Al-Maaida 5:62

Al-Maaida · from ayah 62

5:62

وَتَرٰی كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ؕ— لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۟وَتَرٰى كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ يُسَارِعُوۡنَ فِى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ‌ ؕ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you see many of them hastening into sin and aggression and the devouring of [what is] unlawful. How wretched is what they have been doing.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:62

تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناه کے کاموں کی طرف اور ﻇلم وزیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وه نہایت برے کام ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان میں سے بہت سوں کو تم دیکھو گے کہ وہ گناہ، ظلم اور حرام خوری میں لپک لپک کر آگے بڑھتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ جو حرکتیں یہ کرتے ہیں وہ نہایت بری ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھیں گے جو گناہ اور ظلم اور اپنی حرام خوری میں بڑی تیزی سے کوشاں ہوتے ہیں۔ بیشک وہ جو کچھ کررہے ہیں بہت برا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ گناہ اور زیادتی اور اپنی حرام خوری میں دوڑ کر جاتے ہیں۔ یقینا برا ہے جو وہ عمل کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ گناہ اور زیادتی کے کاموں اور حرام خوری میں تگ و دو کرتے پھرتے ہیں۔ جو کام یہ کر رہے ہیں، بہت برے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی، زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔ کیا ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو گے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جا گرتے ہیں، گناہ، زیادتی، اور حرام خوری (کے کاموں) میں۔ یقینا بڑے ہی برے ہیں وہ کام، جو یہ لوگ کرتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ان میں سے بہتوں کو دیکھتے ہیں گناہ اور ظلم اور حرام کھانے پر لپکتے ہوئے کیسے برے ان لوگوں کے کرتوت ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم دیکھو گے ان میں سے اکثر کو کہ بہت بھاگ دوڑ کرتے ہیں گناہ اور ظلم و زیادتی (کے کاموں) میں اور حرام کے مال کھانے میں بہت ہی برا عمل ہے جو وہ کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ دوڑتے ہیں گناہ، ظلم اور حرام کھانے پر یہ سب بہت برے کام ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You will see many of them hastening towards sin and transgression and devouring unlawful earnings. Indeed what they do is evil.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You will see many of them rushing towards sin and aggression, and (towards) devouring what is unlawful. Evil indeed is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

You will see many of them rushing towards sin and aggression, and (towards) devouring what is unlawful. Evil indeed is what they have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you see many of them hurrying for sin and transgression, and eating illegal things. Evil indeed is that which they have been doing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thou seest many of them vying one with another in sin and transgression and their devouring of illicit gain. Verily evil is what they do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you see many of them hastening into sin and aggression and the devouring of [what is] unlawful. How wretched is what they have been doing.

— Saheeh International

You can see many of them competing with each other in sin, hostility, and in taking usury. What they had been doing is certainly evil.

— Muhammad Sarwar

And you will see many of them striving with one another to hasten in sin and exceeding the limits, and their eating of what is unlawfully acquired; certainly evil is that which they do.

— Muhammad Habib Shakir

And thou shalt see many of them hastening toward sin and transgression and their devouring of the forbidden. Vile indeed is that which they have been doing!

— Abdul Majid Daryabadi

Many of them dost thou see, racing each other in sin and rancour, and their eating of things forbidden. Evil indeed are the things that they do.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 59–63

بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–63

سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91 لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور آپ ان (یہودیوں) میں بہت آدمی ایسے دیکھتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر گناہ (یعنی جھوٹ) اور ظلم اور حرام (مال) کھانے پر گرتے ہیں واقعی ان کے یہ کام برے ہیں (یہ تو عوام کا حال تھا آگے خواص کا حال ہے کہ) ان کو مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے (باوجود علم مسئلہ و اطلاع واقعہ کے) کیوں نہیں منع کرتے، واقعی ان کی یہ عادت بری ہے۔ معارف و مسائل یہود کی اخلاقی تباہ حالی آیت مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اکثر یہود کی اخلاقی گراوٹ اور عملی بربادی کا ذکر ہے، تاکہ سننے والوں کو نصیحت ہو کہ ان افعال اور ان کے اسباب سے بچتے رہیں۔ اگرچہ عام طور پر یہودیوں کا یہی حال تھا لیکن ان میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 61–63

تفسیر آیت 61 تا 63: وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ۔ وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔ یہود کا ایک مخصوص گروہ : ان آیات کے تمام مشکل الفاظ پیچھے زیر بحث آچکے ہیں۔ یہ بھی یہود ہی کا ذکر ہے لیکن یہ یہود کا وہ گروہ ہے جس کا ذکر بقرہ کی آیات 8 تا 16…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–62

61۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے جو نبی کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی صحبت اور آپ کے واعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری سے مقصد ہدایت کا حصول نہیں، بلکہ دھوکہ اور فریب دینا ہوتا ہے، تو پھر ایسی حاضری سے فائدہ بھی کیا ہوسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–63

44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–62

(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔ یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 غالباً " اثم " سے لازمی اور " عدوان " سے متعدی گناہ مراد ہیں۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ بہت شوق اور رغبت سے ہر قسم کے گناہوں کی طرف جھپٹتے ہیں۔ خواہ ان کا اثر اپنی ذات تک محدود ہو یا دوسروں تک پہنچے۔ جن کی اخلاقی حالت ایسی زبوں ہو اور حرام خوری ان کا شیوہ ٹھہر گیا ہو ان کی برائی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے یہ تو ان کے عوام کا حال تھا آگے خواص کا بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 61–62

آیت 61 وَاِذَا جَآءُ وْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بالْکُفْرِ وَہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ط میرے نزدیک یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر سورة آل عمران آیت 72 میں آیا ہے ‘ جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہوجاؤ۔ ان کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں ‘ ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔ وہ شعوری طور پر فیصلہ کرچکے تھے کہ رہنا تو ہمیں اپنے دین پر ہے ‘ لیکن اسلام کی جو ساکھ بن گئی ہے اس کو نقصان پہنچانے کی خاطر ہم یہ دھوکہ اور سازش کرر ہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 61–62

103 انہیں یہود میں سے کچھ لوگ جب آپ کی مجلس میں آتے تو وعظ و نصیحت سن کر ہاں میں ہاں ملا دیتے اور منافقانہ طور پر اپنے اسلام لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ ان کا یہ کام بھی مسلمانوں سے مکر و فریب کرنے کے لیے ہوتا تھا۔ ایمان ایک منٹ کے لیے بھی ان کے دلوں میں داخل نہ ہوتا تھا جیسے کفر کو اپنے دلوں میں چھپائے آتے ویسے ہی کفر کو لیے ہوئے وہاں سے رخصت ہوتے تھے اور ان کی ہر چال سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مطلع فرما دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

215 ۔ ذکر یہود کا ہے۔ (آیت) ” الاثم “۔ جھوٹ کے قسم کے سارے گناہ اس میں شامل ہیں، یا وہ گناہ جو گنہگار کی ذات تک محدود ہیں۔ الاثم الکذب وقیل الاثم ما یختص بھم (کشاف) یعنی عن قول الکذب والزور (ابن جریر) (آیت) ” العدوان “۔ یہ لفظ ہر قسم کے ظلم، زیادتی اور سرکشی پر حاوی ہے۔ یا وہ گناہ جو دوسروں تک متعدی ہو، العدوان الظلم وقیل العدوان ما یتعد اھم الی غیر ھم (کشاف) (آیت) ” اکلھم السحت “۔ اس میں سود، رشوت، اور جبر یا مکر سے حاصل کی ہوئی ہر آمدنی آگئی، پرانے حکماء کی تحلیل نفس کے مطابق اثم قوت نطقیہ سے صادر ہوتا ہے، اور عدوان قوت غضبیہ سے اور اکل سحت قوت شہویہ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–62

وَاِذَا جَاءَوکُمْ ، (الآیۃ) یہ منافقین جب دعوائے اسلام کے ساتھ آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو کفر لے کر آتے ہیں اور کفر ہی لے کر واپس چلے جاتے ہیں، آپ ﷺ کی کیمیا تاثیر گفتگو بھی ان کے سنگ لاخ دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتے اسلئے کہ ان کے دل کفر و نفاق کی گندگی سے آلودہ ہوتے ہیں، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد ہدایت کا حصول نہیں بلکہ فریب اور دھوکہ ہوتا ہے، اور اللہ ان کے دلوں کے مخفی رازوں کو بخوبی جانتا ہے، آپ دیکھیں کہ ان میں سے اکثر لوگ گناہ کے کاموں اور ظلم و زیادتی کی طرف لپکتے ہیں اور حرام خوری ان کا شیوہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وتری کثیرا منہم اور ان (یہودیوں یا منافقوں) میں سے آپ بہتوں کو دیکھیں گے۔ یسارعون فی الاثم والعدوان واکلہم السحت تیزی کے ساتھ گھستے ہوئے گناہ اور ظلم اور حرام خوری میں۔ بعض علماء کے نزدیک اثم سے مراد گناہ اور عدوان سے مراد ظلم ہے (جیسا ہم نے ترجمہ کیا ہے) اور بعض علماء کے نزدیک اثم سے مراد ہے توریت کی بعض آیات کو چھپانا اور عدوان سے مراد ہے توریت میں کچھ اپنی طرف سے بڑھانا۔ حرام خوری کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لئے کیا کہ وہ رشوتیں کھا کر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے روکتے۔ تحریف توریت پر آمادہ کرتے اور اللہ پر دروغ تراشی کرتے تھے۔ یہ وصف خصوصیت کے ساتھ قابل مذمت تھا۔ لبئس ما کانوا یعملون بلاشبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) اور محمد ﷺ آپ ان یہودیوں کو دیکھتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر کفر وشرک، ظلم، لوت مار، حرام اور رشوت اور حکم خداوندی کی تبدیلی پر تبدیلی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 61–62

وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا۔۔ : اس سے یہود کے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے۔ (کبیر) وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ : یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق بہت زیادہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے۔ ورنہ اگر وہ تمہارے پاس دل میں کفر لے کر نہ آئے ہوتے تو ان پر نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مجلس کا کچھ اثر تو ضرور ہوتا اور کفر میں کچھ کمی ہوتی، مگر وہ نکلتے وقت بھی اتنا یا اس سے کچھ زیادہ ہی کفر لے کر واپس گئے، جتنا لے کر آئے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 61–63

آیت نمبر : 61 تا 63۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء وکم قالوا امنا “ یہ منافقین کی صفت ہے معنی ہے کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ کافر ہوتے ہوئے داخل ہوئے کافر ہوتے ہوئے خارج ہوئے (2) (المحرر الوجیز) (آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ یعنی ان کے نفاق کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں جنہوں نے کہا تھا : تم اس پر ایمان لاؤ جو ایمان والوں پر نازل کیا گیا، دن کے آغاز کے وقت جب تم مدینہ میں داخل ہوا اور دن کے آخر میں انکار کرو، جب تم گھروں کو لوٹ کر آؤ۔ (3) (تفسیر بغوی) اس پر دلیل یہود کا پہلے ذکر ہے اور بعد میں بھی ان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–63

نہی عن المنکر بھی علماہی کی ذمہ داری ہے (1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودی ہیں پھر فرمایا لفظ آیت لبئس ما کانوا یعملون۔ لولا ینھھم الربنیون والاحبار سے لے کر لفظ آیت لبئس ما کانو یصنعون تک یعنی وہ ایک ہی (جیسا) عمل کرتے تھے۔ پھر فرمایا اللہ نے ان کو منع نہیں کیا جیسے کہ ان لوگوں کو (منع نہیں کیا) جب انہوں نے (برے) عمل کئے۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَتَرٰى [ اور آپ دیکھیں گے ] كَثِيْرًا [ بہت سے لوگوں کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يُسَارِعُوْنَ [ کہ وہ لوگ باہم سبقت کرتے ہیں ] فِي الْاِثْمِ [ گناہ میں ] وَالْعُدْوَانِ [ اور زیادتی میں ] وَاَكْلِهِمُ [ اور اپنے کھانے میں ] السُّحْتَ ۭ [ ناپاک کمائی کو ] لَبِئْسَ [ یقینا بہت برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کیا کرتے ہیں ] آیت نمبر۔ 5: 62 تا 66 طء (س) طفوء ۔ کسی چیز کی روشنی کا ختم ہوجانا ۔ آگ کا بجھ جانا ۔ (افعال ) اطفاء ۔ روشنی کو ختم کرنا ۔ آگ بجھانا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ ق ص د (ض) قصدا ۔ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنا ۔ اقصد ۔ فعل امر ہے ۔ تومیانہ روی اختیار کر۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–63

(وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْتَ ) (آپ ان میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ گناہ کرنے میں اور ظلم و زیادتی میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں اور حرام کھانے میں خوب تیز ہیں) (لَبِءْْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (البتہ وہ کام برے ہیں جو وہ کرتے ہیں) ۔ جھوٹے درویشوں کی بد حالی امت محمدیہ میں جو جھوٹے درویش بنے ہوئے ہیں انہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے پیری مریدی اختیار کرلی ہے۔ مال داروں میں گھل مل کر رہتے ہیں، جن سے اغراض وابستہ ہیں یا وہ حکومتوں کے ملازم ہیں، ان کے ذریعہ کام نکلتا ہے، ان کی اصلاح کی کوئی فکر نہیں، اپنی ذات کا نفع سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–64

اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔ ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

107 ۔ منافقین یہود کی خباثت بیان کرنے کے بعد ان کے عام غلط کار علماء اور بد عمل درویشوں پر شکوی فرمایا کہ وہ برائی کے ہر میدان میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ وہ لوگوں کو شرک سکھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود کو توڑتے ہیں، رشوتیں لیتے ہیں اور غیر اللہ کی نیازیں کھاتے ہیں۔ اَلْاِثْمِ سے مراد شرکیہ کلمات ہیں۔ وقیل کلمۃ الشرک وھو قولھم عزیر ابن اللہ (ابو السعود ج 3 ص 612) یا اثم عام ہے اور اس سے ہر گناہ مراد ہے۔ اَلْعُدْوَانُ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا۔ السُّحْتُ یعنی رشوت اور غیر اللہ کی نذر و نیاز وہ جو کچھ کر رہے ہیں بہت برا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–63

ربط آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ جو لوگ تمہارے دین اور شعائر اللہ کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا نشانہ بناتے ہیں تم ان کو دوست کیسے بنا سکتے ہو۔ پختہ ایمان کا حامل آدمی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ اور اگر ایمان ہی کمزور پر جائے یا بالکل ضائع ہوجائے تو پھر اغیار کے ساتھ دوستی بھی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اذن کا ذکر کیا کہ یہ لوگ دین کے اس شعار کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ کام بےعقل لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ کوئی سمجھدار آدمی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ اذان ایک اچھی چیز ہے۔ اس میں توحید و رسالت کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْہُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِہِمُ السُّحْتَ۝ 0ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۝ 62 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 59–62

ترکیب : وان اکثرھم فاسقون جملہ معطوف ہے ان آمنا پر مثوبۃ تمیز ہے بشر سے من لعنہ اللّٰہ جملہ بدل ہے بشر سے وعبد اگر ماضی کا صیغہ مانا جاوے تو اس کا عطف لعنہ اللہ پر ہے ورنہ القردۃ۔ تفسیر : یہود و نصاریٰ جو اسلام کی عبادت و اذان پر ٹھٹھہ کرتے تھے اب ان سے بطور الزام کے کہا جاتا ہے کہ کیوں صاحبو ہم پر ٹھٹھا کرنے کا یہی باعث ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نبی اور اس سے پہلے انبیاء پر نازل کیا ایمان رکھتے ہیں اور تم میں سے اکثر نماز و روزہ سے غافل اور فاسق ہیں ؟ تو یہ تو کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں۔ ہاں عیب اور برائی کے قابل وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے لعنت کی اور ان کی صورتوں کو بندر اور سور کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 62) ” تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی ‘ زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔ کیا ہی برا ہے ‘ جو کچھ یہ کر رہے ہیں “۔ سابقہ آیت میں یہود کے ایمان کا ذکر گزرا ہے۔ انھیں بہت اصرار ہے کہ ہم صاحب ایمان لوگ ہیں ‘ ہمارے ایمان کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پروردگار فرماتے ہیں کہ ذرا ان کے ایمان کا حال دیکھو کہ ان میں زیادہ تر افراد چاہے وہ عام لوگ ہوں یا ان کا پڑھا لکھا طبقہ ‘ وہ پوری طرح اخلاقی اور اعتقادی برائیوں کا شکار ہیں اور صرف یہی نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–62

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اپنی طبیعتوں کی مکاری کی وجہ سے اہل کتاب گناہ، ظلم اور حرام خوری میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مغضوب لوگوں کی شکلیں تبدیل نہ بھی ہوں تو بھی برے اعمال کی وجہ سے شیطان کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کفر اور ایمان کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے ان کی اکثریت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ، زیادتی اور اکل حرام میں بڑے مستعد اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کا کردار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ جس کے متعلق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قبائح یہود : آیت 62 : وَتَرٰی کَثِیْرًا مِّنْہُمْ منہم سے مراد یہود ہیں۔ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِاثم سے مراد یہاں جھوٹ ہے۔ وَالْعُدْوَانِظلم یا گناہ جو ان کے ساتھ خاص ہو۔ عدوان وہ گناہ جو ان سے دوسروں کی طرف تجاوز کر جائے۔ المسارعۃ فی الشیٔ جلدی سے کسی چیز کو کر گزرنا۔ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ سخت حرام کو کہتے ہیں۔ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَالبتہ وہ بہت بری چیز ہے جو انہوں نے اختیار کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 60–63

آیت نمبر 63, 62, 61, 60 تفسیر :(قل) (اے محمد (ھل انبتکم بشرمن ذلک) آپ کہہ دیجئے میں تم کو بتائوں ان میں کس کی بات بری) جو تم نے ذکر کی ہے یعنی نہوں نے جو کہا کہ اسلام سے کم کسی دین کا دنیا اور آخرت میں کم حصہ نہیں اور اسلام سے برا کوئی دین نہیں (مثوبۃ ) ان کو ثواب اور بدلہ دیاجائے گا۔ یہ منصوب ہے تفسیر کی بناء پر (عند اللہ من لعنہ اللہ اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی) یعنی وہبرا ہے جس پر اللہ نے لعنت کی (وغضب علیہ اور اس پر غضب نازل کیا) یعنی یہود ( وجعل منھم القردۃ والخنازیر اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعضوں کو سور) بندر ہفتے والے ہوئے اور سور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دستر خوان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–62

(60 ۔ 62) ۔ یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر عیسیٰ بن مریم کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہو کہ سزا کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین یہ ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور چھ الہ کتاب ہو کر بت پرست کہلائے۔ باوجود مناہی کے یہود میں کے جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–66

آیت 62 (قد) یعنی اے رسول کہہ دیجیے ! (یاھل الکتب ) ” اے اہل کتاب ! “ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن وتشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن وتشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ (آیت) ” تم ہی میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ “ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 58–63

اذان کا بیان قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

154 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ سے کسی کے ظاہر و باطن کی کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو یہ لوگ چھپاتے ہیں۔ یعنی ان کے کفر و نفاق اور اہل حق سے بغض وعناد جس کی سزا اس کے یہاں سے ان کو اپنے وقت پر بہرحال ملے گی اور پوری اور بھرپور طریقے سے ملے گی۔ اس لئے معاملہ اس وحدہ لاشریک سے درست رکھنے کا ہے جس سے ان کے ظاہر و باطن کی کوئی حرکت و کیفیت بھی چھپ نہیں سکتی۔ سو لوگوں سے تو یہ اپنے باطن کو چھپا سکتے ہیں مگر اس علیم وخبیر خداوند قدوس سے کیونکر چھپا سکتے ہیں جو کہ ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 62–63

یہودی علماء کی فرض سے کوتاہی تشریح : اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ جب کوئی قوم برائیوں میں حد سے گزر جاتی ہے تو پھر اس قوم کے علماء اور فقہاء بھی قوم کی بےراہروی میں شامل ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ خود قوم سے زیادہ عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تو فرض یا منصب ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کی راہ دکھائیں تو ان اہل کتاب کا درجہ اس قدر گرگیا ہے کہ فقہاء میں بھی وہی صفات، یعنی برائیاں پیدا ہوچکی ہیں جو اوپر بیان کی جاچکی ہیں۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ علماء کا ہی زیادہ قصور ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے علماء و فقہاء کو دین کی مضبوطی اور قوم کی صحیح رہنمائی کرنے کی پوری صلاحیت عطا کرے کہ ہم اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 57–66

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66: اسرار و معارف : خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ آپ ان سے پوچھئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 اثم سے مراد وہ گناہ ہے جس کا نقصان کرنے والے کو ہوتا ہے جیسے جھوٹ، شرک کفر و بدعت اور عدون وہ گنا ہے جس سے دوسرے کو بھی نقصال پہنچتا ہے جیسے ظلم و زیادتی حق تلفی وغیرہ۔ سھت حرام مال جو بھی ناجائز ذریعے سے کما یا جائے (دیکھئے آیت 42)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:62) العدوان۔ عدا یعدوا کا مصدر ہے (باب نصر) ظلم و سترم ۔ زیادتی۔ السحت۔ حرام ۔ دیکھو 5:42 ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–62

آیت نمبر 57 تا 62 لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–62

یہود نے نبی آخر الزماں ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ دیجئے کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہوں کہ سزا کے لحاظ سے اللی کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین وہی ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور کچھ اہل کتاب ہوکر بت پرست کہلائے۔ آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہیں، اس لئے عقبیٰ میں ان کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–63

[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت میں یہودیوں کی مذہبی بےحسی اور بدعملی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ بےدریغ جھوٹ بولتے ہیں حرام کار ہیں اور حرام خوری ہیں قطعا تامل نہیں کرتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 60–62

ف 1 اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کہ اے اہل کتاب بجز اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی اور ان کتب سماویہ پر بھی ایمان لائے جو ہم سے پہلے نازل کی گئیں اور وہ کونسا ہمارا طریقہ کار ہے اور وہ کونسا ہمارا طرز عمل ہے جس کی بنا پر تم ہم سے پرخاش رکھتے ہو اور ہم پر عیب لگاتے ہو حالانکہ تم میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں اور کافرانہ طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا میں تم کو ان لوگوں کا حال بتائوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا کے اعتبار سے واقعی طور پر ان سے برے اور بدتر ہیں جن کو تم اپنی ناقص رائے اور مفروضہ خیال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–63

ف 2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کے اس مخصوص گروہ کے دعوئے ایمان کی پردہ دری : 170: اگرچہ عام طور پر یہود کا یہی حال تھا جو اوپر مذکور ہوا لیکن چونکہ ان میں کچھ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ان اوصاف کے حامل نہیں تھے اگرچہ وہ آٹے میں نمک کے برابر یا اس سے بھی کم ہوں تاہم قرآن کریم نے اس کا لحاظ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : ” کَثِیْرًا “ اور اسی طرح کچھ لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کردیا کہ ان میں سے اکثر کی حالت یہ ہے اور بہت تھوڑے ہیں جو انسانی اوصاف کے حامل ہیں ۔ پھر ظلم وتعدی اور حرام خوری دونوں اگرچہ لفظ ” اثم “ میں داخل ہیں لیکن ان دونوں قسم کے گناہوں کی تباہ کاری اور ان کی وجہ سے پورے امن و اطمینان کی بربادی واضح کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Moral Loss of Jews In the first verse (62) cited above, mentioned there is the moral depravation and self-destructive attitude of many Jews so that people who know that may take a lesson and stay away from such deeds, as well as from causes that lead to them. Though, this was generally the condition of Jews, but they also had some good people among them. It is to exclude them that the Qur'an has used the word: کَثِیرًا ` kathiran' (many). As for aggression and eating of the unlawful, these are though included under the sense of ` sin', yet they have been particularly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

91. This alludes to the Jews whose history shows that they were subjected, over and over again, to the wrath and scourge of God. When they desecrated the law of the Sabbath the faces of many of them were distorted, and subsequently their degeneration reached such a low point that they took to worshipping Satan quite openly. The purpose of saying all this is to draw attention to their criminal boldness while they had sunk to the lowest level of evil, transgression and moral decadence, they vigorously opposed all those who, thanks to their faith, lived a truly pious and righteous life.

Read the full tafseer →