Explained with ayahs 59–63
بدترین گروہ اور اس کا انجام
حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
سورة الْمَآىِٕدَة 89
یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر کے لیے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں۔
سورة الْمَآىِٕدَة 90
یعنی ان کی یہ حرکتیں محض بےعقلی کا نتیجہ ہیں۔ اگر وہ جہالت اور نادانی میں مبتلا نہ ہوتے تو مسلمانوں سے مذہبی اختلاف رکھنے کے باوجود ایسی خفیف حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں۔ آخر کون معقول آدمی یہ پسند کرسکتا ہے کہ جب کوئی گروہ خدا کی عبادت کے لیے منادی کرے تو اس کا مذاق اڑایا جائے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہمارے پاس بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) اور اس کتاب پر (بھی) جو (ہم سے) پہلے بھیجی جا چکی ہے (یعنی تمہاری کتاب تورات و انجیل) باوجود اس کے کہ تم میں اکثر لوگ ایمان سے خارج ہیں (کہ نہ قرآن کا ایمان ہے جس کا خود ان کو بھی اقرار ہے اور نہ تورات و انجیل پر ایمان ہے، کیونکہ ان پر ایمان ہوتا تو ان میں رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی ہدایت موجود ہے اس پر بھی ضرور ایمان ہوتا، قرآن کا انکار اس پر شاہد ہے کہ تورات و انجیل پر بھی ان کا ایمان نہیں ہے۔ یہ حال تو تم لوگوں کا ہوا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر آیت 59۔ 60:۔ قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ۔ قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَـنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَاۗءِ السَّبِيْلِ۔
" نقم " کے معنی انتقام لینے، بدلہ لینے اور کسی پر غصہ نکالنے کے ہیں۔
یہود کی ژاژخائی : اوپر یہود کی جو شرارت بیان ہوئی ہے اس کے تعلق سے اب کلام کا رخ یہود کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
58۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر آجاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا ' کس طرح دی جائے گی ؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے ؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 59۔
“ اللہ تعالیٰ اپنے سچے کلام میں اس حقیقت کو بار بار دہراتے ہیں اور اہل کتاب اس حقیقت کو پگھلا کر ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ اسے دبانا چاہتے ہیں ۔ اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں اور اہل کتاب کے علاوہ اکثر نام نہاد مسلمان بھی اس حقیقت کے خلاف ہیں اور وہ مادیت اور الحاد کے عنوان سے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان دوستی اور موالات قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ جو قرآن کی اس پالیسی کے خلاف ہے ۔
آج بھی اہل کتاب اسی برف کو پگھلانا چاہتے ہیں بلکہ اسے دبا کر اس کے آثار کو مٹانا چاہتے ہیں ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک کے باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا ان باشندوں کو دھوکہ دینا…
Read the full tafseer →8 کسی کام پر طعن کرنا یا ہنسی اڑانا دو وجہ سے ہوسکتا ہے یا تو وہ کام ہی قابل استہزاء ہو یا کام کرنے والے کی حالت تمسخر کے لائق ہو پچھلی آیت میں بتلا دیا گیا کہ اذان کوئی ایسی چیز نہیں جس پر بجز پرلے درجہ کے احمق اور خفیف العقل کے کوئی شخص طعن یا استہزاء کرسکے۔ اس آیت میں اذان دینے والوں کے مقدس حالات پر بعنوان سوال متنبہ کیا گیا ہے یعنی استہزاء کرنے والے جو خیر سے اہل کتاب اور عالم شرائع ہونے کا بھی دعویٰ رکھتے ہیں وہ ذرا سوچ کر انصاف سے بتائیں کہ مسلمانوں سے ان کو اتنی ضد کیوں ہے اور کیا ایسی برائی وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں جو ان کے زعم میں لائق استہزاء ہو بجز اس کے کہ ہم اس خدائے وحدہ لاشریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
آیت 58 وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ط۔
یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں اور تمسخر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →101 چاہئے تو یہ تھا کہ یہود نصاری مسلمانوں سے محبت رکھتے :۔ یہود کو مسلمانوں سے اور پیغمبر اسلام سے اصل میں تو یہ بیر تھا کہ نبی آخر الزماں ان یہود میں سے ہی کیوں مبعوث نہیں ہوا۔ یہ بات وہ علی الاعلان تو کہہ نہیں سکتے تھے اور اس کے بجائے اپنے دل کی جلن اور بھڑاس نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام کو طرح طرح سے مطعون کرتے اور انہیں دکھ پہنچاتے رہتے تھے۔ ان کی اصل تکلیف کا بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر جواب دیا ہے کہ نبوت کے تم اجارہ دار نہیں ہو کہ جتنی بھی بدعہدیاں تم کرتے جاؤ نبوت بہرحال تمہارے ہی خاندان میں رہے۔ نبوت تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے مناسب سمجھتا ہے دے دیتا ہے۔ اس آیت میں اللہ…
Read the full tafseer →207 ۔ یعنی ہمارے اصول دین میں سے تمہیں عداوت اور ضد اس کے کس جزو سے ہے ؟ ہمارا جرم بس یہی ہے نا کہ ہم توحید کے پرستار ہیں، اور اپنے نبی کے ساتھ ساتھ تمہارے انبیاء پر بھی ایمان رکھتے ہیں ؟ قل۔ خطاب پیغمبر کو ہے کہ آپ ﷺ سب مسلمانوں کی طرف سے یہ جواب دیں۔ قال علی سبیل التعجب ھل تجدون فی ھذا الدین الا الا ایمان باللہ والایمان بما انزل علی محمد ﷺ والایمان بجمیع الانبیاء (کبیر) (آیت) ” تنقمون منا “۔ نقم کے معنی ہیں برا سمجھنا یا مبغوض رکھنا، اور عیب لگانا یہاں دونوں معنی چسپاں ہوسکتے ہیں۔ معانہ تسخطون وقیل تکرھون وقیل تنکرون والمعنی متقارب (قر طبی) ھل تنکرون مناوتعیبون (بیضاوی)
208 ۔ (خود اپنے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
قل یا اھل الکتاب ھل تنقمون منا الا أن آمَنّا، (یعنی) اے اہل کتاب تم ہم سے بلاوجہ ناراض ہو جبکہ ہمارا قصور اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم اللہ پر اور اسکے رسول پر اور اس سے پہلے اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، کیا یہ بھی کوئی قصور اور عیب کی بات ہے، البتہ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ بدترین اور قابل نفرت کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ کی لعنت اور غضب ہوا جن میں سے بعض کو اللہ نے بندر اور بعض کو سور بنادیا، اور جنہوں نے طاغوت کی پوجا کی، اس آئینہ میں تم اپنا چہرو دیکھو تم کو صاف نظر آئے گا کہ یہ کن کی تاریخ ہے ؟ اور وہ کون لوگ ہیں ؟ کیا یہ تم ہی نہیں ہو ؟ یاد رہے کہ یہود کے اسلاف کو یوم…
Read the full tafseer →قل یاہل الکتاب ہل الکتاب ہل تنقمون منا الا ان امنا باللّٰہ وما انزل الینا وما انزل من قبل آپ کہہ دیں اے اہل کتاب کیا تم کو ہماری بس یہ بات بری لگتی ہے کہ ہم اللہ اور اس کتاب کو جو ہمارے پاس بھیجی گئی اور ان کتابوں کو جو اس سے پہلے نازل کی گئیں مانتے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے یعنی ہمارا یہ ایمان تم کو برا نہ لگنا چاہئے اسکی خوبی تو کھلی ہوئی ہے۔
نقمۃ ‘ برا عیب ‘ انتقام برائی کا بدلہ۔ تنقمونتم برا جانتے ہو ‘ عیب دار سمجھتے ہو ‘ مکروہ قرار دیتے ہو مناہم سے یعنی ہمارے کردار اور اطوار میں سے۔
وان اکثرکم فاسقون اور یقیناً تم میں سے اکثر کافر ہیں۔
واو حالیہ ہے اور پورا جملہ تنمقون کی ضمیر سے حال ہے ‘…
Read the full tafseer →(59) اے محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرمادیجیے کہ تم ہماری ہنسی کیوں اڑاتے ہو اور کون سی معیوب بات ہم میں پاتے ہو ماسوا اس کے کہ ہم اللہ وحدہ لاشریک پر اور قرآن کریم پر اور رسول اکرم ﷺ سے پہلے جس قدر رسول ہوئے اور جتنی کتابیں نازل کی گئیں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں یعنی سب کو ماننے والے حقیقی مومن ہم (مسلمان) ہیں تم سب اپنے غلط مشرکانہ عقیدہ عمل کی بنا پر سب کافر ہو، پھر یہودی جل کر کہتے تھے کہ تمام دین والوں میں العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ اور اپ کے صحابہ کرام ؓ کا رتبہ کم ہے۔
شان نزول : (آیت) ”قل یاھل الکتب ھل تنقمون“۔ (الخ)
حضرت ابن عباس ؓ ہی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہودیوں کی ایک جماعت آئی،…
Read the full tafseer →وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ: یعنی پہلی کتابوں پر، جیسے تورات، انجیل اور زبور وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہو کہ ہمارا ایمان انھی چیزوں پر ہے جنھیں تم بھی صحیح مانتے ہو، پھر تم ہم سے کس بات کا انتقام لیتے ہو اور ہمارا کیا عیب ہے جس کی وجہ سے تم ہم سے دشمنی رکھتے ہو ؟
وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ : اصل بات یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق (نا فرمان) اور بدکار ہیں اور تمہاری ساری مذہبی اجارہ داری گروہی تعصب اور غلط قسم کی روایات پر قائم ہے، اس لیے تم اپنے سوا کسی دوسرے میں کوئی اچھی بات دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ فاسق کی تو روایت ہی قابل قبول نہیں، کیونکہ اسے جھوٹ سے کوئی پرہیز نہیں ہوتا، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت نمبر : 59 تا 60۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل یاھل الکتب ھل تنقمون منا “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہود کا ایک گروہ آیا جن میں ابو یاسر بن اخطب اور رافع بن ابی رافع بھی تھا نبی مکرم ﷺ سے پوچھا کہ آپ کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب میں یہ آیت پڑھی : (آیت) ” امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل فی ابرھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ وما اوتی النبیون من ربھم، لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون “۔ (بقرہ) جب آپ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا تو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا : بخدا ہم کوئی ایسے دین والے نہیں…
Read the full tafseer →تمام انبیاء اصول دعوت میں متفق ہیں
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہودیوں میں سے کچھ لوگ آئے ان میں ابو یاسر بن اخطب، نافع بن ابی نافع، غازی بن عمرو، زید بن خالد، ازار بن ازار اور اسقع تھے۔ ان لوگوں نے سوال کیا کہ وہ کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں اور فرمایا لفظ آیت وماانزل علینا وما انزل علی ابراھیم واسمعیل واسحق و یعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ والنبیون من ربھم لا نفرق بین احد منھم ونحن لہ مسلمون جب عیسیٰ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے ان کی نبوت کا انکار کردیا۔…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ [ اے اہل کتاب ] هَلْ تَنْقِمُوْنَ [ تم لوگ کیا برا مانتے ہو ] مِنَّآ [ ہم سے ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] اِلَيْنَا [ ہماری طرف ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اُنْزِلَ [ نازل کیا گیا ] مِنْ قَبْلُ ۙ [ اس سے پہلے ] وَاَنَّ [ اس حال میں کہ ] اَكْثَرَكُمْ [ تمہارے اکثر لوگ ] فٰسِقُوْنَ [ نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
اہل کتاب اور دوسرے کفار کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا لیا ہے
ان آیات میں اولاً تو اس مضمون کا اعادہ فرمایا جو گزشتہ رکوع کے شروع میں تھا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ وہاں یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کو منع فرمایا اور یہاں یہود و نصاریٰ کے ساتھ لفظ والْکُفَّارَ کا بھی اضافہ فرمادیا تاکہ دوستی کرنے کی ممانعت تمام کافروں کے بارے میں عام ہوجائے، یہود اور نصاریٰ اور دوسرے تمام کافر جن میں مشرکین ملحدین، منافقین، مرتدین سب داخل ہیں ان سب سے دوستی کرنے کی ممانعت فرما دی، اول تو ان کا کفر ہی دوستی نہ کرنے کا بہت بڑا سبب ہے لیکن ساتھ ہی ان کی ایک اور بدترین حرکت کا بھی تذکرہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →103 پہلے فرمایا کہ جن اہل کتاب نے تمہارے دین کو ایک کھیل بنا رکھا ہے ان سے موالات نہ کرو یہاں فرمایا ان سے پوچھو تو سہی کہ ہمارے دین کی کونسی بات تم کو ناپسند ہے جس کی وجہ سے تم نے اس کو استہزاء و تمسخر کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کیا تمہیں یہ بات پسند اور گوارا نہیں کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں ہم سے پہلے نازل ہوئی ہیں ہم ان سب کو سچی مانتے ہیں ہمارا دین تو یہی ہے کیا تمہیں یہ باتیں ناپسند ہیں، حالانکہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی بری اور ناپسندیدہ نہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَ تمہاری اکثریت سرکش اور متمرد ہے اور تم بغض وعناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
ربط آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودو نصاری کی دوستی سے منع فرمایا تھا اور اس کے ساتھ منافقین کی مذمت بیان کی تھی۔ اس کے بعد مرتدین کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ دین سے برگشتہ ہوجائیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر ایمان والوں کو تلقین کی گئی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کار سازی پر اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے حقیقی دوستانہ اور محبت ہونی چاہیے۔ اہل ایمان کی صفات بھی بیان فرمائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگ اللہ…
Read the full tafseer →قُلْ يٰٓاَہْلَ الْكِتٰبِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ 0ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ 59
هَلْ
: حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله :
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
ترکیب : وان اکثرھم فاسقون جملہ معطوف ہے ان آمنا پر مثوبۃ تمیز ہے بشر سے من لعنہ اللّٰہ جملہ بدل ہے بشر سے وعبد اگر ماضی کا صیغہ مانا جاوے تو اس کا عطف لعنہ اللہ پر ہے ورنہ القردۃ۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ جو اسلام کی عبادت و اذان پر ٹھٹھہ کرتے تھے اب ان سے بطور الزام کے کہا جاتا ہے کہ کیوں صاحبو ہم پر ٹھٹھا کرنے کا یہی باعث ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نبی اور اس سے پہلے انبیاء پر نازل کیا ایمان رکھتے ہیں اور تم میں سے اکثر نماز و روزہ سے غافل اور فاسق ہیں ؟ تو یہ تو کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں۔ ہاں عیب اور برائی کے قابل وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے لعنت کی اور ان کی صورتوں کو بندر اور سور کی…
Read the full tafseer →اہل کتاب کی دشمنی کے ذکر کے بعد پروردگار آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان اہل کتاب سے ایک سوال کیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ ھَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلآَّ اَنْ اٰمَنَّا بِ اللہ ِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا مِنْ قَبْلُ لا وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 59)
” اے پیغمبر ان سے کہئے کہ اے اہل کتاب ! تم ہم پر بس اس بات کا غصہ نکال رہے ہو کہ ایمان لائے ہم اللہ پر اور اس چیز پر ‘ جو ہماری طرف بھیجی گئی اور اس چیز پر ‘ جو پہلے اتاری گئی اور تم میں اکثر نافرمان ہیں “۔
یہود و نصاریٰ کی مسلمانوں سے وجہ دشمنی
مسلمانوں کے ساتھ یہود دشمنی کی پوری داستان اور اس سلسلے میں ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کا گھناؤنا کردار ذکر کرنے کے بعد ان کو مزید احساس دلانے کے لیے براہ راست سوال۔
اہل کتاب سے سوال کرنے کے دو مقصد ہیں کہ انہیں اس بات کا احساس دلایاجائے کہ اسلام کو مذاق سمجھنے اور نماز اور اذان کو استہزاء کا نشانہ بنانے کا تمہارے پاس کیا جواز ہے ؟ کیا اس پر تمہارے ضمیر تمہیں کوئی ملامت نہیں کرتے ؟ ہاں یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ہمیں عطا کیا گیا ہے اور جو ہم سے پہلے نازل کیا گیا ہم اس کو بھی مانتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ تم دوسروں سے دو قدم آگے بڑھ کر قرآن مجید پر ایمان لاتے کیونکہ قرآن مجیدتمہاری کتابوں کی…
Read the full tafseer →کیا اللہ پر ایمان باعث انتقام شے ہے :
آیت 59 : قُلْ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الْکِتٰبِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ ٰامَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ یعنی کیا تم ہمارا یہی عیب نکالتے اور ہماری اس بات کو عجیب قرار دیتے ہو۔ کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں ا۔ اور تمام نازل شدہ کتابوں کو ہم نے مانا ہے ؟ وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَاس کا عطف مجرور پر ہے تقدیر عبارت یہ ہے ماتنقمون منّاالا الایمان باللّٰہ وما انزل وبان اکثرکم فاسقون۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تم ہم سے اس لئے دشمنی کرتے ہو کیونکہ ہمارا اعتقاد اللہ تعالیٰ کی توحید ٗ انبیاء کی صداقت پر ہے اور تمہارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
آیت نمبر 59, 58, 57
تفسیر :(یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الذین اتخذو دینکم ھزوا ولعبا اے ایمان والو ! مت بنائو ان لوگوں کو جو تمہارے دین کو بناتے ہیں ہنسی اور کھیل) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رفاعہ بن زید بن تابوت اور سوید بن حارث نے اس اسلام کو ظاہر کیا پھر منافق ہوگئے۔ مسلمانوں کے ایک آدمی کو ان سے گہری دوستی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! نہ بنائو ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل) اپنے کفر کو اندر چھپا کر اور اس میں مذاق کو زبان سے ظاہر کرکے ۔ (من الذین اوتوا الکتاب من قلبکم وہ لوگ جو کتاب دیئے گئے تم سے پہلے) یعنی ہود (والکفار اور نہ کافروں…
Read the full tafseer →معتبر سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابو الشیخ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز یہود نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ کون کون سے نبی کو برحق جانتے ہو آپ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور سب انبیاء کا نام لیا۔ یہود حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا نام سن کر بہت چڑے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان یہود سے کہہ دو کہ تم میں اکثر لوگ گناہوں کی سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں جس کے سبب سے تم لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی پوری شہادت تھی جس کو تم نے بدل ڈالا ہے اور ایک سچی بات پر الٹے ہم سے جھگڑتے اور ہمارے دین کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
آیت 58
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
اذان کا بیان
قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…
Read the full tafseer →149 اہل کتاب کے دلوں کو ایک دستک : سو اہل کتاب کو خطاب کر کے اور ان کے دلوں پر دستک کی طور پر فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ ہم سے اسی بات کا انتقام لیتے ہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ؟ یعنی کیا تم لوگ اہل کتاب ہونے کے باوجود ہم پر اس لیے ناراض ہو رہے ہو کہ تم ایمان لائے اللہ پر جو کہ خالق ومالک ہے ہم تم سب کا ؟۔ اور جس پر ایمان لانا تقاضا ہے عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا ؟۔ استفہام انکار اور تقبیح و توبیخ کیلئے ہے۔ یعنی کیا یہ بھی کوئی انتقام اور غصے کی چیز ہے کہ ہم اپنے خالق ومالک پر ایمان لے آئے۔ یہ تو سب سے بڑا شرف اور اولین فرض ہے جو انسان پر عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
دین اسلام کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ لگاؤ اور یہود کی سزا
تشریح : ان آیات میں کوئی نئی بات نہیں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ یہاں یہود و کفار کی غیر اخلاقی حرکتوں کا ذکر ہے، پھر ان کے عذاب بتائے گئے ہیں اور پھر غلط اور برے لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں بھی یہود کی خصلت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →(4 یعنی پہلی کتابوں پر جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ مطلب یہ ہے کہ تما جانتے ہو کہ ہمارا ایمان ان ہی چیزوں پر ہے جنہیں تم بھی صحیح مانتے ہو پھر ہم سے کیوں دشمنی کرتے ہو یہاں استفہام برائے تعجب ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود کا ایک گروہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کن پیغمبروں کو سچامانتے ہو آپ ﷺ نے منجلہ دوسرے پیغمبروں کی حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا نام بھی ذکر فرمایا تو انہوں نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی رسالت سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ پھر تو تمہارا دین بہت برا دین ہے (کبیر)5 یعنی اصل بات یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ خاص اور بدکار ہیں اور تمہا ری…
Read the full tafseer →(5:59) تنقمون منا۔ تنقمون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم انکار کرتے ہو۔ تم بیر رکھتے ہو۔ تم عیب دیتے ہو ہم کو۔ نقم سے انتقم منہ کسی سے بیر رکھنا ۔ کسی میں عیب نکالنا۔ کسی سے بدلہ لینا۔ فانقتمنا منہم فاغرفناہم فی الیم (7:36) تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔
ہل تنقمون منا ۔۔ الخ کیا تم ہم میں عیب نکالتے ہو یا ہم سے نفرت کرتے ہو۔ کیونکہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔
وان اکثرکم فسقون۔ (اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں) کا عطف ان امنا پر ہے۔ واؤ حالیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور حال یہ ہے کہ اکثریت تم میں سے فاسقوں کی ہے ۔ (لہٰذا تم کس بل پوتے پر ہم میں عیب نکالتے ہو) باوجود اس کے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
آیت نمبر 57 تا 62
لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔
تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز چند یہود نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آپ کون کون سے نبی کو برحق جانتے ہیں۔ آپ نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور سب انبیاء کا نام لیا۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام سن کو بہت چڑے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! آپ ان یہودیوں سے کہیے کہ تم میں اکثر لوگ گناہوں کی سرکشی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں، جس کے سبب سے تم لوگ حضرت عیسیٰ کو نبی قرار دینے سے ہمارے دشمن بن گئے، ورنہ جس تورات کو تم مانتے ہو اس میں حضرت عسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی پوری شہادت تھی جس کو تم نے بدل ڈالا ہے اور ایک سچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →دشمن کیوں ہو ؟ :
(ف 3) اس آیت میں اہل کتاب سے انکار و استہزاء کا سبب دریافت کیا ہے یعنی ان سے پوچھا ہے کہ ہم آخر مورد عتاب کیوں ہیں ؟ کیا اس لئے کہ ہمارے دلوں میں ایمان باللہ کی آگ روشن ہے اور ہم تمام انبیاء (علیہم السلام) کا یکساں احترام کرتے ہیں ، نیز ہمارے نزدیک ہر سچائی قابل اعتراف واحترام ہے اس لئے کہ ہم کسی خدا پرست پیغمبر کا انکار نہیں کرتے اور سب کو فیوض وبرکات الہیہ کا حامل ومتکف سمجھتے ہیں کیا توحید جرم ہے اس طلعت حق کا جمال ہر جبین رسالت میں جلوہ آراہ نہیں اور کیا یہ جھوٹ ہے کہ سب رسول اسی کے بحارقدرت وعلم کے شن اور ہیں ؟ وجہ کیا ہے کہ ہم پر اتہام وایزا کے تمام تیر برسائے جاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 3 اے اہل ایمان ان لوگوں کو جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے وہ ایسے ہیں کہ تمہارے دین کو انہوں نے ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان کو اور دوسرے منکرین اسلام کو تم اپنا رفیق نہ بنائو اور اگر تم مومن اور ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ لوگ اس عبادت کے ساتھ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں اذان کی نقل اتارتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ بےعقل اور صحیح عقل سے بالکل ہی بےبہرہ ہیں۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بعضے یہود اور بعضے مشرک اذان کی آواز پر ہنستے یہ ان کی بےعقلی تھی اللہ کی بڑائی ہر دین میں بہتر ہے۔ (موضح القرآن)
آیات سابقہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ بعض بعض ہر زمانہ میں ایمان کے ساتھ متصف رہے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب سے دریافت کرنے کا حکم کہ وہ اہل اسلام سے کس بات کا انتقام چاہتے ہیں :
166: نقم کہتے ہیں ناپسند کرنے اور مکروہ ومعیوب سمجھنے کو اس سے ” انقم “ ہے جس کے معنی ہیں انتقام لینا اور نہایہ میں ہے کہ ” اس قدر برا سمجھا کہ اس پر غضبناک ہوگیا ” پیچھے اہل کتاب کے استہزاء و مذاق کا ذکر تھا اب بتایا جا رہا ہے کہ ان کا ستہزاء اور مزاق کیوں ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ اس دشمنی کی وجہ سے ہے جو ان کو بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ورثہ میں ملی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نبوت کا تعلق بنی اسماعیل سے آخر کیوں ؟ یہ بنی اسرائیل کے گھر کی چیز ہے اور پیغمبر اسلام کا تعلق بنی اسماعیل سے ہے اور یہی وہ بنیادی دشمنی…
Read the full tafseer →Commentary
Referring to the Jews and Christians in: أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ (most of you are sinners) at the end of the first verse, ` most' - not ` all'- of them have been declared to be outside the fold of Faith. The reason for this is that they did have people among them who remained believers under all conditions. Before the coming of the Holy Prophet ﷺ all they followed the injunctions of the Torah and Injil and believed in them. When the Holy Prophet ﷺ came and the Qur'an was revealed, they believed in him too and started following the injunctions of the Qur'an.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
89. When they hear the call to Prayer the unbelievers make fun of it by mimicry, pervert its words to ridicule it, and utter disparaging and taunting remarks about it.
90. These are merely acts of stupidity on the part of unbelievers. Had they not been ignorant and foolish they would not have stooped to such base tactics, despite their significant differences with the Muslims on religious questions. After all, can any reasonable person be happy to see the people who call to the worship of God be ridiculed and mocked?
Read the full tafseer →