Al-Maaida 5:66

Al-Maaida · from ayah 66

5:66

وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ؕ— مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ؕ— وَكَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ ۟۠وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ لَاَ كَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَمِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ‌ؕ مِنۡهُمۡ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ‌  ؕ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ سَآءَ مَا يَعۡمَلُوۡنَ

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if only they upheld [the law of] the Torah, the Gospel, and what has been revealed to them from their Lord, they would have consumed [provision] from above them and from beneath their feet. Among them are a moderate community, but many of them - evil is that which they do.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:66

کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے، ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو کتاب (اب) ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کرتے تو وہ اپنے اوپر اور اپنے پاؤں کے نیچے ہر طرف سے (اللہ کا رزق) کھاتے۔ (اگرچہ) ان میں ایک جماعت راہ راست پر چلنے والی بھی ہے، مگر ان میں سے بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ ان کے اعمال خراب ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ان میں کوئی گروہ اگر اعتدال پر ہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر وہ لوگ تورات اور انجیل اور جو کچھ (مزید) ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا تھا (نافذ اور) قائم کردیتے تو (انہیں مالی وسائل کی اس قدر وسعت عطا ہوجاتی کہ) وہ اپنے اوپر سے (بھی) اور اپنے پاؤں کے نیچے سے (بھی) کھاتے (مگر رزق ختم نہ ہوتا)۔ ان میں سے ایک گروہ میانہ رَو (یعنی اعتدال پسند ہے)، اور ان میں سے اکثر لوگ جو کچھ کررہے ہیں نہایت ہی برا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر وہ واقعی تورات اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے تو یقینا وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں سے ایک جماعت درمیانے راستے والی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ، برا ہے جو کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر یہ لوگ تورات اور انجیل پر اور جو دوسری کتابیں ان پر انکے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی تھیں، ان پر عمل پیرا رہتے تو انکے اوپر سے بھی کھانے کو رزق برستا، اور پاؤں کے نیچے سے بھی ابلتا۔ ان میں سے کچھ لوگ تو راست رو ہیں لیکن ان میں سے اکثر بدعمل ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ تورات اور انجیل اور اس چیز کو قائم کرتے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اتاری گئی تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے خدا کا رزق و فضل پاتے۔ ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے لیکن زیادہ ان میں سے ایسے ہیں جن کے عمل بہت برے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر یہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو، اور اس کتاب کو جو اب اتاری گئی ہے ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے، (یعنی قرآن حکیم کو) تو یہ ضرور کھاتے اپنے اوپر سے (برسنے والی برکات میں سے) اور اپنے پاؤں کے نیچے (سے ابلنے والے رزق میں) سے، ان میں سے کچھ لوگ تو سیدھی راہ پر، لیکن ان میں سے اکثر بہت برے کام کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر وہ توریت اور انجیل کی پابندی کرتے اور اس کی جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے (اب) نازل ہوا ہے۔ تو یہ لوگ (خوب کھاتے (پیتے) رہتے اوپر سے (بھی) اور اپنے پیروں سے نیچے سے (بھی) ۔ انہی میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے۔ لیکن اکثر ان میں کے ایسے ہیں جو بہت ہی برا کررہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر انہوں نے قائم کیا ہوتا تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل کیا گیا تھا ان پر ان کے رب کی طرف سے تو یہ کھاتے اپنے اوپر سے بھی اور اپنے قدموں کے نیچے سے بھی ان میں کچھ لوگ ہیں جو درمیانی (یعنی سیدھی) راہ پر ہیں لیکن ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کاش ! انہوں نے تورات، انجیل اور دوسری آسمانی کتابوں پر عمل کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے بھیجی گئی تھیں۔ اگر ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست باز بھی ہیں لیکن زیادہ لوگ سخت بدعمل ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had the People of the Book observed the Torah and the Gospel, and all that had been revealed to them from their Lord, sustenance would have been showered over them from above and risen from beneath their feet. Some among them certainly keep to the right path; but many of them do things which are evil.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If they had upheld the Torah and the Injil and what had been sent down to them from their Lord, they would surely have had plenty to eat from above them and from beneath them. Among them are moderate people. As for most of them, evil is what they do.

— Muhammad Taqi Usmani

If they had upheld the Torah and the Injil and what had been sent down to them from their Lord, they would surely have had plenty to eat from above them and from beneath them. Among them are moderate people. As for most of them, evil is what they do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if only they had acted according to the Tawrah, the Injil, and what has (now) been sent down to them from their Lord (the Qur'an), they would surely have gotten provision from above them and from underneath their feet. And among them is a Muqtasid Ummah, but for most of them; evil is their work.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If they had observed the Torah and the Gospel and that which was revealed unto them from their Lord, they would surely have been nourished from above them and from beneath their feet. Among them there are people who are moderate, but many of them are of evil conduct.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if only they upheld [the law of] the Torah, the Gospel, and what has been revealed to them from their Lord, they would have consumed [provision] from above them and from beneath their feet. Among them are a moderate community, but many of them - evil is that which they do.

— Saheeh International

Had they followed the Laws of the Old and New Testaments and what was revealed to them from their Lord, they would have received Our bounties from above and below in abundance. Some of them are modest people, but many of them commit the worst sins.

— Muhammad Sarwar

And if they had kept up the Taurat and the Injeel and that which was revealed to them from their Lord, they would certainly have eaten from above them and from beneath their feet there is a party of them keeping to the moderate course, and (as for) most of them, evil is that which they do

— Muhammad Habib Shakir

And had they established the Taurat and the Injil and that which hath now been sent down unto them from their Lord, they would have devoured from above them and from beneath them. Among them is a community right-doing; but many of them - vile is that which they work!

— Abdul Majid Daryabadi

If only they had stood fast by the Law, the Gospel, and all the revelation that was sent to them from their Lord, they would have enjoyed happiness from every side. There is from among them a party on the right course: but many of them follow a course that is evil.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–66

بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–67

سورة الْمَآىِٕدَة 96 بائیبل کی کتاب احبار (باب 26) اور استثناء (باب 28) ”میں حضرت موسیٰ ؑ کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکام الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو گے تو کس کس طرح اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جاؤ گے، اور اگر کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر نافرمانیاں کرو گے تو کس طرح بلائیں اور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی وہ تقریر قرآن کے اس مختصر فقرے کی بہترین تفسیر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

احکام الٰہیہ پر پورا عمل کس طرح ہوتا ہے (قولہ تعالیٰ) وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ، اس آیت میں اسی ایمان اور تقویٰ کی کچھ تفصیل مذکور ہے، جس پر دنیوی برکات آرام و راحت کا وعدہ پچھلی آیت میں کیا گیا ہے، اور تفصیل یہ ہے کہ تورات و انجیل اور ان کے بعد جو آخری کتاب قرآن بھیجی گئی اس کو قائم کریں، یہاں عمل کرنے کے بجائے لفظ ”اقامت“ یعنی قائم کرنے کا لایا گیا، مراد یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر پورا پورا صحیح عمل جب ہوگا کہ نہ اس میں کوتاہی اور کمی ہو اور نہ زیادتی، جس طرح کسی عمود کو قائم اسی وقت کہا جاسکتا ہے جب وہ کسی طرف مائل نہ ہو، سیدھا کھڑا ہو اس کا حاصل یہ ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 65–66

تفسیر آیت 65 تا 66:۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا، سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہاں ایمان سے مراد آنحضرت ﷺ پر ایمان ہے۔ یعنی یہ اہل کتاب حسدوعناد کی اس روشن کے بجائے جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے، اگر ایمان وتقوی کی روش اختیار کرتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 تورات اور انجیل کے پابند رہنے کا مطلب، ان کے ان حکام کی پابندی ہے جو ان میں انہیں دئے گئے، اور انہی میں ایک حکم آخری نبی پر ایمان لانا بھی تھا۔ اور وَمَا اُنزِ لَ سے مراد تمام آسمانی کتب پر ایمان لانا ہے جن میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ مطلب یہ ہے یہ اسلام قبول کرلیتے۔ 66۔ 2 اوپر نیچے کا ذکر یا بطور مبالغہ ہے، یعنی کثرت سے اور انواع واقسام کے رزق اللہ تعالیٰ مہیا فرماتا ہے۔ یا اوپر سے مراد آسمان ہے یعنی حسب ضرورت خوب بارش برساتا ہے اور ' نیچے سے مراد ' زمین ہے۔ یعنی زمین اس بارش کو اپنے اندر جذب کر کے خوب پیداوار دیتی۔ نتیجتًا شادابی اور خوش حالی کا دور دورہ ہوجاتا اور فصلوں سے پیدوار حاصل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–68

46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔ 47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 65–66

(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔ ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی قرآن کریم جو تورات و انجیل کے بعد ان کی تنبیہ اور ہدایت کے لئے نازل ہوا اس کو قائم کرتے کیونکہ اس کے تسلیم کے بدون تورات و انجیل کی بھی صحیح معنی میں اقامت نہیں ہوسکتی بلکہ تورات و انجیل اور جملہ کتب سماویہ کی اقامت کا مطلب ہی اب یہ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ جو کتب سابقہ کی پیشین گوئیوں کے مطابق بھیجے گئے ہیں ان کو قبول کیا جائے گویا اقامت تورات و انجیل کا حوالہ دیکر آگاہ فرما دیا کہ اگر قرآن کو انہوں نے قبول نہ کیا تو اس کے معنی یہ ہی ہیں کہ اپنی کتابوں کے قبول کرنے سے بھی منکر ہوگئے۔ 5 یعنی تمام ارضی سماوی برکات سے ان کو متمتع کیا جاتا اور ذلت، بدحالی اور ضیق عیش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

جو آیت آگے آرہی ہے اس پر غور کیجیے اور اسے خود پر بھی منطبق کر کے ذرا سوچئے۔ آیت 66 وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ ط یعنی ہم نے انہیں تورات اس لیے دی تھی کہ اس کے احکامات کو نافذ کیا جائے۔ اسی سورت کے ساتویں رکوع آیات 44 تا 50 میں اس کا مفصّل ذکر ہم پڑھ آئے ہیں کہ کس طرح انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے فیصلے تورات کے احکامات کے مطابق کرو۔ اس سے اگلا مرحلہ اس پورے نظام کے نفاذ کا تھا جو تورات نے دیا تھا۔ اسی طرح ہم پر بھی فرض ہے کہ ہم نے قرآن کے نظام کو قائم کرنا ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

111 اچھے اور برے اعمال کے اثرات دل اور فضاؤں پر میں :۔ اگرچہ یہ خطاب بظاہر اہل کتاب کو ہے جس میں یہود و عیسائی مخاطب ہیں تاہم یہ حکم عام ہے یعنی کوئی بھی امت جو کتاب اللہ پر سچے دل سے پوری دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ عمل پیرا ہوگی اس پر اوپر سے ابر رحمت برسے گا، نیچے زمین سے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوں گے۔ ارضی اور سماوی برکات نازل ہوں گی۔ آفات دور ہوں گی۔ سب کو فراخی سے رزق ملے گا۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حدود اللہ میں سے ایک حد قائم کرنے سے اتنی رحمت اور برکتیں نازل ہوتی ہیں جیسے چالیس دن بارش سے نازل ہوتی ہیں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور نیک اعمال کا ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

227 ۔ (بہ واسطہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد قرآن و شریعت اسلامی ہے (آیت) ” اقامو التورۃ والانجیل “۔ مراد ہے ان کتابوں کی عدم تحریف اور ان کے احکام پر عمل۔ واقامۃ التورۃ والانجیل العمل بمقتضا ھما وعدم تحریفھما (قرطبی) (آیت) ” وما انزل الیھم من ربھم “۔ اس کے معنی علاوہ قرآن مجید کے خود ان کے انبیاء کی دوسری کتابوں کے بھی کیے گئے ہیں۔ قیل کتب انبیاء ھم (قرطبی) من سائر کتب اللہ لانھم مکلفون الایمان بجمیعھا (مدارک) 228 ۔ یعنی اس دنیا میں آسمانی اور زمینی برکتوں سے خوب تمتع حاصل کرتے۔ فوق وتحت کے الفاظ عموم تمتع دنیوی اور زور وتاکید کے لیے ہیں۔ ذکر فوق وتحت للمبالغۃ فی ما یفتح علیھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 64–66

شان نزول : وقالت الیھودُ ید اللہ مغلولۃ، طبرانی اور ابوالشیخ نے جو شان نزول اس آیت کا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ شماس نے جو یہود کے قبیلہ قینقاع کا سردار تھا ایک دوسرے یہودی سے جس کا نام نباش بن قیس تھا ایک روز کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشائش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اسلئے کہ نعوذ باللہ، اللہ بخیل ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو انہم اقاموا التوراۃ والانجیل اور اگر وہ توریت و انجیل کو قائم رکھتے یعنی ان کے ضوابط و احکام کی پابندی رکھتے اور ان پر عمل کرتے ان میں بگاڑ نہ پیدا کرتے اور نہ ان کی کوئی آیت (وحکم) پوشیدہ رکھتے انہی احکام میں سے ایک حکم یہ بھی تھا کہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور آپ ﷺ کے جو اوصاف اللہ نے توریت میں بیان کردیئے ہیں ان کو کھول کر بیان کریں گے۔ وما انزل الیہم من ربہم اور ان کتابوں کو بھی قائم رکھتے جو اللہ نے ان کے پاس بھیجی ہیں یعنی قرآن ‘ زبور اور تمام آسمانی کتابیں چونکہ اہل کتاب سب ہی کتابوں پر ایمان لانے پر مامور تھے اس لئے گویا سب کتابیں انہی کے پاس بھیجی گئیں۔ لاکلوا من فوقہم ومن تحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–66

(65۔ 66) اور اگر یہود ونصاری قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان لے آتے اور یہودیت ونصرانیت سے توبہ کرلیتے تو ہم زمانہ یہودیت ونصرانیت کے تمام گناہ معاف کردیتے اور اگر یہ توریت وانجیل کی پوری پابندی کرتے اور اس میں مذکور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو بیان کرتے اور توریت وانجیل میں جو ان کے پروردگار نے بیان کیا ہے اس کو بیان کرتے یا یہ کہ تمام آسمانی کتب اور تمام رسولوں کا اقرار کرتے تو آسمان سے پانی بطور نعمت برستا اور پھلوں کی خوب پیداوار ہوتی۔ ان ہی اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو راہ راست پر چلنے والی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور بحیراء راہب اور اس کے ساتھی اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ : تورات و انجیل کی پابندی کرنے کا مطلب دوسرے احکام و حدود کی پابندی کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی ہے، کیونکہ دونوں کتابوں میں اس کا حکم موجود ہے۔ ”وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِم“ سے مراد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن اور آپ کی سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اہل کتاب میں سے ہو، اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اور پھر محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے تو اس کے لیے دگنا ثواب ہے۔“ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ و أھلہ : 97 ] لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭ: یعنی آسمان بابرکت بارشیں برساتا، زمین سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–66

آیت نمبر : 66۔ 67 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو ان اھل الکتب ان محل رفع میں ہے، اسی طرح آیت : ولو انھم اقاموا التورہۃ ہے۔ امنوا تصدیق کی۔ آیت : واتقوا شرک اور گناہوں سے اجتناب کیا۔ آیت : لکفرنا عنھم لام، لو کا جواب ہے۔ آیت : لکفرنا کا مطلب ہے ہم نے ڈھانپ دیا۔ یہ پہلے گزر چکا ہے تورات اور انجیل کو قائم کرنے کا مطلب ہے ان کے مقتضی کے مطابق عمل کرنا اور ان میں تحریف وتبدیلی نہ کرنا یہ مفہوم سورة بقرہ میں تفصیلا گزر چکا ہے۔ آیت : وماانزل الیھم من ربھم یعنی قرآن۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد ان کے انبیاء کی کتب ہیں (2۔ تفسیر بغوی) ۔ آیت : لا کلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم حضرت ابن عباس وغیرہ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو انھم اقاموا التورۃ والانجیل کے بارے میں فرمایا یعنی اگر وہ لوگ قائم کرتے تورات کو اور انجیل کو اور ان کے ساتھ عمل کرتے اور لفظ آیت وما انزل الیھم من ربھم یعنی محمد ﷺ پر اور جو کچھ اتارا گیا اس پر (ایمان لائے) تو لفظ آیت لا کلو امن فوقھم یعنی ہم ان پر بارش بھیجتے (اور) لفظ آیت ومن تحت ارجلھم یعنی ان کے لئے زمین سے (اتنی پیداوار) اگتی میرے رزق میں سے جو ان کو کافی ہوجاتی پھر فرمایا لفظ آیت منھم امۃ مقتصدۃ یعنی اہل کتاب میں سے (کچھ لوگ) مسلمان بھی ہیں۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ اَنَّهُمْ [ اور اگر یہ کہ وہ لوگ ] اَقَامُوا [ قائم کریں ] التَّوْرٰىةَ [ تورات کو ] وَالْاِنْجِيْلَ [ اور انجیل کو ] وَمَآ [ اور اس کو جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] مِّنْ رَّبِّهِمْ [ ان کے رب (کی طرف ) سے ] لَاَكَلُوْا [ تو وہ لوگ کھائیں گے ] مِنْ فَوْقِهِمْ [ اپنے اوپر سے ] وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭ [ اور اپنے پیروں کے نیچے سے ] مِنْهُمْ [ ان میں ] اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ [ ایک میانہ روگروہ ہے ] وَكَثِيْرٌ [ اور اکثر ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] سَاۗءَ [ برا ہے ] مَا [ وہ ، جو ] يَعْمَلُوْنَ [ وہ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ ) اور اگر وہ قائم کرتے تو رات کو اور انجیل کو اور جو کچھ ان کی طرف نازل ہوا ہے ان کے رب کی طرف سے تو ضرور کھاتے اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے) مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اگر توریت اور انجیل کے احکام پر عمل کرتے اور اب جو کچھ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اس پر عمل کرتے تو ان کو دنیا میں بھی خوب اچھی طرح نوزدیا جاتا۔ پہلی آیت میں یہ بتایا کہ ایمان لائیں گے تو جنت ہوں گے اور اس آیت میں یہ بتایا کہ اگر ایمان لاتے اور احکام الہیہ پر عمل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

ترغیب اہل کتاب بایمان برنبی آخرالزمان وذکر برکات ایمان۔ قال اللہ تعالی، ولوان اھل الکتاب آمنوا۔۔۔ الی۔۔۔ مایعملون۔ اور ہاں اگر یہ اہل کتاب جو دین اسلام کی باتوں پر اپنی بےعقلی سے تمسخر کرتے ہیں خاتم النبین پر ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے اور اپنی شرارتوں اور حرام خوری سے باز آجاتے جو ان کے حق میں تنگی رزق کا سبب بنی ہیں تو البتہ ہم ان کے پہلے گناہوں کو نیست ونابود کردیتے کیونکہ اسلام لانے سے اس سے پیشتر گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور البتہ ہم ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے اور ان کی تنگی دور ہوجاتی اور اگر یہ لوگ توریت اور انجیل کو قائم کرتے یعنی بغیر تحریف وتبدل کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

116 اقامتِ تورات و انجیل سے ان پر کماحقہ عمل کرنا مراد ہے یعنی تورات و انجیل کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اللہ کی توحید پر ایمان لائیں۔ غیر اللہ کی نذر و نیاز اور شرک فی التصرف سے احتراز کریں۔ لَاَکَلُوْا الخ یہ وسعت رزق سے کنایہ ہے یا مِنْ فَوْقِھِمْ سے بارش مراد ہے کیونکہ اسی کے ذریعے زمین انواع و اقسام رزق پیدا کرتی ہے اور مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ سے زمین کی پیداوار پھل، میوے اور غلے وغیرہ مراد ہیں۔ قال ابن عباس وغیرہ یعنی المطر والنبات وقیل المعنی لو سعنا علیم فی ارزاقھم و اکلوا متواصلاً (قرطبی ج 6 ص 241) ۔ 117 اہل کتاب سب کے سب ہی سرکش اور معان نہیں بلکہ کچھ لوگ انصاف دوست اور اعتدال پسند بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 64–66

بارگاہ الٰہی میں بےادبی یہود اور منافقین کی بہت سی بری خصلتوں کا تذکرہ گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ان کی شرارتیں ، سرکشی ، حرام خوری اور حق کی مخالفت وغیرہ کے متعلق سیر حاصل بحث ہوچکی ہے ، ان کی طرف سے اللہ کے نبیوں اور ایمان والوں کی ایذاء رسانی ان کا عام معمول ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی گستاخی اور بےادبی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقالت الیھود یداللہ مغولۃ یہودیوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بند کردیئے گئے ہیں یعنی خدا تعالیٰ اب معاذ اللہ بخیل ہوگیا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیں ہماری ضروریات مبہم نہیں پہنچاتا۔ ان کا کام یہ تھا کہ جب ذرا تنگی آتی تو اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ کرنے لگتے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ۝ 0ۭ مِنْہُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ۝ 0ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْہُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ۝ 66ۧ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–66

ترکیب : واکلہم السحت مصدر مصاف ہے مفعول کی طرف وکذاقولہ عن قولہم الاثم ما کانوا یعملون جملہ بتاویل مصدر فاعل بئس لیزیدن کا فاعل انزل الخ کثیرًا مفعول اول طغیانا وکفرا مفعول ثانی علت الخ جملہ بددعا کے لئے ولو ان شرط لکفرنا جواب ولوانہم اقاموا شرط لاکلوا جواب شرط۔ تفسیر : پہلے جملہ میں ان کے عوام پر عتاب تھا کہ وہ حرام خوری اور بےدینی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہاں ان کے علماء اور درویشوں پر تنبیہ ہوتی ہے کہ پھر یہ لوگ کیوں ان کو ایسی بری باتوں سے منع نہیں کرتے ؟ اور جب جس قوم کے علماء اور عوام کا یہ حال ہوگا تو وہ قوم کیونکر فلاح اور سعادت کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لئے نصیحتاً فرماتا ہے لبئس ما…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالاِْنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْط مِنْھُمْط اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃُٗط وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآئَ مَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 66) ” اور اگر وہ تورات اور انجیل اور اس چیز کو قائم کریں ‘ جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اتاری گئی تو وہ اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے اللہ کا رزق و فضل پائیں گے۔ ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے۔ لیکن زیادہ ان میں سے ایسے ہیں ‘ جن کے عمل بہت برے ہیں “۔ نفاذ شریعت کی برکات یعنی انھیں یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ اسلام کی آغوش میں آنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب گستاخیاں اور نافرمانیاں کرنے کی بجائے ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی جنت کی جھلک پاتے۔ اگر اہل کتاب اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے کی بجائے اس کی نازل کردہ ہدایات پر ایمان لاتے اور اجتماعی زندگی میں تورات وانجیل کا نفاذ کرتے تو دنیا و آخرت کے ثمرات سے سرفراز کیے جاتے۔ اہل کتاب کے جرائم کی وجہ سے ان میں سے کچھ لوگوں کو دنیا میں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور باقی کے درمیان ہمیشہ کے لیے حسد وبغض اور عداوت و دشمنی پیدا کردی گئی۔ اب اس کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دنگا فساد برپا کرنے کے درپے رہتے ہیں حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَاور اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے اور ان کی حدود کی پابندی کرتے اور اس میں جو رسول اللہ ﷺ کی تعریف ہے اس کو تھامتے۔ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْاور تمام منزلہ کتب کو تھامتے کیونکہ ان کو ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کا مکلف بنایا گیا تھا گویا وہ خود انہی کی طرف اتری تھیں۔ بعض نے کہا کہ ما انزل سے مراد قرآن پاک ہے لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْتو وہ پھل کھاتے اپنے سروں کے اوپر سے۔ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْکھیتیاں پائوں کے نیچے سے۔ یہ دراصل وسعت کی دلیل ہے جیسے کہتے ہیں فلان فی النعمۃ مما فوقہ الی قدمہ یعنی وہ کشائش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 65–67

آیت نمبر 67, 66, 65 تفسیر :(ولو ان اھل الکتب امنوا) محمد ﷺ پر (واتقوا) کفر سے لکفرنا عنھم سیاتھم ولاد خلنھم جنت النعیم (ولوانھم اقموا التورۃ والانجیل اور اگر وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو) یعنی ان کے احکام اور حدود کو قائم رکھتے اور ان پر عمل کرتے ( وما انزل الیھم من ربھم اور اس کو جو نازل ہو ان پر ان کے رب کی طرف سے ) یعنی قرآن اور بعض نے کہا بنی اسرائیل کی کتابیں مراد ہیں ۔ ( لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے ) بعض نے کہا کہ ان کے اوپر سے بارش مراد ہے اور ان کے نیچے سے زمین کی پیداوار مراد ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان پر بارش اتاری جاتی اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–66

(64 ۔ 66) ۔ طبرانی اور ابوالشیخ نے جو نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے شماس قبیلہ قینقاع یہود کے سرگروہ نے اور ایک یہودی جس کا نام شاس بن قیس ہے ان دونوں نے مل کر یہ کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشایش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اس لئے نعوذ باللہ من ذلک اللہ بخیل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ ایک سان ہے لیکن جب کبھی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت بخت نصر بابلی سے پھر طیطوس رومی سے پھر مجوس سے پھر اب مسلمانوں سے ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے جس سرکوبی کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–66

آیت 62 (قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 64–66

قول باری ہے وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیھم یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ان یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی بخل کی طرف نسبت کی ہے اور اس کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے ہیں کہ نعوذ باللہ اس کی عطاء اور بخشش کا منہ بند ہوگیا ۔ جس طرح یہ قول باری ہے ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسط ما کل البسط اور اپنا ہاتھ پانی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو حسن کا قول ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا ۔ ہمیں سزا دینے سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ لغت میں لفظ ید کے کئی معنی آتے ہیں ۔ ایک تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

165 اِقامت دین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ : سو اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ اقامتِ حق اور دین متین کی تعلیمات مقدسہ پر عمل پیرا ہونا باعث سرفرازی اور ذریعہ فوز و فلاح ہے۔ سو اگر تحریف و تبدیل کی بجائے یہ لوگ اس توحید کو اپناتے جس کی تعلیم ان دونوں کتابوں میں دی گئی تھی۔ اور ان بشارتوں کو بصدق دل سے قبول کرتے جو نبی آخر الزمان کے بارے میں ان میں پائی جاتی تھیں تو اس کے فوائد وثمرات سے یہ لوگ طرح طرح سے مستفید ہوتے کہ اپنے دور میں حق و ہدایت کا مصدر و ماخذ یہی دونوں کتابیں تھیں۔ اور ان میں نبی آخر الزماں کی بعثت و تشریف آوری کی پیشینگوئی تھی۔ اس طرح تورات اور انجیل کو قائم کرنے کا لازمی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–66

یہود نے اپنے ساتھ خود ظلم کیا تشریح : تشریح تو خود آیات میں ہی موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 57–66

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66: اسرار و معارف : خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ آپ ان سے پوچھئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–66

ف 7 یعنی ان پر عمل کرتے وار ان میں تحریف نہ کرتے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وما انزل الیھم سے قرآن مجید مراد ہے (ابن کثیر)8 ہر قسم کی فراوانی مراد ہے یعنی اوپر سے پانی برستا اور نیچے (زمین) سے غلہ اور میوہ پیدا ہوتا اور انہیں روزی کمانے کے سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ (قابن کثیر)9 یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ چلنے والا اس گروہ سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی (کبیر)10 یعنی بقیہ یہو دی جو ایمان نہیں لائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:66) لو انہم اقاموا۔ اگر وہ (اپنے عمل سے) قائم کرتے۔ یعنی ان پر پورا پورا عمل کرتے۔ لاکلوا۔ لام برائے تاکید ہے اکلوا۔ انہوں نے کھایا۔ وہ ضرور کھاتے ۔ وہ ضرور فراخی رزق پاتے۔ من فوقہم ومن تحت ارجلہم۔ اظہار مبالغہ کے لئے آیا ہے، یعنی ان کو اوپر سے اور نیچے سے (یعنی ہر طرف سے) رزق کی فراخی اور کثرت نصیب ہوتی۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے ولو ان اہل القری امنوا واتقوا الفتحنا علیہم برکت من السماء والارض (7:96) اور اگر ان بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے (یعنی ان کو بیشمار برکتوں سے نوازتے) مقتصدۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ اقتصاد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 64–66

آیت نمبر 64 تا 66 لغات القرآن : ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) ۔ مغلولۃ (غل) ۔ بند کیا گیا ہے۔ ، باندھ دئیے گئے) ۔ غلت (بند کر دئیے (جائیں گے) مبسوطتن (کھلے ہوئے ہیں) ۔ ینفق (وہ خرچ کرتا ہے) ۔ یزیدن (وہ ضرور بڑھائے گا) ۔ طغیان (سرکشی۔ تکبر۔ بڑائی) القینا (ہم نے ڈال دیا) ۔ البغضآء (بغض) ۔ کینہ) ۔ اوقدوا (انہوں نے بھڑکایا) ۔ الحرب (جنگ) ۔ اطفا (اس نے بجھا دیا) ۔ المفسدین (فساد کرنے والے) ۔ لکفرنا (البتہ ہم اتار دیتے) ۔ جنت النعیم (راحت بھری جنتیں) ۔ فوق (اوپر) تحت (نیچے) ۔ امۃ مقتصدۃ (سیدھی راہ پر قائم لوگ) ۔ سآء (برا کیا) ۔ یعملون (وہ کرتے ہیں) ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے اوس، خزرج اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–66

یہود کا اللہ پر اعتراض شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود بہت خوشحال اور نہایت دولت مند تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں بےادبی اور مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہوگئی۔ اس وقت نباش بن قیس یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہے۔ یعنی معاذاللہ ! وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے۔ اس کے قول پر اسے کسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے، اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ یکساں ہے۔ لیکن جب کسی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے۔ جس کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ کر ذلت اور تنگدستی ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–68

[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ [43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کو اقامت دین کے لئے دعوت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر تم صحیح معنوں میں اہل کتاب ہوجاؤ اور اپنے اعمال سے ثابت کر دو کہ تمہیں دینداری سے بہرہ وافر ملا ہے تو اللہ کی بخششوں کے دروازے کھل جائیں گے ، یعنی ایک طرف اخروی زندگی میں (آیت) ” جنت ونعیم “۔ کے مزے ہیں اور دوسری طرف دنیا میں رزق وعیش کی فراوانی ، مقصد یہ ہے کہ دیندار انسان کسی طرح بھی گھاٹے میں نہیں رہتا ، دنیا وعاقب دونوں جہان کی بشارتیں اس کے لئے مخصوص ہیں ۔ (آیت) ” وما انزل الیہم “ کی تعمیم میں قرآن اور اس کی تمام صداقتیں داخل ہیں ۔ کیونکہ اس وقت تک توریت وانجیل پر عمل نہیں ہو سکتا ، جب تک اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور اگر یہ اہل کتاب لے آتے اور تقویٰ اور پرہیز گاری کی روش اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی گزشتہ برائیاں ان سے دور کردیتے اور ان کے گناہ معاف کردیتے اور ہم ضرور ان کو چین و آرام اور عیش و عشرت کے باغوں میں داخل کرتے اور اگر یہ اہل کتاب توریت اور انجیل اور اس کتاب کی جواب ان کی ہدایت کے لئے ان کے رب کی جان بسے نازل ہوئی ہے پوری پابندی کرتے تو یقینا یہ لوگ اوپر سے بھی یعنی آسمان سے اور نیچے سے بھی یعنی زمین سے خوب رزق حاصل کرتے کچھ لوگ ان میں سے درمیانہ و یعنی سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور بہت سے ان میں ایسے ہیں جن کے کام بہت برے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کھاویں اوپر اور نیچے سے یعنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی ان میں جن باتوں پر عمل کرنے کو لکھا ہے سب پر پوراعمل کرتے اس میں تصدیق رسالت بھی آگئی اور اس سے احکام محرفہ ومنسوخہ نکل گئے کیونکہ ان کتب کا مجموعہ ان پر عمل کرنے کو نہیں بتلاتا بلکہ منع کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو بھی احکام الٰیہ کی پابندی کرے وہ انعامات الٰہی کا مستحق قرار پاتا ہے : 178: اس آیت میں اس بات کی وضاحت فرما دی گئی کہ اگر تورات ، انجیل اور ازیں بعد جو آخری کتاب قرآن کریم بھیجی گئی اس کے مطابق عمل شروع ہوجاتا تو امن بھی قائم ہوجاتا اور اس کے مطابق اعمال کرنے والے اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مستحق بھی قرار پاتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ زمین کی برکتیں بھی ان پر کھول دی جاتیں اور آسمان کی برکتوں سے بھی وہ مستفید ہوتے۔ ایسا کیوں ہوتا ؟ اس لئے کہ جس اللہ نے ان ساری کتابوں کو نازل کیا وہی اللہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب ان میں ہے سب کا منتظم ہے کتب الٰہی اگر اس کا کلام ہیں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

How are Divine Commands carried out in Full? Mentioned in verse 66 which begins with the words: وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَ‌اةَ (And if they had upheld the Torah ...), are some details of the same faith and godliness for which worldly blessings have been promised in the previous verse (65). The detail is that they should, uphold the Torah, the Injil and the Holy Qur'an revealed after them. The word used here does not refer to 'acting in accordance with these books'. Instead of that, the word placed here is ` Iqamah' which means to establish, and to make something stand upright and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

96 In the Old Testament, Leviticus (chapter 26) and Deuteronomy (chapter 28) record a sermon of Moses in which he impresses upon Israel, in great detail, the bounties and blessings of God with which they would be endowed if they obeyed His commandments, and the afflictions, scourges and devastations that would descend upon them if they disobeyed Him and rejected the Book of God. That sermon of Moses is the best explanation of this verse of the Qur'an.

Read the full tafseer →