Explained with ayahs 59–63
بدترین گروہ اور اس کا انجام
حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91
لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
تبلیغ و دعوت میں مخاطب کی رعایت
یہاں قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ میں جو حال ایک مثال کے انداز میں ایسے لوگوں کا بیان کیا ہے جن پر اللہ کی لعنت و غضب ہے اس کے مصداق در حقیقت خود یہی مخاطب تھے۔ مقام اس کا تھا کہ ان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا کہ تم ایسے ہو، مگر قرآن کریم نے طرز بیان بدل کر اس کو ایک مثال کی صورت دیدی۔ جس میں پیغمبرانہ دعوت کا ایک خاص اسلوب بتلایا گیا کہ عنوان بیان ایسا اختیار کرنا چاہئے جس سے مخاطب کو اشتعال پیدا نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر آیت 59۔ 60:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ۔ قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۔
" نقم " کے معنی انتقام لینے، بدلہ لینے اور کسی پر غصہ نکالنے کے ہیں۔
یہود کی ژاژخائی : اوپر یہود کی جو شرارت بیان ہوئی ہے اس کے تعلق سے اب کلام کا رخ یہود کی…
Read the full tafseer →60۔ 1 یعنی تم تو (اے اہل کتاب !) ہم سے یوں ناراض ہو جب کہ ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم اللہ پر اور قرآن کریم اور اس سے قبل اتاری گئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور یا عیب ہے ؟ یعنی یہ عیب اور مذمت والی بات نہیں جیسا کہ تم نے سمجھ لیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ استشناء منقطع ہے۔ البتہ ہم تمہیں بتلاتے ہیں کہ یہ بدترین لوگ ہیں اور گمراہ ترین لوگ، جو نفرت اور مذمت کے قابل ہیں، کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کا غضب ہوا جن میں سے بعض اللہ تعالیٰ نے بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی۔ اور اس آئینے میں تم اپنا چہرا اور کردار دیکھ لو ! کہ یہ کن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 60۔
یہاں ہمیں اب یہودیون کی تاریخ کا مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اور ان پر اللہ غضب ہوا اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ‘ ان سے بندر اور خنزیر بنائے گئے اور پھر بھی ان لوگوں نے طاغوت ہی کی بندگی اختیار کی ۔
ان کے ملعون ہونے اور ان پر اللہ کا غضب آنے کے قصے ‘ قرآن کریم میں بار بار ذکر ہوئے ہیں ۔ نیز قرآن کریم میں ان کے وہ واقعات بھی مذکور ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیا گیا ۔ لیکن یہاں ان پر بندگی طاغوت کی جو فرد جرم عائد کی گئی ہے ‘ اس سورة کے مضامین کے زاویے سے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی ہم قدرے تفصیلات دیں گے کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر " ایمان باللہ " پر مستقیم ہونا اور ہر اس چیز کی جو خدا کی طرف سے کسی زمانہ میں نازل ہو سچے دل سے تصدیق کرنا ہی تمہارے زعم میں مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑی برائی ہے اور اسی وجہ سے تم ان کو مورد طعن و ملام بناتے ہو تو آؤ کہ میں تم کو ایک ایسی قوم کا پتہ بتلاؤں جو اپنی شرارت اور گندگی کی وجہ سے بدترین خلائق ہے۔ جن پر خدا کی لعنت اور غضب کا اثر آج بھی نمایاں طور پر آشکارا ہے۔ جس کے بہت سے افراد اپنی مکاری اور بےحیائی اور حرص دنیا کی سزا میں بندر اور سور بنائے جا چکے ہیں اور جس نے خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی غلامی اختیار کرلی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ بدترین خلائق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
آیت 58 وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ط۔
یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں اور تمسخر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →102 یہود جو بندر اور سور بنائے گئے :۔ یعنی تمہارے اسلاف تم سے بھی گئے گزرے تھے۔ بارہا انہوں نے اللہ کی نافرمانیاں کیں جن کی وجہ سے اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے پھر کچھ ایسے بدکردار بھی تھے جنہیں بندر اور سور بنادیا گیا تھا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے اللہ کے بجائے اللہ کی نافرمان طاقتوں کی فرمانبرداری کی اور ان کی وجہ سے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے اور کراتے رہے یعنی تمہاری اپنی بداعمالیوں کی تو حد نہیں اس پر مزید ڈھٹائی یہ کر رہے ہو کہ اگر کوئی دوسرا فریق اللہ پر ایمان لا کر سچی دینداری اور اچھے کردار ادا کرتا ہے تو ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑجاتے ہو۔
Read the full tafseer →209 ۔ (جسے تم اپنے لیے برا سمجھ رہے ہو) یعنی تم تو ہمارے طریقہ کو برا سمجھ رہے ہو، لیکن میں تمہیں اس طریقہ کا پتہ بتائے دیتا ہوں جو واقعی عند اللہ سزا وپاداش کے لحاظ سے بدترین ہے۔ (آیت) ” من ذلک “۔ یعنی ہمارے اس طریقہ سے جو تمہارے نزدیک موجب صد عیب ہے۔ ای من ذلک المنقوم (بیضاوی) ای بشرمن نقمکم علینا (قرطبی) اشارۃ الی المنقم (کبیر)
210 ۔ (ان کے اسی طریق مبغوض کے باعث) (آیت) ” لعنہ “۔ لعنت پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس کے معنی رحمت الہی سے دوری اور مہجوری کے ہوتے ہیں، (آیت) ” من عند اللہ “۔ کا مضاف محذوف ہے اور تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے بشر من اھل ذلک من لعنہ اللہ اوبشر من ذلک دین من لعنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
قل یا اھل الکتاب ھل تنقمون منا الا أن آمَنّا، (یعنی) اے اہل کتاب تم ہم سے بلاوجہ ناراض ہو جبکہ ہمارا قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اس سے پہلے اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور اور عیب کی بات ہے، البتہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ بدترین اور قابل نفرت کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ کی لعنت اور غضب ہوا جن میں سے بعض کو اللہ نے بندر اور بعض کو سور بنادیا، اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی، اس آئینہ میں تم اپنا چہرو دیکھو تم کو صاف نظر آئے گا کہ یہ کن کی تاریخ ہے ؟ اور وہ کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو ؟ یاد رہے کہ یہود کے اسلاف کو یوم…
Read the full tafseer →قل ہل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ (اے محمد ان یہودیوں سے) آپ کہہ دیں کہ کیا میں تم کو ایسا طریقہ بتاؤں جو پاداش ملنے میں اس طریقہ سے (جس کو تم معیوب اور برا سمجھتے ہو) زیادہ برا ہے۔
مثوبۃ اور عقوبت ‘ پاداش عمل اوّل اچھی پاداش کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسرا بری پاداش کے ساتھ ‘ لیکن اس جگہ بجائے عقوبت کے لفظ مثوبت کا استعمال بطور استہزاء ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے بَشِرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍان کو دردناک عذاب کی خوش خبری دے دو (عذاب کی خبر تکلیف دہ ہوتی ہے بشارت نہیں ہوتی لیکن بشارت کا استعمال بطور استہزاء کیا گیا ہے)
بغوی نے لکھا ہے کہ ایمان باللہ وبالرسول اگرچہ بری بات قطعاً نہیں ہے لیکن…
Read the full tafseer →(60) اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں محمد ﷺ ان کے جواب میں آپ ان یہودیوں سے کہیے کہ ایسا طریقہ میں تمہیں بتلاؤں جو اللہ کے یہاں سزا ملنے میں اس سے بھی زیادہ ہو وہ ان لوگوں کا طریقہ ہے، جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی اور جزیہ کا عذاب مسلط کردیا ہے۔
اور داؤد کے زمانہ میں ان کو بندر اور حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ میں اہل مائدہ کو کفران مائدہ (آسمانی دسترخوان کی ناقدری کی وجہ سے) سور اور کاہن اور شیاطین بنادیا، یا انھوں نے شیاطین بتوں اور کاہنوں کی پوجا کی ہو، یہ لوگ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی راہ حق سے دور ہوجانے کی وجہ سے بہت برے ہیں۔
Read the full tafseer →قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ : یعنی تمہارے گمان میں ہم برے ہیں، اس لیے تم ہم پر عیب لگاتے ہو اور انتقام لینے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان پہلوں کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرأت کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہوا اور ہونے والا ہے، جس کا تم ہمارے بارے میں دعویٰ کرتے ہو۔ یہ لوگ تمہارے ہی آباء و اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے، ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کر کے انھیں بندر اور خنزیر بنادیا گیا اور جو شیطان کی اطاعت میں اس حد تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت نمبر : 59 تا 60۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل یاھل الکتب ھل تنقمون منا “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہود کا ایک گروہ آیا جن میں ابو یاسر بن اخطب اور رافع بن ابی رافع بھی تھا نبی مکرم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب میں یہ آیت پڑھی : (آیت) ” امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل فی ابرھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ وما اوتی النبیون من ربھم، لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون “۔ (بقرہ) جب آپ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا تو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا : بخدا ہم کوئی ایسے دین والے نہیں…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ ” مثوبۃ “ سے مراد ہے بدلہ۔ اچھائی کا بدلہ اور برائی کا بدلہ۔ اور اس کو یوں بھی پڑھا گیا لفظ آیت بشر ثوابا
(2) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت مثوبۃ عنداللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ثواب ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
وقولہ تعالیٰ لفظ آیت وجعل منھم القردۃ والخنازیر وعبد الطاغوت
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعل منھم القردۃ والخنازیر یعنی یہودیوں میں سے مسخ کئے گئے۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابو مالک (رح) سے کہا گیا کیا مسخ ہونے سے پہلے بندر اور…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] هَلْ [ کیا ] اُنَبِّئُكُمْ [ میں خبر دوں تم لوگوں ] بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ [ اس سے زیادہ بری چیز کی ] مَثُوْبَةً [ بطور بدلے کے ] عِنْدَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے پاس ] مَنْ [ وہ لوگ ] لَّعَنَهُ [ لعنت کی جن پر ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَغَضِبَ [ اور اس نے غضب کیا ] عَلَيْهِ [ جن پر ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] مِنْهُمُ [ جن میں سے ] الْقِرَدَةَ [ بندر ] وَالْخَـنَازِيْرَ [ اور سور ] وَعَبَدَ [ اور جنھوں نے غلامی کی ] الطَّاغُوْتَ ۭ [ طاغوت کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] شَرٌّ [ سب سے زیادہ برے ہیں ] مَّكَانًا [ بلحاظ ٹھکا نے کے ] وَّاَضَلُّ [ اور سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ] عَنْ…
Read the full tafseer →اہل کتاب کی شقاوت اور ہلاکت
پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ) اے اہل کتاب تم ہم سے اس لئے ناراض ہو کہ ہم لوگ اللہ پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں یہ تو کوئی ناراضگی کی بات نہیں ہے لیکن تم اپنی حماقت و شرارت اور سرکشی کیوجہ سے اسے برا سمجھتے ہو۔
بالفرض اگر یہ اچھی چیز نہیں ہے تو میں تمہیں اس سے بڑھ کر بری چیز بتاتا ہوں جس میں تمہاری شقاوت اور ہلاکت ہے اور وہ سزا کے اعتبار سے بہت بری ہے غور کرو گے تو تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ جس راہ پر تم ہو وہ راہ بہت بری ہے اور اللہ کے نزدیک اس کا بدلہ بہت برا ہے یہ بری چیز کیا ہے ؟ ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →104 یہود نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ عیاذاً باللہ) تمہارے دین سے بد تر دین ہم نے نہیں دیکھا تو اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ھذا جواب للیھود لما قالوا ما نعرف دینا شرا من دینکم۔ (خازن ج 2 ص 57) یعنی آپ یہود سے فرما دیں کہ ہمارے دین کو تم اپنے زعم میں سب سے برا سمجھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤ کے سب سے برا دین کس کا ہے اور خدا کے یہاں کس دین والے کو بد ترین جزا ملے گی۔ مَنْ لَّعَنَہُ اللہُ اس سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ ای دین من لعنہ اللہ (مدارک ج 1 ص 225) ۔ یعنی سب سے برا دین تو ان لوگوں کا ہے جو بارگاہ خداوندی سے ملعون و مرود ہے اور جن پر خدا کا غضب ہوا اور جن کو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا مسخ کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ جو لوگ تمہارے دین اور شعائر اللہ کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا نشانہ بناتے ہیں تم ان کو دوست کیسے بنا سکتے ہو۔ پختہ ایمان کا حامل آدمی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ اور اگر ایمان ہی کمزور پر جائے یا بالکل ضائع ہوجائے تو پھر اغیار کے ساتھ دوستی بھی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اذن کا ذکر کیا کہ یہ لوگ دین کے اس شعار کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ کام بےعقل لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ کوئی سمجھدار آدمی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ اذان ایک اچھی چیز ہے۔ اس میں توحید و رسالت کا…
Read the full tafseer →قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللہِ 0ۭ مَنْ لَّعَنَہُ اللہُ وَغَضِبَ عَلَيْہِ وَجَعَلَ مِنْہُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ 0ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ 60
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
ترکیب : وان اکثرھم فاسقون جملہ معطوف ہے ان آمنا پر مثوبۃ تمیز ہے بشر سے من لعنہ اللّٰہ جملہ بدل ہے بشر سے وعبد اگر ماضی کا صیغہ مانا جاوے تو اس کا عطف لعنہ اللہ پر ہے ورنہ القردۃ۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ جو اسلام کی عبادت و اذان پر ٹھٹھہ کرتے تھے اب ان سے بطور الزام کے کہا جاتا ہے کہ کیوں صاحبو ہم پر ٹھٹھا کرنے کا یہی باعث ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نبی اور اس سے پہلے انبیاء پر نازل کیا ایمان رکھتے ہیں اور تم میں سے اکثر نماز و روزہ سے غافل اور فاسق ہیں ؟ تو یہ تو کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں۔ ہاں عیب اور برائی کے قابل وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے لعنت کی اور ان کی صورتوں کو بندر اور سور کی…
Read the full tafseer →قُلْ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرِّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃًعِنَْدَ اللہِ ط مَنْ لَّعَنَہُ اللہ ُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ ط اُوْلٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ ۔ (المائدہ : 60)
” کہو ! کیا میں تمہیں بااعتبارِ انجام ‘ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برے لوگوں کا پتہ دوں ؟ یہ وہ ہیں ‘ جن پر اللہ نے لعنت بھیجی ‘ جن پر اس کا غضب ہوا اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور سور بنائے اور جنھوں نے طاغوت کی پرستش کی۔ یہ ٹھکانے کے لحاظ سے بدتر اور اصل شاہراہ سے بعید تر ہیں “۔
یہود کی نافرمانیوں کی سزا
اس آیت کریمہ میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کی دنیا میں سزا اور آخرت میں بدترین انجام۔
اہل کتاب کی اکثریت ماضی کے جرائم اور اپنے آباؤاجداد کے کردار سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے ان کے گھناؤنے کردار پر فخر کرتی ہے۔ جس وجہ سے قرآن مجید ہر دور کے اہل کتاب کو انہی میں شمار کرتا ہے چناچہ رسول محترم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ کیا تمہیں ان لوگوں کے انجام سے آگاہ نہ کیا جائے جو اپنے کردار کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس حد تک بدترین ٹھہرے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور پھٹکار ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں انہیں بندر، خنزیر اور شیطان کے بندے بنادیا گیا۔ یہ لوگ دنیا میں صراط مستقیم سے بھٹک چکے اور آخرت میں ان کا…
Read the full tafseer →سزا کا حقدار وہ جو ملعون ہے :
آیت 60 : قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مثوبۃ کا معنی ثواب ہے۔ اور یہ تمییز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اگرچہ ثواب احسان کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن اس کو عقوبت کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا فرمایا فبشرہم بعذاب الیم (آل عمران۔ آیت 21) کہ بشارت کو عذاب کے سلسلے میں بطور استہزاء استعمال کیا گیا ہے۔ یہود کا گمان تھا کہ مسلمان سزا پائیں گے تو ان کو جواباً کہا گیا۔ مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہو وہ حقیقت میں سزا کا زیادہ مستحق ہے اس سزا کا جو تمہارے خیال کے مطابق اہل ایمان کو ملے گی۔ ذٰلِکَیہ ماقبل کی طرف اشارہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
آیت نمبر 63, 62, 61, 60
تفسیر :(قل) (اے محمد (ھل انبتکم بشرمن ذلک) آپ کہہ دیجئے میں تم کو بتائوں ان میں کس کی بات بری) جو تم نے ذکر کی ہے یعنی نہوں نے جو کہا کہ اسلام سے کم کسی دین کا دنیا اور آخرت میں کم حصہ نہیں اور اسلام سے برا کوئی دین نہیں (مثوبۃ ) ان کو ثواب اور بدلہ دیاجائے گا۔ یہ منصوب ہے تفسیر کی بناء پر (عند اللہ من لعنہ اللہ اللہ کے ہاں وہی جس پر اللہ نے لعنت کی) یعنی وہبرا ہے جس پر اللہ نے لعنت کی (وغضب علیہ اور اس پر غضب نازل کیا) یعنی یہود ( وجعل منھم القردۃ والخنازیر اور ان میں سے بعضوں کو بندر کردیا اور بعضوں کو سور) بندر ہفتے والے ہوئے اور سور عیسیٰ (علیہ السلام) کے دستر خوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(60 ۔ 62) ۔ یہود نے نبی آخر الزمان ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر عیسیٰ بن مریم کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہو کہ سزا کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین یہ ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور چھ الہ کتاب ہو کر بت پرست کہلائے۔ باوجود مناہی کے یہود میں کے جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کھیلا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
آیت 58
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
اذان کا بیان
قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…
Read the full tafseer →152 یہود کے بندر اور خنزیر بننے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر اللہ کا غضب ٹوٹا اور ان میں سے کچھ کو اس نے بندر بنادیا اور کچھ کو خنزیر۔ یعنی حقیقت و واقعہ کے اعتبار سے کہ حقیقت میں ان بدبخت لوگوں کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا تھا۔ جیسا کہ جمہور اہل علم کا کہنا ہے۔ اور پھر ان کی نسل آگے ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئی تھی کیونکہ ممسوخ قوم کی نسل نہیں چلتی۔ اور بعض کے نزدیک یہ مسخ صوری نہیں معنوی تھا۔ (تفسیر العلامہ المراغی) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جو سب سے برے اور بدبخت لوگ ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر و بغاوت اور ان کے معاصی وذنوب میں انہماک کی بنا پر اپنی رحمت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
دین اسلام کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ لگاؤ اور یہود کی سزا
تشریح : ان آیات میں کوئی نئی بات نہیں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ یہاں یہود و کفار کی غیر اخلاقی حرکتوں کا ذکر ہے، پھر ان کے عذاب بتائے گئے ہیں اور پھر غلط اور برے لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں بھی یہود کی خصلت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →ف 6 (ای فی زعمکم) یعنی تم تو ہم میں عیب نکالتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارا دین برا ہے لیکن ذرا اپنی تاریخ پر بھی غور کرو اور اپنے ان اسلاف کے بارے میں بھی کچھ کہنے کی جرات کرو جن کا انجام اللہ کے ہاں اس سے بھی کہیں بدتر ہونے والا ہے جس کا تم ہمارے بارے میں دعوی ٗ کرتے ہو (ماخوذ از کبیر)7 یعنی یہ لوگ تمہارے ہی آباو اجداد تھے جو دین کا مذاق اڑانے اور مختلف جرائم کے مرتکب ہونے کی وجہ سے اللہ کی لعنت اور اس کے غضب میں مبتلا ہوئے ہیں ان میں سے بہت سوں (اصحاب سبت) کی صورتیں مسخ کردی گئیں اور وہ شیطان کے بہکانے سے تھی دواصل شیطان کی عبادت تھی۔8 یعنی تم ہمیں کتنا ہی گمراہ کہہ لو لیکن یہ بات مانے بغیر…
Read the full tafseer →(5:60) انبئکم۔ میں تم کو بتاؤں۔ تبنئۃ سے مضارع واحد متکلم ۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول ۔
مثوبۃ۔ بدلہ۔ جزا۔ ثواب۔ مثوبۃ باعتبار جزاء و سزا یا ثواب کے۔ بطور ثواب کے۔ بحیثیت ثواب کے لغوی حیثیت سے ثواب اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کی جزاء کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عرف عام میں زیادہ تر نیک اعمال کی جزاء کے لئے مستعمل ہے۔
ہل أنبئکم ۔۔ عند اللہ۔ اللہ کے نزدیک جزاء یا سزا پانے کے لحاظ سے ان میں سے کون برا ہے۔ ذلک کا اشارہ کس کی طرف ہے اس میں مختلف بیانات ہیں :
صاحب تفہیم القرآن نے اس کا مشار الیہ فاسقون لیا ہے اور ترجمہ کیا ہے کہ کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
آیت نمبر 57 تا 62
لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔
تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
یہود نے نبی آخر الزماں ﷺ سے یہ جو کہا تھا کہ اگر حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نبی مانتے ہیں تو آپ کے دین سے بڑھ کر اور کوئی برا دین دنیا میں نہیں۔ ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! آپ ان لوگوں سے کہ دیجئے کہ اللہ کے حکم سے میں تم لوگوں کو جتلائے دیتا ہوں کہ سزا کے لحاظ سے اللی کے نزدیک بگڑا ہوا اور برا دین وہی ہے جس کی سزا میں تم لوگوں پر اللہ کی پھٹکار ہے اور تم اس کے غصہ اور خفگی میں ایسے گرفتار ہو کہ کچھ لوگ تم میں کے آدمی سے بندر اور سور ہوگئے اور کچھ اہل کتاب ہوکر بت پرست کہلائے۔ آگے فرمایا کہ دنیا میں ایسے لوگ راہ راست سے دور پڑے ہیں، اس لئے عقبیٰ میں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) (آیت) ” بشر من ذلک “ سے مراد یہ ہے کہ اگر تم عقائد صحیحہ کو درست اور ٹھیک خیال نہیں کرتے اور توحید تمہارے نزدیک برائی کا نام ہے تو بتاؤ اللہ کی لعنتیں اور غضب وغضہ کو کیا کہو گے ؟ کیا تم ہی وہ نہیں ہو جنہیں نافرمانی وعصیان کے معاوضے میں بندر اور سور بنا دیا گیا اور طاغوت پرستی تمہاری گھٹی میں ڈال دی گئی ؟
پھر کیا تم ہی بدترین اور گمراہ تر نہیں ہو ؟
مقصد یہ ہے ” بشر “ کا لفظ بطور مفروضے کے ہے حقیقت کے نہیں ۔
(آیت) ” وعبدالطاغوت “۔ میں لوگوں نے مختلف قرات کا ذکر کیا ہے جو تمام تر شاذ ہیں اور ساقط الاعتبار یہ خالص عربی انداز بیان ہے جس میں کوئی الجھن نہیں اس لئے یہی موزوں ہے کہ قرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 1 اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کہ اے اہل کتاب بجز اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر ایمان لائے جو ہماری ہدایت کے لئے نازل کی گئی اور ان کتب سماویہ پر بھی ایمان لائے جو ہم سے پہلے نازل کی گئیں اور وہ کونسا ہمارا طریقہ کار ہے اور وہ کونسا ہمارا طرز عمل ہے جس کی بنا پر تم ہم سے پرخاش رکھتے ہو اور ہم پر عیب لگاتے ہو حالانکہ تم میں کے اکثر ایمان سے خارج ہیں اور کافرانہ طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں اے پیغمبر آپ ان سے کہئے بھلا میں تم کو ان لوگوں کا حال بتائوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں جزا کے اعتبار سے واقعی طور پر ان سے برے اور بدتر ہیں جن کو تم اپنی ناقص رائے اور مفروضہ خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ف 2۔ جن سے دوستی کرنے کی اوپرممانعت فرمائی ان میں بعض منافق تھے جو اوپر بھی لفظ الکفار میں یا عموم لفظ یہود میں داخل ہوکرمذکور ہیں آگے ان کی ایک خاص حالت بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اچھا آؤ میں تم کو بتاؤں کہ اللہ کے حضور کون برا ہے ؟ :
167: روایات میں آتا ہے کہ چند یہودی جن میں ابو یاسر بن اخطب اور رافع بن ابی رافع بھی تھے نبی اعظم و آخر ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے پوچھنے لگے کہ آپ ﷺ کن کن رسولوں کو مانتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے سورة آل عمران کی آیت 84 کی تلاوت فرمائی : جو قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا سے نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 0084 تک جس میں گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے نام آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان اسماء میں سے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اسم گرامی کی تلاوت کی تو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا : واللہ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
Consideration of the Addressee : A Principle of Da'wah
The condition of a people who were under the curse and wrath of Allah has been introduced through a similitude in the next verse (60) which begins with: قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم[ Should I (not) tell you...]. In fact, this condition applied to these very addressees. The occasion demanded that they should have been the ones to be directly charged with the blame. But, the Qur'an has changed the mode of direct address into the form of a similitude (to show consideration). This shows us a distinctive method of Da'wah (Call) as used by prophets,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
91. This alludes to the Jews whose history shows that they were subjected, over and over again, to the wrath and scourge of God. When they desecrated the law of the Sabbath the faces of many of them were distorted, and subsequently their degeneration reached such a low point that they took to worshipping Satan quite openly. The purpose of saying all this is to draw attention to their criminal boldness while they had sunk to the lowest level of evil, transgression and moral decadence, they vigorously opposed all those who, thanks to their faith, lived a truly pious and righteous life.
Read the full tafseer →