Explained with ayahs 46–47
باطل کے غلام لوگ
انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ " حضرت عیسیٰ نے فرمایا، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں "۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کردیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 77
”یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکم خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا، اس لیے جب خدا کے حکم سے…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اہل انجیل کو چاہیے کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے انجیل میں نازل فرمایا ہے اس کے مطابق احکام نافذ کریں۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے خلاف حکم جاری کریں وہ نافرمان اور سرکش ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
تفسیر آیت 46 تا 47:۔ وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۔ وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔
انبیاء کی باہمی مماثلت ایک علامتِ شناخت ہے : وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔ قیت علی اثرہ بفلان کے معنی ہوں گے، میں نے اس کو اس کے پیچھ بھیجا۔ مطلب…
Read the full tafseer →47۔ 1 اہل انجیل کو یہ حکم اس وقت تھا جب تک حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کا زمانہ تھا۔ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا دور نبوت بھی ختم ہوگیا۔ اور انجیل کی پیروی کا حکم بھی۔ اب ایماندار وہی سمجھا جائے گا جو رسالت محمدیہ پر ایمان لائے گا اور قرآن کریم کی پیروی کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
39: دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر، بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے، اگرچہ دونوں یہودی تھے مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا توقاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ خون بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من سیر کا ہوتا تھا) اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ…
Read the full tafseer →1 یا تو عیسائی جو نزول انجیل کے وقت موجود تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا اسی کو یہاں نقل فرما رہے ہیں۔ اور ہوسکتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت جو عیسائی مخاطب تھے ان سے کہا گیا ہو کہ جو کچھ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اس کے موافق ٹھیک ٹھیک حکم کریں۔ یعنی ان پیشین گوئیوں کو چھپانے یا لغو اور مہمل تاویلات سے بدلنے کی کوشش نہ کریں جو انجیل میں پیغمبر آخرالزمان اور مقدس " فارقلیط " کی نسبت حضرت مسیح کی زبانی کی گئی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہوگی کہ جس ہادی جلیل اور مصلح عظیم کے متعلق حضرت مسیح یہ فرمائیں کہ " جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں سچائی کی ساری راہیں بتائے گی۔ اسی کی تکذیب پر کمر…
Read the full tafseer →آیت 47 وَلْیَحْکُمْ اَہْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ
وہی تو سرکش ہیں ‘ وہی تو نافرمان ہیں ‘ وہی تو ناہنجار ہیں۔ غور کیجیے ایک رکوع میں تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے گئے ہیں :
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ
ان آیات قرآنیہ کو سامنے رکھیے اور ملت اسلامیہ کی موجودہ کیفیت کا جائزہ لیجیے کہ دنیا میں کتنے ممالک…
Read the full tafseer →86 اللہ کے حکم کے مطابق نہ فیصلے کرنے والے کون ؟ اللہ کی طرف سے نازل شدہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے آیت نمبر 44 کی رو سے کافر ہیں آیت نمبر 45 کی رو سے ظالم اور آیت نمبر 47 کی رو سے فاسق قرار دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ ان آیات کے مخاطب یہود و نصاریٰ ہیں تاہم یہ حکم عام ہے اور مسلمانوں کو بھی شامل ہے اور ان تینوں آیات میں جو مختلف درجات بیان کیے گئے ہیں ان کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ احکام الٰہی کے خلاف فیصلہ کرنے والا فاسق بھی ہوتا ہے، ظالم بھی اور کافر بھی۔ کیونکہ یہ سب حق سے انحراف کے ہی درجات ہیں۔ یعنی ابتداء میں فاسق ہوتا ہے جب اس گناہ سے آگے بڑھ جائے تو ظالم اور جب اسے معمول بنا لے تو کافر…
Read the full tafseer →175 ۔ خود انجیل مروجہ کی تعلیم اس سلسلہ میں یہ ہے :۔ ” جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا، اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا۔ لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں بڑا کہلائے گا۔ “ (متی۔ 5: 19) مگر ایک لطیفہ یہ ہے کہ موجودہ ” انجیل “ میں احکام قانونی کا حصہ کہنا چاہیے کہ بس برائے نام ہی ہے۔ فوجداری اور دیوانی کے قانون کے بیسیوں باب سرے سے خالی ہیں۔ اخلاقی مواعظ ان کے بجائے البتہ ملتے ہیں۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکتہ بھی اخذ کیا ہے کہ پچھلی شریعتوں سے جو حصہ منسوخ نہیں ہوا ہے وہ اس معنی میں اب بھی واجب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…
Read the full tafseer →ولیحکم اہل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور (حکم دے دیا گیا کہ) انجیل والے اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم دیں۔
ایک شبہنزول قرآن کے بعد انجیل کو منسوخ کردیا گیا۔ پھر ولیحکم بصیغۂ امر کس طرح صحیح ہوگا۔ امر تو حال یا استقبال کے لئے آتا ہے (امر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فوراً یا آئندہ اس حکم کی تعمیل کی جائے۔ گزشتہ کے متعلق اب حکم دینا ناقابل تصور ہے) ۔
جوابانجیل کے تمام احکام منسوخ نہیں کئے گئے اور جو احکام منسوخ کئے گئے ہیں اور قرآن کی وجہ سے ان کو ترک کردیا گیا ہے تو اس کا حکم بھی انجیل میں ہی موجود تھا (تو گویا یہ بھی حکم انجیل کی تعمیل ہوئی) اب اگر منسوخ ہونے کے بعد اس منسوخ پر عمل کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46۔ 47) جو شخص ان کو نہ بیان کرے اور ان پر عمل نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو سزا کے مستحق ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچانے والے ہیں اور ہم نے ان کے بعد توریت کے احکام کی ترویج اور توحید کی موافقت اور تصدیق کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل دی جو توحید اور رجم کے بیان میں توریت کے موافق تھی، اور کفر وشرک اور دیگر فواحش سے روکنے والی تھی اور اس لیے کہ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بیان کی ہیں، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصیت اور رجم کا حکم تو انجیل والے ان چیزوں کو بیان کردیں اور جن امور کو اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بیان کیا ہے جو لوگ ان کو نہیں بیان کرتے وہی گنہگار اور کافر ہیں۔
Read the full tafseer →وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ۭ۔۔ : اہل انجیل کا اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے، فیصلہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر لازم ہے کہ انجیل میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو پیش گوئیاں اور دلائل اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ ان کو چھپانے یا ان کی غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ انجیل کے حکم کے مطابق مسلمان ہوجائیں اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کریں اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہ نافرمان ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں اترا ہوا اللہ کا حکم نہیں مانا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 47۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وقفینا علی اثارھم بعیسی ابن مریم “۔ یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انبیاء کرام کے پیچھے بھیجا، (آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ “۔ یعنی تورات، تورات کو انہوں نے حق دیکھا اور اس پر عمل کے وجوب کو دیکھا حتی کہ ناسخ آگیا۔
(آیت) ” مصدقا “۔ عیسیٰ سے حال کی بنا پر منصوب ہے (آیت) ” فیہ ھدی “۔ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ (آیت) ” نور ھدی “۔ پر معطوف ہے (آیت) ” مصدقا “ اس میں دو وجہیں ہیں یہ بھی جائز ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہو اور پہلے (آیت) مصدقا پر معطوف ہو یہ بھی جائز ہے کہ الانجیل سے حال ہو تقدیر اس طرح ہوگی ــ: واتیناہ الانجیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(1) خطیب (رح) نے ابو الشیخ (رح) سے لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد عیسیٰ کو بھیجا۔
(2) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے انبیاء کے آثار کی تابعداری کی یعنی ہم نے انبیاء کے بعد مبعوث کیا۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
یوم قفت عیرھم من عیرنا واحتمال الحی فی الصبح فلق
ترجمہ : جس دن اس کے اونٹ ہمارے اونٹوں کے پیچھے چلے اور صبح کے وقت قبیلہ کی مصیبت پھٹنا تھی
(3)…
Read the full tafseer →[ وَلْيَحْكُمْ؛اور چاہیے کہ فیصلہ کریں ] [ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ : انجیل والے ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ؛اتارا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فِيْهِ ۭ: اس میں ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ لَّمْ يَحْكُمْ : فیصلہ نہیں کرتا ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [ اَنْزَلَ : نازل کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) (اور جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا تو یہی لوگ نافرمان ہیں) جن لوگوں کو انجیل شریف ان کے نبی کے ذریعہ پہنچی وہ اس کے مطابق نہ چلے اور اس کے موافق فیصلے نہ کئے اور اس میں تحریف بھی کردی اور توحید کے عقائد کی بجائے اپنے دین میں شرکیہ عقائد داخل کر لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتادیا اور تین خدا مان لئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے اعتقاد کر کے کفارہ کا عقیدہ نکال لیا، پھر جب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور انجیل کی تصریح کے مطابق آپ کی نبوت و رسالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
قال اللہ تعالیٰ وقفینا۔۔۔۔ الی۔۔۔ ھم الفاسقون۔
ربط) یہود کی شرارتوں اور خیانتوں کے بعد نصاری کے انحراف اور کفروی کو بیان کرتے ہیں اولا یہ کہ انجیل کی مدح فرمائی تاکہ اس سے انحراف کی قباحت خوب واضح ہوجائے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح یہود اپنی آسمانی کتاب سے منحرف ہیں اسی طرح نصاری بھی اپنی آسمانی کتاب انجیل سے منحرف ہیں تو ریت کی مدح کے بعد انجیل کی مدح اس لیے بھی فرمائی کہ یہود کو تنبیہ ہوجائے کہ حضرت موسیٰ کی طرح حضرت عیسیٰ بھی خدا کے رسول برحق تھے موسیٰ کی طرح ان پر بھی ایمان لانا فرض ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان پیغمبروں کے پیچھے جن کا ذکر یحکم بھا النبیون میں ہوچکا ہے انہی کے نقش قدم پر ہم نے…
Read the full tafseer →85: اہل انجیل سے علماء انصاری مراد ہیں جو انجیل کے عالم تھے فرمایا علماء انجیل کو چاہئے کہ وہ ان تعلیمات پر عمل کریں جو اللہ تعالیٰ نے انجیل میں نازل فرمائی ہیں۔ جو لوگ انجیل میں اللہ کے نازل کردہ احکام پر عمل نہ کریں وہ فاسق اور اللہ کے نافرمان ہیں۔ یا اس سے درجہ کامل مراد ہے۔ ای المثمردون الخارجون عن حکمہ او عن الایمان (روح ص 151 ج 6) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ‘ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اللہ کے نبی اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ‘ مگر اس میں بنی اسرائیل نے گڑ بڑ پید ا کردی وہ تورات پر عمل نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ اس میں انہوں نے لفظی اور معنوی اور دو طرح سے تحریف کردی۔ الفاظ کو بھی تبدیل کردیا اور معانی بھی الٹ پلٹ کردیے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اللہ کی نازل کردہ تورات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ‘ وہ کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام شریعت پر عدم اعتقاد اور اس کی تصدیق کفر کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کتاب اللہ کی تصدیق کرنے کے بعد اس…
Read the full tafseer →وَلْيَحْكُمْ اَہْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فِيْہِ 0ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ 47
حكم
والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58]
( ح ک م ) حکم
الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ترکیب : وکتبنا اے فرضنا ‘ ان النفس تقتل بالنفس خبر ان جملہ مفعول کتبنا والعین معطوف ہے النفس اسم ان پر۔ اور اسی طرح پر الانف اور الاذن اور السن اور الجروح معطوف ہیں فمن تصدق شرط فہو کفارۃ لہ جواب۔ بعیسی متعلق ہے قفینا سے۔
تفسیر : توریت کی مدح فرما کر اس کے بعض احکام کا بیان یہود پر تعریضاً کرتا ہے کہ دیکھو تم ان احکام کے بھی پابند نہیں جس طرح یہود نے زنا کی سزا میں یہ کر رکھا تھا کہ غریب کو قتل کرتے تھے اور امیر یا ذی عزت کو صرف تشہیر کرکے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح قصاص کے بارے میں شریف کو غیر شریف کے بدلے میں قتل نہیں کرتے تھے۔ مدینہ کے آس پاس یہود کے دو گروہ رہتے تھے۔ ایک بنی قریظہ۔ دوسرا بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
وَقَفَّیْنَا عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَۃِ ص وَاٰتَیْنٰہُ الاِْنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ لا وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہٖ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الاِْنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فِیْہِط وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 46۔ 47)
” اور ہم نے ان کے پیچھے ‘ انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔ مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اس کو عطا کی انجیل ہدایت اور روشنی پر مشتمل ‘ مصداق اپنے سے پیشتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : تورات کے بعد انجیل کی ہدایات اور اس کے احکامات کی اہمیت کا بیان۔
اس سے متصل پہلی آیات میں تورات کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات کے نفاذ کا ذکر ہوا تھا اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور انجیل کا تورات کی تائید کرنا ثابت کیا گیا ہے۔ اس لیے انجیل کی ہدایات اور احکامات کو انہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جن الفاظ میں تورات کی اہمیت اور ہدایات کا تعارف کروا یا گیا ہے۔ یہ کتب اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے لیے روشنی کا مینار اور ہدایت کا سرچشمہ تھیں یاد رہے جو الفاظ تورات اور انجیل کے بارے میں آئے ہیں ایسے ہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ارشاد ہوئے ہیں۔
یہ قرآن…
Read the full tafseer →آیت 47 : وَلْیَحْکُمْ اَہْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَل اللّٰہُ فِیْہِ (اور انجیل والوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے اسکے موافق حکم کیا کریں) ہم نے انکو کہا کہ تم اسکے حکم کے موافق فیصلہ کرو۔ لیحکم میں لام امر ہے اور اصل میں مکسور ہے۔
قراءت : حمزہ نے لام کے کسرہ اور میم کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے اس بناء پر کہ یہ لام کَیْ ہے تقدیر عبارت یہ ہوئی۔ وقفینا لیؤمنوا ولیحکم ہم نے ان کے پیچھے بھیجاتا کہ وہ ایمان لائیں۔ اور تاکہ وہ فیصلہ کریں۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓپکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے کے موافق حکم نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت نمبر 48, 47, 46
تفسیر : (وقفینا علی اثارھم اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کے قدموں پر) یعنی ان حکم بردار انبیاء کے پیچھے (بعیسی ابن مریم مصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ واتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور ومصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ وھدی وموعظۃ للمتقین عیسیٰ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو تصدیق کرنے والے ہیں تورات کی جو پہلے سے تھی اور ان کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور راہ بتانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو ) مصدقاً سے مراد انجیل ہے۔
(ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(46 ۔ 47) ۔ اوپر ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء ایسے بھیجے جو ہمیشہ احکام تورات کی حکم برداری میں خود بھی گلے رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے عابدوں اور عالموں کو بھی اسی طرح احکام تورات کی پابندی اور پابندی کی نگہبانی رکھنے کی تاکید کیا کرتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو تورات کے احکام کی نگہبانی کا حکم دیا تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بقدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو تورات کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا اور علاوہ تورات کے ان پر انجیل بھی نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت 47
یعنی ان انبیاء ومرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا۔ وہ موسیٰ اور تورات کی حق و صدقات کے ساتھ گواہی دینے والے ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰ کی موافقت کرتے تھے۔
بسا اوقات عیسیٰ بعض احکام میں تخفیف فرما یدتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے…
Read the full tafseer →قول باری ہے ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے ان پر نازل کیا ہے ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس قول باری میں یہ دلالت موجود ہے کہ انبیاء سابقین کی شریعتوں میں سے جو باتیں منسوخ نہیں ہوئیں وہ بایں معنی ثابت ہیں کہ اب وہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا حصہ بن گئی ہیں ۔ اس لیے قول باری ہے ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور یہ بات واضح ہے کہ اہل انجیل کو انجیل میں نازل کردہ احکام کی پیروی کے حکم سے صرف یہ مراد ہے کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی پیروی کریں اس لیے کہ انجیل میں نازل کردہ احکام اب حضور ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا جز بن چکے ہیں ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
122 اللہ کی شریعت پر عمل نہ کرنے والے فاسق :ـسو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ شریعت پر عمل نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔ کہ وہ ناسنح کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرتے ہیں اور نبی آخر الزمان اور ان کی شریعت مطہرہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ پر عمل کرنا کہ ناسخ کے آجانے کے بعد منسوخ کی قانونی حیثیت باقی رہتی ہی نہیں اور اس پر عمل کرنے کا کوئی معنیٰ ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ واضح فرما دیا گیا کہ انجیل والوں کو چاہئے کہ وہ انجیل کے مطابق فیصلہ کریں۔ اور انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا لازمی نتیجہ اور تقاضا یہی تھا اور یہی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
انجیل اور اس پر عمل کے بارے میں
تشریح : ان آیات میں پوری طرح سے واضح کردیا گیا ہے کہ تمام آسمانی کتابیں ایک جیسے احکاماتِ الٰہی سے بھری ہوئی ہیں اور ہر آنے والے پیغمبر نے پہلے پیغمبر کی تصدیق کی ہے، اسی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے کی۔ انجیل نے تورات کی تصدیق کی مگر افسوس کہ دونوں قوموں نے اپنی کتابوں کے تمام احکامات کو اپنی چھوٹی چھوٹی اغراض اور دنیاوی فائدوں کے لیے بدل دیا۔ پیغمبروں کو قتل کیا اور کسی بھی حکم کی پابندی کرنے سے انکار کردیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر، فاسق اور ظالم کہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان قوموں کے حالات اور انجام سے عبرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔
اسرار و معارف :
ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…
Read the full tafseer →ف 7 انجیل کے مطابق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ انجیل جو نبی آخرالزمان ﷺ کے متعلق پیش گوئیا اور دلائل موجود ہیں ان کو چھپانے ان کے غلط تاویلیں کرنے کی کوشش نہ کریں یا یہ کہ نزول انجیل کے وقت جو نصاریٰ تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا بعض نے لکھا ہے یہ آیت منسوخ ہے اور ان کو یہ حکم اس وقت تھا جب نبی ﷺ کی بعثت نہیں ہوئی تھی آپ ﷺ کی بعثت کے پچھلی تمام بعثتیں منسوخ کر ہوگئی ہیں (کبر قرطبی)
Read the full tafseer →(5:47) ولیحکم۔ پس چاہیے کہ وہ ضرور فیصلے کریں۔ یا حکم دیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
آیت نمبر 44 تا 47
لغات القرآن : لاتشتروا (تم نہ بیچو۔ فروخت نہ کرو) ۔ لم یحکم (فیصلہ نہ کیا) ۔ العین (آنکھ) ۔ الانف (ناک) ۔ الاذن (کان) ۔ السن (دانت) ۔ الجروح (جرح) ۔ زخم۔ قصاص (برابری) ۔ تصدق (تصدیق) ۔ صدقہ کر دے قصور معاف کر دے) ۔ کفارۃ (کفارہ۔ اتارنا) ۔ قفینا (ہم نے ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا) ۔ اثار (اثر) ۔ نشان۔ قدم) ۔ مصدق (تصدق کرنے والا۔ سچا بتانے والا) ۔ بین یدی (دونوں ہاتھوں کے درمیان۔ سامنے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے اور پھر نصاری یعنی عیسائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توریت جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
انجیل اور قرآن شریف کے نازل ہونے کا ذکر
مطلب یہ کہ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بہ قدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے، اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو توریت کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا، اور علاوہ توریت کے ان پر انجیل بھی نازل فرمائی جس میں ہر طرح کی ہدایت تھی۔ اور گناہوں کی کثرت سے بنی اسرائیل کے دل پر ایک طرح کی سیاہی جو آگئی تھی۔ اس سیاہی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے انجیل گویا ایک روشن مشعل تھی اور توریت کے سچے احکام کی تصدیق اور طرح طرح کی نصیحت بھی اس میں موجود تھی۔ آخر میں فرمایا کہ نصاریٰ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل میں…
Read the full tafseer →[38] آیات 47-44 صفحہ 252/254 میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو اس کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، تین بڑے جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اولاً یہ کہ وہ کافر ہیں کیونکہ ان کا یہ فعل حکم الٰہی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے ثانیاً یہ کہ وہ ظالم ہیں کہ ان کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے کیونکہ عدل کے مطابق حکم تو اللہ تعالیٰ نے دے دیا تھا اس لئے جب اس کے حکم سے ہٹ کر فیصلہ کیا تو
ظلم کیا۔ ثالثاً یہ کہ وہ فاسق ہیں کیونکہ اللہ کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی اور اطاعت کی حد سے تجاوز کیا اور یہی فسق ہے۔ آج کل کے مسلمانوں کو ان آیات کی روشنی…
Read the full tafseer →انجیلی فیصلے :
(ف 2) ولیحکم سے قبل قلنا محذوف ہے یعنی ہم نے انجیل دینے کے بعد اہل انجیل سے کہا کہ تم ہمیشہ انجیلی فیصلوں کے ماتحت اپنی زندگی گزارو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ” والیحکم کتبنا “ اور قفینا “ کے سیاق میں درج ہے اور قرآن حکیم میں ایسے مواقع پر الفاظ زائدہ کو محذوف رکھا جاتا ہے ، جیسے اہل جنت کے ذکر میں فرمایا (آیت) ” ولملٓئکۃ یدخلون علیھم من کل باب سلام علیکم “ یعنی جب فرشتے جنت والوں کے پاس آئیں گے تو کہیں گے تم پر سل امتی ہو یہاں ” یقولون “ کا لفظ محذوف ہے ۔
(آیت) ” ومن یحکم بما انزل اللہ “ سے مراد یہ ہے کہ انجیل والے مکلف ہیں کہ اپنی آراء کو شریعت کے باب میں مطلقا ترک کردیں اور صرف…
Read the full tafseer →ف 3 اور ہم نے اہل انجیل کو یہ حکم دیا تھا کہ اہل انجیل کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جب کوئی حکم کیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اس کے موافق حکم دیا کریں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ کریں تو ایسے ہی لوگ نافرمان اور بےحکمی کرنے والے ہیں۔ جس طرح اوپر یہود کو کہا گیا تھا کہ کسی فیصلے کے وقت یا کوئی حکم دیتے وقت اس بات کا لازمی طور پر لحاظ رکھو کہ تمہارا فیصلہ اس کتاب کے خلاف نہ ہو جو تمہارے زمانے میں واجب الاتباع ہو اسی طرح اس آیت میں نصاریٰ کو بھی بتایا گیا ہے کیونکہ اس قسم کی کمزوریوں میں نصاریٰ بھی مبتلا تھے کہ حکم بنتے وقت تھوڑی بہت خیانت کر…
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر تورات و انجیل کا اپنے اپنے دور میں واجب العمل ہونا بیان فرمایا تھا آگے قرآن مجدی کا اپنے دور میں جو کہ زبان نزول سے قیام قیامت تک ہے واجب العمل ہونا بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →140: جن لوگوں کو یہ دعویٰ ہے کہ انجیل اللہ کی کتاب ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس انجیل کی تلاش کریں جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ اس کے مطابق عمل بھی کریں۔ ہاں اگر اس وقت وہ اصل انجیل کو تلاش نہ کرسکیں کہ وہ کہاں ہے تو کم از کم اس وقت ان کا یہ فرض تو ہے کہ جو حصہ قرآن کریم میں محفوظ ہے اس کو تو تسلیم کرلیں اور اس کے مطابق عمل کر کے قرآن کریم کے احسان مند ہوں کہ اس نے ان کی اصل انجیل کا کتنا حصہ محفوظ کر رکھا ہے جس کو وہ ایک مدت سے کھو چکے تھے۔
ظاہر ہے کہ زیر نظر آیت کا خاص تعلق اہل انجیل ہی سے ہے اور مسیحیوں ہی کو حکم مل رہا ہے کہ جب دعویٰ انجیل کے ماننے کا…
Read the full tafseer →In the fourth verse (47) it was said that the people of the Injil should enforce injunctions in accordance with the Law revealed by Al-mighty Allah in the Injil, and those who enforce what is against the in-junctions sent down by Almighty Allah are disobedient, sinners.
Read the full tafseer →77. Here three judgements are issued against those who do not judge in accordance with the Law revealed by God. The first is that they are kafir (unbelievers); the second, that they are zalim (wrong-doers); and the third, that they are fasiq (transgressors). This clearly means that one who, in disregard of God's commandments and of the Laws revealed by Him, pronounces judgements according to man-made laws (whether made by himself or by others) is guilty of three major offences. First, his act amounts to rejecting the commandment of God, and this rejection is equivalent to kufr (infidelity,…
Read the full tafseer →