Explained with ayahs 48–50
قرآن ایک مستقل شریعت ہے
تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة الْمَآىِٕدَة 83
جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے۔ یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
قرآن تورات و انجیل کا بھی محافظ ہے
پانچویں اور چھٹی آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں تورات و انجیل کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اور ان کا محافظ بھی ہے، کیونکہ جب اہل تورات نے تورات میں اور اہل انجیل نے انجیل میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا تو قرآن ہی وہ محافظ و نگران ثابت ہوا جس نے ان کی تحریفات کا پردہ چاک کرکے حق اور حقیقت کو روشن کردیا اور تورات و انجیل کی اصلی تعلیمات آج بھی قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں باقی ہیں جبکہ ان کتابوں کے وارثوں اور ان کی پیروی کے مدعیوں نے ان کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے، کہ حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا جو اہل تورات اور اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
تفیسر آیت 48۔ تا 50:۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔ وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ…
Read the full tafseer →50۔ 1 اب قرآن اور اسلام کے سوا، سب جاہلیت ہے، کیا یہ اب بھی روشنی اور ہدایت (اسلام) کو چھوڑ کر جاہلیت ہی کے متلاشی اور اور طالب ہیں ؟ یہ استفہام، انکار اور توبیخ کے لئے ہے اور ' فا ' لفظ مقدر پر عطف ہے اور معنی ہیں (یعرضون من حکمک بما انزل اللہ علیک ویتولون عنہ، یبتغون حکم الجاہلیۃ) تیرے اس فیصلے سے جو اللہ نے تجھ پر نازل کیا ہے یہ اعراض کرتے اور پیٹھ پھیرتے ہیں اور جاہلیت کے طریقوں کے متلاشی ہیں (فتح القدیر)
50۔ 2 حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا ' اللہ کہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی ہو اور ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
41: یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلم لوگ اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں جن کو فقہی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے یا اس صورت میں جب وہ اپنی رضامندی سے اپنا فیصلہ مسلمان قاضی سے کروانا چاہیں، ایسی صورت میں مسلمان قاضی عام ملکی قوانین میں فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق کرے گا، البتہ ان کے خالص مذہبی معاملات عبادات، نکاح، طلاق اور وراثت میں انہیں اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا مگر یہ فیصلہ انہی کے افراد کریں گے۔
42: بعض گناہ اس لیے فرمایا کہ تمام گناہوں کی سزا تو آخرت میں ملنی ہے۔ البتہ اللہ اور رسول کے فیصلے سے منہ موڑنے کی سزا ان کو دنیا میں بھی ملنے والی ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ…
Read the full tafseer →(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ، ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50)
(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے)
یہاں یہ آیت جاہلیت کے مفہوم اور مدلوں کو متعین کردیتی ہے ۔ یہ اللہ کا قرآن ہے جو جاہلیت کے مفہوم کو متعین کردیتا ہے اور اس کے مطابق جاہلیت یہ ہے کہ مملکت میں انسان کی حکومت انسان پر چلے ۔ یہ دراصل انسانوں کی جانب سے انسانوں کی غلامی ہے ۔ اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اور اللہ کی حاکمیت کے نظریہ کو ترک کرنا ہے ۔ یہ انکار اور ترک اصل انسانوں کی…
Read the full tafseer →1 یعنی جو لوگ خدا کی شہنشاہیت، رحمت کاملہ اور علم محیط پر یقین کامل رکھتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا میں کسی کا حکم خدا کے حکم کے سامنے لائق التفات نہیں ہوسکتا۔ پھر کیا یہ لوگ احکام الٰہیہ کی روشنی آجانے کے بعد ظنون وا ہواء اور کفرو جاہلیت کے اندھیرے ہی کی طرف جانا پسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 50 اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ط
جاہلیت سے مراد حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے کا دور ہے۔ یعنی کیا قانونِ الٰہی نازل ہوجانے کے بعد بھی یہ لوگ جاہلیت کے دستور ‘ اپنی روایات اور اپنی رسومات پر عمل کرنا چاہتے ہیں ؟ جیسا کہ ہندوستان میں مسلمان زمیندار انگریز کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ دیتے تھے کہ ہمیں اپنی وراثت کے مقدمات میں شریعت کا فیصلہ نہیں چاہیے بلکہ رواج کا فیصلہ چاہیے۔
وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ
اللہ تعالیٰ ہمیں اس یقین اور ایمان حقیقی کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ آمین !
Read the full tafseer →92 اسلام اور جاہلیت کا تقابل :۔ جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ اسلام سراسر روشنی ہے جبکہ جاہلیت اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اسلام ایسی روشنی اور ایسا علم ہے جو دنیاوی زندگی کے ہر پہلو میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور اخروی زندگی میں نجات کی راہیں بھی دکھاتا ہے جبکہ جاہلیت اس دنیا میں بھی انسان کو سرگرداں اور پریشان حال بنائے رکھتی ہے اور آخرت میں عذاب الیم سے دو چار کر دے گی اسلام سے پہلے کے دور کو دور جاہلیت کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق ان تمام رسوم و رواج پر ہوتا ہے جن کی وجہ سے کسی انسان کی جان و مال اور آبرو محفوظ نہ تھی۔ ہر انسان دوسرے کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا۔ کفر و شرک عام…
Read the full tafseer →188 ۔ (حالانکہ اس دور سے خود ہی پناہ مانگتے ہیں) یہود ونصاری کو قائل کیا جارہا ہے کہ تم جو اسلام کے قانون سے گریزکر رہے ہو، تو یہ تو عمدا دور جاہلیت ہی کی طرف واپس جانا ہوا۔ جس قانون کی بنیاد تمامتر عدل اور ہر جہتی انصاف پر ہے، وہ تو اسلام ہی کا خدائی قانون ہے۔ ورنہ جاہلی قوموں کا عملدر آمد تو اسی اصل اصول پر رہا ہے (اور دور جاہلیت عرب اس سے مستثنی نہ تھا) کہ زبردست کا ساتھ دو ، جو قوی ہے اسے قوی تر کردو، اور زیر دستوں کی کوئی پروا نہ کرو، خود یہود اہل کتاب وصاحب شریعت ہونے کے باوجود اس فضا سے اس حد تک متاثر ہوچکے تھے کہ ان کے دو فرقے بنو نضیر اور بنو قریظہ جو حوالی مدینہ میں آباد تھے، ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…
Read the full tafseer →افحکم الجاہلیۃ یبغون کیا پھر یہ لوگ دور جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ جاہلیت سے مراد ہے جاہلیت کے دور کا مذہب۔ یعنی اپنی خواہشات پر چلنا۔ بعض اہل روایت نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول بنی قریظہ اور بنی نضیر کے حق میں ہوا۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ ان کا فیصلہ وہی کیا جائے جو اہل جاہلیت (دور اسلامی سے پہلے کے لوگ) کرتے تھے کہ جدا جدا قبائل کے مقتولوں میں نیچ اونچ کا لحاظ رکھتے اور ایک قبیلہ کے مقتول کو دوسرے قبیلے کے مقتول سے (قصاص اور دیت کے لحاظ سے) بڑا چھوٹا قرار دیتے تھے۔ آیت میں استفہام انکاری ہے یعنی (حکم جاہلیت کی طلب نہ کرنی چاہئے) آپ ایسا نہ کریں۔
ومن احسن من اللہ حکما…
Read the full tafseer →(50) اے محمد ﷺ کیا قرآن کریم میں یہ آپ سے پھر جاہلیت کا فیصلہ مانگتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو قرآن حکیم پر یقین رکھتے ہیں، فیصلہ کرنے میں اللہ تعالیٰ سے کون اچھا ہوگا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ
Read the full tafseer →اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭ۔۔ : کیا یہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کیے ہوئے فیصلے کو چھوڑ کر کفر و جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کی بنیاد ذاتی خواہشات پر ہوتی تھی اور جن میں کمزور کے مقابلے میں طاقت ور کی طرف داری کی جاتی تھی، اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ چھوٹے درجے کے آدمی کے مقابلے میں بڑے کی رعایت کرتے، کمزوروں پر حدود قائم کرتے اور مال دار طبقہ کی رعایت کرتے۔ (کبیر، قرطبی)
افسوس بعض مسلم حکام کے زمانے کے علماء نے ایسے احکام اور حیلے ایجاد کیے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کا نفاذ تقریباً ناممکن ہوگیا، مثلاً انھوں نے شراب کی ایک دو قسمیں چھوڑ کر باقی نشہ آور…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 50۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون “۔ افحکم “۔ پر نصب یبغون کی وجہ سے ہے معنی یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ شریف کا حکم وضیع (گٹھیا) کے حکم کے خلاف کرتے تھے جیسا کہ کئی جگہ گزر چکا ہے، یہود ضعیف اور فقراء پر حدود قائم کرتے تھے اور طاقتور اغنیاء پر حدود قائم نہیں کرتے تھے پس وہ اس فعل میں جاہلیت کے مشابہ تھے،
مسئلہ نمبر : (2) سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے طاؤس سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا : جب ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ اپنی بعض اولاد کو بعض پر ترجیح دیتا ہے تو وہ یہ آیت پڑھتے تھے : (آیت) ”…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون سے یہودی مراد ہیں۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون کے بارے میں فرمایا کہ یہ یہود کے مقتول کے بارے میں ہے۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں طاقت والا کمزور کو اور غالب ذلیل کو کھا جاتا ہے۔ فرمایا لفظ آیت افحکم الجاھلیۃ یبغون (کیا پھر یہ لوگ دور جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں)
(3) امام بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے ناپسندیدہ آدمی ہے وہ جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اپناتا ہے۔ اور کسی آدمی کو ناحق تلاش کرتا…
Read the full tafseer →[ اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ : تو کیا جاہلیت کا فیصلہ ] [ يَبْغُوْنَ ۭ: وہ لوگ چاہتے ہیں ] [ وَمَنْ : اور کون ] [ اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [ مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [ حُكْمًا : بلحاذ فیصلہ کرنے کے ] [ لِّقَوْمٍ : ایسے لوگوں کے لیے ] [ يُّوْقِنُوْنَ : جو یقین کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) (کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور فیصلہ کرنے کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے اللہ سے اچھا کون ہے جو یقین رکھتے ہیں) ۔
جو لوگ اللہ کے حکم کے خلاف دوسرا حکم تلاش کرتے ہیں ان کی توبیخ کے لئے سوال کے پیرایہ میں ارشاد فرمایا کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلے کو چاہتے ہیں ؟ اللہ کا فیصلہ سامنے ہوتے ہوئے جو اللہ کی کتاب بتارہی ہے اور جو اللہ کے نبی ﷺ نے سنایا ہے، اس سے اعراض کر رہے ہیں اور ہٹ رہے جب اللہ کا فیصلہ ماننے سے انکار ہے تو اب کونسا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اللہ کے فیصلے کے خلاف تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
قال اللہ تعالی، وانزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یوقنون۔
ربط) توریت اور انجیل کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے کتب سابقہ کی مصدق ہے جس میں تمام انبیاء سابقین کی صداقتیں اور حکمتیں موجود ہیں اور یہ قرآن کتب سابقہ مہیمن (حاکم) ہے تحریف اور تبدیل سے پاک اور منزہ ہے اس کا جو فیصلہ ہے وہ اٹل ہے اللہ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو ایک خاص شریعت عطا کی اور یہ شریعت محمدیہ آخری شریعت ہے اور تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور تمام کتب سابقہ کے مضامین اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے اور جس کی ہدایت حفاظت کا خدا تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ سلسلہ کلام…
Read the full tafseer →92 یہود قطاع الطریق قتل و رہزنی کرتے تھے اور قتل کے بدلے فدیہ دے کر قصاص سے جان بچالیتے تھے آنحضرت ﷺ کے سامنے بھی ان کی یہی کوشش تھی کہ مال دے کر قتل سے بچ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو بالکل وہی جاہلیت کا فیصلہ ہے کیا یہ لوگ آخر الزمان پیغمبر کے سامنے بھی وہی جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔
فائدہ : قال اشیخ قدس سرہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک یہود قطاع الطریق کے متعلق آیات تھیں۔ ابتدا میں کہا گیا اگر تم نے قدیم بغض کی بنا پر نئے مسلمانوں کی معاونت اور امداد نہ کی اور ان قطاع الطریق کو ان سے نہ روکا تو یہ معاونت علی الظلم شمار ہوگی اب ان آیتوں میں بھی ان قطاع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ربط آیات
اس سے پہلے تورات اور انجیل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جب تورات نازل ہوئی تو اس کے دور میں اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری تھا ‘ پھر جب انجیل نازل ہوئی ‘ تو اس پر ایمان لاکر اس کے احکام کی تعمیل لازم تھی۔ مگر ان دونوں گروہوں نے اپنی اپنی کتابوں کو پس پشت ڈال کر معاملات کے فیصلہ جات اپنی مرضی سے کرنے شروع کردیے بلکہ الٹا ان مقدس کتابوں میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر دل سے یقین نہیں رکھتا ‘ وہ قطعی کافر ہے اور جو ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ تورات و انجیل کا ذکر…
Read the full tafseer →اَفَحُكْمَ الْجَاہِلِيَّۃِ يَبْغُوْنَ 0ۭ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 50ۧ
حكم
والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58]
( ح ک م ) حکم
الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ترکیب : بالحق حال ہے الکتاب مفعول انزلنا سے مصدقا ومہیمنا بھی حال ہے عما جاءک موضع حال میں ہے اے عادلا عماجاءک ولکن لیبلوکم لام متعلق محذوف ہے۔
تفسیر : چونکہ توریت کی بربادی کے بعد خدا تعالیٰ نے انجیل نازل کی تھی۔ اسی طرح انجیل کے معدوم ہوجانے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دین میں افراط وتفریط ہوجانے کے سبب قرآن مجید نازل کیا جس میں خدا تعالیٰ نے تمام کتب سابقہ کے مضامین و مطالب ہدایت افزا کو جمع کردیا۔ اس لئے فرماتا ہے انزلنا الخ چونکہ قرآن توریت و انجیل کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے کہ وہ برحق اور من اللہ تھیں اور ان کے عمدہ مضامین قرآن میں ہیں اس لئے ان کا مہیمن یعنی محافظ ہے کیونکہ جب وہ…
Read the full tafseer →اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔
(المائدہ : 50)
(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا یہ لوگ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ‘ ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے)
جاہلیت کا لفظ مَا اَنْزَلَ اللہ ُ کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی جو چیز بھی مَا اَنْزَلَ اللہ ُ کے مقابل ہے یا اس کے خلاف ہے ‘ وہ جاہلیت ہے کیونکہ اسلام کی بنیاد اس علم پر ہے ‘ جسے اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور جو فی الواقع حقیقی علم کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام حقائق کا علم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
یہود و نصاریٰ نبی اکرم ﷺ کو پریشان اور پھسلانے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی شرارت اور سازش کیا کرتے تھے ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ اللہ کے پیغمبر سے کوئی ایسا کام کروائیں جس سے اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوں اور آپ کے دامن پاک پر کوئی ایسا دھبہ لگ جائے کہ لوگ آپ سے بد ظن ہوجائیں۔ اسی کے پیش نظر یہودیوں کے مذہبی رہنما آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر آپ اس کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق کردیں تو نہ صرف ہم مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں بلکہ ہمارے ہزاروں متبعین مشرف بہ اسلام ہوجائیں گے۔ اس موقعہ پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے نبی ! آپ…
Read the full tafseer →تمام کفر ایک ملّت ہے :
آیت 50 : اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ (یہ لوگ کیا زمانہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) یبغون یہ یطلبون کے معنی میں ہے۔
قراءت : شامی نے تبغون پڑھا ہے اس میں بنی نضیر کو خطاب کیا گیا کیونکہ وہ بنو قریظہ پر اپنی فضیلت جتلاتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا القتلی سوائ۔ مقتول برابر ہیں تو بنی نضیر کہنے لگے ہم اس پر رضا مند نہیں اس پر یہ آیت اتری حضرت طائوس (رح) سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی آدمی اپنے بعض لڑکوں کو بعض پر فضیلت دے (تقسمر وغیرہ میں) تو انہوں نے یہ آیت پڑھی۔
نحوی تحقیق :
نحو : یبغون کی وجہ سے افحکم الجاہلیۃ منصوب ہے۔ وَمَنْ اَحْسَنُ (اور کون اچھا ہوگا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت نمبر 50, 49
تفسیر : (وان احکم بینھم بما انزل اللہ اور یہ فرمایا کہ آپ فیصلہ کریں ان میں اس کے موافق جو اللہ نے اتارا) آپ کی طرف (والا تتبع اھواء ھم واحدرھم ان یفتوک عن م بعض ماانزل اللہ الیک اور نہ چلیں ان کی خوشی پر اور ان سے بچتے رہیں کہ آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے اتارا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کعب بن اسید، عبداللہ بن صوریا، شاس بن قیس یہود کے سردار آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ ہم محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں ان کو ان کے دین سے بہکاتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ خوب جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور ان کے معزز لوگ ہیں اگر ہم آپ کی اتباع…
Read the full tafseer →ابو داؤد اور نسائی اور ابن حبان اور حاکم نے عبید بن موسیٰ سے اور ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس حکم جاہلیت کے چاہنے کا قصہ اور ان آیات کی شان نزول جو بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ کے گردونواح میں یہود کے دو قبیلے رہتے تھے ایک کا نام بنی نضیر تھا اور دوسرے کا نام بنی قریظہ بنی نضیر بہ نسبت بنی قریظہ کے زیادہ عزت دار اور شریف کہلاتے تھے اور ان دونوں قبیلوں نے آپس میں یہ قرارداد ٹھیرا رکھی تھی کہ بنی قریظہ میں کسی شخص کے ہاتھ سے کوئی آدمی بنی نضیر کا مارا جاوے تو بوجہ اپنی خاندانی شرافت کے دو گناہ خون بہا لیتے تھے اور اگر ان میں سے کسی شخص کے ہاتھ سے بنی قریظہ کا کوئی آدمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49
(وانزلنا الیک الکتب) ” اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب “ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے (بالحق) ” حق کے ساتھ “ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے (مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ) ” اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقفت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق اور اس کے بڑے بڑے قوامنین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے۔ پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے (ومھیمنا علیہ) ” اور ان کے مضامین پر…
Read the full tafseer →قول باری ہے افحکم الجاھلیۃ یبغون تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اس کی دو طرح تفسیر کی گئی ہے ۔ ایک تو یہ کہ اس میں یہود کو خطاب ہے اس لیے کہ ان کا طریق کار یہ تھا کہ جب کمزوروں پر کوئی فیصلہ واجب ہوتا تو اسے نافذکر دیتے اور جب امیروں پر کسی فیصلے کا اطلاق ہوتا تو اسے نافذ کرنے سے پہلوتہی کرلیتے۔ آیت میں ان سے یہ کہا گیا کہ تم اہل کتاب ہونے کے باوجود بت پرستوں کا فیصلہ چاہتے ہو ایک قول ہے کہ اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو اللہ کے فیصلے سے نکل کر جاہلیت کے فیصلے کا خواہش مند ہوتا ہے اور یہ بات اس کے ان اقدامات پر مشتمل ہوگی جو وہ جہالت اور بے علمی کے طور پر اٹھاتا ہے۔ قول باری ہے من احسن من…
Read the full tafseer →132 سب سے اچھا حکم و فیصلہ اللہ ہی کا ہے : ـسو استفہام انکاری سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے حکم سے بڑھ کر اچھا حکم و فیصلہ اور کسی کا بھی نہیں ہوسکتا۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی کہ اللہ کے حکم و فیصلہ سے بڑھ کر اچھا حکم و فیصلہ اور کسی کا بھی نہیں ہوسکتا کہ اس وحدہ لاشریک کا حکم ہر لحاظ سے احسن و افضل اور اعلیٰ وبالا ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کا علم بھی کامل و شامل اور اس کی حکمت بھی کامل و لایزال۔ اور اس کی رحمت بھی کامل و لامحدود۔ اس لیے اس کے ارشاد فرمودہ حکم و قانون کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ تو پھر اس کے حکم و قانون سے بڑھ کر کسی کے حکم و قانون کا سوال ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اللہ کا حکم بہترین ہے
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نبی ﷺ کو قرآنی فیصلوں پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تاکید کی گئی ہے اور ان فاسق لوگوں پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ قرآن اور اسلام کی روشنی کو چھوڑ کر جاہلیت کے اندھیروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ جب یہ اندھیروں میں رہیں گے تو ظاہر ہے بھٹکتے پھریں گے دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوں گے جبکہ اللہ پر ایمان رکھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ فیصلوں میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا صرف اور صرف رب اعلیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔
اسرار و معارف :
ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق کئے ہوئے فیصلہ کو چھوڑ کر کفر وجا ہلیت کے زمانہ کا فیصلہ پسند کرتے ہیں جس کا بنیاد سراسر ذاتی خوہشات پر ہوتی تھی اس جن میں کمزور کا مقابلے میں طاقتور کی طر فداری کی جاتی تھی اسی کا نام یہودیت ہے کہ وہ وضیع کے مقابلہ میں شریعت کی رعایت کرتے کمزور پر حدود قائم کرتے ہیں اور مالدار کی رعایت کرتے (کبیر، قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(5:49) ان یفتنوک۔ ان بمعنی مبادا۔ ایسا نہ ہو کہ ۔ یفتنوک۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب فتن سے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں۔
فان تولوا۔ (پس اگر وہ منہ پھیر لیں) سے مراد مخالفین اسلام ہیں۔ یعنی اگر بار بار پندو نصائح اور فہائش و تنبیہ کے باوجود وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر 48 تا 50
لغات القرآن : مھیمنا (نگراں۔ خلاصہ۔ اپنے اندر سمولینے والی چیز) ۔ لا تتبع (تو پیچھے نہ چل۔ اتباع نہ کر) ۔ اھواء (ھواء) ۔ خواہشیں) ۔ عما (اس سے۔ جب کہ) ۔ جعلنا (ہم نے بنایا) ۔ شرعۃ (قانون۔ راستہ۔ دین کا مقرر کیا ہوا قانون) منھاج (الگ۔ راستہ۔ طریقہ۔ مذہب) ۔ امۃ (جماعت۔ گروہ) ۔ لیبلوکم (تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ تاکہ تمہارا امتحان لے۔ اتاکم (جو اس نے تمہیں دیا ہے) ۔ استبقوا (تم آگے بڑھ جاؤ۔ دوڑ کرلے لو) ۔ الخیرات (الخیر) ۔ نیکیاں۔ بھلائیاں) مرجع (لوٹنا) ۔ احذرھم (تو ان سے احتیاط کر) ۔ ان یفتنوک (یہ کہ وہ تجھے کسی آزمائش میں ڈالیں) ۔ ان یصیبھم (یہ کہ وہ ان کو پہنچائے) ۔ الجاھلیۃ…
Read the full tafseer →اسلام سے پھرجانے والوں کا ذکر
شان نزول : بنی نضیر اور بنو قریظہ یہود کے دو قبیلے تھے۔ ان میں باہم ایک دوسرے کا قتل ہوتا رہتا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو یہ لوگ اپنا مقدمہ حضور کی خدمت میں لائے۔ بنی قریظہ نے کہا کہ ہم دونوں بھائی ہیں، ایک مذہب رکھتے ہیں۔ لیکن بنی نضیر ہم میں سے کسی کو قتل کریں تو اس کے خون بہا میں ہمیں ستر وسق کھجوریں دیتے ہیں اور اگر ہم میں سے کوئی ان کے کسی آدمی کو قتل کرے تو اس کے خون بہا میں ایک سو چالیس وسق لیتے ہیں۔ آپ اس کا فیصلہ فرمادیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا :'' میں حکم دیتا ہوں خون بہا برابر ہے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ''۔ اسپر بنو نضیر بہت برہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–63
[41] اسلام سے پہلے کا زمانہ جاہلیت کا زمانہ کہلاتا ہے کیونکہ لوگ اوہام و خرافات میں مبتلا تھے اور علم و بصیرت کی کوئی روشنی موجود نہ تھی۔ قیاس و گمان پر لوگوں نے اپنے لئے زندگی کے طریقے مقرر کر لئے تھے۔ یہ طرز عمل جس دور میں بھی انسان اختیار کرے اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے۔ اللہ کے دیئے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو علم بھی دیا جاتا ہے وہ بھی '' جاہلیت '' کی تعریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) جاہلیت کا زمانہ وہ ہے جب آفتاب اسلام طلوع نہیں ہوا تھا اور وہ لوگ پوری تاریکی میں تھے ، اس وقت قاعدہ یہ تھا کہ امراء ومعززین کی رعایت کی جائے اور غربا وبے کس لوگوں کو سزائیں دی جائیں ۔
قرآن حکیم کہتا ہے کیا اہل کتاب بھی اس قسم کے فیصلوں کو چاہتے ہیں جس میں عدل و انصاف کیا گیا ہو ؟
یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے معاملہ میں ناانصافی نہیں کی جاسکتی ، دونوں یہودی ہیں اور دونوں یکساں عزت و حرمت کے مالک ہیں ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 3 کیا اے پیغمبر یہ آپ کے حکم سے روگردانی کر کے دور جاہلیت کے کافرانہ احکام کے متلاشی ہیں اور بھلا اللہ تعالیٰ سے بہتر اس قوم کے لئے جو یقین کرنے والی ہے کون فیصلہ کرنے والا ہوسکتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب یہ حق بات کو جو آپ کا حکم ہے نہیں مانتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں تو پھر کیا اس زمانہ کی باتوں کو تلاش کرتے ہی جب نہ کوئی دین کی روشنی تھی نہ کوئی باضابطہ اور قابل اعتماد آسمانی کتاب بھی نہ تھی اب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا دور ہے اور خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کے احکام کو اجرا ہوچکا جب حق ظاہر ہوچکا تو اس روشنی کے زمانے میں دور جاہلیت کی باتوں کو تلاش کرتے پھرنا اس سے بڑھ کر بھی…
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپر یہود و نصاری کے قبائح مذکور ہوئے بعض منافقین جو کہ ظاہر اسلام کے مدعی تھی ان سے بعض وہمی مصلحتوں کی بنا پر دوستی رکھتے تھے اس لیے آگے اہل ایمان کو ان کے ساتھ دوستی کرنے بطور تفریع مضمون مذکور کے منع فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کے یہ حالات ہیں تو ان کا مقتضا تو یہی ہے کہ ان سے ان منافقوں کی طرح ہرگز دوستی مت کرو پھر اہل ایمان کو منع کرنے کے بعد ان منافقین کی مذمت اور ان مصلحتوں کا ابطال اور انجام کار ان کا ندامت اٹھانا بطور پیشن گوئی کے مذکور ہے۔
Read the full tafseer →کیا اللہ سے بہتر حکم دینے والا بھی کوئی موجود ہے ؟ :
149: فطرت انسانی تو یہ ہے کہ انسان ” بہ “ سے ” بہتر “ اور ” بہتر سے بہترین “ کی طرف بڑھے لیکن جو قوم من حیث القوم اپنی انسانی فطرت ہی کو بھول چکی ہے اور ” بہتر “ سے کمتر “ کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے اور اصول خداوندی بھی یہ موجود ہے کہ ” جو یندہ یا بندہ “ ہوتا ہے وہ ” بہتر “ سے ” بہترین “ کی طرف کب موڑ سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی شریعت کے مقابلہ میں انسانوں کی بنائی ہوئی شریعت کبھی ” بہتر “ نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ہمیشہ ” کمتر “ ہی ہوگی اور شریعت الٰہی کو چھوڑ کر جو لوگ کہیں سے اور فیصلے چاہتے ہیں تو اس کے معنی کیا ہیں ؟ یہی کہ وہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
The Qur'an: Custodian of Torah and Injil
In the fifth (48) and the sixth (49) verse, the address is to the Holy Prophet ﷺ saying that to him Allah has revealed the Qur'an which confirms the Torah and Injil, Books previous to it, and is their custodian as well. This is because, after the people of the Torah altered the Torah and the people of Injil made changes in the Injil, it was the Qur'an alone which turned out to be the kind of overseer and protector which exposed the alterations made by them, lit up truth and reality in their proper perspective. Even today, the true teachings of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
83. The word jahiliyah (literally 'ignorance') is used as an antonym to Islam. Islam is the way of 'ilm (true knowledge), since it is God Himself Who has shown this way, and His knowledge embraces everything. In contrast is the way that diverges from Islam - the path of Ignorance (jahiliyah). The pre-Islamic period in Arabia is designated as jahiliyah because this was the era when human beings derived their norms from either superstitious beliefs, conjectures and imagination or from their desires. Whenever such an attitude is adopted, it is bound to be designated as Ignorance. The appellation…
Read the full tafseer →