Al-Maaida 5:53

Al-Maaida · from ayah 53

5:53

وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ ۙ— اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ؕ— حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَهٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ‌ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ‏

اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who believe will say, "Are these the ones who swore by Allah their strongest oaths that indeed they were with you?" Their deeds have become worthless, and they have become losers.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 8 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:53

اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے "کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں؟" ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ایمان والے کہیں گے، کیا یہی وه لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہوگئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اس وقت) ایمان والے (ایک دوسرے سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھائی تھیں کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوگئے، اور وہ نامراد ہو کر رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ایمان والے کہتے ہیں کیا یہی ہیں جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی تھی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں ان کا کیا دھرا سب اکارت گیا تو رہ گئے نقصان میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اس وقت) ایمان والے یہ کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑے تاکیدی حلف (کی صورت) میں اﷲ کی قَسمیں کھائی تھیں کہ بیشک وہ ضرور تمہارے (ہی) ساتھ ہیں، (مگر) ان کے سارے اعمال اکارت گئے، سو وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی تھی کہ بلاشبہ وہ یقینا تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال ضائع ہوگئے، پس وہ خسارہ اٹھانے والے ہوگئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اہل ایمان یوں کہیں گے : کیا یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی بڑی بھاری قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ایسے منافقوں کے اعمال برباد ہوگئے اور انہوں نے بالآخر نقصان ہی اٹھایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ وہ تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے سارے اعمال ڈھے گئے اور وہ نامراد ہوئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس وقت) اہل ایمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ تمہارے ساتھ ہیں، اکارت چلے گئے ان کے سب عمل، جس سے یہ ہوگئے سراسر خسارہ اٹھانے والے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (حیرت سے) کہیں گے ارے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں بڑے زور وشور سے کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ! ۔ انکے عمل (سب) غارت گئے اور یہ لوگ گھاٹے میں آگئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اس وقت) اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ان کے تمام اعمال اکارت ہوجائیں گے اور وہ خسارے والے بن کر رہ جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

while those who believe will exclaim: 'Are these the self-same people who solemnly swore by Allah that they were with you?' All their acts have gone to waste and now they are the losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who believe will say, :Are these the ones who swore their solemn oaths by Allah that they were with you? Their deeds have gone to waste, and they became losers.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who believe will say, :Are these the ones who swore their solemn oaths by Allah that they were with you? Their deeds have gone to waste, and they became losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believe will say: "Are these the men who swore their strongest oaths by Allah that they were with you" All that they did has been in vain, and they have become the losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then will the believers say (unto the people of the Scripture): are these they who swore by Allah their most binding oaths that they were surely with you? Their works have failed, and they have become the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who believe will say, "Are these the ones who swore by Allah their strongest oaths that indeed they were with you?" Their deeds have become worthless, and they have become losers.

— Saheeh International

The believers say, "Are these the people who proclaimed themselves to be our sworn friends?" Their deeds have become devoid of all virtue and they themselves have become lost.

— Muhammad Sarwar

And those who believe will say: Are these they who swore by Allah with the most forcible of their oaths that they were most surely with you? Their deeds shall go for nothing, so they shall become losers.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believe will say: are those they who swear by Allah say their solemn oaths that they were verily with you? Their works came to naught, and they found themselves losers.

— Abdul Majid Daryabadi

And those who believe will say: "Are these the men who swore their strongest oaths by Allah, that they were with you?" All that they do will be in vain, and they will fall into (nothing but) ruin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–53

دشمن اسلام سے دوستی منع ہے دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 86 یعنی جو کچھ انہوں نے اسلام کی پیروی میں کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، زکوٰۃ دی، جہاد میں شریک ہوئے، قوانین اسلام کی اطاعت کی، یہ سب کچھ اس بنا پر ضائع ہوگیا کہ ان کے دلوں میں اسلام کے لیے خلوص نہ تھا اور وہ سب سے کٹ کر صرف ایک خدا کے ہو کر نہ رہ گئے تھے بلکہ اپنی دنیا کی خاطر انہوں نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے باغیوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں اس کی مزید تشریح اس طرح بیان فرمائی کہ جب منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہوگا اور ان کی دوستی کے دعو وں اور قسموں کی حقیقت کھلے گی تو مسلمان حیرت میں رہ جائیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو ہم سے اللہ تعالیٰ کی مغلظ قسمیں کھا کر دوستی کا دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا یہ حشر ہوا کہ ان کے سب اسلامی اعمال جو محض دکھلاوے کے لئے کیا کرتے تھے ضائع ہوگئے۔ اور اللہ جل شانہ نے ان آیات میں جو فتح مکہ اور منافقین کی رسوائی کا ذکر فرمایا ہے وہ چند روز کے بعد سب نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 52–53

تفسیر آیت 52۔ 53:۔ فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ۔ وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙاِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۭحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِيْنَ۔ منافقین کے دل کا چور : فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ۔ "" یہاں تفصیل کے لیے ہے اور خطاب، عام مسلمانوں سے ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–53

52۔ 1 اس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔ 52۔ 2 یعنی مسلمانوں کو شکست ہوجائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں میں دوستی ہوگی تو ایسے موقع پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔ 52۔ 3 یعنی مسلمانوں کو۔ 52۔ 4 یہود و نصاریٰ پر جزیہ عائد کر دے یہ اشارہ ہے جو بنو قریظ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنو نضیر کی جلا وطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–63

44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وَیَقُولُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَہْدَ أَیْْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِیْنَ (53) ” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ “۔۔۔۔۔ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام ونامراد ہو کر رہے ۔ ہاں پھر ایک دن آگیا کہ فتح نصیب ہوئی ۔ کئی لوگوں کے خفیہ راز کھل گئے اور ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور کئی گروپ سخت گھاٹے میں رہے ۔ اور آج بھی ہم اللہ کے اس وعدے کے انتظار میں ہیں کہ فتح آئے گی بشرطیکہ ہم اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 53–54

1 اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی ہے پچھلی آیات میں کفار کے موالات سے منع کیا گیا تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص یا قوم موالات کفار کی بدولت صریحاً اسلام سے پھر جائے۔ جیسا کہ (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :51) میں تنبیہ کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے نہایت قوت اور صفائی سے آگاہ کردیا کہ ایسے لوگ اسلام سے پھر کر کچھ اپنا ہی نقصان کریں گے، اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے حق تعالیٰ مرتدین کے بدلے میں یا ان کے مقابلہ پر ایسی قوم لے آئے گا جن کو خدا کا عشق ہو اور خدا ان سے محبت کرے وہ مسلمانوں پر شفیق و مہربان اور دشمنان اسلام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْلا اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ ط حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ اب جو تین آیتیں آرہی ہیں ان میں ان اہل ایمان کا ذکر ہے جو پورے خلوص و اخلاص کے ساتھ اللہ کے راستے میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی توفیق دے کہ کمرہمتِ کس کر اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰہمارے دلوں میں یہ احساس پیدا فرما دے کہ اس کی شریعت کو نافذ کرنا ہے اور الکافِرون ‘ الظالِمُون اور الفاسِقون المائدۃ : 44 ‘ 45 اور 47 کی صفوں سے باہر نکلنا ہے۔ اس طرح کیّ جدوجہد میں محنت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 اسلام کے غلبہ کا منافقوں پر اثر :۔ ان کی اسلام دشمن خفیہ حرکات سے جب مسلمانوں کو ان کے منافق ہونے کا شک ہونے لگتا ہے تو اللہ کی قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں اور ان یہود سے جو ہماری بات چیت ہوتی ہے وہ محض رسمی اور مروت کے طور پر ہوتی ہے اور منافقوں کا دستور یہ تھا کہ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کو دغا دیا کرتے بلکہ بعد میں قسمیں کھانے لگتے اور اگر مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شامل نہ ہوتے تو بہانے تراشنے لگتے اور اپنے آپ کو سچا ظاہر کرنے کے لیے قسمیں کھانے لگتے۔ ان لوگوں کا دنیا میں تو یہ حشر ہوا کہ مسلمانوں کو بالآخر فتح نصیب ہوئی۔ مکہ فتح ہوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

196 ۔ (لیکن اب تو حقیقت حال کچھ اور ہی ظاہر ہورہی ہے) یہ کہنے والے مومنین ہوں گے اور آپس میں کہیں گے جب منافقین کانفاق کھل کررہے گا۔ 197 ۔ (آخرت اور دنیا دونوں میں) استحقوا اللعن فی الدنیا والعقاب فی الاخرۃ (کبیر) دنیا میں یوں کہ کافروں کی معاونت لاحاصل نکلی، اور مسلمانوں کے سامنے قلعی کھل کر رہی، اور آخرت میں یوں کہ ان کی ظاہری نیکیاں بالکل بےوزن نکلیں۔ (آیت) ” اعمالھم “۔ میں اعمال سے ان کے وہ اعمال تو مراد ہیں ہی جن پر انہیں طاعات ہونے کا گمان تھا۔ لیکن ان سے مراد ان کی منافقانہ کارروائیاں اور دو رخی چالیں بھی ہوسکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–56

فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون الذین امنوا ہولآء الذین اقسموا باللہ جہد ایمانہم اور مسلمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہا تھا۔ یقول جملہ استینافیہ ہے مطلب یہ ہے کہ جب اللہ فتح سامنے لے آئے گا تو منافق اس وقت نادم ہوں گے اور مسلمان بطور تعجب کہیں گے۔ جہد ایمان سے مراد ہیں پختہ قسمیں۔ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی یجتہدون جہد ایمانہم اور چونکہ جہد ایمانہم جملۂ حالیہ محذوف کا قائم مقام ہے۔ اسی لئے (باوجود مفعول مطلق ہونے کے) اس کا معرفہ لانا درست ہے یا جہد ایمان اوراقسموا کا معنوی اشتراک ہے ‘ دونوں کا ایک ہی معنی ہے اس لئے جہد ایمانہم اقسموا کا مفعول مطلق ہے۔ انہم لمعکم کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور مومن کہیں گے کہ یہ وہی منافقین عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھی ہیں جو بڑے زور لگا کر قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم منافقین تم خالص ایمان والوں کے ساتھ ہیں، ان کی تو دنیاوی تمام نیکیاں ضائع ہوگئیں اور عذاب کی وجہ سے یہ تو بہت بڑے خسارے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا۔۔ : یعنی مسلمان جب جنگ کے وقت منافقین کو یہود و کفار کا ساتھ دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہم سے پکی قسمیں کھا کر کہا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور کفار کے دشمن ہیں ! ! اب ان کی حقیقت کھل گئی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–53

آیت نمبر : 52 تا 53۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد شک اور نفاق ہے، سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں (آیت) ” یسارعون فیھم یعنی وہ ان کی محبت ومعاونت میں جلدی کرتے ہیں۔ (آیت) ” یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ کہتے ہیں : ہمیں اندیشہ ہے ہم پر کوئی گردش زمانہ آئے خواہ وہ قحط کی صورت میں آئے تو وہ یہود ہمیں نوازیں گے نہیں اور وہ ہم پر مہربانی نہیں کریں گے یا ایسی صورت ہوجائے کہ یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں تو معاملہ محمد ﷺ کے ہاتھ میں رہے گا نہیں۔ اس لیے ہم یہود سے رشتہ الفت رکھتے ہیں، یہ قول معنی کے زیادہ قریب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–53

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض سے مراد عبد اللہ بن ابی جیسے لوگ ہیں۔ (اور فرمایا) لفظ آیت یسارعون یعنی ان کی دوستی میں جلدی کرتے ہیں۔ (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو یہودیوں سے نرم برتاؤ کرتے اور ان کی طرف سے جھگڑتے ہیں۔ جلدی کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان ہاں کے دودھ پلاتے ہیں۔ لفظ آیت یقولون نخشی وہ کہتے ہیں کی ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کبھی حالات یہودیوں کے حق…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَيَقُوْلُ : اور کہیں گے ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ اَ : کیا ] [ هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ : وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] [ اَقْسَمُوْا : قسم کھائی ] [ بِاللّٰهِ : اللہ کی ] [ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ: جیسا کہ اپنی قسموں سے کوشش کرنے کا حق ہے ] [ اِنَّهُمْ : کہ وہ لوگ ] [ لَمَعَكُمْ ۭ: ضرور تمہارے ساتھ ہیں ] [ حَبِطَتْ : اکارت ہوئے ] [ اَعْمَالُهُمْ : ان کے اعمال ] [ فَاَصْبَحُوْا : تو وہ ہوگئے ] [ خٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) (الایۃ) یعنی جب منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آئے گا تو اہل ایمان تعجب سے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی مضبوطی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا باطن تو کچھ اور ہی نکلا، جھوٹے کو جب اپنی بات کو باور کرانا ہوتا ہے تو بار بار تاکید کے ساتھ قسمیں کھاتا ہے، منافقین بھی ایسا ہی کرتے تھے، سچے کو قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے اعمال اور اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے یہ سچا ہے قسموں کے بغیر ہی اس پر اعتماد ہوجاتا ہے۔ منافقوں نے جو نفاق کی چالیں چلیں اور دکھانے کو بظاہر جو نیک اعمال کئے وہ سب اکارت چلے گئے ان سے کچھ فائدہ نہ ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–53

حکم چہاردہم ممانعت از موالاۃ یہود ونصاری اوذم منافقین۔ قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوا۔۔۔ الی۔۔۔ خاسرین۔ ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے قبائح کو بیان کیا اب ان آیات میں مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم ان سے محبت نہ کرنا جو ان سے محبت کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا کیونکہ محبت اور صحبت کا برا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے محبت کا یہ اثر ہے کہ محبوب کی ہر چیز محب کی نظر میں محبوب ہوجاتی ہے جذام اور سرطان کی طرح کفر اور شرک ایک روحانی مرض ہے دلی میل جول سے اس کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے باغیوں کی دلی محبت اور میل جول سے رفتہ رفتہ انہیں کا مذہب اختیار کرلیتا ہے فی الحال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

97 یہ مسلمانوں کی طرف سے منافقین کے حال بد اور ان کے عذر پر تعجب کا اظہار ہے ان منافقین نے پختہ قسمیں کھا کھا کر آنحضرت ﷺ کو یقین دلایا تھا کہ وہ آپ کے دین پر ہیں اور آپ کے ساتھی ہیں اور وقت آنے پر یہود کے مقابلے میں آپ کی مدد کریں گے مسلمانوں کا ساتھ دیں گے مگر ان کے کرتوتوں سے ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ حَبِطَتْ اَعْمَالَھُمْ الخ ان کے تمام اعمال ضائع اور بےنتیجہ ہوگئے اور بےنتیجہ ہوگئے اور ان پر آخرت کا کوئی اجر مترتب نہیں ہوگا کیونکہ اعمال کے مفید اور موجب ثواب ہونے کے لیے ایمان خالص شرط ہے اور وہ اس سے محروم ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–53

ربط آیات گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اور ان کی خباثتوں کا ذکر کیا۔ دین کی تحریف۔ کتمان حق ‘ نقض عہد اور تغیر احکام ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ منافقین کے متعلق بھی پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درپردہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رابط ہے۔ اب آج کی آیات میں یہودو نصاری کے ساتھ دوستی قائم کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی واضح خباثتوں کے بعد یہ لوگ دوستانے کے قابل نہیں رہے اسی طرح ان منافقین کے ساتھ بھی دوستانہ روابط سے منع فرمایا گیا ہے۔ اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمُوْا بِاللہِ جَہْدَ اَيْمَانِہِمْ۝ 0ۙ اِنَّہُمْ لَمَعَكُمْ۝ 0ۭ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِيْنَ۝ 53 ها هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–53

ترکیب : الیہود والنصاریٰ ‘ لا تتخذوا کا مفعول اول اولیاء مفعول ثانی الذین فتری کا مفعول اول یسارعون مفعول ثانی فیصبحوا معطوف ہے یاء تی پر۔ تفسیر : چونکہ خدا سے نافرمانی کرنا اور فسق و فجور اور شرک و کفر میں ایک مرض روحانی ہے جو بیشتر ایسے لوگوں سے دلی میل جول رکھنے سے متعدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر ان سے دلی میل جول کی ممانعت کرتا ہے بقولہ یا یہا الذین آمنوا الخ اولیاء تک کلام تمام ہوگیا۔ بعضہم اولیاء بعض الگ جملہ ہے یعنی وہ کفر و نفاق میں ہم جنس ہیں۔ ان کی باہم محبت قرین قیاس ہے مگر تم ان سے محبت نہ کرو اور جو ایسا کرے گا تو انہیں میں شمار ہوگا۔ روایت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَھٰٓؤُلآَئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِ اللہ ِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لا اِنَّھُمْ لَمَعَکُمْ ط حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 53) ” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں ‘ جو بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ؟ ان کے سارے اعمال ڈھے گئے اور وہ نامراد ہوگئے “۔ منافق کے تمام اعمال صالح ضائع ہوجاتے ہیں مسلمانوں کو ان کے سابقہ طرز عمل پر انتہائی تعجب ہو رہا تھا کہ وہ کس طرح بڑھ بڑھ کر اپنی وفاداری اور اخلاص کا ثبوت دیا کرتے تھے۔ نمازوں میں شریک ہوتے ‘ زکوٰتیں دیتے ‘ جہاد کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کا منافقین پر تعجب کا اظہار اور منافقین کے اعمال کا غارت ہونا۔ اس سے پہلی آیت میں مسلمانوں کو کامیاب ہونے کی خوشخبری سنانے کے ساتھ اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آئے گا کہ مسلمان کامیاب اور منافق اپنی سازشوں اور شرارتوں پر نادم ہوں گے اور اس وقت مسلمان انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہیں گے کیا یہی وہ لوگ تھے جو قسمیں اٹھا اٹھا کر ہمیں یقین دہانی کرایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی منافقوں کو شرمندہ کیا اور آخرت میں جب منافق جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو مومن ان سے یہ پوچھیں گے کیا تم وہی لوگ ہو جو دنیا میں حلف اٹھا اٹھا کر کہا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منافقین کی بدحالی : آیت 53 : وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا یعنی ایمان والے۔ اس وقت ایک دوسرے کو کہیں گے۔ قراءت : بصری نے ان یاتی پر عطف کے طور پر یقول پڑھا ہے اور شامی اور حجازی نے یقول کو وائو کے بغیر پڑھا ہے اسی لئے کہ کہنے والے کا جواب ہے کہ مومن اس وقت کیا کہیں گے۔ تو جواب دیا یقول الذین ٰامنوا ایمان والے اس وقت یہ کہیں گے۔ اَہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ اِنَّہُمْ لََمَعَکُمْ (یعنی وہ پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے دوست ہیں اور کفار کے خلاف تمہارے معاون ہیں) نحو : جہد ایمانہم یہ مصدر ہے جو حال کے معنی میں ہے۔ یعنی وہ اس حال میں کہ وہ تمہاری قسموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 53–54

آیت نمبر 54, 53 تفسیر :(و) اور اس وقت (یقول الذین امنوا کہتے ہیں مسلمان) اہل کوفہ نے ” ویقول “ کو وائو کے ساتھ اور لام کے رفع سے پڑھا ہے کہ یہ نیا جملہ ہے اور اہل بصرہ نے وائو کے ساتھ اور لام کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے کہ اس کا عطف ” ان یاتی “ پر ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ قریب ہے کہ مومن لوگ یہ بات کہیں گے اور باقی حضرات وائو کو حذف کرکے لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل عالیہ کے مصاحف میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ اس صورت میں حرف عطف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آیت اپنے ماقبل سے متصل ہے یعنی جس وقت اللہ تعالیٰ منافقین کا نفاق ظاہر کریں گے اس وقت مومنین کہیں گے (اھولاء الذین اقسموا باللہ جھد ایمانھم کیا یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–53

(51 ۔ 53) ۔ مفسرین مقتدمین اور مقتدمین کی بنا پر مفسرین متاخرین نے اس آیت کے شان نزول میں بڑا اختلاف کیا ہے 1 ؎۔ بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے دوست چند یہودیوں کا اور بعض نے اپنے چند دوست نصرانیوں کا ذکر کیا اور عین میدان جنگ میں یہ کہا کہ اس لڑائی کے ڈھنگ سے مسلمانوں کی حالت تو اب اچھی نظر نہیں آتی ہم لوگ اپنے دوست یہودونصاریٰ سے مدینہ واپس جا کر پناہ چاہیں گے تاکہ ہم پر ابوسفیان اور مشرکین مکہ دست درازی نہ کرسکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس طرح کی بےدلی نہ کرو۔ قریب میں اللہ تعالیٰ فتح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–53

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاری کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنئایں (بعضھم اولیآء بعض) ” کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں “ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے نقصان کی کوئی پروا نہیں، بلکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا : (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) ” اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے “ کیونکہ کامل دوستی ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 52–54

قول باری ہے یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اے ایمان لانے والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا ۔ حسن، قتاد ہ، ضحاک اور ابن جریج کا قول ہے آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور آپ کے مرتدین کی سرکوبی کرنے والوں کے بارے میں ہوا ۔ سدی کا قول ہے کہ آیت حضرات انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ اہل یمن کے متعلق ہے۔ شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے عیاض الاشعری سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 52–53

137 منافقین کے منافقانہ روے کا ذکر وبیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جا کر انہی [ کافر ] لوگوں میں گرتے اور گھستے ہیں اور بیماری سے یہاں پر مراد ہے شک و ریب اور نفاق کی بیماری۔ (محاسن التاویل) اور باطن کی یہ بیماری ظاہری اور جسمانی امراض سے بھی کہیں بڑھ کر مضر اور خطرناک ہے۔ سو اس مرض کے مریض اور اس خوفناک روگ کے روگی یہود جو دشمنان اسلام سے دوستی رکھتے ہیں اور ان کو اس ضمن میں جب بھی کوئی موقع ملتا ہے یہ ادھر دوڑ پڑتے ہیں۔ جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین کا طریقہ و وطیرہ تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–53

نو مسلموں کی کشمکش تشریح : پہلے یہود و نصارٰی کی دوستی سے منع کیا گیا۔ یہاں منافقین کا ذکر ہے جن کو ہر وقت یہ پریشانی رہتی تھی کہ یہود انتہائی مالدار اور عالم لوگ ہیں جب کہ مسلمان جب مدینہ میں گئے تو شروع میں کافی کمزور حالت تھی کیونکہ مدینہ میں تو وہ ہجرت کر کے آئے تھے تو منافق باوجود منع کرنے کے یہود و نصارٰی کے ساتھ چپکے رہتے جب ان سے وجہ پوچھی جاتی تو کہتے معلوم نہیں مسلمانوں کی کمزور سی جماعت ہے اس پر کیا مصیبت آپڑے۔ یہود و نصارٰی تو بڑے امیر کبیر ہیں مشکل میں ہمارے کام آسکیں گے۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ عنقریب ہی مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوگی اور ان کی پوزیشن بھی بڑی مضبوط…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–56

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔ اسرار و معارف : ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اور کافروں کے طرف دار نہیں ہیں مگر اب تو ان کا جھوٹ صاف کھل گیا (وحیدی ) 3 دنیا و آخرت دونوں برباد ہوئیں دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں سخت ترین عذاب کے مستحق قرار پائے (وحیدی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:53) جھد ایمانھم۔ بڑی بڑی قسمیں۔ سخت سے سخت قسمیں۔ بہت کڑی قسمیں ۔ بڑی پکی قسمیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

آیت نمبر 53 لغات القرآن : اھؤلاء (کیا یہی لوگ ہیں) ۔ اقسموا (انہوں نے قسم کھائی) ۔ جھد (طاقت۔ انتہا درجہ کی کوشش) ۔ ایمان (قسمیں) ۔ اصبحوا (وہ ہوگئے) ۔ تشریح : قیامت کے دن جب کامیابی مسلمانوں کی ہوگی اور منافقین کی ندامت ان کے چہرے سے ظاہر ہوگی اور وہ خوب پہچان لئے جائیں گے اس وقت مخلص مومنین حیران رہ جائیں گے وہ کہہ اٹھیں گے یہ تو وہی لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمیں اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلایا کرتے تھے۔ ہم لوگ کتنے دھوکے میں تھے مگر اللہ کی شان کہ اس نے ہمیں ہی سرخرو کردیا۔ یہ منافقین دنیا میں تو تباہ وہ برباد ہو ہی گئے، آخرت میں بھی ان کے تمام نمائشی اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ اس آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–53

ان آیتوں میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ موالات یعنی ان کی مدد کرنا اور ان سے مدد چاہنا ان کے ساتھ محبت کے روابط کو ممنوع فرمایا گیا ہے۔ یہ حکم عام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–63

[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) پہلی آیت سے متعلق ہے ، یعنی جب مسلمانوں کا افلاس عزت وشرف سے بدل جائے گا تو اس وقت وہ منافقین کو مخاطب کرکے از راہ تعجب وتحقیر کہیں گے کیا یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان کا منافقانہ اظہار کرتے تھے اور آج یہ کیفیت ہے کہ تمام اعمال ضائع اور تمام کوششیں رائیگاں ہیں ۔ حل لغات : دآئرۃ : پھیر ۔ گردش گردوں ۔ اسروا : مصدر اسرار چھپانا ، ظاہر کرنا ذوات الاضداد سے ہے ، یہاں مراد چھپانا ہے ۔ جھدایمانھم : مضبوط حلف ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو یہ لوگ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہوسکتے ہیں اور جو شخص تم میں سے ان یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنائے گا اور دوستی ورفاقت کرے گا تو یقین جانو ! کہ وہ انہی میں سے شمار ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور مسلمانوں کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ پر اعتماد کرتے ہو۔ سو اے پیغمبر آپ ملاحظہ کرتے ہوں گے جن لوگوں کے دل میں نفاق کا روگ ہے وہ ان یہود و نصاریٰ میں گھسنے اور ان سے دوستانہ تعلق بڑھانے میں جلدی کر رہے ہیں اور ان سے مودت و محبت بڑھانے میں جلد بازی سیک ام لے رہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ چناچہ یہ پیشن گوئی صادق ہوئی ان منافقوں کی زیادہ دوستی مدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین سے تھی مکہ فتح ہوگیا اور یہود خستہ وخراب ہوئے جس کا ذکر کئی بار آچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والوں کا تعجب کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قسمیں کھا کھا کر ہمارے ساتھ رہنے کا یقین دلاتے تھے : 156: منافق کون ہیں ؟ وہی جس کی ہمیشہ دو حالتیں ہوں اور وہ کسی ایک حالت پر مطمئن نہ ہو سکے ۔ اس لئے منافق کی ایک حالت وہ ہوتی ہے جو بظاہر نظر آتی ہے اور دوسری وہ جو اس کے دل میں چھپی ہے اور ظاہر ہے کہ دل میں چھپی بات کو راز کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ جو بات دل میں چھپی ہے وہ کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو ہی جاتی ہے ۔ مسلمانوں نے ان کی ظاہری حالت تو دیکھی تھی اور اس کو مسلمان ہونے کے ناطے سے وہ پہچانتے تھے لیکن جب ان کا وہ راز قاش ہوجاتا جو ان کے دل میں چھپا تھا تو اس وقت مسلمان آپس میں کہتے ہیں ارے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This has been clarified further in the third verse (53) where it was said that once the hypocricy of the hypocrites has been exposed and the reality behind their claims and oaths of friendship comes out in the open, Muslims would wonder if those were the people who used to assure them with sworn claims of their friendship and there they were all ruined as everything they did just to pretend had gone to waste. That Allah Jalla Sha'nuhu has mentioned the conquest of Makkah and the disgrace of the hypocrites in these verses was something which everyone saw only after a few days with their own…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

86. However much they might profess to follow Islam - by performing Prayers, by observing Fasts, by paying Zakah, by taking part in wars in the cause of God - all was reduced to naught because they had not devoted themselves to the service of the One True God. In pursuit of their worldly ambitions they had split their souls into two, distributing half to God and half to those in rebellion against Him.

Read the full tafseer →