Explained with ayahs 64–66
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
سورة الْمَآىِٕدَة 92
عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے، عطا اور بخشش سے اس کا ہاتھ رکا ہوا ہے۔ پس یہودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے۔ چونکہ صدیوں سے یہودی قوم ذلت و نکبت کی حالت میں مبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان انہیں نظر نہ آتا تھا، اس لیے بالعموم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہوگیا ہے، اس کے خزانے کا منہ بند ہے، ہمیں دینے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ربط آیات
گزشتہ آیات میں یہود کے بعض احوال کا ذکر تھا، آگے ان آیات سے بھی مزید بعض خاص حالات بیان کئے گئے ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ نباش بن قیس، اور فخاص رئیس یہود قینقاع نے حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ الفاظ بخل وغیرہ کے کہے، جس کا بیان آگے آتا ہے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی، کذا فی اللباب بروایة الطبرانی عن ابن عباس وبروایة ابی الشیخ عنہ
خلاصہ تفسیر
اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے (یعنی نعوذ باللہ بخل کرنے لگا ہے، درحقیقت) انہی کے ہاتھ بند ہیں (یعنی واقع میں خود عیب بخل میں مبتلا ہیں، اور خدا پر عیب دھرتے ہیں) اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت (الٓہی) سے دور کر دئیے گئے، (جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
تفسیر آیت 65 تا 66:۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔ وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ۭمِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ سَاۗءَ مَا يَعْمَلُوْنَ۔
وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا، سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہاں ایمان سے مراد آنحضرت ﷺ پر ایمان ہے۔ یعنی یہ اہل کتاب حسدوعناد کی اس روشن کے بجائے جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے، اگر ایمان وتقوی کی روش اختیار کرتے…
Read the full tafseer →65۔ 1 یعنی وہ ایمان، جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے، ان میں سب سے اہم محمد رسول اللہ کی رسالت پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ ان پر نازل شدہ کتابوں میں بھی ان کو اس کا حکم دیا گیا ہے۔ واتقوا اور اللہ کی معاصی سے بچتے جن میں سب سے اہم وہ شرک ہے جس میں وہ مبتلا ہیں اور وہ جحود ہے جو آخری رسول کے ساتھ وہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔
47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔
ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔
یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی…
Read the full tafseer →3 یعنی باوجود ایسے شدید جرائم اور سخت شرارتوں کے اگر اب بھی اہل کتاب اپنے رویہ سے تائب ہو کر نبی کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو دروازہ توبہ کا بند نہیں ہوا۔ حق تعالیٰ کمال فضل و رحمت سے ان کو اخروی و دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرما دیتا اس کی رحمت بڑے سے بڑے مجرم کو بھی جب وہ شرمسار اور معترف ہو کر آئے مایوس نہیں کرتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آیت 64 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ ط۔
ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کی رحمت جو ہمارے لیے تھی وہ بند ہوگئی ہے ‘ نبوت کی رحمت ہمارے لیے مختص تھی اور اب یہ دست رحمت ہماری طرف سے بند ہوگیا ہے۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو منافقین کہا کرتے تھے کہ اللہ ہم سے قرض حسنہ مانگتا ہے تو گویا اللہ فقیر ہوگیا ہے نعوذ باللہ اور ہم اغنیاء ہیں۔ جواب میں فرمایا گیا :
غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ ان کے ہاتھ بندھ گئے ہیں یا بندھ جائیں ان کے ہاتھ
وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا 7 بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآءُ ط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ…
Read the full tafseer →110 یعنی ان کی بھلائی اس بات میں تھی کہ ایسی شرارتیں اور فتنہ و فساد بپا کرنے والے کام چھوڑ کر ایمان لے آتے تو انہیں دوہرا اجر ملتا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ اہل کتاب سے جو شخص ایمان لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا مجھ پر اور قرآن پر ایمان لانے کا۔ (بخاری۔ کتاب العتق۔ باب، فضل من ادب جاریتہ و علمھا )
Read the full tafseer →226 ۔ (آیت) ” امنوا “۔ یعنی قرآن اور حامل قرآن پر ایمان لاتے۔ (آیت) ” امنوا “۔ کے مطلق رکھنے میں بعض اہل علم نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ اہل کتاب اگر محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں تو یہ تو خیر عین مقصود ہی ہے لیکن اگر پیغمبر اور اپنی ہی کتاب پر سچا اور پورا ایمان رکھیں تو ان کی ہدایت اور عبارت بھی تو بالآخر اسی ایمان مصطفوی ﷺ پر لائے گی،۔
عشق گرزیں سروگرازآں سرست عاقبت مارا بداں شہ رہبر ست۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
شان نزول : وقالت الیھودُ ید اللہ مغلولۃ، طبرانی اور ابوالشیخ نے جو شان نزول اس آیت کا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ شماس نے جو یہود کے قبیلہ قینقاع کا سردار تھا ایک دوسرے یہودی سے جس کا نام نباش بن قیس تھا ایک روز کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشائش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اسلئے کہ نعوذ باللہ، اللہ بخیل ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →ولو ان اہل الکتاب امنوا اور اگر اہل کتاب (محمد ﷺ اور قرآن پر) ایمان لے آتے۔
واتقوا اور (کفر و معاصی سے) پرہیز رکھتے۔
لکفرنا عنہم سیاتہم تو ہم ان سے ان کے گناہ ساقط کرتے ‘ یعنی گزشتہ گناہ خواہ کتنے ہی بڑے ہوتے معاف کردیتے ‘ حضرت عمرو بن عاص کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہاتھ پھیلائیے میں آپ سے بیعت کروں گا۔ حضور ﷺ نے نے ہاتھ پھیلا دیا مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا عمرو کیا بات ہے میں نے عرض کیا میں ایک شرط کرنی چاہتا ہوں ‘ فرمایا وہ کیا ہے بیان کرو میں نے عرض کیا میں یہ شرط لگانی چاہتا ہوں کہ میرے (گزشتہ) قصور معاف کردیئے جائیں ‘ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(65۔ 66) اور اگر یہود ونصاری قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان لے آتے اور یہودیت ونصرانیت سے توبہ کرلیتے تو ہم زمانہ یہودیت ونصرانیت کے تمام گناہ معاف کردیتے اور اگر یہ توریت وانجیل کی پوری پابندی کرتے اور اس میں مذکور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو بیان کرتے اور توریت وانجیل میں جو ان کے پروردگار نے بیان کیا ہے اس کو بیان کرتے یا یہ کہ تمام آسمانی کتب اور تمام رسولوں کا اقرار کرتے تو آسمان سے پانی بطور نعمت برستا اور پھلوں کی خوب پیداوار ہوتی۔
ان ہی اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو راہ راست پر چلنے والی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور بحیراء راہب اور اس کے ساتھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں دی کہ کون اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے، حالانکہ وہ مال اللہ تعالیٰ ہی کا تھا، اسی نے دیا تھا اور اسی کے دیے ہوئے میں سے انھوں نے دینا تھا، تو یہودی بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے انداز بیان اور اس کے فضل و کرم پر غور کرتے اور سمجھتے کہ اللہ ہمیں کئی گناہ بڑھا کردینے کے لیے صدقے کی ترغیب دے رہا ہے اور اسے قرض کہہ رہا ہے، کہنے لگے کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، تبھی وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ یہ یہودیوں کی انتہائی خست اور کمینگی تھی، وہی کمینگی اس آیت میں دوسرے الفاظ میں ذکر کی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت نمبر : 66۔ 67
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو ان اھل الکتب ان محل رفع میں ہے، اسی طرح آیت : ولو انھم اقاموا التورہۃ ہے۔ امنوا تصدیق کی۔ آیت : واتقوا شرک اور گناہوں سے اجتناب کیا۔ آیت : لکفرنا عنھم لام، لو کا جواب ہے۔ آیت : لکفرنا کا مطلب ہے ہم نے ڈھانپ دیا۔ یہ پہلے گزر چکا ہے تورات اور انجیل کو قائم کرنے کا مطلب ہے ان کے مقتضی کے مطابق عمل کرنا اور ان میں تحریف وتبدیلی نہ کرنا یہ مفہوم سورة بقرہ میں تفصیلا گزر چکا ہے۔ آیت : وماانزل الیھم من ربھم یعنی قرآن۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد ان کے انبیاء کی کتب ہیں (2۔ تفسیر بغوی) ۔ آیت : لا کلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم حضرت ابن عباس وغیرہ نے…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو ان اھل الکتب امنوا وتقفا کے بارے میں فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایمان لاتے اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور بچتیھ ان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مالک بن دینا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت جنت النعیم جنات نعیم سے مراد وہ جنات ہیں جو جنات الفردوس اور جنات عدن کے درمیان ہیں۔ اور ان میں ایسی لڑکیاں ہیں جن کو جنت کے گلاب کے پھولوں سے پیدا کیا گیا۔ عرض کیا ان میں کون رہے گا تو فرمایا جو لوگ کسی گناہ کا ارادہ کرتے تھے لیکن پھر…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ [ اور اگر یہ کہ ] اَهْلَ الْكِتٰبِ [ اہل کتاب ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائیں ] وَاتَّقَوْا [ اور تقوی اختیار کریں ] لَكَفَّرْنَا [ تو ہم دور کردیں گے ] عَنْهُمْ [ ان سے ] سَيِّاٰتِهِمْ [ ان کی برائیوں کو ] وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ [ اور ہم داخل کریں گے ان کو ] جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ ہمیشہ سرسبزی کے باغات میں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ) (اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتے اور انہیں ضرور نعمتوں کے باغوں میں داخل کردیتے)
اس میں اہل کتاب کو ترغیب دی ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں اور کفر سے بچیں، ایسا کریں گے تو ہم ان کے سابقہ گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور ایمان نہ لانے اور کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے آرام اور چین والی جنتوں سے محروم ہوں گے۔
اللہ کی کتاب پر عمل کرنے سے خوش عیش زندگی نصیب ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ترغیب اہل کتاب بایمان برنبی آخرالزمان وذکر برکات ایمان۔
قال اللہ تعالی، ولوان اھل الکتاب آمنوا۔۔۔ الی۔۔۔ مایعملون۔
اور ہاں اگر یہ اہل کتاب جو دین اسلام کی باتوں پر اپنی بےعقلی سے تمسخر کرتے ہیں خاتم النبین پر ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے اور اپنی شرارتوں اور حرام خوری سے باز آجاتے جو ان کے حق میں تنگی رزق کا سبب بنی ہیں تو البتہ ہم ان کے پہلے گناہوں کو نیست ونابود کردیتے کیونکہ اسلام لانے سے اس سے پیشتر گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور البتہ ہم ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے اور ان کی تنگی دور ہوجاتی اور اگر یہ لوگ توریت اور انجیل کو قائم کرتے یعنی بغیر تحریف وتبدل کے اس کی ہدایات پر عمل کرتے اور…
Read the full tafseer →115 اَلْکِتَاب جنس ہے اور تورات و انجیل دونوں کو شامل ہے اس لیے اہل کتاب سے یہاں یہود و نصاریٰ دونوں فریق مراد ہیں۔ یہاں اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے اور ساتھ ہی ایمان لانے کی صورت میں انہیں بشارت اخروی بھی سنا دی گئی ہے۔ اگلی آیت میں بشارت دنیوی مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
بارگاہ الٰہی میں بےادبی
یہود اور منافقین کی بہت سی بری خصلتوں کا تذکرہ گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ان کی شرارتیں ، سرکشی ، حرام خوری اور حق کی مخالفت وغیرہ کے متعلق سیر حاصل بحث ہوچکی ہے ، ان کی طرف سے اللہ کے نبیوں اور ایمان والوں کی ایذاء رسانی ان کا عام معمول ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی گستاخی اور بےادبی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقالت الیھود یداللہ مغولۃ یہودیوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بند کردیئے گئے ہیں یعنی خدا تعالیٰ اب معاذ اللہ بخیل ہوگیا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیں ہماری ضروریات مبہم نہیں پہنچاتا۔ ان کا کام یہ تھا کہ جب ذرا تنگی آتی تو اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ کرنے لگتے اور…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَـيِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰہُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ 65
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
تقوي
والتَّقْوَى جعل النّفس في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ترکیب : واکلہم السحت مصدر مصاف ہے مفعول کی طرف وکذاقولہ عن قولہم الاثم ما کانوا یعملون جملہ بتاویل مصدر فاعل بئس لیزیدن کا فاعل انزل الخ کثیرًا مفعول اول طغیانا وکفرا مفعول ثانی علت الخ جملہ بددعا کے لئے ولو ان شرط لکفرنا جواب ولوانہم اقاموا شرط لاکلوا جواب شرط۔
تفسیر : پہلے جملہ میں ان کے عوام پر عتاب تھا کہ وہ حرام خوری اور بےدینی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہاں ان کے علماء اور درویشوں پر تنبیہ ہوتی ہے کہ پھر یہ لوگ کیوں ان کو ایسی بری باتوں سے منع نہیں کرتے ؟ اور جب جس قوم کے علماء اور عوام کا یہ حال ہوگا تو وہ قوم کیونکر فلاح اور سعادت کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لئے نصیحتاً فرماتا ہے لبئس ما…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْ لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِہِمْ وَلَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔
(المائدہ : 65)
” اور اگر اہل کتاب ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان سے ان کے گناہ جھاڑ دیں گے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کریں گے “۔
یعنی یہ اہل کتاب مسلسل اپنی نافرمانیوں اور کجرویوں کے باعث بظاہر اس قابل نہیں ہیں کہ اللہ کی رحمت سے کوئی حصہ ان کو مل سکے ‘ کیونکہ انھوں نے مسلسل اپنی کرتوتوں سے اپنے آپ کو ہر طرح کے استحقاق سے محروم کردیا ہے۔ لیکن یہ سراسر ان پر ایک عنایت ہے کہ انھیں آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ اگر یہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب گستاخیاں اور نافرمانیاں کرنے کی بجائے ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو آخرت میں ہی نہیں دنیا میں بھی جنت کی جھلک پاتے۔
اگر اہل کتاب اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرنے کی بجائے اس کی نازل کردہ ہدایات پر ایمان لاتے اور اجتماعی زندگی میں تورات وانجیل کا نفاذ کرتے تو دنیا و آخرت کے ثمرات سے سرفراز کیے جاتے۔ اہل کتاب کے جرائم کی وجہ سے ان میں سے کچھ لوگوں کو دنیا میں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور باقی کے درمیان ہمیشہ کے لیے حسد وبغض اور عداوت و دشمنی پیدا کردی گئی۔ اب اس کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں دنگا فساد برپا کرنے کے درپے رہتے ہیں حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ یہ…
Read the full tafseer →ایمان وتقویٰ سے سب گناہ دھل سکتے ہیں :
آیت 65 : وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْکِتٰبِ ٰامَنُوْٓا اگر اہل کتاب رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئیں اور جو کچھ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں۔ اس کو مان لیں باوجود ان تمام برائیوں کے جو ہم نے شمار کی ہیں۔ وَاتَّقَوْا اور اپنے ایمان کو تقویٰ سے ملاتے لَکَفَّرْنَا عَنْہُمْ سَیِّاٰتِہِمْتو ان کی برائیوں پر مواخذہ نہ کرتے وَلَاَدْ خَلْنٰہُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِاور ان کو نعمتوں والے باغات میں مسلمانوں کے ساتھ داخل کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
آیت نمبر 67, 66, 65
تفسیر :(ولو ان اھل الکتب امنوا) محمد ﷺ پر (واتقوا) کفر سے لکفرنا عنھم سیاتھم ولاد خلنھم جنت النعیم
(ولوانھم اقموا التورۃ والانجیل اور اگر وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو) یعنی ان کے احکام اور حدود کو قائم رکھتے اور ان پر عمل کرتے ( وما انزل الیھم من ربھم اور اس کو جو نازل ہو ان پر ان کے رب کی طرف سے ) یعنی قرآن اور بعض نے کہا بنی اسرائیل کی کتابیں مراد ہیں ۔ ( لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم تو کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پائوں کے نیچے سے ) بعض نے کہا کہ ان کے اوپر سے بارش مراد ہے اور ان کے نیچے سے زمین کی پیداوار مراد ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان پر بارش اتاری جاتی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(64 ۔ 66) ۔ طبرانی اور ابوالشیخ نے جو نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے شماس قبیلہ قینقاع یہود کے سرگروہ نے اور ایک یہودی جس کا نام شاس بن قیس ہے ان دونوں نے مل کر یہ کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشایش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اس لئے نعوذ باللہ من ذلک اللہ بخیل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ ایک سان ہے لیکن جب کبھی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت بخت نصر بابلی سے پھر طیطوس رومی سے پھر مجوس سے پھر اب مسلمانوں سے ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے جس سرکوبی کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
آیت 62
(قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
قول باری ہے وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیھم یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ان یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی بخل کی طرف نسبت کی ہے اور اس کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے ہیں کہ نعوذ باللہ اس کی عطاء اور بخشش کا منہ بند ہوگیا ۔ جس طرح یہ قول باری ہے ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسط ما کل البسط اور اپنا ہاتھ پانی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو حسن کا قول ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا ۔ ہمیں سزا دینے سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ لغت میں لفظ ید کے کئی معنی آتے ہیں ۔ ایک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
155 گناہوں سے روکنا علماء و مشائخ کی اہم ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیوں نہیں روکتے ان کو ان کے علماء اور ان کے مشایخ گناہ کی بات کہنے سے۔ـ یعنی ان کو ان برائیوں سے روکنا چاہئے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ فساد بڑھتا اور پھیلتا جائے گا۔ مگر افسوس کہ یہ تغافل اور یہ مرض آج امت مسلمہ کے اندر بھی موجود ہے۔ آج اس امت میں بھی ایک بڑے طبقے کی اکثریت ایسی ہے جو علماء اور مشائخ کہلانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ تبلیغِ حق کے اس فریضہ سے غافل ہے بلکہ وہ الٹا عوام میں پائی جانے والی شرکیات و بدعات اور دوسری طرح طرح کی منکرات کی پشت پناہی کرتے اور ان کے لئے شرعی جواز کے حیلے ڈھونڈتے ہیں۔ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
یہود نے اپنے ساتھ خود ظلم کیا
تشریح : تشریح تو خود آیات میں ہی موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 7 یعنی ان پر عمل کرتے وار ان میں تحریف نہ کرتے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وما انزل الیھم سے قرآن مجید مراد ہے (ابن کثیر)8 ہر قسم کی فراوانی مراد ہے یعنی اوپر سے پانی برستا اور نیچے (زمین) سے غلہ اور میوہ پیدا ہوتا اور انہیں روزی کمانے کے سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ (قابن کثیر)9 یعنی افراط وتفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ چلنے والا اس گروہ سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی (کبیر)10 یعنی بقیہ یہو دی جو ایمان نہیں لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(5:64) مغلولۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث غل مصدر (نصر) گردن سے بندھا ہوا۔ بند۔ بخیل۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ بیڑی۔ ہتھکڑی۔ پیٹ کی جلن۔ بدخلق عورت وغیرہ ۔ یہاں باندھنا اور پکڑنا کے معنی مراد ہیں۔
غلت ایدیہم ولعنوا۔ (بددعائیہ کلمات) جکڑے جائیں ان کے ہاتھ اور پھٹکارہو ان پر۔
مبسوطتن۔ اسم مفعول۔ تثنیہ مؤنث۔ مبسوطۃ مفرد۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ) کھلے ہوئے ہیں ۔ فرخ ہیں ۔ وہ بڑا کریم اور جواد ہے۔ بسیط الیدین سخی آدمی۔
ولیزیدن ۔۔ کفروا۔ لیزیدن۔ فعل بلام تاکید ونون تقلیہ۔ کثیرا منہم۔ مفعول ما انزل الیک من ربک فاعل۔ ظگیا نا وکفرا۔ خبر۔
اور جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت نمبر 64 تا 66
لغات القرآن : ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) ۔ مغلولۃ (غل) ۔ بند کیا گیا ہے۔ ، باندھ دئیے گئے) ۔ غلت (بند کر دئیے (جائیں گے) مبسوطتن (کھلے ہوئے ہیں) ۔ ینفق (وہ خرچ کرتا ہے) ۔ یزیدن (وہ ضرور بڑھائے گا) ۔ طغیان (سرکشی۔ تکبر۔ بڑائی) القینا (ہم نے ڈال دیا) ۔ البغضآء (بغض) ۔ کینہ) ۔ اوقدوا (انہوں نے بھڑکایا) ۔ الحرب (جنگ) ۔ اطفا (اس نے بجھا دیا) ۔ المفسدین (فساد کرنے والے) ۔ لکفرنا (البتہ ہم اتار دیتے) ۔ جنت النعیم (راحت بھری جنتیں) ۔ فوق (اوپر) تحت (نیچے) ۔ امۃ مقتصدۃ (سیدھی راہ پر قائم لوگ) ۔ سآء (برا کیا) ۔ یعملون (وہ کرتے ہیں) ۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے اوس، خزرج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
یہود کا اللہ پر اعتراض
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود بہت خوشحال اور نہایت دولت مند تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں بےادبی اور مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہوگئی۔ اس وقت نباش بن قیس یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہے۔ یعنی معاذاللہ ! وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے۔ اس کے قول پر اسے کسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے، اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ یکساں ہے۔ لیکن جب کسی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے۔ جس کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ کر ذلت اور تنگدستی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
[43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں :
(ف 3) (آیت) ” یداللہ مغلولۃ “۔ کنایہ ہے بخل سے یعنی یہودی جاہ وتمول کے نشے میں مخمور ہو کر مسلمانوں سے کہتے تھے تمہارا خدا تمہارے حق میں کشادہ دست نہیں ۔
فرمایا ۔ اس مذاق کا جواب یہ ہے کہ تم پر خدا کا عذاب آئے گا اور سیم وزر کے یہ انبار چھین لئے جائیں گے جن پر تمہارا قبضہ ہے اور جن کی وجہ سے تمہاری آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، ہماری جناب میں یہ گستاخی ناقابل عفو ہے یاد رکھو ‘ خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں ‘ مگر وہ مجبور نہیں کہ تمہاری مرضی و ارادے کے موافق خرچ کرے ، وہ جب چاہے گا مسلمانوں کے لئے رزق کے دروازے کھول دے گا اور تم کو تمہاری سرسبز و شاداب وادیوں سے نکال دے گا ۔
اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 1 اور جماعت یہود نے اللہ تعالیٰ کو بخل کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ہاتھ اور اس کا دست عطا بندھا ہوا ہے انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور جو بےہودہ بات انہوں نے کہی اس کی وجہ سے یہ معلون قرار پائے اور اللہ کی رحمت سے دور کئے گئے واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور اے پیغمبر جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب نازل کیا جاتا ہے وہ ان یہود میں سے بہت سوں کے لئے سرکشی اور نافرمانی کے اضافے اور زیادتی کا سبب بن جاتا ہے اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لئے عداوت ار بغض ڈال دیا ہے اور یہ جب جب بھی مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی آگ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 3۔ وجہ گستاخی کی یہ ہوئی تھی کہ پہلے یہود پر رزق کی فراغت تھی جب حضور ﷺ تشریف لائے اور وہ آپ کے ساتھ عداوت و مخالفت سے پیش آئے تو رزق کی تنگی ہوگئی اس پر بےہودہ باتیں بکنے لگے اور ہرچند کہ کہنے والے دوہی شخص تھے لیکن چونکہ اور یہود بھی اس سے مانع نہیں ہوئے بلکہ رضی رہے اس لیے اوروں کو بھی اس میں شامل فرمایا گیا۔
4۔ یعنی بڑے جواد و کریم ہیں۔
5۔ چونکہ حکیم بھی ہیں اس لیے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا اور دکھانا ہے نہ یہ کہ بخل اس کی علت ہو۔
6۔ یعنی وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔
7۔ جیسے نومسلموں کو بہکانا۔ لگائی بجھائی کرنا…
Read the full tafseer →اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ان کی خطائیں یقینا محو ہوجاتیں :
177: اہل کتاب کے دونوں ہی گروہوں نے تورات اور انجیل کی ہدایات اور انبیاء کرام کے ارشادات سے وہ فائدہ نہ اٹھایا جو ان کو اٹھانا چاہئے تھا۔ وہ حرض دنیا میں مبتلا ہو کر سب کچھ بھلا بیٹھے جس کے نتیجہ میں وہ دنیا میں بھی تنگ دستی کا شکار ہوئے اور آخرت میں بھی انہوں نے خاطر خواہ حصہ نہ پایا۔ لیکن اب بھی اگر یہ لوگ ایمان لائیں اور خدا ترسی کے طریقہ کو اختیار کرلیں تو ہم ان کی سب خطائیں معاف کردیں اور نعمتوں سے بھرے ہوئے باغات کا ان کو وارث کردیں۔ یہ اسلئے کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ من حیث القوم ہماری کسی قوم سے دشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
Sequence
Some conditions of the Jews were mentioned in the previous verses. More particular ones appear in the verses cited above, especially the ones identified with Nabbash son of Qays and Fenhas, the chief of the Jewish tribe of Qaiynuqa` who uttered words of affront with reference to Almighty Allah, the description of which follows. Thereupon, the opening verse was revealed. (As in Al-Lubab, from Sayyidna ibn ` Abbs ؓ narrated by Al-Tabarani and Abu Al-Shaykh)
Commentary
The first verse begins with the words: وَقَالَت الیَھُودُ the Jews said). It mentions what was a grave offence and an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
92. To say that someone's hands are tied, in Arabic usage, is to say that he is niggardly, that something prevents him from being generous and bountiful. Thus the Jewish observation does not mean that God's Hand is literally tied but that He is niggardly and miserly. For centuries the Jews had lived in humiliation and misery. Their past greatness had become legend, seemingly too remote ever to be restored, and so they would blasphemously lament that God had become a miser and that as the door to His treasury was now permanently locked, that He had nothing to offer them except suffering and…
Read the full tafseer →