Explained with ayahs 57–58
اذان اور دشمنان دین
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ " کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں "۔ من بیان جنس کیلئے جیسے (من الاوثان) میں۔ بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور (لاتتخذوا) کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت (والا الکفار اولیاء) ہوگی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (و من الذین اشرکوا) ہے۔ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں۔ جیسے فرمایا آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
سورة الْمَآىِٕدَة 87
”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا رسوخ و اثر، اس کا مال، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔
”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی، دینداری کے خلوص، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
چھٹی آیت میں پھر بطور تاکید کے اس حکم کا اعادہ فرمایا گیا ہے جو شروع رکوع میں بیان ہوا تھا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کو اپنا رفیق یا گہرا دوست نہ بناؤ، جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل قرار دیتے ہیں۔ اور یہ دو گروہ ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرا عام کفار و مشرکین۔
امام ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ کفار میں تو اہل کتاب بھی داخل تھے پھر خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب کا مستقل ذکر اس جگہ غالباً اس لئے فرمایا گیا کہ اہل کتاب اگرچہ ظاہر میں بہ نسبت دوسرے کفار کے اسلام کے ساتھ قریب تھے، مگر تجربہ نے یہ بتلایا کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
تفیسر آیت 57۔ 58:۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ ۚوَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔ وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ۔
دین کا مذاق اڑانے والوں سے دوستی غیرت و حمیت کے خلاف ہے : اب یہ ان کے جذبہ غیر و حمیت کو ابھارا ہے کہ جو اہل کتاب اور کفار تمہارے دین کا مذاق اڑاتے اور تماہرے شعائر دین کو کھیل تماشہ بناتے ہیں حیف ہے اگر تم ان کو اپنا دوست بناؤ۔ انسان…
Read the full tafseer →57۔ 1 اہل کتاب سے یہود و نصاریٰ اور کفار سے مشرکین مراد ہیں۔ یہاں پھر یہی تاکید کی گئی ہے کہ دین کو کھیل مذاق بنانے والے چونکہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں اس لئے ان کے ساتھ اہل ایمان کی دوستی نہیں ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔
” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی…
Read the full tafseer →5 کفار سے مراد یہاں مشرکین ہیں جیسا کہ عطف سے ظاہر ہے۔
1 گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو موالات کفار سے منع فرمایا تھا اس آیت میں ایک خاص موثر عنوان سے اسی ممانعت کی تاکید کی گئی اور موالات سے نفرت دلائی گئی ہے ایک مسلمان کی نظر میں کوئی چیز اپنے مذہب سے زیادہ معظم و محترم نہیں ہوسکتی لہذا اسے بتایا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہارے مذہب پر طعن و استہزاء کرتے ہیں اور شعائر اللہ (اذان وغیرہ) کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو ان میں خاموش ہیں وہ بھی ان افعال شنیعہ کو دیکھ کر اظہار نفرت نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں کفار کی ان احمقانہ اور کمینہ حرکات پر مطلع ہو کر کوئی فرد مسلم جس کے دل میں خشیتہ الہٰی اور…
Read the full tafseer →آیت 57 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ ج
پھر وہی بات فرمائی گئی کہ مشرکین اور اہل کتاب میں سے کسی کو اپنا ولی اور دوست نہ بناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
99 غلبہ صرف سچے مومنوں کو ہوگا :۔ یعنی مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کے حقیقی خیر خواہ صرف وہ مسلمان ہی ہوسکتے ہیں جو سچے مسلمان ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کی صورت حال یہ تھی کہ کفار کے مقابلہ میں تعداد میں کم تھے۔ ان کے معاشی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ فتح خیبر میں اموال غنیمت میں بہت سے کھجوروں کے درخت مسلمانوں کے حصہ میں آئے تو یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو سیر ہو کر کھانے کو کھجوریں ملیں اور مہاجروں نے انصار کے وہ کھجوروں کے درخت واپس کیے جن میں وہ محنت کرتے تھے اور عوضانہ کے طور پر نصف پیداوار لیا کرتے تھے۔ سیاسی حالات بھی کچھ ایسے تھے کہ تمام اہل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ…
Read the full tafseer →203 ۔ جو لوگ دین حق سے تمسخر و استہزاء کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں، خواہ وہ کتابی کافر ہوں یا غیرکتابی، ان سے انقطاع تعلقات ودوستی کے باب میں یہ آیت ایک اور نص قطعی ہے۔ ذکر ھھنا النھی العام عن موالاۃ جمیع الکفار (کبیر) (آیت) ” الذین اوتوا الکتب من قبلکم “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ یہود ونصاری ہیں، اسی آیت سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ مشرکین سے مدد لینا ناجائز ہے۔ فیہ نھی عن الاستصار بالمشرکین لان الاولیاء ھم الانصار (جصاص) (آیت) ” من الذین “۔ میں من تبیین وتشریح کے لیے ہے۔ انتخاب وتبعیض کے لیے نہیں، من للبیان (جلالین) اس لیے یہ معنی نہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک طبقہ اس قسم کا ہے، بلکہ مراد ہے اہل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 57 تا 66
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے پیش رو اہل کتاب کو جنہوں نے تمہارے فین کو مذاق اور سامان تفریح بنایا ہے اور من بیانیہ ہے اور کافروں مشرکوں کو (اپنا) دوست نہ بناؤ ھزوا بمعنی مھزوابہ ہے، یعنی مصدر بمعنی مفعول ہے نصب کے ساتھ ہے، ان سے ترک موالات کرکے اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہوم (یعنی) اپنے ایمان میں سچے ہو اور ان لوگوں کو بھی کہ جو تم نماز کیلئے اذان دیتے ہو تو وہ اس نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور کھیل بناتے ہیں اس طریقہ پر کہ اس کا استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تضحیک کرتے ہیں اور ان کا یہ استہزاء وغیرہ کرنا اس وجہ سے ہے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں جب یہود نے نبی ﷺ سے کہا رسولوں…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تتخذوا والذین اتخذوا دینکم ہزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء اے ایمان والو ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا رکھا ہے (خواہ وہ) ان لوگوں میں سے ہوں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (یعنی یہود) یا دوسرے کافر ہوں ‘ کیوں کہ وہ دل میں کافر ہیں ایمان کو ظاہر کرتے ہیں۔ ممانعت موالات کو استہزاء پر مبنی کرنا بتارہا ہے کہ ممانعت کی علت استہزاء ہے اور اس امر پر تنبہ ہے کہ ان کے استہزاء کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان سے دشمنی کی جائے دوستی کا کیا ذکر۔
ہزواً اور لعباً اسم مفعول کے معنی میں ہے یعنی مسخرہ اور کھلونا۔ الکفار سے مراد مشرک…
Read the full tafseer →(57) یعنی یہود و نصاری نے تمہارے دین کو کھیل اور مذاق بنا رکھا ہے ان کو اور تمام کافروں کو دوست مت بناؤ اور ان کو دوست رکھنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈور (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لاتتخذوا“۔ (الخ)
ابوالشیخ اور ابن حبان ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رفاعۃ بن زید تابوت اور سوید بن حارث نے اسلام کا اظہار کیا، پھر یہ لوگ منافق ہوگئے، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص ان دونوں سے دوستی رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”یایھا الذین“ ‘۔ سے ”۔ بما کانوا یکتمون“۔ تک یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ : اوپر کی آیات میں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا، اب یہاں تمام کفار کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اس آیت کی رو سے ان بےدین لوگوں اور اہل بدعت سے دلی دوستی رکھنا بھی جائز نہیں جنھوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے، کبھی داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، کبھی مسنون لباس کا اور کبھی اللہ تعالیٰ کی حدود کا۔ اسی طرح سنت کے مطابق نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو شخص پیدائش، نکاح اور موت کے وقت کفار خصوصاً ہندوؤں کی رسموں میں ان کا ساتھ نہ دے، اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہے جو اہل کتاب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 57۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود اور مشرکین مسلمانوں پر ہنستے تھے جب مسلمان سجدہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا ھزواولعبا ، “۔ الھزا کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء “۔ ابو عمرو اور کسائی نے جر کے ساتھ پڑھا ہے اس معنی میں ” من الکفار “۔ کسائی نے کہا : حضرت ابی کے نسخہ میں ” من الکفار تھا اور یہاں ” من “ جنس کے بیان کے ہے نصب زیادہ واضح ہے یہ نحاس کا قول ہے بعض نے فرمایا : یہ قریب ترین عامل پر معطوف ہے اور وہ (آیت) ”…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفاعہ بن زبیر بن تابوت اور سوید بن حارث نے اسلام کا اظہار کیا اور دونوں نے منافقت کی۔ اور مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگ ان سے دوستیاں لگاتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری۔ لفظ آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعبا سے لے کر واللہ اعلم بما کانوا یکتمون تک۔
(2) امام ابو عبید اور ابن جریر نے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ یوں پڑھتے تھے۔ لفظ آیت ومن الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَتَّخِذُوا : تم لوگ مت بناؤ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو جنھوں نے ] [ اتَّخَذُوْا : بنایا ] [ دِيْنَكُمْ : تمہارے دین کو ] [ هُزُوًا : تمسخر ] [ وَّلَعِبًا : اور تفریح ] [ مِّنَ الَّذِيْنَ : ان لوگوں میں سے جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے ] [ وَالْكُفَّارَ : اور (نہ ہی ) کافروں کو ] [ اَوْلِيَاۗءَ : (اپنا ) کارساز ] [ ۚوَاتَّقُوا ا : اور تقوی اختیار کرو ] [ للّٰهَ : اللہ کا ] [ اِنْ؛اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے ]
ل ع ب ۔ (ف) ۔ لعبا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
اہل کتاب اور دوسرے کفار کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا لیا ہے
ان آیات میں اولاً تو اس مضمون کا اعادہ فرمایا جو گزشتہ رکوع کے شروع میں تھا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ وہاں یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کو منع فرمایا اور یہاں یہود و نصاریٰ کے ساتھ لفظ والْکُفَّارَ کا بھی اضافہ فرمادیا تاکہ دوستی کرنے کی ممانعت تمام کافروں کے بارے میں عام ہوجائے، یہود اور نصاریٰ اور دوسرے تمام کافر جن میں مشرکین ملحدین، منافقین، مرتدین سب داخل ہیں ان سب سے دوستی کرنے کی ممانعت فرما دی، اول تو ان کا کفر ہی دوستی نہ کرنے کا بہت بڑا سبب ہے لیکن ساتھ ہی ان کی ایک اور بدترین حرکت کا بھی تذکرہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–64
اعادہ حکم سابق بعنوان دیگر۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذو۔۔۔ الی۔۔۔ لایحب المفسدین۔
ربط) ۔ اس آیت میں دوسرے عنوان سے حکم سابق کا اعادہ ہے اور کفار کی محبت اور دوستی سے ممانعت کی جاتی ہے مگر عنوان دوسرا ہے جس میں ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کرتے مثلا شعائر اسلام اذان وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے ہیں اخیر رکوع تک ان کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسے لوگوں سے ہرگز دوستی نہ کرو تاکید کے لیے حکم سابق کا اعادہ فرمایا اور قدرے ان کی شرارتوں اور قباحتوں کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
102 پہلے یہود و نصاریٰ کی موالات سے منع فرمایا اب یہاں منافقین اہل کتاب اور مشرکین سے دوستی اور محبت کرنے سے منع فرمایا۔ اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا الخ سے منافقین اہل کتاب مراد ہیں۔ جنہوں نے دین اسلام کو ایک کھیل اور مذاق بنا رکھا تھا کیونکہ جب وہ مسلمانوں کے پاس آتے تو کہتے ہم مومن ہیں اور جب اپنے صنادید کے پاس جاتے تو کہتے ہم تمہارے دین پر ہی ہیں مسلمانوں کی نمازوں میں ہم محض بغرض استہزاء شریک ہوجاتے ہیں۔ وَ اِذَا نَادَیْتُمْ الخ یہ ان کے استہزاء کا بیان ہے یعنی وہ نماز میں تمہارے ساتھ محض استہزاء و تمسخر کے لیے شریک ہوتے اور اس سے ان کا مقصد تمہیں دھوکہ دینا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
ربط آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودو نصاری کی دوستی سے منع فرمایا تھا اور اس کے ساتھ منافقین کی مذمت بیان کی تھی۔ اس کے بعد مرتدین کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ دین سے برگشتہ ہوجائیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر ایمان والوں کو تلقین کی گئی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کار سازی پر اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے حقیقی دوستانہ اور محبت ہونی چاہیے۔ اہل ایمان کی صفات بھی بیان فرمائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگ اللہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ 0ۚ وَاتَّقُوا اللہَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 57
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ترکیب : ومن مبتداء متضمن شرط اللّٰہ اور رسولہ اور والذین آمنوا یتول کا مفعول ‘ فان حزب اللّٰہ خبر لا تتخذوا نہی انتم ضمیر اس کی فاعل الذین موصول اتخذوا فعل دینکم مفعول اول ہزوا ولعبا مفعول ثانی۔ من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم الذین کا بیان یہ تمام صلہ والکفار اس پر معطوف یہ سب مفعول اول یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا کا اولیاء مفعول ثانی۔
تفسیر : اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔ اگر شیعہ یہ کہیں ( کہ اس گروہ کا سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم حضرت علی ؓ تھے اور لوگوں کا حضرت علی ؓ کو خلیفہ نہ کرنا اور ان کا حق تلف کرکے ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنانا اور فاطمہ ؓ کا حق باغ فدک…
Read the full tafseer →تمہید
افراد ہوں یا اقوام ‘ جب وہ نظریاتی قوت یا سیرت و کردار کی عظمت سے محروم ہوجاتی ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے معاملات کو صرف نفع و ضرر کے حوالے سے دیکھتی ہیں۔ جہاں وہ محسوس کرتی ہیں کہ ہمیں یہاں سے نقصان پہنچ سکتا ہے ‘ وہ اس کے قریب جانا بھی پسند نہیں کرتیں۔ اسی طرح وہ اپنے تعلقات کو بھی عافیت و خطر کے حوالے سے متعین کرتی ہیں۔ جہاں انھیں خطرے کا احساس ہوتا ہے یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی بقا کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے تو وہ ایسے تعلق کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ گزشتہ رکوع میں کمزور مسلمانوں اور منافقین کو اسی طرز عمل میں ہم نے گرفتار دیکھا ہے۔ وہ یہود و نصاریٰ سے اس لیے ترک تعلق پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ اور کفار سے قلبی تعلقات نہ رکھنے کے مزید تین اسباب :
یہود و نصاریٰ اہل کتاب اور اہل مکہ کعبہ کے متولی اور ملت ابراہیم کے دعوے دار ہونے کے باوجود اسلام جیسے سچے دین، نماز جیسی افضل ترین عبادت اور اس کی پکار یعنی اذان کو کھیل تماشا اور استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ (الانفال : 35) میں ذکر ہوا ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے تو انھوں نے اونٹ کی بھاری بھرکم گندگی سے بھری ہوئی اوجڑی آپ کے کمر مبارک پر رکھ دی تھی۔ ان کی یہ…
Read the full tafseer →موالاتِ کفار سے ممانعت :
آیت 57 : روایت میں ہے کہ رفاعہ بن یزید اور سوید بن الحارث نے کھلے طور پر اسلام قبول کیا۔ پھر منافقت اختیار کی۔ بعض مسلمانوں کی ان سے دوستی تھی تو یہ آیت اتری۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّ لَعِبًایعنی وہ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور تماشہ بناتے ہیں۔ اور تم ان سے دوستی اختیار کرتے ہو۔ یہ کہاں تک درست ہے وہ تو اس قابل ہیں کہ ان کا سامنا بغض اور علیحدگی سے کیا جائے۔ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَیہ من بیانیہ ہے۔ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَپہلے کفار سے مراد مشرکین ہیں۔ اس کا عطف الذین پر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
آیت نمبر 59, 58, 57
تفسیر :(یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الذین اتخذو دینکم ھزوا ولعبا اے ایمان والو ! مت بنائو ان لوگوں کو جو تمہارے دین کو بناتے ہیں ہنسی اور کھیل) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رفاعہ بن زید بن تابوت اور سوید بن حارث نے اس اسلام کو ظاہر کیا پھر منافق ہوگئے۔ مسلمانوں کے ایک آدمی کو ان سے گہری دوستی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! نہ بنائو ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل) اپنے کفر کو اندر چھپا کر اور اس میں مذاق کو زبان سے ظاہر کرکے ۔ (من الذین اوتوا الکتاب من قلبکم وہ لوگ جو کتاب دیئے گئے تم سے پہلے) یعنی ہود (والکفار اور نہ کافروں…
Read the full tafseer →تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابو الشیخ ابن حبان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بعض یہودی ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں اسلام کو اچھا نہیں جانتے تھے اور بعض مسلمان ان یہودیوں کو سچا مسلمان سمجھتے تھے ان سے کمال دوستی رکھتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎ اور جتلادیا کہ یہ لوگ دین اسلام کو ٹھٹھا ٹھیرانے والے لوگ ہیں ان سے دوستی اچھی نہیں ہے صحیح مسلم کے حوالے سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایمان دار آدمی کے ایمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ جہاں کہیں کوئی خلافت شریعت بات دیکھے تو ہاتھ سے زبان سے اس کی اصلاح کی کوشش کرے اگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(آیت 56)
اللہ تبار کو تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے (انما ولیکم اللہ و رسولہ) ” تمہارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے “ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی، یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسول ﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے یا یھا الذین امنوا لاتتخذو الذین اتخذوادینکم ھزوا والعبا ًمن الذین اوتوا الکتاب من قبلکم والکفار اولیاء اے ایمان لانے والو ! تمہارے پیش رو اہل کتاب میں جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، انہیں اور دور سے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو۔ آیت میں کافروں سے مدد لینے کی نہی ہے اس لیے اولیاء یعنی دوست اور رفیق وہ لوگ ہوتے ہیں جو مدد کرتے ہیں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ جب آپ نے احد کے معرکے پر نکلنے کا ارادہ کا ارادہ کیا تو یہودیوں کا ایکگروہ آ کر کہنے لگا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے ۔ آپ نے انہیں جو اب دیتے ہوئے فرمایا :” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ حضور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
142 جہاد فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم اور امتیازی صفت : چناچہ اہل ایمان کی خاص اور امتیازی صفات کے ذکر وبیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ مومنین صادقین اور اللہ کے محبوب بندوں کی ایک اہم اور خاص صفت ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے تاکہ اس طرح وہ حق کے مقابلہ میں سرکشی کرنے والوں کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیں اور دین کا بول بالا ہو۔ اور وہ حق اور اہل حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور دین سب کا سب اللہ ہی کیلئے ہو۔ اور اس جہاد سے ان کا مقصد محض رضائے خداوندی کا حصول اور دین حق کی سربلندی ہوتا ہے۔ سو محبوبان خدا راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
دین اسلام کا مذاق اڑانے والے سے دوستی نہ لگاؤ اور یہود کی سزا
تشریح : ان آیات میں کوئی نئی بات نہیں سب کچھ بیان ہوچکا ہے۔ یہاں یہود و کفار کی غیر اخلاقی حرکتوں کا ذکر ہے، پھر ان کے عذاب بتائے گئے ہیں اور پھر غلط اور برے لوگوں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ آیات میں تفصیل سے بتا دیا گیا ہے۔ اگلی آیات میں بھی یہود کی خصلت کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 57 ۔ تا ۔ 66:
اسرار و معارف :
خصوصاً یہودی ہوں یا نصرانی یا ایسے لوگ جو دین اسلامکا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگوں سے ایماندار آدمی کو دوستی نہ زیب دیتی ہے اور نہ فائدہ نہ اس کے لائے جائز ہے بلکہ تقوی کے خلاف ہے یعنی وہ محبت بھرے جذبات جو ذات باری کے ساتھ نصیب ہوتے ہیں مجروح ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں حالانکہ یہ ان میں تبدیلی کرچکے ہیں اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں جیسے اذان سن کر مذاق کرتے ہیں اس لیے کہ امور دینیہ میں ان کی عقل ماری گئی ہے بس پوری توجہ صرف حصول دنیا پہ ہے اور دین کو سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔
آپ ان سے پوچھئے تو…
Read the full tafseer →ف 1 اوپر کی آیت میں خاص کر یہود و نصاریٰ کی مولاۃ سے منع فرمایا۔ اب یہاں بالعموم تمام کفار سے مولاۃ کو منع قرار دیا ہے (کبیر) اس آیت کی رو سے ان اہل بد عت سے دوستی رکھنا بھی حرام ہے جنہوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے۔ کیونکہ جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہو جو اہل کتاب ہی میں پایا جاتا ہے تو لازما ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہل کتاب کا ہے۔ (نفع القدیر) یعنی اس کی نقلیں اتارتے ہیں تمسخر سے اس کے الفاظ بدلتے ہیں اور اس پر آوازے کستے اور شور ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ (ابن کثیر کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(5:55) ولیکم۔ تمہارا دوست۔ تمہارا مددگار۔ یتول۔ دیکھو 5:51 ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ دوست رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–62
آیت نمبر 57 تا 62
لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ ھزوا (مذاق) ۔ لعب (کھیل کود۔ تماشا) ۔ نادیتم (تم نے آواز دی۔ ندادی) تنقمون (تم انتقام لیتے ہو ۔ بدلہ لیتے ہو) ۔ بشر من ذلک (اس سے برا) ۔ مثوبۃ (ثواب) ۔ جزا۔ بدلہ) ۔ لعن (اس نے لعنت کی) ۔ غضب علیہ (وہ اس پر غصہ ہوا) ۔ القردۃ (بندر) ۔ الخنازیر (خنزیر) ۔ سور پورک) ۔ عبد (اس نے عبادت کی۔ بندگی کی) ۔ الطاغوت (شیطان۔ شیطانی قوتیں) ۔ مکان (ٹھکانہ) ۔ اضل (زیادہ گمراہ) ۔ خرجوا (وہ نکلے) یکتمون (وہ چھپاتے ہیں) ۔
تشریح : اب تک یہ بتایا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو حقیقی دوستی کرنی ہے تو کن سے اور کیوں۔ اب ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →شان نزول : بعضے یہود ظاہر میں تو مسلمان ہوگئے تھے مگر باطن میں اسلام کو اچھا نہیں جانتے تھے اور بعضے مسلمان ان کو سچا مسلمان سمجھتے تھے ان سے کمال دوستی رکھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جتلادیا کہ یہ لوگ دین اسلام کو ٹھٹھا ٹھرانے والے ہیں ان سے دوستی اچھی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ اور رسول ﷺ اور تمام مخلص مسلمانوں کی تائید حاصل ہے ، اس لئے یہ گروہ خدا کا گروہ ہے جس کی قسمت میں ابدا نصرت و غلبہ مقدر ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 2 مسلمانو ! تمہارا حقیقی ولی اور مددگار تو اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ کا رسول ہے اور تمہارے حقیقی مددگار وہ مسلمان ہیں جو نماز کے پابند ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی نمازوں میں رکوع بھی کرتے ہیں یعنی بےرکوع کی نماز نہیں پڑھتے اور جو شخص اس ضابطہ کے موافق اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اہل ایمان سے رفاقت کرے گا اور ان مذکورین سے دوستی قائم رکھے گا تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں ہوں گے اور اس امر کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کا گروہ ہی غالب ہونے والا ہے۔
آیت میں حقیقی ولایت کی طرف توجہ دلائی کہ حقیقی ولایت اور معاونت اور رفاقت کا مستحق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور تبعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 4۔ یعنی عقائد و اخلاق و اعمال بدنی ومالی سب کے جامع ہیں۔
Read the full tafseer →دین کا مذاق اڑانے والوں سے دوستی روایات اسلامی کے خلاف ہے :
164: کسی قوم سے دوستی نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے دشمنی ہے اور نہ ہی کسی قوم سے دشمنی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے دوستی ہے اس جگہ جس چیز سے منع کیا جا رہا ہے وہ صرف دوستی سے منع کیا جا رہا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ دوست دوست کو بہت کچھ بتا دیتا ہے اور بہت کچھ اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا اور بہت کچھ وہ ہے جو اس کو دوست سے پوشیدہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اس لئے جس سے دوستی نہ ہوگی اس سے گویا لا تعلقی ہوگئی اگرچہ ضروری نہیں کہ اس سے دشمنی ہوگئی۔ ایمان والوں کو منع کیا جا رہا ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ اور کفار کو جن لوگوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
The Prohibition of Friendship with those who make fun of Islam
In the sixth verse (57), Allah Almighty has again stressed upon the injunction mentioned in verse 51 at the beginning of the Section, the sense of which is that the Muslims should not seek close friendship with people who make fun of their religion. They can be divided in two groups: The People of the Book, that is, the Jews and the Christians; and the disbelievers and non-Muslims in general. In al-Bahr al-Muhit, Imam Abu Hayyan (رح) says that the People of the Book were already included under the word, Kuffar or disbelievers,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
87. To be 'humble towards believers' signifies that a person should never use his strength against the believers. His native intelligence, shrewdness, ability, influence, wealth, physical prowess should not be used for the purpose of either suppressing, persecuting or causing harm to the Muslims. Among themselves, the Muslims should always find him gentle, merciful, sympathetic and mild tempered.
To be 'firm towards unbelievers', on the contrary, means that by virtue of the intensity of his faith, the sincerity of his conviction, his strict adherence to his principles, his strength of…
Read the full tafseer →