Al-Maaida 5:58

Al-Maaida · from ayah 58

5:58

وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ؕ— ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ ۟وَ اِذَا نَادَيۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوۡهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not use reason.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 9 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:58

جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب تم نماز کے لیے (لوگوں کو) پکارتے ہو تو وہ اس (پکار) کو مذاق اور کھیل کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب (حرکتیں) اس وجہ سے ہیں کہ ان لوگوں کو عقل نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب تم نماز کے لئے اذان دو تو اسے ہنسی کھیل بناتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ نرے بے عقل لوگ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب تم نماز کے لئے (لوگوں کو بصورتِ اذان) پکارتے ہو تو یہ (لوگ) اسے ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (بالکل) عقل ہی نہیں رکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب تم نماز کی طرف آواز دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ بیشک وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب تم نماز کے لیے اذان کہتے ہو تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور اسے شغل بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ بیوقوف ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں، یہ اس وجہ سے کہ یکہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان کی حماقت اور دین و دشمنی کا عالم یہ ہے کہ) جب تم (بلاتے) پکارتے ہو نماز (جیسی عظیم الشان عبادت) کی طرف، تو یہ لوگ اس کو بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں، یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو کام نہیں لیتے اپنی عقلوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب تم نماز کے لئے پکار کرتے ہو۔ تو یہ لوگ اس کو ہنسی اور کھیل بنالیتے ہیں۔ یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ (بالکل) عقل سے کام نہیں لیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو یہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ عقل سے عاری ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب تم نماز کے لیے بلاتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس کو کھیل تماشہ بناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے

— محترمہ رفعت اعجاز

And when you call for Prayer, they take it for a mockery and sport. That is because they are a people who do not understand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When you call for Salah, they take it in jest and fun. That is because they are a people who do not understand

— Muhammad Taqi Usmani

When you call for Salah, they take it in jest and fun. That is because they are a people who do not understand

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when you proclaim the call for the Salah, they take it (but) as a mockery and fun; that is because they are a people who understand not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when ye call to prayer they take it for a jest and sport. That is because they are a folk who understand not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when you call to prayer, they take it in ridicule and amusement. That is because they are a people who do not use reason.

— Saheeh International

Because they are devoid of understanding, they ridicule your call for prayers saying that it is a useless act.

— Muhammad Sarwar

And when you call to prayer they make it a mockery and a joke; this is because they are a people who do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

And when ye call for the prayer they make a mockery and fun thereof. This because they are a people who understand not.

— Abdul Majid Daryabadi

When ye proclaim your call to prayer they take it (but) as mockery and sport; that is because they are a people without understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–58

اذان اور دشمنان دین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ " کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں "۔ من بیان جنس کیلئے جیسے (من الاوثان) میں۔ بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور (لاتتخذوا) کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت (والا الکفار اولیاء) ہوگی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (و من الذین اشرکوا) ہے۔ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں۔ جیسے فرمایا آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 58–59

سورة الْمَآىِٕدَة 89 یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر کے لیے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 90 یعنی ان کی یہ حرکتیں محض بےعقلی کا نتیجہ ہیں۔ اگر وہ جہالت اور نادانی میں مبتلا نہ ہوتے تو مسلمانوں سے مذہبی اختلاف رکھنے کے باوجود ایسی خفیف حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں۔ آخر کون معقول آدمی یہ پسند کرسکتا ہے کہ جب کوئی گروہ خدا کی عبادت کے لیے منادی کرے تو اس کا مذاق اڑایا جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

چھٹی آیت میں پھر بطور تاکید کے اس حکم کا اعادہ فرمایا گیا ہے جو شروع رکوع میں بیان ہوا تھا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کو اپنا رفیق یا گہرا دوست نہ بناؤ، جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل قرار دیتے ہیں۔ اور یہ دو گروہ ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرا عام کفار و مشرکین۔ امام ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ کفار میں تو اہل کتاب بھی داخل تھے پھر خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب کا مستقل ذکر اس جگہ غالباً اس لئے فرمایا گیا کہ اہل کتاب اگرچہ ظاہر میں بہ نسبت دوسرے کفار کے اسلام کے ساتھ قریب تھے، مگر تجربہ نے یہ بتلایا کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 57–58

تفیسر آیت 57۔ 58:۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ ۚوَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۔ دین کا مذاق اڑانے والوں سے دوستی غیرت و حمیت کے خلاف ہے : اب یہ ان کے جذبہ غیر و حمیت کو ابھارا ہے کہ جو اہل کتاب اور کفار تمہارے دین کا مذاق اڑاتے اور تماہرے شعائر دین کو کھیل تماشہ بناتے ہیں حیف ہے اگر تم ان کو اپنا دوست بناؤ۔ انسان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

58۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر آجاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا ' کس طرح دی جائے گی ؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے ؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–63

44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–58

(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔ ” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جب اذان کہتے ہو تو اس سے جلتے ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں جو ان کی کمال حماقت اور بےعقلی کی دلیل ہے۔ کلمات اذان میں خداوند قدوس کی عظمت و کبریاء کا اظہار، توحید کا اعلان، نبی کریم ﷺ جو تمام انبیاء سابقین اور کتب سماویہ کے مصدق ہیں، ان کی رسالت کا اقرار۔ نماز جو تمام اوضاع عبودیت کو جامع اور غایت درجہ کی بندگی پر دال ہے، اس کی طرف دعوت، فلاح دارین اور اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے کے لئے بلاوا، ان چیزوں کے سوا اور کیا ہوتا ہے پھر اس میں کونسی چیز ہے جو ہنسی اڑانے کے قابل ہو ایسی نیکی اور حق و صداقت کی آواز پر مسخرا پن کرنا صرف اسی شخص کا کام ہوسکتا ہے جس کا دماغ عقل سے یکسر خالی ہو اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 58–60

آیت 58 وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا ط۔ یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں اور تمسخر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

100 اذان کا تمسخر اڑانے والے اور ابو محذورہ :۔ اذان مسلمانوں کے شعائر میں سے ایک شعار ہے جس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ اعلان ہی دراصل تمام کافروں، خواہ وہ مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں سب کے لیے دکھتی رگ تھا۔ کیونکہ مشرکین تو اللہ کے صرف اکیلے الٰہ ہونے کے ہی قائل نہ تھے دوسرے آپ کو اللہ کا رسول ماننے کو تیار نہ تھے۔ اس طرح یہود و نصاریٰ بھی آپ کو سچا نبی سمجھنے کو تیار نہ تھے اور یہی کلمات دراصل ان کے اور مسلمانوں کے درمیان باعث نزاع اور موجب جنگ بنے ہوئے تھے پھر دن میں جب پانچ بار بہ بانگ دہل انہیں کلمات کا اعلان کیا جاتا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

205 ۔ اسی پکار کا نام اصطلاح شریعت میں اذان ہے۔ اور یہ اسلام کے امتیازات خصوصی میں سے ہے۔ دوسرے مذہبوں میں اول تو روزانہ عبادت اجتماعی کا دستور ہی نہیں (چہ جائیکہ دن میں پانچ پانچ مرتبہ) اور پھر روزانہ یا ہفتہ وار جب کبھی بھی وقت و عبادت کے اعلان کی ضرورت پڑتی ہے، تو اس موقعہ پر کام گھنٹہ کی ٹھناٹھن یا گھنٹی کی ٹن ٹن سے لیا جاتا ہے ! یہ شرف صرف اسلام کے ساتھ مخصوص ہے کہ اس نے عبادت کے اعلان دعوت کا طریقہ ایسا نکالا، جو عبادت کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ بجائے خود بھی ایک عبادت ہی ہے ! اذان میں ہوتا کیا ہے ؟ نہ باجہ نہ گانا، نہ جرس نہ ناقوس، نہ قومی نغمہ نہ ملی ترانہ، بس اللہ کی حکومت وکبریائی، اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واِذا نَادیتم الی الصلوۃ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے روایت کی ہے کہ جب مدینہ میں اذان ہوتی تھی تو ایک نصرانی اشھدان محمد الرسول اللہ سن کر کہا کرتا تھا کہ خدا اس جھوٹے مؤذن کو چولھے میں ڈالے، ایک روز اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی وہ اس کے اہل و عیال سب جل کر خاکستر ہوگئے تو رات اور انجیل میں یہ بات صاف لکھی ہوئی ہے کہ مکہ کے پہاڑوں میں سے جس نبی کا ظہور ہونے والا ہے وہ نبی آخر الزمان ہوگا، اس کے باوجود اس نصرانی نے دانستہ اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذوہا ہزوا ولعبا اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو وہ نماز کا کا مذاق اور کھیل بناتے ہیں۔ اتخذوہا کی ضمیر نماز کی طرف راجع ہے یا نداء کی طرف۔ اذا نادیتمکا عطف اتخذوا پر ہے یعنی ایسے لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہاری نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل بناتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مدینہ میں ایک عیسائی تھا جب مؤذن کو اشہد ان محمد رسول اللّٰہکہتے سنتا تو کہتا اللہ جھوٹے کو جلا دے ایک رات اس کا خادم آگ لے کر آیا نصرانی اور اس کی بیوی سو رہے تھے اتفاق سے آگ کی ایک چنگاری اڑ کر عیسائی پر جا پڑی جس سے وہ خود بھی جل گیا اور اس کی بیوی بھی۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اور جب اذان اور اقامت ہوتی تو یہ اس کی ہنسی اور مذاق اڑاتے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ احکام خداوندی اور توحید خداوندی اور دین الہی سے قطی بیخبر ہیں، یہ آیت ایک یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ حضرت بلال ؓ کی اذان کا مذاق اڑایا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے آگ میں جلا دیا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ“ کا معنی ہے جب تم آواز دیتے ہو، تو اس سے مراد نماز کے لیے اذان ہے یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں، شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) شیطان کو بھی اذان کی آواز برداشت نہیں، حدیث میں ہے : ”شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے (کہ اذان اس کے کانوں میں نہ پڑے) ، پھر واپس آجاتا ہے، اقامت کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔“ [ بخاری، الأذان، باب فضل التأذین : 608 ] 3 نماز کے لیے آواز دینے کا ذکر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 58۔ اس میں بارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) الکلبی نے کہا : جب موذن اذان دیتا اور مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہود کہتے : وہ کھڑے ہوئے کبھی کھڑے نہ ہوں، وہ ہنستے تھے جب مسلمان رکوع اور سجدہ کرتے تھے وہ اذان کے بارے میں کہتے : انہوں نے یہ بدعت نکالی ہے ہم نے گزشتہ قوموں میں ایسی چیز نہیں سنی، یہ تیرے لیے قافہ کے چیخنے کی طرح چیخنا کہاں سے آیا ہے یہ کتنی قبیح آواز ہے اور یہ معاملہ کتنا برا ہے۔ (2) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 48) بعض علماء نے کہا : جب موذن نماز کے لیے اذان دیتا تھا تو وہ آپس میں ہنستے تھے اور بطور استہزا اشارے کرتے تھے اور مسلمانوں کو بیوقوف اور جاہل قرار دیتے تھے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام بیہقی نے دلائل میں الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا نادیتم إلی الصلوۃ اتخذوھا ھزوا ولعبا ذلک بانھم قوم لا یعقلون کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے حکم کو نہیں سمجھتے۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا منادی جب نماز کے لئے اذان دیتا تھا تو مسلمان نماز کی طرف کھڑے ہوجاتے تھے۔ اور یہودی کہتے تھے یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو اور وہ کھڑے نہ ہوئے۔ جب ان کو رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھتے تو ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا نادیتم الی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب بھی ] نَادَيْتُمْ [ تم لوگ پکارتے ہو ] اِلَى الصَّلٰوةِ [ نماز کی طرف ] اتَّخَذُوْهَا [ تو وہ لوگ بناتے ہیں اس کو ] هُزُوًا [ تمسخر ] وَّلَعِبًا [ اور تفریح ] ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [ یہ اس لیے کہ وہ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–59

اہل کتاب اور دوسرے کفار کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا لیا ہے ان آیات میں اولاً تو اس مضمون کا اعادہ فرمایا جو گزشتہ رکوع کے شروع میں تھا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ وہاں یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کو منع فرمایا اور یہاں یہود و نصاریٰ کے ساتھ لفظ والْکُفَّارَ کا بھی اضافہ فرمادیا تاکہ دوستی کرنے کی ممانعت تمام کافروں کے بارے میں عام ہوجائے، یہود اور نصاریٰ اور دوسرے تمام کافر جن میں مشرکین ملحدین، منافقین، مرتدین سب داخل ہیں ان سب سے دوستی کرنے کی ممانعت فرما دی، اول تو ان کا کفر ہی دوستی نہ کرنے کا بہت بڑا سبب ہے لیکن ساتھ ہی ان کی ایک اور بدترین حرکت کا بھی تذکرہ فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–64

اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔ ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–58

102 پہلے یہود و نصاریٰ کی موالات سے منع فرمایا اب یہاں منافقین اہل کتاب اور مشرکین سے دوستی اور محبت کرنے سے منع فرمایا۔ اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا الخ سے منافقین اہل کتاب مراد ہیں۔ جنہوں نے دین اسلام کو ایک کھیل اور مذاق بنا رکھا تھا کیونکہ جب وہ مسلمانوں کے پاس آتے تو کہتے ہم مومن ہیں اور جب اپنے صنادید کے پاس جاتے تو کہتے ہم تمہارے دین پر ہی ہیں مسلمانوں کی نمازوں میں ہم محض بغرض استہزاء شریک ہوجاتے ہیں۔ وَ اِذَا نَادَیْتُمْ الخ یہ ان کے استہزاء کا بیان ہے یعنی وہ نماز میں تمہارے ساتھ محض استہزاء و تمسخر کے لیے شریک ہوتے اور اس سے ان کا مقصد تمہیں دھوکہ دینا ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–59

ربط آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودو نصاری کی دوستی سے منع فرمایا تھا اور اس کے ساتھ منافقین کی مذمت بیان کی تھی۔ اس کے بعد مرتدین کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ دین سے برگشتہ ہوجائیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر ایمان والوں کو تلقین کی گئی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کار سازی پر اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے حقیقی دوستانہ اور محبت ہونی چاہیے۔ اہل ایمان کی صفات بھی بیان فرمائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا ہُزُوًا وَّلَعِبًا۝ 0ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۝ 58 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–58

ترکیب : ومن مبتداء متضمن شرط اللّٰہ اور رسولہ اور والذین آمنوا یتول کا مفعول ‘ فان حزب اللّٰہ خبر لا تتخذوا نہی انتم ضمیر اس کی فاعل الذین موصول اتخذوا فعل دینکم مفعول اول ہزوا ولعبا مفعول ثانی۔ من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم الذین کا بیان یہ تمام صلہ والکفار اس پر معطوف یہ سب مفعول اول یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا کا اولیاء مفعول ثانی۔ تفسیر : اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔ اگر شیعہ یہ کہیں ( کہ اس گروہ کا سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم حضرت علی ؓ تھے اور لوگوں کا حضرت علی ؓ کو خلیفہ نہ کرنا اور ان کا حق تلف کرکے ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنانا اور فاطمہ ؓ کا حق باغ فدک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَانَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّ لَعِبًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْقِلُوْنَ ۔ (المائدہ : 58) ” اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو عقل نہیں رکھتے “۔ ان یہودی اشرار کی اسلام دشمنی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ یہ اذان کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے۔ اس کی بھونڈی نقلیں اتارتے ہیں اور ہنستے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ اس سلسلے میں احادیث میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی تھا ‘ جس کا معمول یہ تھا کہ جب بھی اذان ہوتی تو وہ اس کی نقل اتارتا اور مذاق اڑاتا اور جب کہا جاتا ”…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–58

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصاریٰ اور کفار سے قلبی تعلقات نہ رکھنے کے مزید تین اسباب : یہود و نصاریٰ اہل کتاب اور اہل مکہ کعبہ کے متولی اور ملت ابراہیم کے دعوے دار ہونے کے باوجود اسلام جیسے سچے دین، نماز جیسی افضل ترین عبادت اور اس کی پکار یعنی اذان کو کھیل تماشا اور استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ (الانفال : 35) میں ذکر ہوا ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے تو انھوں نے اونٹ کی بھاری بھرکم گندگی سے بھری ہوئی اوجڑی آپ کے کمر مبارک پر رکھ دی تھی۔ ان کی یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اذان دلالت النص سے ثابت ہے : آیت 58 : وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْہَا وہ نماز یا اذان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہُزُوًا وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْنَ کیونکہ ان کا استہزاء اور کھیل بنانا یہ بیوقوف اور جہلاء کے افعال میں سے ہے۔ گویا یہ لوگ عقل سے خالی ہیں۔ فائدہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ اذان کتاب کی نص سے ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 57–59

آیت نمبر 59, 58, 57 تفسیر :(یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الذین اتخذو دینکم ھزوا ولعبا اے ایمان والو ! مت بنائو ان لوگوں کو جو تمہارے دین کو بناتے ہیں ہنسی اور کھیل) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رفاعہ بن زید بن تابوت اور سوید بن حارث نے اس اسلام کو ظاہر کیا پھر منافق ہوگئے۔ مسلمانوں کے ایک آدمی کو ان سے گہری دوستی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! نہ بنائو ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل) اپنے کفر کو اندر چھپا کر اور اس میں مذاق کو زبان سے ظاہر کرکے ۔ (من الذین اوتوا الکتاب من قلبکم وہ لوگ جو کتاب دیئے گئے تم سے پہلے) یعنی ہود (والکفار اور نہ کافروں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کی ہے کہ جب اذان مدینہ میں ہوتی تھی تو ایک نصرانی جو مدینہ میں رہتا تھا اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر یہ کہا کرتا تھا خدا اس جھوٹے موذن کو چولھے میں ڈالے ایک دن اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی اور وہ اور اس کے بال بچے اور سب گھر اور باہر جل کر راکھ ہوگیا 3 ؎۔ اوپر تورات اور انجیل کی آیتوں کے حوالے سے یہ گزر چکا ہے کہ مکہ کے پہاڑوں میں سے جن نبی کا ظہور ہونے والا تھا وہ یہی نبی آخر الزمان ﷺ ہیں۔ اور یہ بھی گزرچکا ہے کہ تورات اور انجیل کی ان آیتوں کا اور کوئی مطلب سوا اس مطلب کے صحیح نہیں قرار پاسکتا کہ ان آیتوں سے مقصود بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کے نبی آخر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–61

آیت 58 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو یہود و نصاریٰ اور دیگر تمام کفار کے ساتھ موالات رکھنے سے منع کرتا ہے۔ وہ ان سے محبت نہ کریں ان کو دوست نہ بنائیں، ان پر اہل ایمان کے بھید نہ کھولیں اور بعض ایسے امور پر ان کی معاونت نہ کریں جن سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان کا ایمان کفار کے ساتھ ترک موالات کا موجب ہے اور ان کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی طرح ان کا تقویٰ کا التزام۔۔۔ جو کہ نام ہے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت اور اس کی نواہی سے اجتناب کا۔۔۔ کفار کے ساتھ عداوت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی طرح مشرکین، کفار اور مسلمانوں کے دیگر مخالفین کا رویہ بھی اسی بات کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 58–63

اذان کا بیان قول باری ہے واذا نادیتم الی الصلوٰۃ اتخذو ھا ھزوا وکعب اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے لیے اذان دی جائے جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلایاجائے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے اذا نو دی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعور الی ذکر اللہ وذروا البیع جب جمعہ کے دن نمازجمعہ کے لیے ندا دی جائے تو اللہ کی یاد کی طرف ڈور پڑو اور خرید چھوڑ دو ۔ عمرو بن مرہ نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگ نماز کے لیے ایک وقت پر اکٹھے ہوجاتے جس کا سب کو علم ہوتا ۔ لوگ ایک دوسرے کو اس کی آمد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

148 دین کے احکام کا مذاق اڑانا عقل و خرد کی دشمنی :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ دین اور اس کے احکام کا مذاق اڑانے والے یہ لوگ اپنی عقلوں سے کام نہیں لیتے۔ ورنہ یہ لوگ دین کے احکام سے مذاق و استہزاء کیونکر کرتے۔ جو کہ انسان کیلئے دنیا و آخرت کی سعادت و کامرانی اور فوز و فلاح کا ذریعہ ہیں۔ سو دین حق کے احکام کا مذاق اڑانا عقل و خرد کی دشمنی کے مترادف ہے کہ عقل سے کام لینے والا کوئی شخص اس طرح کی کسی حرکت کا ارتکاب نہیں کرسکتا کہ دینی احکام اور شعائر تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ ہیں اور شعائر اللہ کی تعظیم و تکریم حصول تقویٰ کا ذریعہ اور وجود تقویٰ کی علامت و نشانی ہے۔ جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 57–60

دین اسلام کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ لگاؤ اور یہود کی سزا تشریح : ان آیات میں کوئی نئی بات نہیں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ یہاں یہود و کفار کی غیر اخلاقی حرکتوں کا ذکر ہے، پھر ان کے عذاب بتائے گئے ہیں اور پھر غلط اور برے لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں بھی یہود کی خصلت کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 57–66

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66: اسرار و معارف : خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ آپ ان سے پوچھئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ان میں اگر کچھ بھی عقل ہوتی تو اذان کی آواذ سن کر ان کے دل نرم پڑتے اور وہ حق کی طرف متوجہ ہوتے یا کم از کم مسلمانوں سے مذہبی اختلافات رکھنے کی باوجود اس قسم کی گھٹیا حرکات نہ کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–58

(5:55) ولیکم۔ تمہارا دوست۔ تمہارا مددگار۔ یتول۔ دیکھو 5:51 ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ دوست رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–62

آیت نمبر 57 تا 62 لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ایک نصرانی کا بےادبی پر انجام اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب اذان مدینہ طیبہ میں ہوتی تھی تو ایک نصرانی جو مدینہ میں رہتا تھا اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر یہ کہا کرتا تھا : ” خدا اس جھوٹے مؤذن کو چولہے میں ڈالے “۔ ایک دن اس نصرانی کے گھر میں آگ لگی اور وہ اور اس کے بال بچے اور سارا گھر جل کر راکھ ہوگیا، کیونکہ اس نے جان بوجھ کر اللہ کے رسول کی شان میں بےادبی کے لفظ منہ سے نکالے تو اس پر اللہ تعالیٰ کو خفگی ہوئی۔ توریت اور انجیل کی صداقت کی بنا پر نبی آخر الزماں ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو میرا حال سن کر میری نبوت کو نہ مانے گا تو اس کی نجات مشکل ہے۔ اسی واسطے آخر کو فرمایا کہ جو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–63

[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مکہ میں جہاں ماننے والے مخلص ایمان دار موجود تھے ، وہاں وہ بھی تھے جو شعائر دین کا مضحکہ اڑاتے ، جب اذان ہوتی اور بندگان خدا کو پیش گاہ عزت و جلال میں دعوت عبادت ونیاز مندی دی جاتی تو ہنستے اور کہتے ، دیکھنے مسلمانوں کی عبادت کتنی خندہ آفرین ہے یعنی رکوع و سجود اور تسبیح وتہلیل کا یہ شان دار مظاہرہ جسے قرآن کی اصطلاح میں صلوۃ سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کے لئے ناقابل فہم عمل تھا ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے جو لوگ اس نوع کے بد ذوق ہیں اور ایمان واتقاء کی نعمتوں سے انکے دامن یکسر خالی ہیں ‘ ہرگز اس قابل نہیں کہ مسلمانوں کے لئے کوئی جاذبیت اپنے اندر پیدا کرسکیں اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی صحبت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 58–59

ف 3 اے اہل ایمان ان لوگوں کو جن کو تم سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے وہ ایسے ہیں کہ تمہارے دین کو انہوں نے ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان کو اور دوسرے منکرین اسلام کو تم اپنا رفیق نہ بنائو اور اگر تم مومن اور ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ لوگ اس عبادت کے ساتھ ہنسی اور مذاق کرتے ہیں اذان کی نقل اتارتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ بےعقل اور صحیح عقل سے بالکل ہی بےبہرہ ہیں۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بعضے یہود اور بعضے مشرک اذان کی آواز پر ہنستے یہ ان کی بےعقلی تھی اللہ کی بڑائی ہر دین میں بہتر ہے۔ (موضح القرآن) آیات سابقہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یہ اشارہ ہے دو قصوں کی طرف ایک یہ کہ جب آذان ہوتی اور مسلمان نماز شروع کرتے تو یہود کہتے کہ یہ کھڑے ہوتے ہیں خدا کرے کبھی کھڑا ہونا نصیب نہ ہو اور جب ان کو رکوع سجدہ کرتے دیکھتے توہنستے اور تمسخر کرتے دوسراقصہ یہ کہ مدینہ میں ایک نصرانی تھا جب اذان میں سنتا اشھد ان محمد الرسول اللہ تو کہتا جل جائے ایک شب ایسا اتفاق ہوا کہ وہ اور اس کے اہل و عیال سب سو رہے تھے کوئی خادم گھر میں آگ لے کرگیا ایک چنگاڑی گر پڑی اور وہ اس کا گھر اور گھروالے سب جل گئے یہ تو الذین اتوالکتاب کے مصداق تھے اور الکفار کے مصداق کا ایک قصہ یہ ہوا کہ رفاعہ بن زید بن تابوت و رسوید بن الحارث نے منافقانہ اظہار اسلام کیا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب تم نماز کی دعوت دیتے ہوتویہ لوگ اس کا بھی مذاق اڑاتے ہیں : 165: نماز کی دعوت کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ اذان ہی ہے۔ اذان کے کلمات چونکہ بآواز بلند پکارے جاتے تھے اس لئے جب موذن اذان کو پکارتا تو یہ لوگ اس کی نقلیں اتارتے اور مذاق اڑاتے کہ دیکھو ابھی تو یہ آدمی اچھا بھلا سلجھا اور منجھا ہوا نظر آرہا تھا اور ابھی اس نے حال و پکار شروع کردی اس سے پوچھو کہ تم کو کیا ہوا ہے کیا کوئی جن یا بھوت اس پر آگیا ہے ؟ ان کو کیا معلوم کہ اس صدا میں کیا شیرینی ہے اور اس نماز کا ماحصل کیا ہے جس کی طرف یہ دعوت دے رہا ہے ؟ یہ ایک نظم کے ساتھ اوپر نیچے ہونا اور کبھی اوندھے ہو کر منہ کر بل زمین پر گرنے میں کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

The Prohibition of Friendship with those who make fun of Islam In the sixth verse (57), Allah Almighty has again stressed upon the injunction mentioned in verse 51 at the beginning of the Section, the sense of which is that the Muslims should not seek close friendship with people who make fun of their religion. They can be divided in two groups: The People of the Book, that is, the Jews and the Christians; and the disbelievers and non-Muslims in general. In al-Bahr al-Muhit, Imam Abu Hayyan (رح) says that the People of the Book were already included under the word, Kuffar or disbelievers,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–59

89. When they hear the call to Prayer the unbelievers make fun of it by mimicry, pervert its words to ridicule it, and utter disparaging and taunting remarks about it. 90. These are merely acts of stupidity on the part of unbelievers. Had they not been ignorant and foolish they would not have stooped to such base tactics, despite their significant differences with the Muslims on religious questions. After all, can any reasonable person be happy to see the people who call to the worship of God be ridiculed and mocked?

Read the full tafseer →