Explained with ayahs 68–69
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے،…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 97
توراۃ اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ ان کی پیروی کرنا اور انہیں اپنا دستور زندگی بنانا ہے۔ اس موقع پر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں ایک قسم کی عبارات تو وہ ہیں جو یہودی اور عیسائی مصنفین نے بطور خود لکھی ہیں۔ اور دوسری قسم کی عبارات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات یا حضرت موسیٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں کے اقوال ہونے کی حیثیت سے منقول ہیں اور جن میں اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ نے ایسا فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا۔ ان میں سے پہلی قسم کی عبارات کو الگ کر کے اگر کوئی شخص صرف دوسری قسم کی عبارات کا تَتَبُّع…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی، آگے ان کے موجودہ طریقہ کا جس کے حق ہونے کے وہ مدعی تھے عند اللہ ناکارہ اور نجات میں ناکافی ہونا اور نجات کا اسلام پر موقوف ہونا مذکور ہے۔ اور اس کے بعد بھی ان کے اصرار علی الکفر پر رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی کا مضمون ارشاد فرمایا ہے اور درمیان میں ایک خاص مناسبت اور ضرورت سے تبلیغ کا مضمون آگیا تھا۔
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان یہود و نصاریٰ سے) کہئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (کیونکہ غیر مقبول راہ پر ہونا مثل بےراہی کے ہے) جب تک کہ توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب (اب) تمہارے پاس (بواسطہ رسول اللہ ﷺ کے) تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
تفسیر آیات 68۔ 69:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔
پیغام کا متن : یہ وہ پیغام ہے جو اہل کتاب کو، عام اس سے کہ وہ یہود ہیں یا نصاریٰ ، سنانے کا آنحضرت کو حکم…
Read the full tafseer →68۔ 1 یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے۔ یعنی جس طرح بعض اعمال و اشیاء سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق، عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں زیادتی ہوتی ہے۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا ہے ــ' فرما دیجئے یہ قرآن ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں (بہرا پن) ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے '" اور ہم قرآن کے ذریعے سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں اس سے نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔
47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” ْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (68)
” ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔
ان ہدایات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے داعی کے لئے منہاج دعوت کے نقوش متعین فرما دیئے اور یہ بھی بتادیا کہ اس کی حکمت کیا ہے ۔ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے اور کفر وسرکشی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ کی دلجوئی بھی فرمادی کہ یہ لوگ تو اس انجام کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے دل…
Read the full tafseer →8 یعنی کل کتب سماویہ جن کا خاتم اور مہیمن قرآن کریم ہے۔ پچھلے رکوع میں اس آیت کی تفسیر گزر چکی۔
1 یعنی اس غم اور افسوس میں پڑ کر تنگ دل نہ ہوں اپنا فرض امن و اطمینان سے ادا فرماتے رہیں۔
Read the full tafseer →آیت 68 قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلَی شَیءٍ
تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ‘ کوئی مقام نہیں ہے ‘ کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے ‘ تم ہم سے ہم ‘ کلام ہونے کے مستحق نہیں ہو۔
حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّورٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط۔
اب اپنے لیے اس آیت کو آپ اس طرح پڑھ لیجیے : یٰٓاَہْلَ الْقُرآنِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا الْقُرْآنَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْاے قرآن کے ماننے والو ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم امت مسلمہ ہیں ‘ اللہ والے ہیں ‘ اللہ کے لاڈلے اور پیارے ہیں ‘ اللہ کے رسول ﷺ کے امتیّ ہیں۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ…
Read the full tafseer →114 جب اس سے معلوم ہوا کہ دین کی اصل بنیاد صرف کتاب اللہ یا منزل من اللہ وحی ہوتی ہے۔ لہذا اپنے ہر عقیدہ اور عمل کو اسی کسوٹی پر پرکھنے سے انسان گمراہی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ چناچہ یہود و نصاریٰ دونوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم عقائد و اعمال کو اللہ کی نازل کردہ کتاب پر پیش کر کے خود ہی فیصلہ کرلو کہ تم اس پر ایمان لانے کے دعویٰ میں کس حد تک سچے ہو۔
115 دیکھئے اسی سورة کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ نمبر 106
Read the full tafseer →235 ۔ یہاں اشارہ اس حقیقت کی طرح ہے کہ مدار فضیلت کا، مقبولیت کا، احکام الہی کا اتباع ہی ہے، تو پھر جب سرے سے اس سے گریز ہے، تو کیسی افضلیت اور کہاں کی مقبولیت ؟ علی شیء۔ یعنی راہ راست ودین حق، ای علی دین یعتدبہ (کشاف۔ بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بغیر اتباع شریعت کے کوئی کمال معتبر نہیں۔
236 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 222 ۔
237 ۔ حضور انور ﷺ فرط شفقت وترحم سے کافروں کے حال پر بےچین ومضطر رہا کرتے تھے، ارشاد ہورہا ہے کہ آپ اتنا غم وتاسف نہ کیجئے، یہ تو اپنی ضد وعناد کی بنا پر مستحق کسی ہمدردی ورعایت کے نہیں۔ آیت رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کو ممانعت حزن سے نہیں کی گئی ہے، کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
قل یٰااھْل الکتاب لَسْتُمْ علی شیْءٍ الخ، یہ ہدایت اور گمراہی اس اصول کے مطابق ہے جو سنت اللہ رہی ہے یعنی جس طرح بعض نیک کاموں سے اہل ایمان کے ایمان و تصدیق و عمل صالح اور علم نافع میں اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح معاصی اور تمرد سے کفر و طغیان میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔
قل یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق، یعنی اتباع حق میں حد سے تجاوز نہ کرو اور جس کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اس میں مبالغہ کرکے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الوہیت پر فائز مت کرو جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے غلو کیا، غلو ہر دور میں شر اور گمراہی کا سب سے بڑا…
Read the full tafseer →قل یاہل الکتاب لستم علی شی آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی (صحیح) بات پر نہیں ہو یعنی کسی ایسے دین پر نہیں ہو جو اللہ کے نزدیک قابل اعتبار ہو ‘ یا آیت کی توجیہ اس طرح کی جائے کہ اہل کتاب کا مذہب اللہ کے نزدیک معتبر نہیں تھا اور نماز کی طرح دین کا بھی قابل اعتمار وجود وہی ہے جو شرعی ہو جس کا شریعت نے اعتبار کیا ہو (اس کے علاوہ دین کا کوئی وجود نہیں) اور اہل کتاب کا دین شرعاً غیر معتبر ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ تم کسی دین پر نہیں ہو۔
حتی تقیموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم یہاں تک کہ تم توریت و انجیل کو اور ان
(کتابوں اور صحیفوں) کو قائم کرو جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں (یعنی زبور و…
Read the full tafseer →(68) اے محمد ﷺ آپ یہود ونصاری سے فرما دیجیے کہ تم دین الہی میں سے کسی راہ پر نہیں، جب تک کہ توریت انجیل اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں کا اقرار نہ کرو،
اور جو قرآن کریم آپ ﷺ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ قرآن ان کفار (یہود ونصاری) کی تحریف بالکتاب کا پردہ چاک کرتا ہے جو انکی سرکشی اور کفر پر جمے رہنے کا باعث ہوتا ہے، اگر یہ لوگ ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنے کفر کی حالت میں ہلاک ہوجائیں تو آپ ﷺ ان کا فکر مت کیجیے کہ کافروں کا یہی انجام ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
شان نزول : (آیت) ”قل یاھل الکتب لستم“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ۔۔ : تورات و انجیل قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے لیے گئے ان کو پورا کریں اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت پر ایمان لانے کے جو دلائل ان کتابوں میں موجود ہیں ان کے مطابق آپ کی نبوت کا اقرار کریں اور تورات و انجیل کے احکام و حدود پر عمل پیرا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہیں کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دین داری۔ (ابن کثیر) یہی بات مسلمانوں پر صادق آتی ہے کہ اگر وہ قرآن پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو نہ ان کی کچھ حیثیت ہوگی نہ کوئی دین داری۔
وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ : دیکھیے اسی سورت کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 68
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہود کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : کیا آپ تسلیم نہیں کرتے کہ تورات اللہ کی طرف سے حق ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :” کیوں نہیں “ ، یہود نے کہا : ہم اس تورات پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں، پس یہ آیت نازل ہوئی یعنی تم دین میں سے کسی چیز پر نہیں ہو حتی کہ ان دونوں کتابوں میں ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاؤ اور ان پر عمل کرو۔ ابو علی نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ یہ حکم تورات وانجیل کے نسخ سے پہلے ہو۔
مسئلہ نمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
یہود کا تورات پر یہ عمل نہیں تھا
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن حارثہ، سلام بن مشکم، مالک بن الصیف اور رافع بن حرملہ آئے اور انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب اور اس کے دین پر ہے تو تو ایمان لے کر آ جو ہمارے پاس توراۃ میں سے ہے۔ اور تو اس بات کی گواہی دے کہ وہ بھی اللہ کی جانب سے حق ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں۔ لیکن تم نے کتنی باتیں نکال لیں اور جو کچھ اس میں ہے تم نے اس کا انکار کردیا ہے۔ ان چیزوں میں سے جو تم سے وعدہ لیا گیا تھا۔ تم نے اس میں سے چھپایا جس کا تم حکم دیئے گئے…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب !] لَسْتُمْ [ تم لوگ نہیں ہو ] عَلٰي شَيْءٍ [ کسی چیز پر ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] تُقِيْمُوا [ تم لوگ قائم کرو ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا ] [ اکثرا لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ ، جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف ) سے ] طُغْيَانًا [ بلحاظ سرکشی کے ] وَّكُفْرًا ۚ […
Read the full tafseer →یہودیوں کی سرکشی اور کج روی کا مزید تذکرہ
تفسیر در منثور ج 2 ص 299 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کیا آپ کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آپ دین ابراہیمی پر ہیں اور تورات پر بھی آپ کا ایمان ہے آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! یہ بات ٹھیک ہے (ان لوگوں کا یہ مطلب تھا کہ ہم بھی دین ابراہمی پر ہیں اور آپ کی گواہی کے مطابق توریت شریف بھی اللہ کی کتاب ہے لہٰذا ہم حق پر ہوئے) آپ ﷺ نے جواب فرمایا کہ تم نے دین ابراہیمی میں اپنے پاس سے بہت سی نئی چیزیں نکال لی ہیں اور تورات میں جو تم سے عہد لیا گیا تھا تم اس کے منکر ہوگئے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ابطال باطل۔
قال تعالی، یا اھل الکتاب لستم۔۔۔ الی۔۔۔ یحزنون۔
ربط) ۔ تبلیغ کارکن اول اول احقاق حق ہے اور رکن ثانی ابطال باطل ہے گذشتہ آیات میں اجمالا احقاق حق تھا اب اس کے بعد آیت اجمالا ابطال باطل کا بیان ہے پھر آئندہ آیات میں نصاری کے عقیدہ فاسدہ کا تفصیلا ابطال ہے اور مقصود اہل کتاب کو اسلام میں داخل ہونے کی ترغیب ہے کہ باطل کو چھوڑ کر حق کا اتباع کریں آپ ان یہود ونصاری سے یہ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم جو اپنے آپ کو دین کے بارے میں راہ حق اور ہدایت پر سمجھتے ہو خوب جان لوتم کسی راہ پر نہیں ہو چونکہ تم حق سے منحرف ہوچکے ہو اس لیے تم بمنزلہ بےراہ کے ہو تمہارا مذہب بالکل ہیچ ہے جس طریقہ پر تم…
Read the full tafseer →121: اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس کی تبلیغ کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔ یعنی آپ اہل کتاب سے صاف صاف کہہ دیں کہ جب تک تم تورات اور انجیل کے احکام کو قائم نہیں کرو گے یعنی شرک و غیر اللہ کی نذر و نیاز چھوڑ کر توحید کو نہیں مانو گے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اور قرآن پر ایمان نہیں لاؤ گے اس وقت تک تمہارا کوئی دین نہیں اور تم کھلے بےدین ہو۔ آج مبلغ قرآن کو بھی اپنی تبلیغ کے دوران مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح کردینی چاہئے کہ کہ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْءٍ حَتّیٰ تُقِیْمُوْا الْقْرْاٰنَ یعنی جب تک تم قرآن مجید کے تمام احکام کو قائم نہ کرو اس وقت تک تم دیندار نہیں ہوسکتے وَ لَیَزِیْدَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی تھی ان کی سرکشی ، کفر اور فساد فی الارض کا ذکر تھا۔ وہ لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے ، مگر اللہ نے انہیں ناکام بنا دیا اور بطور نصیحت فرمایا کہ اگر تم تورات و انجیل کو قائم کرتے اور نازل شدہ ہدایت پر عمل کرتے تو آسمان و زمین کی برکات تمہارے شامل حال ہوتیں مگر یہود و نصاریٰ کی اکثریت نافرمان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں کچھ باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں ، ان کو ہدایت نصیب ہوجاتی ہے اور اہل ایمان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہدایت کی بات محنت اور کوشش سے ان تک پہنچائیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ 0ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا 0ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ 68
حَتَّى
حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] .
ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع،
وفي كلّ واحد وجهان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ترکیب : بلغ فعل بافعل ‘ ما انزل الخ صلہ و موصول اس کا مفعول وان لم تفعل شرط فما بلغت جواب واللّٰہ مبتدا یعصمک خبر حتی غایۃ ہے لستم کی۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو تبلیغ وحی میں بلغ کے ساتھ تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اگر آپ کسی کے خوف و اندیشہ سے تبلیغ دین میں کچھ کوتاہی کریں گے تو عہد رسالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ چونکہ عرب کی مشرک قوموں سے تو مکہ ہی سے بسبب توحید ظاہر کرنے کے مخالفت سخت ہوگئی تھی وہ شب و روز نبی ﷺ اور آنحضرت ﷺ کی جماعت کی ایذا اور تکلیف دہی میں سرگرم تھے۔ اس لئے جب ان کے ظلموں کی برداشت نہ ہوسکی مکہ چھوڑ کر مدینہ میں رہنا اختیار کیا۔ یہاں یہود و نصاریٰ…
Read the full tafseer →قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوْا التَوْرَاۃَ وَالاِْنْجِیْلَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا ج فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 68)
’ ’ کہہ دو : اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں جب تک تم تورات ‘ انجیل اور اس چیز (قرآن) کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دوبارہ اہل کتاب کو خطاب۔
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرنے سے پہلے یہود و نصاریٰ کو مخاطب کیا جا رہا تھا۔ اس کے بعد آپ کو آپ کے عظیم منصب کے حوالے سے مخاطب کرتے ہوئے معنوی لحاظ سے تسلی دی گئی کہ یہود و نصاریٰ آپ کو الرسول تسلیم کریں یا نہ کریں آپ حقیقتاً اللہ کے رسول ہیں لہٰذا حالات جیسے بھی ہوں آپ بےخوف وخطر اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے جائیں اس تسلی اور تاکید کے بعد اب خطاب کا رخ پھر اہل کتاب کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔ اے رسول ! آپ واشگاف الفاظ میں اہل کتاب کو باور کرائیں کہ تم اس وقت تک ذرہ برابر حقیقت پر نہیں ہوسکتے جب تک تورات وانجیل کے احکامات کو مانتے ہوئے قرآن مجید کی…
Read the full tafseer →یہود جب تک تورات پر نہ چلیں تو وہ کسی دین پر نہیں ہیں :
آیت 68: قُلْ یٰٓـاَ ۔ ہْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍتم کسی دین پر نہیں جو کسی شمار میں ہو۔ کہ اس کا نام چیز رکھا جاسکے۔ کیونکہ وہ باطل ہے (اس قابل نہیں کہ اس کو دین تو کجا ‘ شے کا نام بھی دے سکیں) حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وما انزل الیکم سے مراد قرآن ہے۔ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا اس میں قرآن کی طرف اضافت طغیان وکفر کے اضافے کی بطور سببیت کے ہے (کیونکہ وہ قرآن سن کر کفر و سرکشی میں پختہ ہوتے ہیں تو گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
آیت نمبر 71, 70, 69, 68
تفسیر : (قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم آپ کہہ دیں اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں جب تک نہ قائم کرو تورات اور انجیل کو اور جو تم پر اترا تمہارے رب کی طرف سے یعنی تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرو اور جو کچھ واجب ہے اس کو ادا کرو ( ولیزیدن کثیراً منھم مآ انزل الیک من ربک طغیاناً وکفراً فلا تاس علی القوم الکفرین اور ان میں سے بہت لوگوں کو بڑھے گی اس کلام سے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے شرارت اور کفر سو آپ افسوس نہ کریں اس قوم کفار پر)
(ان الذین امنوا والذین ھادوا والصبون والنصریٰ بیشک جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68 ۔ 69) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رافع بن حرملہ اور مالک بن ضعیف اور چند یہود ایک روز آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کیا اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں مانتے آپ نے فرمایا یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الٰہی کو بدل ڈالا ہے انہوں نے جواب دیا جس طریقہ پر ہم ہیں وہ حق ہے ہم اس کے سوا ہرگز کوئی طریقہ اور اختیار نہ کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود اور نصاریٰ اور دھریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو بغیر شریعت…
Read the full tafseer →آیت 68
یعنی اہل کتاب کی گمراہی کی منادی اور ان کے باطل کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیجیے ! (لستم علی شیء) ” تم کسی چیز پر نہیں ہو “ یعنی تم کسی بھی دینی اصول پر قائم نہیں ہو۔ تم قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لائے ہو نہ تم نے اپنے نبی اور اپنی کتاب کی تصدیق کی ہے، تم نے حق کو تھاما ہے نہ کسی اصول پر تمہارا اعتماد ہے (حتی تقیموا التورءۃ والانجیل) ” جب تک تم تورات اور انجیل کو قائم نہ رکھو گے۔ “ یعنی جب تک کہ تم تورات اور انجیل پر ایمان لا کر ان کو قائم نہ کرو، ان کی اتباع نہ کرو اور جن امور کی طرف یہ دعوت دیتی ہیں ان میں سے ہر چیز کو مضبوطی سے تھام نہ لو اور جب تک کہ تم اس چیز کو قائم نہ کرو (وما انزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–74
قول باری ہے قل یاھل التکب لستم علی شی حتی تقیمو التوراۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم صاف کہہ دو اے اہل کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ آیت میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں مندرج احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں کتابوں کو قائم کرنے کے معنی ان دونوں پر نیز قرآن پر عمل پیرا ہونا ہے اس لیے کہ قول باری وما انزل الیکم من ربکم کی حقیقت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب لی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔
اس صورت میں خطاب اہل کتاب سے ہوگا…
Read the full tafseer →170 حق و ہدایت کو اپنائے بغیر انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں : سو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اے کتاب والو تم لوگ کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تم پابندی نہ کرو تورات و انجیل اور اس کتاب کی جو تم لوگوں کی طرف اب نازل کی گئی ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ یعنی قرآن مجید کہ مدار بہرکیف حق کو ماننے اور اس کے مطابق عمل کرنے پر ہے نہ کہ محض خاندانی شرافت و وجاہت پر۔ جس کا غرور تم لوگوں کو ہے کہ ہم نبیوں کی اولاد اور صاحبزادے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ہم جو چاہیں کریں ہم پر نہ کوئی الزام ہے نہ پابندی۔ سو تمہارا یہ کہنا ماننا سب بےبنیاد اور بےحقیقت ہے۔ اور تمہاری کوئی قدرو قیمت اس وقت تک نہیں ہوسکتی…
Read the full tafseer →اہل ِ کتاب کو نصیحت کا حکم
تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ اہل ِ کتاب کو سمجھا دو کہ جب تک تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں کو تم اچھی طرح سمجھ کر ان پر عمل نہیں کرتے تمہاری کوئی حیثیت نہیں اگر تم ان کتابوں کو اچھی طرح غور سے پڑھو تو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانا تمہارے لیے بےحد آسان ہوجائے کیونکہ تمہاری کتابوں میں بھی وہی احکام ہیں جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں کیونکہ وہ خود اپنی کتابوں سے بالکل غافل ہیں اس لیے جیسے جیسے آپ ان کو توحید اور ہدایت کی باتیں بتاتے ہیں وہ اور بھی زیادہ سرکشی اور نافرمانی کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ ان کی سرکشی، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 4 تورات اور انجیل کی اقامت کے معنی یہ ہیں کہ ان میں جو عہد ان سے دلائل موجود ہیں ان کا اقرار کریں اور تورات وانجیل کے احکام وحدود پر عمل پیرا ہوں (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اگر پورے طور پر ان کتابوں پر عمل نہ کرو گے تو نہ تمہاری کوئی حیثیت اور نہ تمہاری کوئی دینداری ّابن کثیر)5 تشریح کے لے حاشیہ آیت 64 ۔
6 اس لیے کہ جو کچھ کر رہے ہیں اس سے اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کا وبال خود بھگت کر رہینگے (کبیر)7 اوپر کی آیت میں بتایا کہ ال کتاب جب تک ایمان لاکر عمل صالح کریں ان کا کوئی مذہب نہیں ہے اس آیت میں بتایا کہ سب کا یہی حکم ہے۔ ، بظاہر تو الصا ئبین منصوب آنا چاہیے تھا مگر سیبو بہ اور…
Read the full tafseer →(5:68) لستم علی شییٔ۔ تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ تم کسی اصل پر نہیں ہو۔ تم کسی دین پر تصور نہیں کئے جاؤ گے۔
فلا تاس علی القوم الکفرین۔ آپ افسوس نہ کریں کافروں پر۔
فلا تحزن علیہم فان ضرر ذلک لاحق بہم۔ آپ غم نہ کھائیں ان پر اس کفر کا بدلہ وہ خود ہی پالیں گے (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت نمبر 67 تا 69
لغات القرآن : بلغ (پہنچا دے) ۔ لم یفعل (تو نے نہ کیا) ۔ ما بلغت (تو نے تمہیں پہنچایا) ۔ رسالتہ (اس کا پیغام) ۔ یعصمک (وہ تیری حفاظت کرے گا۔ تجھے بچائے گا) ۔ لیزیدون (البتہ وہ ضرور بڑھا دے گا) ۔ الصابئون (صابی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ) ۔
تشریح : ان آیات میں حضور ﷺ کو ایک خاص حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ وحی جلی یا وحی خفی آپ پر قرآن و سنت کی شکل میں نازل ہو ہو رہی ہے اسے تمام و کمال لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرچہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ نئے نئے احکام پاکر دشمنوں میں کھلبی زیادہ مچ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ پر حملہ کریں یا فساد کریں یا سازس کریں۔ مگر ڈرنے کی کوئی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
شان نزول : چند یہود ایک روز آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ آپ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور ہماری کتاب کو حق نہیں جانتے آپ نے فرمایا :'' یہ سچ ہے کہ تمہاری کتاب برحق ہے لیکن تم نے بہت سے احکام الہی کو بدل ڈالا ہے ''۔ انہوں نے جواب دیا کہ جس طریقہ پر ہم ہیں وہ برحق ہے ہم اس کے سوا ہوگز کوئی اور طریقہ اختیار نہ کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور دہریہ لوگ جب تک مناسب وقت شریعت کو نہ مانیں گے تو ان کا ایمان لاشئ محض ہے۔ اب آگے فرمایا :'' اے رسول اللہ (ﷺ) کے ! ایسے لوگوں کی حالت پر آپ کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے ''۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
[43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) آیت کا مقصد یہ ہے کہ زبانی دعوے دینداری کوئی چیز نہیں ، جب تک تمام منزل من اللہ کتب پر یکساں ایمان نہ ہو ۔
حل لغات :
حتی تقیموالتورۃ : اقامت توریت کے معنی اس پر پوری پوری طرح عمل کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →ف 2 اے پیغمبر آپ ان اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے کہہ دیجیے کہ تم اس وقت تک کسی قابل اعتماد اور قابل نجات راہ پر نہیں ہو جب تک توریت اور انجیل کی اور اس کتاب کی جواب تمہاری ہدایت کے لئے تمہارے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے یعنی قرآن کریم کیپ وری پوری پابندی نہیں کرو گے اور اے پیغمبر جو کلام اور جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا جاتا ہے وہ کلام ان میں سے اکثر کی سرکشی اور نافرمانی کی زیادتی اور ترقی کا سبب ہوجاتا ہے تو آپ اسقسم کے متعصب اور نافرمان لوگوں کی حالت پر افسوس اور غم نہ کیجیے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب تم دین الٰہی کی کسی مقبول اور معتبر راہ پر نہیں ہو اور اگر کوئی…
Read the full tafseer →ف 4۔ کیونکہ غیر مقبول راہ پرچلنا مثل بےراہی کے ہے۔
5۔ اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی آگے بھی ایک قانون عام سے جو کہ اہل کتاب وغیرہ اہل کتاب سب کو شامل ہے اسی کی ترغیب ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کا پیغام اہل کتاب کو تمردو سرکشی میں مزید بڑھا دے گا :
183: پیغمبر اسلام ﷺ کو بطور پیش گوئی اس سے متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ” جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے بجائے اس کے کہ اپنی کتاب کے لئے تنبیہ اور نصیحت کا موجب ہو ان کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ جو مسہل قبض کو رفع نہ کرے وہ فطری طور پر قبض کو بڑھادیتا ہے اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس کا قبض بڑھ گیا ہے۔ پھر اہل کتاب کے لئے اس میں ایک خاص چیلنج بھی ہے کہ تم دونوں گروہوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ تمہارے پاس ان ان صفات سے متصف پیغمبر اللہ کا آخری اور کامل صحیفہ لے کر آئے…
Read the full tafseer →Sequence
Earlier, the people of the Book were persuaded to embrace Islam. Mentioned now is the futility of their current approach which they claimed to be the God's truth while it was unworkable in the sight of Allah, insufficient for salvation and dependant on Islam as the only source of salvation. Then, as an antidote to their insistence on remaining disbelievers after being warned, there are words of comfort for the Holy Prophet ﷺ . The mention of Tabligh of Din had appeared in between as based on particular need and congruity.
Commentary
Follow the Divine Shari` ah: Instruction for the…
Read the full tafseer →97. By 'establishing the Torah and the Gospel' is meant observing them honestly and making them the law of life.
It should be noted here that the Scriptures which comprise the Bible consist of two kinds of writings. One was composed by the Jewish and Christian authors themselves. The second consists of those portions which have been recorded as either the injunctions of God or as the utterances of Moses, Jesus and other Prophets. Such portions are those in which it has been categorically stated that God said so and so, or that a particular Prophet said so and so. If we were to exclude the…
Read the full tafseer →