Al-Maaida 5:55

Al-Maaida · from ayah 55

5:55

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ ۟اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Your ally is none but Allah and [therefore] His Messenger and those who have believed - those who establish prayer and give zakah, and they bow [in worship].

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:55

تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(مسلمانو)! تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور وه رکوع (خشوع وخضوع) کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) تمہارے یارومددگار تو اللہ، اس کے رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو اس طرح نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں کہ وہ (دل سے) اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک تمہارا (مددگار) دوست تو اﷲ اور اس کا رسول ﷺ ہی ہے اور (ساتھ) وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ (اﷲ کے حضور عاجزی سے) جھکنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے ایمان والو !) تمہارے دوست صرف اللہ، اس کا رسول اور ایمان لانے والے ہیں جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تمہارے دوست اور معتمد تو بس اللہ، اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز کا اہتمام کرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے نہیں کہ تمہارا دوست (اے ایمان والو !) اللہ ہے، اور اس کا رسول، اور وہ ایماندار لوگ، جو قائم کرتے ہیں نماز کو، اور ادا کرتے ہیں زکوٰۃ کو، اور وہ (دل و جان سے) جھکے رہتے ہیں (اپنے رب کے حضور)

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور ایمان والے ہیں جو نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے رہتے ہیں اس حال میں کہ وہ خشوع بھی رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تمہارے ولی تو اصل میں بس اللہ اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں جھک کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تمہارا دوست تو اصل میں صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ مومن ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Only Allah, His Messenger, and those who believe and who establish Prayer, pay Zakah, and bow (before Allah) are your allies.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your only friend is Allah, then His Messenger and those who believe, who establish Salah and pay Zakah and bow before Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Your only friend is Allah, then His Messenger and those who believe, who establish Salah and pay Zakah and bow before Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, your Protector is Allah, His Messenger, and the believers, those who perform the Salah, and give Zakah, and they bow down.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Your guardian can be only Allah; and His messenger and those who believe, who establish worship and pay the poordue, and bow down (in prayer).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Your ally is none but Allah and [therefore] His Messenger and those who have believed - those who establish prayer and give zakah, and they bow [in worship].

— Saheeh International

Only God, His Messenger, and the true believers who are steadfast in prayer and pay alms, while they kneel during prayer, are your guardians.

— Muhammad Sarwar

Only Allah is your Vali and His Apostle and those who believe, those who keep up prayers and pay the poor-rate while they bow.

— Muhammad Habib Shakir

Your friend is but Allah and His apostle and those who have believed- those who establish the prayer and give the poor-rate while they bow down.

— Abdul Majid Daryabadi

Your (real) friends are (no less than) Allah, His Messenger, and the (fellowship of) believers,- those who establish regular prayers and regular charity, and they bow down humbly (in worship).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 54–56

قوت اسلام اور مرتدین اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 54–57

سورة الْمَآىِٕدَة 87 ”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا رسوخ و اثر، اس کا مال، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔ ”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی، دینداری کے خلوص، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سابقہ چار آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری دوستی رکھنے سے منع فرمایا گیا پانچویں آیت میں مثبت طور پر یہ بتلایا گیا کہ مسلمانوں کو گہری دوستی اور رفاقت خاص کا تعلق جن سے ہوسکتا ہے وہ کون ہیں۔ ان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر اس کے رسول ﷺ کا ذکر ہے کہ درحقیقت مومن کا ولی و رفیق ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے تعلق کے سوا ہر تعلق اور ہر دوستی فانی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کا تعلق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے اس سے الگ نہیں۔ تیسرے نمبر میں مسلمانوں کے رفیق اور مخلص دوست ان مسلمانوں کو قرار دیا ہے جو صرف نام کے مسلمان نہیں، بلکہ سچے مسلمان ہیں جن کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

تفسیر آیت 55۔ 56:۔ اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ آیت 51 میں جو بات منفی اسلوب سے فرمائی گئی تھی وہی بات اب مثبت پہلو سے کہی جا رہی ہے۔ یہی یہود و نصاری کو اپنا دوست اور معتمد نہ بناؤ بلکہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست اور معتمد بناؤ۔ تمہارا ایمان (اگر وہ موجود ہے) تم کو ان سے جوڑتا ہے نہ کہ ان سے۔ " والذین امنوا " یہاں اپنے حقیق مفہوم میں ہے، یعنی مومنین مخلصین۔ ایمان کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 جب یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا گیا تو اب سوال کا جواب دیا جا رہا ہے کہ پھر وہ دوستی کن سے کریں ؟ فرمایا کہ اہل ایمان کے دوست سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ہیں اور پھر ان کے ماننے والے اہل ایمان ہیں۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–63

44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55) ” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ بطریق حصریہ فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں کسی تاویل اور لیپاپوتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ اسلامی تحریک کو پگھلانے اور اسلامی تصور حیات کو ڈھیلا کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور بات ممکن بھی نہ تھی اس لئے کہ یہ مسئلہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے نظریاتی مسئلہ ہے ۔ پھر اس نظریہ کو لے کر ایک تحریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 پچھلی آیتوں میں یہود نصاریٰ کی موالات اور رفاقت کن سے ہونے چاہئیں یہ بتایا۔ اب اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ ان کا رفیق اصلی خدا اور پیغمبر (علیہ السلام) اور مخلص مسلمانوں کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا تمہارے دوست ‘ پشت پناہ ‘ حمایتی ‘ معتمد اور راز دار تو بس اللہ ‘ اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان ہیں۔ اور یہ اہل ایمان بھی پیدائشی اور قانونی مسلمان نہیں ‘ بلکہ : َ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوْنَ ۔ یہاں وَہُمْ رٰکِعُوْنَ کا مطلب وہ رکوع کرتے ہیں صحیح نہیں ہے۔ یہ درحقیقت زکوٰۃ دینے کی کیفیت ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں فروتنی کرتے ہوئے۔ ہم سورة البقرۃ آیت 273 میں پڑھ آئے ہیں کہ سب سے بڑھ کر انفاق فی سبیل اللہ کے مستحق کون لوگ ہیں : لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 54–55

96 مرتدین کے متعلق پیشین گوئی :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ جب رسول اللہ کی وفات ہوگئی تو اکثر قبائل عرب نے یہ سمجھا کہ اسلام کو جتنی کامیابیاں اور کامرانیاں نصیب ہوئیں۔ اس کا باعث صرف رسول اللہ کی ذات تھی جن پر وحی کے ذریعہ ہر وقت مسلمانوں کے لیے حالات کے مطابق ہدایات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ اب چونکہ آپ انتقال کرچکے ہیں۔ لہذا اب پھر کفر کو غلبہ نصیب ہوگا۔ اس خیال سے عرب کے بہت سے قبائل اسلام سے مرتد ہوگئے اور بعض کہنے لگے کہ اب زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اسلام کی دوسری پابندیاں سہنے کا کیا فائدہ ؟ آپ کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کو انتہائی نازک اور ہنگامی حالات سے دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

201 ۔ (آیت) ” ولیکم “۔ یہاں ولی اس معنی میں ہے کہ وہ جس سے تمہیں دوستی رکھنا چاہیے، یعنی تمہارے حقیقی دوست، اور خطاب امت اسلامی سے ہے، اوپر ذکر اس کا تھا کہ یہود ونصاری کو اپنا دوست مت بناؤ۔ اب گویا ارشاد یہ ہورہا ہے کہ دوست اللہ اور رسول اور اہل ایمان کو بناؤ۔ فکانہ قیل لاتتخذوا اولئک اولیاء انما اولیاء کم اللہ تعالیٰ ورسولہ والمومنون فاختصوھم بالموالاۃ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں ایسے شخص سے علیحدہ رہنے پر دلالت ہے جو اہل اللہ اور ان کے طرق کے ساتھ تمسخر کرے، (آیت) ” وھم رکعون “۔ میں، و، حالیہ ہے۔ والواوللحال (کشاف) ای یعملون ذلک فی حال الرکوع (کشاف) لیکن خود رکوع کے اس سیاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–56

فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما ولیکم اللہ ورسولہ والزین امنوا تمہارے دوست تو بس اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان ہیں۔ اس کلام کا تعلق آیت لا تتخذوا الیہود والنصاری اولیائ سے ہے درمیانی آیات نہی کی تاکید کیلئے ذکر کی گئی ہیں یا بیچ کی آیات کو مستحقین دوستی کی تعیین کیلئے بطور تمہید ذکر کیا ہے جیسے آیت فسوف یاتی اللہ بقوم سے مستحق ولایت کی تعیین ہو رہی ہے۔ انماکلمۂ حصر ہے سابق کلام سے جو ممانعت مستفاد ہو رہی ہے اس کی تاکید اس کلام سے ہوتی ہے کیونکہ بصرہ کے اہل نحو کے نزدیک انما سے نفی کا استفادہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے دوست تین تھے اللہ ‘ رسول اور اہل ایمان۔ اسکے باوجود اولیاء کی جگہ ولی (بصیغۂ مفرد) کہنے سے اس طرف اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 55–56

(55۔ 56) حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اسد، اسید اور ثعلبۃ بن قیس وغیرہ کو یہود نے تکالیف پہنچائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی تسلی کے لیے فرماتے ہیں کہ تمہارا محافظ و مددگار اور دوست اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھی ہیں جو پانچوں نمازوں کو باجماعت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو ان سے دوستی رکھے تو اللہ تعالیٰ کی جماعت یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اپنے دشمنوں پر یقیناً غلبہ رکھتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”انما ولیکم اللہ ورسولہ“۔ (الخ) طبرانی ؒ نے اوسط میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی کرم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 55–56

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ۔۔ : اوپر کی آیات میں کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، اب اس آیت میں ”اِنَّمَا“ کلمۂ حصر کے ساتھ بتایا کہ تمہارے دوست صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں، اس لیے یہود کو مددگار اور دوست نہ بناؤ، بلکہ صرف مومنین کو اپنا مددگار سمجھو۔ (ابن کثیر، کبیر) یہاں ”وَهُمْ رٰكِعُوْنَ“ کے معنی ہیں ”جھکنے والے، عاجزی کرنے والے۔“ چناچہ قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے : (وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) [ المؤمنون : 60 ] ”اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں۔“ (کبیر،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 55۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما ولیکم اللہ ورسولہ “۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا : عبداللہ بن سلام نے نبی مکرم ﷺ سے کہا کہ ہماری قوم قریظہ اور نضیر نے ہمیں چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے قسمیں اٹھائیں ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہم مجلس نہیں ہوں گے، اور ہم دور رہنے کی وجہ سے آپ کے اصحاب سے بھی مجلس نہیں کرسکتے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ عبداللہ بن سلام نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور مومنین کے مددگار رہنے پر راضی ہیں۔ (1) (تفسیر بغوی، جلد 2 صفحہ 47) (آیت) ” والذین “ یہ تمام مومنین کو شامل ہیں۔ ابو جعفر محمد بن علی بن حسنین بن علی بن ابی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی۔ (2) امام خطیب نے متفق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے انگوٹھی کا صدقہ کیا۔ اس حال میں کہ وہ رکوع میں تھے نبی ﷺ نے سائل سے پوچھا تجھے کس نے یہ انگوٹھی دی ہے ؟ اس نے کہا اس رکوع کرنے والے نے تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ (3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت انما ولیکم اللہ ورسولہ علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ (4) امام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ وَلِيُّكُمُ : تم لوگوں کا کارساز ] [ اللّٰهُ : اللہ ہے ] [ وَرَسُوْلُهٗ : اور اس کے رسول ہیں ] [ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ ہیں جو ] [ اٰمَنُوا : ایمان لائے ] [ الَّذِيْنَ : جو لوگ (کہ )] [ يُقِيْمُوْنَ : قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [ وَيُؤْتُوْنَ : اور پہنچاتے ہیں ] [ الزَّكٰوةَ : زکوۃ کو ] [ وَهُمْ : اور وہ لوگ ] [ رٰكِعُوْنَ : جھکنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ اور رسول اہل ایمان کے ولی ہیں مومنین کی صفات بیان فرمانے کے لئے بعد فرمایا (اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ھُمْ رٰکِعُوْنَ ) ( تمہارا ولی تو بس اللہ اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ رکوع کرنیوالے ہیں) ۔ اہل ایمان کی دوستی کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کی دوستی میں منحصر فرما دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے علاوہ اہل ایمان کا کوئی دوست نہیں ہے، اگر کسی دوسرے کو دوست بنایا تو خطا کریں گے دھوکہ کھائیں گے دنیا و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–56

فتنہ ارتداد اور غلبہ اسلام کی پیشن گوئی۔ قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ھم الغالبون۔ ربط) ۔ اوپر کی آیت میں جو ارتداد سے بچانے کے لیے مسلمانوں کو حکم ہوا تھا کہ کفار سے دوستی نہ کریں جو ان سے محبت کرے گا وہ فی الحال یافی المال انہیں میں سے ہوجائے گا یعنی مرتد ہوجائے گا لہذا اب اس آیت میں ارتداد کی سزا ارشاد فرماتے ہیں اور عنقریب پیش آنے والے فتنہ ارتداد اور اسلام کے غلبہ اور اسی کے ابدی بقاء اور حفاظت اور تائید غیبی کے متعلق ایک عظیم الشان پیش گوئی فرماتے ہیں اور نزول آیت کے وقت جو مسلمان موجود تھے ان کو پہلے ہی سے یہ خبر دیتے ہیں کہ عنقریب فتنہ ارتداد پیش آئے گا اور تم میں کے کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

99 یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کرنے کے بعد فرمایا تمہاری دوستی تو صرف اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے ہونی چاہئے تم انہی سے دوستی اور مولات کرو یہی تمہارے دوست ہیں۔ یہود و نصاریٰ تو آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ تمہارے کبھی دوست نہیں بن سکے۔ وجہ النظم انہ تعالیٰ لما نھی فی الایت المتقدمۃ عن موالات الکفار امر فی ھذہ الایۃ بموالاۃ من یجب موالاتہ (کبیر ج 3 ص 617) اللہ تعالیٰ کے ولی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کارساز ہے مومنین اسی پر بھروسہ کریں اور اسی کو کارساز سمجھیں۔ اللہ کے رسول کی ولایت سے مراد یہ ہے کہ آپ کا اتباع کیا جائے اور آپ کے تمام حقوق محبت سے ادا کیے جائیں اور مومنین کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–56

ربط آیات پہلے منافقین اور اہل کتاب کی برائیوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لقسن عہد ‘ احکامات الٰہی کی خلاف ورزی اور برے امور کی انجام دہی کی وجہ سے ان کی مذمت بیان فرمائی۔ پھر گذشتہ آیات میں ان کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہود ونصاری اور مشرکین ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں مگر اہل ایمان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان میں اسلام کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لہذا ان کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب آج کی آیات میں اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دین حق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ رٰكِعُوْنَ۝ 55 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ اقامت والْإِقَامَةُ في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 54–55

ترکیب : من یرتد شرط منکم من کی صفت یا حال ‘ فسوف یحبہم اور یحبونہ اذلۃ اعزۃ یجاھدون لا یخافون قوم کی صفت جو مفعول ہے یاتی کا۔ تفسیر : اس سے پہلی آیت میں کفار سے دلی میل جول سے ممانعت کے بعد یہ فرمایا تھا کہ جو ان سے ملے گا وہ انہیں میں سے ہوجاوے گا یعنی مرتد ہوگا۔ اب اس آیت میں مرتدوں کے حالات بیان کرتا ہے۔ من یرتد ارتداد کے معنی پھرجانا۔ جو لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ان کو مرتد کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ مرتدوں کے گیارہ گروہ تھے جن میں سے تین آنحضرت ﷺ کے روبرو ہوئے تھے : (1) بنو مدلج ان کا سردار ذوالحمارا سود عنسی ساحر تھا جس نے اطراف یمن میں قبضہ کرکے آنحضرت ﷺ کے عمال کو نکال دیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہ ُ وَ رَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ ۔ (المائدہ : 55) ” تمہارے دوست اور معتمد تو بس اللہ ‘ اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں ‘ جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں فروتنی کے ساتھ “۔ مسلمان قوم کے دوست یعنی تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور معتمد نہ بنائوبل کہ اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست اور معتمد بنائو۔ تمہارا ایمان ‘ اگر تمہیں واقعی اس سے کوئی تعلق ہے تو وہ تمہیں ان سے جوڑتا ہے ‘ یہود و نصاریٰ سے نہیں۔ اللہ اور رسول سے زیادہ تو ظاہر ہے کوئی ہمدرد ‘ غمگسار ‘ مشکل وقت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 55–56

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کی باہمی محبت کے ذریعے تسلی دی جارہی ہے۔ خطاب کے آغاز اور رکوع کی ابتدا میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کے ساتھ قلبی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں یہ اندیشہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں غیروں سے دوستی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ محبت کرتے ہیں کیونکہ تم اللہ ہی کے لیے دین کے دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہو۔ تم اللہ تعالیٰ کے حضور نماز کی حالت میں جھکنے والے اور اس کی رضا کی خاطر زکوٰۃ کی شکل میں غرباء سے تعاون کرنے والے رکوع کرتے ہوئے عاجزی اختیار کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ولایت کے حقدار لوگ : آیت 55 : جن لوگوں سے دشمنی لازم ہے ان کی موالات سے ممانعت کرنے کے بعد ان کا تذکرہ کیا جن سے موالات لازم ہے۔ فرمایا۔ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ انما کا کلمہ ظاہر کر رہا ہے کہ موالات کے ساتھ یہ لوگ خاص ہیں۔ الولی کا لفظ جمع نہیں لائے۔ کیونکہ جس سے موالات کا حکم دیا وہ ایک جماعت ہے اس بات پر متنبہ کرنے کیلئے کہ اصل ولایت اللہ ہی کی ہے دوسروں کی ولایت و دوستی تو تبعاً ہے۔ اگر اس طرح کہا جاتا انما اولیاؤکم اللّٰہ ورسولہ تو کلام میں اصل و تبع کوئی نہ بنتا۔ : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ محلاً مرفوع ہے کیونکہ یہ الذین سے بدل ہے۔ یا ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 55 تفسیر : (انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا تمہارا رفیق تو وہی اللہ ہے اور اس کا رسول اور جو لوگ ایمان والے ہیں) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی عبادہ بن صامت ؓ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب انہوں نے یہود سے برأت ظاہر کی اور کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کو ولی بناتا ہوں تو یہ چھ آیات نازل ہوئیں ” یایھا الذین امنو الا تتخذوا الیھود الخ سے انما ولیکم اللہ ورسولہ “ تک۔ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! بیشک ہماری قوم قریظہ اور نضیر نے ہم کو چھوڑ دیا ہے اور ہم سے جدا ہوگئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–56

(55 ۔ 56) ۔ اگرچہ طبرانی عبد الرزاق ابن جریر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے اس آیت کا شان نزول اس قصہ کو قرار دیا ہے جس میں حضرت علی ؓ کا رکوع کی حالت میں ایک فقیر کو انگوٹھی خیرات کرنے کا ذکر ہے مگر یہ قصہ ذرا تردد طلب ہے اس لئے اولیٰ یہ ہے کہ اوپر کی حدیث کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی شان نزول بھی حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا قصہ قرار دیا جاوے اور حضرت علی ؓ کو بھی آیت کا مصداق ٹھیرایا جاوے 2 ؎۔ عبادہ بن صامت ؓ کا یہ وہی قصہ ہے جس کو حافظ ابو جعفر ابن جریر 3 ؎ نے اپنی تفسیر میں اور محمد بن اسحاق نے اپنی مغازی میں معتبر سند سے خود عبادہ بن صامت ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے حاصل اس قصہ کا اوپر بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–55

آیت 54 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں۔ اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے (یحبھم و یحبونہ) ” اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ “ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–56

نماز میں عمل قلیل کا بیان قول باری ہے انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین امنوا الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھو راکعون تمہارا رفیق تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ ادا کرتے اور رکوع کرتے ہیں۔ مجاہد ، سدی ، ابوجعفر اور عتبہ بن ابی الحکم سے مروی ہے کہ آیت کا نزول حضرت علی ؓ کے بارے میں ہوا۔ جب آپ نے رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی خیرات کردی تھی ۔ حسن سے مروی ہے کہ یہ آیت تمام مسلمانوں کی توصیف میں نازل ہوئی ہے اس لیے کہ قول باری الذین یقیمون الصلوٰۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون پوری جماعت کی صفت میں ہے فرد واحد کی صفت میں نہیں ہے۔ قول باری وھم راکعون کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 54–57

142 جہاد فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم اور امتیازی صفت : چناچہ اہل ایمان کی خاص اور امتیازی صفات کے ذکر وبیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ مومنین صادقین اور اللہ کے محبوب بندوں کی ایک اہم اور خاص صفت ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے تاکہ اس طرح وہ حق کے مقابلہ میں سرکشی کرنے والوں کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیں اور دین کا بول بالا ہو۔ اور وہ حق اور اہل حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور دین سب کا سب اللہ ہی کیلئے ہو۔ اور اس جہاد سے ان کا مقصد محض رضائے خداوندی کا حصول اور دین حق کی سربلندی ہوتا ہے۔ سو محبوبان خدا راہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–56

اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم اور اس کے اوصاف تشریح : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار اور منافقین کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، اس لیے نہیں کہ انسان دوستی بری ہے۔ انسان دوستی تو مسلمان کا پہلا سبق ہے مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے کہ وہ جاسوسی کرتے تھے بظاہر مسلمان ہوتے تھے مگر اندر سے مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ صاف صاف اعلان کرتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ اللہ کے دین کو چھوڑ کر کافر یا مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان سے اسلام کو یا اللہ کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے خود ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اللہ بڑی قدرت، طاقت اور اختیار رکھتا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–56

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔ اسرار و معارف : ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اوپر کی آیات میں کفار سے موالا ۃ کو ممنوع قرار دیا اب اس آیت میں انما کلمہ حصر کے ساتھ مومنین سے موالاۃ کا حکم فرمایا یعنی یہود کو مددگار اور ادوست نہ بنا و بلکہ صرف مومنین کو اپنا دوست ارمدد گار سمجھو۔ (کبیر، ابن کثیر) یہاں وھم رالعون کے معنی ہیں فروتنی اور عاجزی کرنے والے۔ چنانطہ قرآن میں ودسرے مقام پر ہے وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ المومنین : 60) کہ وہ لوگ جو صدقہ و خیرات اس حال میں کرتے ہیں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں (کبیر۔ ثنائی) بعض علمانے وھم راکعون کو یو تون الزکوٰۃ کے فاعل سے حال قرار دے ت کر یہ ترجمہ کی ہے کہ وہ رکوع کو حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–58

(5:55) ولیکم۔ تمہارا دوست۔ تمہارا مددگار۔ یتول۔ دیکھو 5:51 ۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ دوست رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–56

آیت نمبر 55 تا 56 لغات القرآن : راکعون (رکوع کرنے والے۔ جھکنے والے) ۔ حزب (جماعت۔ گروہ۔ فریق) تشریح : پچھلی آیت میں اللہ کی جماعت (حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقا مجاہدین ؓ کی پانچ علامتیں بتائی گئیں تھیں۔ ان آیات میں مزید پانچ علامتیں بتائی گئی ہیں اس وعدہ کے ساتھ کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ (1) وہ ایمان والے ہیں۔ (2) وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ (3) وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں (اور مانعین زکوٰۃ سے جہاد کرتے ہیں) (4) وہ رکوع اور سجود میں (نوافل) میں مشغول رہتے ہیں) (5) اللہ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو اپنا پکا دوست بناتے ہیں۔ یہاں پر جو لفظ ” راکعون “ آیا ہے اس کے معنی اور ہیں یعنی نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–56

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی طرح جو شخص مخالف اسلام لوگوں کی دوستی سے بیزار ہے، اللہ اور اللہ کے رسول اور نماز اور زکوٰۃ پر قائم رہنے والے پکے مسلمان، سب ایسے شخص کے دوست اور رفیق ہیں اور ایسے لوگ اللہ کا گروہ کہلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے گروہ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ یہ گروہ مخالفوں پر غالب رہے گا۔ اللہ سچا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–63

[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 54–55

اسلام ہرگز خطرہ میں نہیں : (ف 1) ایک طرف یہودیوں کی یہ سازش تھی کہ سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد پر آمادہ کیا جائے ، دوسری طرف جھوٹے مدعیان نبوت کوشاں تھے کہ کسی طرح نادان اور بیوقوف لوگوں کے متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالا جائے ، نتیجہ یہ تھا کہ چند بیوقوف جن کے دل ذوق ایمان سے صحیح طور پر آشنا نہ تھے ، ارتداد اختیار کرنے لگے ۔ اس آیت میں بتایا کہ یاد رکھو ، تمہاری ان حرکتوں سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ، تم اگر ارتداد اختیار کرلو لے تو خدا اپنے دین کی حمایت کے لئے اور پرجوش اور مخلص مسلمان پیدا کر دے گا جنہیں اللہ اور اس کے دین سے عشق ہوگا اور جو مسلمانوں کے لئے نہایت شفیق ورحیم ہوں گے ، مگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 54–55

ف 1 اے ایمان والو ! جو کوئی تم میں سے اپنے دین کو چھوڑ کر واپس ہوجائیگا اور مرتد بن جائیگا تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ان مرتدین کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن کے اعمال اور ان کی فرمانبرداری کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا اور وہ بھی لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے وہ مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں ان کا برتائو سخت اور تیز ہوگا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ صفات اور یہ خوبیاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے بہرہ مند فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنا فضل عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت صاحب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کا رفیق ومدد گار اللہ اور اس کا رسول (a) اور ایمان والے لوگ ہی ہیں : 161: پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری راز دارانہ دوستی سے منع فرمایا گیا تھا پھر اس ” حکم نہی “ پر عمل نہ کرنے والوں کو وعیدیں سنائی گئیں اور زیر نظر آیت میں مثبت طور پر یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کی گہری دوستی اور رفاقت خاص کا تعلق جن لوگوں سے ہو سکتا ہے وہ کون سے لوگ ہیں ؟ پھر خود ہی اسکی وضاحت فرما دی کہ سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ ہے اور پھر اس کا رسول ﷺ ہے اور ظاہر ہے کہ حقیقت بھی یہی ہے کہ مومن کا دلی رفیق ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہو سکتا ہے کاش کہ مسلمان بھی یہ بات سمجھیں ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Marks of True Muslims In the previous four verses discussed so far, Muslims have been forbidden to maintain intimate friendship with disbelievers. A positive approach has been taken in the fifth verse (55) where those with whom Muslims can have intimate friendship and special camaraderie have been identified. Mentioned first is Allah and then, His blessed Prophet, for Allah is - and He alone can be - the real friend, guardian and guide of a true Muslim, all the time and under all conditions. Other than the relationship with Him, every relationship and every friendship is perishable. As for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–57

87. To be 'humble towards believers' signifies that a person should never use his strength against the believers. His native intelligence, shrewdness, ability, influence, wealth, physical prowess should not be used for the purpose of either suppressing, persecuting or causing harm to the Muslims. Among themselves, the Muslims should always find him gentle, merciful, sympathetic and mild tempered. To be 'firm towards unbelievers', on the contrary, means that by virtue of the intensity of his faith, the sincerity of his conviction, his strict adherence to his principles, his strength of…

Read the full tafseer →