Al-Maaida 5:48

Al-Maaida · from ayah 48

5:48

وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ ؕ— لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ؕ— وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ؕ— اِلَی اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ۟ۙوَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ‌ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعۡ اَهۡوَآءَهُمۡ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الۡحَـقِّ‌ؕ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَـكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِىۡ مَاۤ اٰتٰٮكُمۡ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَـيۡـرٰتِ‌ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيۡعًا فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَۙ

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have revealed to you, [O Muhammad], the Book in truth, confirming that which preceded it of the Scripture and as a criterion over it. So judge between them by what Allah has revealed and do not follow their inclinations away from what has come to you of the truth. To each of you We prescribed a law and a method. Had Allah willed, He would have made you one nation [united in religion], but [He intended] to test you in what He has given you; so race to [all that is] good. To Allah is your return all together, and He will [then] inform you concerning that over which you used to differ.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:48

پھر اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافﻆ ہے۔ اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے ساتھ حکم کیجیئے، اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راه مقرر کردی ہے۔ اگر منظور مولیٰ ہوتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے، تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو، تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وه تمہیں ہر وه چیز بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے رسول محمد ! ﷺ ہم نے تم پر بھی حق پر مشتمل کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کی نگہبان ہے۔ لہذا ان لوگوں کے درمیان اسی حکم کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور جو حق بات تمہارے پاس آگئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ تم میں سے ہر ایک (امت) کے لیے ہم نے ایک (الگ) شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن (الگ شریعتیں اس لیے دیں) تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے۔ لہذا نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتی اور ان پر محافظ و گواہ تو ان میں فیصلہ کرو اللہ کے اتارے سے اور اسے سننے والے ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اپنے پاس آیا ہوا حق چھوڑ کر، ہم نے تم سب کے لیے ایک ایک شریعت اور راستہ رکھا اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کردیتا مگر منظور یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا اس میں تمہیں آزمائے تو بھلائیوں کی طرف سبقت چاہو، تم سب کا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے تو وہ تمہیں بتادے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ بھیجی، اس حال میں کہ اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو کتابوں میں سے اس سے پہلے ہے اور اس پر محافظ ہے۔ پس ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر، اس سے ہٹ کر جو حق میں سے تیرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہمقرر کیا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اور اس کی جامع و نگران بھی ہے۔ لہذا آپ ان کے فیصلے اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہی کیجئے اور جبکہ آپ کے پاس حق آچکا ہے تو ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیے۔ تم میں سے ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بھی بنا سکتا تھا لیکن وہ تو چاہتا ہے کہ اس نے جو کتاب تمہیں دی ہے اس کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے۔ لہذا (اصل کام یہ ہے) کہ بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ تم سب نے اللہ ہی کی طرف جانا ہے پھر جن باتوں میں تم اختلاف کرتے رہے وہ سب کچھ تمہیں بتادے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ، مصداق اس سے پیشتر سے موجود کتاب کی اور اس کے لیے کسوٹی بنا کر، تو ان کے درمیان فیصلہ کرو اس کے مطابق جو اللہ نے اتار اور اس حق سے ہٹ کر، جو تمہارے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک ضابطہ اور طریقہ ٹھہرایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے چاہا کہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تم کو بخشی تو بھلائیوں کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا پلٹنا ہے تو وہ تمہیں آگاہ کرے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اب ہم نے اتارا آپ کی طرف (اے پیغمبر !) اس کتاب (عظیم) کو حق کے ساتھ، تصدیق کرنے والی بنا کر، ان تمام کتابوں کے لئے جو کہ اس سے پہلے آچکی ہیں، اور محافظ (و نگہبان) بنا کر ان پر، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا ہے، اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اس حق سے (ہٹ کر) جو کہ آچکا آپ کے پاس، ہم نے تم میں سے ہر ایک (امت) کے لئے مقرر کی ایک شریعت اور راہ عمل، اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن (اس نے ایسے نہیں کیا) تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے ان احکام میں جو اس نے تم کو دیے ہیں، پس تم لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو نیکیوں میں، اور تم سب کو بہر حال لوٹ کر جانا ہے اللہ کی طرف، پھر وہ خبر کر دے گا تم کو ان سب کاموں کی جن میں تم لوگ اختلاف کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آپ پر (یہ) کتاب اتاری ہے سچائی کے ساتھ تصدیق کرنے والی ان کتابوں کی جو اس سے پیشتر اتر چکی ہیں اور ان پر محافظ۔ تو آپ ان لوگوں کے درمیان اللہ کے اتارے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ کیا کیجئے اور ان لوگوں کی خواہشوں پر عمل نہ کیجیے۔ اس سچائی سے الگ ہو کر جو آپ کے پاس آچکی ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک (خاص) شریعت اور راہ رکھی تھی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ لیکن (اس نے ایسا نہیں کیا) تاکہ تمہیں آزماتا رہے اس میں جو وہ تمہیں دیتا رہا ہے تو تم نیکیوں کی طرف لپکو۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے تو وہ تمہیں وہ بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اب اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی حق کے ساتھ جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان پر نگران ہے تو (آپ ﷺ بھی) فیصلہ کریں ان کے درمیان اس (قانون) کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور مت پیروی کریں ان کی خواہشات کی اس حق کو چھوڑ کر جو آچکا ہے آپ ﷺ کے پاس تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل طے کردی ہے اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے چاہا کہ وہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تم کو عطا کی تو تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے تو وہ تمہیں جتلا دے گا ان چیزوں کے بارے میں جن میں تم اختلاف کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور کتاب (تورات) میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے، لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی مت کرو۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی، حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے، لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کر جانا ہے ؟ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We revealed the Book to you (O Muhammad!) with Truth, confirming whatever of the Book was revealed before, and protecting and guarding over it. Judge, then, in the affairs of men in accordance with the Law that Allah has revealed, and do not follow their desires in disregard of the Truth which has come to you. For each of you We have appointed a Law and a way of life. And had Allah so willed, He would surely have made you one single community; instead, (He gave each of you a Law and a way of life) in order to test you by what He gave you. Vie, then, one with another in good works. Unto Allah is the return of all of you; and He will then make you understand the truth concerning the matters on which you disagreed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have sent down to you the Book with truth, confirming the Book before it, and a protector for it. So, judge between them according to what Allah has sent down, and do not follow their desires against the truth that has come to you. For each of you We have made a law and a method. Had Allah willed, He would have made a single community of people, but (He did not), so that He may test you in what He has given to you. Strive, then, to excel each other in good deeds. To Allah is the return for all of you. Then Allah shall tell you about that in which you disputed.

— Muhammad Taqi Usmani

We have sent down to you the Book with truth, confirming the Book before it, and a protector for it. So, judge between them according to what Allah has sent down, and do not follow their desires against the truth that has come to you. For each of you We have made a law and a method. Had Allah willed, He would have made a single community of people, but (He did not), so that He may test you in what He has given to you. Strive, then, to excel each other in good deeds. To Allah is the return for all of you. Then Allah shall tell you about that in which you disputed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have sent down to you the Book (this Qur'an) in truth, confirming the Scripture that came before it and Muhayminan over it (old Scriptures). So judge between them by what Allah has revealed, and follow not their vain desires, diverging away from the truth that has come to you. To each among you, We have prescribed a law and a clear way. If Allah willed, He would have made you one nation, but that (He) may test you in what He has given you; so compete in good deeds. The return of you (all) is to Allah; then He will inform you about that in which you used to differ.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto thee have We revealed the Scripture with the truth, confirming whatever Scripture was before it, and a watcher over it. So judge between them by that which Allah hath revealed, and follow not their desires away from the truth which hath come unto thee. For each We have appointed a divine law and a traced-out way. Had Allah willed He could have made you one community. But that He may try you by that which He hath given you (He hath made you as ye are). So vie one with another in good works. Unto Allah ye will all return, and He will then inform you of that wherein ye differ.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have revealed to you, [O Muhammad], the Book in truth, confirming that which preceded it of the Scripture and as a criterion over it. So judge between them by what Allah has revealed and do not follow their inclinations away from what has come to you of the truth. To each of you We prescribed a law and a method. Had Allah willed, He would have made you one nation [united in religion], but [He intended] to test you in what He has given you; so race to [all that is] good. To Allah is your return all together, and He will [then] inform you concerning that over which you used to differ.

— Saheeh International

We have revealed the Book to you (Muhammad) in all Truth. It confirms the (original) Bible and has the authority to preserve or abrogate what the Bible contains. Judge among them by what God has revealed to you and do not follow their desires instead of the Truth which has come to you. We have given a law and a way of life to each of you. Had God wanted, He could have made you into one nation, but He wanted to see who are the more pious ones among you. Compete with each other in righteousness. All of you will return to God who will tell you the truth in the matter of your differences.

— Muhammad Sarwar

And We have revealed to you the Book with the truth, verifying what is before it of the Book and a guardian over it, therefore judge between them by what Allah has revealed, and do not follow their low desires (to turn away) from the truth that has come to you; for every one of you did We appoint a law and a way, and if Allah had pleased He would have made you (all) a single people, but that He might try you in what He gave you, therefore strive with one another to hasten to virtuous deeds; to Allah is your return, of all (of you), so He will let you know that in which you differed;

— Muhammad Habib Shakir

And We have sent down the Book unto thee with truth; and confirming that which hath preceded it of the Book, and a guardian thereof. Wherefrom judge thou between them by that which Allah hath sent down, and follow thou not away from that which hath their desires come to thee of the truth. Unto each of you We appointed law and a way. And had Allah listed, He would have made you all a single community, but He willed not in order that he may prove you by that which He hath vouchsafed unto you. Hasten wherefore to the virtues; unto Allah is the return of you all; then He shall declare unto you concerning that wherein ye have been disputing.

— Abdul Majid Daryabadi

To thee We sent the Scripture in truth, confirming the scripture that came before it, and guarding it in safety: so judge between them by what Allah hath revealed, and follow not their vain desires, diverging from the Truth that hath come to thee. To each among you have we prescribed a law and an open way. If Allah had so willed, He would have made you a single people, but (His plan is) to test you in what He hath given you: so strive as in a race in all virtues. The goal of you all is to Allah; it is He that will show you the truth of the matters in which ye dispute;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة الْمَآىِٕدَة 78 یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جاسکتا تھا کہ ”پچھلی کتابوں“ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ”پچھلی کتابوں“ کے بجائے ”الکتاب“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ہی ان کا مصنف ہے، ایک ہی ان کا مدعا اور مقصد ہے، ایک ہی ان کی تعلیم ہے، اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قرآن تورات و انجیل کا بھی محافظ ہے پانچویں اور چھٹی آیات میں نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ ہم نے آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں تورات و انجیل کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اور ان کا محافظ بھی ہے، کیونکہ جب اہل تورات نے تورات میں اور اہل انجیل نے انجیل میں تحریف اور تغیر و تبدل کیا تو قرآن ہی وہ محافظ و نگران ثابت ہوا جس نے ان کی تحریفات کا پردہ چاک کرکے حق اور حقیقت کو روشن کردیا اور تورات و انجیل کی اصلی تعلیمات آج بھی قرآن ہی کے ذریعہ دنیا میں باقی ہیں جبکہ ان کتابوں کے وارثوں اور ان کی پیروی کے مدعیوں نے ان کا حلیہ ایسا بگاڑ دیا ہے، کہ حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا جو اہل تورات اور اہل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

تفیسر آیت 48۔ تا 50:۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۔ وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 ہر آسمانی کتاب اپنے سے ما قبل کتاب کی مصدق رہی ہے جس طرح قرآن پچھلی تمام کتابوں کا مصدق ہے اور تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ ساری کتابیں فی الواقع اللہ کی نازل کردہ ہیں۔ لیکن قرآن مصدق ہونے کے ساتھ ساتھ مُھَیْمِنْ (محافظ، امین، شاہد اور حاکم) بھی ہے۔ یعنی پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریف اور تغیر (یعنی کاٹ چھانٹ اور تبدیلی) بھی ہوئی ہے اس لئے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا، جس کو صحیح قرار دے گا وہی صحیح ہے۔ باقی باطل ہے۔ 48۔ 2 اس سے پہلے آیت نمبر 42 میں نبی کو اختیار دیا گیا تھا کہ آپ ان کے معاملات کے فیصلے کریں یا نہ کریں۔ آپ کی مرضی ہے۔ لیکن اب اس کی جگہ یہ حکم دیا جا رہا ہے، کہ ان کے آپس کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

40: یہودی اور عیسائی آنحضرت ﷺ کی دعوت قبول کرنے سے جو انکار کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عبادت کے طریقے اور بعض دوسرے احکام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی شریعت سے مختلف تھے اور ان لوگوں کو ان نئے احکام پر عمل کرنا بھاری معلوم ہوتا تھا، اس آیت نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت مختلف پیغمبروں کو الگ الگ شریعتیں عطا فرمائی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عبادت کا کوئی ایک طریقہ یا کوئی ایک قانون اپنی ذات میں کوئی تقدس نہیں رکھتا، اس میں جو کچھ تقدس پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے، لہذا جس زمانے میں اللہ تعالیٰ جو حکم دے دیں وہی اس زمانے میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔ انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 " مہیمن " کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں۔ امین، غالب، حاکم، محافظ ونگہبان اور ہر معنی کے اعتبار سے قرآن کریم کا کتب سابقہ کے لئے " مہیمن " ہونا صحیح ہے۔ خدا کی جو امانت تورات و انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں ودیعت کی گئی تھی وہ مع شے زائد قرآن میں محفوظ ہے۔ جس میں کوئی خیانت نہیں ہوئی اور جو بعض فروعی چیزیں ان کتابوں میں اس زمانہ یا ان مخصوص مخاطبین کے حسب حال تھیں ان کو قرآن نے منسوخ کردیا اور جو حقائق ناتمام تھیں ان کی پوری تکمیل فرما دی ہے اور جو حصہ اس وقت کے اعتبار سے غیر مبہم تھا اسے بالکل نظر انداز کردیا ہے۔ 3 یہود میں باہم کچھ نزاع ہوگیا تھا۔ ایک فریق جس میں ان کے بڑے بڑے مشہور علماء اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہ یہ کتاب تورات اور انجیل کی مصداق بھی ہے اور مصدق بھیّ۔ اور اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں اب ان کی تصحیح اس کے ذریعے سے ہوگی۔ ِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَل اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ ہُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ط جہاں تک شریعت کا تعلق ہے سب کو معلوم ہے کہ شریعت موسوی علیہ السلام شریعت محمدی ﷺ سے مختلف تھی۔ مزید برآں رسولوں کے منہاج طریق کار میں بھی فرق تھا۔ مثلاً…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

87 قرآن سابقہ کتب پر مہیمن کیسے ؟ مھیمن کے معنی ہیں محافظ اور نگران۔ حفاظت اور نگرانی کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ مھیمن سے مراد ایسی حفاظت اور نگرانی ہے جیسے ایک مرغی اپنے سب بچوں کو اپنے پروں کے نیچے سمیٹ لیتی ہے تاکہ کوئی پرندہ جیسے چیل وغیرہ ان پر حملہ آور نہ ہو سکے یا وہ اپنے بچوں کو سردی سے بچا سکے۔ یہاں قرآن کو باقی سب کتب سماوی پر مھیمن کہنے سے مراد یہ ہے کہ اس میں پہلے کی تمام کتب سماویہ کے مضامین آگئے ہیں۔ نیز قرآن ان سب کتابوں کے لیے ایک کسوٹی کے معیار کا کام دیتا ہے وہ اس طرح کہ : 1۔ انجیل و تورات میں جو مضمون قرآن کے مطابق ہوگا وہ یقینا اللہ ہی کا کلام ہوگا۔ 2۔ اور جو مضمون قرآن کے خلاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

177 ۔ (اے پیغمبر ! ) توریت وانجیل کے بعد اب ذکر قرآن مجید کا شروع ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی ایسی کتاب جو بجائے جو بجائے خود سچی ہے، ہر شک وکذب سے برتر، ای بالامر الحق (قرطبی) یعنی بقولہ بالحق بالصدق ولا کذب فیہ ولا شک انہ من عند اللہ (ابن جریر) (آیت) ” من الکتب “۔ کتاب بہ طور اسم جنس آیا ہے۔ من جنس الکتب (قرطبی) (آیت) ” مصدقالما بین یدیہ من الکتب “۔ تصدیق کرنے والی ان پچھلی کتابوں کی کہ وہ بھی منزل من اللہ ہی ہیں۔ اس تصدیق سے ان کتابوں کی تحریفات وتصحیفات کی تصدیق ہرگز لازم نہیں آتی۔ (آیت) ” مھیمنا “۔ مھیمن کے لفظی معنی ہیں، حفظ ونگہبانی کرنے والا۔ اصل المھیمنۃ الحفظ والارتقاب (ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–50

وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔ واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب مہیمنا الیہ : اور اے (محمد ﷺ ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب (قرآن) اتار کر بھیجا ہے جو برحق ہے اور اپنے سے پہلی والی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اوّل الکتاب سے مراد قرآن ہے۔ الف لام عہدی ہے اور دوسری الکتاب سے عام کتب الٰہیہ سابقہ ہیں اس میں الف لام جنسی ہے۔ مہیمن کا ترجمہ۔ بروایت والبی حضرت ابن عباس نے شاہد کیا ہے۔ یہی قول مجاہد قتادہ اور سدی اور کسائی کا ہے۔ عکرمہ نے اس کا ترجمہ کیا بتانے والا۔ سعید بن جبیر اور ابوعبیدہ نے کہا صاحب امانت اور حسن بصری نے کہا۔ امین۔ سعید بن مسیب اور ضحاک نے کہا حاکم اور خلیل نے کہا نگران و محافظ۔ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن حکیم آپ ﷺ پر نازل کیا جو حق اور باطل کو بیان کرنے والا اور سابقہ کتب میں جو توحید اور دیگر مضامین ہیں ان کی تصدیق کرنے والا اور تمام کتابوں کی یا آیت رجم کی گواہی دینے والا یا تمام سابقہ کتب کا محافظ ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جو آپ ﷺ کو حکم دیا ہے، اس کے مطابق بنی قریضہ اور بنی نضیر اور خیبر والوں کے درمیان فیصلہ فرمائیے اور اس حکم کے بعد کوڑے لگانے اور سنگسار نہ کر نہ کرنے میں ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے، ہم نے ہر ایک نبی کے لیے خاص شریعت اور خاص فرائض وسنن تجویز کیے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کے لیے ایک ہی شریعت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ۔۔ : اوپر کی آیات میں تورات اور انجیل کے اوصاف بیان کیے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نہ ہونے کی وجہ سے کافر، ظالم اور فاسق قرار دیا۔ اب اس آیت میں قرآن کی توصیف بیان کی ہے اور آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔”مُهَيْمِنًا“ کے معنی محافظ، نگہبان اور شاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک سابقہ کتابوں کا محافظ ہے، یعنی ہدایت کے جو علوم، معانی اور مضامین پہلی کتابوں میں تھے وہ سب کمال امانت کے ساتھ بیان کرتا ہے اور یہود کی تحریفات اور غلط تاویلات کو بیان کرتا ہے۔ یہ معنی بھی ہیں کہ تورات اور انجیل کے ہر حکم کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھا جائے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 48۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وانزلنا الیک الکتب “۔ یہ خطاب محمد ﷺ کو ہے اور (آیت) ” الکتب “ سے مراد قرآن ہے (1) (زاد المسیر، جلد 2 صفحہ 219۔ (آیت) ” بالحق “۔ سے مراد امر حق ہے، (آیت) ” مصدقا “۔ حال ہے، (آیت) ” لما بین یدیہ من الکتب “۔ یعنی جنس کتاب سے۔ (آیت) ” مھیمنا علیہ “۔ یعنی اس پر بلند “۔ یہ اس کی تاویل پر دلیل ہے جو کثرت ثواب میں تفضیل کا قول کرتا ہے جیسا کہ سورة فاتحہ میں اشارہ گزر چکا ہے، شرح السنۃ میں ابن حصار کا یہی اختار ہے اور ہم نے یہ سب کچھ اپنی کتاب ” شرح الاسماء الحسنی “ میں ذکر کیا ہے، الحمد للہ۔ قتادہ ؓ نے کہا : المھیمن “۔ کا معنی شاہد (گواہ) ہے، یعض نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم کو خبر دی ان اہل کتاب کے بارے میں جو تم سے پہلے تھے اور ان کے برے اعمال کے بارے میں۔ اور ان کے فیصلے کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے بغیر تو اپنے نبی ﷺ اور ایمان والوں کو بلیغ ترین نصیحت فرمائی تاکہ ہر وہ شخص جان لے جو اس حکم سے کسی چیز کا ذمہ دار بنایا گیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ عمل کے سوا اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان جو فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے بغیر بندوں کو نہ کوئی خیر دے سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی تکلیف دور کرسکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور ایمان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَنْزَلْنَآ : اور ہم نے نازل کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ کی طرف ] [ الْكِتٰبَ : اس کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ :: اس کے سامنے ہے ] [ مِنَ الْكِتٰبِ : کتابوں میں سے ] [ وَمُهَيْمِنًا : اور نگراں ہوتے ہوئے ] [ عَلَيْهِ : ان پر ] [ فَاحْكُمْ : پس آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ وَلَا تَتَّبِعْ : اور آپ پیروی مت کریں ] [ اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ عَمَّا : (ورنہ آپ گریز کریں گے ) اس سے جو ] [ جَاۗءَكَ : آیا آپ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن مجید دوسری کتب سماویہ کے مضامین کا محافظ ہے۔ توریت و انجیل کا تذکرہ فرمانے اور یہ بتانے کے بعد کہ یہ دونوں اللہ کی کتابیں ہیں اور ان میں ہدایت ہے نور ہے، اور یہ کہ جو شخص اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ دے وہ کافر ہے اور ظالم ہے اور فاسق ہے، آیات بالا میں قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے جو حق لے کر آئی ہے اور اس سے پہلے جو اللہ کی کتابیں ہیں انکی بھی تصدیق کرنے والی ہے ( کسی یہودی یا نصرانی کو اس سے منحرف ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) اور نہ صرف یہ کہ وہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–50

قال اللہ تعالی، وانزلنا الیک الکتاب بالحق۔۔۔ الی۔۔۔ لقوم یوقنون۔ ربط) توریت اور انجیل کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ قرآن مجید کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے کتب سابقہ کی مصدق ہے جس میں تمام انبیاء سابقین کی صداقتیں اور حکمتیں موجود ہیں اور یہ قرآن کتب سابقہ مہیمن (حاکم) ہے تحریف اور تبدیل سے پاک اور منزہ ہے اس کا جو فیصلہ ہے وہ اٹل ہے اللہ نے اپنی حکمت سے ہر نبی کو ایک خاص شریعت عطا کی اور یہ شریعت محمدیہ آخری شریعت ہے اور تمام اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہے اور تمام کتب سابقہ کے مضامین اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے اور جس کی ہدایت حفاظت کا خدا تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے۔ سلسلہ کلام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

86: خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے ہے علماء یہود و نصاریٰ کو تورات وا نجیل پر عمل کرنے کی تاکید کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ آپ پر بھی میں نے ایک کتاب نازل کی ہے جو ہر لحاظ سے کامل اور حق و صداقت بیان کرتی ہے اور پہلی کتابوں میں مذکور عقائد اور اصولی احکام اور اخلاق کی تصدیق کرتی ہے۔ اَلْکِتٰبَ میں الف لام عہد کے لیے اور اس سے قرآن عظیم مراد ہے ای الفرد الکامل الحقیق بان یسمی کتابا علی الاطلاق لتفوقہ علی سائر الکتب السماویۃ و ھو القراٰن العظیم فاللام للعھد (روح) مِنَ الْکِتٰبِ ۔ مِنْ بیانیہ ہے اور یہ مَا کا بیان ہے اور الف لام جنس کے لیے ہے اس سے مراد وہ تمام کتب سماویہ ہیں جو قرآن مجید سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 48–50

ربط آیات اس سے پہلے تورات اور انجیل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جب تورات نازل ہوئی تو اس کے دور میں اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری تھا ‘ پھر جب انجیل نازل ہوئی ‘ تو اس پر ایمان لاکر اس کے احکام کی تعمیل لازم تھی۔ مگر ان دونوں گروہوں نے اپنی اپنی کتابوں کو پس پشت ڈال کر معاملات کے فیصلہ جات اپنی مرضی سے کرنے شروع کردیے بلکہ الٹا ان مقدس کتابوں میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر دل سے یقین نہیں رکھتا ‘ وہ قطعی کافر ہے اور جو ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ تورات و انجیل کا ذکر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ مِنَ الْكِتٰبِ وَمُہَيْمِنًا عَلَيْہِ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَہُمْ عَمَّا جَاۗءَكَ مِنَ الْحَقِّ۝ 0ۭ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا۝ 0ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ۝ 0ۭ اِلَى اللہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۝ 48ۙ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 48–50

ترکیب : بالحق حال ہے الکتاب مفعول انزلنا سے مصدقا ومہیمنا بھی حال ہے عما جاءک موضع حال میں ہے اے عادلا عماجاءک ولکن لیبلوکم لام متعلق محذوف ہے۔ تفسیر : چونکہ توریت کی بربادی کے بعد خدا تعالیٰ نے انجیل نازل کی تھی۔ اسی طرح انجیل کے معدوم ہوجانے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دین میں افراط وتفریط ہوجانے کے سبب قرآن مجید نازل کیا جس میں خدا تعالیٰ نے تمام کتب سابقہ کے مضامین و مطالب ہدایت افزا کو جمع کردیا۔ اس لئے فرماتا ہے انزلنا الخ چونکہ قرآن توریت و انجیل کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے کہ وہ برحق اور من اللہ تھیں اور ان کے عمدہ مضامین قرآن میں ہیں اس لئے ان کا مہیمن یعنی محافظ ہے کیونکہ جب وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَمُھَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ عَمَّا جَآئَکَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا ط وَلَوْشَآئَ اللہ ُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اِلیَ اللہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیِہِ تَخْتَلِفُوْنَ ۔ (المائدہ : 48) ” اور ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری حق کے ساتھ ‘ مصداق اس سے پیشتر سے موجود کتاب اور اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اس آیت مبارکہ میں پہلی مرتبہ استعمال ہونے والے لفظ ” الکتاب “ سے مراد قرآن مجید ہے۔ جو پہلی کتب آسمانی کی تائید اور تصدیق کرتا ہے اور جو کچھ ان کتابوں میں احکام بیان کیے گئے۔ وہ قرآن مجید میں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔ ” مھیمن “ کا معنیٰ ہے کسی چیز کو ڈھانپ لینا یا اس کی حفاظت اور نگرانی کرنا کیونکہ دین کے مرکزی اور بنیادی اصول شروع سے ایک ہی رہے ہیں اس لیے وہ تمام احکام اور اصول جو پہلی کتابوں میں نازل کیے گئے اور جن کے نفاذ کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا۔ قرآن مجید ان کا امین اور ترجمان ہے۔ پہلی آیات میں تورات اور انجیل کے نفاذ کا حکم ان کے حاملین کو دیا گیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 48 : وَاَنْزَلْنآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ (اور ہم نے آپ کی طرف کتاب اتاری) یعنی قرآن کو اتارا ہے الکتاب میں الف لام عہد خارجی کئےِ ہے بِالْحَقِّ (حق کے سبب) اور اس کے اثبات کی وجہ سے اور درست کو خطاء سے واضح کرنے کے لئے مُصَدِّقًا (تصدیق کرتی ہے) یہ کتاب سے حال ہے۔ بین یدیہ کا استعمال : لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ (اس سے پہلے جو ہیں) بین یدیہ سے مراد جو اس سے پہلے اتری ہے اور جو کسی چز سے قبل ہوتی ہے اس کو بین یدی کہہ دیتے ہیں کیونکہ جو کسی چیز سے مؤخر ہو اس کو خلف و وراء بولتے ہیں پس جو اس سے پہلے ہوتی تو وہ قدام اور بین یدی کہلائے گی مِنَ الْکِتٰبِ (کتابیں) یہاں کتاب سے مراد جنس کتب منزلہ ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 48 تفسیر : (انزلنا الیک اور تجھ پر اتاری ہم نے ) اے محمد ! (الکتاب) کتاب سے مراد قرآن (بالحق مصدقا لمابین یدیہ من الکتاب سچی تصدیق کرنے والی سابق کتابوں کی ومیعنا علیہ اور ان کے مضامین پر نگہبان) ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس پر گواہ اور یہی مجاہد ، قتادہ ، سدی اور کسائی رحمہما اللہ کا قول ہے۔ حسان فرماتے ہیں کہ کتاب ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے گواہ ہے اور حق کا معقل والے پہچانتے ہیں اور عکرمہ فرماتے ہیں ” مھیمنا “ کا معنی دلالت کرنے والی۔ سعید بن جبیر اور ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں اس پر اعتماد والی بعض نے ” میھمن “ کی اصل ” مویمن “ ہے ” مفیعل “ کے وزن پر امین سے لیا گیا ہے جیسے ” مبیطر بیظار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

(48 ۔ 49) ۔ اوپر تورات کے حوالے سے جس سلسلہ سے تین نبیوں کا ذکر گزرا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں ان تینوں نبیوں کی کتابوں کا یہ ذکر ہے چناچہ انا انزلنا التوراۃ سے تورات کا اور اتیناہ الانجیل سے انجیل کا ذکر تو اوپر گزرچکا اب ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے بالحق کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ مشرکین مکہ اور اہل کتاب کسی کو اس کے اللہ کا کلام ہونے میں شک کرنے کا موقع نہیں ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی تورات اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 47–48

آیت 47 یعنی ان انبیاء ومرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا۔ وہ موسیٰ اور تورات کی حق و صدقات کے ساتھ گواہی دینے والے ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰ کی موافقت کرتے تھے۔ بسا اوقات عیسیٰ بعض احکام میں تخفیف فرما یدتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا ً نما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا ً علیہ پھر اے محمد ﷺ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ نگہبان ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ مہیمن کے معنی امین کے ہیں ۔ ایک قول ہے کہ یہ گواہ کے معنی میں ہے۔ ایک اور قول کے مطابق محافظ اور نگہبان کے معنوں میں ہے ، نیز یہ قول بھی ہے کہ اس کے معنی موتمن کے ہیں یعنی جس پر بھروسہ کیا جائے۔ اس کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ یہ کتاب سابقہ کتب آسمانی کی باتیں ہم تک نقل کرنے میں پوری طرح امین ہیں ۔ یعنی ان کتابوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–48

122 اللہ کی شریعت پر عمل نہ کرنے والے فاسق :ـسو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت پر عمل نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ کہ وہ ناسنح کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرتے ہیں اور نبی آخر الزمان اور ان کی شریعت مطہرہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرنا کہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ کی قانونی حیثیت باقی رہتی ہی نہیں اور اس پر عمل کرنے کا کوئی معنیٰ ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ واضح فرما دیا گیا کہ انجیل والوں کو چاہئے کہ وہ انجیل کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا لازمی نتیجہ اور تقاضا یہی تھا اور یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

قرآن پاک کی حکمت تشریح : پچھلی آیات میں تورات اور انجیل کے بارے میں بتایا گیا ہے اور اب نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ پر قرآن نازل فرمایا اور پھر قرآن کی برکات، خصوصیات اور بہترین ہدایات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کی سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ برحق کتاب ہے کوئی بھی حکم انسانی فطرت سے نہیں ٹکراتا۔ تمام قوانین وقت، حالات اور انسان کی ضروریات کے عین مطابق، آسان اور فائدہ مند ہیں یہی حق کی تعریف ہے۔ دوسری خاصیت قرآن پاک کی یہ ہے کہ یہ تمام پچھلی آسمانی کتابوں کو سچ کہتا ہے۔ تیسری خاصیت قرآن کی یہ ہے کہ یہ گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کا محافظ، شاہد، نگران…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–50

رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔ اسرار و معارف : ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اوپر کی آیات میں تورات وانجیل کے اوصاف بیان کئے اور اہل کتاب کو ان پر عامل نا ہو کی وجہ سے فاسق کافر اور ظالم قرار دیا اب اس آیت میں قرآن کریم کی توصیٖف بیان کیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ قرآن کے مطابق فیصلے کرو۔ مھیمن کے معنی محافظ نگہبار اقورشاہد کے آتے ہیں۔ قرآن پاک کتب سابقہ کا محا فظ ہے یعنی جو کچھ ان کتب میں امانت کی گئی ہے اس کو نہا یت صحت کے ساتھ بیان کرتا ہے او یہود کی غلط تاویلات و تحریفات کو واضح کرتا ہے یا معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کو ہم نے اس قرآن کا امین مقرر کیا ہے (کبیر، قرطبی) پس تورات وانجیل کے ہر مضمون کو قرآن کی کسوٹی پر پر کھ کہ دیکھا جائے گا۔ صحیح اترنے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:48) مھیمنا۔ مھیمنا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ بمعنی نگران۔ مشاہد ھیمنۃ مصدر۔ نگرانی کرنا۔ حفاظت کرنا۔ ھمن۔ مادہ۔ المہیمن۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔ نگران۔ حفاظت کرنے والا۔ مخلوق کے اعمال و ارزاق و آجال کا کفیل و ذمہ دار۔ عما۔ جس چیز سے۔ اصل میں عن ما تھا۔ نون کو میم میں مدغم کیا گیا۔ لا تتبع۔ تو اتباع نہ کر۔ تو پیروی نہ کر۔ ولاتتبع ۔۔ من الحق۔ اور اس حق بات سے جو تمہارے پاس آگئی ہے پھر کر ان کی خواہشات کا اتباع نہ کر۔ (اگرچہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن یہاں مخاطب سے دوسرے لوگ مراد لئے جاتے ہیں۔ کیونکہحضور ﷺ کا ان کی خواہشات کا اتباع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لکل۔ ہر ایک کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48 تا 50 لغات القرآن : مھیمنا (نگراں۔ خلاصہ۔ اپنے اندر سمولینے والی چیز) ۔ لا تتبع (تو پیچھے نہ چل۔ اتباع نہ کر) ۔ اھواء (ھواء) ۔ خواہشیں) ۔ عما (اس سے۔ جب کہ) ۔ جعلنا (ہم نے بنایا) ۔ شرعۃ (قانون۔ راستہ۔ دین کا مقرر کیا ہوا قانون) منھاج (الگ۔ راستہ۔ طریقہ۔ مذہب) ۔ امۃ (جماعت۔ گروہ) ۔ لیبلوکم (تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ تاکہ تمہارا امتحان لے۔ اتاکم (جو اس نے تمہیں دیا ہے) ۔ استبقوا (تم آگے بڑھ جاؤ۔ دوڑ کرلے لو) ۔ الخیرات (الخیر) ۔ نیکیاں۔ بھلائیاں) مرجع (لوٹنا) ۔ احذرھم (تو ان سے احتیاط کر) ۔ ان یفتنوک (یہ کہ وہ تجھے کسی آزمائش میں ڈالیں) ۔ ان یصیبھم (یہ کہ وہ ان کو پہنچائے) ۔ الجاھلیۃ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

ان آیتوں میں قرآن شریف کا ذکر ہے کہ بغیر کسی شک و شبہ کے یہ اللہ کا کلام ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کی، توریت اور انجیل سب پچھلی کتابوں کی صداقت، اس قرآن میں موجود ہے۔ جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پچھلے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے وہ کتابیں نازل فرمائی تھیں۔ اسی طرح اب یہ قرآن نازل فرمایا اور یہ بھی ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کو جھٹلانا عین ان کتابوں کو جھٹلانا ہے۔ جن کتابوں کو یہ لوگ اللہ کا کلام اور آسمانی کتابیں جانتے ہیں۔ قرآن میں پچھلے سب انبیاء اور ان کی کتابوں کی صداقت موجود ہے۔ اسی طرح ان کی کتابوں میں قرآن مجید کا ذکر موجود ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 48–49

[39] قرآن کو سابقہ کتب آسمانی کا محافظ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں ان تمام سابقہ کتب کی برحق تعلیمات جمع و محفوظ ہیں اور اب ان کی تعلیمات کا کوئی حصہ بھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ [40] '' شرع '' سے مراد مذہبی زندگی کا دستور العمل اور '' منہاج '' سے مراد طور طریقہ ہے۔ شرع اور منہاج سے مراد شریعت کا وہ ظاہری ڈھانچہ ہے جو دین کے حقائق کو بروئے کار لانے کے لئے ہر مذہب میں اختیار کیا گیا۔ مثلاً عبادت کو جو ایک حقیقت ہے مختلف مذاہب میں نماز، قربانی اور حج کی مختلف صورتوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض حقائق کے لئے قالب خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اور بعض کے لئے اللہ تعالیٰ کے اذن سے پیغمبر نے مقرر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 48–49

مصدق ومہیمن کتاب : (ف 1) قرآن حکیم کے متعلق یہاں ارشاد ہے کہ وہ حق وصداقت ہے یعنی حالات و ضروریات کے بالکل موافق اور مطابق ہے اور مصدق ہے یعنی تمام پیشگوئیاں جو پہلی کتابوں میں مرقوم تھیں ، قرآن پاک کے نزول سے ثابت ومتحقق ہوگئی ہیں یعنی تصدیق کے معنی یہاں سچا ثابت کرنے کے ہیں جیسے شاعر کہتا ہے ۔ ع فوارس صدقت فیھم ظنونی : اور مھیمن بھی ہے یعنی پہلی کتابوں کی صداقت پر شاہد اکبر جیسے حضرت حسان ؓ فرماتے ہیں ۔ ان ال کتاب مھیمن بیننا والحق العرفہ ذوالالباب : (ترجمہ) تورات وانجیل حضور ﷺ کی صداقت پر گواہ ہیں اور سچائی کو سب عقلمند جانتے پہچانتے ہیں ۔ مقصد یہ کہ قرآن حکیم کی حیثیت گواہ اور شاہد کی ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور اے پیغمبر ! ﷺ ہم نے اس کتاب یعنی قرآن کریم کو آپ کی جانب بھیجا ہے یہ کتاب خود بھی برحق اور سچائی کے ساتھ متصف ہے اور اپنے سے پہلی کتب سماویہ کی بھی تصدیق کرنے والی ہے اور یہ کتاب ان کتب سماویہ میں ہر ایک کتاب کی اور ان کے مضامین کی نگراں اور محافظ بھی ہے۔ لہٰذا آپ ان اہل کتاب کے باہمی معاملات میں سے جو معاملہ آپ کے روبرو پیش ہو تو آپ اس کا فیصلہ اسیح کم کے مطابق کیا کیجیے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کیا کیجیے اور جو حق بات آپ کے پاس آتی ہے اس سے انحراف نہ کیا کیجیے اور اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشات کی رعایت نہ کیجیے اور ہم نے تم میں سے ہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 2۔ یعنی قرآن مجید۔ 3۔ یعنی ان عقائد و اعمال اور احکام کی طرف جن پر قرآن مشتمل ہے دوڑو یعنی قرآن پر ایمان لاکر اس پر چلو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل شدہ ہدایات کا ذکر کیا جاتا ہے : 141: تورایت انجیل کے بعد اب ذکر قرآن کریم کا شروع کیا جاتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ پر سچائی کے ساتھ کتاب اتاری ہے جو ان کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پیشتر نازل ہوچکی ہیں بلکہ آپ ﷺ پر اتاری گئی کتاب ان سب پر محافظ و نگہبان ہے کہ ان کتابوں کی سچائیاں بھی اس کے اندر محفوظ کردی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ اس تصدیق سے ان کتابوں کی تحریفات وتصحیفات کی تصدیق ہرگز لازم نہیں آتی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کتاب میں قرآن کریم کو مُهَیْمِنًا کہا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں حفظ ونگہبانی کرنے والی چیز کی جو اس کے دائرہ کے اندر ہو جس سے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

The Qur'an: Custodian of Torah and Injil In the fifth (48) and the sixth (49) verse, the address is to the Holy Prophet ﷺ saying that to him Allah has revealed the Qur'an which confirms the Torah and Injil, Books previous to it, and is their custodian as well. This is because, after the people of the Torah altered the Torah and the people of Injil made changes in the Injil, it was the Qur'an alone which turned out to be the kind of overseer and protector which exposed the alterations made by them, lit up truth and reality in their proper perspective. Even today, the true teachings of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

78. This points to a fact of major significance. It could also have been said that the Qur'an confirms all those parts of the earlier divine books which are still extant in their true and original form. But the sense has been conveyed by employing the word 'the Book' rather than 'the previous Books'. This expression reveals that the Qur'an and all those Books sent down by God at various times and in different languages in reality constitute one and the same Book. Their Author is one and the same; their aim and purpose are the same; their teaching is the same; and the knowledge which they seek…

Read the full tafseer →