Al-Maaida 5:49

Al-Maaida · from ayah 49

5:49

وَاَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ ؕ— فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ؕ— وَاِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ ۟وَاَنِ احۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعۡ اَهۡوَآءَهُمۡ وَاحۡذَرۡهُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنُوۡكَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ‌ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّصِيۡبَهُمۡ بِبَـعۡضِ ذُنُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ‏

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And judge, [O Muhammad], between them by what Allah has revealed and do not follow their inclinations and beware of them, lest they tempt you away from some of what Allah has revealed to you. And if they turn away - then know that Allah only intends to afflict them with some of their [own] sins. And indeed, many among the people are defiantly disobedient.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:49

پس اے محمدؐ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے اِن کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کر لیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کرده وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجیئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیئے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں، اگر یہ لوگ منھ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا اراده یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (ہم حکم دیتے ہیں) کہ تم ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان کی اس بات سے بچ کر رہو کہ وہ تمہیں فتنے میں ڈال کر کسی ایسے حکم سے ہٹا دیں جو اللہ نے تم پر نازل کیا ہو۔ اس پر اگر وہ منہ موڑیں تو جان رکھو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ان کو مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ اور ان لوگوں میں سے بہت سے فاسق ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ اے مسلمان! اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل اور ان سے بچتا رہ کہ کہیں تجھے لغزش نہ دے دیں کسی حکم میں جو تیری طرف اترا پھر اگر وہ منہ پھیریں تو جان لو کہ اللہ ان کے بعض گناہوں کی سزا ان کو پہنچایا چاہتا ہے اور بیشک بہت آدمی بے حکم ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیب! ہم نے یہ حکم کیا ہے کہ) آپ ان کے درمیان اس (فرمان) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور آپ ان سے بچتے رہیں کہیں وہ آپ کو ان بعض (احکام) سے جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائے ہیں پھیر (نہ) دیں، پھر اگر وہ (آپ کے فیصلہ سے) روگردانی کریں تو آپ جان لیں کہ بس اﷲ ان کے بعض گناہوں کے باعث انہیں سزا دینا چاہتا ہے، اور لوگوں میں سے اکثر نافرمان (ہوتے) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچ کہ وہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا دیں جو اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے، پھر اگر وہ پھرجائیں تو جان لے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے کچھ گناہوں کی سزا پہنچائے اور بیشک بہت سے لوگ یقینا نافرمان ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ جب ان کا فیصلہ کریں تو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق کیجئے ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے اور اس بات سے ہوشیار رہئے کہ جو احکام اللہ نے آپ کی طرف نازل کئے ہیں ان سے یا ان کے کچھ حصہ سے یہ لوگ آپ کو منحرف نہ کردیں۔ اور اگر یہ ان باتوں سے اعراض کریں تو جان لیجئے کہ اللہ انہیں ان کے بعض جرائم کی سزا دینا چاہتا ہے۔ بلاشبہ ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے اتارا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو اور ان سے ہوشیار رہو کہ مبادا وہ تمہیں اس چیز کی کسی بات سے پھسلا دیں جو اللہ نے تمہاری طرف اتاری ہے پس اگر وہ اعراض کریں تو سمجھ لو کہ اللہ ان کو ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے اور بیشک ان لوگوں میں سے بیشتر نافرمان ہی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (مکرر حکم ہے کہ) فیصلہ کرو تم ان کے درمیان اس (حکم و قانون) کے مطابق جسے اتارا ہے اللہ نے، اور پیروی نہیں کرنا ان کی خواہشات کی، اور ہوشیار رہنا ان سے کہ یہ کہیں پھسل نہ دیں آپ کو اس (حق و ہدایت) کی کسی بات سے جس کو اللہ نے اتارا ہے آپ کی طرف، پھر اگر یہ پھرے ہی رہیں (حق و ہدایت) تو یقین جان لو کہ اللہ ان کو مبتلائے مصیبت کرنا چاہتا ہے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں، بیشک لوگوں کی اکثریت پکی بدکار ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے رہیے اسی (قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں پر عمل نہ کیجئے۔ اور ان لوگوں سے احتیاط رکھیے کہ کہیں وہ آپ کو بچلا نہ دیں آپ پر اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے۔ پھر اگر یہ روگردانی کریں تو جان لیجئے کہ اللہ کو بس یہی منظور ہے کہ ان کے بعض جرموں پر انہیں پاداش کو پہنچا دے۔ اور یقیناً زیادہ آدمی تو بےحکم ہی ہوتے آئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فیصلے کیجیے ان کے مابین اس (شریعت) کے مطابق جو کہ اللہ نے اتاری ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے اور ان سے ہوشیار رہیے ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ان میں سے کسی چیز سے بچلا دیں جو اللہ نے آپ پر نازل کی ہیں پھر اگر وہ رو گردانی کریں تو جان لیجیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ لوگوں میں سے اکثر فاسق (نا فرمان) ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے محمد ﷺ ! آپ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ آپ کو فتنہ میں ڈال کر اس پر ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو اللہ نے آپ کی طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی جہ سے ان کو مصیبت میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں اکثر فاسق ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Therefore, judge bet-ween them (O Muhammad!) by what Allah has revealed and do not follow their desires, and beware lest they tempt you away from anything of what Allah has revealed to you. And if they turn away, then know well that Allah has indeed decided to afflict them for some of their sins. For surely many of them are transgressors.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We order you to judge between them according to what Allah has sent down. Do not follow their desires, and beware of them, lest they should turn you away from some of what Allah has sent down to you. If they turn away, be assured that Allah intends to make them suffer for some of their sins. Surely, many of the people are sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

We order you to judge between them according to what Allah has sent down. Do not follow their desires, and beware of them, lest they should turn you away from some of what Allah has sent down to you. If they turn away, be assured that Allah intends to make them suffer for some of their sins. Surely, many of the people are sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And so judge between them by what Allah has revealed and follow not their vain desires, but beware of them lest they turn you far away from some of that which Allah has sent down to you. And if they turn away, then know that Allah's will is to punish them for some sins of theirs. And truly, most men are rebellious.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So judge between them by that which Allah hath revealed, and follow not their desires, but beware of them lest they seduce thee from some part of that which Allah hath revealed unto thee. And if they turn away, then know that Allah's Will is to smite them for some sin of theirs. Lo! many of mankind are evil-livers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And judge, [O Muhammad], between them by what Allah has revealed and do not follow their inclinations and beware of them, lest they tempt you away from some of what Allah has revealed to you. And if they turn away - then know that Allah only intends to afflict them with some of their [own] sins. And indeed, many among the people are defiantly disobedient.

— Saheeh International

(Muhammad), you must judge among them by what God has revealed. Do not follow their desires. Beware of their mischievous deception concerning some of the matters that God has revealed to you. If they turn away, know that what God wants is to punish them for some of their sins. Many human beings are evil-doers.

— Muhammad Sarwar

And that you should judge between them by what Allah has revealed, and do not follow their low desires, and be cautious of them, lest they seduce you from part of what Allah has revealed to you; but if they turn back, then know that Allah desires to afflict them on account of some of their faults; and most surely many of the people are transgressors.

— Muhammad Habib Shakir

And judge thou between them by that which Allah hath sent down, and follow thou not their desires, and beware thou of them lest they tempt thee away from any part of that which Allah hath sent down unto thee. Then if they turn away, then know thou that Allah only intendeth to afflict them for some of their sins. And verily many of the mankind are transgressors.

— Abdul Majid Daryabadi

And this (He commands): Judge thou between them by what Allah hath revealed, and follow not their vain desires, but beware of them lest they beguile thee from any of that (teaching) which Allah hath sent down to thee. And if they turn away, be assured that for some of their crime it is Allah's purpose to punish them. And truly most men are rebellious.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة الْمَآىِٕدَة 78 یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جاسکتا تھا کہ ”پچھلی کتابوں“ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ”پچھلی کتابوں“ کے بجائے ”الکتاب“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ہی ان کا مصنف ہے، ایک ہی ان کا مدعا اور مقصد ہے، ایک ہی ان کی تعلیم ہے، اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قرآن تورات و انجیل کا بھی محافظ ہے پانچویں اور چھٹی آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں تورات و انجیل کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اور ان کا محافظ بھی ہے، کیونکہ جب اہل تورات نے تورات میں اور اہل انجیل نے انجیل میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا تو قرآن ہی وہ محافظ و نگران ثابت ہوا جس نے ان کی تحریفات کا پردہ چاک کرکے حق اور حقیقت کو روشن کردیا اور تورات و انجیل کی اصلی تعلیمات آج بھی قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں باقی ہیں جبکہ ان کتابوں کے وارثوں اور ان کی پیروی کے مدعیوں نے ان کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے، کہ حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا جو اہل تورات اور اہل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

تفیسر آیت 48۔ تا 50:۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔ وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 ہر آسمانی کتاب اپنے سے ما قبل کتاب کی مصدق رہی ہے جس طرح قرآن پچھلی تمام کتابوں کا مصدق ہے اور تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کتابیں فی الواقع اللہ کی نازل کردہ ہیں۔ لیکن قرآن مصدق ہونے کے ساتھ ساتھ مُھَیْمِنْ (محافظ، امین، شاہد اور حاکم) بھی ہے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف اور تغیر (یعنی کاٹ چھانٹ اور تبدیلی) بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا، جس کو صحیح قرار دے گا وہی صحیح ہے۔ باقی باطل ہے۔ 48۔ 2 اس سے پہلے آیت نمبر 42 میں نبی کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں۔ آپ کی مرضی ہے۔ لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے، کہ ان کے آپس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–50

41: یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلم لوگ اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں جن کو فقہی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے یا اس صورت میں جب وہ اپنی رضامندی سے اپنا فیصلہ مسلمان قاضی سے کروانا چاہیں، ایسی صورت میں مسلمان قاضی عام ملکی قوانین میں فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق کرے گا، البتہ ان کے خالص مذہبی معاملات عبادات، نکاح، طلاق اور وراثت میں انہیں اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا مگر یہ فیصلہ انہی کے افراد کریں گے۔ 42: بعض گناہ اس لیے فرمایا کہ تمام گناہوں کی سزا تو آخرت میں ملنی ہے۔ البتہ اللہ اور رسول کے فیصلے سے منہ موڑنے کی سزا ان کو دنیا میں بھی ملنے والی ہے۔ چنانچہ کچھ عرصہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ (5 : 49) (پس اے نبی ﷺ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے) یہ تنبیہ بہت ہی شدید ہے اور بہت ہی مفصل ہے ۔ یہ صورت حال کی حقیقی تصور کشی ہے اس لئے کہ یہ ایک عظیم فتنہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے خبردار رہیں اور تمام فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کریں ۔ اگر مکمل شریعت نہ ہوگی تو پھر مکمل خواہش پرستی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ ڈراتے ہیں ۔ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی آپس کے اختلافات میں خواہ دنیا کیسی ہی دست و گریباں رہے آپ کو یہ ہی حکم ہے کہ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ کے موافق حکم دیتے رہیں۔ اور کسی کے کہنے سننے کی کوئی پروا نہ کریں۔ 10 پوری سزا تو قیامت میں ملے گی۔ لیکن کچھ تھوڑی سی سزا دے کر یہاں بھی مجرم کو یا دوسرے دیکھنے والوں کو ایک گو نہ تنبیہ کردی جاتی ہے۔ 11 یعنی آپ ان لوگوں کے اعراض و انحراف سے زیادہ ملول نہ ہوں دنیا میں فرمانبردار بندے ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :103)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ آج ہمارا کیا حال ہے ؟ ہم کن لوگوں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں ؟ آج ہم احکام الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی پیشواؤں کی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ وہ جو چاہتے ہیں قانون بنا دیتے ہیں ‘ جو چاہتے ہیں فیصلہ کردیتے ہیں اور پوری قوم اس کی پابند ہوتی ہے۔ ہم اس جال سے اسی صورت میں نکل سکتے ہیں کہ ایک زبردست جماعت بنائیں ‘ طاقت پیدا کریں ‘ ایک بھر پور تحریک اٹھائیں ‘ قربانیاں دیں ‘ جانیں لڑائیں تاکہ یہ موجودہ نظام تبدیل ہو ‘ اللہ کا دین قائم ہو ‘ اور پھر اس دین کے مطابق ہمارے فیصلے ہوں۔ یہاں حضور ﷺ کو ایک بار…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

91 حق کے لئے بہت بڑے فائدے سے دستبردار ہونا :۔ یہود کی آپس میں کسی مسئلہ میں نزاع کی صورت پیدا ہوگئی۔ ایک فریق میں ان کے بڑے بڑے علماء و مشائخ شامل تھے۔ یہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔ آپ ہمارے اس نزاع کا فیصلہ کر دیجئے۔ پھر اگر آپ فیصلہ ہمارے حق میں کردیں تو ہم خود بھی اور اکثر یہود بھی ایمان لے آئیں گے کیونکہ یہود کی اکثریت ہمارے ہی زیر اثر ہے۔ رسول اللہ نے ایسے رشوتی اسلام کو قبول نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار کردیا۔ اسی دوران یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے اس دوران یہ آیت اس لیے نازل فرمائیں کہ کسی ایک فرد کا بھی اسلام لانا آپ کو انتہائی محبوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

184 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” فاحکم بینھم “۔ یعنی ان اہل کتاب خصوصا یہود کے درمیان فیصلہ کیجئے جب وہ اپنا مقدمہ آپ کے سامنے لائیں۔ آیت کا یہ ٹکڑا ابھی اوپر آچکا تھا، دوبارہ اس کا ورد تاکید کے لیے ہے۔ وتکرر وان احکم بینھم للتاکید (قر طبی) (آیت) ” بما انزل اللہ۔ ولا تتع اھوآء ھم “۔ اللہ سے مراد قرآن مجید کا ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن اگر توریت وانجیل ہی مراد لی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کتابوں کے بھی ٹھیک الہامی اور وحی شدہ احکام کے مطابق ہی فیصلہ کیجئے، نہ کہ ان اضافوں اور تحریفوں کے مطابق جو انہوں نے اپنے دل سے ان کتابوں میں کرلیے ہیں۔ (آیت) ” اھوآء ھم “۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ حکم دو مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–50

وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔ واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان احکم بینہم بما انزل اللہ ولا تتبع اہوآء ہم واحذرہم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک اور (ہم نے آپ پر یہ حکم بھی نازل کیا کہ) اللہ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان کے مطابق ان کا باہمی فیصلہ کریں اور (اگر فیصلہ ان کی خواہشات کے خلاف ہو تو) ان کی خواہشات پر نہ چلیں اور احتیاط رکھیں کہ یہ کہیں اللہ کے نازل کردہ بعض احکام سے آپ کو بہکا نہ دیں۔ اس کلام کا عطف یا الکتاب پر ہے (اسی تقدیر پر ترجمہ مذکورہ ہوگا) یا الحق پر ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اَمَرْنَامحذوف کا اَنِ احْکُمْمفعول ہو۔ اَنِ یَّفْتِنُوْکَ ہُمْسے بدل ہے یعنی ان کی فتنہ انگیزی اور گمراہ کنی سے ڈریں۔ یا مفعول لہٗ ہے یعنی ان سے محتاط رہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) اور قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اسی کے مطابق آپ بنی قریضہ اور بنو نضیر اور اہل خیبر کے درمیان فیصلہ فرمائیے اور سنگسار کے ترک کرنے میں ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے ،۔ اور ان لوگوں سے ہرگز مطمئن نہ ہوئیے کہ کہیں یہ آپ ﷺ کو احکام قرآنیہ اور حکم رجم سے نہ پھیر دیں اور اگر یہ لوگ رجم سے اور قصاص کے فیصلہ سے جو آپ ﷺ نے ان کے درمیان کیا ہے اعراض کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہوں کی وجہ سے انھیں عذاب دے گا اور اہل کتاب تو عہد شکن اور کافر ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وان احکم بینہم بما انزل اللہ“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کعب بن اسید اور عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی یہ اہل کتاب اگرچہ آپس میں دست و گریباں رہیں، مگر آپ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں، آپ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں، ایسا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹا دے۔ مزید دیکھیے سورة نساء (113) ، سورة بنی اسرائیل (73 تا 75) اور سورة قلم (8، 9)۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ۭ: یعنی اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق سے محروم رکھ کر اس دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 49۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ اس پر کلام گزر چکی ہے اور یہ تخییر کے لیے ناسخ ہے، ابن عربی نے کہا : یہ ایک عریض دعوی ہے، کیونکہ نسخ کی چار شرائط ہیں، ایک ان میں سے متقدم ومتاخر کی تاریخ کا معلوم ہونا ہے اور یہ شرط ان دوآیتوں میں مجہوم ہے پس یہ دعوی کرنا ممتنع ہے کی ایک دوسری کے لیے ناسخ ہے، پس حکم اپنے حال پر باقی ہے۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 632) میں کہتا ہوں : ہم نے ابو جعفر نحاس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نزول میں متاخر ہے پس یہ آیت ناسخ ہے مگر یہ کہ کلام میں ان شئت مقدر کیا جائے، کیونکہ اس کی تخییر کا ذکر گزر چکا ہے، اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کعب بن اسد، عبداللہ بن صوریا اور شاہین بن قیس نے کہا کہ ہم محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں شاید کہ ہم اس کو اس کے دین سے فتنہ میں ڈال دیں یہ لوگ آئے اور کہا اے محمد تو جانتا ہے کہ ہم یہود کے علماء ان کے اشراف اور ان کے سردار ہیں۔ اگر ہم آپ کی تابعداری کرلیں تو یہودی بھی ہماری تابعداری کریں گے۔ اور وہ ہماری مخالفت نہیں کریں گے (لیکن) ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان جھگڑا ہے۔ ہم آپ کی طرف جھگڑا لے کر آئے ہیں ان کے خلاف ہمارے حق پر فیصلہ کرنا تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کریں گے۔ آپ ﷺ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَنِ : اور یہ کہ ] [ احْكُمْ : آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور آپ پیروی مت کریں ] [ اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ وَاحْذَرْهُمْ : اور ان سے محتاط رہیں ] [ اَنْ : کہ (کہیں ) ] [ يَّفْتِنُوْكَ : وہ لوگ پھسلادیں آپ کو ] [ عَنْۢ بَعْضِ مَآ؛اس کے بعض سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ اِلَيْكَ ۭ: آپ کی طرف ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَوَلَّوْا : وہ لوگ روگردانی کریں ] [ فَاعْلَمْ : تو جان لو ] [ اَنَّمَا؛کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يُرِيْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰهُ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ ) (اور آپ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں اس کے موافق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں) اس میں مکرر حکم دیا کہ اللہ کے نازل فرمودہ احکام کے مطابق فیصلہ دیں اور فیصلہ طلب کرنے والوں کے درمیان خواہشوں کے مطابق فیصلہ نہ کریں، اس حکم کو دوبارہ بطور تاکید بیان فرمایا۔ احکام الٰہیہ سے اعراض کرنا مصیبت نازل ہونے کا سبب ہے پھر فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ) کہ اگر یہ لوگ اس فیصلہ سے اعراض کریں جو اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قال اللہ تعالی، وانزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یوقنون۔ ربط) توریت اور انجیل کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے کتب سابقہ کی مصدق ہے جس میں تمام انبیاء سابقین کی صداقتیں اور حکمتیں موجود ہیں اور یہ قرآن کتب سابقہ مہیمن (حاکم) ہے تحریف اور تبدیل سے پاک اور منزہ ہے اس کا جو فیصلہ ہے وہ اٹل ہے اللہ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو ایک خاص شریعت عطا کی اور یہ شریعت محمدیہ آخری شریعت ہے اور تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور تمام کتب سابقہ کے مضامین اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے اور جس کی ہدایت حفاظت کا خدا تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ سلسلہ کلام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

91 یہ اٰمُرُکَ محذوف کا مفعول ہے یا یہ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ میں اَلْکِتٰبَ پر معطوف ہے یعنی جس طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل کی اسی طرح یہ امر بھی نازل کیا وَاحْذَرْھُمْ الخ آنحضرت ﷺ کو خبر دار کیا کہ آپ یہود کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں کہیں وہ آپ کو کسی معاملہ میں صحیح فیصلے سے بھٹکا نہ دیں۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا الخ اگر وہ آپ کے فیصلے کو نہ مانیں تو آپ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا ہی میں ان کے گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے چناچہ یہود کو اپنی سرکشی اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی دنیا میں بھی سزا مل گئی کچھ قتل ہوئے، کچھ جلا وطن ہوئے۔ اور کچھ ذلت کے ساتھ جزیہ دینے پر مجبور ہوئے ای یعذبھم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–50

ربط آیات اس سے پہلے تورات اور انجیل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جب تورات نازل ہوئی تو اس کے دور میں اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری تھا ‘ پھر جب انجیل نازل ہوئی ‘ تو اس پر ایمان لاکر اس کے احکام کی تعمیل لازم تھی۔ مگر ان دونوں گروہوں نے اپنی اپنی کتابوں کو پس پشت ڈال کر معاملات کے فیصلہ جات اپنی مرضی سے کرنے شروع کردیے بلکہ الٹا ان مقدس کتابوں میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر دل سے یقین نہیں رکھتا ‘ وہ قطعی کافر ہے اور جو ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ تورات و انجیل کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكَ۝ 0ۭ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّصِيْبَہُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ۝ 0ۭ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ۝ 49 بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

ترکیب : بالحق حال ہے الکتاب مفعول انزلنا سے مصدقا ومہیمنا بھی حال ہے عما جاءک موضع حال میں ہے اے عادلا عماجاءک ولکن لیبلوکم لام متعلق محذوف ہے۔ تفسیر : چونکہ توریت کی بربادی کے بعد خدا تعالیٰ نے انجیل نازل کی تھی۔ اسی طرح انجیل کے معدوم ہوجانے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دین میں افراط وتفریط ہوجانے کے سبب قرآن مجید نازل کیا جس میں خدا تعالیٰ نے تمام کتب سابقہ کے مضامین و مطالب ہدایت افزا کو جمع کردیا۔ اس لئے فرماتا ہے انزلنا الخ چونکہ قرآن توریت و انجیل کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے کہ وہ برحق اور من اللہ تھیں اور ان کے عمدہ مضامین قرآن میں ہیں اس لئے ان کا مہیمن یعنی محافظ ہے کیونکہ جب وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْم بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکَ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللہ ُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 40) ” پس اے محمد ﷺ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں ‘ جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اس آیت مبارکہ میں پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے لفظ ” الکتاب “ سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو پہلی کتب آسمانی کی تائید اور تصدیق کرتا ہے اور جو کچھ ان کتابوں میں احکام بیان کیے گئے۔ وہ قرآن مجید میں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ” مھیمن “ کا معنیٰ ہے کسی چیز کو ڈھانپ لینا یا اس کی حفاظت اور نگرانی کرنا کیونکہ دین کے مرکزی اور بنیادی اصول شروع سے ایک ہی رہے ہیں اس لیے وہ تمام احکام اور اصول جو پہلی کتابوں میں نازل کیے گئے اور جن کے نفاذ کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا۔ قرآن مجید ان کا امین اور ترجمان ہے۔ پہلی آیات میں تورات اور انجیل کے نفاذ کا حکم ان کے حاملین کو دیا گیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فتنہ پردازوں سے محتاط رہیں : آیت 49 : وَاَنِ احْکُمْ (اور آپ فیصلہ فرمائیں) یہ بالحق پر معطوف ہے یعنی و انزلنا الیک الکتاب بالحق وبان احکم اور ہم نے تمہاری طرف کتاب کو حق کے ساتھ اتارا اور اس کے ساتھ اتارا کہ تم ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ (ان کے مابین اس بھیجی ہوئی کتاب کے موافق جو اللہ تعالیٰ نے اتاری۔ اور ان کی خواہشات پر عمل نہ کریں اور محتاط رہیں ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے سے) یفتنوک کا معنی وہ تمہیں پھیر دیں یہ مفعول لہ ہے یعنی مخافۃ ان یفتنوک اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ آپ کو فتنے میں نہ ڈال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 49–50

آیت نمبر 50, 49 تفسیر : (وان احکم بینھم بما انزل اللہ اور یہ فرمایا کہ آپ فیصلہ کریں ان میں اس کے موافق جو اللہ نے اتارا) آپ کی طرف (والا تتبع اھواء ھم واحدرھم ان یفتوک عن م بعض ماانزل اللہ الیک اور نہ چلیں ان کی خوشی پر اور ان سے بچتے رہیں کہ آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے اتارا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کعب بن اسید، عبداللہ بن صوریا، شاس بن قیس یہود کے سردار آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ ہم محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں ان کو ان کے دین سے بہکاتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ خوب جانتے ہیں کہ ہم یہود کے علماء اور ان کے معزز لوگ ہیں اگر ہم آپ کی اتباع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

(48 ۔ 49) ۔ اوپر تورات کے حوالے سے جس سلسلہ سے تین نبیوں کا ذکر گزرا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں ان تینوں نبیوں کی کتابوں کا یہ ذکر ہے چناچہ انا انزلنا التوراۃ سے تورات کا اور اتیناہ الانجیل سے انجیل کا ذکر تو اوپر گزرچکا اب ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے بالحق کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ مشرکین مکہ اور اہل کتاب کسی کو اس کے اللہ کا کلام ہونے میں شک کرنے کا موقع نہیں ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی تورات اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–50

آیت 49 (وانزلنا الیک الکتب) ” اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب “ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے (بالحق) ” حق کے ساتھ “ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے (مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ) ” اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے “ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقفت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق اور اس کے بڑے بڑے قوامنین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں۔ ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے۔ پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے (ومھیمنا علیہ) ” اور ان کے مضامین پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری وان احکم بینھم بما انزل اللہ اور یہ کہ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو اس مقام پر تکرار کے طور پر نہیں وارد ہوا ہے۔ اس میں ما قبل آیت کا تکرار نہیں ہے اس لیے یہ آیت اور ما قبل کی آیت دونوں کا نزول دو مختلف پس منظر میں ہوا ہے۔ پہلی آیت کا نزول رجم کے سلسلے میں ہوا ہے اور دوسری آیت کا نزول دیتوں میں یکسانیت کے سلسلے میں ہوا ہے جب بنو نضیر اور بنو قریظہ اس بارے میں اپنے تنازعہ کا فیصلہ کرانے کے لیے حضور ﷺ کے پاس آئے تھے۔ قول باری ہے واحد رھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر بھی منحرف نہ کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

130 اعمال کا پورا بدلہ صرف آخرت میں :ـسو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کچھ بدلہ اگرچہ اس دنیا میں بھی ملتا ہے لیکن ان کا اصل اور پورا بدلہ آخرت ہی میں مل سکے گاـ کہ سب گناہوں کی سزا تو دنیا میں ملنا ممکن ہی نہیں۔ اس کی یہاں گنجائش ہی نہیں۔ نیز دنیا " دار الجزا " نہیں " دارالعمل " ہے۔ یعنی یہ دنیا عمل کی جگہ ہے۔ اور جزا و سزا کا مقام دار آخرت ہے۔ اور وہیں پر انسان کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ مل سکے گا۔ لیکن اس کے اچھے برے اعمال کا کچھ نہ کچھ بدلہ اس کو اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ یہاں پر۔ { بِبَعْضِ ذُنُوْ بِہِمْ } ۔ کی اس تصریح سے واضح ہوا ہے۔ سو معاصی وذنوب بہرحال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–50

اللہ کا حکم بہترین ہے تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں بیان کیا جاچکا ہے کہ نبی ﷺ کو قرآنی فیصلوں پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تاکید کی گئی ہے اور ان فاسق لوگوں پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ قرآن اور اسلام کی روشنی کو چھوڑ کر جاہلیت کے اندھیروں میں رہنا چاہتے ہیں۔ جب یہ اندھیروں میں رہیں گے تو ظاہر ہے بھٹکتے پھریں گے دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوں گے جبکہ اللہ پر ایمان رکھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ فیصلوں میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا صرف اور صرف رب اعلیٰ ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–50

رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔ اسرار و معارف : ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی یہ اہل کتاب آپس میں دست وگریباں رہیں مگر آپ ﷺ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں ایسیا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم سے برگشتہ کر دے (دیکھئے2)8 یعنی اس دنیا میں ان کو چلاوطنی جزیہ یا قتل کے سزا دے کیونکہ ان میں انصاف پسند اور حق پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں (کبیر، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 49–50

(5:49) ان یفتنوک۔ ان بمعنی مبادا۔ ایسا نہ ہو کہ ۔ یفتنوک۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب فتن سے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کہیں وہ تمہیں بہکا نہ دیں۔ فان تولوا۔ (پس اگر وہ منہ پھیر لیں) سے مراد مخالفین اسلام ہیں۔ یعنی اگر بار بار پندو نصائح اور فہائش و تنبیہ کے باوجود وہ اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48 تا 50 لغات القرآن : مھیمنا (نگراں۔ خلاصہ۔ اپنے اندر سمولینے والی چیز) ۔ لا تتبع (تو پیچھے نہ چل۔ اتباع نہ کر) ۔ اھواء (ھواء) ۔ خواہشیں) ۔ عما (اس سے۔ جب کہ) ۔ جعلنا (ہم نے بنایا) ۔ شرعۃ (قانون۔ راستہ۔ دین کا مقرر کیا ہوا قانون) منھاج (الگ۔ راستہ۔ طریقہ۔ مذہب) ۔ امۃ (جماعت۔ گروہ) ۔ لیبلوکم (تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ تاکہ تمہارا امتحان لے۔ اتاکم (جو اس نے تمہیں دیا ہے) ۔ استبقوا (تم آگے بڑھ جاؤ۔ دوڑ کرلے لو) ۔ الخیرات (الخیر) ۔ نیکیاں۔ بھلائیاں) مرجع (لوٹنا) ۔ احذرھم (تو ان سے احتیاط کر) ۔ ان یفتنوک (یہ کہ وہ تجھے کسی آزمائش میں ڈالیں) ۔ ان یصیبھم (یہ کہ وہ ان کو پہنچائے) ۔ الجاھلیۃ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ اللہ کا کلام ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی، توریت اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت، اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح اب یہ قرآن نازل فرمایا اور یہ بھی ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کو جھٹلانا عین ان کتابوں کو جھٹلانا ہے۔ جن کتابوں کو یہ لوگ اللہ کا کلام اور آسمانی کتابیں جانتے ہیں۔ قرآن میں پچھلے سب انبیاء اور ان کی کتابوں کی صداقت موجود ہے۔ اسی طرح ان کی کتابوں میں قرآن مجید کا ذکر موجود ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–49

[39] قرآن کو سابقہ کتب آسمانی کا محافظ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ان تمام سابقہ کتب کی برحق تعلیمات جمع و محفوظ ہیں اور اب ان کی تعلیمات کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ [40] '' شرع '' سے مراد مذہبی زندگی کا دستور العمل اور '' منہاج '' سے مراد طور طریقہ ہے۔ شرع اور منہاج سے مراد شریعت کا وہ ظاہری ڈھانچہ ہے جو دین کے حقائق کو بروئے کار لانے کے لئے ہر مذہب میں اختیار کیا گیا۔ مثلاً عبادت کو جو ایک حقیقت ہے مختلف مذاہب میں نماز، قربانی اور حج کی مختلف صورتوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض حقائق کے لئے قالب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اور بعض کے لئے اللہ تعالیٰ کے اذن سے پیغمبر نے مقرر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–49

مصدق ومہیمن کتاب : (ف 1) قرآن حکیم کے متعلق یہاں ارشاد ہے کہ وہ حق وصداقت ہے یعنی حالات و ضروریات کے بالکل موافق اور مطابق ہے اور مصدق ہے یعنی تمام پیشگوئیاں جو پہلی کتابوں میں مرقوم تھیں ، قرآن پاک کے نزول سے ثابت ومتحقق ہوگئی ہیں یعنی تصدیق کے معنی یہاں سچا ثابت کرنے کے ہیں جیسے شاعر کہتا ہے ۔ ع فوارس صدقت فیھم ظنونی : اور مھیمن بھی ہے یعنی پہلی کتابوں کی صداقت پر شاہد اکبر جیسے حضرت حسان ؓ فرماتے ہیں ۔ ان ال کتاب مھیمن بیننا والحق العرفہ ذوالالباب : (ترجمہ) تورات وانجیل حضور ﷺ کی صداقت پر گواہ ہیں اور سچائی کو سب عقلمند جانتے پہچانتے ہیں ۔ مقصد یہ کہ قرآن حکیم کی حیثیت گواہ اور شاہد کی ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور پھر ہم اس بات کی جانب تم کو توجہ دلاتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ جب کبھی ان اہل کتاب سے باہمی معاملات میں آپ کو فیصلہ کرنے کی نوبت آئے اور یہ لوگ آپ کو حکم بنائیں تو آپ اپنا حکم دیتے وقت اس بات کا خیال رکھئے کہ صرف ان احاکم کے ماتحت حکم کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی شریعت میں نازل فرمائے ہیں اور ان کی غیر شرعی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے اور آپ ان اہل کتاب سے آئندہ بھی ہوشیار رہئے اور احتیاط برتئے کبھی ایسا نہ ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام میں سے کسی حکم سے آپ کو بچلا دیں اور آپ کو کسی فتنہ میں مبتلا کردیں اور اگر یہ لوگ باوجود آپ کے فیصلے کے آپ کے حکم سے روگردانی کریں تو اس امر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 2۔ یعنی قرآن مجید۔ 3۔ یعنی ان عقائد و اعمال اور احکام کی طرف جن پر قرآن مشتمل ہے دوڑو یعنی قرآن پر ایمان لاکر اس پر چلو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم و آخر ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے فیصلہ کن بات : 146: اس آیت سے پھر وہی سلسلہ تقریر چل پڑا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا اس لئے فرمایا گیا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ جو کچھ اللہ نے تم پر نازل کیا اور اس کے مطابق ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ “ وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ کا عطف فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ 1ؕپر ہے اور دمیان میں لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ .... کا ٹکڑا بطور ایک جملہ معترضہ آگیا ہے۔ جملہ معترضہ کے ختم ہونے کے بعد سلسلہ کی اصل بات کا ازسر نو حوالہ دے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

The Qur'an: Custodian of Torah and Injil In the fifth (48) and the sixth (49) verse, the address is to the Holy Prophet ﷺ saying that to him Allah has revealed the Qur'an which confirms the Torah and Injil, Books previous to it, and is their custodian as well. This is because, after the people of the Torah altered the Torah and the people of Injil made changes in the Injil, it was the Qur'an alone which turned out to be the kind of overseer and protector which exposed the alterations made by them, lit up truth and reality in their proper perspective. Even today, the true teachings of the…

Read the full tafseer →