نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو چھپایا نہیں
اپنے نبی ﷺ کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ حضور ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے " حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپالیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی "۔
یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے " اگر حضور ﷺ اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔ آیت (وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
سورة الْمَآىِٕدَة 96
بائیبل کی کتاب احبار (باب 26) اور استثناء (باب 28) ”میں حضرت موسیٰ ؑ کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکام الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو گے تو کس کس طرح اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جاؤ گے، اور اگر کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر نافرمانیاں کرو گے تو کس طرح بلائیں اور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی وہ تقریر قرآن کے اس مختصر فقرے کی بہترین تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →تبلیغ کی تاکید اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس کا ایک اثر طبعی طور پر بتقاضائے بشریت یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آنحضرت ﷺ سے مایوس ہو کر یا مجبور ہو کر تبلیغ و رسالت میں کچھ کمی ہوجائے اور دوسرا اثر یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ مخالفت اور دشمنی اور ایذاء رسانی کی پرواہ کئے بغیر تبلیغ رسالت میں لگے رہیں، اور اس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کو دشمنوں کے ہاتھ سے تکالیف و مصائب کا سامنا ہو۔ اس لئے تیسری آیت میں ایک طرف تو رسول اللہ ﷺ کو یہ تاکیدی حکم دے دیا گیا کہ جو کچھ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جائے وہ سب کا سب بغیر کسی جھجک کے آپ لوگوں کو پہنچا دیں، کوئی برا مانے یا بھلا۔ اور مخالفت کرے یا قبول کرے، اور دوسری…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 67 تا 86:۔ پہلے نبی ﷺ کو مخاطب کرکے تاکید فرمائی کہ ان اہل کتاب کی تم مطلق پروا نہ کرو جو اپنی برتری اور پیشوائی کے گھمنڈ میں سرمست ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کا یہ مزعومہ مقام و مرتبہ تسلیم کرو۔ تمہاری ذمہ داری بحیثیت رسول کے بےخوف لومۃ لائم اس حق کا اظہار و اعلان ہے جو تم پر خدا کی طرف سے نازل کیا جا رہا ہے۔ یہ تمہاری اپنی بات نہیں ہے کہ کسی کی رو رعایت سے تم اس میں کوئی کمی بیشی کرسکو۔ یہ خدا کا پیغام اور تم اس پیغام ہی کو کے مخاطبوں تک پہنچانے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہو۔ اگر اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی ہوئی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم نے اپنے فرض منصبی کی…
Read the full tafseer →67۔ 1 اس حکم کا مفاد یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے، بلا کم وکاست اور بلا خوف ملامت۔ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ کے ایک لاکھ یا ایک لاکھ چالیس ہزار کے جم غفیر میں فرمایا ـ' تم میرے بارے میں کیا کہو گے ؟ انہوں نے کہا (ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام دیا اور ادا کردیا اور خیر خواہی فرما دی۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اللّھُمّ ھَلْ بَلّغتُ (تین مرتبہ) یا اللّھُم ّفَاشْھَدُ (تین مرتبہ) صحیح مسلم کتاب حج ' یعنی اے اللہ ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ، تو گواہ رہ۔ '
67۔ 2 یہ حفاظت اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طریقہ پر بھی فرمائی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔
47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 67 تا 68۔
رسول اللہ ﷺ کے لئے قطعی حکم یہ ہے کہ آپ تمام پیغام کی جو اللہ نے نازل کیا ہے پوری پوری تبلیغ کریں ‘ دنیا کے اندر پائے جانے والے حالات میں سے کسی حال کو بھی کوئی اہمیت نہ دیں اور اپنی دعوت کو بالکل کھل کر صاف بیان کردیں ۔ یہ آپ کا فریضہ رسالت ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اپنے فرائض پوری طرح سرانجام نہ دیئے رہی بات کہ دشمن تمہارا کچھ بگاڑ لیں گے تو یقین رکھو کہ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا اور جس کو بچانے کا ذمہ اللہ لے لے تو لوگ اللہ کے مقابلے میں حیثیت کیا رکھتے ہیں کہ اس کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے ۔
سچائی کے حاملین کو شف…
Read the full tafseer →7 پچھلی آیات میں اہل کتاب کی شرارت، کفر اور سیاہ کاریوں کا ذکر کر کے تورات، انجیل، قرآن اور کل کتب سماویہ کی اقامت کی ترغیب دی گئی تھی آئندہ قُلْ یَآاَھْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیءٍ سے اہل کتاب کے مجمع میں اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اس " اقامت " کے بدون تمہاری مذہبی زندگی بالکل صفر اور لاشے محض ہے ( يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ) 5 ۔ المائدہ :67) میں اسی دو ٹوک اعلان کے لئے حضور ﷺ کو تیار کیا گیا ہے۔ یعنی آپ پر جو کچھ پروردگار کی طرف سے اتارا جائے خصوصاً اس طرح کے فیصلہ کن اعلانات آپ بےخوف و خطر اور بلا تامل پہنچاتے رہئے۔ اگر بفرض محال کسی ایک چیز…
Read the full tafseer →آیت 67 یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط
اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت سخت آیت ہے۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اگر وحی میں کہیں رسول اللہ ﷺ پر تنقید نازل ہوئی ہے تو وہ بھی قرآن میں جوں کی توں موجود ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ایسی چیزوں کو چھپالیا گیا ہو۔ تیسویں پارے میں سورة عبس کی ابتدائی آیات عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی۔ بھی ویسے ہی موجود ہیں جیسے نازل ہوئی تھیں۔ سورة آل عمران میں بھی ہم پڑھ کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْءٌ۔۔ آیت 128۔ اس طرح کی…
Read the full tafseer →112 تمام رسولوں کی چار اہم ذمہ داریوں کا ذکر قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے۔ ان میں سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری تبلیغ رسالت ہے۔ اور آپ نے سب سے زیادہ توجہ اس طرف دی ہے۔ کفار کی ایذا رسانیوں کو سہہ سہہ کر اور پر مشقت سفر کر کرکے آپ انفرادی اور اجتماعی طور پر لوگوں سے ملتے اور انکے کڑوے کسیلے جواب سننے کے باوجود آپ نے پوری ذمہ داری سے یہ فریضہ انجام دیا۔ پھر زندگی آخری دور میں تین مختلف اوقات میں ہزاروں صحابہ کرام ؓ کے مجمع میں ان سے گواہی لی۔ کہ آیا میں نے تبلیغ رسالت کا پیغام تمہیں پہنچا دیا ؟ پھر جب انھوں نے اثبات میں جواب دیاتو آپ نے بآواز بلند فرمایا یا اللہ گواہ رہنا ۔ نیز آپ نے صحابہ…
Read the full tafseer →231 ۔ (آیت) ” ما انزل الیک من ربک “۔ اس میں قرآن مجید کے سارے کا سارا آجانا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی جو چیزیں وحی خفی کے ذریعہ سے رسول اللہ ﷺ کو تعلیم ہوتی تھیں، وہ بھی اس عموم میں شامل ہیں۔ قال ابن عباس ؓ المعنی بلغ جمیع ما انزل الیک (قرطبی) فیہ امر للنبی ﷺ یتبلیغ الناس جمیعا ما ارسلہ بہ الیہم من کتابہ واحکامہ وان لایکتم منہ شیئا خوفا من احد ولا مدار اۃ لہ (جصاص) جمیع ما انزل الیک (مدارک) (آیت) ” یایھا الرسول۔ “۔ تبلیغ کے موقع پر یہ انداز خطاب بجائے خود نہایت بلیغ وحکیمانہ ہے کہ اے مخاطب تمہاری تو حیثیت ہی تمامتر رسول کی، پیغام پہنچانے والے کی ہے۔
232 ۔ یعنی اگر آپ نے کوئی بات احکام خداوندی میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 67 تا 77
ترجمہ : اے رسول ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سب (لوگوں تک) پہنچا دو اور اس خوف سے کہ اس کی وجہ سے تم کو کوئی پریشانی لاحق ہوگی، اس میں سے کچھ نہ چھپاؤ، اور اگر تم نے یہ کام نہ کیا یعنی جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے وہ سب (لوگوں تک) نہ پہنچایا تو تم نے اس کی رسالت کا حق ادا نہ کیا، (رسالۃ) افراد اور جمع کے ساتھ ہے، اس لئے کہ بعض کا چھپانا کے مانند ہے، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچائیگا کہ تم کو قتل کریں، اور نبی ﷺ کی حفاظت کی جاتی تھی یہاں تک کہ آیت ” یعصمک من الناس “ نازل ہوئی، تو آپ نے فرمایا میرے پاس سے چلے جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے میری…
Read the full tafseer →یایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اے پیغمبر آپ کے پاس آپ (1) [ ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من رب ک، غدیر خم کے دن حجرت علی بن ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی، ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں ہم (یہ آیت اس طرح) پڑھتے تھے۔ یا ایاھ الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولی المومنین وان لم تفعل فما بلغت رسالہ واللہ یعصمک من الناس۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ غدیر خم کے دن نازل ہوئی لیکن غدیر خم کے دن اس کا نزول تسلیم کرنا ہدایت اور روایت دونوں کے…
Read the full tafseer →(67) یعنی محمد ﷺ ان کے بتوں کا انکار کیجیے اور ان کے دین کو دلائل کے ساتھ غلط ثابت کیجیے اور آخری درجہ میں ان کے ساتھ قتال کیجیے اور جو قبول حق پر آمادہ ہوں انھیں اسلام کی دعوت دیجیے اور اگر آپ حکم الہی کی بجاآوری نہیں کریں گے تو آپ نے ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا اور یہود وغیرہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا اور جو دین خداوندی کا اہل نہیں ہوتا، اسے اللہ وہ راستہ نہیں دیکھاتا۔
شان نزول : (آیت) ”یایہا الرسول بلغ ماانزل الیک“۔ (الخ)
ابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت سے مشرف فرمایا تو میرے دل میں پریشانی ہوئی اور میں نے یہ سمجھ لیا…
Read the full tafseer →وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ بھی چھپالیا، یا پہنچانے میں سستی کی تو گویا سرے سے اس کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، خصوصاً یہود و نصاریٰ سے متعلق اعلانات۔ اس آیت میں ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی ﷺ کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن کی بعض آیات مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں، بلکہ صرف علی ؓ اور اہل بیت کو بتائیں۔ خود علی ؓ نے ان کے اس باطل عقیدے کی تردید فرمائی، چناچہ ابو جحیفہ ؓ نے علی ؓ سے پوچھا : ”کیا آپ (اہل بیت) کے پاس کوئی اور کتاب ہے ؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”نہیں، مگر اللہ کی کتاب یا کتاب اللہ کی وہ سمجھ ہے جو کسی مسلمان آدمی کو عطا کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 67
اس میں دو مسئلے ہیں ؛
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے : آیت : یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تبلیغ کو ظاہر کرو، کیونکہ اسلام کے آغاز میں مشرکین کے خوف سے آپ تبلیغ مخفی طریقہ سے کرتے تھے پھر اس آیت میں تبلیغ کے اظہار کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کیا کہ وہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا (1۔ تفسیر بغوی) ۔ حضرت عمر ؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کیا اور فرمایا : ہم اللہ تعالیٰ کی سرا عبادت نہیں کریں گے، اس کے بارے میں یہ نازل ہوئی : یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین (الانفال) اے نبی مکرم ! کافی ہے آپ کو…
Read the full tafseer →(1) امام ابو الشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام دے کر مجھے مبعوث فرمایا میں تنگ پڑگیا۔ میں نے جان لیا کہ لوگ میری تکذیب کریں گے پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں ضرور پیغام کو پہنچاؤں ورنہ وہ مجھ کو عذاب دے گا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا اے میرے رب میں اکیلا ہوں میں کس طرح کروں جبکہ لوگ میرے خلاف متفق ہیں تو یہ آیت لفظ آیت وان…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ [ اے رسول !] بَلِّــغْ [ آپ پہنچاتے رہیں ] مَآ [ اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ ۭ [ آپ کی رب (کی طرف ) سے ] وَاِنْ [ اور اگر ] لَّمْ تَفْعَلْ [ آپ (یہ ) نہیں کریں گے ] فَمَا بَلَّغْتَ [ تو آپ نے نہیں پہنچایا ] رِسَالَتَهٗ ۭ [ اس کے پیغام کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْصِمُكَ [ بچائے گا آپ کو ] مِنَ النَّاسِ ۭ [ لوگوں سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ [ کافر قوم کو ]
ترکیب : لستم کا اسم اس میں شامل انتم کی ضمیر ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور علی شیء قائم مقام خبر ہے ۔ فلاتاس…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب کچھ پہنچا دو ، اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائیگا
اس آیت شریفہ میں اللہ جل شانہ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو تبلیغ کا حکم دیا اور فرمایا کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا اس کو پہنچا دیں، حضرت حسن ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آپ کے دل میں کچھ گھبراہٹ سی ہوئی اور یہ خیال ہوا کہ لوگ تکذیب کرینگے اس پر آیت بالانازل ہوئی۔
معالم التنزیل ص 51 ج 1 اور لباب النقول ص 94 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ جب (یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) نازل ہوئی تو آپ نے عرض…
Read the full tafseer →ازالہ خوف و دہشت ووعدہ حفاظت دربارہ تبلیغ دعوت۔
قال تعالی، یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک۔۔۔۔ الی۔۔۔ الکافرین۔
ربط) ۔ یہود اور نصاری کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد آپ ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ایسانہ ہو کہ آپ تبلیغ دین میں سعی بلیغ نہ کریں اور کسی دشمن کے خوف اور اندیشہ سے یا لوگوں کی دل شکنی کے خیال سے ہمارے کسی حکم یا کسی آیت کو ان کے سامنے نہ پڑھیں اللہ تعالیٰ آپ کانگہبان ہے اور آپ کی حفاظت کا ذمہ دار ہے آپ تو بےخوف وخطر دین خداوندی کی تبلیغ کریں حق جل شانہ نے جب موسیٰ کو حکم دیا کہ فرعون کو تبلیغ کریں تو طبعی طور پر ان کو خوف دامن گیرہوا، اننا نخاف ایفرط۔۔ الی۔۔ یطغی۔ تو اللہ نے صاف طور پر…
Read the full tafseer →118 دوسرا حصہ۔ 1 ۔ نفی شرک فی التصرف۔ اور 2 ۔ نفی شرک فعلی۔
پہلا جز۔ نفی شرک فی التصرف۔ پہلے حصے میں شرک فعلی کی نفی کا بیان تھا اور اس کے بعد شرک فی التصرف کی نفی مذکور تھی اس کے بعد آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ اور اہل کتاب اور منافقین پر زجریں مذکور تھیں۔ اب یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے اس میں ان دونوں مضمونوں (نفی شرک فی التصرف اور نفی شرک فعلی) کا لف و نشر غیر مرتب کے طور پر اعادہ کیا گیا ہے۔
119 مَا موصولہ ہے جو عموم کے لیے ہے اور اس سے وہ تمام احکام مراد ہیں جو وحی جلی یا وحی خفی کے ذریعے آپ پر نازل ہوئے۔ یہاں مَا اُنْزِلَ سے چار چیزیں ذکر کی گئی ہیں جو آگے آرہی ہیں۔ وَ اِنْ لَّمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی تھی ان کی سرکشی ، کفر اور فساد فی الارض کا ذکر تھا۔ وہ لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے ، مگر اللہ نے انہیں ناکام بنا دیا اور بطور نصیحت فرمایا کہ اگر تم تورات و انجیل کو قائم کرتے اور نازل شدہ ہدایت پر عمل کرتے تو آسمان و زمین کی برکات تمہارے شامل حال ہوتیں مگر یہود و نصاریٰ کی اکثریت نافرمان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں کچھ باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں ، ان کو ہدایت نصیب ہوجاتی ہے اور اہل ایمان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہدایت کی بات محنت اور کوشش سے ان تک پہنچائیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ 0ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ 0ۭ وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 67
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ترکیب : بلغ فعل بافعل ‘ ما انزل الخ صلہ و موصول اس کا مفعول وان لم تفعل شرط فما بلغت جواب واللّٰہ مبتدا یعصمک خبر حتی غایۃ ہے لستم کی۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو تبلیغ وحی میں بلغ کے ساتھ تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اگر آپ کسی کے خوف و اندیشہ سے تبلیغ دین میں کچھ کوتاہی کریں گے تو عہد رسالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ چونکہ عرب کی مشرک قوموں سے تو مکہ ہی سے بسبب توحید ظاہر کرنے کے مخالفت سخت ہوگئی تھی وہ شب و روز نبی ﷺ اور آنحضرت ﷺ کی جماعت کی ایذا اور تکلیف دہی میں سرگرم تھے۔ اس لئے جب ان کے ظلموں کی برداشت نہ ہوسکی مکہ چھوڑ کر مدینہ میں رہنا اختیار کیا۔ یہاں یہود و نصاریٰ…
Read the full tafseer →تمہید
ہم گزشتہ دو رکوعوں سے مسلسل اہل کتاب خصوصاً یہود کی اسلام دشمنی اور نبی کریم ﷺ سے بغض کی تاریخ پڑھ رہے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ اسلام دشمنی میں وہ اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ باوجود اس کے کہ وہ رسول پاک ﷺ کی شخصیت کو اپنی کتابوں کے دیئے ہوئے تعارف کی روشنی میں پوری طرح پہچانتے بھی تھے ‘ لیکن وہ ان پر ایمان لانے اور انھیں قبول کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں تھے بلکہ آنحضرت ﷺ کی شخصیت کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کو بدگمان کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا۔ ان کے خواص و عوام میں دشمنی کی جڑیں اس قدر گہری ہوگئی تھیں کہ وہ شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانے سے بھی نہیں چوکتے تھے بلکہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے آیت 58 میں مسلمانوں کی طرف یہود ونصارٰی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ہماری اس لیے مخالفت کرتے ہو کہ ہم اپنے رب پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ پھر یہو دو نصارٰی کی با ہمی دشمنی کا ذکر کیا ہے اور سمجھایا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے زمانے میں تورات اور انجیل پر عمل کرتے تو دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے ہم کنار ہوتے۔ اب نبی ﷺ کو فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے گا۔
الرّسول سے مراد سرور دوعالم ﷺ کی ذات اقدس ہے یہاں لفظ الرّسول استعمال فرما کر آپ کو باور کروایا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول یعنی اس کی طرف سے پیغام…
Read the full tafseer →بےخطر ہو کر اللہ کا پیغام پہنچائیں :
آیت 67 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ما انزل سے مراد وہ تمام جو آپ کی طرف اتارا گیا۔ اور جو آپ کی طرف اتار دی گئی ہے اس کو دوسری طرف پہنچانے میں کسی کی حفاظت کی ضرورت نہیں۔ اور نہ کسی خطرہ کی ضرورت ہے۔ کہ آپ کو اس سلسلے میں تکلیف پہنچے گی۔ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْاگر وہ تمام آپ نے نہ پہنچایا جیسا میں نے آپ کو حکم دیا ہے۔ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ تو آپ نے اس وقت نہ پہنچایا اس چیز کو جس کا آپ کو ادائے رسالت کے سلسلے میں مکلف بنایا گیا اور آپ نے گویا اس میں سے کوئی چیز کبھی بھی ادا نہیں کی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
آیت نمبر 67, 66, 65
تفسیر :(ولو ان اھل الکتب امنوا) محمد ﷺ پر (واتقوا) کفر سے لکفرنا عنھم سیاتھم ولاد خلنھم جنت النعیم
(ولوانھم اقموا التورۃ والانجیل اور اگر وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو) یعنی ان کے احکام اور حدود کو قائم رکھتے اور ان پر عمل کرتے ( وما انزل الیھم من ربھم اور اس کو جو نازل ہو ان پر ان کے رب کی طرف سے ) یعنی قرآن اور بعض نے کہا بنی اسرائیل کی کتابیں مراد ہیں ۔ ( لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے ) بعض نے کہا کہ ان کے اوپر سے بارش مراد ہے اور ان کے نیچے سے زمین کی پیداوار مراد ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان پر بارش اتاری جاتی اور…
Read the full tafseer →ترمذی حاکم مسند امام احمد اور طبرانی وغیرہ میں جو اس آیت کی شان نزول لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے تبلیغ حکم کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اوپر کا ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا آنحضرت کو یہ تامل ہوا کہ لوگ آپ کو جھٹلاویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا ٹکڑا نازل فرمایا۔ جب آپ نے بیدھڑک اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا جس پیغام میں اکثر باتیں اہل کتاب و منافقین اور کفارہ کی مرضی کے مخالف بلکہ ان کی مذمت کی ہوتی تھیں تو اس خوف سے کہ موقع پا کر یہ مخالف لوگ آپ پر حملہ نہ کر بیٹھیں کچھ صحابہ کو آپ اپنی حفاظت کے لئے رات کو تعینات فرمایا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ تیسرا ٹکڑا آیت کا نازل فرمایا 1 ؎ جس…
Read the full tafseer →آیت 67
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو حکم ہے اور یہ سب سے بڑا اور جلیل ترین حکم ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے اسے اس کے بندوں تک پہنچایا جائے۔۔۔ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جو امت نے آپ سے حاصل کئے، مثلاً عقائد، اعمال، اقوال، احکام شرعیہ اور مطالب الٰہیہ وغیرہ۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کو پوری طرح پہنچا دیا، آپ ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، ان کو برے انجام سے ڈرایا، ان کو ایمان لانے پر اچھے انجام کی خوشخبری سنائی، ان کے لئے آسانیاں پیدا کیں، ان پڑھ جاہلوں کو علم سکھایا حتی کہ وہ علمائے ربانی بن گئے۔ آپ ﷺ نے اپنے قول و فعل، اپنے مراسلات…
Read the full tafseer →قول باری ہے یا یھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک اے پیغمبر ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا وہ لوگوں تک پہنچا دو آیت میں حضور ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے اللہ نے آپکے ذریعے لوگوں کی طرف جو کتاب بھیجی ہے اور جو احکام نازل کیے ہیں آپ انہیں بےکم و کاست لوگوں تک پہنچا دیں اور کسی سے ڈر کر یا کسی کے ساتھ نرمی برتنے کی خاطر کوئی بات چھپا کر نہ رکھیں ۔ اور یہ بتادیا کہ اگر آپ نے ان میں سے کوئی بات لوگوں تک پہنچانے میں کوتاہی کی تو آپ کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوگی جس نے گویا کوئی بات پہنچائی ہی نہیں چناچہ ارشاد باری ہے وان لم تعفل فما بغلت رسالتہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبر ی کا حق…
Read the full tafseer →168 پیغمبر کو پورے دین کی تبلیغ کا حکم وارشاد : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پورے کا پورا پہنچا دو اس دین کو جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے۔ اور اگر بالفرض آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کی رسالت و پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا۔ سو پیغمبر نے دین سب کا سب پہنچا دیا اور اس میں سے کچھ بھی چھپایا نہیں : کہ آپ کا اصل منصب اور اس کا تقاضا ہی پیغام خدا وندی کو بلا کم وکاست پورے کا پورا پہنچا دینا ہے اور بس۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اہل بدعت میں سے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حضور نے اتنے اتنے علوم اپنے پاس مخفی رکھ لئے تھے سراسر باطل اور مردود ہے۔ کیونکہ یہاں کلمہء " مَـا "…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو حق رسالت ادا کرنے کی تاکید
تشریح : اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑی تسلی دیتے ہوئے ہمت بندھاتے ہیں کہ بیشک ان لوگوں نے آپ ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر آپ ﷺ فکر نہ کریں بالآخر فتح آپ کی ہی ہوگی اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ کس طرح اس چھوٹی مسلم طاقت نے بڑی بڑی طاقتوں کو فتح کیا اور اسلام کا بول بالا پوری دنیا میں ہوگیا اور اگر مسلمانوں نے قرآن و سنت پر عمل کیا تو انشاء اللہ قیامت تک اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند ہی رہے گا اور اس میں سب سے بڑی کوشش پیغمبر آخرالزماں سیدنا محمد ﷺ کی ہی ہے۔ جنہوں ے سختیاں برداشت کیں مگر ہمت نہ ہاری۔ پہلے مکہ کے انتہائی اکھڑ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–77
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 67 تا 77 ۔
اسرار و معارف :
یہ بیان ایک عجیب تر بات سے شروع ہوتا ہے اور یہ دلیل نبوت بھی ہے اور آپ ﷺ کا معجزہ بھی کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ! یعنی خطاب ہی ایسے اسم گرامی سے ہے فرض منصبی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رسول کا فرض ہی اللہ کے بندوں تک اللہ کی بات کا پہنچانا ہے سو یہاں یہود کی سازشوں ، اہل مکہ کے حملوں اور کفار کی دوسری مخالفانہ کوششوں کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ آپ پر اللہ کریم کی طرف سے جو نازل ہوتا ہے وہ پہنچانا ہی اس کی رسالت کا فریضہ ہے اب یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ثابت کرنے پر زور لگا رہے ہیں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام میں سے اگر کچھ چھپا لیاتو گویا سرے سے اس کا پیغام ہی نہیں پہنچا یا خصو صا یہود و نصاری اور منافقین کے متعلق اعلانات اس آیت ان لوگوں کی تردید ہے جو نبی ﷺ کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قرآن کی بعض آیات عام مسلمانوں تک نہیں پہنچائیں بلکہ صرف علی ؓ اور اہل بیت کو بتائیں۔ حضرت علی ؓ نے ان کے اس خیال کی تردید فرمائی ہے چناچہ مروی ہے کہ ابو حجیفہ نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا کہ آپ اہل بیت کے پاس کچھ اور آیتیں ایسی ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں انہوں نے جواب دیا۔ نہیں ہر گر نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے پھاڑ کر اگایا اور جان کو پید کیا البتہ فہم ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کو…
Read the full tafseer →(5:67) فما بلغت رسالتہ۔ تو تونے اس کی رسالت یا پیغام بری کا حق ادا نہیں کیا۔
یعصمک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ عصمۃ مصدر (باب ضرب) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تم کو بچا لیگا۔
ان اللہ لا یھدی القوم الکافرین۔ ای لا یمکنہم مما یردون بک۔ جو گزند تم کو پہنچانے کے ارادے رکھتے ہیں ۔ ان کی ان کو توفیق نہ دے گا۔ کافروں کو تمہارے مقابلہ میں کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت نمبر 67 تا 69
لغات القرآن : بلغ (پہنچا دے) ۔ لم یفعل (تو نے نہ کیا) ۔ ما بلغت (تو نے تمہیں پہنچایا) ۔ رسالتہ (اس کا پیغام) ۔ یعصمک (وہ تیری حفاظت کرے گا۔ تجھے بچائے گا) ۔ لیزیدون (البتہ وہ ضرور بڑھا دے گا) ۔ الصابئون (صابی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ) ۔
تشریح : ان آیات میں حضور ﷺ کو ایک خاص حکم دیا گیا ہے کہ جو کچھ وحی جلی یا وحی خفی آپ پر قرآن و سنت کی شکل میں نازل ہو ہو رہی ہے اسے تمام و کمال لوگوں تک پہنچا دیجئے اگرچہ یہ خطرہ ضرور ہے کہ نئے نئے احکام پاکر دشمنوں میں کھلبی زیادہ مچ جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ وہ آپ پر حملہ کریں یا فساد کریں یا سازس کریں۔ مگر ڈرنے کی کوئی بات…
Read the full tafseer →تبلیغ کا حکم
اس آیت کا مطلب یہ ہے آیت نازل ہوئی تو آپ نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا جس میں اکثر باتیں اہل کتاب و منافقین اور کفار کی مرضی کے مخالف بلکہ ان کی مذمت کی ہوتی تھیں۔ تو اس خوف سے کہ موقع پاکر یہ مخالف لوگ آپ پر حملہ نہ کربیٹھیں کچھ صحابہ کرام کو آپ اپنی حفاظت کے لئے رات کو تعینات فرمایا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا یہ ٹکڑا نازل فرمایا۔ اس آیت کے آتے ہی آپ نے ان صحابہ کرام کو فرمادیا کہ تم اپنے اپنے گھر طلے جاؤ اب حفاظت کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت خود اپنے ذمہ لے لی ہے۔ آخر کو فرمایا کہ اے رسول اللہ (ﷺ ! ) تمہارے قرآنی احکام پہنچادینے کے بعدجو لوگ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
[43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔
Read the full tafseer →منصب دعوت اور وعدہ عصمت :
(ف 1) نبوت کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص انسانیت کے فراز اعلی پر جلوہ گر ہے اور اس کا دل مہیط انوار الہی ہے اسے حکم ہے کہ اس روشنی کو جو تمہارے قلب پر پر تو فگن ہے عام کر دے اور دیدہ بینا کو موقع دے کہ وہ اس نور خالص سے بقدر تاب وتواں استفادہ کریں ۔
اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ خدا کے احکام ومعارف بندوں تک بےکم وکاست پہنچا دیں ورنہ منصب دعوت و رسالت کے خلاف ہوگا ۔
آیت کا مقصد یہ نہیں کہ حضور ﷺ کسی بخل سے کام لیں گے اور فیوض وانوار سے محروم رکھیں گے کیونکہ آپ ﷺ کی نسبت بتصریح مذکور ہے ۔ (آیت) ” وما ھو علی الغیب بضنین “۔ یعنی آپ ﷺ خزینہ…
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا آپ لوگوں کو وہ سب پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے خدانخواستہ بفرض محال ایسا نہ کیا یعنی کچھ حصہ پہنچایا اور کچھ نہیں پہونچا یا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے خدا کا کوئی پیغام بھی نہیں پہونچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا یقین رکھیے کہ اللہ تعالیٰ اس گروہ منکرین کو ایسا موقع نہیں دے گا اور ان کی رہنمائی نہیں فرمائے گا۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ منکرین اسلام کی کوشش یہ ہے کہ وہ آپ کے تبلیغی کاموں میں رکاوٹ پیدا کریں وہ آپ کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں تو آپ اس قسم کی قتل آمیز دھمکیوں کی پروا نہ کیجیے اور تمام احکام کی تبلیغ…
Read the full tafseer →ف 2۔ چونکہ مجموعہ کا پہنچانا فرض ہے اس لیے جیسا کل کے اخفاء سے یہ فرض فوت ہوتا ہے اسی طرح کے اخفاء سے بھی یہ فرض فوت ہوجاتا ہے
3۔ چناچہ یہ وعدہ اسی طرح صادق ہوگیا گوبعض غزوات میں آپ زخمی بھی ہوئے اور یہود نے نامردوں کی طرح آپ کو زہر بھی دیا مگر مجمع و مقاتل ہو کر کوئی قتل وہلاک نہ کرسکا اور اس پیشن گوئی کا واقع ہونا آپ کا معجزہ دلیل نبوت ہے اور ترمذی میں ہے کہ پہلے حضور ﷺ کے پاس پہرہ دیا جاتا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ چلے جاو اللہ نے میری حفاظت کی ذمہ لے لی یہ بھی دلیل نبوت ہے کیونکہ ایسا اعتماد بدون وحی کے نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →ایک اہم پیغام جس کا پہنچانا پیغمبر اسلام ﷺ کے ذمہ لازم قرار دیا گیا :
180: وہ قوم جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے اس کا باوا آدم بھی نرلا ہی تھا۔ اس لئے کہ وہ اپنی مزاج کے آپ ہی تھے۔ ان کی ہر بات انوکھی تھی اور اقوام عالم کی ساری بیماریاں ان کے اندر موجود تھیں۔ سیاسی طور پر وہ بدنظمی اور انتشار کا شکار تھے۔ معاشی طور پر ان کی بدحالی کی مثال نہ تھی۔ اخلاقی لحاظ سے ان کے ہاں گنگا ہی الٹی بہہ رہی تھی۔ کردار کی ساری خرابیاں ان میں موجود تھیں شراب نوشی ، جواز بازی ، بدکاری اور بےحیائی ان کے ہاں سرداری اور دولت مندی کی علامات تھیں۔ ظلم ، زیادتی اور قتل و غارت کو وہ شجاعت سمجھتے تھے ۔…
Read the full tafseer →Emphasis on Tabligh and Comfort for the Prophet ﷺ
In the present verses as well as throughout the previous two sections, there has been a continued description of the crookedness, waywardness, obstinacy and anti-Islam mechanizations of Jews and Christians. One natural effect it could have on the Holy Prophet ﷺ was that he, being human, could feel disappointed or compelled by circumstances and, as a result of which, the process of Tabligh or the very mission of prophethood might slow down or left lacking somewhere. The second effect could be that in the event he elected to devote…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
96 In the Old Testament, Leviticus (chapter 26) and Deuteronomy (chapter 28) record a sermon of Moses in which he impresses upon Israel, in great detail, the bounties and blessings of God with which they would be endowed if they obeyed His commandments, and the afflictions, scourges and devastations that would descend upon them if they disobeyed Him and rejected the Book of God. That sermon of Moses is the best explanation of this verse of the Qur'an.
Read the full tafseer →