Al-Maaida 5:68

Al-Maaida · from ayah 68

5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ— وَلَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّكُفْرًا ۚ— فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ۟قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ لَسۡتُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ حَتّٰى تُقِيۡمُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ‌ ؕ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ فَلَا تَاۡسَ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "O People of the Scripture, you are [standing] on nothing until you uphold [the law of] the Torah, the Gospel, and what has been revealed to you from your Lord." And that which has been revealed to you from your Lord will surely increase many of them in transgression and disbelief. So do not grieve over the disbelieving people.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 10 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:68

صاف کہہ دو کہ "اے اہل کتاب! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں" ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجیئے کہ اے اہل کتاب! تم دراصل کسی چیز پر نہیں جب تک کہ تورات وانجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی سے طرف اتارا گیا ہے قائم نہ کرو، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وه ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی، تو آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل پر اور جو (کتاب) تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس (اب) بھیجی گئی ہے اس کی پوری پابندی نہیں کرو گے، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہوگی جس پر تم کھڑے ہوسکو۔ اور (اے رسول) جو وحی اپنے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر کے رہے گی، لہذا تم ان کافر لوگوں پر افسوس مت کرنا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرمادو، اے کتابیو! تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک نہ قائم کرو توریت اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اور بیشک اے محبوب! وہ جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا اس میں بہتوں کو شرارت اور کفر کی اور ترقی ہوگی تو تم کافروں کا کچھ غم نہ کھاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو، اور (اے حبیب!) جو (کتاب) آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یقیناً ان میں سے اکثر لوگوں کو (حسداً) سرکشی اور کفر میں بڑھا دے گی، سو آپ گروہِ کفار (کی حالت) پر افسوس نہ کیا کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اے اہل کتاب ! تم کسی چیز پر نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم کرو اور اس کو جو تمہارے رب کی جانب سے تمہاری طرف نازل کیا گیا اور یقینا جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا، سو تو کافر لوگوں پر غم نہ کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات، انجیل اور جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پابندی نہ کرو گے تو تم دین کی کسی اصل پر نہیں ہو۔ اور جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہ تو ان میں سے اکثر کو سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا۔ لہذا آپ ان کافروں پر غمزدہ نہ ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، اے اہل کتاب، تمہاری کوئی بنیاد نہیں ہے جب تک تم تورا، انجیل اور اس چیز کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے صاف) کہہ دو کہ اے کتاب والو، تم کسی بھی چیز پر نہیں ہو، جب تک کہ تم پابندی نہ کرو تورات، انجیل اور اس کتاب کی، جو اب تمہاری طرف نازل کی گئی ہے تمہارے رب کی طرف سے، (یعنی قرآن حکیم) اور ضرور بالضرور ان میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر (و انکار) ہی میں زیادتی (اور اضافے) کا باعث بنے گا، وہ کلام (حق ترجمان) جو کہ اتارا گیا آپ کی طرف (اے پیغمبر !) آپ کے رب کی جانب سے، پس آپ کوئی غم (اور افسوس) نہ کریں، ایسے کافر لوگوں (کی محرومی) پر

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اہل کتاب تم کسی راہ (حق) پر بھی نہیں جت تک تم تورتی وانجیل کی پابندی نہ کرو اور اس (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے اوپر اتری ہے۔ اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ یقیناً ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کو بڑھا کر رہے گا۔ تو آپ کافر لوگوں پر افسوس نہ کیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے : اے کتاب والو تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک تم قائم نہ کرو تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے لیکن (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے یہ ان کے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں یقیناً اضافہ کرے گا) تو آپ ﷺ ان کافروں کے بارے میں افسوس نہ کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(ان سے) کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ تم تورات، انجیل اور اس کتاب کو جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، نافذ نہ کرو۔ ضروری ہے کہ یہ فرمان ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار میں اضافہ کر دے۔ آپ انکار کرنے والوں پر افسوس نہ کریں

— محترمہ رفعت اعجاز

Say to them: 'People of the Book! You have no solid ground to stand on unless you establish the Torah and the Gospel and all that had been revealed to you from your Lord. Indeed the message revealed to you from your Lord will aggravate insurgence and unbelief in many of them. So do not grieve for those who disbelieve.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :O people of the Book, you have nothing to stand on, unless you uphold the Torah and the Injil and what has been sent down to you from your Lord. What has been sent down to you from your Lord will certainly make many of them more persistent in rebellion and disbelief. So, do not grieve over the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :O people of the Book, you have nothing to stand on, unless you uphold the Torah and the Injil and what has been sent down to you from your Lord. What has been sent down to you from your Lord will certainly make many of them more persistent in rebellion and disbelief. So, do not grieve over the disbelieving people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "O People of the Scripture! You have nothing till you act according to the Tawrah, the Injil, and what has (now) been sent down to you from your Lord (the Qur'an)." Verily, the revelation that has come to you from your Lord makes many of them increase in rebellion and disbelief. So do not grieve for the people who disbelieve.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say O People of the Scripture! Ye have naught (of guidance) till ye observe the Torah and the Gospel and that which was revealed unto you from your Lord. That which is revealed unto thee (Muhammad) from thy Lord is certain to increase the contumacy and disbelief of many of them. But grieve not for the disbelieving folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "O People of the Scripture, you are [standing] on nothing until you uphold [the law of] the Torah, the Gospel, and what has been revealed to you from your Lord." And that which has been revealed to you from your Lord will surely increase many of them in transgression and disbelief. So do not grieve over the disbelieving people.

— Saheeh International

(Muhammad), tell the People of the Book, "You have nothing unless you follow the Old and New Testaments and that which (the Quran) God has revealed to you." Whatever has been revealed to you (Muhammad) from your Lord will only increase their disbelief and rebellion (against you). Do not grieve for the unbelieving people.

— Muhammad Sarwar

Say: O followers of the Book! you follow no good till you keep up the Taurat and the Injeel and that which is revealed to you from your Lord; and surely that which has been revealed to you from your Lord shall make many of them increase in inordinacy and unbelief; grieve not therefore for the unbelieving people.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: people of the Book! ye rest not on aught until ye establish the Taurat and the Injil and that which hath now been sent down unto you from your Lord. And that which hath been sent down unto thee will surely increase many of them in exorbitance and infidelity; so mourn thou not over and disbelieving people.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "O People of the Book! ye have no ground to stand upon unless ye stand fast by the Law, the Gospel, and all the revelation that has come to you from your Lord." It is the revelation that cometh to thee from thy Lord, that increaseth in most of them their obstinate rebellion and blasphemy. But sorrow thou not over (these) people without Faith.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–69

آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 97 توراۃ اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ ان کی پیروی کرنا اور انہیں اپنا دستور زندگی بنانا ہے۔ اس موقع پر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں ایک قسم کی عبارات تو وہ ہیں جو یہودی اور عیسائی مصنفین نے بطور خود لکھی ہیں۔ اور دوسری قسم کی عبارات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات یا حضرت موسیٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں کے اقوال ہونے کی حیثیت سے منقول ہیں اور جن میں اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ نے ایسا فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا۔ ان میں سے پہلی قسم کی عبارات کو الگ کر کے اگر کوئی شخص صرف دوسری قسم کی عبارات کا تَتَبُّع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی، آگے ان کے موجودہ طریقہ کا جس کے حق ہونے کے وہ مدعی تھے عند اللہ ناکارہ اور نجات میں ناکافی ہونا اور نجات کا اسلام پر موقوف ہونا مذکور ہے۔ اور اس کے بعد بھی ان کے اصرار علی الکفر پر رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا مضمون ارشاد فرمایا ہے اور درمیان میں ایک خاص مناسبت اور ضرورت سے تبلیغ کا مضمون آگیا تھا۔ خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان یہود و نصاریٰ سے) کہئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (کیونکہ غیر مقبول راہ پر ہونا مثل بےراہی کے ہے) جب تک کہ توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب (اب) تمہارے پاس (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے (یعنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 68–69

تفسیر آیات 68۔ 69:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ پیغام کا متن : یہ وہ پیغام ہے جو اہل کتاب کو، عام اس سے کہ وہ یہود ہیں یا نصاریٰ ، سنانے کا آنحضرت کو حکم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

68۔ 1 یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے۔ یعنی جس طرح بعض اعمال و اشیاء سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق، عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا ہے ــ' فرما دیجئے یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں (بہرا پن) ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے '" اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں اس سے نقصان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–68

46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔ 47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” ْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (68) ” ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔ ان ہدایات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے داعی کے لئے منہاج دعوت کے نقوش متعین فرما دیئے اور یہ بھی بتادیا کہ اس کی حکمت کیا ہے ۔ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے اور کفر وسرکشی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ کی دلجوئی بھی فرمادی کہ یہ لوگ تو اس انجام کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی کل کتب سماویہ جن کا خاتم اور مہیمن قرآن کریم ہے۔ پچھلے رکوع میں اس آیت کی تفسیر گزر چکی۔ 1 یعنی اس غم اور افسوس میں پڑ کر تنگ دل نہ ہوں اپنا فرض امن و اطمینان سے ادا فرماتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلَی شَیءٍ تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ کوئی مقام نہیں ہے ‘ کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے ‘ تم ہم سے ہم ‘ کلام ہونے کے مستحق نہیں ہو۔ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّورٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط۔ اب اپنے لیے اس آیت کو آپ اس طرح پڑھ لیجیے : یٰٓاَہْلَ الْقُرآنِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا الْقُرْآنَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْاے قرآن کے ماننے والو ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم امت مسلمہ ہیں ‘ اللہ والے ہیں ‘ اللہ کے لاڈلے اور پیارے ہیں ‘ اللہ کے رسول ﷺ کے امتیّ ہیں۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

114 جب اس سے معلوم ہوا کہ دین کی اصل بنیاد صرف کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ لہذا اپنے ہر عقیدہ اور عمل کو اسی کسوٹی پر پرکھنے سے انسان گمراہی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم عقائد و اعمال کو اللہ کی نازل کردہ کتاب پر پیش کر کے خود ہی فیصلہ کرلو کہ تم اس پر ایمان لانے کے دعویٰ میں کس حد تک سچے ہو۔ 115 دیکھئے اسی سورة کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ نمبر 106

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

235 ۔ یہاں اشارہ اس حقیقت کی طرح ہے کہ مدار فضیلت کا، مقبولیت کا، احکام الہی کا اتباع ہی ہے، تو پھر جب سرے سے اس سے گریز ہے، تو کیسی افضلیت اور کہاں کی مقبولیت ؟ علی شیء۔ یعنی راہ راست ودین حق، ای علی دین یعتدبہ (کشاف۔ بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بغیر اتباع شریعت کے کوئی کمال معتبر نہیں۔ 236 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 222 ۔ 237 ۔ حضور انور ﷺ فرط شفقت وترحم سے کافروں کے حال پر بےچین ومضطر رہا کرتے تھے، ارشاد ہورہا ہے کہ آپ اتنا غم وتاسف نہ کیجئے، یہ تو اپنی ضد وعناد کی بنا پر مستحق کسی ہمدردی ورعایت کے نہیں۔ آیت رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کو ممانعت حزن سے نہیں کی گئی ہے، کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–77

قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یاہل الکتاب لستم علی شی آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی (صحیح) بات پر نہیں ہو یعنی کسی ایسے دین پر نہیں ہو جو اللہ کے نزدیک قابل اعتبار ہو ‘ یا آیت کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ اہل کتاب کا مذہب اللہ کے نزدیک معتبر نہیں تھا اور نماز کی طرح دین کا بھی قابل اعتمار وجود وہی ہے جو شرعی ہو جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہو (اس کے علاوہ دین کا کوئی وجود نہیں) اور اہل کتاب کا دین شرعاً غیر معتبر ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ تم کسی دین پر نہیں ہو۔ حتی تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم یہاں تک کہ تم توریت و انجیل کو اور ان (کتابوں اور صحیفوں) کو قائم کرو جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں (یعنی زبور و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) اے محمد ﷺ آپ یہود ونصاری سے فرما دیجیے کہ تم دین الہی میں سے کسی راہ پر نہیں، جب تک کہ توریت انجیل اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں کا اقرار نہ کرو، اور جو قرآن کریم آپ ﷺ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ قرآن ان کفار (یہود ونصاری) کی تحریف بالکتاب کا پردہ چاک کرتا ہے جو انکی سرکشی اور کفر پر جمے رہنے کا باعث ہوتا ہے، اگر یہ لوگ ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنے کفر کی حالت میں ہلاک ہوجائیں تو آپ ﷺ ان کا فکر مت کیجیے کہ کافروں کا یہی انجام ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”قل یاھل الکتب لستم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ۔۔ : تورات و انجیل قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے لیے گئے ان کو پورا کریں اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر ایمان لانے کے جو دلائل ان کتابوں میں موجود ہیں ان کے مطابق آپ کی نبوت کا اقرار کریں اور تورات و انجیل کے احکام و حدود پر عمل پیرا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہیں کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دین داری۔ (ابن کثیر) یہی بات مسلمانوں پر صادق آتی ہے کہ اگر وہ قرآن پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو نہ ان کی کچھ حیثیت ہوگی نہ کوئی دین داری۔ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ : دیکھیے اسی سورت کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 68 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہود کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : کیا آپ تسلیم نہیں کرتے کہ تورات اللہ کی طرف سے حق ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :” کیوں نہیں “ ، یہود نے کہا : ہم اس تورات پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی یعنی تم دین میں سے کسی چیز پر نہیں ہو حتی کہ ان دونوں کتابوں میں ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤ اور ان پر عمل کرو۔ ابو علی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ حکم تورات وانجیل کے نسخ سے پہلے ہو۔ مسئلہ نمبر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–70

یہود کا تورات پر یہ عمل نہیں تھا (1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن حارثہ، سلام بن مشکم، مالک بن الصیف اور رافع بن حرملہ آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب اور اس کے دین پر ہے تو تو ایمان لے کر آ جو ہمارے پاس توراۃ میں سے ہے۔ اور تو اس بات کی گواہی دے کہ وہ بھی اللہ کی جانب سے حق ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن تم نے کتنی باتیں نکال لیں اور جو کچھ اس میں ہے تم نے اس کا انکار کردیا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ تم نے اس میں سے چھپایا جس کا تم حکم دیئے گئے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب !] لَسْتُمْ [ تم لوگ نہیں ہو ] عَلٰي شَيْءٍ [ کسی چیز پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] تُقِيْمُوا [ تم لوگ قائم کرو ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا ] [ اکثرا لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ ، جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۚ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہودیوں کی سرکشی اور کج روی کا مزید تذکرہ تفسیر در منثور ج 2 ص 299 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کیا آپ کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آپ دین ابراہیمی پر ہیں اور تورات پر بھی آپ کا ایمان ہے آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! یہ بات ٹھیک ہے (ان لوگوں کا یہ مطلب تھا کہ ہم بھی دین ابراہمی پر ہیں اور آپ کی گواہی کے مطابق توریت شریف بھی اللہ کی کتاب ہے لہٰذا ہم حق پر ہوئے) آپ ﷺ نے جواب فرمایا کہ تم نے دین ابراہیمی میں اپنے پاس سے بہت سی نئی چیزیں نکال لی ہیں اور تورات میں جو تم سے عہد لیا گیا تھا تم اس کے منکر ہوگئے ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–69

ابطال باطل۔ قال تعالی، یا اھل الکتاب لستم۔۔۔ الی۔۔۔ یحزنون۔ ربط) ۔ تبلیغ کارکن اول اول احقاق حق ہے اور رکن ثانی ابطال باطل ہے گذشتہ آیات میں اجمالا احقاق حق تھا اب اس کے بعد آیت اجمالا ابطال باطل کا بیان ہے پھر آئندہ آیات میں نصاری کے عقیدہ فاسدہ کا تفصیلا ابطال ہے اور مقصود اہل کتاب کو اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب ہے کہ باطل کو چھوڑ کر حق کا اتباع کریں آپ ان یہود ونصاری سے یہ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم جو اپنے آپ کو دین کے بارے میں راہ حق اور ہدایت پر سمجھتے ہو خوب جان لوتم کسی راہ پر نہیں ہو چونکہ تم حق سے منحرف ہوچکے ہو اس لیے تم بمنزلہ بےراہ کے ہو تمہارا مذہب بالکل ہیچ ہے جس طریقہ پر تم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

121: اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس کی تبلیغ کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔ یعنی آپ اہل کتاب سے صاف صاف کہہ دیں کہ جب تک تم تورات اور انجیل کے احکام کو قائم نہیں کرو گے یعنی شرک و غیر اللہ کی نذر و نیاز چھوڑ کر توحید کو نہیں مانو گے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اور قرآن پر ایمان نہیں لاؤ گے اس وقت تک تمہارا کوئی دین نہیں اور تم کھلے بےدین ہو۔ آج مبلغ قرآن کو بھی اپنی تبلیغ کے دوران مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح کردینی چاہئے کہ کہ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْءٍ حَتّیٰ تُقِیْمُوْا الْقْرْاٰنَ یعنی جب تک تم قرآن مجید کے تمام احکام کو قائم نہ کرو اس وقت تک تم دیندار نہیں ہوسکتے وَ لَیَزِیْدَنَّ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–68

ربط آیات گزشتہ آیات میں اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی تھی ان کی سرکشی ، کفر اور فساد فی الارض کا ذکر تھا۔ وہ لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے ، مگر اللہ نے انہیں ناکام بنا دیا اور بطور نصیحت فرمایا کہ اگر تم تورات و انجیل کو قائم کرتے اور نازل شدہ ہدایت پر عمل کرتے تو آسمان و زمین کی برکات تمہارے شامل حال ہوتیں مگر یہود و نصاریٰ کی اکثریت نافرمان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں کچھ باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں ، ان کو ہدایت نصیب ہوجاتی ہے اور اہل ایمان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہدایت کی بات محنت اور کوشش سے ان تک پہنچائیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ۝ 0ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا۝ 0ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۝ 68 حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–68

ترکیب : بلغ فعل بافعل ‘ ما انزل الخ صلہ و موصول اس کا مفعول وان لم تفعل شرط فما بلغت جواب واللّٰہ مبتدا یعصمک خبر حتی غایۃ ہے لستم کی۔ تفسیر : یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو تبلیغ وحی میں بلغ کے ساتھ تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اگر آپ کسی کے خوف و اندیشہ سے تبلیغ دین میں کچھ کوتاہی کریں گے تو عہد رسالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ چونکہ عرب کی مشرک قوموں سے تو مکہ ہی سے بسبب توحید ظاہر کرنے کے مخالفت سخت ہوگئی تھی وہ شب و روز نبی ﷺ اور آنحضرت ﷺ کی جماعت کی ایذا اور تکلیف دہی میں سرگرم تھے۔ اس لئے جب ان کے ظلموں کی برداشت نہ ہوسکی مکہ چھوڑ کر مدینہ میں رہنا اختیار کیا۔ یہاں یہود و نصاریٰ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوْا التَوْرَاۃَ وَالاِْنْجِیْلَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا ج فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 68) ’ ’ کہہ دو : اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں جب تک تم تورات ‘ انجیل اور اس چیز (قرآن) کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : دوبارہ اہل کتاب کو خطاب۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرنے سے پہلے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد آپ کو آپ کے عظیم منصب کے حوالے سے مخاطب کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے تسلی دی گئی کہ یہود و نصاریٰ آپ کو الرسول تسلیم کریں یا نہ کریں آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں لہٰذا حالات جیسے بھی ہوں آپ بےخوف وخطر اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے جائیں اس تسلی اور تاکید کے بعد اب خطاب کا رخ پھر اہل کتاب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اے رسول ! آپ واشگاف الفاظ میں اہل کتاب کو باور کرائیں کہ تم اس وقت تک ذرہ برابر حقیقت پر نہیں ہوسکتے جب تک تورات وانجیل کے احکامات کو مانتے ہوئے قرآن مجید کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہود جب تک تورات پر نہ چلیں تو وہ کسی دین پر نہیں ہیں : آیت 68: قُلْ یٰٓـاَ ۔ ہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍتم کسی دین پر نہیں جو کسی شمار میں ہو۔ کہ اس کا نام چیز رکھا جاسکے۔ کیونکہ وہ باطل ہے (اس قابل نہیں کہ اس کو دین تو کجا ‘ شے کا نام بھی دے سکیں) حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وما انزل الیکم سے مراد قرآن ہے۔ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا اس میں قرآن کی طرف اضافت طغیان وکفر کے اضافے کی بطور سببیت کے ہے (کیونکہ وہ قرآن سن کر کفر و سرکشی میں پختہ ہوتے ہیں تو گویا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 68–71

آیت نمبر 71, 70, 69, 68 تفسیر : (قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرو اور جو کچھ واجب ہے اس کو ادا کرو ( ولیزیدن کثیراً منھم مآ انزل الیک من ربک طغیاناً وکفراً فلا تاس علی القوم الکفرین اور ان میں سے بہت لوگوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو آپ افسوس نہ کریں اس قوم کفار پر) (ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون والنصریٰ بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–69

(68 ۔ 69) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رافع بن حرملہ اور مالک بن ضعیف اور چند یہود ایک روز آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کیا اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں مانتے آپ نے فرمایا یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الٰہی کو بدل ڈالا ہے انہوں نے جواب دیا جس طریقہ پر ہم ہیں وہ حق ہے ہم اس کے سوا ہرگز کوئی طریقہ اور اختیار نہ کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور نصاریٰ اور دھریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو بغیر شریعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 68 یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (لستم علی شیء) ” تم کسی چیز پر نہیں ہو “ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمہارا اعتماد ہے (حتی تقیموا التورءۃ والانجیل) ” جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔ “ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو (وما انزل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–74

قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔ اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

170 حق و ہدایت کو اپنائے بغیر انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں : سو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اے کتاب والو تم لوگ کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تم پابندی نہ کرو تورات و انجیل اور اس کتاب کی جو تم لوگوں کی طرف اب نازل کی گئی ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ یعنی قرآن مجید کہ مدار بہرکیف حق کو ماننے اور اس کے مطابق عمل کرنے پر ہے نہ کہ محض خاندانی شرافت و وجاہت پر۔ جس کا غرور تم لوگوں کو ہے کہ ہم نبیوں کی اولاد اور صاحبزادے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ہم جو چاہیں کریں ہم پر نہ کوئی الزام ہے نہ پابندی۔ سو تمہارا یہ کہنا ماننا سب بےبنیاد اور بےحقیقت ہے۔ اور تمہاری کوئی قدرو قیمت اس وقت تک نہیں ہوسکتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اہل ِ کتاب کو نصیحت کا حکم تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ اہل ِ کتاب کو سمجھا دو کہ جب تک تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں کو تم اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل نہیں کرتے تمہاری کوئی حیثیت نہیں اگر تم ان کتابوں کو اچھی طرح غور سے پڑھو تو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا تمہارے لیے بےحد آسان ہوجائے کیونکہ تمہاری کتابوں میں بھی وہی احکام ہیں جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں کیونکہ وہ خود اپنی کتابوں سے بالکل غافل ہیں اس لیے جیسے جیسے آپ ان کو توحید اور ہدایت کی باتیں بتاتے ہیں وہ اور بھی زیادہ سرکشی اور نافرمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ ان کی سرکشی، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 67–77

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔ اسرار و معارف : یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 تورات اور انجیل کی اقامت کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے دلائل موجود ہیں ان کا اقرار کریں اور تورات وانجیل کے احکام وحدود پر عمل پیرا ہوں (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہ کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دینداری ّابن کثیر)5 تشریح کے لے حاشیہ آیت 64 ۔ 6 اس لیے کہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کا وبال خود بھگت کر رہینگے (کبیر)7 اوپر کی آیت میں بتایا کہ ال کتاب جب تک ایمان لاکر عمل صالح کریں ان کا کوئی مذہب نہیں ہے اس آیت میں بتایا کہ سب کا یہی حکم ہے۔ ، بظاہر تو الصا ئبین منصوب آنا چاہیے تھا مگر سیبو بہ اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:68) لستم علی شییٔ۔ تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ تم کسی اصل پر نہیں ہو۔ تم کسی دین پر تصور نہیں کئے جاؤ گے۔ فلا تاس علی القوم الکفرین۔ آپ افسوس نہ کریں کافروں پر۔ فلا تحزن علیہم فان ضرر ذلک لاحق بہم۔ آپ غم نہ کھائیں ان پر اس کفر کا بدلہ وہ خود ہی پالیں گے (کشاف)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–69

آیت نمبر 67 تا 69 لغات القرآن : بلغ (پہنچا دے) ۔ لم یفعل (تو نے نہ کیا) ۔ ما بلغت (تو نے تمہیں پہنچایا) ۔ رسالتہ (اس کا پیغام) ۔ یعصمک (وہ تیری حفاظت کرے گا۔ تجھے بچائے گا) ۔ لیزیدون (البتہ وہ ضرور بڑھا دے گا) ۔ الصابئون (صابی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ) ۔ تشریح : ان آیات میں حضور ﷺ کو ایک خاص حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ وحی جلی یا وحی خفی آپ پر قرآن و سنت کی شکل میں نازل ہو ہو رہی ہے اسے تمام و کمال لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرچہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ نئے نئے احکام پاکر دشمنوں میں کھلبی زیادہ مچ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ پر حملہ کریں یا فساد کریں یا سازس کریں۔ مگر ڈرنے کی کوئی بات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–69

شان نزول : چند یہود ایک روز آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ آپ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں جانتے آپ نے فرمایا :'' یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الہی کو بدل ڈالا ہے ''۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طریقہ پر ہم ہیں وہ برحق ہے ہم اس کے سوا ہوگز کوئی اور طریقہ اختیار نہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور دہریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو ان کا ایمان لاشئ محض ہے۔ اب آگے فرمایا :'' اے رسول اللہ (ﷺ) کے ! ایسے لوگوں کی حالت پر آپ کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے ''۔ پھر یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–68

[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) آیت کا مقصد یہ ہے کہ زبانی دعوے دینداری کوئی چیز نہیں ، جب تک تمام منزل من اللہ کتب پر یکساں ایمان نہ ہو ۔ حل لغات : حتی تقیموالتورۃ : اقامت توریت کے معنی اس پر پوری پوری طرح عمل کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ تم اس وقت تک کسی قابل اعتماد اور قابل نجات راہ پر نہیں ہو جب تک توریت اور انجیل کی اور اس کتاب کی جواب تمہاری ہدایت کے لئے تمہارے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یعنی قرآن کریم کیپ وری پوری پابندی نہیں کرو گے اور اے پیغمبر جو کلام اور جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا جاتا ہے وہ کلام ان میں سے اکثر کی سرکشی اور نافرمانی کی زیادتی اور ترقی کا سبب ہوجاتا ہے تو آپ اسقسم کے متعصب اور نافرمان لوگوں کی حالت پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب تم دین الٰہی کی کسی مقبول اور معتبر راہ پر نہیں ہو اور اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ کیونکہ غیر مقبول راہ پرچلنا مثل بےراہی کے ہے۔ 5۔ اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی آگے بھی ایک قانون عام سے جو کہ اہل کتاب وغیرہ اہل کتاب سب کو شامل ہے اسی کی ترغیب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کا پیغام اہل کتاب کو تمردو سرکشی میں مزید بڑھا دے گا : 183: پیغمبر اسلام ﷺ کو بطور پیش گوئی اس سے متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ” جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے بجائے اس کے کہ اپنی کتاب کے لئے تنبیہ اور نصیحت کا موجب ہو ان کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ جو مسہل قبض کو رفع نہ کرے وہ فطری طور پر قبض کو بڑھادیتا ہے اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس کا قبض بڑھ گیا ہے۔ پھر اہل کتاب کے لئے اس میں ایک خاص چیلنج بھی ہے کہ تم دونوں گروہوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ تمہارے پاس ان ان صفات سے متصف پیغمبر اللہ کا آخری اور کامل صحیفہ لے کر آئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence Earlier, the people of the Book were persuaded to embrace Islam. Mentioned now is the futility of their current approach which they claimed to be the God's truth while it was unworkable in the sight of Allah, insufficient for salvation and dependant on Islam as the only source of salvation. Then, as an antidote to their insistence on remaining disbelievers after being warned, there are words of comfort for the Holy Prophet ﷺ . The mention of Tabligh of Din had appeared in between as based on particular need and congruity. Commentary Follow the Divine Shari` ah: Instruction for the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

97. By 'establishing the Torah and the Gospel' is meant observing them honestly and making them the law of life. It should be noted here that the Scriptures which comprise the Bible consist of two kinds of writings. One was composed by the Jewish and Christian authors themselves. The second consists of those portions which have been recorded as either the injunctions of God or as the utterances of Moses, Jesus and other Prophets. Such portions are those in which it has been categorically stated that God said so and so, or that a particular Prophet said so and so. If we were to exclude the…

Read the full tafseer →