Explained with ayahs 51–53
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے
دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 84
اس وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اسلام اپنے پیرو وں کی سرفروشیوں کے سبب سے ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبردست تھیں۔ اسلام کی فتح کا جیسا امکان تھا ویسا ہی کفر کی فتح کا بھی تھا۔ اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط و ضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جائے پناہ محفوظ رہے۔ علاوہ بریں اس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی۔ ساہوکارہ بیشتر انہی کے ہاتھ میں تھا۔ عرب کے بہترین…
Read the full tafseer →فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ۔
یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سن کر وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں۔
اللہ جل شانہ نے ان کے جواب میں فرمایافَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ ، یعنی یہ لوگ تو اس خیال میں ہیں کہ مشرکین اور یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں گے، مگر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
تفسیر آیت 52۔ 53:۔ فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ۔ وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙاِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۭحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِيْنَ۔
منافقین کے دل کا چور : فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ۔ "" یہاں تفصیل کے لیے ہے اور خطاب، عام مسلمانوں سے ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
52۔ 1 اس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی منافقین یہودیوں سے محبت اور دوستی میں جلدی کر رہے ہیں۔
52۔ 2 یعنی مسلمانوں کو شکست ہوجائے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہودیوں میں دوستی ہوگی تو ایسے موقع پر ہمارے بڑے کام آئے گی۔
52۔ 3 یعنی مسلمانوں کو۔
52۔ 4 یہود و نصاریٰ پر جزیہ عائد کر دے یہ اشارہ ہے جو بنو قریظ کے قتل اور ان کی اولاد کے قیدی بنانے اور بنو نضیر کی جلا وطنی وغیرہ کی طرف، جس کا وقوع مستقبل قریب میں ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
44: یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے تھے، اور جب ان پر اعتراض ہوتا تو وہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں گے تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوسکتے ہیں۔ اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہوجائیں گے تو ہمیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔ 45: ”کوئی اور بات ظاہر کرنے“ سے مراد غالباً یہ ہے کہ ان کے پول وحی کے ذریعے کھول دئیے جائیں ان کی رسوائی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔
اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف…
Read the full tafseer →6 یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں شک اور نفاق کی بیماری ہے جن کو خدا کے وعدوں پر اعتماد اور مسلمانوں کی حقانیت پر یقین نہیں، اسی لئے دوڑ دوڑ کر کافروں کی آغوش میں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ تاکہ ان کے موہوم غلبہ کے وقت ثمرات فتح سے متمتع ہو سکیں۔ اور ان کے زعم میں جو گردشیں اور آفات جماعت اسلام پر آنے والی تھیں ان سے محفوظ رہیں۔ (نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5 ۔ المائدہ :52) کے یہ ہی معنی ان کے دلوں میں مکنون تھے۔ لیکن یہ ہی الفاظ (نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ) 5 ۔ المائدہ :52) جب پیغمبر ﷺ اور مخلص مسلمانوں کے سامنے یہود سے دوستانہ رکھنے کی معذرت میں کہتے تھے تو گردش زمانہ کا یہ…
Read the full tafseer →آیت 52 فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ
فلاں ملک سے دوستی کا معاہدہ ‘ فلاں سے مدد کی درخواست ‘ فلاں سے حمایت کی توقع ‘ ان کی ساری بھاگ دوڑ ‘ تگ و دو ‘ خارجہ پالیسی یُسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ کی عملی تصویر ہے۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں روگ یعنی نفاق ہے۔ اگر اللہ پر ایمان ہو ‘ اعتماد اور یقین ہو ‘ اس سے خلوص اور اخلاص کا رشتہ ہو تو پھر اسی سے نصرت و حمایت کی امید ہو اور اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ محمد : 7 کے وعدے پر یقین ہو !
یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآءِرَۃٌ ط۔
یعنی ہم یہود و نصاریٰ سے اس لیے تعلقات استوار کر رہے ہیں کہ کل کلاں کسی نا…
Read the full tafseer →94 منافقوں کی یہود و نصاریٰ سے خفیہ سازباز کی وجہ :۔ یہود و نصاریٰ سے دلی دوستی رکھنے والے منافقین تھے جو بظاہر مسلمان تھے مگر ان کی دلی ہمدردیاں یہود و نصاریٰ اور کفار ہی کے ساتھ تھیں اور جنگ احد کے بعد ان کی ہمدردیوں میں کچھ اضافہ بھی ہوگیا تھا جنگ بدر کے بعد اگرچہ اسلام ایک قوت بن چکا تھا تاہم اسلام کو حقیقتاً غلبہ فتح مکہ کے بعد ہی حاصل ہوا۔ اس درمیانی عرصہ میں اسلام یا کفر میں سے کسی کے متعلق بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ ان میں سے کون سی قوت غالب ہوگی اور کونسی مغلوب ؟ اب ظاہری صورت حال یہ تھی کہ یہود و نصاریٰ دونوں مسلمانوں کی نسبت بہت زیادہ مالدار تھے عرب کے سرسبز و شاداب…
Read the full tafseer →194 ۔ (اور اس وقت یہودی ساہوکاروں سے دوستانہ تعلقات کام آئیں گے) دائرۃ۔ مراد ہے گردش زمانہ سے کوئی اتفاقی مصیبت مثلا قحط، گرانی، شکست جنگ وغیرہ۔ قال الواحدی الدائرۃ من دوائر الدھر کالدولۃ وھی التی تدورمن قوم الی قوم (کبیر) والدائرۃ ھی التی تخشی کا لھزیمۃ والحوادث المخوفۃ (کبیر) من دوائر الزمان ای صرف من صروفہ ودولہ فیحتاجوا الیہم (کشاف) (آیت) ” الذین فی قلوبھم مرض “ سے مراد منافقین مدینہ ہیں، یہی ان احکام امتناعی کے باوجود، یہودی مہاجنوں، ساہوکاروں سے برابر رشتہ موالات قائم کیے ہوئے تھے، مرض سے مراد شک ونفاق کا مرض ہے۔ مرض شک ونفاق والمراد ابن ابی و اصحابہ (قرطبی) المنافقون مثل عبداللہ بن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
فَتَرَی الّذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم، (الآیۃ) یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سنکر وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض نفاق ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں، اگر کوئی حادثہ پیش آگیا تو یہ لوگ آڑے وقت میں ہمارے کام آسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →فتری الذین فی قلوبہم مرض یسارعون فیہم اس لئے تم ایسے لوگوں کو کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے دیکھتے ہو کہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھستے ہیں ‘ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے منافق ساتھی ہیں جو یہودیوں سے موالات اور تعاون میں تیزی سے گھس رہے تھے یسارعون یا تری کا دوسرا مفعول ہے اگر تری کا بمعنی تعلم مانا جائے اور اگر تریٰ سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہو تو جملہ حالیہ ہے۔
یقولون نخشی ان تصیبہ دآئرۃ کہتے ہیں کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے یعنی زمانہ کی کوئی گردش آپڑے معاملہ الٹ جائے کافروں کے ہاتھ میں اقتدار پہنچ جائے اور محمد کا کام تکمیل کو نہ پہنچے اور مصیبت ہم پر پڑے ‘ کذا قال…
Read the full tafseer →(52) اے محمد ﷺ آپ ایسے لوگوں کو، جن کے دل میں مرض اور شک ہے جیسا کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی، دیکھیں گے کہ وہ ان ہی لوگوں کی دوستی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے یہ باتیں ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں حالات کی سختی کا ڈر ہے، اسی لیے ہم انھیں دوست بناتے ہیں۔
تو یہ چیز بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ فتح فرمادے اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمائے یا بنی قریضہ اور بنی نضیر پر قتل اور جلاوطنی کا عذاب نازل فرمادے تو یہ منافقین یہودیوں کی دوستی کی بنا پر ذلیل ورسوا ہوجائیں۔
Read the full tafseer →فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ۔۔ : یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کی طرف دوڑتے اور ان کے ساتھ دوستی کیے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں مسلمان زمانے کے کسی چکر میں آ کر مغلوب نہ ہوجائیں، پھر ہمارا کیا بنے گا، اس وقت ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی، سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے، بلکہ یقیناً ہوگا لفظ ”عَسٰی“ اللہ اور رسول کے فرمان میں یقین کے معنی میں آتا ہے) کہ مسلمانوں کو فتح ہوگی، کافر مغلوب ہوں گے، پھر وہ قتل ہوں گے، یا جلاوطن ہوں گے، یا انھیں جزیہ دینا پڑے گا، پھر ان منافقین کو ندامت ہوگی کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت نمبر : 52 تا 53۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض “۔ مرض سے مراد شک اور نفاق ہے، سورة بقرہ میں یہ گزر چکا ہے۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے منافق ساتھی ہیں (آیت) ” یسارعون فیھم یعنی وہ ان کی محبت ومعاونت میں جلدی کرتے ہیں۔ (آیت) ” یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ کہتے ہیں : ہمیں اندیشہ ہے ہم پر کوئی گردش زمانہ آئے خواہ وہ قحط کی صورت میں آئے تو وہ یہود ہمیں نوازیں گے نہیں اور وہ ہم پر مہربانی نہیں کریں گے یا ایسی صورت ہوجائے کہ یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں تو معاملہ محمد ﷺ کے ہاتھ میں رہے گا نہیں۔ اس لیے ہم یہود سے رشتہ الفت رکھتے ہیں، یہ قول معنی کے زیادہ قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض سے مراد عبد اللہ بن ابی جیسے لوگ ہیں۔ (اور فرمایا) لفظ آیت یسارعون یعنی ان کی دوستی میں جلدی کرتے ہیں۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو یہودیوں سے نرم برتاؤ کرتے اور ان کی طرف سے جھگڑتے ہیں۔ جلدی کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان ہاں کے دودھ پلاتے ہیں۔ لفظ آیت یقولون نخشی وہ کہتے ہیں کی ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کبھی حالات یہودیوں کے حق…
Read the full tafseer →[ فَتَرَى: پس تو دیکھے گا ] [ الَّذِيْنَ : ان کو جن کے ] [ فِيْ قُلُوْبِهِمْ : دلوں میں ] [ مَّرَضٌ: ایک روگ ہے ] [ يُّسَارِعُوْنَ : (کہ ) وہ لپکتے ہیں ] [ فِيْهِمْ : ان میں ] [ يَقُوْلُوْنَ : (اور) کہتے ہیں ] [ نَخْشٰٓى: ہم ڈرتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ تُصِيْبَنَا : آن لگے ہم کو ] [ دَاۗىِٕرَةٌ: کوئی گردش ] [ ۭفَعَسَى: تو قریب ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّاْتِيَ : وہ لے آئے ] [ بِالْفَتْحِ : فتح ] [ اَوْ : یا ] [ اَمْرٍ : کوئی حکم ] [ مِّنْ عِنْدِهٖ : اپنے پاس سے ] [ فَيُصْبِحُوْا : نتیجتا وہ ہوجائیں ] [ عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [ اَ سَرُّوْا : انھوں نے چھپایا ] [ فِيْٓ…
Read the full tafseer →فَعَسَی اللّٰہُ یَّأْتِیَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عندِْہٖ
منافقوں نے عہد نبوت میں یوں کہا تھا کہ اگر ہم یہودیوں سے تعلق نہ رکھیں اور ان سے دوستی ختم کردیں تو ہمیں ڈر ہے کہ آڑے وقت پر کوئی کام آنے ولا نہ ملے گا، اگر اسلام کا غلبہ نہ ہوا اور یہودیوں سے بگاڑ کر بیٹھیں تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے یا اگر کسی قسم کی کوئی گردش آگئی قحط پڑگیا مہنگائی ہوگئی تو ساہوکار یہودیوں سے جو امداد مل سکتی ہے اس سے محروم ہوجائیں گے، یہ خالص دنیا داری کا جذبہ ہے ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیاوی منافع حاصل ہونے کے احتمال پر ایسی بات کہہ گئے۔
اللہ جل شانہ نے اہل ایمان کو تسلی دی اور فرمایا (فَعَسَی اللّٰہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حکم چہاردہم ممانعت از موالاۃ یہود ونصاری اوذم منافقین۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوا۔۔۔ الی۔۔۔ خاسرین۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے قبائح کو بیان کیا اب ان آیات میں مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم ان سے محبت نہ کرنا جو ان سے محبت کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا کیونکہ محبت اور صحبت کا برا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے محبت کا یہ اثر ہے کہ محبوب کی ہر چیز محب کی نظر میں محبوب ہوجاتی ہے جذام اور سرطان کی طرح کفر اور شرک ایک روحانی مرض ہے دلی میل جول سے اس کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے باغیوں کی دلی محبت اور میل جول سے رفتہ رفتہ انہیں کا مذہب اختیار کرلیتا ہے فی الحال…
Read the full tafseer →95: مَرَضٌی یعنی نفاق کی بیماری۔ اس سے مراد منافقین ہیں اور یہ منافقین پر شکویٰ ہے۔ دَائِرَۃٌ یعنی کوئی حادثہ اور مصیبت منافقین دوڑ دوڑ کر یہود و نصاریٰ کی طرف جاتے ہیں اور انہوں نے در پردہ ان سے دوستی گانٹھ رکھی ہے اور عذر یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ ان سے موالات نہ کریں تو وہ ان کو مالی مشکلات اور دیگر دنیوی مصائب سے دوچار ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے ان کو مالی امداد ملتی تھی۔ لِاَنَّھُمْ کانوا اھل ثروۃ وکانوا یعینونھم علی مہماتھم ویقرضونہم (کبیر ج 3 ص 611) ۔
96: عَسیٰ کی نسبت جب اللہ کی طرف ہو تو وہ حتمی وعدے کے لیے ہوتا ہے یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ربط آیات
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اور ان کی خباثتوں کا ذکر کیا۔ دین کی تحریف۔ کتمان حق ‘ نقض عہد اور تغیر احکام ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ منافقین کے متعلق بھی پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درپردہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رابط ہے۔ اب آج کی آیات میں یہودو نصاری کے ساتھ دوستی قائم کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی واضح خباثتوں کے بعد یہ لوگ دوستانے کے قابل نہیں رہے اسی طرح ان منافقین کے ساتھ بھی دوستانہ روابط سے منع فرمایا گیا ہے۔
اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت
ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین…
Read the full tafseer →فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْہِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَۃٌ 0ۭ فَعَسَى اللہُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَسَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِيْنَ 52ۭ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ترکیب : الیہود والنصاریٰ ‘ لا تتخذوا کا مفعول اول اولیاء مفعول ثانی الذین فتری کا مفعول اول یسارعون مفعول ثانی فیصبحوا معطوف ہے یاء تی پر۔
تفسیر : چونکہ خدا سے نافرمانی کرنا اور فسق و فجور اور شرک و کفر میں ایک مرض روحانی ہے جو بیشتر ایسے لوگوں سے دلی میل جول رکھنے سے متعدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر ان سے دلی میل جول کی ممانعت کرتا ہے بقولہ یا یہا الذین آمنوا الخ اولیاء تک کلام تمام ہوگیا۔ بعضہم اولیاء بعض الگ جملہ ہے یعنی وہ کفر و نفاق میں ہم جنس ہیں۔ ان کی باہم محبت قرین قیاس ہے مگر تم ان سے محبت نہ کرو اور جو ایسا کرے گا تو انہیں میں شمار ہوگا۔ روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ ط فَعَسَی اللہ ُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلیٰ مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَط۔ (المائدہ : 52)
(تم ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے ‘ دیکھتے ہو کہ وہ ان کی طرف پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ فتح یا اپنی طرف سے کوئی خاص بات دکھائے اور انھیں اس چیز پر ‘ جو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں ‘ نادم ہونا پڑے)
یعنی یہود و نصاریٰ سے جو لوگ تعلقات اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : منافقین کی دلی کیفیت اور ان کے قلبی خوف کو طشت ازبام کیا گیا ہے۔
منافقانہ عقیدہ اور کردار کو قرآن مجید ایک مرض قرار دیتا ہے جس میں آدمی کفر و اسلام کے درمیان تذبذب کا شکار رہتے ہوئے ہمیشہ دنیاوی مفاد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ یہی حالت رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی تھی۔ جب انھیں اس روش سے باز رہنے کی تلقین کی جاتی تو وہ اپنے جذبات کو ان الفاظ میں بیان کرتے کہ ہم فریقین کے ساتھ اس لیے تعلقات رکھے ہوئے ہیں کہ کسی ایک فریق کو شکست ہونے کی صورت میں ہمیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دینے کے ساتھ منافقین کو…
Read the full tafseer →منافق موالات کفار میں تیز ہیں :
آیت 52 : فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ (تم ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری دیکھو گے) یُّسَارِعُوْنَ (جلدی کرنے والے ہیں) نحو : یہ حال یا مفعول دوم ہے کیونکہ تَرٰی سے آنکھ سے دیکھنا بھی مراد ہوسکتا ہے اور دل سے دیکھنا بھی۔ فِیْہِمْ ان میں یعنی ان کفار کی مسلمانوں کے خلاف معاونت میں اور موالات میں جلدی کرنے والے ہیں۔ یَقُوْلُوْنَ وہ اپنے نفسوں میں کہتے ہیں یہ دل میں کہنا اس لئے مراد لیا کیونکہ علی ما اسروا اسی آیت کے آخر میں آرہا ہے ما اسروا قول نفس ہی ہے۔ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآپرَۃٌ (ہمیں خطرہ ہے کہ کوئی حادثہ حالات کو گھما دے جس پر وہ ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت نمبر 52, 51
تفسیر : (یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الیھود والنصریٰ اولیاء اے ایمان والو ! مت بنائو یہود اور نصاریٰ کو دوست) اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے۔
آیت لاتتخذو الیھود و النصاری اولیاء کا شان نزول
اگرچہ اس کا حکم عام ہے تمام مومنین کو شامل ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان دونوں کا جھگڑا ہوا تو حضرت عبادہ ؓ نے فرمایا میرے کئی یہودی دوست ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ اور قوت بہت ہے۔ میں ان سے برأت ظاہر کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کی طرف اب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا میرا کوئی دوست نہیں ہے لیکن عبداللہ بن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(51 ۔ 53) ۔ مفسرین مقتدمین اور مقتدمین کی بنا پر مفسرین متاخرین نے اس آیت کے شان نزول میں بڑا اختلاف کیا ہے 1 ؎۔ بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے دوست چند یہودیوں کا اور بعض نے اپنے چند دوست نصرانیوں کا ذکر کیا اور عین میدان جنگ میں یہ کہا کہ اس لڑائی کے ڈھنگ سے مسلمانوں کی حالت تو اب اچھی نظر نہیں آتی ہم لوگ اپنے دوست یہودونصاریٰ سے مدینہ واپس جا کر پناہ چاہیں گے تاکہ ہم پر ابوسفیان اور مشرکین مکہ دست درازی نہ کرسکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس طرح کی بےدلی نہ کرو۔ قریب میں اللہ تعالیٰ فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51
اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاری کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنئایں (بعضھم اولیآء بعض) ” کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں “ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے نقصان کی کوئی پروا نہیں، بلکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا : (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) ” اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے “ کیونکہ کامل دوستی ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
قول باری ہے یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اے ایمان لانے والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو پھر جائے اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا ۔ حسن، قتاد ہ، ضحاک اور ابن جریج کا قول ہے آیت کا نزول حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور آپ کے مرتدین کی سرکوبی کرنے والوں کے بارے میں ہوا ۔ سدی کا قول ہے کہ آیت حضرات انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ اہل یمن کے متعلق ہے۔ شعبہ نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے عیاض الاشعری سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
137 منافقین کے منافقانہ روے کا ذکر وبیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے دل میں بیماری ہے تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوڑ دوڑ کر جا کر انہی [ کافر ] لوگوں میں گرتے اور گھستے ہیں اور بیماری سے یہاں پر مراد ہے شک و ریب اور نفاق کی بیماری۔ (محاسن التاویل) اور باطن کی یہ بیماری ظاہری اور جسمانی امراض سے بھی کہیں بڑھ کر مضر اور خطرناک ہے۔ سو اس مرض کے مریض اور اس خوفناک روگ کے روگی یہود جو دشمنان اسلام سے دوستی رکھتے ہیں اور ان کو اس ضمن میں جب بھی کوئی موقع ملتا ہے یہ ادھر دوڑ پڑتے ہیں۔ جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ منافقین کا طریقہ و وطیرہ تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جب ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
نو مسلموں کی کشمکش
تشریح : پہلے یہود و نصارٰی کی دوستی سے منع کیا گیا۔ یہاں منافقین کا ذکر ہے جن کو ہر وقت یہ پریشانی رہتی تھی کہ یہود انتہائی مالدار اور عالم لوگ ہیں جب کہ مسلمان جب مدینہ میں گئے تو شروع میں کافی کمزور حالت تھی کیونکہ مدینہ میں تو وہ ہجرت کر کے آئے تھے تو منافق باوجود منع کرنے کے یہود و نصارٰی کے ساتھ چپکے رہتے جب ان سے وجہ پوچھی جاتی تو کہتے معلوم نہیں مسلمانوں کی کمزور سی جماعت ہے اس پر کیا مصیبت آپڑے۔ یہود و نصارٰی تو بڑے امیر کبیر ہیں مشکل میں ہمارے کام آسکیں گے۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ عنقریب ہی مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوگی اور ان کی پوزیشن بھی بڑی مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔
اسرار و معارف :
ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی منافقین جو یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کہیں مسلمان ان سے مغلوب ہوگئے تو ان کی دوستی ہمارے کام آئے گی سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا تو عنقریب کافر ہلاک ہوں گے اور مسلمانوں کو ان پر فتح ہوگی یا یہ ملک سے چلاوطن ہو نگے چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا۔ مسلمان کو فتح نصیب ہوئی بنو قریضہ کے یہود قتل ہوئے اور بنو نظیر کو سرزمین مدینہ سے باہر نکال دیا گیا اور یہ لوگ اپنے نفاق پر کف افسوس ملنے لگے (قرطبی، کبیر )
Read the full tafseer →(5:52) یسارعون فیہم۔ ای یسارعون فی مودۃ الیہود والنصاری وموالاتہم لانہم کانوا اہل ثروۃ ویسار۔ یعنی یہود کی محبت اور دوستی کی طرف دوڑ دوڑ کر جاتے تھے کیونکہ وہ اہل شروت اور اہل دولت تھے۔
دائرۃ۔ گردش۔ مصیبت۔ دور سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ جس کے معنی چکر لگانا ہیں پھر مصیبت ۔ گردش زمانہ کو بھی دائرہ یا دارہ کہہ دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ویتربص بکم الدوائر علیہم دائرۃ السوء (9:98) وہ تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں ان ہی پر بری مصیبت واقع ہو۔
اسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے چھپایا۔ اسرار سے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 52
لغات القرآن : نخشی (ہم ڈرتے ہیں۔ خوف رکھتے ہیں) ۔ ان تصیبنا (یہ کہ ہمیں پہنچے) ۔ دآئرۃ (دور) ۔ مصیبت۔ گھومنا۔ چکر لگانا۔ عسی اللہ (قریب ہے اللہ) ۔ یصبحوا (وہ ہوجائیں) ۔ اسروا (انہوں نے چھپایا) ۔ ندمین (پچھتانے والے۔ شرمندہ)
تشریح : جس وقت وہ آیت اتری جس میں مسلمانوں کو کفار سے حقیقی دوستی کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، اس وقت مخلص مومنین مثلاً حضرت عبادہ ؓ بن ثابت نے اپنے کافر دوستوں کو نوٹس دے دیا اور قلبی تعلقات توڑ لئے۔ اس کے برخلاف منافق اعظم عبد اللہ بن ابی بن سلول نے علی الاعلان کہا کہ قطع تعلق میں مجھے خطرہ ہے۔ میں کفار سے اپنے تعلقات خراب نہیں کرسکتا۔ اسی پر یہ آیت نمبر 52…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ان آیتوں میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ موالات یعنی ان کی مدد کرنا اور ان سے مدد چاہنا ان کے ساتھ محبت کے روابط کو ممنوع فرمایا گیا ہے۔ یہ حکم عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اگر وہ مناقین در پردہ یہود ونصاری سے ملا رہتا اور وجہ جواز یہ پیش کرتا کہ یہ لوگ مال دار ہیں وقت پڑنے پر کام آئیں گے ۔
اس آیت میں اس وہم کا جواب ہے فرمایا کہ کم بختو ! تمہیں کیا معلوم کہ مسلمانوں کی قسمت چمکنے والی ہے اور وہ زمانہ قریب ہے جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوجائے گا اور غریب ومفلس مسلمان لوگوں کی قسمت کے مالک ٹھہریں گے ، اس وقت ندامت و حسرت سے دو چار ہونا پڑے گا ، اس لئے مداہنت سے باز آجاؤ اور عارضی اعانت کے بھروسے پر ایمان جیسی متاع گراں قدر ہاتھ سے نہ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 3 کیا اے پیغمبر یہ آپ کے حکم سے روگردانی کر کے دور جاہلیت کے کافرانہ احکام کے متلاشی ہیں اور بھلا اللہ تعالیٰ سے بہتر اس قوم کے لئے جو یقین کرنے والی ہے کون فیصلہ کرنے والا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب یہ حق بات کو جو آپ کا حکم ہے نہیں مانتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر کیا اس زمانہ کی باتوں کو تلاش کرتے ہی جب نہ کوئی دین کی روشنی تھی نہ کوئی باضابطہ اور قابل اعتماد آسمانی کتاب بھی نہ تھی اب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا دور ہے اور خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کے احکام کو اجرا ہوچکا جب حق ظاہر ہوچکا تو اس روشنی کے زمانے میں دور جاہلیت کی باتوں کو تلاش کرتے پھرنا اس سے بڑھ کر بھی…
Read the full tafseer →ف 6۔ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی فتح اور منافقوں کی پر وہدری دونوں امر عنقریب ہونے والے ہیں۔
1۔ ایک ندامت تو اپنے خیال کی غلطی پر کہ امر طبعی ہے دوسری ندامت اپنے نفاق پر جس کی بدولت آج رسوا ہوئے۔ ما اسروا میں یہ دونوں داخل ہیں اور تیسری ندامت کفار کے ساتھ دوستی کرنے پر رائیگاں ہی گئی۔ اور مسلمانوں سے بھی بڑے تھے چونکہ یہ دوستی ما اسروا پر مبنی تھی لہذا ان دونوں ندامتوں کے ذکر سے یہ تیسری بلا ذکر صریح خود مفہوم ہوگئی۔
Read the full tafseer →یہود ونصاریٰ کی طرف دوڑ کر جانے والوں کی پہچان کہ وہ کون ہیں ؟
153: فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہ روگی لوگ ہیں جن کے دلوں میں مرض نفاق مکمل طور پر داخل ہوچکا ہے اور ان کا روگ ان کو ایک قدم اسلام کی طرف چلنے نہیں دیتا۔ مفسرین نے وضاحت کردی ہے کہ اس سے مراد عبد اللہ بن ابی سلول اور اس کے منافق ساتھی ہیں جو یہودیوں سے موالات اور تعاون میں تیزی سے گھس رہے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ یہود کے ساہوکاروں اور مہاجنوں سے جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں وہ ان مہاجرین اور وطن سے بےوطن ہونے والوں سے کب میسر ہو سکتے ہیں ؟ اور ان کا خیال تھا کہ یہ ایک وقتی تحریک ہے جس نے جذبات کو مشتعل کر کے ہمارے بوتقوفوں سے وقتی فائدہ…
Read the full tafseer →فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ
Now, you see those who have disease in their hearts race to-wards them saying, "We apprehend that some misfortune may overtake us."
It means that after hearing the religiously binding injunction of the abandonment of close friendships, people who have the disease of hypocricy in their hearts started racing towards their disbelieving friends saying that cutting off relationships with these people is dangerous for them.
Answering them, Almighty Allah said:
فَعَسَى اللَّـهُ أَن…
Read the full tafseer →84. The outcome of the conflict in Arabia between Islam and unbelief (kufr) had not crystallized. Although Islam had become a formidable force owing to the daring, courage and sacrifices of its followers, the forces opposed to it were also tremendously powerful. To an objective observer it must have seemed that either party had an equal chance of success, and so the hypocrites, apparently an integral part of the Muslim body politic, sought to maintain good relations with the Jews and the. Christians as well. They expected refuge and protection from the Jews in case Islam was defeated.…
Read the full tafseer →