Explained with ayahs 51–53
دشمن اسلام سے دوستی منع ہے
دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة الْمَآىِٕدَة 83
جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے۔ یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر۔
آیات مذکورہ میں تین اہم اصولی مضامین کا بیان ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی اور ملی وحدت و شیرازہ بندی کے بنیادی اصول ہیں
اول یہ کہ مسلمان غیر مسلموں سے رواداری، ہمدردی، خیر خواہی، عدل و انصاف اور احسان و سلوک سب کچھ کرسکتے ہیں، اور ایسا کرنا چاہیے کہ ان کو اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ان سے ایسی گہری دوستی اور خلط ملط جس سے اسلام کے امتیازی نشانات گڈ مڈ ہوجائیں اس کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ”ترک موالات“ کے نام سے معروف ہے۔
دوسرا مضمون یہ ہے کہ اگر کسی وقت کسی جگہ مسلمان اسی بنادی اصول سے ہٹ کر غیر مسلموں سے ایسا غلط ملط کرلیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے اسلام کو کوئی گزند اور…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 51۔ 66: آگے مسلمانوں کو پہلے عام طور پر اور منافقین کا خاص طور پر آگاہ فرمایا کہ یہود و نصاری کو اپنا معتمد اور دوست نہ بناؤ، جو لوگ ان کو اپنا معتمد اور دوست بنائیں گے وہ ادعائے ایمان کے باوجود انہی میں شمار ہوں گے اور ان کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا۔ پھر ان منافقین کے باطن سے پردہ اٹھایا اور بتایا ہے کہ یہ کفر کی راہ میں جو سبقت کر رہے ہیں اس کے محرکات کیا ہیں اور بالآ اس کا انجام کیا ہونا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح فرما دیا کہ ان کی یہ روش ارتداد کی روش ہے اور اگر یہ ارتداد اختیار کرنا چاہتے ہیں تو کریں، خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر یہ مرتد ہوجائیں گے تو اللہ ان کی…
Read the full tafseer →51۔ 1 اس میں یہود اور نصاریٰ سے موالات و محبت کا رشتہ قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اس پر اتنی سخت وعید بیان فرمائی گئی جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے سمجھا جائے گا۔ (مزید دیکھئے سورة آل عمران آیت 28 اور آیت 118 کا حاشیہ)
51۔ 2 قرآن کی اس بیان کردہ حقیقت کا مشاہدہ ہر شخص کرسکتا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلاف اور باہمی بغض وعناد ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔ 51۔ 3 ان آیات کی شان نزول میں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت انصاری ؓ اور رئیس المنافقین…
Read the full tafseer →43: اس آیت کی تشریح اور غیر مسلموں سے تعلقات کی حدود کی تفصیل دیکھئے سورة آل عمران (28:3) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔
اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف…
Read the full tafseer →2 " اولیاء " ولی کی جمع ہے " ولی " دوست کو بھی کہتے ہیں، قریب کو بھی، ناصر اور مددگار کو بھی۔ غرض یہ ہے کہ " یہود و نصاریٰ " بلکہ تمام کفار سے جیسا کہ سورة " نسآء " میں تصریح کی گئی ہے مسلمان دوستانہ تعلقات قائم نہ کریں۔ اس موقع پر یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ موالات، مروت و حسن سلوک، مصالحت، روا داری اور عدل و انصاف یہ سب چیزیں الگ الگ ہیں۔ اہل اسلام اگر مصلحت سمجھیں تو ہر کافر سے صلح اور عہد و پیمان مشروع طریقہ پر کرسکتے ہیں۔ (وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ) 8 ۔ الانفال :61) عدل وانصاف کا حکم جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہوچکا، مسلم و کافر ہر فرد بشر کے حق…
Read the full tafseer →آیت 51 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط
ان میں سے بعض بعض کے پشت پناہ اور مددگار ہیں۔ یہ درحقیقت ایک پیشین گوئی تھی جو اس دور میں آکر پوری ہوئی ہے۔ جب قرآن نازل ہوا تو صورت حال وہ تھی جو ہم قبل ازیں اس سورة کی آیت 14 میں پڑھ آئے ہیں : فَاَغْرَیْنَا بَیْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط پس ہم نے ان کے مابین عداوت اور بغض کی آگ بھڑکا دی روز قیامت تک کے لیے۔ چناچہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین ہمیشہ شدید دشمنی رہی ہے اور آپس میں کشت و خون ہوتا رہا ہے ‘ لیکن زیر نظر الفاظ بَعضُھُمْ…
Read the full tafseer →93 یہود و نصاریٰ سے دوستی کی ممانعت :۔ کفار سے ظاہری موالات، رواداری اور حسن سلوک (بالخصوص جبکہ وہ ذمی یا معاہد ہوں) اور چیز ہے اور انہیں قابل اعتماد دوست سمجھنا اور بنانا اور چیز ہے اس سلسلہ میں سورة آل عمران کی آیت نمبر 28 (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً 28 ) 3 ۔ آل عمران :28) کا حاشیہ بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ اس آیت میں بالخصوص یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے باہمی اختلاف گو شدید ہیں اور ان دونوں فرقوں میں گروہی اختلافات اور دشمنی بھی شدید ہے تاہم اسلام دشمنی کی خاطر وہ سب مل بیٹھتے ہیں اور سمجھوتہ کرلیتے ہیں لہذا ان میں سے کوئی بھی تمہارا حقیقی اور قابل اعتماد دوست…
Read the full tafseer →190 ۔ (جو صاحب کتاب ہونے کے باوجود قانون الہی کے منکر بلکہ اس کے باغی ہیں) (آیت) ” اولیآء “۔ ولی کی جمع ہے، اور ولی کا اطلاق دوست، قریبی اور ناصر و مددگار سب پر ہوتا ہے۔ یہاں جس چیز کی ممانعت فرمائی گئی ہے، وہ تعلق دوستی، محبت، قرب اختصاصی کا ہے، رہا عدل وحسن سلوک، تو اس کا تعلق کفر واسلام سے نہیں، وہ تو ہر فرد بشر، بلکہ ہر مخلوق کے حق میں لازمی ہے، ایک تیسری اور درمیانی صورت مصالحت ومعاملت کی رہ جاتی ہے تو وہ اہل اسلام کی اپنی مصلحت کے تابع ہے۔ صلح اور عہد و پیمان ہر کافر جماعت سے مشروع طریقہ پر کرسکتے ہیں، ممانعت قطعی صرف موالات یا دوستانہ اتحاد اور برادرانہ مناصرۃ کی ہے۔ ھذا یدل علی قطع…
Read the full tafseer →آیت نمبر 51 تا 56
ترجمہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، کہ ان سے دلی دوستی اور محبت کرنے لگو، یہ تو آپس ہی میں ان کے کفر میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا دوست بناتا ہے تو وہ بھی منجملہ ان ہی میں شمار ہوگا یقیناً اللہ تعالیٰ کفار سے دوستی کرکے ظلم کرنے والوں کی رہنمائی نہیں کرتا، تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے یعنی ضعف اعتقاد ہے جیسا کہ عبد اللہ بن ابی منافق ان کی دوستی میں سبقت کرتے ہیں، اور عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم کسی چکر میں یہ پھنس جائیں، یعنی گردش زمانہ ہمارے اوپر…
Read the full tafseer →یا ایہا الذین امنوا لا تتخذوا والیہود والنصاری اولیآء اے ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ یعنی ان پر اعتماد نہ رکھو اور دوستوں کی ایسی معاشرت ان سے نہ رکھو۔ (1) [ قاضی عیاض کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو حکم دیا کہ آپ نے جو کچھ لیا دیا ہو ایک چمڑے پر (لکھ کر) پیش کیجئے ‘ حضرت ابوموسیٰ کا کاتب عیسائی تھا ‘ کاتب نے حساب پیش کیا۔ حضرت عمر ؓ نے تعجب کیا اور فرمایا یہ بڑی یادداشت رکھتا ہے ‘ اچھا ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے تم اس کو مسجد میں چل کر پڑھ دو ‘ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا : یہ مسجد میں نہیں جاسکتا ‘ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا یہ جنب ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ نے…
Read the full tafseer →(51) اے اہل ایمان ! دوستی اور مدد میں ظاہری اور خفیہ طریقے پر دینی معاملات میں یہود و نصاری کو دوست مت بنانا اور جو مسلمانوں میں سے مدد اور دوستی میں ان (یہود و نصاری) کے ساتھ ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور حفاظت میں نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ یہود ونصاری کو ان کے غلط رویے کے سبب اپنے دین اور حجت کی طرف ہدایت نہیں کرتا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الیہودا والنصری“۔ (الخ)
ابن اسحاق ؒ ابن جریر ؒ ابن ابی حاتم ؒ اور بیہقی ؒ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب بنی قینقاع کی لڑائی ہوئی تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے اس میں بڑی دلچپسی لی اور ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوا تو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘ۔۔ : ”اَوْلِيَاۗءَ ۘ“ یہ ”وَلِیٌّ“ کی جمع ہے، مراد دلی دوست ہیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور یہ طے شدہ بات ہے کہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے، تو جسے تم اپنا خیر خواہ سمجھ کر دوست بنا رہے ہو اس کی اپنے ہم مذہب لوگوں کے ساتھ بھی دوستی ہے جو تمہارے شدید دشمن ہیں، وہ آپس میں کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں تمہاری عداوت میں وہ ایک ہیں اور ایک دوسرے کے مدد گار ہیں، تو تمہاری یہود و نصاریٰ کے ساتھ دوستی کیسے ہوسکتی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 51۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” الیھود والنصری اولیآء “ یہ تتخذوا “ کے دونوں مفعول ہیں یہ شرعا تعلقات ختم کرنے پر دلیل ہے اس کا بیان سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، پھر کہا گیا ہے کہ اس سے مراد منافقین ہیں یعنی اے وہ لوگو ! جو ظاہر ایمان وہ مشرکین سے دوستی رکھتے تھے اور انہیں مسلمانوں کے راز بتاتے تھے، بعض نے فرمایا : یہ ابو لبابۃ کے بارے میں نازل ہوئی جب مسلمان خوفزدہ ہوئے تھے حتی کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ یہود ونصاری سے دوستی لگا لیں، بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت عبادہ بن صامت، عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی پھر حضرت عبادہ نے تو…
Read the full tafseer →یہود و نصاری سے دوستی جائز نہیں
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں اور ابن عساکر نے عبادہ بن الولید (رح) سے روایت کیا ہے کہ عبادہ بن صامت ؓ نے فرمایا جب بنو قینقاع نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی تو عبد اللہ بن سلول نے ان کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا۔ اور ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ عبادہ بن صامت ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت کرتے ہوئے ان کی حمایت سے برأت ظاہر کی۔ عوف بن خزرج کا ایک معاہدہ تھا ان کے ساتھ ان کے معاہدوں میں سے اسی معاہدے کی طرح جو ان کا معاہدہ عبداللہ بن ابی سے تھا اس نے بھی (وہ معاہدہ) ان سے…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ : اے لوگو ! جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لَا تَتَّخِذُوا : تم لوگ مت بناو ] [ الْيَھُوْدَ : یہودیوں کو ] [ وَالنَّصٰرٰٓى: اور نصرانیوں کو ] [ اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [ ۘبَعْضُهُمْ : ان کے بعض ] [ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : بعض کے کار ساز ہیں ] [ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ :: دوستی کرے گا ان سے ] [ مِّنْكُمْ : تم میں سے ] [ فَاِنَّهٗ : تو یقینا وہ ] [ مِنْهُمْ ۭ: ان میں سے ہے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ لَا يَهْدِي : ہدایت نہیں دیتا ] [ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : ظالم لوگوں کو ]
ج ھ د : (ف) ۔ جھدا ۔ کسی کام میں طاقت صرف کرنا ۔ کوشش کرنا ۔ آیت زیر مطالعہ ۔ جہد ۔ اسم…
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کی ممانعت
معالم التنزیل ج 2 ص 44 اور تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 68 میں لکھا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو انصار کے قبیلہ خزرج میں سے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہودیوں میں میرے بہت سے دوست ہیں جن کی تعداد کثیر ہے۔ میں ان کی دوستی سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول ہی کی دوستی کو پسند کرتا ہوں اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا (جو رئیس المنافقین تھا) مجھے تو زمانہ کی گردشوں کا خوف ہے جن لوگوں سے میری دوستی (یعنی یہود سے) میں ان سے بیزار نہیں ہوتا اس پر اللہ تعالیٰ نے جل شانہ (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَ النَّصٰرآی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حکم چہاردہم ممانعت از موالاۃ یہود ونصاری اوذم منافقین۔
قال اللہ تعالی، یا ایھا الذین آمنوا لاتتخذوا۔۔۔ الی۔۔۔ خاسرین۔
ربط) گذشتہ آیات میں یہود اور نصاری کے قبائح کو بیان کیا اب ان آیات میں مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ تم ان سے محبت نہ کرنا جو ان سے محبت کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا کیونکہ محبت اور صحبت کا برا اثر انسان کے دل پر پڑتا ہے محبت کا یہ اثر ہے کہ محبوب کی ہر چیز محب کی نظر میں محبوب ہوجاتی ہے جذام اور سرطان کی طرح کفر اور شرک ایک روحانی مرض ہے دلی میل جول سے اس کے جراثیم متعدی ہوتے ہیں خدا تعالیٰ کے باغیوں کی دلی محبت اور میل جول سے رفتہ رفتہ انہیں کا مذہب اختیار کرلیتا ہے فی الحال…
Read the full tafseer →94: یہود و نصاریٰ کی خباثتیں اور ان کی بد اعمالیاں ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو ان سے ترک موالات کا حکم دیا کہ ان سے دوستی نہ کرو اور نہ باہمی تعاون اور امداد کا ان سے کوئی معاہدہ کرو بلکہ آپس میں دوستی اور محبت بڑھاؤ۔ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاء بَعْضٍ ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں یہود آپس میں اور نصاریٰ آپس میں لیکن تمہارے دشمن ہیں اس لیے ان سے خیر خواہی یا بھلائی کی توقع مت رکھو۔ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ الخ جو ان سے دوستی کرے گا وہ بھی انہی میں شمار ہوگا یہ بطور زجر و توبیخ فرمایا۔ وَ ھُوَ مخرج مخرج التشدید و المبالغۃ فی الزجر (روح ج 6 ص 157): بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ربط آیات
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اور ان کی خباثتوں کا ذکر کیا۔ دین کی تحریف۔ کتمان حق ‘ نقض عہد اور تغیر احکام ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ منافقین کے متعلق بھی پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درپردہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رابط ہے۔ اب آج کی آیات میں یہودو نصاری کے ساتھ دوستی قائم کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی واضح خباثتوں کے بعد یہ لوگ دوستانے کے قابل نہیں رہے اسی طرح ان منافقین کے ساتھ بھی دوستانہ روابط سے منع فرمایا گیا ہے۔
اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت
ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ 0ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ 0ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ 51
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ترکیب : الیہود والنصاریٰ ‘ لا تتخذوا کا مفعول اول اولیاء مفعول ثانی الذین فتری کا مفعول اول یسارعون مفعول ثانی فیصبحوا معطوف ہے یاء تی پر۔
تفسیر : چونکہ خدا سے نافرمانی کرنا اور فسق و فجور اور شرک و کفر میں ایک مرض روحانی ہے جو بیشتر ایسے لوگوں سے دلی میل جول رکھنے سے متعدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر ان سے دلی میل جول کی ممانعت کرتا ہے بقولہ یا یہا الذین آمنوا الخ اولیاء تک کلام تمام ہوگیا۔ بعضہم اولیاء بعض الگ جملہ ہے یعنی وہ کفر و نفاق میں ہم جنس ہیں۔ ان کی باہم محبت قرین قیاس ہے مگر تم ان سے محبت نہ کرو اور جو ایسا کرے گا تو انہیں میں شمار ہوگا۔ روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ مؔ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ ط اِنَّ اللہ َ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 51)
” اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہے ۔ یقینا اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا “۔
یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوتے
اس آیت کریمہ میں خطاب کمزور مسلمانوں سے یا منافقین سے ہے ۔ جن کا ذکر اس سے پہلے رکوع میں ہوچکا کہ یہ منافقین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہود و نصاریٰ کا کردار بتلانے کے بعد ان سے حقیقی اور قلبی تعلقات رکھنے سے منع کیا ہے۔
اسلام اور کفر کی کشمکش روز افزوں تھی جس کی بنا پر نو وارد مسلمان بالخصوص منافقین اس کوشش میں تھے کہ ہمارے تعلقات یہود و نصاریٰ کے ساتھ پہلے کی طرح استوار رہیں تاکہ یہود و نصاریٰ کی کامیابی کی صورت میں ہم نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی بنا پر مسلمانوں کے راز یہود و نصاریٰ تک پہنچاتے تاکہ ان کی دلی ہمدردیاں حاصل کرسکیں۔ حق و باطل کے اس معرکہ میں اسلام یہ بات کس طرح گوارا کرسکتا تھا کہ ان لوگوں کو آستینوں کا سانپ سمجھنے کے باوجود اس حالت میں رہنے دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں۔…
Read the full tafseer →قرآن فقط سننا کافی نہیں اس پر عمل لازم ہے :
آیت 51 : دین کے دشمنوں سے موالات کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْٓا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ (اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بنائو) ان کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کے مددگار و معاون ہو۔ اور ان سے نصرت و معاونت طلب کرنے والے اور ان سے مواخات اور ایمان والوں جیسا میل جول اختیار کرنے والے ہو۔ پھر نہی کی وجہ اس ارشاد سے بتلائی بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ( کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں) اور سارے مل کر ایمان والوں کے دشمن ہیں اس میں دلیل ہے کہ تمام کفار ملت واحدہ ہیں۔ وَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت نمبر 52, 51
تفسیر : (یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الیھود والنصریٰ اولیاء اے ایمان والو ! مت بنائو یہود اور نصاریٰ کو دوست) اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے۔
آیت لاتتخذو الیھود و النصاری اولیاء کا شان نزول
اگرچہ اس کا حکم عام ہے تمام مومنین کو شامل ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ یہ آیت حضرت عبادہ بن صامت ؓ اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان دونوں کا جھگڑا ہوا تو حضرت عبادہ ؓ نے فرمایا میرے کئی یہودی دوست ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ اور قوت بہت ہے۔ میں ان سے برأت ظاہر کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کی طرف اب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا میرا کوئی دوست نہیں ہے لیکن عبداللہ بن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(51 ۔ 53) ۔ مفسرین مقتدمین اور مقتدمین کی بنا پر مفسرین متاخرین نے اس آیت کے شان نزول میں بڑا اختلاف کیا ہے 1 ؎۔ بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے دوست چند یہودیوں کا اور بعض نے اپنے چند دوست نصرانیوں کا ذکر کیا اور عین میدان جنگ میں یہ کہا کہ اس لڑائی کے ڈھنگ سے مسلمانوں کی حالت تو اب اچھی نظر نہیں آتی ہم لوگ اپنے دوست یہودونصاریٰ سے مدینہ واپس جا کر پناہ چاہیں گے تاکہ ہم پر ابوسفیان اور مشرکین مکہ دست درازی نہ کرسکیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس طرح کی بےدلی نہ کرو۔ قریب میں اللہ تعالیٰ فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51
اللہ تبارک و تعالیٰ یہود و نصاری کے احوال اور غیر مستحسن صفات بیان کرتے ہوئے اپنے مومن بندوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنئایں (بعضھم اولیآء بعض) ” کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں “ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں۔ پس تم ان کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ درحقیقت تمہارے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے نقصان کی کوئی پروا نہیں، بلکہ وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ انہیں وہی شخص دوست بنائے گا جو ان جیسا ہو۔ بنابریں فرمایا : (ومن یتولھم منکم فانہ منھم) ” اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے “ کیونکہ کامل دوستی ان کے…
Read the full tafseer →یہودونصاریٰ سے دوستی کی ممانعت
قول باری ہے یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ آیت کا نزول ابو لبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں ہوا ہے ، یہ بنو قریظہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے گلے پر ہاتھ رکھ کر انہیں اشارے سے اطلاع دے دی کہ ان کے متعلق ذبح یعنی قتل کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ جب جنگ احد کے بعد کافروں کے عارضی غلبے کی بنا پر کچھ لوگوں پر خوف طاری ہوگیا اور وہ مشرکین سے ڈر گئے یہاں تک کہ ایک شخص کے منہ سے یہ…
Read the full tafseer →133 یہود و نصاریٰ کو دوست بنانے کی ممانعت : ـسو اہل ایمان کو خطاب کر کے صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یہود اور نصاری کو اپنا دوست نہیں بنانا کہ تمہارے ایمان اور تمہاری دینی غیرت کا مقتضا یہی ہے کہ تم ایسے کسی بھی شخص کو اپنا دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کا دشمن ہو۔ کیونکہ ایسے کسی شخص یا گروہ کو دوست بنانے کا مطلب اس کی دین دشمنی سے راضی ہونا ہے جو کہ ایک مومن صادق سے متصور نہیں ہوسکتا۔ سو دنیاوی زندگی میں ظاہری میل ملاپ، روا داری اور حسن معاملگی تو الگ چیز ہے اس کی ممانعت نہیں، لیکن دل کی دوستی ایسوں سے جائز نہیں ہوسکتی۔ اس کا تعلق صرف سچے مسلمانوں سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی…
Read the full tafseer →یہود و نصارٰی کی دوستی سے بچو
تشریح : مسلمانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ یہود و نصارٰی کو دوست نہ بنائو کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے، اس لیے ان کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایک دفعہ تم راہ سے بھٹک گئے تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی راہنمائی سے تم محروم کردیئے جاؤ گے۔ سورة آل عمران میں بھی ان کی دوستی سے منع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 51 تا 56 ۔
اسرار و معارف :
ایسے لوگ دوستی کے قابل ہیں ان کے مقابل یہود اور نصاری کو دوست نہ بنایا جائے یعنی ان سے انصاف ضرور کیا جائے انہیں انسانی حقوق دئیے جائیں ان کی حفاظت کی جائے ضرور میں مدد کی جائے مگر محض انسانی ہمدردی کی حد تک۔ اس سے آگے ایسی دوستی جس سے اسلام اور اس کے امتیازی نشانات تک ہی مٹنا شروع ہوجائیں حرام ہے جیسے آج کل ہندو مسلمان عیسائی۔ یہودی اور منکرین خدا کا گروپ فوٹو لیا جائے تو شکل سے کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ عورت ہے یا مرد یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے بعض اوقات نام پڑھے بغیر اس کی سمجھ نہیں آتی اور یہ سب کافروں کی دوستی کا پھل ہے جب مدینہ منورہ میں…
Read the full tafseer →ف 10 یہودیوں کے قبیلہ بنو قینقاع کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی تو منافقوں کے سردار ابن ابی نے یہودیوں کا ساتھ دیا کیونکہ اس کے قبیلہ بنو خزرج کا ان یہودیوں سے معاہدہ تھا لیکن حضرت عبادہ ؓ بن صامت نے بنو خذرج میں سے ہونے کے باجود ان یہودیوں کا ساتھ نہ دیا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے معاہدے اور انکی دوستی سے براہت کا اعلان کردیا۔ اسی موقع فان حزب اللہ ھم الغالبون تک یہ آیات نازل ہوئیں (ابن جریر وغیرہ) اس آیت میں یہود و نصاریٰ بلکہ تمام کفار کے ساتھ دو ستانہ تعلقات قائم رکھنے سے منع فرمایا ہے (دیکھئے سورة آل عمران :28 ۔ 118)
Read the full tafseer →(5:51) یتولہم۔ مضارع واحد مذکر غائب تولی (تفعل) اصل میں یتولی تھا۔ ضمیر ہم کے آنے سے ی گرگئی۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (جو ان سے محبت کرتا ہے۔ دوستی کرتا ہے ۔ ولی بناتا ہے۔ منہ موڑنا۔ پیٹھ پھیرنا۔ اعراض کرنا کے معنوں میں بھی آیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 51
لغات القرآن : لاتتخذوا (تم نہ بناؤ) ۔ اولیآء (ولی) ۔ دوست۔ مددگار۔ دل کا بھیدی) ۔ من یتولھم (جواب سے دوستی کرے گا) ۔
تشریح : یہ ان دونوں کا ذکر ہے جب اسلام کے دشمن ابھی تک بڑی طاقتوں کے مالک تھے اور بہت سے منافقین دونوں طرف ساز باز رکھتے تھے کہ دیکھیں فتح و شکست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ بہت سے یہودی اور عیسائی ان منافقوں کو جاسوسی کیلئے استعمال کرتے تھے بلکہ اپنے ” دوستوں “ سے ملنے کے بہانے بلا جھجک اسلامی کیمپ میں آجایا کرتے تھے تاکہ راز لے اڑیں۔
اس حکم کے آجانے سے اول تو مومنین اور منافقین کے درمیان فرق معلوم ہوگیا کہ کو ن مومن ہے اور کون منافق۔ دوسرے اسلامی کیمپ کے اندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ان آیتوں میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ موالات یعنی ان کی مدد کرنا اور ان سے مدد چاہنا ان کے ساتھ محبت کے روابط کو ممنوع فرمایا گیا ہے۔ یہ حکم عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اولیآء سے مراد وہ دوست ہیں جو تمہیں بددیانتی اور بداخلاقی پر مجبور کردیں ورنہ عام معاشی اور شہری تعلقات میں کوئی مضائقہ نہیں ، ۔
حل لغات :
فاسقون : جمع فاسق ۔ احکام خدواندی کی مخالفت کرنے والے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 3 کیا اے پیغمبر یہ آپ کے حکم سے روگردانی کر کے دور جاہلیت کے کافرانہ احکام کے متلاشی ہیں اور بھلا اللہ تعالیٰ سے بہتر اس قوم کے لئے جو یقین کرنے والی ہے کون فیصلہ کرنے والا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب یہ حق بات کو جو آپ کا حکم ہے نہیں مانتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر کیا اس زمانہ کی باتوں کو تلاش کرتے ہی جب نہ کوئی دین کی روشنی تھی نہ کوئی باضابطہ اور قابل اعتماد آسمانی کتاب بھی نہ تھی اب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا دور ہے اور خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کے احکام کو اجرا ہوچکا جب حق ظاہر ہوچکا تو اس روشنی کے زمانے میں دور جاہلیت کی باتوں کو تلاش کرتے پھرنا اس سے بڑھ کر بھی…
Read the full tafseer →ف 5۔ مطلب یہ کہ دوستی ہوتی ہے مناسبت سے سو ان میں باہم تو مناسبت ہے مگر تم میں ان میں کیا مناسبت ؟۔
Read the full tafseer →یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست و مددگار نہ بنانے کا حکم عام :
150: فرمایا : ” مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق ومدد گار نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ “ مسلمانوں کیلئے کتنے واضح اور صاف صاف الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق و مددگار نہ بناؤ اور پھر قرآن کریم میں دوسرے الفاظ سے بھی اس کی ممانعت ارشاد فرمائی گئی ہے اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ تمہارے بھائی ، باپ اور دوسرے رشتہ دار بھی کافرو مشرک یا یہود و نصاریٰ ہوں تو ان کو دلی دوست نہ بناؤ ۔ اس طرح کے احکامات کے لئے قرآن کریم کے یہ مقامات ملاحظہ ہوں مثلاً سورة (الممتحنہ 60 : 3) (الممتحنہ 60…
Read the full tafseer →Explanation in Brief
The verses cited above take up three important subjects which are the basic principles of unity among Muslims as a collectively organized community.
1. Muslims can deal with non-Muslims in the spirit of tolerance, sympathy, goodwill, equity, justice, favour and kindness, almost every-thing within that line of conduct. In fact, they should do that for they have been taught to do that. But, what is not permitted is the kind of fast friendship and indiscriminating intimacy which may garble the distinctive hallmarks of Islam. This is the issue known as the ` Tack al-Muwalat'…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
83. The word jahiliyah (literally 'ignorance') is used as an antonym to Islam. Islam is the way of 'ilm (true knowledge), since it is God Himself Who has shown this way, and His knowledge embraces everything. In contrast is the way that diverges from Islam - the path of Ignorance (jahiliyah). The pre-Islamic period in Arabia is designated as jahiliyah because this was the era when human beings derived their norms from either superstitious beliefs, conjectures and imagination or from their desires. Whenever such an attitude is adopted, it is bound to be designated as Ignorance. The appellation…
Read the full tafseer →