Explained with ayahs 54–56
قوت اسلام اور مرتدین
اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
سورة الْمَآىِٕدَة 87
”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا رسوخ و اثر، اس کا مال، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔
”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی، دینداری کے خلوص، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا
وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ، اس میں ارشاد فرمایا کہ ان احکام الٓہیہ کی تعمیل کرنے والے مسلمان اللہ کا گروہ ہیں اور پھر یہ خوش خبری سنا دی کہ اللہ کا گروہ ہی انجام کار سب پر غالب آکر رہے گا۔
آنے والے واقعات نے اس کی ایسی تصدیق کردی کہ ہر آنکھوں والے نے دیکھ لیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب پر غالب آ کر رہے۔ جو طاقت ان سے ٹکرائی پاش پاش ہوگئی خلیفہ اول صدیق اکبر ؓ کے مقابلہ پر اندرونی فتنے اور بغاوتیں کھڑی ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سب پر غالب فرمایا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ کے مقابلہ پر دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
تفسیر آیت 55۔ 56:۔ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔
آیت 51 میں جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی تھی وہی بات اب مثبت پہلو سے کہی جا رہی ہے۔ یہی یہود و نصاری کو اپنا دوست اور معتمد نہ بناؤ بلکہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست اور معتمد بناؤ۔ تمہارا ایمان (اگر وہ موجود ہے) تم کو ان سے جوڑتا ہے نہ کہ ان سے۔ " والذین امنوا " یہاں اپنے حقیق مفہوم میں ہے، یعنی مومنین مخلصین۔
ایمان کی…
Read the full tafseer →56۔ 1 یہ حزب اللہ ہے (اللہ کی جماعت) کی نشاندہی اور اس کے غلبے کی نوید سنائی جا رہی ہیں۔ حزب اللہ وہی ہے جس کا تعلق صرف اللہ، رسول اور مومنین سے ہو اور کافروں، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے چاہے وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہوں، وہ محبت و معاملات کا تعلق نہ رکھیں۔ جیسا کہ سورة مجادلہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ " تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہوں، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، ان کے بیٹے ہوں، ان کے بھائی ہوں یا ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگ ہوں، پھر خوشخبری دی گئی کہ " یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں میں ایمان ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →(آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (56) (5 : 55۔ 56)
” اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اور اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔
ایمان کے اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے غلبے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور ایمانی اصل اور ایمانی قاعدہ یہ ہے کہ موالات اور دوستی صرف اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہو۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم یہودیوں کے ساتھ موالات کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اسلامی صفوں سے خارج تصور ہوگا ‘ تمہارا شمار یہودونصاری میں ہوگا اور معنوی اعتبار سے تمہارا یہ عمل دین سے ارتداد ہوگا۔
یہ لمحہ فکریہ قرآن…
Read the full tafseer →4 کفار کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت عدد کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا کہ کوئی ضعیف القلب اور ظاہر بین مسلمان اس تردد میں پڑجاتا کہ تمام دنیا سے موالات منقطع کرنے اور چند مسلمانوں کی رفاقت پر اکتفا کرلینے کے بعد غالب ہونا تو درکنار، کفار کے حملوں سے اپنی زندگی اور بقاء کی حفاظت بھی دشوار ہے۔ ایسے لوگوں کی تسلی کے لئے فرما دیا کہ مسلمانوں کی قلت اور ظاہری بےسرو سامانی پر نظر مت کرو۔ جس طرف خدا اور اس کا رسول اور سچے وفادار مسلمان ہونگے، وہ ہی پلہ بھاری رہے گا۔ یہ آیتیں خصوصیت سے حضرت عبادہ ابن صامت ؓ کی منقبت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہود بنی قینقاع سے ان کے بہت زیادہ دوستانہ تعلقات تھے۔ مگر خدا اور رسول کی…
Read the full tafseer →آیت 56 وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
یوں سمجھ لیں کہ یہاں یہ فقرہ محذوف ہے : تو وہ شامل ہوجائے گا حزب اللہ اللہ کی پارٹی میں۔
فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ
یہ شرائط پہلے پوری کی جائیں ‘ ان تمام معیارات پر پورا اترا جائے ‘ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر ایمان رکھا جائے ‘ تو پھر یقیناً حزب اللہ ہی غالب رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
99 غلبہ صرف سچے مومنوں کو ہوگا :۔ یعنی مسلمانوں کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کے حقیقی خیر خواہ صرف وہ مسلمان ہی ہوسکتے ہیں جو سچے مسلمان ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کی صورت حال یہ تھی کہ کفار کے مقابلہ میں تعداد میں کم تھے۔ ان کے معاشی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ فتح خیبر میں اموال غنیمت میں بہت سے کھجوروں کے درخت مسلمانوں کے حصہ میں آئے تو یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کو سیر ہو کر کھانے کو کھجوریں ملیں اور مہاجروں نے انصار کے وہ کھجوروں کے درخت واپس کیے جن میں وہ محنت کرتے تھے اور عوضانہ کے طور پر نصف پیداوار لیا کرتے تھے۔ سیاسی حالات بھی کچھ ایسے تھے کہ تمام اہل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ…
Read the full tafseer →202 ۔ (بہ اعتبار اصل حقیقت کے گو بعض اوقات اس غلبہ کے آثار کسی حکمت ومصلحت کی بنا پر ظاہر نہ ہوں) بہ قول مفسر تھانوی (رح) حقیقۃ ارفع تو مومنین ہی ہیں، گوحکمت ابتلا وغیرہ کی بنا پر کسی خاص محل، مثلا اس دنیا میں، اور کسی خاص وقت تک اس ارفعیت کے آثار نمایاں نہ ہوں، واقعیت بجائے خود قائم ہے، خواہ اس کے آثار بعد ایک مدت کے اسی دنیا میں ظاہر ہوجائیں خواہ کسی دوسرے محل کے لیے، مثلا آخرت میں اپنے ظہور کے اصلی اور مقدر وقت پر اٹھ رہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ غلبہ کی تفسیر اگر قوت قلب سے کی جائے تو فہم سہل تر ہوجائے، اہل اللہ پر اسباب مغلوبیت کا ظاہرا کتنا ہی ہجوم ہو، لیکن ان کو ضعف واستکانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا اور جن کے دوست اللہ ‘ اللہ کا رسول اور مؤمن ہوں (تو یہ اللہ کا گروہ ہوگا) حضرت ابن عباس نے فرمایا ان سے مراد مہاجر و انصار ہیں یعنی جو لوگ مہاجرین و انصار کی دوستی اختیار کریں گے۔
فان حزب اللہ ہم الغالبون اور اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے ‘ اصل میں فان حزب اللّٰہ کی جگہ فانہم ہونا چاہئے (کیونکہ مرجع پہلے مذکور ہے) مگر غلبہ کو مدلل کرنے کے لئے لفظ حزب اللہ فرمایا (کہ یہ اللہ کا گروہ ہے) گویا یوں فرمایا کہ جو لوگ ان کے دوست ہوں گے وہ اللہ کا گروہ ہوں گے اور اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے نتیجہ یہ نکلا کہ یہ ہی لوگ غالب آنے والے ہیں ‘ پھر لفظ حزب اللہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(55۔ 56) حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اسد، اسید اور ثعلبۃ بن قیس وغیرہ کو یہود نے تکالیف پہنچائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی تسلی کے لیے فرماتے ہیں کہ تمہارا محافظ و مددگار اور دوست اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھی ہیں جو پانچوں نمازوں کو باجماعت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو ان سے دوستی رکھے تو اللہ تعالیٰ کی جماعت یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اپنے دشمنوں پر یقیناً غلبہ رکھتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”انما ولیکم اللہ ورسولہ“۔ (الخ)
طبرانی ؒ نے اوسط میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی کرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ۔۔ : اوپر کی آیات میں کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اب اس آیت میں ”اِنَّمَا“ کلمۂ حصر کے ساتھ بتایا کہ تمہارے دوست صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں، اس لیے یہود کو مددگار اور دوست نہ بناؤ، بلکہ صرف مومنین کو اپنا مددگار سمجھو۔ (ابن کثیر، کبیر) یہاں ”وَهُمْ رٰكِعُوْنَ“ کے معنی ہیں ”جھکنے والے، عاجزی کرنے والے۔“ چناچہ قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے : (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) [ المؤمنون : 60 ] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں۔“ (کبیر،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 56۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا “۔ یعنی جس نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے والی کے حکم کی پیروی کی وہ اللہ کا گروہ ہے، بعض علماء نے فرمایا : جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے قیام، رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی نصرت کو مددگار بنایا۔ (آیت) ” فان حزب اللہ ھم الغلبون “۔ حسن نے کہا : حزب اللہ سے مراد اللہ کا لشکر ہے، ان کے علاوہ نے کہا : وہ اللہ کے انصار ہیں، شاعر نے کہا : کیف اضوی و بلال حزبی۔
یعنی میں کیسے کمزور سمجھا جاتا ہوں جب کہ بلال میرا مددگار ہے۔
مومنین اللہ کا حزب ہیں یقینا وہ یہود پر غالب آئے انہیں قیدی بنا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ غالب کون ہے۔ پھر فرمایا (غالب وہ ہے) جو کسی حکومت اور مصیبت سے نہ ڈرے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ : اور جو ] [ يَّتَوَلَّ : دوستی کرے گا ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول سے ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ فَاِنَّ : تو بیشک ] [ حِزْبَ اللّٰهِ : اللہ کی جماعت ] [ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ : ہی غالب ہونے والی ہے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے دوستی کرنیوالے ہی غالب ہوں گے
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ) (اور جو شخص دوستی کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے سو اللہ کے گروہ کے لوگ ہی غالب ہونے والے ہیں) ۔
اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کریں اور اس تردد میں رہیں کہ نہ جانے کون غالب ہوتا ہے، اگر کافروں سے دوستی رکھی اور وہ غالب ہوگئے تو یہ دوستی کام دیگی جیسا کہ عبد اللہ بن ابی نے کہہ دیا تھا (نَخْشٰی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآءِرَۃٌ) (ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
فتنہ ارتداد اور غلبہ اسلام کی پیشن گوئی۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ھم الغالبون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیت میں جو ارتداد سے بچانے کے لیے مسلمانوں کو حکم ہوا تھا کہ کفار سے دوستی نہ کریں جو ان سے محبت کرے گا وہ فی الحال یافی المال انہیں میں سے ہوجائے گا یعنی مرتد ہوجائے گا لہذا اب اس آیت میں ارتداد کی سزا ارشاد فرماتے ہیں اور عنقریب پیش آنے والے فتنہ ارتداد اور اسلام کے غلبہ اور اسی کے ابدی بقاء اور حفاظت اور تائید غیبی کے متعلق ایک عظیم الشان پیش گوئی فرماتے ہیں اور نزول آیت کے وقت جو مسلمان موجود تھے ان کو پہلے ہی سے یہ خبر دیتے ہیں کہ عنقریب فتنہ ارتداد پیش آئے گا اور تم میں کے کچھ…
Read the full tafseer →101 جو لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین سے دوستی اور محبت کا رشتہ قائم کرتے ہیں۔ یعنی اللہ اور رسول کی پوری پوری اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں اور ایمان والوں کے خلاف بغض و عداوت نہیں رکھتے بلکہ ان سے اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہتے ہیں تو یہ لوگ حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ کی جماعت ہی انجام کار غالب اور کامران ہوتی ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے محبت و موالات کرنے کی ترغیب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ربط آیات
پہلے منافقین اور اہل کتاب کی برائیوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لقسن عہد ‘ احکامات الٰہی کی خلاف ورزی اور برے امور کی انجام دہی کی وجہ سے ان کی مذمت بیان فرمائی۔ پھر گذشتہ آیات میں ان کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہود ونصاری اور مشرکین ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں مگر اہل ایمان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان میں اسلام کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لہذا ان کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اب آج کی آیات میں اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دین حق…
Read the full tafseer →وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ 56ۧ
ولي
وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه .
فمن الأوّل قوله :
وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] .
ومن الثاني قوله :
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ،
( و ل ی ) الولاء والتوالی
اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ترکیب : ومن مبتداء متضمن شرط اللّٰہ اور رسولہ اور والذین آمنوا یتول کا مفعول ‘ فان حزب اللّٰہ خبر لا تتخذوا نہی انتم ضمیر اس کی فاعل الذین موصول اتخذوا فعل دینکم مفعول اول ہزوا ولعبا مفعول ثانی۔ من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم الذین کا بیان یہ تمام صلہ والکفار اس پر معطوف یہ سب مفعول اول یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا کا اولیاء مفعول ثانی۔
تفسیر : اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔ اگر شیعہ یہ کہیں ( کہ اس گروہ کا سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم حضرت علی ؓ تھے اور لوگوں کا حضرت علی ؓ کو خلیفہ نہ کرنا اور ان کا حق تلف کرکے ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنانا اور فاطمہ ؓ کا حق باغ فدک…
Read the full tafseer →وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللہ َ وَ رَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (المائدہ : 56)
” اور جو اللہ ‘ اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست بناتے ہیں تو وہ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ ہی کی جماعت ہے ‘ جو غالب رہنے والی ہے “۔
آخری فتح مومنین ہی کی ہوگی
یہاں ایک بہت بڑی حقیقت کا انکشاف کیا جا رہا ہے ‘ جو آج ہمارے لیے بھی چشم کشا ہے اور اس دور کے منافقین کے لیے بھی سبق آموز تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہود و نصاریٰ اور دوسرے کفار چونکہ ابھی تک بڑی طاقت کے مالک ہیں ‘ اس لیے ان سے ترک تعلق نہیں ہوسکتا ورنہ کسی بھی نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے اور آج ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی باہمی محبت کے ذریعے تسلی دی جارہی ہے۔
خطاب کے آغاز اور رکوع کی ابتدا میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں یہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ محبت کرتے ہیں کیونکہ تم اللہ ہی کے لیے دین کے دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہو۔ تم اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کی حالت میں جھکنے والے اور اس کی رضا کی خاطر زکوٰۃ کی شکل میں غرباء سے تعاون کرنے والے رکوع کرتے ہوئے عاجزی اختیار کرنے…
Read the full tafseer →آیت 56 : وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا یتولّی کا معنی دوست بنانا۔ یا دوست ہونا۔ فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے۔ یعنی فانہم ہم الغالبون کی بجائے ان حزب اللّٰہ فرمایا۔ یا حزب سے رسول اللہ ﷺ اور مومن مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے ان سے دوستی اختیار کی تو اس نے اللہ کے لشکر سے دوستی کی۔ اور اس سے بھائی بندی کرلی جو مغلوب نہیں ہوتا۔ الحزب کا معنی کسی پیش آنے والے کام کے لئے جو لوگ جمع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 56
تفسیر : (ومن یقول اللہ ورسولہ والذین امنوا اور جو کوئی دوست رکھے اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ایمان والوں کو ) یعنی دوستی قائم رکھے اللہ کی اطاعت پر قائم رہنے اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کی مدد کرکے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مہاجرین اور انصار ہیں (فان حزب اللہ تو اللہ کی جماعت) یعنی اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ( ھم الغالبون وہی سب پر غالب ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(55 ۔ 56) ۔ اگرچہ طبرانی عبد الرزاق ابن جریر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اس آیت کا شان نزول اس قصہ کو قرار دیا ہے جس میں حضرت علی ؓ کا رکوع کی حالت میں ایک فقیر کو انگوٹھی خیرات کرنے کا ذکر ہے مگر یہ قصہ ذرا تردد طلب ہے اس لئے اولیٰ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی شان نزول بھی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا قصہ قرار دیا جاوے اور حضرت علی ؓ کو بھی آیت کا مصداق ٹھیرایا جاوے 2 ؎۔ عبادہ بن صامت ؓ کا یہ وہی قصہ ہے جس کو حافظ ابو جعفر ابن جریر 3 ؎ نے اپنی تفسیر میں اور محمد بن اسحاق نے اپنی مغازی میں معتبر سند سے خود عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے حاصل اس قصہ کا اوپر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(آیت 56)
اللہ تبار کو تعالیٰ نے جب یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار کی دوستی سے روکا اور ذکر فرمایا کہ ان کی دوستی کا انجام واضح خسارہ ہے۔ جس کی دوستی متعین اور واجب ہے، اب اس کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس کے فائدے اور مصلحت کا ذکر کیا ہے (انما ولیکم اللہ و رسولہ) ” تمہارا دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول ہی ہے “ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی) ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے جو کوئی صاحب ایمان اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی، یعنی دوست ہے اور جو اللہ کا دوست ہے وہ اس کے رسول ﷺ کا دوست ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو دوست بناتا ہے تو اس دوستی کی تکمیل یہ ہے کہ اللہ جن کو دوست بناتا ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
نماز میں عمل قلیل کا بیان
قول باری ہے انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھو راکعون تمہارا رفیق تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے اور رکوع کرتے ہیں۔ مجاہد ، سدی ، ابوجعفر اور عتبہ بن ابی الحکم سے مروی ہے کہ آیت کا نزول حضرت علی ؓ کے بارے میں ہوا۔ جب آپ نے رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی خیرات کردی تھی ۔ حسن سے مروی ہے کہ یہ آیت تمام مسلمانوں کی توصیف میں نازل ہوئی ہے اس لیے کہ قول باری الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون پوری جماعت کی صفت میں ہے فرد واحد کی صفت میں نہیں ہے۔ قول باری وھم راکعون کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
142 جہاد فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم اور امتیازی صفت : چناچہ اہل ایمان کی خاص اور امتیازی صفات کے ذکر وبیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ مومنین صادقین اور اللہ کے محبوب بندوں کی ایک اہم اور خاص صفت ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے تاکہ اس طرح وہ حق کے مقابلہ میں سرکشی کرنے والوں کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیں اور دین کا بول بالا ہو۔ اور وہ حق اور اہل حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور دین سب کا سب اللہ ہی کیلئے ہو۔ اور اس جہاد سے ان کا مقصد محض رضائے خداوندی کا حصول اور دین حق کی سربلندی ہوتا ہے۔ سو محبوبان خدا راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم اور اس کے اوصاف
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار اور منافقین کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، اس لیے نہیں کہ انسان دوستی بری ہے۔ انسان دوستی تو مسلمان کا پہلا سبق ہے مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے کہ وہ جاسوسی کرتے تھے بظاہر مسلمان ہوتے تھے مگر اندر سے مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ صاف صاف اعلان کرتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ اللہ کے دین کو چھوڑ کر کافر یا مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان سے اسلام کو یا اللہ کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے خود ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اللہ بڑی قدرت، طاقت اور اختیار رکھتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔
اسرار و معارف :
ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →ف 6 شعیہ حضرات علی ؓ کی امامت بلا فصل ثاتب کرتے ہیں ان کے استدلال کا مدار تو اس بات پر ہے کہ یہ آیت خالص کر حضرت علی ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے مگر ہم نے یہ ثاتب کیا ہے کہ آیت عبادہ ؓ بن صامت اور ان کے رفقا ؓ کے حق میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی ؓ فی الجملہ ان میں داخل ہی اسکے علاوہ جب اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں تو پھر صرف حضرت علی ؓ کیسے مراد ہوسکتے ہیں اور پھر جب آیت کے نزول کے ساتھ ہی مومنین کی ولادت ثابت ہوگئی تو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعدتک اس کو ملتوی رکھنا نے معنی ہے نیز ولی کے معنی دوست اور مددگار کے بھی آتے ہیں اور والی اور متصف کے بھی سیاق وسباق معنی اول کا مئو ید ہے تو بلا قرینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(5:55) ولیکم۔ تمہارا دوست۔ تمہارا مددگار۔ یتول۔ دیکھو 5:51 ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ دوست رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت نمبر 55 تا 56
لغات القرآن : راکعون (رکوع کرنے والے۔ جھکنے والے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ۔ فریق)
تشریح : پچھلی آیت میں اللہ کی جماعت (حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقا مجاہدین ؓ کی پانچ علامتیں بتائی گئیں تھیں۔ ان آیات میں مزید پانچ علامتیں بتائی گئی ہیں اس وعدہ کے ساتھ کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔
(1) وہ ایمان والے ہیں۔
(2) وہ نماز قائم کرتے ہیں۔
(3) وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (اور مانعین زکوٰۃ سے جہاد کرتے ہیں)
(4) وہ رکوع اور سجود میں (نوافل) میں مشغول رہتے ہیں)
(5) اللہ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو اپنا پکا دوست بناتے ہیں۔
یہاں پر جو لفظ ” راکعون “ آیا ہے اس کے معنی اور ہیں یعنی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی طرح جو شخص مخالف اسلام لوگوں کی دوستی سے بیزار ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اور نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہنے والے پکے مسلمان، سب ایسے شخص کے دوست اور رفیق ہیں اور ایسے لوگ اللہ کا گروہ کہلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے گروہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ یہ گروہ مخالفوں پر غالب رہے گا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ اور رسول ﷺ اور تمام مخلص مسلمانوں کی تائید حاصل ہے ، اس لئے یہ گروہ خدا کا گروہ ہے جس کی قسمت میں ابدا نصرت و غلبہ مقدر ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 2 مسلمانو ! تمہارا حقیقی ولی اور مددگار تو اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ کا رسول ہے اور تمہارے حقیقی مددگار وہ مسلمان ہیں جو نماز کے پابند ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی نمازوں میں رکوع بھی کرتے ہیں یعنی بےرکوع کی نماز نہیں پڑھتے اور جو شخص اس ضابطہ کے موافق اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور اہل ایمان سے رفاقت کرے گا اور ان مذکورین سے دوستی قائم رکھے گا تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں ہوں گے اور اس امر کا یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کا گروہ ہی غالب ہونے والا ہے۔
آیت میں حقیقی ولایت کی طرف توجہ دلائی کہ حقیقی ولایت اور معاونت اور رفاقت کا مستحق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور تبعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 4۔ یعنی عقائد و اخلاق و اعمال بدنی ومالی سب کے جامع ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا رفیق و مددگار بنانے والے ہی حزب اللہ ہیں :
163: مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا رفیق و مددگار بنانے والے ہیں وہی دراصل اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ ہی کی جماعت ہے جو غالب آنے والی ہے اور اس جماعت کو حقیقت میں ” حزب اللہ “ کا نام دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ صرف ” حزب اللہ “ نام رکھ لینے سے اللہ کی جماعت نہیں ہوجاتی اگر کسی اندھے کا نام نور عالم ہو تو ظاہر ہے کہ نام رکھنے سے وہ عالم کا نور نہیں ہوجائے گا بلکہ اندھے کا اندھا ہی رہے گا۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو لوگ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہیں وہ ایک دن اپنے کئے پر…
Read the full tafseer →In other words, it is said here that those who obey the commands of Allah are the People of Allah. Given to them is the good news that they will be the ones to finally overcome. The events which unfolded later on confirmed the veracity of this statement when everyone saw that the noble Companions, may Allah be pleased with them all, overcame all powers which threatened them. When internal rebellions challenged Sayyidna Abu Bakr ؓ ، Allah Almighty helped him prevail over all of them. When the towering powers of Ceaser and Cyrus marshaled their menacing might against Sayyidna ` Umar al-Faruq…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
87. To be 'humble towards believers' signifies that a person should never use his strength against the believers. His native intelligence, shrewdness, ability, influence, wealth, physical prowess should not be used for the purpose of either suppressing, persecuting or causing harm to the Muslims. Among themselves, the Muslims should always find him gentle, merciful, sympathetic and mild tempered.
To be 'firm towards unbelievers', on the contrary, means that by virtue of the intensity of his faith, the sincerity of his conviction, his strict adherence to his principles, his strength of…
Read the full tafseer →