Explained with ayahs 59–63
بدترین گروہ اور اس کا انجام
حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91
لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
تبلیغ و دعوت میں مخاطب کی رعایت
یہاں قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ میں جو حال ایک مثال کے انداز میں ایسے لوگوں کا بیان کیا ہے جن پر اللہ کی لعنت و غضب ہے اس کے مصداق در حقیقت خود یہی مخاطب تھے۔ مقام اس کا تھا کہ ان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا کہ تم ایسے ہو، مگر قرآن کریم نے طرز بیان بدل کر اس کو ایک مثال کی صورت دیدی۔ جس میں پیغمبرانہ دعوت کا ایک خاص اسلوب بتلایا گیا کہ عنوان بیان ایسا اختیار کرنا چاہئے جس سے مخاطب کو اشتعال پیدا نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
تفسیر آیت 61 تا 63: وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ۔ وَتَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ۔
یہود کا ایک مخصوص گروہ : ان آیات کے تمام مشکل الفاظ پیچھے زیر بحث آچکے ہیں۔ یہ بھی یہود ہی کا ذکر ہے لیکن یہ یہود کا وہ گروہ ہے جس کا ذکر بقرہ کی آیات 8 تا 16…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے جو نبی کی خدمت میں کفر کے ساتھ ہی آتے ہیں اور اسی کفر کے ساتھ واپس چلے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی صحبت اور آپ کے واعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہوتا۔ کیونکہ دل میں تو کفر چھپا ہوتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری سے مقصد ہدایت کا حصول نہیں، بلکہ دھوکہ اور فریب دینا ہوتا ہے، تو پھر ایسی حاضری سے فائدہ بھی کیا ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔
یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے…
Read the full tafseer →2 یہاں ان ہی استہزاء کرنے والوں کے بعض مخصوص افراد کا بیان ہے جو غائبانہ تو مذہب اسلام پر طعن وتشنیع کرتے اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن جب نبی کریم ﷺ یا مخلص مسلمانوں سے ملتے تو ازراہ نفاق اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے حالانکہ شروع سے آخر تک ایک منٹ کے لئے بھی انہیں اسلام سے تعلق نہیں ہوا نہ پیغمبر ﷺ کے ربانی وعظ و تذکیر کا کوئی اثر انہوں نے قبول کیا۔ کیا محض لفظ ایمان و اسلام زبان سے بول کر وہ خدا کو معاذ اللہ دھوکا دے سکتے ہیں۔ اگر اس " عالم الغیب والشہادہ " کی نسبت جو ہر قسم کے ضمائر و سرائر پر مطلع ہے۔ ان کا گمان یہ ہو کہ محض لفظی ایمان سے اسے خوش کرلیں گے تو اس سے بڑھ کر کونسی حرکت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت 61 وَاِذَا جَآءُ وْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بالْکُفْرِ وَہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ط
میرے نزدیک یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر سورة آل عمران آیت 72 میں آیا ہے ‘ جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ صبح کو ایمان لاؤ اور شام کو کافر ہوجاؤ۔ ان کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکلے ہیں ‘ ایک لمحہ کے لیے بھی انہیں ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔ وہ شعوری طور پر فیصلہ کرچکے تھے کہ رہنا تو ہمیں اپنے دین پر ہے ‘ لیکن اسلام کی جو ساکھ بن گئی ہے اس کو نقصان پہنچانے کی خاطر ہم یہ دھوکہ اور سازش کرر ہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
103 انہیں یہود میں سے کچھ لوگ جب آپ کی مجلس میں آتے تو وعظ و نصیحت سن کر ہاں میں ہاں ملا دیتے اور منافقانہ طور پر اپنے اسلام لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ ان کا یہ کام بھی مسلمانوں سے مکر و فریب کرنے کے لیے ہوتا تھا۔ ایمان ایک منٹ کے لیے بھی ان کے دلوں میں داخل نہ ہوتا تھا جیسے کفر کو اپنے دلوں میں چھپائے آتے ویسے ہی کفر کو لیے ہوئے وہاں سے رخصت ہوتے تھے اور ان کی ہر چال سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مطلع فرما دیتا تھا۔
Read the full tafseer →214 ۔ یعنی ان کے عقائد کفر ونفاق کو، ذکر منافقین کا ہے، خصوصا منافقین یہود کا، جو اپنے عقائد کفر کے باوجود اپنے کو مسلمان آبادی کے درمیان چالاکی سے ملے جلے رکھتے تھے۔ ھذہ صفۃ المنافقین (قرطبی) ای منافقوالیھود (جلالین) (آیت) ” اذا جآء وکم “۔ یعنی یہ منافقین جب مسلمانوں کی مجلسوں میں آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ (آیت) ” دخلوابالکفر “۔ یعنی تمہاری مجلس کے اندر عقائد کفر لیے ہوئے آئے (آیت) ” خرجوا بالکفر “۔ یعنی تمہاری مجلس سے باہر وہی عقائد کفر لیے ہوئے واپس ہوئے، مطلب یہ ہوا کہ انہیں مسلمانوں کی مجلس میں آنے سے نفع مطلق نہ ہوا۔ جو کفریہ عقائد لے کر آئے تھے، وہی لے کر چلے بھی گئے۔ والمعنی انھم لم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَاِذَا جَاءَوکُمْ ، (الآیۃ) یہ منافقین جب دعوائے اسلام کے ساتھ آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو کفر لے کر آتے ہیں اور کفر ہی لے کر واپس چلے جاتے ہیں، آپ ﷺ کی کیمیا تاثیر گفتگو بھی ان کے سنگ لاخ دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتے اسلئے کہ ان کے دل کفر و نفاق کی گندگی سے آلودہ ہوتے ہیں، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا مقصد ہدایت کا حصول نہیں بلکہ فریب اور دھوکہ ہوتا ہے، اور اللہ ان کے دلوں کے مخفی رازوں کو بخوبی جانتا ہے، آپ دیکھیں کہ ان میں سے اکثر لوگ گناہ کے کاموں اور ظلم و زیادتی کی طرف لپکتے ہیں اور حرام خوری ان کا شیوہ ہے۔
Read the full tafseer →واذا جآء و کم قالوا امنا اور (منافق) جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم آپ پر ایمان لے آئے (حالانکہ دلوں میں کفر کو چھپائے ہوتے ہیں)
وقد دخلوا بالکفر وہم قد خرجوا بہ باوجودیکہ کفر لے کر آئے اور کفر لے کر ہی نکلے یعنی امنا بک جھوٹ کہتے ہیں جس طرح کافر آئے تھے ویسے ہی آپ کے پاس سے گئے آپ کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں لیا۔
واللہ اعلم بما کانوا یکتمون اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپائے رکھتے ہیں ‘ اس آیت میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کی منافقوں کو دھمکی ہے۔
Read the full tafseer →(61) اور جس وقت یہ ذلیل یہودی یعنی منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کی نعت وصفت پر ایمان لاتے ہیں کیوں کہ وہ ہماری کتاب میں موجود ہے، حالانکہ وہ خفیہ طور پر کفر ہی کو لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر مجلس سے نکل جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا۔۔ : اس سے یہود کے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قرب و جوار میں رہتے تھے۔ (کبیر)
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ : یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق بہت زیادہ بغض و حسد بھرا ہوا ہے۔ ورنہ اگر وہ تمہارے پاس دل میں کفر لے کر نہ آئے ہوتے تو ان پر نبی ﷺ کی اور مسلمانوں کی مجلس کا کچھ اثر تو ضرور ہوتا اور کفر میں کچھ کمی ہوتی، مگر وہ نکلتے وقت بھی اتنا یا اس سے کچھ زیادہ ہی کفر لے کر واپس گئے، جتنا لے کر آئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
آیت نمبر : 61 تا 63۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذا جآء وکم قالوا امنا “ یہ منافقین کی صفت ہے معنی ہے کہ جو کچھ انہوں نے سنا اس سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ کافر ہوتے ہوئے داخل ہوئے کافر ہوتے ہوئے خارج ہوئے (2) (المحرر الوجیز) (آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ یعنی ان کے نفاق کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں جنہوں نے کہا تھا : تم اس پر ایمان لاؤ جو ایمان والوں پر نازل کیا گیا، دن کے آغاز کے وقت جب تم مدینہ میں داخل ہوا اور دن کے آخر میں انکار کرو، جب تم گھروں کو لوٹ کر آؤ۔ (3) (تفسیر بغوی) اس پر دلیل یہود کا پہلے ذکر ہے اور بعد میں بھی ان…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جاء وکم قالوا امنا کے بارے میں فرمایا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تھے اور ان کو بتاتے تھے کہ وہ ایمان لانے والے ہیں اور اس دین پر راضی ہونے والے ہیں جس کو آپ لے کر آئے ہیں جبکہ وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے تھے اپنی گمراہی کو اور کفر کے ساتھ داخل ہوتے تھے اور اسی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے باہر نکل جاتے تھے۔
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جاءوک قالوا امنا وقد دخلوا بالکفر وھم قد خرجوا بہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءُوْكُمْ [ وہ آتے ہیں تمہارے پاس ] قَالُوْٓا [ تو کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] وَ [ حالانکہ ] قَدْ دَّخَلُوْا [ وہ داخل ہوئے ہیں ] بِالْكُفْرِ [ کفر کے ساتھ ] وَهُمْ [ اور وہ ] قَدْ خَرَجُوْا [ نکلے ہیں ] بِهٖ ۭ [ اس کے ساتھ ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ [ وہ لوگ چھپا یا کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →منافقوں کی حالت
پھر منافقوں کا ذکر فرمایا کہ اے مسلمانو ! جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ان کا یہ کہنا جھوٹ ہوتا ہے (وَ قَدْ دَّخَلُوْا بالْکُفْرِ وَ ھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ) (وہ داخل بھی ہوئے کفر کے ساتھ اور نکلے بھی کفر کے ساتھ) نہ پہلے مومن تھے نہ تمہاری مجلس میں باایمان ہو کر بیٹھے، جیسے حالت کفر میں آئے ویسے ہی چلے گئے۔
یہ ظاہر میں ایمان والے بنتے ہیں اور دلوں کے اندر کفر چھپا رکھتے ہیں اللہ کو اس بات کو پورا پورا علم ہے جسے وہ چھپائے ہوئے ہیں۔
یہودیوں کی حرام خوری اور گناہگاری
یہودیوں میں حرام کھانے کا بہت رواج تھا اور گناہ بھی بڑھ چڑھ کر کرتے تھے ظلم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →106 جَاءُوْا کا فاعل وہی منافقین یہود ہیں جو کافروں سے دوستی رکھتے اور دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں یہاں ان کے نفاق اور خبث باطن کا بیان فرمایا، جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو دل و جان سے ایمان لا چکے ہیں۔ وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ جملہ قَالُوْا کی ضمیر سے حال ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے دلوں میں کفر لے کر آتے ہیں اس لیے ان کا دعویٰ ایمان سراسر جھوٹا ہے۔ وَ ھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بہ۔ یہ بھی قَالُوْا کے فاعل سے حال واقع ہے یعنی جب وہ آپ کی مجلس سے چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی ان کے دلوں میں وہ کفر جاگزیں ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ جو لوگ تمہارے دین اور شعائر اللہ کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا نشانہ بناتے ہیں تم ان کو دوست کیسے بنا سکتے ہو۔ پختہ ایمان کا حامل آدمی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ اور اگر ایمان ہی کمزور پر جائے یا بالکل ضائع ہوجائے تو پھر اغیار کے ساتھ دوستی بھی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اذن کا ذکر کیا کہ یہ لوگ دین کے اس شعار کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ کام بےعقل لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ کوئی سمجھدار آدمی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ اذان ایک اچھی چیز ہے۔ اس میں توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ 0ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا يَكْتُمُوْنَ 61
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
ترکیب : وان اکثرھم فاسقون جملہ معطوف ہے ان آمنا پر مثوبۃ تمیز ہے بشر سے من لعنہ اللّٰہ جملہ بدل ہے بشر سے وعبد اگر ماضی کا صیغہ مانا جاوے تو اس کا عطف لعنہ اللہ پر ہے ورنہ القردۃ۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ جو اسلام کی عبادت و اذان پر ٹھٹھہ کرتے تھے اب ان سے بطور الزام کے کہا جاتا ہے کہ کیوں صاحبو ہم پر ٹھٹھا کرنے کا یہی باعث ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نبی اور اس سے پہلے انبیاء پر نازل کیا ایمان رکھتے ہیں اور تم میں سے اکثر نماز و روزہ سے غافل اور فاسق ہیں ؟ تو یہ تو کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں۔ ہاں عیب اور برائی کے قابل وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے لعنت کی اور ان کی صورتوں کو بندر اور سور کی…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَآء ُ وْکُمْ قَالُوْآ اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ وَھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ط وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَ ۔
” اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ نکلتے ہیں اور اللہ خوب واقف ہے اس چیز سے ‘ جس کو وہ چھپا رہے ہیں “۔
اس سے پہلے یہود کی اس خباثت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی بہت ساری باتوں کا مذاق اڑاتے تھے ‘ حتیٰ کہ اذان جو شعائر اسلام میں سے ہے ‘ اس کو بھی وہ ہنسی اور کھیل سمجھتے تھے اور اس کی توہین کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اب اس آیت کریمہ میں ان کی ایک اور حرکت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اپنی طبیعتوں کی مکاری کی وجہ سے اہل کتاب گناہ، ظلم اور حرام خوری میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مغضوب لوگوں کی شکلیں تبدیل نہ بھی ہوں تو بھی برے اعمال کی وجہ سے شیطان کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کفر اور ایمان کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے ان کی اکثریت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ، زیادتی اور اکل حرام میں بڑے مستعد اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کا کردار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ جس کے متعلق…
Read the full tafseer →منافقانہ اسلام :
آیت 61 : یہ آیت یہود کے اس گروہ کے متعلق اتری جو آپ ﷺ کے پاس داخل ہوتا تومنافقت سے اسلام کا اظہار کرتا۔ وَاِذَا جَآئُ وْکُمْ قَالُوْٓا ٰامَنَّا وَقَدْدَّ خَلُوْا بِالْکُفْرِوَہُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ باحال کے لیے ہے مطلب یہ ہے وہ داخل ہوئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے اور وہ نکل کر گئے تو اس حال میں کہ وہ کافر تھے۔ تقدیر عبارت ملتبسین بالکفر ہے کہ وہ داخل ہوئے اور نکلتے ہوئے متلبس بالکفر تھے اسی لئے قد ماضی پر لایا گیا۔ تاکہ اس کو حال کے قریب کیا جاسکے۔ یہ قالوا ٰامنا سے متعلق ہے۔ کہ کہتے زبان سے وہ ہیں اور حالت ان کی یہ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَ ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
آیت نمبر 63, 62, 61, 60
تفسیر :(قل) (اے محمد (ھل انبتکم بشرمن ذلک) آپ کہہ دیجئے میں تم کو بتائوں ان میں کس کی بات بری) جو تم نے ذکر کی ہے یعنی نہوں نے جو کہا کہ اسلام سے کم کسی دین کا دنیا اور آخرت میں کم حصہ نہیں اور اسلام سے برا کوئی دین نہیں (مثوبۃ ) ان کو ثواب اور بدلہ دیاجائے گا۔ یہ منصوب ہے تفسیر کی بناء پر (عند اللہ من لعنہ اللہ اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی) یعنی وہبرا ہے جس پر اللہ نے لعنت کی (وغضب علیہ اور اس پر غضب نازل کیا) یعنی یہود ( وجعل منھم القردۃ والخنازیر اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعضوں کو سور) بندر ہفتے والے ہوئے اور سور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دستر خوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(60 ۔ 62) ۔ یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر عیسیٰ بن مریم کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہو کہ سزا کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین یہ ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور چھ الہ کتاب ہو کر بت پرست کہلائے۔ باوجود مناہی کے یہود میں کے جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
آیت 58
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
اذان کا بیان
قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
154 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ سے کسی کے ظاہر و باطن کی کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے وہ سب کچھ جو یہ لوگ چھپاتے ہیں۔ یعنی ان کے کفر و نفاق اور اہل حق سے بغض وعناد جس کی سزا اس کے یہاں سے ان کو اپنے وقت پر بہرحال ملے گی اور پوری اور بھرپور طریقے سے ملے گی۔ اس لئے معاملہ اس وحدہ لاشریک سے درست رکھنے کا ہے جس سے ان کے ظاہر و باطن کی کوئی حرکت و کیفیت بھی چھپ نہیں سکتی۔ سو لوگوں سے تو یہ اپنے باطن کو چھپا سکتے ہیں مگر اس علیم وخبیر خداوند قدوس سے کیونکر چھپا سکتے ہیں جو کہ ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتا…
Read the full tafseer →یہود کی بدخصلت
تشریح : اس آیت میں تشریح طلب کوئی بات نہیں آیت میں ہی بات کی وضاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →ف 9 یہود سے وہ منافق مراد ہیں جو مدینہ اور اس کے قریب و جوار میں رہتے تھے (رازی)10 یعنی ان کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق نہایت ہی بغض وحسد بھرا ہوا ہے ورنہ ان پر کچھ نہ کچھ اثر تو ضرور ہوتا (کبیر )
Read the full tafseer →(5:61) یکتمون (جس کو وہ چھپاتے ہیں یعنی نفاق) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
آیت نمبر 57 تا 62
لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔
تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
یہود نے نبی آخر الزماں ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ دیجئے کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہوں کہ سزا کے لحاظ سے اللی کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین وہی ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور کچھ اہل کتاب ہوکر بت پرست کہلائے۔ آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہیں، اس لئے عقبیٰ میں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) یہودویں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو حضور ﷺ کے پاس بغرض استفادہ آتے اور بظاہر ارشادات گرامی سن کر تاثر و ایمان کا اظہار بھی کرتے مگر دلوں میں بدستور کفر وخبث کا انبار پنہاں رکھتے ، اس آیت میں انہیں بدبختوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ معارف وحکم کا دریا بہتا ہوا دیکھتے ہیں ، مگر ان کے لب ہنوز تشنہ ہیں آپ ﷺ کے منہ سے سچائی اور صداقت کے پھول گرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر قلوب میں کوئی تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔
بات یہ ہے کہ نفاق کا حجاب کثیف ایمان کی روشنی میں حائل ہے ورنہ آفتاب نکلے اور تمازت محسوس نہ ہو کیسے ممکن ہے ؟
حل لغات :
مثوبۃ : جزائے خیر ، اجر ۔
القردۃ : جمعر قرد ۔ بندر ۔
خنازیر : جمع خنزیر ۔ سور ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 1 اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کہ اے اہل کتاب بجز اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی اور ان کتب سماویہ پر بھی ایمان لائے جو ہم سے پہلے نازل کی گئیں اور وہ کونسا ہمارا طریقہ کار ہے اور وہ کونسا ہمارا طرز عمل ہے جس کی بنا پر تم ہم سے پرخاش رکھتے ہو اور ہم پر عیب لگاتے ہو حالانکہ تم میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں اور کافرانہ طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا میں تم کو ان لوگوں کا حال بتائوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا کے اعتبار سے واقعی طور پر ان سے برے اور بدتر ہیں جن کو تم اپنی ناقص رائے اور مفروضہ خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ف 2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہود کا مخصوص گروہ جو ایمان کا دعویٰ کرکے کفر کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں :
169: چونکہ یہ لوگ اپنی خواہش کے بندے ہیں اسلئے ان کو اپنا مؤقف بدلتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ ان کو آپ ﷺ کے پاس فائدہ نظر آئے گا تو ایمان کا دعویٰ لے کر وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوجائیں گے اور اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کریں گے کہ گویا وہ
آپ ﷺ کے شیدائی ہیں۔ فرمایا یہ ایک مخصوص قسم کا گروہ ہے یہ جب آپ ﷺ کی مجلسوں میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مومن تو ہم بھی ہیں خدا اور اس کے رسول اور کتاب پر ایمان ہے پھر آپ لوگ ہمیں مومن تسلیم کیوں نہیں کرتے۔ یہ باتیں وہ اس ذہنی تحفظ کے ساتھ کہتے کہ اگر ہم محمد (a) اور ان کی پیش کردہ کتاب (قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
Consideration of the Addressee : A Principle of Da'wah
The condition of a people who were under the curse and wrath of Allah has been introduced through a similitude in the next verse (60) which begins with: قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم[ Should I (not) tell you...]. In fact, this condition applied to these very addressees. The occasion demanded that they should have been the ones to be directly charged with the blame. But, the Qur'an has changed the mode of direct address into the form of a similitude (to show consideration). This shows us a distinctive method of Da'wah (Call) as used by prophets,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
91. This alludes to the Jews whose history shows that they were subjected, over and over again, to the wrath and scourge of God. When they desecrated the law of the Sabbath the faces of many of them were distorted, and subsequently their degeneration reached such a low point that they took to worshipping Satan quite openly. The purpose of saying all this is to draw attention to their criminal boldness while they had sunk to the lowest level of evil, transgression and moral decadence, they vigorously opposed all those who, thanks to their faith, lived a truly pious and righteous life.
Read the full tafseer →