Explained with ayahs 54–56
قوت اسلام اور مرتدین
اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
سورة الْمَآىِٕدَة 87
”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا رسوخ و اثر، اس کا مال، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔
”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی، دینداری کے خلوص، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں یہ بتلایا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ گہری دوستی اور خلط ملط کی جو ممانعت کی گئی ہے یہ خود مسلمانوں ہی کے مفاد کی خاطر ہے، ورنہ اسلام وہ دین حق ہے جس کی حفاظت کا ذمہ حق تعالیٰ نے خود لے لیا ہے، کسی فرد یا جماعت کی کجروی یا نافرمانی تو بجائے خود ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی فرد یا جماعت سچ مچ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے اور بالکل ہی مرتد ہو کر غیر مسلموں میں مل جائے اس سے بھی اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قادر مطلق جو اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے فوراً کوئی دوسری قوم میدان عمل میں لے آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت اور اشاعت کے فرائض انجام دے گی۔ اس کے کام نہ کسی ذات پر موقوف…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔
منافقین کی روش ارتداد کی روش ہے : خطاب بظاہر عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کا ذکر چلا آ رہا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ اپنے دین کی خدمت کے لیے ایسے ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جو۔۔۔ اس…
Read the full tafseer →54۔ 1 اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے مطابق فرمایا، جس کا واقعہ نبی کریم کی وفات کے فوراً بعد ہوا۔ اس فتنہ مرتد کے خاتمے کا شرف حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے رفقاء کو حاصل ہوا۔
54۔ 2 مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا ان کی چار نمایاں صفات بیان کی جا رہی ہیں، 1۔ اللہ سے محبت کرنا اور اس کا محبوب ہونا 2۔ اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار پر سخت ہونا 3۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، 4۔ اور اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان صفات اور خوبیوں کا مظہر اتم تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا وآخرت کی سعادتوں سے مشرف فرمایا اور دنیا میں ہی اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 54 تا 56۔
اس صورت میں اور اس مقام پر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرنا کہ وہ مرتد نہ ہوجائیں ‘ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ارتداد اور یہود ونصاری کے ساتھ دوستی اور تعلق موالات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ خصوصا اس ریمارک کے بعد کہ جو شخص ان کے ساتھ محبت وموالات کا تعلق قائم کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا ۔ وہ جماعت مسلمہ سے خارج تصور ہوگا اور ان کافر اور آدمی ہوگا ۔ (آیت) ’ ومن یتولھم منکم فانہ منھم) (تم میں سے جو ان کے ساتھ موالات کرے گا وہ ان میں سے ہوگا) اس مفہوم کی رو سے یہ دوسری پکار پہلی ہی تاکید وتائید ہوگی اور اس پکار کے بعد جو تیسری پکار آرہی ہے وہ بھی اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
1 اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی ہے پچھلی آیات میں کفار کے موالات سے منع کیا گیا تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص یا قوم موالات کفار کی بدولت صریحاً اسلام سے پھر جائے۔ جیسا کہ (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :51) میں تنبیہ کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے نہایت قوت اور صفائی سے آگاہ کردیا کہ ایسے لوگ اسلام سے پھر کر کچھ اپنا ہی نقصان کریں گے، اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے حق تعالیٰ مرتدین کے بدلے میں یا ان کے مقابلہ پر ایسی قوم لے آئے گا جن کو خدا کا عشق ہو اور خدا ان سے محبت کرے وہ مسلمانوں پر شفیق و مہربان اور دشمنان اسلام…
Read the full tafseer →آیت 54 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ
یہاں پر جو لفظ یَرْتَدَّ آیا ہے اس کے مفہوم میں ایک تو قانونی اور ظاہری ارتداد ہے۔ جیسے ایک شخص اسلام کو چھوڑ کر کافر ہوجائے ‘ یہودی یا نصرانی ہوجائے۔ یہ تو بہت واضح قانونی ارتداد ہے ‘ لیکن ایک باطنی ارتداد بھی ہے ‘ یعنی الٹے پاؤں پھرنے لگنا ‘ پسپائی اختیار کرلینا۔ اوپر اسلام کا لبادہ تو جوں کا توں ہے ‘ لیکن فرق یہ واقع ہوگیا ہے کہ پہلے غلبۂ دین کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے ‘ محنتیں کر رہے تھے ‘ وقت لگا رہے تھے ‘ ایثار کر رہے تھے ‘ انفاق کر رہے تھے ‘ بھاگ دوڑ کر رہے تھے ‘ اور اب کوئی آزمائش آئی ہے تو ٹھٹک کر کھڑے رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
96 مرتدین کے متعلق پیشین گوئی :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ جب رسول اللہ کی وفات ہوگئی تو اکثر قبائل عرب نے یہ سمجھا کہ اسلام کو جتنی کامیابیاں اور کامرانیاں نصیب ہوئیں۔ اس کا باعث صرف رسول اللہ کی ذات تھی جن پر وحی کے ذریعہ ہر وقت مسلمانوں کے لیے حالات کے مطابق ہدایات نازل ہوتی رہتی تھیں۔ اب چونکہ آپ انتقال کرچکے ہیں۔ لہذا اب پھر کفر کو غلبہ نصیب ہوگا۔ اس خیال سے عرب کے بہت سے قبائل اسلام سے مرتد ہوگئے اور بعض کہنے لگے کہ اب زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اسلام کی دوسری پابندیاں سہنے کا کیا فائدہ ؟ آپ کی وفات کے فوراً بعد مسلمانوں کو انتہائی نازک اور ہنگامی حالات سے دو…
Read the full tafseer →198 ۔ (ان مرتدوں کے بجائے، دین کی خدمت کے لیے) سو کسی فرد یا جماعت کے ارتداد سے دین اسلام یا خدائے اسلام کو مطلق ضرر نہیں۔
199 ۔ (دین و جہاد کے باب میں) (آیت) ” یحبھم ویحبونہ “۔ قرآن مجید نے اسے بار بار صاف کیا ہے کہ خدائے اسلام بعض مشرک قوموں کے خداؤں کی طرح ایک بےجان وبے حس مشین اور محض علت العلل نہیں، وہ خوش بھی ہوتا ہے اور ناخوش بھی۔ وہ پسند بھی کرتا ہے اور ناپسند بھی، وہ حکم بھی دیتا ہے اور منع بھی کرتا ہے، یہاں یہ بتایا کہ وہ فلاں فلاں اوصاف والوں کو پسند کرتا ہے اور وہ لوگ بھی اس کو محبوب رکھتے ہیں۔ (آیت) ” اذلۃ علی ال مومنین اعذۃ علی الکفرین “۔ یہی مضمون سورة الفتح رکوع 4 میں بھی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا من یرتد منہم عن دینہ اے اہل ایمان (1) [ قتادہ نے بیان کیا اللہ کو معلوم تھا کہ آئندہ کچھ لوگ مرتد ہوجائیں گے اس لئے اس آیت میں اس نے اطلاع دے دی ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوتے ہی عام عرب اسلام سے پھرگئے صرف تین مسجدوں والے مرتد نہیں ہوئے ‘ مدینہ والے ‘ مکہ والے ‘ اور جو اثاد والے قبیلۂ عبدالقیس کے لوگ ‘ مرتدوں نے کہا ہم نماز پڑھیں گے زکوٰۃ نہیں دیں گے ہمارا مال چھینا نہیں جاسکتا ‘ حضرت ابوبکر سے اس سلسلہ میں گفتگو کی گئی کہ اس وقت آپ چشم پوشی کریں اور عرض کیا گیا کہ آئندہ جب ان میں دینی سمجھ آجائے گی تو زکوٰۃ دے دیں گے ‘ حضرت ابوبکر نے فرمایا جن چیزوں کو اللہ نے جمع کیا…
Read the full tafseer →(54) اسد وغطفان اور قبیلہ کندہ و مراد کے جو آدمی رسول اکرم ﷺ کی رحلت کی بعد دین سے پھرجائیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت نرم دل اور مہربان ہوں گے اور اطاعت خداوندی میں سر بسجود ہوں گے کسی ملامت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
یہ تمام خوبیاں فضل الہی ہیں، جو اس کا اہل ہوتا ہے، اس کو دیتا ہے وہ بڑی وسعتوں والا ہے اور جس کو دیتا ہے اس کو جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ : اللہ تعالیٰ جو ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے، اسے پہلے ہی سے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد ہوجائیں گے، اس لیے اس نے آئندہ سے متعلق یہ آیت پہلے ہی نازل فرما دی۔ چناچہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو تین مقامات مکہ، مدینہ اور بحرین کے علاوہ تمام علاقوں سے عرب قبائل کے مرتد ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ وہ کہنے لگے کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت ابوبکر صدیق ؓ نے ان مرتدین سے جہاد کیا۔ اس فتنۂ ارتداد کا خاتمہ جن لوگوں کے ہاتھوں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی پانچ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 54۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ”، من یرتد منکم عن دینہ “ شرط اور جواب شرط ” فسوف، الخ “۔ ہے اہل مدینہ اور شام کی قرات میں من یرتدد یعنی دو والوں کے ساتھ ہے اور باقی قراء نے (آیت) ” من یرتد “ پڑھا ہے، یہ قرآن اور نبی مکرم ﷺ کے اعجاز میں سے ہے، کیونکہ اس نے ان کے ارتداد کی خبر دی اور یہ آپ کے عہد میں نہ تھا اور یہ غیب تھا۔ جو آپ نے خبر دی وہ مدت کے بعد ہوا تھا اور اہل ردت آپ ﷺ نے کے بعد ہوئے تھے، ابن اسحاق نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو عرب مرتد ہوگئے سوائے تین مساجد کے لوگوں کے، مسجد مدینہ، مسجد مکہ، اور مسجد جؤاثی اور ان کی ردت دو…
Read the full tafseer →مرتدین سے قتال
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر نے ابن منذر، ابو الشیخ، بیہقی اور ابن عساکر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ لوگوں میں عنقریب مرتد ہوں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دی تو عام عرب اسلام سے مرتد ہوگئے سوائے تین مسجدوں کے اہل مدینہ اہل جواثی (قبیلہ) عبدالقیس میں سے اور مرتد ہونے والوں نے کہا ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ اللہ کی قسم وہ ہمارے مالوں کو غضب کرنا چاہتا ہے۔ اس بارے میں ابوبکر ؓ سے بات کی گئی تاکہ آپ اس نے درگزر کریں اور ان سے کہا گیا کہ یہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمت کو سمجھ جائیں گے۔ ابوبکر ؓ نے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ مَنْ : جو ] [ يَّرْتَدَّ : پھرے گا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ عَنْ دِيْنِهٖ : اپنے دین سے ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ يَاْتِي : لائے گا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ بِقَوْمٍ : ایک ایسی قوم ] [ يُّحِبُّهُمْ : وہ محبت کرے گا جن سے ] [ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ: اور وہ محبت کریں گے اس سے ] [ ۙ اَذِلَّةٍ : نرم ہوں گے ] [ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں پر ] [ اَعِزَّةٍ : سخت ہوں گے ] [ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ۡ: کافروں پر ] [ يُجَاهِدُوْنَ : وہ لوگ جدوجہد کریں گے ] [ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کی راہ میں ] [ وَلَا يَخَافُوْنَ : اور وہ نہیں…
Read the full tafseer →مسلمان اگر دین سے پھرجائیں تو اللہ تعالیٰ دوسری قوم کو مسلمان بنا دیگا
ان آیات میں اللہ جل شانہ، نے اول تو مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں فرمایا کہ دین اسلام کا چلنا چمکنا اور آگے بڑھنا کوئی تم پر موقوف نہیں ہے اگر تم مرتد ہوجاؤ یعنی اسلام سے پھر جاؤ (العیاذ باللہ) تو اسلام پھر بھی باقی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایمان قبول کریں گے اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ یہ لوگ اللہ کے محبوب ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔
یہ لوگ اہل ایمان سے تواضع اور نرمی اور مہربانی کیساتھ پیش آئیں گے اور کافروں کے مقابلہ میں قوت اور طاقت اور عزت اور غلبہ کی شان دکھائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
فتنہ ارتداد اور غلبہ اسلام کی پیشن گوئی۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ھم الغالبون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیت میں جو ارتداد سے بچانے کے لیے مسلمانوں کو حکم ہوا تھا کہ کفار سے دوستی نہ کریں جو ان سے محبت کرے گا وہ فی الحال یافی المال انہیں میں سے ہوجائے گا یعنی مرتد ہوجائے گا لہذا اب اس آیت میں ارتداد کی سزا ارشاد فرماتے ہیں اور عنقریب پیش آنے والے فتنہ ارتداد اور اسلام کے غلبہ اور اسی کے ابدی بقاء اور حفاظت اور تائید غیبی کے متعلق ایک عظیم الشان پیش گوئی فرماتے ہیں اور نزول آیت کے وقت جو مسلمان موجود تھے ان کو پہلے ہی سے یہ خبر دیتے ہیں کہ عنقریب فتنہ ارتداد پیش آئے گا اور تم میں کے کچھ…
Read the full tafseer →98 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے اور ان پر زجر ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ سے دوستی اور ان کی حمایت کر کے ارتداد کی راہ اختیار نہ کریں بین ان موالاتھم مستدعیۃ للارتداد عن الدین (روح ج 6 ص 160) ۔ لیکن اگر انہوں نے منافقین کی طرح ان سے موالات کرلی تو اس سے اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے ایسے لوگوں کو میدان میں لے آئے گا جو اس سے بجان و دل محبت کریں گے اور ظاہر و باطن میں اس کے مطیع و فرمانبردار ہوں گے اور ان کی ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بھی ان کو محبوب رکھے گا اور دین و دنیا میں ان کی مدد کرے گا اور ان کو اپنے انعامات سے نوازے گا۔ اَذِلَّۃٍ اور اَعِزَّۃٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ربط آیات
پہلے منافقین اور اہل کتاب کی برائیوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لقسن عہد ‘ احکامات الٰہی کی خلاف ورزی اور برے امور کی انجام دہی کی وجہ سے ان کی مذمت بیان فرمائی۔ پھر گذشتہ آیات میں ان کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہود ونصاری اور مشرکین ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں مگر اہل ایمان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان میں اسلام کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لہذا ان کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اب آج کی آیات میں اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دین حق…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللہُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّہُمْ وَيُحِبُّوْنَہٗٓ 0ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ 0ۡيُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَاۗىِٕمٍ 0ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ 0ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 54
ردت
والارْتِدَادُ والرِّدَّةُ : الرّجوع في الطّريق الذي جاء منه، لکن الرّدّة تختصّ بالکفر، والارتداد يستعمل فيه وفي غيره، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلى أَدْبارِهِمْ [ محمد/ 25] وقوله عزّ وجلّ : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ترکیب : من یرتد شرط منکم من کی صفت یا حال ‘ فسوف یحبہم اور یحبونہ اذلۃ اعزۃ یجاھدون لا یخافون قوم کی صفت جو مفعول ہے یاتی کا۔
تفسیر : اس سے پہلی آیت میں کفار سے دلی میل جول سے ممانعت کے بعد یہ فرمایا تھا کہ جو ان سے ملے گا وہ انہیں میں سے ہوجاوے گا یعنی مرتد ہوگا۔ اب اس آیت میں مرتدوں کے حالات بیان کرتا ہے۔ من یرتد ارتداد کے معنی پھرجانا۔ جو لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ان کو مرتد کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ مرتدوں کے گیارہ گروہ تھے جن میں سے تین آنحضرت ﷺ کے روبرو ہوئے تھے : (1) بنو مدلج ان کا سردار ذوالحمارا سود عنسی ساحر تھا جس نے اطراف یمن میں قبضہ کرکے آنحضرت ﷺ کے عمال کو نکال دیا…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللہ ُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ لا اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ز یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لآَئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ اللہ ُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔
(المائدہ : 54)
” اے ایمان والو ! جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں۔ وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا ‘ جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں کے مقابلے میں سخت ہوں گے ‘ اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کی خصلتوں کے مقابلے میں مومنوں کی خوبیوں کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو ایک طرح کا چیلنج دیتا ہے کہ اگر تم اپنے دین سے مرتد ہوجاؤ تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اللہ عنقریب ایسے لوگوں کو دین کے میدان میں لاکھڑا کرے گا۔ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرئے گا اور وہ لوگ اللہ سے محبت کریں گے وہ دین اور اللہ کی محبت میں اس قدر فنا ہوں گے کہ اپنوں کے ساتھ نرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ یہی جذبہ انھیں جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کرے گا اور انھیں جہاد کرتے ہوئے ملامت کرنے والوں کی ملامت اور کسی کے پراپیگنڈہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔
اس آیت مبارکہ میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے…
Read the full tafseer →قتال مرتدین کی پیشینگوئی خلافت شیخین ؓ کی حقانیت :
یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ ۔ (جو تم میں سے دین اسلام سے اسی کفر کی طرف پھر جائیگا جس پر وہ پہلے تھا۔ )
قراءت : مدنی اور شامی نے یرتدد پڑھا ہے۔ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنََہٗ محبت سے مراد ان کے اعمال سے راضی ہونا اور ان کے ان اعمال پر ان کی تعریف کرنا ہے یحبونہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنا اور اس کی رضا مندی کو ہر چیز پر ترجحا دینا ہے اس میں حضور ( علیہ السلام) کی نبوت کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو اس چیز کی اطلاع دی جو ہوا نہ تھا وہ ہو کر رہا۔ نیز خلافت صدیقی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت نمبر 54, 53
تفسیر :(و) اور اس وقت (یقول الذین امنوا کہتے ہیں مسلمان) اہل کوفہ نے ” ویقول “ کو وائو کے ساتھ اور لام کے رفع سے پڑھا ہے کہ یہ نیا جملہ ہے اور اہل بصرہ نے وائو کے ساتھ اور لام کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس کا عطف ” ان یاتی “ پر ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ قریب ہے کہ مومن لوگ یہ بات کہیں گے اور باقی حضرات وائو کو حذف کرکے لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل عالیہ کے مصاحف میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ اس صورت میں حرف عطف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آیت اپنے ماقبل سے متصل ہے یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ منافقین کا نفاق ظاہر کریں گے اس وقت مومنین کہیں گے (اھولاء الذین اقسموا باللہ جھد ایمانھم کیا یہ…
Read the full tafseer →حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں لوگوں کے مرتد ہوجانے سے پہلے یہ بات تھی کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اور خلفاء کے زمانہ میں کچھ لوگ اسلام لانے کے بعد اسلام سے پھر جاویں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے علم غیب کے طور پر اس آیت میں ان لوگوں کی خبر پہلے سے دی ہے۔ چناچہ ما بعد میں اس علم غیب کا ظہور ہوا کہ گیارہ فرقے عرب کے مرتد ہوئے تین فرقے خود آنحضرت کے اخیر زمانہ میں اس طرح مرتد ہوئے کہ اسود عنسی کے ساتھ بنی مدلج فرقہ مرتد ہوا اور یمن کے تمام شہروں پر اس اسودعنسی کا تسلط ہوگیا اور آنحضرت ﷺ کے عاملوں کو اس نے یمن کے شہروں سے اٹھا دیا۔ آخر آنحضرت ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو اس کی سرکوبی کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت 54
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے جو کوئی اس کے دین سے پھرجاتا ہے وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتا بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مخلص اور سچے بندے ہیں۔ اللہ رحمان و رحیم ان کی ہدایت کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لانے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنے اوصاف میں سب سے کامل، اپنے جسم میں سب سے طاقتور اور اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔
ان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے (یحبھم و یحبونہ) ” اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ “ بندے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت جلیل ترین نعمت ہے جس کے ساتھ اس نے اپنے بندے کو نوازا ہے اور سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
قول باری ہے یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اے ایمان لانے والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا ۔ حسن، قتاد ہ، ضحاک اور ابن جریج کا قول ہے آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور آپ کے مرتدین کی سرکوبی کرنے والوں کے بارے میں ہوا ۔ سدی کا قول ہے کہ آیت حضرات انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ اہل یمن کے متعلق ہے۔ شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے عیاض الاشعری سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
142 جہاد فی سبیل اللہ اہل ایمان کی ایک اہم اور امتیازی صفت : چناچہ اہل ایمان کی خاص اور امتیازی صفات کے ذکر وبیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ مومنین صادقین اور اللہ کے محبوب بندوں کی ایک اہم اور خاص صفت ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے تاکہ اس طرح وہ حق کے مقابلہ میں سرکشی کرنے والوں کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیں اور دین کا بول بالا ہو۔ اور وہ حق اور اہل حق کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں اور دین سب کا سب اللہ ہی کیلئے ہو۔ اور اس جہاد سے ان کا مقصد محض رضائے خداوندی کا حصول اور دین حق کی سربلندی ہوتا ہے۔ سو محبوبان خدا راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم اور اس کے اوصاف
تشریح : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار اور منافقین کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، اس لیے نہیں کہ انسان دوستی بری ہے۔ انسان دوستی تو مسلمان کا پہلا سبق ہے مگر یہاں معاملہ دوسرا ہے کہ وہ جاسوسی کرتے تھے بظاہر مسلمان ہوتے تھے مگر اندر سے مسلمانوں کے دشمن تھے۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ صاف صاف اعلان کرتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ اللہ کے دین کو چھوڑ کر کافر یا مرتد ہونا چاہتے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان سے اسلام کو یا اللہ کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے خود ان کا اپنا ہی نقصان ہوتا ہے کیونکہ اللہ بڑی قدرت، طاقت اور اختیار رکھتا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔
اسرار و معارف :
ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →ف 4 قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرامائی کیونکہ اسے پہلے سے یہ معلوم تھا نبی ﷺ کی وفات کے بعد بہت سے عرب قبائل اسلام سے مرتد وہو جائیں گے چناچہ جب نبی ﷺ کا انتقال ہو اتوتین مقامات مکہ، مدینہ، بحرین کے علاوہ تمام مقامات سے عرب قبائل کے ارتداد کی خبریں آنے لگیں وہ کہنے لگے ہم نماز تو پڑہینگے لیکن زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے۔ اس وقت حضرت ابوبکر ؓ صدیق نے ان مرتدین سے جہاد کی اس لیے حضرت علی ؓ حسن ؓ ضحاک (رح) اور بہت سے دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت میں جن لوگوں کا یہ کہہ کر ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ سے محبت کریں گے اور اللہ ان سے محبت رے گا ان سے مراد حضرت ابوبکر ؓ صدیق اور ان کے…
Read the full tafseer →(5:54) اذلۃ۔ نرم دل۔ کمزور ۔ ذلیل ۔ ذلیل کی جمع قلت۔ ذلیل کے معنی کبھی تو متواضع اور نرم دل کے ہوتے ہیں (جیسا کہ یہاں مراد ہے) اور کبھی کمزور اور ذلیل کے۔
اعزۃ۔ زبردست۔ سخت (جیسا کہ یہاں مراد ہے) عزت والے۔ عزیز کی جمع۔
لومۃ لائم۔ لام یلوم (نصر) لومۃ مصدر، کسی چیز کو براسمجھ کر ملامت کرنا (خواہ وہ چیز بری ہو یا نہ ہو) لائماسم فاعل واحد مذکر
Read the full tafseer →آیت نمبر 54
لغات القرآن : یرید (وہ پلٹ جاتا ہے) ۔ یحب (محبت کرتا ہے۔ پسند کرتا ہے) ۔ اذلۃ (ذلیل) ۔ جھکاؤ۔ مراد ہے نرم دل) اعزۃ (عزیز) ۔ عزت۔ سختی کرنا) ۔ یجاھدون (وہ جہاد کریں گے) ۔ لایخافون (وہ کونہ کریں گے) ۔ لومۃ (طعنہ دینا۔ ملامت کرنا) ۔ لائم (ملامت کرنے والا۔ طعنہ دینے والا) ۔ فضل اللہ (اللہ کا فضل وکرم) ۔
تشریح : منافقوں کے بعد اب مرتدین کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور مرتد کے مقابلے میں مجاہد کا۔ جو لوگ کچے دل سے دنیاوی مصلحت کے تحت حلقہ اسلام میں آگئے ہیں ان کے لئے تین ہی راستے ہیں۔ یا تو پکے دل سے مخلص مومن بنیں یا منافق بنے رہیں۔ آدھا ادھر آدھا ادھر اللہ کو پسند نہیں ہے۔ یا پھر کھلم…
Read the full tafseer →حضرت حسن بصری ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے علم میں لوگوں کے مرتد ہوجانے سے پہلے یہ بات تھی کہ آنحضرت ﷺ اور خلفاء کے زمانہ میں کچھ لوگ اسلام لاکر اسلام سے پھر جاویں گے۔ اس لئے اللہ نے اپنے علم غیب کے طور پر اس آیت میں ان لوگوں کی خبر پہلے سے دی اور بعد میں اس کا ظہور ہوا۔ یعنی گیارہ فرقے عرب کے مرتد ہوئے۔ تین فرقے خود آنحضرت ﷺ کے اخیر زمانہ میں اس طرح مرتد ہوئے کہ اسود عنسی کے ساتھ بنی مدلج فرقہ مرتدہوا اور یمن کے تمام شہروں پر اسود عنسی کا تسلط ہوگیا اور آنحضرت ﷺ کے عاملوں کو اس نے یمن کے شہروں سے اٹھادیا۔ آخر آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذبن جبل ؓ کو اس کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا اور یمن کے مسلمانوں نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
اسلام ہرگز خطرہ میں نہیں :
(ف 1) ایک طرف یہودیوں کی یہ سازش تھی کہ سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد پر آمادہ کیا جائے ، دوسری طرف جھوٹے مدعیان نبوت کوشاں تھے کہ کسی طرح نادان اور بیوقوف لوگوں کے متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالا جائے ، نتیجہ یہ تھا کہ چند بیوقوف جن کے دل ذوق ایمان سے صحیح طور پر آشنا نہ تھے ، ارتداد اختیار کرنے لگے ۔
اس آیت میں بتایا کہ یاد رکھو ، تمہاری ان حرکتوں سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ، تم اگر ارتداد اختیار کرلو لے تو خدا اپنے دین کی حمایت کے لئے اور پرجوش اور مخلص مسلمان پیدا کر دے گا جنہیں اللہ اور اس کے دین سے عشق ہوگا اور جو مسلمانوں کے لئے نہایت شفیق ورحیم ہوں گے ، مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 1 اے ایمان والو ! جو کوئی تم میں سے اپنے دین کو چھوڑ کر واپس ہوجائیگا اور مرتد بن جائیگا تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ان مرتدین کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن کے اعمال اور ان کی فرمانبرداری کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا اور وہ بھی لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے وہ مسلمانوں پر مہربان ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں ان کا برتائو سخت اور تیز ہوگا وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ صفات اور یہ خوبیاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے بہرہ مند فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنا فضل عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہت صاحب…
Read the full tafseer →ف 3۔ چناچہ بعض لوگ مرتد ہوگئے تھے لیکن اللہ نے اپنی اس پیشن گوئی کے موافق مومنین مخلصین کے ہاتھوں عہد صدیقی میں ان کا استیصال فرما دیا اور بعض نے توبہ کرلی تھی بہر حال اسلام کو کوئی ضعف یاضرر نہیں پہنچا۔
Read the full tafseer →ایمان کے دعویداروں کو خطاب کہ اگر تم میں سے کوئی دین سے پھر گیا تو نقصان کس کا ہوگا ؟
157: ” یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ خطاب بظاہر عام مسلمانوں سے ہے لیکن روئے سخن ان منافقین ہی کی طرف ہے جن کا ذکر چلا آرہا ہے اور جو بظاہر مسلمان ہی کہلاتے ہیں ۔ فرمایا ایسے نام کے مسلمان اگر مرتد ہوجائیں تو کچھ پروانہ کرو اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا اور اس پاکباز جماعت کے اوصاف یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے یعنی وہ ایمان کے دعوے میں پکے ہوں گے اور اسلام کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے ہوں گے۔ اس جملہ نے یہ وضاحت خود بخود کردی کہ یہ نام کے مسلمان…
Read the full tafseer →The fourth verse (54) tells us that the prohibition of intimate friend-ship and intermingling with non-Muslims is for the good of Muslims themselves. Otherwise, Islam is the particular religion the responsibility to protect which has been taken by Almighty Allah Himself. The crookedness or disobedience of an individual or group is self-destruct in its place. However, should some individual or group from among Muslims were to really abandon Islam itself, turn into an apostate (Murtadd) totally and become a part of non-Muslims, even that too could bring no harm to Islam because Allah who is…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
87. To be 'humble towards believers' signifies that a person should never use his strength against the believers. His native intelligence, shrewdness, ability, influence, wealth, physical prowess should not be used for the purpose of either suppressing, persecuting or causing harm to the Muslims. Among themselves, the Muslims should always find him gentle, merciful, sympathetic and mild tempered.
To be 'firm towards unbelievers', on the contrary, means that by virtue of the intensity of his faith, the sincerity of his conviction, his strict adherence to his principles, his strength of…
Read the full tafseer →