Explained with ayahs 68–69
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة الْمَآىِٕدَة 99
دیکھئے سورة بقرہ آیت 62 و 80
Read the full tafseer →چار قوموں کو ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور آخرت میں نجات کا وعدہ
دوسری آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے چار قوموں کو مخاطب کرکے ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور اس پر فلاح آخرت کا وعدہ فرمایا۔ ان میں سے پہلے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، یعنی مسلمان ہیں، دوسرے الَّذِيْنَ هَادُوْا، یعنی یہود، تیسرے صابئون، اور چوتھے نصاریٰ۔ ان میں تین قومیں مسلمان، یہود، نصاریٰ معروف و مشہور اور دنیا کے اکثر خطوں میں موجود ہیں۔ صابئون یا صابہ کے نام سے آج کل کوئی قوم معروف نہیں۔ اسی لئے اس کی تعیین میں علماء و ائمہ کے اقوال مختلف ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر نے بحوالہ قتادہ رحمة اللہ علیہ ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ صابئون وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
تفسیر آیات 68۔ 69:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔
پیغام کا متن : یہ وہ پیغام ہے جو اہل کتاب کو، عام اس سے کہ وہ یہود ہیں یا نصاریٰ ، سنانے کا آنحضرت کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69۔ 1 یہ وہی مضمون ہے جو سورة بقرہ کی آیت 62 میں بیان ہوا ہے، اسے دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
48: یہی مضمون سورة بقرہ کی آیت 62 (62:2) میں گذرا ہے۔ اس کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →الذین امنو سے مراد اہل ایمان مسلمان ہیں ۔ الذین ھادو سے مراد یہودی ہیں ۔ الصائبون سے مراد وہ طبقہ ہے جو بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا یہ لوگ حضور ﷺ کی بعث سے پہلے موجود تھے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا فرقہ کوئی متعین فرقہ نہ تھا ۔ اس قسم کے لوگ عرب میں معدودے چند تھے ۔ نصاری سے مراد عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں ۔
اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے چاہے کوئی جس عقیدے اور دین پر بھی ہو ‘ اب اگر اللہ پر ایمان لائے گا آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا اور یہاں اس میں ضمنا یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اب نبی آخری الزمان ﷺ پر نازل شدہ شریعت…
Read the full tafseer →2 یعنی جو قوم مسلمان کہلاتی ہے یا یہود یا نصاریٰ یا صابی (یا اور کچھ ثمثیلاً چند مشہور مذاہب کا ذکر کیا گیا ہے) کوئی شخص ان ناموں کی بدولت یا نسل، رنگ، پیشہ، وطن وغیرہ احوال و خصائص کے لحاظ سے حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ کامیاب اور مامون و مصؤن ہونے کا ایک اور صرف ایک معیار ہے یعنی ایمان و عمل صالح جس قوم کو اپنے مقرب الہٰی یا کامیاب ہونے کا دعویٰ ہو وہ اسی کسوٹی پر اپنے کو کس کر دیکھ لے۔ اگر اس میں کھری اترے تو بےخوف و خطر مفلح اور کامیاب ہے ورنہ ہر وقت اپنے خدا کے غضب و قہر کے نیچے سمجھے۔ پچھلی آیات میں خاص اہل کتاب کو تبلیغ تھی اس آیت میں تمام اقوام و ملل کے سامنے بلا رو…
Read the full tafseer →آیت 69 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِءُوْنَ وَالنَّصٰرٰی
اس آیت میں تقریباً وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے سورة البقرۃ کے آٹھویں رکوع آیت 62 میں آچکا ہے ‘ جس سے بعض لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے کہ شاید نجات کے لیے ایمان بالرسالت کی ضرورت نہیں ہے ‘ حالانکہ سورة النساء آیات 50 ‘ 51 اور 52 میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مابین تفریق کرنے والوں کے لیے بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا وہی لوگ تو پکے کافر ہیں۔ دوسری بات یہاں ذہن میں یہ رکھیے کہ ان تمام سورتوں میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت قدم قدم پر ہے ‘ بار بار ہے ‘ لہٰذا اس سے…
Read the full tafseer →116 دور نبوی میں رائج ادیان کا مختصر تعارف :۔ اس آیت کی ابتدا میں (اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) 69 المآئدہ سے بعض علماء نے منافقین کا گروہ مراد لیا ہے۔ تاہم اس سے وہ مسلمان بھی مراد لیے جاسکتے ہیں جو اپنے ایمان و عمل میں راسخ نہیں ہیں۔ دوسرے مخاطب یہود ہیں۔ یہود پر ایک وقت ایسا آچکا تھا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام اقوام عالم پر فضیلت دے رکھی تھی۔ اور ہر قسم کے انعامات اور برکات سے انہیں نوازا تھا جس سے ان کے دل میں یہ زعم پیدا ہوگیا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا اللہ کے چہیتے ہیں اور ہم کو دوزخ کا عذاب کسی صورت میں بھی نہیں ہوگا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی کہ…
Read the full tafseer →238 ۔ آیت کے الفاظ ومطالب کی تشریح پارۂ اول میں گزر چکی۔ حاشیہ نمبر 2 18 سے حاشیہ نمبر 222 تک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا والذین ہادوا والصائبون والنصاری من امن باللہ ولیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اس آیت کا ترجمہ اور تفسیری بیان سورة بقرہ
میں گزر چکا ہے مزید اعادہ کی ضرورت نہیں ‘ اس جگہ صرف اتنا بیان کرنا ہے کہ الصائبین کو اس مقام پر الصائبون واؤ کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا انکا اسم تو منصوب ہوتا ہے اور انکے اسم پر اس کا عطف ہے۔ لہٰذا اس کو منصوب ہونا چاہئے ‘ علماء کوفہ اور کسائی و مبرد کے مسلک پر تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں اہل کوفہ کے نزدیک انکا عمل صرف اسم پر ہوتا ہے معطوف پر نہیں ہوتا۔ اس لئے الصائبونکا عطف انکے اسم کے محل پر ہوجائے گا معطوف سے پہلے خبر انکے گزرنے کی شرط نہیں…
Read the full tafseer →(69) جو حضرات حضرت موسیٰ ؑ اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اسی حالت میں مرگئے نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ انھیں کوئی غم ہوگا اور یہودی اور فرقہ صائبی یہ نصاری ہی کی ایک شاخ ہے جو قول میں ان سے نرم ہے اور نصاری اہل نجران جو ان میں سے اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت پر ایمان لائے اور جو یہودیت سے اور صائبی صابیت اور نصرانی نصرانیت سے توبہ کرے اور اس کے ساتھ اعمال صالحہ کرے تو آئندہ عذاب کا کوئی خوف اور گزشتہ باتوں پر کوئی غم نہیں ہوگا۔
یا یہ کہ جس وقت لوگ خوفزدہ ہوں گے، ان کو خوف نہیں ہوگا اور جس وقت اور لوگ غم زدہ ہوں گے انھیں غم نہیں ہوگا یا یہ کہ جس وقت موت ذبح کی جائے گی، انھیں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اوپر کی آیات میں بتایا کہ اہل کتاب جب تک ایمان لا کر عمل صالح نہ کریں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس میں فرمایا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں سب مسلم و غیر مسلم لوگوں کا یہی حکم ہے۔
اس آیت میں لفظ ”اَلصَّابِءُوْنَ“ بظاہر تو منصوب ہونا چاہیے تھا مگر سیبویہ اور خلیل نے لکھا ہے کہ یہ ”مَرْفُوْعٌ بالْاِبْتِدَاءِ عَلٰٰی نِیَّۃِ التَّأْخِیْرِ“ ہے، یعنی یہ لفظ ”الصّٰبِـُٔــوْنَ“ اصل میں ”وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“ کے بعد ہونے کی نیت سے مبتدا ہے اور اس کی خبر ”کَذٰلِکَ“ ہے، یعنی ”الصّٰبِـُٔــوْنَ“ کا بھی یہی حکم ہے۔ اس کے مؤخر لانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ دراصل یہ سب فرقوں سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 69
اس آیت پر پہلے گزر چکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
آیت : والذین ھادو یہ معطوف ہے، اسی طرح الصبئون، ھادوا کی ضمیر پر معطوف ہے۔ یہ کسائی اور اخفش کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : میں نے زجاج کو یہ کہتے سنا، اس کے سامنے اخفش اور کسائی کا قول ذکر کیا گیا تھا یہ دوجہتوں سے غلط ہے ایک یہ کہ ضمیر مرفوع پر عطف قبیح ہوتا ہے حتی کہ پہلے ضمیر کی تاکید لگائی جائے۔ دوسری یہ کہ معطوف، معطوف علیہ کا شریک ہوتا ہے معنی یہ ہوجائے گا کہ صائبین یہودیت میں داخل ہیں اور یہ محال ہے۔ فراء نے کہا ہے : آیت : الصبئون میں رفع جائز ہے، کیونکہ ان ضعیف عامل ہے یہ صرف اسم میں عمل کرتا ہے خبر میں عمل نہیں کرتا اور الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
یہود کا تورات پر یہ عمل نہیں تھا
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن حارثہ، سلام بن مشکم، مالک بن الصیف اور رافع بن حرملہ آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب اور اس کے دین پر ہے تو تو ایمان لے کر آ جو ہمارے پاس توراۃ میں سے ہے۔ اور تو اس بات کی گواہی دے کہ وہ بھی اللہ کی جانب سے حق ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن تم نے کتنی باتیں نکال لیں اور جو کچھ اس میں ہے تم نے اس کا انکار کردیا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ تم نے اس میں سے چھپایا جس کا تم حکم دیئے گئے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَالَّذِيْنَ هَادُوْا [ اور جو یہودی ہوئے ] وَالصّٰبِـُٔــوْنَ [ اور صائبی ہوئے ] وَالنَّصٰرٰى [ اور نصاری ہوئے ] مَنْ [ (ان میں سے ) جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَعَمِلَ [ اور عمل کیا ] صَالِحًا [ نیک ] فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا هُمْ [ اور نہ وہ لوگ ] [ يَحْزَنُوْنَ : غمگین ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →صرف ایمان اور عمل صالح ہی مدار نجات ہے
پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الصّٰبِءُوْنَ وَ النَّصٰرٰی) (بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہیں اور جو فرقہ صابئین ہیں اور جو نصاریٰ ہیں ان میں سے جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے) اس طرح کی آیت سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے (دیکھو آیت نمبر 62) وہاں آیت کی پوری تفسیر لکھ دی گئی ہے وہاں یہود و نصاریٰ اور صابئین کا تعارف بھی کرادیا گیا ہے سورة بقرہ میں اور یہاں اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل شانہ، نے اپنا یہ قانون بیان فرمایا ہے جو بھی کوئی شخص اعتقادات اور اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ابطال باطل۔
قال تعالی، یا اھل الکتاب لستم۔۔۔ الی۔۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ تبلیغ کارکن اول اول احقاق حق ہے اور رکن ثانی ابطال باطل ہے گذشتہ آیات میں اجمالا احقاق حق تھا اب اس کے بعد آیت اجمالا ابطال باطل کا بیان ہے پھر آئندہ آیات میں نصاری کے عقیدہ فاسدہ کا تفصیلا ابطال ہے اور مقصود اہل کتاب کو اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب ہے کہ باطل کو چھوڑ کر حق کا اتباع کریں آپ ان یہود ونصاری سے یہ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم جو اپنے آپ کو دین کے بارے میں راہ حق اور ہدایت پر سمجھتے ہو خوب جان لوتم کسی راہ پر نہیں ہو چونکہ تم حق سے منحرف ہوچکے ہو اس لیے تم بمنزلہ بےراہ کے ہو تمہارا مذہب بالکل ہیچ ہے جس طریقہ پر تم…
Read the full tafseer →: 122 اس آیت کی تفسیر سورة بقرہ میں تفصیل سے گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 40 حاشیہ نمبر 130 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
ربط آیات
گزشتہ درس میں پیغمبر (علیہ السلام) کو تاکید اً فرمایا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کی طرف سے خوف نہ کھائیں ، اللہ خود آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا۔ پھر اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ ان سے کہ دین کہ تمہارا دین اور مذہب کچھ نہیں۔ جب تک تم کتب سماویہ کو قائم نہ کرو مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک کا جو حصہ نازل ہوتا ہے وہ ان اہل کتاب کے لئے مزید سرکشی اور کفر کا باعث بنتا ہے۔ نیز فرمایا کہ آپ ان کی حالت پر افسوس نہ کریں ، بلکہ اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کو سزا دے گا۔
اب آج کے دس میں اہل کتاب…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ 69
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
ترکیب : من آمن شرط فلا خوف الخ جواب جملہ خبران والصابئون مبتدا اس کی خبر محذوف جیسا کہ فانی و قیاربہا لغریب ای فانی لغریب وقیار بہا کذلک کلما جاء شرط ھم جاء کا بسبب متعدی ہونے کے مفعول اول بما لاتہویٰ مفعول ثانی رسول فاعل فریقا الخ جملہ جواب۔
تفسیر : چونکہ یہود و نصاریٰ کو یہ گمان تھا کہ نجات یہودی یا نصرانی کے بعد اور کو نہیں ہوگی اور اب تک دونوں فریق کو یہی گمان ہے جیسا کہ ہنود کا گمان ہے۔ حالانکہ یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کا ابطال کرنا منصب خاتم النبوۃ کا فرض تھا۔ اگر یوں ابطال کرتے کہ تمہارا گمان غلط ہے تو چنداں موثر نہ ہوتا بلکہ وہ یہ طعن کرتے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰی مَنْ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (المائدہ : 69)
’ ’ بیشک جو ایمان لائے ‘ جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ ‘ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔
صٰبِئُوَنکون تھے ؟
اس آیت کریمہ میں چار مذہبی گروہوں یعنی مومن (مسلمان) یہودی ‘ نصاریٰ اور صابیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں مسلمانوں کا ذکر قطع نظر اس کے کہ باقی گروہوں کے اعتبار سے وہ راہ راست اور ہدایت پر ہیں ‘ اس وقت صرف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی روش اور کردار کو کفر قرار دینے کے بعد ایمان کے بنیادی ارکان، تقاضوں اور اس کے صلہ کا ذکر کیا گیا ہے
اس حقیقت کو سورة البقرۃ کی آیت 62 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ اللہ کے ہاں خالی ایمان کا دعویٰ اور مذہبی فرقہ واریت کے لیبل کی کوئی حیثیت نہیں اسلام سچے عقیدے اور حسن کردار کا نام ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اسلام کے منتخب اور پسندیدہ اعمال کو اختیار کرے۔ اس میں ایمان با للہ کے بعد نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج لازم ہیں جو ان اعمال اور ان کے متعلقات کو پورا کرے گا اسے دنیا میں سکون و اطمینان اور آخرت میں کوئی خوف و غم…
Read the full tafseer →آیت 69 : اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا بیشک جو لوگ ایمان لائے اپنی زبانوں سے حالانکہ وہ منافق ہیں۔ اور اس زبانی ایمان پر دوسری آیت دلالت کر رہی ہے۔ ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر من الذین قالوا ٰامنا بافواہہم ولم تؤمن قلوبہم۔ وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِئُوْنَ وَالنَّصٰرٰی اور وہ لوگ جو یہودی اور صابی اور نصاریٰ ہوئے۔ سیبویہ کہتے ہیں کہ الصابئونکا رفع ابتداء کی وجہ سے ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ اور مقصد اس سے یہ ہے ان اور جو اس کے متعلق اسم و خبر ہے اس سے یہ مؤخر ہے گویا عبارت اس طرح ہے ان الذین ٰامنوا والذین ہادوا والنصاری مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
آیت نمبر 71, 70, 69, 68
تفسیر : (قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرو اور جو کچھ واجب ہے اس کو ادا کرو ( ولیزیدن کثیراً منھم مآ انزل الیک من ربک طغیاناً وکفراً فلا تاس علی القوم الکفرین اور ان میں سے بہت لوگوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو آپ افسوس نہ کریں اس قوم کفار پر)
(ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون والنصریٰ بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68 ۔ 69) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رافع بن حرملہ اور مالک بن ضعیف اور چند یہود ایک روز آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کیا اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں مانتے آپ نے فرمایا یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الٰہی کو بدل ڈالا ہے انہوں نے جواب دیا جس طریقہ پر ہم ہیں وہ حق ہے ہم اس کے سوا ہرگز کوئی طریقہ اور اختیار نہ کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور نصاریٰ اور دھریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو بغیر شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل قرآن، اہل تورات اور اہل انجیل کے بارے میں بیان فرماتا ہے کہ ان سب کی سعادت اور نجات ایک ہی طریقے اور ایک ہی اصول میں ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا۔۔۔ لہٰذا ان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اسی کے لئے نجات ہے۔ ان کو کوئی خوف نہ ہوگا، انہیں خوف زدہ کرنے والے امور کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ امور جو وہ پیچھے چھوڑ چکے ہیں ان کے بارے میں غمگین نہ ہوں گے۔۔۔ یہ حکم مذکور تمام زمانوں کو شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔
اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…
Read the full tafseer →173 ہدایت سے سرفرازی کے لیے قانون عام کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے قانون عام کا ذکر وبیان فرما دیا گیا۔ یعنی مسلمان اور غیر مسلمان سب کیلئے قانون و قاعدہ اور دستور و ضابطہ ایک ہی ہے کہ جو بھی کوئی اخلاص نیت اور صدق دل سے ایمان لائے گا اور اس کے تقاضے پورے کرے گا اسی کے لئے ہے دارین کی سعادت و کامرانی۔ خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور یہی تقاضا ہے عدل و انصاف اور عقل و فطرت کا۔ اس میں کسی خاندانی امتیاز یا شکل و صورت یا قوم قبیلہ یا رنگ و نسل وغیرہ کے کسی فرق وتمیز کا کوئی دخل نہیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز انسان کے اپنے بس میں نہیں۔ اور جو چیز کسی کے…
Read the full tafseer →خوف و غم سے نجات
تشریح : اس آیت سے متعلقہ مضمون سورة البقرہ کی آیت 62 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نجات کے لیے اللہ پر ایمان آخرت پر ایمان اور نیک اعمال ضروری ہیں۔ جو اس معیار پر پورا اترے وہ ہر قسم کے غم اور فکر سے آزاد ہوسکتا ہے۔ صرف نام سے نجات نہیں ہوسکتی، یعنی یہ کہ ہم کیونکہ یہودی ہیں، اس لیے ہمیں عذاب نہ ہوگا وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 8 یہ تشریح اس صورت میں ہے ج ان الذین امنو سے منافق مرادلیے جائیں جو بظاہر ہر مسلمان اور احقیقت میں کافر تھے (م، ع)
Read the full tafseer →(5:69) ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبئون والنصری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف علیہم ولاہم یحزنون۔
آیت ہذا میں اگر الصبئون کو ان کے تحت لیا جائے تو اس کو منصوب ہونا چاہیے تھا اور الصبئین ہوتا جیسا کہ آیت 2:62 میں ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
اول تقدیر میں آیت یوں ہو۔ ان الذین امنوا والذین ھادو والنصاری من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا۔ فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ والصائبون کذلک۔ بیشک وہ لوگ وج ایمان لائے (یعنی جو مسلمان ہے) اور جو یہودی ہے یا جو نصرانی ہیں ان میں سے جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو اس کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت نمبر 67 تا 69
لغات القرآن : بلغ (پہنچا دے) ۔ لم یفعل (تو نے نہ کیا) ۔ ما بلغت (تو نے تمہیں پہنچایا) ۔ رسالتہ (اس کا پیغام) ۔ یعصمک (وہ تیری حفاظت کرے گا۔ تجھے بچائے گا) ۔ لیزیدون (البتہ وہ ضرور بڑھا دے گا) ۔ الصابئون (صابی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ) ۔
تشریح : ان آیات میں حضور ﷺ کو ایک خاص حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ وحی جلی یا وحی خفی آپ پر قرآن و سنت کی شکل میں نازل ہو ہو رہی ہے اسے تمام و کمال لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرچہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ نئے نئے احکام پاکر دشمنوں میں کھلبی زیادہ مچ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ پر حملہ کریں یا فساد کریں یا سازس کریں۔ مگر ڈرنے کی کوئی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
شان نزول : چند یہود ایک روز آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ آپ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں جانتے آپ نے فرمایا :'' یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الہی کو بدل ڈالا ہے ''۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طریقہ پر ہم ہیں وہ برحق ہے ہم اس کے سوا ہوگز کوئی اور طریقہ اختیار نہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور دہریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو ان کا ایمان لاشئ محض ہے۔ اب آگے فرمایا :'' اے رسول اللہ (ﷺ) کے ! ایسے لوگوں کی حالت پر آپ کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے ''۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →[44] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حواشی 49 اور 50 صفحہ 99۔
Read the full tafseer →من امن باللہ :
(ف 1) آیت کے عموم سے بعض روشن خیال لوگوں نے دھوکا کھایا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ اسلام صرف ایمان وعمل صالح کا نام ہے حضور ﷺ کا ماننا ضروری نہیں مگر یہ عقیدہ بوجوہ غلط اور گمراہ کن ہے ۔
1۔ اس لئے کہ قرآن حکیم نے ایک مستقل نظام حیات پیش کیا ہے جس میں عقائد سے لے کر اعمال کی جزئیات پر تک تلقین کی ہے اور جو تمام انسانی ضروریات پر حاوی ومشتمل ہے صرف عقائد و توحید کا نام اسلام نہیں کہ مذکورہ بالا عقیدہ کو درست تسلیم کرلیا جائے ۔
2۔ قرآن حکیم ایک مرتب اور مربوط کلام ہے اس میں سیاق کا خیال نہ رکھنا انتہا درجہ کی گمراہی ہے ، بیشتر کی آیات میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ قرآن حکیم کو نہ ماننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
ف 1 یہ امر واقعی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمان ہوئے اور وہ لوگ جو یہود ہیں اور جو صائبین ہیں اور وہ جو نصاریٰ یعنی کوئی بھی ہو جو دل سے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور قیامت کو مانتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے تو ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔ (تیسیر)
یہ آیت پارئہ الم میں گذر چکی ہے اور وہاں ہم نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے خلاصہ یہ ہے کہ جس کا شرعاً اعتقاد صحیح ہے اللہ تعالیٰ کی ذات صفات پر اس کا اعتقاد ٹھیک اور پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جو قیامت بتائی ہے اس پر بھی اس کا ایمان ہے اور شریعت کے بتائے ہوئے اعمال صالحہ کا پابند ہے تو وہ لوگ یقینا قیامت کے دن ہر قسم کے خوو…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی موافق قانون شریعت کے۔
Read the full tafseer →ایمان باللہ ، ایمان بالآ خرت اور اعمال کسی فردیا قوم کے لئے مختص نہیں :
185: زیر نظر آیت میں معمولی فرق کے ساتھ جو الفاظ کے آگے پیچھے ہونے سے ہوا ہے اس سے پہلے سورة البقرہ 2 : 62 میں گزر چکی ہے اور وہاں اس کی پوری تشریح کردی گئی۔ الفاظ کی تفسیر اور تفہیم مضمون دونوں کو بیان کردیا گیا ہے اور جو سیاق وسباق وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے اس لئے اس کی وضاحت کے لئے تفسیر عروۃ الو ثقیٰ جلد اول ص 314 تا 332 ملاحظہ کریں۔
Read the full tafseer →Salvation promised for Four Communities having faith and good deeds
In the second verse (69), Allah Almighty addresses four traditional religious communities, persuades them to have faith and act righteously whereupon He promises salvation for them. The first of those are: الَّذِينَ آمَنُوا (those who believe) that is, the Muslims. Secondly: الَّذِينَ هَادُوا (and those who are Jews); thirdly : صابِئُونَ (the Sabians); and fourthly: نصَارَىٰ (the Christians). Three of these Communities - Muslims, Jews and Christians - are well-known and found in most parts of the world. Any community having…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
99. See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, verse 62, and n 80.
Read the full tafseer →