اور النساء میں بھی ان کا ذکر ہوچکا ہے اور اس سورة المائدہ میں جگہ جگہ ان کا بیان ہے۔ زیر نظر آیت کے الفاظ سورة البقرہ کی آیت 61 اور آیت 87 میں بیان ہوچکے اس لئے تفصیل کیلئے عروہ الو ثقیٰ جلد اول تفسیر البقرہ کی مذکورہ آیات ملاحظہ فرمالیں اس جگہ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی اس طرح کی زیادتیوں ، نافرنانیوں اور قتل انبیاء کا ذکر جو خود ان کی آسمانی کتابوں یعنی تورات و انجلر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–72

Commentary This is an account of how the Bani Isra'il kept breaking the pledge taken from them. As said in verse 70, whenever their Messenger brought a command which did not suit their fancy, they would break their pledge and go about betraying Allah to the limit that they would falsify His Messengers, even kill some of them. They were commanded ` to believe in Allah and act righteously.' But, this was what they did in response. As for the other part of the command - ` Belief in the Last Day' their behaviour was equally reckless. After having committed acts so oppressive, they became totally…

Read the full tafseer →