Explained with ayahs 59–63
بدترین گروہ اور اس کا انجام
حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91
لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔
Read the full tafseer →اصلاح اعمال کا طریقہ
اصلاح اعمال کا سب سے زیادہ اہتمام کرنے والے حضرات صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ ہیں۔ ان حضرات نے انہی ارشادات قرآنیہ سے یہ اہم اصول اخذ کیا ہے کہ جتنے برے یا بھلے اعمال انسان کرتا ہے اصل میں ان کا اصل سرچشمہ وہ مخفی ملکات اور اخلاق ہوتے ہیں جو انسان کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے برے اعمال اور جرائم کی روک تھام کے لئے ان کی نظر انہی مخفی ملکات پر ہوتی ہے اور ان کی اصلاح کردیتے ہیں تو تمام اعمال خود بخود درست ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً کسی کے دل میں مال دنیا کی حرص کا غلبہ ہے، وہ اس کے نتیجہ میں رشوت بھی لیتا ہے سود بھی کھاتا ہے اور موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
تفسیر آیت 61 تا 63: وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ۔ وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔
یہود کا ایک مخصوص گروہ : ان آیات کے تمام مشکل الفاظ پیچھے زیر بحث آچکے ہیں۔ یہ بھی یہود ہی کا ذکر ہے لیکن یہ یہود کا وہ گروہ ہے جس کا ذکر بقرہ کی آیات 8 تا 16…
Read the full tafseer →63۔ 1 یہ علماء و مشائخ دین اور عباد و زہاد پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثریت تمہارے سامنے بدکاری اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے ایسے حالات میں تمہاری یہ خاموشی بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت ہے اور اس کے ترک پر کتنی سخت وعید (سزا) کی گئی ہے۔ احادیث میں بھی یہ مضمون وضاحت اور کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)
” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے…
Read the full tafseer →4 جب خدا کسی قوم کو تباہ کرتا ہے تو اس کی عوام گناہوں اور نافرمانیوں میں غرق ہوجاتے ہیں اور اس کے خواص یعنی درویش اور علماء گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل کا حال یہ ہی ہوا کہ لوگ عموماً دنیاوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے۔ اور جو مشائخ اور علماء کہلاتے تھے انہوں نے " امر بالمعروف ونہی عن المنکر " کا فریضہ ترک کردیا۔ کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا۔ اسی سکونت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اسی لئے امت محمدیہ علی…
Read the full tafseer →آیت 63 لَوْلاَ یَنْہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ ط
آج ہمارے ہاں بھی اکثر و بیشتر پیر اپنے مریدوں کو حرام خوری سے منع نہیں کرتے۔ انہیں اس میں سے نذرانے مل جانے چاہئیں ‘ اللہ اللہ خیر سلا۔ کہاں سے کھایا ؟ کیسے کھایا ؟ اس سے کوئی بحث نہیں۔ حالانکہ اللہ والوں کا کام تو برائی سے روکنا ہے ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینا ہے۔
Read the full tafseer →104 پہلے یہود کے عوام کے اخلاقی تنزل کی حالت بیان کی گئی۔ اب ان کے خواص یعنی علماء و مشائخ کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ ان عوام کی کرتوتوں پر خاموش رہتے ہیں اور ان پر جو نھی عن المنکر کی ذمہ داری ہے اسے پورا نہیں کرتے (شریعت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت کے لیے (دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر 104 اور 110) گویا یہود کے عوام و خواص سب ہی بہت برے کام کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →216 ۔ آیت ماقبل میں ذکر عوام یہود کا تھا۔ اس آیت میں خواص و اکابر یہود کا ہے۔ (آیت) ” لولا “۔ افلا کے معنی میں ہے۔ لولا بمعنی افلا (قرطبی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب اس کا داخلہ مستقبل پر ہوتا ہے جیسا کہ یہاں ہے، تو اس کے معنی صیغہ امر کے اور ممانعت کے پیدا ہوجاتے ہیں۔ فاذا کانت للمستقبل فھی فی معنی الامر لم لاتفعل وھی ھھنا للمستقبل یقول ھلا ینھا ولم ینھا ھم (جصاص) (آیت) ” لبئس ما کانوا یصنعون “۔ صحابہ وتابعین اور علماء سلف سے مروی ہے کہ یہ آیت قرآن مجید کی سخت ترین آیتوں میں سے ہے۔ عن ابن عباس ؓ ھی اشد ایۃ فی القران (کشاف) عن الضحاک ما فی القران ایۃ اخوف عندی منھا (کشاف) کان العلماء یقولون ما…
Read the full tafseer →لَوْلاینھٰھُم الر بّٰنیون (الآیۃ) یہ علماء اور مشائخ دین پر نکیر ہے کہ عوام کی اکثر یت تمہارے سامنے فسق و فجور اور حرام خوری کا ارتکاب کرتی ہے لیکن تم انہیں منع نہیں کرتے، ایسے حالات میں تمہارا یہ بڑا جرم ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، کتنی اہم اور ضروری چیز ہے اور اس کے ترک پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
قدرت کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت بڑا جرم ہے : ترمذی، ابو داؤد و ابن ماجہ وغیرہ میں معتبر سندوں سے جو روایتیں اس باب میں نقل ہوئی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اچھا آدمی کسی برے آدمی کو کوئی برا کام کرتے دیکھے اور قدرت کے باوجود منع نہ کرے تو اس کو…
Read the full tafseer →لولا ینہہم الربانیون والاحبار عن قولہم الاثم واکلہم السحت مشائخ اور علماء ان کو گناہ کی باتیں کہنے (یعنی جھوٹ کہنے) اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے ‘ اس آیت میں مشائخ و علماء کو سخت زجر ہے کیونکہ ان کا فرض تو یہ تھا کہ دوسروں کو برائی سے روکیں بجائے روکنے کے وہ برائی کا حکم دیتے بلکہ خود بھی کرتے تھے ‘ بعض اہل تفسیر کے نزدیک الربانیون سے علماء نصاریٰ اور احباء سے علماء یہود مراد ہیں۔
لبئس ما کانوا یصنعون یقیناً ان کی یہ بری عادت ہے۔ یَعْمَلُوْنَسے یَصْنَعُوْنَمیں زیادہ زور اور بلاغت ہے ‘ کیونکہ صنع کا معنی ہے مشاق ہوجانے اور عادی بن جانے کے بعد کسی کام کا کرنا (گویا گناہ کرنے کی ان کی…
Read the full tafseer →(63) ان کو گرجے والے ان کے علماء کفر وشرک اور رشوت و حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے، یہ ان کا درگزر کرنا بہت برا ہے۔
Read the full tafseer →لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ : یعنی جس طرح گناہ کرنا جرم ہے اسی طرح گناہ سے نہ روکنا بھی جرم ہے۔ جریر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے : ”کوئی بھی شخص جو ایسی قوم میں ہو جن میں معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہو جو اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہوں مگر اسے نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے ان پر کوئی عذاب بھیجے گا۔۔“ [ أبو داوٗد، الملاحم، باب الامر والنہی : 4339 وحسنہ الألبانی ] ان کے علماء اور مشائخ انھیں جھوٹ کہنے اور حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے، یقیناً ان کے علماء و مشائخ بھی جو کرتے چلے آئے ہیں بہت برا ہے کہ انھیں منع کرنے کے بجائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیت نمبر : 61 تا 63۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء وکم قالوا امنا “ یہ منافقین کی صفت ہے معنی ہے کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ کافر ہوتے ہوئے داخل ہوئے کافر ہوتے ہوئے خارج ہوئے (2) (المحرر الوجیز) (آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ یعنی ان کے نفاق کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں جنہوں نے کہا تھا : تم اس پر ایمان لاؤ جو ایمان والوں پر نازل کیا گیا، دن کے آغاز کے وقت جب تم مدینہ میں داخل ہوا اور دن کے آخر میں انکار کرو، جب تم گھروں کو لوٹ کر آؤ۔ (3) (تفسیر بغوی) اس پر دلیل یہود کا پہلے ذکر ہے اور بعد میں بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
نہی عن المنکر بھی علماہی کی ذمہ داری ہے
(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودی ہیں پھر فرمایا لفظ آیت لبئس ما کانوا یعملون۔ لولا ینھھم الربنیون والاحبار سے لے کر لفظ آیت لبئس ما کانو یصنعون تک یعنی وہ ایک ہی (جیسا) عمل کرتے تھے۔ پھر فرمایا اللہ نے ان کو منع نہیں کیا جیسے کہ ان لوگوں کو (منع نہیں کیا) جب انہوں نے (برے) عمل کئے۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے…
Read the full tafseer →لَوْلَا [ کیوں نہ ایسا ہوا کہ ] يَنْھٰىهُمُ [ روکتے ان کو ] الرَّبّٰنِيُّوْنَ [ اللہ والے ] وَالْاَحْبَارُ [ اور علماء ] عَنْ قَوْلِهِمُ [ ان کی بات سے ] الْاِثْمَ [ گناہ کی ] وَاَكْلِهِمُ [ اور ان کے کھانے سے ] السُّحْتَ [ ناپاک کمائی کو ] لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ [ وہ لوگ ہنر مندی کیا کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
(وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْتَ ) (آپ ان میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ گناہ کرنے میں اور ظلم و زیادتی میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں اور حرام کھانے میں خوب تیز ہیں) (لَبِءْْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (البتہ وہ کام برے ہیں جو وہ کرتے ہیں) ۔
جھوٹے درویشوں کی بد حالی
امت محمدیہ میں جو جھوٹے درویش بنے ہوئے ہیں انہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے پیری مریدی اختیار کرلی ہے۔ مال داروں میں گھل مل کر رہتے ہیں، جن سے اغراض وابستہ ہیں یا وہ حکومتوں کے ملازم ہیں، ان کے ذریعہ کام نکلتا ہے، ان کی اصلاح کی کوئی فکر نہیں، اپنی ذات کا نفع سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →108 عام علماء یہود پر شکوی کے بعد ان کے اکابر علماء اور پیشواؤں پہ شکوی فرمایا کہ ان لوگوں کو تو مذکورہ برائیوں اور ان کے انجام بد کا پورا پورا علم تھا انہوں نے ان کو ان کاموں سے کیوں نہ روکا ان کی یہ خاموشی اور حق پوشی بہت ہی بری بات۔ المراد ھھنا تخصیص الذین یقتدی بھم افناءھم ویعلمون قباحۃ ما ھم فیہ الخ (ابو السعود روح ج 6 ص 179) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ جو لوگ تمہارے دین اور شعائر اللہ کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا نشانہ بناتے ہیں تم ان کو دوست کیسے بنا سکتے ہو۔ پختہ ایمان کا حامل آدمی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ اور اگر ایمان ہی کمزور پر جائے یا بالکل ضائع ہوجائے تو پھر اغیار کے ساتھ دوستی بھی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اذن کا ذکر کیا کہ یہ لوگ دین کے اس شعار کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ کام بےعقل لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ کوئی سمجھدار آدمی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ اذان ایک اچھی چیز ہے۔ اس میں توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →لَوْلَا يَنْھٰىہُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِہِمُ السُّحْتَ 0ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 63
«لَوْلَا»
يجيء علی وجهين :
أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] .
والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن .
( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ترکیب : واکلہم السحت مصدر مصاف ہے مفعول کی طرف وکذاقولہ عن قولہم الاثم ما کانوا یعملون جملہ بتاویل مصدر فاعل بئس لیزیدن کا فاعل انزل الخ کثیرًا مفعول اول طغیانا وکفرا مفعول ثانی علت الخ جملہ بددعا کے لئے ولو ان شرط لکفرنا جواب ولوانہم اقاموا شرط لاکلوا جواب شرط۔
تفسیر : پہلے جملہ میں ان کے عوام پر عتاب تھا کہ وہ حرام خوری اور بےدینی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہاں ان کے علماء اور درویشوں پر تنبیہ ہوتی ہے کہ پھر یہ لوگ کیوں ان کو ایسی بری باتوں سے منع نہیں کرتے ؟ اور جب جس قوم کے علماء اور عوام کا یہ حال ہوگا تو وہ قوم کیونکر فلاح اور سعادت کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لئے نصیحتاً فرماتا ہے لبئس ما…
Read the full tafseer →لَوْ لاَ یَنْھٰھُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔ (المائدہ : 63)
” کیوں نہیں روکتے تھے ان کو ‘ ان کے علماء اور فقہا ‘ گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے۔ کتنی بری ہے یہ حرکت ‘ جو یہ کر رہے تھے “۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت
” ربانی “ علماء اور ” احبار “ فقہاء کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ دونوں گروہ کسی بھی قوم کی اخلاقی زندگی کے امین ہوتے ہیں۔ لیکن اس قوم کی اخلاقی تباہی اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ اس گروہ نے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چھوڑدیں۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود دنیوی محبت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کے عوام کا کردار بیان کرنے کے بعد ان کے علماء اور نام نہاد صلحاء کے گھناؤنے کردار کا تذکرہ۔
علامہ بیضاوی (رح) ” لولا “ کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر یہ الفاظ ماضی پر داخل ہوں تو اس کا معنی انتباہ (Warning) ہوتا ہے اگر یہ الفاظ مضارع پر وارد ہوں تو اس کا معنی کسی کو آمادہ اور کام پر اکسانا ہوتا ہے۔ ربی کی جمع ربیون ہے یہودی اپنے عالم کو ربی کہہ کر بلاتے ہیں اور حِبَرْ کی جمع احبار ہے جس کا معنی ہے تارک الدنیا اور درویش۔ یہ اصطلاح عام طور پر عیسائیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ربی اور احبار یہود یوں کی اصطلاحات ہیں بہرحال یہاں یہود…
Read the full tafseer →سب سے سخت آیت :
آیت 63 : لَوْلَا یہ حرف تحضیض ہے بمعنی کیوں نہیں۔ یَنْہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ
لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَاس میں علماء کی مذمت فرمائی گئی ہے۔ جبکہ پہلی آیت عام لوگوں کے لئے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ سخت آیت ہے اس لئے کہ نہی عن المنکرکے چھوڑنے والے کو منکرات کے مرتکب کے درجہ میں رکھ کر وعید سنائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
آیت نمبر 63, 62, 61, 60
تفسیر :(قل) (اے محمد (ھل انبتکم بشرمن ذلک) آپ کہہ دیجئے میں تم کو بتائوں ان میں کس کی بات بری) جو تم نے ذکر کی ہے یعنی نہوں نے جو کہا کہ اسلام سے کم کسی دین کا دنیا اور آخرت میں کم حصہ نہیں اور اسلام سے برا کوئی دین نہیں (مثوبۃ ) ان کو ثواب اور بدلہ دیاجائے گا۔ یہ منصوب ہے تفسیر کی بناء پر (عند اللہ من لعنہ اللہ اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی) یعنی وہبرا ہے جس پر اللہ نے لعنت کی (وغضب علیہ اور اس پر غضب نازل کیا) یعنی یہود ( وجعل منھم القردۃ والخنازیر اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعضوں کو سور) بندر ہفتے والے ہوئے اور سور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دستر خوان…
Read the full tafseer →عالم یہود اور نصاریٰ جب نافرمانی کی باتیں کرتے تو ان کے عالم اور واعظ اور اچھے لوگ ان کی نافرمانیوں کو دیکھ کر دبی زبان سے معمولی طور پر کبھی کچھ نصیحت کردیتے تھے اور کبھی ٹال جاتے تھے ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حکم اس آیت کا ہر امت کو شامل ہے اسی واسطے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور سلف فرمایا کرتے تھے کہ قرآن شریف میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت خوف ناک عالموں اور صلحاء کے لئے نہیں ہے 3 ؎ کیونکہ سوا ذاتی عمل کے ان سے یہ بھی پرسش ہوگی کہ انہوں نے باوجود قدرت کے برول کو راہ راست پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی ترمذی ‘ ابو داؤد اور ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں معتبر سند سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
آیت 62
(قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
اذان کا بیان
قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
155 گناہوں سے روکنا علماء و مشائخ کی اہم ذمہ داری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیوں نہیں روکتے ان کو ان کے علماء اور ان کے مشایخ گناہ کی بات کہنے سے۔ـ یعنی ان کو ان برائیوں سے روکنا چاہئے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ فساد بڑھتا اور پھیلتا جائے گا۔ مگر افسوس کہ یہ تغافل اور یہ مرض آج امت مسلمہ کے اندر بھی موجود ہے۔ آج اس امت میں بھی ایک بڑے طبقے کی اکثریت ایسی ہے جو علماء اور مشائخ کہلانے کے باوجود نہ صرف یہ کہ تبلیغِ حق کے اس فریضہ سے غافل ہے بلکہ وہ الٹا عوام میں پائی جانے والی شرکیات و بدعات اور دوسری طرح طرح کی منکرات کی پشت پناہی کرتے اور ان کے لئے شرعی جواز کے حیلے ڈھونڈتے ہیں۔ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
یہودی علماء کی فرض سے کوتاہی
تشریح : اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جب کوئی قوم برائیوں میں حد سے گزر جاتی ہے تو پھر اس قوم کے علماء اور فقہاء بھی قوم کی بےراہروی میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ خود قوم سے زیادہ عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تو فرض یا منصب ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کی راہ دکھائیں تو ان اہل کتاب کا درجہ اس قدر گرگیا ہے کہ فقہاء میں بھی وہی صفات، یعنی برائیاں پیدا ہوچکی ہیں جو اوپر بیان کی جاچکی ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا ہی زیادہ قصور ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے علماء و فقہاء کو دین کی مضبوطی اور قوم کی صحیح رہنمائی کرنے کی پوری صلاحیت عطا کرے کہ ہم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →ف 1 جنہوں نے سچ بات کہنے اور منکر ات سے روکنے سے اپنی زبانوں کو گنگ بنا لیا ہے ایسے مشا ئخ اور مولویوں کو یقینا گناہ کرنے والوں سے بھی سخت سزاملے گی (ابن جریر )
Read the full tafseer →لولا۔ اگر ماضی پر داخل ہو تو زجر و توبیخ کے لئے ہوتا ہے یعنی انہوں نے کیوں ایسا نہ کیا۔ کیوں اپنے فرض کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی کی۔ اور اگر مضارع پر داخل ہو تو کسی کام پر برانگیختہ کرنے اور اکسانے کے لئے ہوتا ہے ۔ یہاں مضارع پر داخل ہے اور مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے علماء اپنا فرض منصبی ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ (اس میں علمائے اسلام کو بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی تاکید بلیغ ہے) ۔
لولا ۔۔ السحت کیوں نہیں ربانیین اور احبار اٹھ کھڑے ہوتے اور منع کرتے لوگوں کو گناہ اور عصیان کی باتوں سے اور حرام کھانے سے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 63
لغات القرآن : لولا (کیوں نہ ہوا ؟ ) ۔ ینھاھم (انہوں نے منع کیا) ۔ الاحبار (پڑھے لکھے۔ علماء) ۔
تشریح : کوئی قوم اگر ایمان اور اخلاق سے عاری ہوکر تباہی کی طرف بھاگ رہی ہو تو اس کے بچانے کا اولین اور اہم ترین فریضہ اس کے پیران طریقت اور علماء مذہب کے سر ہے۔ مگر اہل کتاب کی بدنصیبی ہے کہ جو لوگ ان کے روحانی اور مذہبی پیشوا ہیں وہ گردو پیش کی ساری خرابیاں دیکھتے ہوئے اصلاح کے لئے میدان عمل میں نہیں آتے اور اپنے گرجا و کلیسا میں چند رسوم عبادت لئے بیٹھے ہیں بلکہ اپنے حلوے مانڈے کی خیر منا رہے ہیں۔ وہ ڈرتے ہیں اگر واقعی انہوں نے اصلاح قوم کا کام شروع کردیا تو نہ صرف مخالفوں کی تقریر…
Read the full tafseer →علماء کو وعظ و نصیحت کی ترغیب
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان پر تنبیہ فرمائی اور اس آیت کا حکم ہر امت پر ہے، اسی واسطے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور اکثر سلف فرمایا کرتے تھے کہ قرآن شریف میں اس آیت سے بڑھ کر کوئی آیت عالموں اور صلحاء کے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ سواذاتی عمل کے ان سے یہ بھی پرسش ہوگی کہ انہوں نے باوجود قدرت کے بروں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں یہودیوں کے علماء کو ڈانٹ پلائی ہے کہ یہ کم بخت کیوں قوم کو جرائم پیشگی پر آمادہ کرتے ہیں ، ان کا منصب اصلاح و رہنمائی انہیں کیوں مجبور نہیں کرتا کہ وہ میدان عمل میں کو دیں اور قوم میں تقوی وتورع کی روح پھونک دیں ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور جب یہ یہود تمہاری مجلس میں آتے ہیں تویوں کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لے آئے حالانکہ یہ کفر ہی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور کفر ہی لے کر تمہاری مجلس سے نکل جاتے ہیں اور جو نفاق یہ پوشیدہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے اور اے پیغمبر آپ ان یہود میں سے اکثر ایسے لوگوں کو ملاحظہ کرتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر گناہ اور ظلم و سرکشی اور حرام کے مال کھانے پر گرتے ہیں وہ کام جو یہ کر رہے ہیں یقینا بہت ہی برے ہیں۔ آخر اس کے مشائخ اور ان کے علماء گناہ کی بات کہنے اور حرام کا مال کھانے اور اڑانے سے ان کو کیوں نہیں روکتے۔ یہ اہل علم اور مشائخ جو چشم پوشی اور مداہنت برت رہے ہیں وہ واقعی جو کچھ کر رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ف 2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →علماء اور فقہائے یہود کو سرزنش کہ تم ان بیماروں کا علاج کیوں نہیں کرتے :
171: ” ان کے عالموں اور پیروں کو کیا ہوگیا ہے کہ انہیں جھوٹ بولنے اور حرام مال کھانے سے روکتے کیوں نہیں ؟ “ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ مذہبی پیشواؤں کی کیا ذمہ داری ہے اور یہ بھی کہ جب کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو اس کے علماء اور پیشوا اپنا کام ترک کردیتے ہیں۔ طبیب کا کام کیا ہے ؟ کہ بیماروں کی صحت یابی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے حتی کہ بیمار صحت مند ہوجائیں اور اگر طبیب مریض کی طرف توجہ ہی نہ دے تو مرض بہر حال بڑھے گا لیکن طبیب سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی ؟ ضرور ہوگی ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے علماء اور فقہائے یہود کو مخاطب…
Read the full tafseer →The Correction of Deeds
Of those who have laid the greatest emphasis on the correction of deeds, the foremost are the respected Sufis (spiritual masters) and the men of Allah. These blessed souls have deduced from these very sayings of the Qur'an the significant principle that all human deeds, good or bad, really come from ingrained habits and morals which ultimately become man's second nature. Therefore, when they wish to check, modify or dilute the recurrence of evil deeds, they keep these ingrained habits in sight. Thus, when they correct these, all deeds that issue forth start coming out…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
91. This alludes to the Jews whose history shows that they were subjected, over and over again, to the wrath and scourge of God. When they desecrated the law of the Sabbath the faces of many of them were distorted, and subsequently their degeneration reached such a low point that they took to worshipping Satan quite openly. The purpose of saying all this is to draw attention to their criminal boldness while they had sunk to the lowest level of evil, transgression and moral decadence, they vigorously opposed all those who, thanks to their faith, lived a truly pious and righteous life.
Read the full tafseer →