Explained with ayahs 64–66
بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو
اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
سورة الْمَآىِٕدَة 92
عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے، عطا اور بخشش سے اس کا ہاتھ رکا ہوا ہے۔ پس یہودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے۔ چونکہ صدیوں سے یہودی قوم ذلت و نکبت کی حالت میں مبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان انہیں نظر نہ آتا تھا، اس لیے بالعموم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہوگیا ہے، اس کے خزانے کا منہ بند ہے، ہمیں دینے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ربط آیات
گزشتہ آیات میں یہود کے بعض احوال کا ذکر تھا، آگے ان آیات سے بھی مزید بعض خاص حالات بیان کئے گئے ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ نباش بن قیس، اور فخاص رئیس یہود قینقاع نے حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ الفاظ بخل وغیرہ کے کہے، جس کا بیان آگے آتا ہے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی، کذا فی اللباب بروایة الطبرانی عن ابن عباس وبروایة ابی الشیخ عنہ
خلاصہ تفسیر
اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے (یعنی نعوذ باللہ بخل کرنے لگا ہے، درحقیقت) انہی کے ہاتھ بند ہیں (یعنی واقع میں خود عیب بخل میں مبتلا ہیں، اور خدا پر عیب دھرتے ہیں) اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت (الٓہی) سے دور کر دئیے گئے، (جس کا…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ۭغُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا ۘبَلْ يَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۭ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭكُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ ۙوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا ۭوَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۔
یہود کی گستاخی شان الٰہی میں : وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ۔ اوپر دین اور شعائر دین کے ساتھ ان کے مذاق کا ذکر…
Read the full tafseer →64۔ 1 یہ وہی بات ہے جو سورة آل عمران کی آیت 181 میں کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب اور اسے اللہ کو قرض حسن دینے سے تعبیر کیا تو ان یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو فقیر ہے ' لوگوں سے قرض مانگ رہا ہے اور وہ تعبیر کے اس حسن کو نہ سمجھ سکے جو اس میں پنہاں تھا۔ یعنی سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردینا، کوئی قرض نہیں ہے۔ لیکن یہ اس کی کمال مہربانی ہے کہ وہ اس پر بھی خوب اجر عطا فرماتا ہے حتٰی کہ ایک ایک دانے کو سات سات سو دانے تک بڑاھا دیتا ہے۔ اور اسے قرض حسن سے اسی لیے تعبیر فرمایا کہ جتنا تم خرچ کرو گے، اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
46: جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کردیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا، ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی اس لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں۔
47: یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)
” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے…
Read the full tafseer →5 نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت اہل کتاب کے قلوب ان کی شرارت، کفر و طغیان، بدکاری، حرام خوری وغیرہ کی ممارست سے اس قدر مسخ ہوگئے تھے کہ بارگاہ ربوبیت میں گستاخی کرنے سے بھی ان کو کچھ باک نہ ہوتا تھا خداوند قدوس کا رتبہ ان کے یہاں ایک معمولی انسان کی حیثیت سے زیادہ نہ رہا تھا حق تعالیٰ کی جناب میں بےتکلف ایسے ہی واہی تباہی کلمات بک دیتے تھے۔ جنہیں سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ کبھی کہتے (اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاۗءُ ) 3 ۔ آل عمران :181) کبھی یہ الفاظ منہ سے نکالتے (يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ) 5 ۔ المائدہ :64) (خدا کا ہاتھ بند ہوگیا) اس سے مراد یا تو وہ ہی ہوگی جو اِنَّ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
آیت 64 وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ ط۔
ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کی رحمت جو ہمارے لیے تھی وہ بند ہوگئی ہے ‘ نبوت کی رحمت ہمارے لیے مختص تھی اور اب یہ دست رحمت ہماری طرف سے بند ہوگیا ہے۔ یا اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے جو منافقین کہا کرتے تھے کہ اللہ ہم سے قرض حسنہ مانگتا ہے تو گویا اللہ فقیر ہوگیا ہے نعوذ باللہ اور ہم اغنیاء ہیں۔ جواب میں فرمایا گیا :
غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ ان کے ہاتھ بندھ گئے ہیں یا بندھ جائیں ان کے ہاتھ
وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا 7 بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآءُ ط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ…
Read the full tafseer →105 یہود کا اللہ کو بخیل ہونے کا طعنہ دینا :۔ یہودی حرام خور بھی تھے اور سود خور بھی۔ اور سود خوری کی صفت یہ ہے کہ وہ انسان میں خود غرضی اور بخل پیدا کرتا ہے۔ اور ان میں بخل اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ جب انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے یا قرض حسنہ دینے کو کہا جاتا تو طرح طرح کے بکواس شروع کردیتے۔ پہلے سورة آل عمران کی آیت نمبر 181 میں گزر چکا ہے کہ جب ان سے قرض حسنہ دینے کو کہا گیا تو کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم غنی ہیں تبھی تو وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ جب یہود کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ کی برکات اور نوازشات بند ہوگئیں تو کہنے لگے کہ اب…
Read the full tafseer →217 ۔ یہ مسلمانون کے افلاس پر طنز و استہزاء کی راہ سے ایک فقرہ تھا، محاورہ میں اس سے مراد بخل و تنگدستی ہوتی ہے۔ غل الید وبسطھا مجاز عن البخل والجود (کشاف) غل الید وبسطھا مجاز مشھور عن البخل والجود (کبیر) ید کے یہاں لفظی معنی لینا مضحکہ خیز ہیں۔ یہ تو محض محاورۂ زبان اور ایک اسلوب بیان ہے۔ کسی کے ہاتھ بالکل کٹے ہوئے ہوں جب بھی اس کے بخل وجود کے لیے غل یدوبسط ید کا قطعا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لایقصد المتکلم بہ اثبات ید ولا غل ولا بسط (مدارک) روایتوں میں یہ قول صرف دو ہی یہودیوں سے نقل ہوا ہے، لیکن اس سے دلچسپی لینے والے اور اس کو منع نہ کرنے والے دوسرے لوگ بھی رہے، اسی لیے یہ قول منسوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
شان نزول : وقالت الیھودُ ید اللہ مغلولۃ، طبرانی اور ابوالشیخ نے جو شان نزول اس آیت کا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ شماس نے جو یہود کے قبیلہ قینقاع کا سردار تھا ایک دوسرے یہودی سے جس کا نام نباش بن قیس تھا ایک روز کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشائش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اسلئے کہ نعوذ باللہ، اللہ بخیل ہوگیا ہے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →وقالت الیہود ید اللہ مغلولۃ اور یہودیوں نے کہا اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ ‘ ضحاک اور قتادہ نے کہا کہ یہودی بڑے مال دار فراخ دست اور دولت مند تھے لیکن جب انہوں نے اللہ کی نافرمانی اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تو اللہ نے جو فراخی اور کشائش ان کو عطا فرمائی تھی تنگی سے بدل دی اس وقت انہوں نے اللہ کو بخیل کہنا شروع کردیا اور بنی قینقاع کے سردار فخاص بن عازورا نے کہا اللہ کا ہاتھ تو رزق دینے سے بندھ گیا۔ ابوالشیخ ابن حبان نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لیکن طبرانی نے حضرت ابن عباس کا بیان اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک یہودی نے جس کو نباش بن قیس کہا جاتا تھا…
Read the full tafseer →(64) اور فخاص بن عاز وراء یہودی بکتا ہے کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ خرچ کرنے سے بند ہوگیا ان ہی کے ہاتھ خیر اور نیک کام میں خرچ کرنے سے بند ہوگئے، اسی بات کی وجہ سے ان پر اللہ کی جانب سے جزیہ کی ذلت مسلط کردی گئی ،
اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ نیک و بد کو دینے کے لیے ہوئے ہیں اگر وہ اپنی حکمت کے تحت چاہتا ہے تو فراخی کے ساتھ دیتا ہے اور اگر چاہتا ہے تو تنگی کے ساتھ دیتا ہے اور آپ پر جو قرآن کریم نازل کیا جاتا ہے حق کا یہ نزول ان کافروں میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر پر جمے رہنے کا باعث ہوتا ہے۔
اور ہم نے یہود و نصاری کو قتل و غارت گری اور دشمنی میں مبتلا کردیا ہے، العیاذ باللہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُاللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے جب اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ان الفاظ میں دی کہ کون اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے، حالانکہ وہ مال اللہ تعالیٰ ہی کا تھا، اسی نے دیا تھا اور اسی کے دیے ہوئے میں سے انھوں نے دینا تھا، تو یہودی بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے انداز بیان اور اس کے فضل و کرم پر غور کرتے اور سمجھتے کہ اللہ ہمیں کئی گناہ بڑھا کردینے کے لیے صدقے کی ترغیب دے رہا ہے اور اسے قرض کہہ رہا ہے، کہنے لگے کہ اللہ تو فقیر ہے اور ہم غنی ہیں، تبھی وہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ یہ یہودیوں کی انتہائی خست اور کمینگی تھی، وہی کمینگی اس آیت میں دوسرے الفاظ میں ذکر کی گئی ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 64۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقالت الیھود یدا للہ مغلولۃ “۔ عکرمہ ؓ نے کہا : یہ جملہ فخاص بن عاز وراء (لعنہ اللہ) اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا ان کے بہت سے اموال تھے جب انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کیا تو ان کا مال کم ہوگیا انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ بخیل ہے، اس کا ہاتھ ہمیں عطا کرنے سے باندھا ہوا ہے یہ آیت ان کے بعض لوگوں میں خاص ہے بعض علماء نے فرمایا : جو ایک قوم نے یہ کہا اور باقی لوگوں نے اس کا انکار نہ کیا تو وہ تمام برابر ہوگئے گویا سب نے یہ کہا (2) (تفسیر بغوی) حسن نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہمیں عذاب دینے سے روکا گیا ہے، بعض نے فرمایا : جب…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق و طبرانی نے الکبیر میں اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود میں سے ایک آدمی تھا جس کو نباش بن قیس کہا جاتا تھا اس نے کہا کہ بلاشبہ تیرا رب بخیل ہے خرچ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدھم ولعنوا بما قالوا بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشاء
(2) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ فخاص کے بارے میں نازل ہوئی جو یہودیوں کا قبیلہ قینقاع کا سردار تھا۔
(3) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ فخاص یہودی کے بارے میں…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ [ اور کہا ] الْيَھُوْدُ [ یہودیوں نے ] يَدُاللّٰهِ [ اللہ کا ہاتھ ] مَغْلُوْلَةٌ ۭ [ بندھا ہوا ہے ] غُلَّتْ [ باندھے گئے ] اَيْدِيْهِمْ [ ان کے ہاتھ ] وَلُعِنُوْا [ اور ان پر لعنت کی گئی ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] قَالُوْا ۘ [ انھوں نے کہا ] بَلْ [ بلکہ ] يَدٰهُ [ اس کے دونوں ہاتھ ] مَبْسُوْطَتٰنِ ۙ [ کھلے ہوئے ہیں ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتا ہے ] كَيْفَ [ جیسے ] يَشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] وَلَيَزِيْدَنَّ [ اور لازما زیادہ کرے گا ] كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّآ [ وہ جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف سے ) ]…
Read the full tafseer →یہودیوں کی گستاخی اور سرکشی
معالم التنزیل ج 2 ص 50 حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کو بہت مال دیا تھا، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تو اللہ پاک نے جو مال و دولت دیا تھا اور بڑی مقدار میں جو پیداوار ہوتی تھی اس کو روک دیا، اس پر فخاص نامی ایک یہودی نے یہ بات کہی کہ اللہ کا ہاتھ خرچ کرنے سے بند ہوگیا، کہا تو تھا ایک ہی شخص نے لیکن دوسرے یہودیوں نے چونکہ اسے اس کلمہ سے نہیں روکا اور اس کی بات کو پسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اس میں شامل کردیا اور اس بات کو یہود کا قول قرار دیدیا۔
ان کی تردید فرماتے ہوئے اول تو یہ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →109 یہ بھی یہود پہ شکوی ہے۔ یہودیوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ اس اثناء میں انہوں نے اپنے مشرکانہ عقیدے کے تحت عم انس کی قبر پر بکری ذبح کی تاکہ بارش ہوجائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے تکوینی اسباب کے تحت بارش برسائی تو یہودی بول اٹھے کہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ بخیل ہے وہ ہمیں رزق نہیں دیتا بلکہ ہم جب فقیروں اور درویشوں کو پکارتے اور ان کی نیازیں دیتے ہیں تو وہ ہماری روزی کا انتظام کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و شرک کی وجہ سے بطور سزا ان پر روزی تنگ کردی تھی۔ اگر وہ اللہ کی کتاب پر عمل کرتے اور اس کی تعلیمات سے منہ نہ موڑتے تو اللہ تعالیٰ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
بارگاہ الٰہی میں بےادبی
یہود اور منافقین کی بہت سی بری خصلتوں کا تذکرہ گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ان کی شرارتیں ، سرکشی ، حرام خوری اور حق کی مخالفت وغیرہ کے متعلق سیر حاصل بحث ہوچکی ہے ، ان کی طرف سے اللہ کے نبیوں اور ایمان والوں کی ایذاء رسانی ان کا عام معمول ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی گستاخی اور بےادبی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقالت الیھود یداللہ مغولۃ یہودیوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بند کردیئے گئے ہیں یعنی خدا تعالیٰ اب معاذ اللہ بخیل ہوگیا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیں ہماری ضروریات مبہم نہیں پہنچاتا۔ ان کا کام یہ تھا کہ جب ذرا تنگی آتی تو اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ کرنے لگتے اور…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْيَھُوْدُ يَدُ اللہِ مَغْلُوْلَۃٌ 0ۭ غُلَّتْ اَيْدِيْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا 0ۘ بَلْ يَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ 0ۙ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاۗءُ 0ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا 0ۭ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ 0ۭ كُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللہُ 0ۙ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا 0ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ 64
هَادَ ( یہودی)
فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ترکیب : واکلہم السحت مصدر مصاف ہے مفعول کی طرف وکذاقولہ عن قولہم الاثم ما کانوا یعملون جملہ بتاویل مصدر فاعل بئس لیزیدن کا فاعل انزل الخ کثیرًا مفعول اول طغیانا وکفرا مفعول ثانی علت الخ جملہ بددعا کے لئے ولو ان شرط لکفرنا جواب ولوانہم اقاموا شرط لاکلوا جواب شرط۔
تفسیر : پہلے جملہ میں ان کے عوام پر عتاب تھا کہ وہ حرام خوری اور بےدینی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہاں ان کے علماء اور درویشوں پر تنبیہ ہوتی ہے کہ پھر یہ لوگ کیوں ان کو ایسی بری باتوں سے منع نہیں کرتے ؟ اور جب جس قوم کے علماء اور عوام کا یہ حال ہوگا تو وہ قوم کیونکر فلاح اور سعادت کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لئے نصیحتاً فرماتا ہے لبئس ما…
Read the full tafseer →وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ یَدُ اللہِ مَغْلُوْلَۃٌ ط غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا م بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوطَتٰنِ لا یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُ ط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا ط وَاَلْقَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط کُلَّمَآ اَوْ قَدُوْا نَارًا لِّلْحَرَبِ اَطْفَاَھَا اللہ ُ ط وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا ط وَ اللہ ُ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (المائدہ : 64)
” اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہاتھ ان کے بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب سے ان پر لعنت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں کے علماء کا کردار اور عوام کی اصلاح سے عدم التفات کی وجہ سے ان کے عوام پر لے درجے کے گستاخ ہوچکے ہیں۔
یہودی زبان درازی اور شقاوت قلبی کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مطلب براری کے لیے انتہائی لجاجت اور میٹھی زبان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن جونہی مطلب نکل جائے تو اپنا خبث باطن ظاہر کرنے اور دوسرے کو زیر کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ ان کی گستاخیوں کا سورة البقرۃ کی تفسیر میں قدرے ذکر ہوا ہے۔ یہ نہ صرف انبیاء کے گستاخ اور قاتل ہیں بلکہ مشکل وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ چناچہ جونہی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →بخیل کہہ کر اللہ کی توہین کا مرتکب یہودی :
آیت 64 : وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ غُلَّتْ اَیْدِیْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِروایت میں ہے کہ یہودیوں نے آپ ﷺ کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے جو ان پر وسعت کی تھی روک دی اور یہود سب سے زیادہ مالدار تھے۔ اس پر فخاص یہودی نے کہا ید اللہ مغلولۃ کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اس کی اس بات کو باقی یہود نے پسند کیا۔ اور اس کے ساتھ شرکت کی۔ غل الید و بسط الید یہ بخل و سخاوت سے مجاز ہیں جیسا دوسرے مقام پر فرمایا ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطہا کل البسط (الاسرائ۔ 29) اس سے متکلم کا مقصد ہاتھ کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 64
تفسیر : (وقالت الیھود یداللہ مغلولۃ اور یہود کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا)
یداللہ مغلولۃ کی آیت کا شان نزول
ابن عباض ؓ ، عکرمہ ، صحاک، قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کو مال کی فراوانی دی یہاں تک کہ تمام لوگوں سے زیادہ مالدار ہوگئے اور زمین سرسبز ہوگئی جب انہوں نے محمد ﷺ کے معاملہ میں اللہ کی نافرمانی کی اور رسول اللہ ﷺ کو جھٹلایا تو اللہ نے وسعت رزق کو روک لیا تو اس وقت فخاص بن عازوراء یہودی کہنے لگا کہ اللہ کے ہاتھ رزق سے بند ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کنجوش ہوگئے (نعوذباللہ) یہ بات کہی تو صرف فخاص نے کی تھی لیکن باقی یہود نے اس کو روکا نہیں تو وہ بھی اس بات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(64 ۔ 66) ۔ طبرانی اور ابوالشیخ نے جو نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے شماس قبیلہ قینقاع یہود کے سرگروہ نے اور ایک یہودی جس کا نام شاس بن قیس ہے ان دونوں نے مل کر یہ کہا کہ یہود کی طرف سے اللہ نے سخاوت اور کشایش رزق کا ہاتھ روک لیا ہے اس لئے نعوذ باللہ من ذلک اللہ بخیل ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ ایک سان ہے لیکن جب کبھی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت بخت نصر بابلی سے پھر طیطوس رومی سے پھر مجوس سے پھر اب مسلمانوں سے ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے جس سرکوبی کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
آیت 62
(قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
قول باری ہے وقالت الیھود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیھم یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ان یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کی بخل کی طرف نسبت کی ہے اور اس کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے ہیں کہ نعوذ باللہ اس کی عطاء اور بخشش کا منہ بند ہوگیا ۔ جس طرح یہ قول باری ہے ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسط ما کل البسط اور اپنا ہاتھ پانی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو حسن کا قول ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا ۔ ہمیں سزا دینے سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ لغت میں لفظ ید کے کئی معنی آتے ہیں ۔ ایک تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
155 گناہوں سے روکنا علماء و مشائخ کی اہم ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیوں نہیں روکتے ان کو ان کے علماء اور ان کے مشایخ گناہ کی بات کہنے سے۔ـ یعنی ان کو ان برائیوں سے روکنا چاہئے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ فساد بڑھتا اور پھیلتا جائے گا۔ مگر افسوس کہ یہ تغافل اور یہ مرض آج امت مسلمہ کے اندر بھی موجود ہے۔ آج اس امت میں بھی ایک بڑے طبقے کی اکثریت ایسی ہے جو علماء اور مشائخ کہلانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ تبلیغِ حق کے اس فریضہ سے غافل ہے بلکہ وہ الٹا عوام میں پائی جانے والی شرکیات و بدعات اور دوسری طرح طرح کی منکرات کی پشت پناہی کرتے اور ان کے لئے شرعی جواز کے حیلے ڈھونڈتے ہیں۔ اور اس کے…
Read the full tafseer →یہود کی گستاخی
تشریح : اس آیت میں یہود کی انتہا سے بڑھی ہوئی بدتمیزی کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اس پر انتہائی سخت غصہ اور عذاب کا ذکر ہے جو اللہ رب العزت نے ان پر کیا اور پھر فرمایا کہ ان پر عذاب قیامت تک جاری رہے گا۔ مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں یہ اپنی ہر کوشش میں ضرور ناکام رہیں گے کیونکہ فساد پھیلانے والے اللہ کی نظر میں بےحد برے اور نالائق لوگ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہودیوں کی بد اعمالیوں اور طریقوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ کس طرح یہ قوم عروج سے زوال تک پہنچی اور ذلیل و خوار ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →ف 2 جب ان پر کوئی سخت وقت آتا اور تنگدستی میں ہوتے ہیں تو اس قسم کے کفر بات بکتے جیسا کہ آج کل بعض جاہل قسم کے مسلمان اس قسم کے کلمات کہہ دیتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک یہودی نے اللہ تعالیٰ کی طرف بخل کی نسبت کی اس پر یہ آیت ناز ل ہوئی۔ (ابن جریر)3 یعنی ان کے ہاتھ تنگ ہوں اور ہو پھٹکارے جائیں، ان کے حق میں بددعا ہے۔ (ابن کثیر)4 یعنی وہ انتہائی سخی اور فیاض ہے زمین و آسمان کے تمام خرانے اس کے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور اسے دن رات کا خرچ کچھ بھی کم نہیں کرتا۔ (بخاری ومسلم وغیرہ) قرآن و حدیث سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(5:64) مغلولۃ۔ اسم مفعول ۔ واحد مؤنث غل مصدر (نصر) گردن سے بندھا ہوا۔ بند۔ بخیل۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ بیڑی۔ ہتھکڑی۔ پیٹ کی جلن۔ بدخلق عورت وغیرہ ۔ یہاں باندھنا اور پکڑنا کے معنی مراد ہیں۔
غلت ایدیہم ولعنوا۔ (بددعائیہ کلمات) جکڑے جائیں ان کے ہاتھ اور پھٹکارہو ان پر۔
مبسوطتن۔ اسم مفعول۔ تثنیہ مؤنث۔ مبسوطۃ مفرد۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ) کھلے ہوئے ہیں ۔ فرخ ہیں ۔ وہ بڑا کریم اور جواد ہے۔ بسیط الیدین سخی آدمی۔
ولیزیدن ۔۔ کفروا۔ لیزیدن۔ فعل بلام تاکید ونون تقلیہ۔ کثیرا منہم۔ مفعول ما انزل الیک من ربک فاعل۔ ظگیا نا وکفرا۔ خبر۔
اور جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت نمبر 64 تا 66
لغات القرآن : ید اللہ (اللہ کا ہاتھ) ۔ مغلولۃ (غل) ۔ بند کیا گیا ہے۔ ، باندھ دئیے گئے) ۔ غلت (بند کر دئیے (جائیں گے) مبسوطتن (کھلے ہوئے ہیں) ۔ ینفق (وہ خرچ کرتا ہے) ۔ یزیدن (وہ ضرور بڑھائے گا) ۔ طغیان (سرکشی۔ تکبر۔ بڑائی) القینا (ہم نے ڈال دیا) ۔ البغضآء (بغض) ۔ کینہ) ۔ اوقدوا (انہوں نے بھڑکایا) ۔ الحرب (جنگ) ۔ اطفا (اس نے بجھا دیا) ۔ المفسدین (فساد کرنے والے) ۔ لکفرنا (البتہ ہم اتار دیتے) ۔ جنت النعیم (راحت بھری جنتیں) ۔ فوق (اوپر) تحت (نیچے) ۔ امۃ مقتصدۃ (سیدھی راہ پر قائم لوگ) ۔ سآء (برا کیا) ۔ یعملون (وہ کرتے ہیں) ۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے اوس، خزرج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
یہود کا اللہ پر اعتراض
شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہود بہت خوشحال اور نہایت دولت مند تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں بےادبی اور مخالفت کی تو ان کی روزی کم ہوگئی۔ اس وقت نباش بن قیس یہودی نے کہا کہ اللہ کا ہاتھ بند ہے۔ یعنی معاذاللہ ! وہ رزق دینے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے۔ اس کے قول پر اسے کسی یہودی نے منع نہ کیا بلکہ راضی رہے، اسی لئے یہ سب کا مقولہ قرار دیا گیا اور یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی کریمی کی صفت ہمیشہ یکساں ہے۔ لیکن جب کسی یہود نے سرکشی کی ہے اسی وقت ان کی سرکوبی کرائی گئی ہے۔ جس کے سبب سے ان کی بادشاہت اجڑ کر ذلت اور تنگدستی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[42] ہاتھ بندھ جانا عربی محاورہ ہے جس کے معنی بخل و تنگ دستی کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی اور نہ بنی اسرائیل کے بعد کسی قوم کو برکت وسعادت مل سکتی ہے۔ اللہ کے خزانے میں تو سب کچھ ہے لیکن اس کے ہاتھ بندھ گئے ہیں۔ وہ اب کسی دوسری قوم کو برکت وسعادت نہیں دے سکتا۔ یہاں ان کی اسی بدبختی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
[43] یعنی بخل میں وہ خود مبتلا ہیں اور دنیا میں ان کا بخل ضرب المثل بن گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں :
(ف 3) (آیت) ” یداللہ مغلولۃ “۔ کنایہ ہے بخل سے یعنی یہودی جاہ وتمول کے نشے میں مخمور ہو کر مسلمانوں سے کہتے تھے تمہارا خدا تمہارے حق میں کشادہ دست نہیں ۔
فرمایا ۔ اس مذاق کا جواب یہ ہے کہ تم پر خدا کا عذاب آئے گا اور سیم وزر کے یہ انبار چھین لئے جائیں گے جن پر تمہارا قبضہ ہے اور جن کی وجہ سے تمہاری آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، ہماری جناب میں یہ گستاخی ناقابل عفو ہے یاد رکھو ‘ خدا کے ہاتھ کشادہ ہیں ‘ مگر وہ مجبور نہیں کہ تمہاری مرضی و ارادے کے موافق خرچ کرے ، وہ جب چاہے گا مسلمانوں کے لئے رزق کے دروازے کھول دے گا اور تم کو تمہاری سرسبز و شاداب وادیوں سے نکال دے گا ۔
اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 1 اور جماعت یہود نے اللہ تعالیٰ کو بخل کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا ہاتھ اور اس کا دست عطا بندھا ہوا ہے انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور جو بےہودہ بات انہوں نے کہی اس کی وجہ سے یہ معلون قرار پائے اور اللہ کی رحمت سے دور کئے گئے واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور اے پیغمبر جو مضمون آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب نازل کیا جاتا ہے وہ ان یہود میں سے بہت سوں کے لئے سرکشی اور نافرمانی کے اضافے اور زیادتی کا سبب بن جاتا ہے اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک کے لئے عداوت ار بغض ڈال دیا ہے اور یہ جب جب بھی مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی آگ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
ف 3۔ وجہ گستاخی کی یہ ہوئی تھی کہ پہلے یہود پر رزق کی فراغت تھی جب حضور ﷺ تشریف لائے اور وہ آپ کے ساتھ عداوت و مخالفت سے پیش آئے تو رزق کی تنگی ہوگئی اس پر بےہودہ باتیں بکنے لگے اور ہرچند کہ کہنے والے دوہی شخص تھے لیکن چونکہ اور یہود بھی اس سے مانع نہیں ہوئے بلکہ رضی رہے اس لیے اوروں کو بھی اس میں شامل فرمایا گیا۔
4۔ یعنی بڑے جواد و کریم ہیں۔
5۔ چونکہ حکیم بھی ہیں اس لیے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا اور دکھانا ہے نہ یہ کہ بخل اس کی علت ہو۔
6۔ یعنی وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔
7۔ جیسے نومسلموں کو بہکانا۔ لگائی بجھائی کرنا…
Read the full tafseer →یہود کی گستاخی شان خداوندی میں اور اس کا جواب الٰہی :
172: گزشتہ آیت میں بھی یہود نا مسعود کی بعض گستاخیوں کا ذکر کیا گیا اور آگے بھی مخصوص گستاخیوں کا ذکر جاری ہے جن میں سے سر فہرست یہ ہے کہ انہوں نے ایک بدترین کلمہ یہ بیان کیا کہ ” اللہ تعالیٰ تنگ دست ہوگیا۔ “ انہوں نے اس طرح کی جسارت کیوں کی ؟ قبل ازیں بتایا جا چکا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو مالی ضرورتوں کے پیش نظر آپ ﷺ نے لوگوں کو راہ الٰہی میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے وہ قرآن کریم میں کئی بار دہرائے گئے ہیں جیسے : مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
Sequence
Some conditions of the Jews were mentioned in the previous verses. More particular ones appear in the verses cited above, especially the ones identified with Nabbash son of Qays and Fenhas, the chief of the Jewish tribe of Qaiynuqa` who uttered words of affront with reference to Almighty Allah, the description of which follows. Thereupon, the opening verse was revealed. (As in Al-Lubab, from Sayyidna ibn ` Abbs ؓ narrated by Al-Tabarani and Abu Al-Shaykh)
Commentary
The first verse begins with the words: وَقَالَت الیَھُودُ the Jews said). It mentions what was a grave offence and an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
92. To say that someone's hands are tied, in Arabic usage, is to say that he is niggardly, that something prevents him from being generous and bountiful. Thus the Jewish observation does not mean that God's Hand is literally tied but that He is niggardly and miserly. For centuries the Jews had lived in humiliation and misery. Their past greatness had become legend, seemingly too remote ever to be restored, and so they would blasphemously lament that God had become a miser and that as the door to His treasury was now permanently locked, that He had nothing to offer them except suffering and…
Read the full tafseer →