Al-Maaida 5:46

Al-Maaida · from ayah 46

5:46

وَقَفَّیْنَا عَلٰۤی اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۪— وَاٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًی وَّنُوْرٌ ۙ— وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًی وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۟ؕوَقَفَّيۡنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ‌ ۖ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّـلۡمُتَّقِيۡنَ

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We sent, following in their footsteps, Jesus, the son of Mary, confirming that which came before him in the Torah; and We gave him the Gospel, in which was guidance and light and confirming that which preceded it of the Torah as guidance and instruction for the righteous.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 7 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:46

پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور وه اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وه سراسر ہدایت ونصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا، اور جو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی اور متقیوں کے لیے سراپا ہدایت و نصیحت بن کر آئی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم ان نبیوں کے پیچھے ان کے نشانِ قدم پر عیسیٰ بن مریم کو لائے تصدیق کرتا ہوا توریت کی جو اس سے پہلے تھی اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تصدیق فرماتی ہے توریت کی کہ اس سے پہلی تھی اور ہدایت اور نصیحت پرہیزگاروں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے پیچھے ان (ہی) کے نقوشِ قدم پر عیسٰی ابن مریم (علیھما السلام) کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور (یہ انجیل بھی) اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی (تھی) اور (سراسر) ہدایت تھی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان کے پیچھے ان کے قدموں کے نشانوں پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، جو اس سے پہلے تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے تورات تھی اور متقی لوگوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان پیغمبروں کے بعد ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا۔ ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی، یہ کتاب بھی اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور پرہیزگاروں کے لیے اس میں ہدایت بھی تھی اور نصیحت بھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان کے پیچھے، انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اس کو عطا کی انجیل، ہدایت اور روشنی پر مشتمل۔ مصداق اپنے سے پیشتر موجود تورات کی اور ہدایت و نصیحت خدا ترسوں کے لیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے (ایک زمانہ) بعد ہم نے ان ہی کے نقش قدم پر بھیجا عیٰسی بیٹے مریم کو تصدیق کرنے والا بنا کر، اس تورات کے لئے جو ان سے پہلے آچکی تھی، اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی، اور (اس کو بھی) تصدیق کرنے والی بنا کر بھیجا، اس تورات کے لئے جو اس سے پہلے آچکی تھی، اور سراسر ہدایت اور عظیم الشان نصیحت کے طور پر پرہیزگاروں کے لیے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انکے پیچھے عیسیٰ ابن مریم ؑ کو بھیجا تصدیق کرنے والے اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توریت کے۔ اور ہم نے انہیں انجیل دی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ تصدیق کرنے والی اپنے قبل کی کتاب یعنی توریت کی۔ اور پرہیزگاروں کے لئے ایک ہدایت اور نصیحت۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان کے پیچھے انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ؑ ابن مریم کو بھیجا (وہ آئے) تصدیق کرتے ہوئے اس کی جو ان کے سامنے موجود تھا تورات میں سے اور ہم نے انہیں انجیل عطا کی اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی تھا اور وہ (انجیل بھی) تصدیق کر رہی تھی اس کی جو تورات میں سے اس کے سامنے موجود تھا اور وہ ہدایت (راہنمائی) اور نصیحت تھی تقویٰ والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا۔ تورات میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں راہنمائی اور روشنی تھی اور وہ (انجیل) بھی تورات میں جو کچھ موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور تقوٰی اختیار کرنیوالے لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We sent Jesus, the son of Mary, after those Prophets, confirming the truth of whatever there still remained of the Torah. And We gave him the Gospel, wherein is guidance and light, and which confirms the truth of whatever there still remained of the Torah, and a guidance and admonition for the God-fearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We sent lsa, son of Maryam after those prophets, confirming the Torah that was (revealed) before him, and We gave him the Injil having guidance and light therein, and confirming the Torah that was (revealed) before it; a guidance and a lesson for the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

We sent lsa, son of Maryam after those prophets, confirming the Torah that was (revealed) before him, and We gave him the Injil having guidance and light therein, and confirming the Torah that was (revealed) before it; a guidance and a lesson for the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in their footsteps, We sent `Isa, son of Maryam, confirming the Tawrah that had come before him, and We gave him the Injil, in which was guidance and light and confirmation of the Tawrah that had come before it, a guidance and an admonition for those who have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We caused Jesus, son of Mary, to follow in their footsteps, confirming that which was (revealed) before him in the Torah, and We bestowed on him the Gospel wherein is guidance and a light, confirming that which was (revealed) before it in the Torah - a guidance and an admonition unto those who ward off (evil).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We sent, following in their footsteps, Jesus, the son of Mary, confirming that which came before him in the Torah; and We gave him the Gospel, in which was guidance and light and confirming that which preceded it of the Torah as guidance and instruction for the righteous.

— Saheeh International

We made Jesus, son of Mary, follow in the footsteps (of the earlier Prophets) and confirm what existed in the Torah in his time. We gave him the Gospel containing guidance and light, as a confirmation of the Torah and instruction and advice for the pious ones.

— Muhammad Sarwar

And We sent after them in their footsteps Isa, son of Marium, verifying what was before him of the Taurat and We gave him the Injeel in which was guidance and light, and verifying what was before it of Taurat and a guidance and an admonition for those who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And in their footsteps We caused 'Isa, son of Maryam, to follow, confessing to that which had preceded him, the Taurat, and We vouchsafed unto him the Injil wherein was a guidance and a light, confirming that which had preceded it, the Taurat, and a guidance and an admonition unto the God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

And in their footsteps We sent Jesus the son of Mary, confirming the Law that had come before him: We sent him the Gospel: therein was guidance and light, and confirmation of the Law that had come before him: a guidance and an admonition to those who fear Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–47

باطل کے غلام لوگ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ " حضرت عیسیٰ نے فرمایا، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں "۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کردیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 76 یعنی مسیح ؑ کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہی ایک دین، جو تمام پچھلے انبیاء کا دین تھا، مسیح کا دین بھی تھا اور اسی کی طرف وہ دعوت دیتے تھے۔ توراۃ کی اصل تعلیمات میں سے جو کچھ ان کے زمانہ میں محفوظ تھا اس کو مسیح خود بھی مانتے تھے اور انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی تھی (ملاحظہ ہو متی باب 5۔ آیت 17- 18)۔ قرآن اس حقیقت کا بار بار اعادہ کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے انبیاء دنیا کے کسی گوشے میں آئے ہیں ان میں سے کوئی بھی پچھلے انبیاء کی تردید کے لیے اور ان کے کام کو ہٹا کر اپنا نیا مذہب چلانے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ ہر نبی اپنے پیشرو انبیاء کی تصدیق کرتا تھا اور اسی کام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

اس کے بعد دوسری آیت میں احکام قصاص اس حوالہ سے بیان کئے گئے ہیں، کہ ہم نے یہ احکام تورات میں نازل کئے ہیں، ارشاد ہےوَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، یعنی ہم نے یہود کے لئے توراة میں یہ حکم قصاص نازل کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلہ ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بدلہ ہے۔ بنو قریظہ، بنو نضیر کا جو مقدمہ حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا تھا وہ بنو نضیر نے اپنی قوت و شوکت کے بل بوتہ پر بنو قریظہ کو اس پر مجبور کر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 46–47

تفسیر آیت 46 تا 47:۔ وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ۔ وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ انبیاء کی باہمی مماثلت ایک علامتِ شناخت ہے : وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔ قیت علی اثرہ بفلان کے معنی ہوں گے، میں نے اس کو اس کے پیچھ بھیجا۔ مطلب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 یعنی انبیائے سابقین کے فوراً بعد، متصل ہی حضرت عیسیٰ ؑ کو بھیجا جو اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والے تھے، نہ کہ اس کو جھٹلانے والے تھے، جو اس بات کی دلیل تھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ بھی اللہ کے سچے رسول ہیں اور اسی اللہ کے فرستادہ ہیں جس نے تورات حضرت موسیٰ ؑ پر نازل فرمائی تھی، تو اس کے باوجود یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب (جھٹلایا) کی بلکہ ان کی تکفیر اور تنقیص و اہانت کی (کفر کا فتویٰ دے کر رسوا کیا) 46۔ 2 یعنی جس طرح تورات اپنے وقت میں لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ تھی۔ اسی طرح انجیل کے نزول کے بعد اب یہی حیثیت انجیل کو حاصل ہوگئی اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد تورات و…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–47

39: دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر، بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے، اگرچہ دونوں یہودی تھے مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا توقاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ خون بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من سیر کا ہوتا تھا) اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 46–47

(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ان کے نقش قدم پر یہ بھی چلتے تھے۔ 9 یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اپنی زبان سے تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور جو کتاب (انجیل) ان کو دی گئی تھی وہ بھی تورات کی تصدیق کرتی تھی اور انجیل کی نوعیت بھی نور و ہدایت ہونے میں تورات کی طرح تھی۔ احکام و شرائع کے اعتبار سے دونوں میں بہت ہی قلیل فرق تھا۔ جیسا کہ (وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ) 3 ۔ آل عمران :50) میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ فرق تورات کی تصدیق کے منافی نہیں جیسے آج ہم قرآن کو ماننے اور صرف اسی کے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجود بحمد اللہ تمام کتب سماویہ کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 45–46

آیت 45 وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِض وَالْعَیْنَ بالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّلا وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ط کسی نے ایک شخص کا کان کاٹ دیا ‘ اب وہ جواباً اس کا کان کاٹنے کا حق دار ہے ‘ لیکن اگر وہ قصاص نہیں لیتا اور معاف کردیتا ہے تو اسے اپنے بہت سے گناہوں کا کفارہ بنا لے گا۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجرم کو جب معاف کردیا گیا تو اس کے ذمے سے وہ گناہ دھل گیا۔ّ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ اور ظالم یہاں بمعنی مشرک ہے ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

85 نئی الہامی کتاب کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟ یعنی سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کوئی نیا دین لانے والے نبی نہ تھے۔ وہ خود زبانی بھی پہلی نازل شدہ کتابوں کی تصدیق کرتے تھے اور انجیل میں بھی یہ بات مذکور تھی۔ واضح رہے کہ بعد میں آنے والے نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس سے پہلی امت نے کتاب اللہ کی تفاسیر و شروح لکھ کر اس کے مفہوم و معانی میں جو تاویلیں کر کے اختلاف پیدا کرلیا ہے یا عقائد و عمل میں راہ حق سے بھٹک گئے ہیں، یا کتاب اللہ میں کچھ تحریف یا اضافے کرلیے ہیں۔ تو لوگوں کو ان تمام باتوں پر مطلع کر کے انہیں راہ حق پر لانے کی کوشش کرے اور اس کام کے لیے کسی بنیاد کا ہونا ضروری ہے اور وہ بنیاد منزل من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

171 ۔ یہ تصدیق خود موجودہ محرف اور مسخ شدہ انجیل میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے موجود ہے :۔ ” یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں “۔ (متی۔ 5: 17) (آیت) ” اثارھم “۔ میں ضمیر انبیاء اسرائیل کی جانب ہے۔ ای النبیین الذین اسلموا من قبلک یا محمد ﷺ (ابن جریر) (آیت) ” و 1 قفینا علی اثارھم “۔ یعنی ہم نے ان کے نقش قدم پر پیچھے پیچھے بھیجا۔ ان الفاظ میں اشارہ اس جانب بھی ہوگیا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اسی طرح کے ایک نبی تھے، جیسے کہ ان کے قبل بنی اسرائیل میں اور نبی ہوچکے تھے، ان کی شخصیت اور ان کی وحی دوسرے انبیاء کی شخصیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 45–50

وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔ واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقفینا علی اثارہم بعیسی ابن مریم اور ہم نے ان انبیاء کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا۔ مصدقا لما بین یدیہ من التوارۃ کہ وہ اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرتے تھے۔ واتیناہ الانجیل فیہ ہدی ونور اور ہم نے ان کو انجیل دی جس کے اندر ہدایت اور روشنی تھی۔ ومصدقا لمابین یدیہ من التوراۃ اور جو اپنے سے پہلے والی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والی تھی۔ وہدی وموعظۃ للمتقین پرہیزگاروں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ فیہ ہدیً جملہ حالیہ ہے اور مصدقاً کا عطف فیہ ہدی پر ہے۔ چونکہ انجیل سے فائدہ اٹھانے والے صرف وہی لوگ ہیں جو اہل تقویٰ ہوں اس لئے خصوصیت کے ساتھ پرہیزگاروں کے لئے انجیل کو ہدایت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 46–47

(46۔ 47) جو شخص ان کو نہ بیان کرے اور ان پر عمل نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو سزا کے مستحق ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچانے والے ہیں اور ہم نے ان کے بعد توریت کے احکام کی ترویج اور توحید کی موافقت اور تصدیق کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل دی جو توحید اور رجم کے بیان میں توریت کے موافق تھی، اور کفر وشرک اور دیگر فواحش سے روکنے والی تھی اور اس لیے کہ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بیان کی ہیں، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصیت اور رجم کا حکم تو انجیل والے ان چیزوں کو بیان کردیں اور جن امور کو اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بیان کیا ہے جو لوگ ان کو نہیں بیان کرتے وہی گنہگار اور کافر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ۔۔ : عیسیٰ ؑ کوئی نئی شریعت یا نیا دین لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ خود بھی اسی شریعت پر چلتے تھے اور انجیل بھی اسی شریعت پر چلنے کا حکم دیتی تھی۔ انجیل میں ہے : ”یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ تورات سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔“ (انجیل متی : 5: 17، 81) تورات، انجیل اور پھر قرآن کریم کے متعلق ”هُدًى وَّنُوْرٌ ۙ“ کے اوصاف بیان ہوئے ہیں، ان نازل شدہ کتابوں کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–46

آیت نمبر : 45۔ اس آیت میں تیس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکتبنا فیھا ان النفس بالنفس “۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے تورات میں نفسوں کے درمیان برابری کی ہے، پس یہود نے اس کی مخالفت کی اور گمراہ ہوئے، نضیری کی دیت زیادہ کردی تھی اور نضیری کو، قرظی کے بدلے میں قتل نہیں کیا جاتا تھا اور قرظی کو نضیری کے بدلے قتل کیا جاتا، جب اسلام آیا تو اس مسئلہ میں بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ سے رجوع کیا آپ نے برابری کا حکم فرمایا، بنونضیر نے کہا : آپ نے ہمارا مرتبہ کم کردیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” وکتبنا “ کا معنی ہے ہم نے فرض کیا، یہ پہلے گزر چکا ہے ان کی شریعت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–47

(1) خطیب (رح) نے ابو الشیخ (رح) سے لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے بعد عیسیٰ کو بھیجا۔ (2) امام طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ارزق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت وقفینا علی اثارھم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے انبیاء کے آثار کی تابعداری کی یعنی ہم نے انبیاء کے بعد مبعوث کیا۔ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ یوم قفت عیرھم من عیرنا واحتمال الحی فی الصبح فلق ترجمہ : جس دن اس کے اونٹ ہمارے اونٹوں کے پیچھے چلے اور صبح کے وقت قبیلہ کی مصیبت پھٹنا تھی (3)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَقَفَّيْنَا : اور ہم نے پیچھے بھیجا ] [ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ : ان کے نقوش قدم پر ] [ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ : عیسیٰ ابن مریم کو ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : ان کے سامنے ہے ] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ ۠: تورات میں سے ] [ وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دی ان کو ] [ الْاِنْجِيْلَ : انجیل ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ هُدًى: ہدایت ہے ] [ وَّنُوْرٌ : اور نور ہےۙ [ َّمُصَدِّقًا : اور تصدیق کرنے والی ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهِ : اس کے سامنے ہے ] [ مِنَ التَّوْرٰىةِ : تورات میں سے ] [ وَهُدًى : اور ہدایت ہوتے ہوئے ] [ وَّمَوْعِظَةً :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

انجیل شریف میں ہدایت تھی اور نور تھا توریت شریف اور اس کے بعض احکام کا تذکرہ فرمانے کے بعد حضرت سیدنا عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اور انجیل شریف کا تذکرہ فرمایا جو حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور ارشاد فرمایا (وَ قَفَّیْنَا عَلآی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ) کہ انبیاء کے بعد (جو توریت کے مطابق حکم کرتے تھے) ہم نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا وہ توریت شریف کی تصدیق کرنے والے تھے جو پہلے سے موجود تھی انجیل میں متقیوں کے لئے ہدایت تھی اور نصیحت تھی، اس میں یہ بتاد یا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی توریت کی تصدیق کرنے والے تھے اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

قال اللہ تعالیٰ وقفینا۔۔۔۔ الی۔۔۔ ھم الفاسقون۔ ربط) یہود کی شرارتوں اور خیانتوں کے بعد نصاری کے انحراف اور کفروی کو بیان کرتے ہیں اولا یہ کہ انجیل کی مدح فرمائی تاکہ اس سے انحراف کی قباحت خوب واضح ہوجائے اور مقصود یہ ہے کہ جس طرح یہود اپنی آسمانی کتاب سے منحرف ہیں اسی طرح نصاری بھی اپنی آسمانی کتاب انجیل سے منحرف ہیں تو ریت کی مدح کے بعد انجیل کی مدح اس لیے بھی فرمائی کہ یہود کو تنبیہ ہوجائے کہ حضرت موسیٰ کی طرح حضرت عیسیٰ بھی خدا کے رسول برحق تھے موسیٰ کی طرح ان پر بھی ایمان لانا فرض ہے چناچہ فرماتے ہیں اور ان پیغمبروں کے پیچھے جن کا ذکر یحکم بھا النبیون میں ہوچکا ہے انہی کے نقش قدم پر ہم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

84 پہلے یہود کو تورات دینے اور اس کے احکام پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کا ذکر تھا یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل کرنے کا ذکر فرمایا اور ساتھ علماء نصاریٰ کو انجیل پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی مُصَدِّقاً یہ عیسیٰ سے حال واقع ہے۔ وَ اٰ تَیْنٰہُ الْاِنجْجِیلَ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک طرف تورات کے تصدیق کنندہ تھے اور دوسری طرف خود بھی صاحب کتاب تھے ان کو ہم نے انجیل دی جس میں تورات کی طرح ہدایت کی روشنی تھی۔ وَمُصَدِّقاً جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کے احکام کی تصدیق کرتے تھے اسی طرح انجیل بھی تورات کی مصدق تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 45–47

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ‘ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اللہ کے نبی اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ‘ مگر اس میں بنی اسرائیل نے گڑ بڑ پید ا کردی وہ تورات پر عمل نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ اس میں انہوں نے لفظی اور معنوی اور دو طرح سے تحریف کردی۔ الفاظ کو بھی تبدیل کردیا اور معانی بھی الٹ پلٹ کردیے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اللہ کی نازل کردہ تورات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ‘ وہ کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام شریعت پر عدم اعتقاد اور اس کی تصدیق کفر کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کتاب اللہ کی تصدیق کرنے کے بعد اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِہِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ مِنَ التَّوْرٰىۃِ۝ 0۠ وَاٰتَيْنٰہُ الْاِنْجِيْلَ فِيْہِ ہُدًى وَّنُوْرٌ۝ 0ۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہِ مِنَ التَّوْرٰىۃِ وَہُدًى وَّمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِيْنَ۝ 46ۭ قفا القَفَا معروف، يقال : قَفَوْتُهُ : أصبت قَفَاهُ ، وقَفَوْتُ أثره، واقْتَفَيْتُهُ : تبعت قَفَاهُ ، والِاقْتِفَاءُ : اتّباع القفا، كما أنّ الارتداف اتّباع الرّدف، ويكنّى بذلک عن الاغتیاب وتتبّع المعایب، وقوله تعالی: وَلا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ [ الإسراء/ 36] أي : لا تحکم بالقِيَافَةِ والظنّ ، والقِيَافَةُ مقلوبة عن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–47

ترکیب : وکتبنا اے فرضنا ‘ ان النفس تقتل بالنفس خبر ان جملہ مفعول کتبنا والعین معطوف ہے النفس اسم ان پر۔ اور اسی طرح پر الانف اور الاذن اور السن اور الجروح معطوف ہیں فمن تصدق شرط فہو کفارۃ لہ جواب۔ بعیسی متعلق ہے قفینا سے۔ تفسیر : توریت کی مدح فرما کر اس کے بعض احکام کا بیان یہود پر تعریضاً کرتا ہے کہ دیکھو تم ان احکام کے بھی پابند نہیں جس طرح یہود نے زنا کی سزا میں یہ کر رکھا تھا کہ غریب کو قتل کرتے تھے اور امیر یا ذی عزت کو صرف تشہیر کرکے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح قصاص کے بارے میں شریف کو غیر شریف کے بدلے میں قتل نہیں کرتے تھے۔ مدینہ کے آس پاس یہود کے دو گروہ رہتے تھے۔ ایک بنی قریظہ۔ دوسرا بنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 46–47

وَقَفَّیْنَا عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَۃِ ص وَاٰتَیْنٰہُ الاِْنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ لا وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہٖ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الاِْنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فِیْہِط وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 46۔ 47) ” اور ہم نے ان کے پیچھے ‘ انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔ مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اس کو عطا کی انجیل ہدایت اور روشنی پر مشتمل ‘ مصداق اپنے سے پیشتر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–47

فہم القرآن ربط کلام : تورات کے بعد انجیل کی ہدایات اور اس کے احکامات کی اہمیت کا بیان۔ اس سے متصل پہلی آیات میں تورات کے منزل من اللہ ہونے اور اس کے احکامات کے نفاذ کا ذکر ہوا تھا اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور انجیل کا تورات کی تائید کرنا ثابت کیا گیا ہے۔ اس لیے انجیل کی ہدایات اور احکامات کو انہی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جن الفاظ میں تورات کی اہمیت اور ہدایات کا تعارف کروا یا گیا ہے۔ یہ کتب اپنے اپنے وقت میں لوگوں کے لیے روشنی کا مینار اور ہدایت کا سرچشمہ تھیں یاد رہے جو الفاظ تورات اور انجیل کے بارے میں آئے ہیں ایسے ہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ارشاد ہوئے ہیں۔ یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انجیل میں بھی ہدایت و روشنی اتاری : آیت 46 : وَقَفَّیْنَا (اور ہم نے ان کے پیچھے بھیجا) قفیت الشیٔ بالشیٔ کا معنی پیچھے چلانا۔ گویا اس کی گدی میں رکھ دیا قفا یقفوا کہتے ہیں جب وہ اس کا پیچھا کرے۔ عَلٰٓی ٰاثَارِہِمْ (ان کے نشانات پر) انبیاء کے نشانات پر ان لوگوں کو جنہوں نے فرمانبرداری کی۔ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا (عیسیٰ ( علیہ السلام) بن مریم کو اس حال میں کہ وہ تصدیق کرنے والے ہیں) یہ عیسیٰ بن مریم سے حال ہے۔ لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ ٰاتَیْنَـٰـہُ الْاِنْجِیْلَ ِفیْہِ ہُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ (اپنے سے قبل تورات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 46–47

آیت نمبر 48, 47, 46 تفسیر : (وقفینا علی اثارھم اور پیچھے بھیجا ہم نے انہی کے قدموں پر) یعنی ان حکم بردار انبیاء کے پیچھے (بعیسی ابن مریم مصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ واتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور ومصدقاً لما بین یدیہ من التورۃ وھدی وموعظۃ للمتقین عیسیٰ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے کو تصدیق کرنے والے ہیں تورات کی جو پہلے سے تھی اور ان کو دی ہم نے انجیل جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرتی تھی اپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور راہ بتانے والی اور نصیحت تھی ڈرنے والوں کو ) مصدقاً سے مراد انجیل ہے۔ (ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ اور چاہیے کہ حکم کریں انجیل والے اس کے مطابق جو اللہ نے اتارا)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–47

(46 ۔ 47) ۔ اوپر ذکر تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء ایسے بھیجے جو ہمیشہ احکام تورات کی حکم برداری میں خود بھی گلے رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے عابدوں اور عالموں کو بھی اسی طرح احکام تورات کی پابندی اور پابندی کی نگہبانی رکھنے کی تاکید کیا کرتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو تورات کے احکام کی نگہبانی کا حکم دیا تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بقدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو تورات کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا اور علاوہ تورات کے ان پر انجیل بھی نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–46

آیت 45 یہ احکامات، تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیوں اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کردیا جائے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ (والجروح قصاص) ” اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے “ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–46

قول باری ہے وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین و الانف بالانف ، تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک تا آخر آیت ۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں یہودیوں پر جان اور آیت میں مذکورہ اعضا کا قصاص لکھ دیا تھا۔ امام ابو یوسف نے ظاہر آیت سے جان کے سلسلے میں عورت اور مرد کے درمیان قصاص کے ایجاب پر استدلا ل کیا ہے۔ اس لیے کہ ارشاد باری ہے الفنس بالنفس یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابو یوسف کا مسلک یہ تھا کہ ہم سے پہلے انبیا (علیہم السلام) کی شریعتوں کا حکم جاری اور نافذ رہے گا یہاں تک کہ اس کی تنسیخ کا حکم حضور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

121 حضرت عیسیٰ کی تصدیق تورات کیلئے : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے بعد ہم نے انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ بیٹے مریم کو بھیجا تصدیق کرنے والا بنا کر اس تورات کے لیے جو ان سے پہلے آچکی تھی کہ اصول کے اعتبار سے سب آسمانی کتابیں ایک ہی طرح کی ہوتی ہیں اور ان کی دعوت اور ان کا پیغام بھی مشترک اور اپنی اصل وضع کے اعتبار سے ایک ہی ہوتا ہے۔ اصولی طور پر سب ہی توحید خداوندی کی دعوت دیتی ہیں اور انسانوں کو اپنے خالق ومالک حقیقی کی طرف رجوع کرنے اور اسی کے آگے جھکنے کا درس دیتی ہیں۔ بہرکیف حضرت عیسیٰ بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد تقریباً چھ سو سال تک کوئی نبی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ سلسلہ نبوت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–47

انجیل اور اس پر عمل کے بارے میں تشریح : ان آیات میں پوری طرح سے واضح کردیا گیا ہے کہ تمام آسمانی کتابیں ایک جیسے احکاماتِ الٰہی سے بھری ہوئی ہیں اور ہر آنے والے پیغمبر نے پہلے پیغمبر کی تصدیق کی ہے، اسی طرح سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے کی۔ انجیل نے تورات کی تصدیق کی مگر افسوس کہ دونوں قوموں نے اپنی کتابوں کے تمام احکامات کو اپنی چھوٹی چھوٹی اغراض اور دنیاوی فائدوں کے لیے بدل دیا۔ پیغمبروں کو قتل کیا اور کسی بھی حکم کی پابندی کرنے سے انکار کردیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر، فاسق اور ظالم کہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان قوموں کے حالات اور انجام سے عبرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–50

رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔ اسرار و معارف : ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کوئی نئی شریعت یا نیا دین لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہ تورات ہی کی تصدیق کرنے اور اسی کی شریعت کو زندہ کرنے آئے تھے۔ وہ خود بھی اسی کی شریعت پر چلتے تھے اور انجیل بھی اسی شریعت پر چلنے کا حکم دیتی تھی۔ (ابن کثیر۔ کبیر) تورات انجیل اور پھر قرآن کریم کے متعلق ھد ی ونور کے اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ ان کتب منزلہ کا ہدایت ہونا تو احق اعتبار سے ہے کہ یہ مبدا دمعاد کے حقائق کے بیان پر مشتمل ہیں اور نو راد روشنی ہونا اس لحاظ سے ہے کہ انسان کے عملی زندگی میں رہمنائی کا کام دیتی ہے (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:46) قفینا۔ ماضی معروف جمع متکلم ۔ تقفیۃ (تفعیل) مصدر۔ پیچھے بھیجنا۔ پیچھے کردینا اس کا مادہ قفا ہے بمعنی گردن اور سر کا پچھلا حصہ۔ قفو۔ قفو۔ کسی کے پیچھے چلنا۔ پیروی کرنا (اس معنی میں باب نصر سے مستعمل ہے) ۔ تقضیۃ دو مفعول چاہتا ہے۔ جیسے قضیت زبدا عمروا۔ میں نے زید کو عمرو کے پیچھے بھیجا کبھی مفعول دوم پر ب آتا ہے۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے قضینا بعیسی۔ اور (ان کے پیچھے) ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا۔ علی اثارھم ۔ ان کے نقش قدم پر۔ ان کے پیچھے پیچھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 44–47

آیت نمبر 44 تا 47 لغات القرآن : لاتشتروا (تم نہ بیچو۔ فروخت نہ کرو) ۔ لم یحکم (فیصلہ نہ کیا) ۔ العین (آنکھ) ۔ الانف (ناک) ۔ الاذن (کان) ۔ السن (دانت) ۔ الجروح (جرح) ۔ زخم۔ قصاص (برابری) ۔ تصدق (تصدیق) ۔ صدقہ کر دے قصور معاف کر دے) ۔ کفارۃ (کفارہ۔ اتارنا) ۔ قفینا (ہم نے ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا) ۔ اثار (اثر) ۔ نشان۔ قدم) ۔ مصدق (تصدق کرنے والا۔ سچا بتانے والا) ۔ بین یدی (دونوں ہاتھوں کے درمیان۔ سامنے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے اور پھر نصاری یعنی عیسائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توریت جیسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–47

انجیل اور قرآن شریف کے نازل ہونے کا ذکر مطلب یہ کہ ان آیتوں میں فرمایا کہ ان انبیاء بنی اسرائیل کے قدم بہ قدم سب انبیاء بنی اسرائیل تھے، اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو توریت کے احکام کی تصدیق و نگہبانی کے لئے بھیجا، اور علاوہ توریت کے ان پر انجیل بھی نازل فرمائی جس میں ہر طرح کی ہدایت تھی۔ اور گناہوں کی کثرت سے بنی اسرائیل کے دل پر ایک طرح کی سیاہی جو آگئی تھی۔ اس سیاہی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لئے انجیل گویا ایک روشن مشعل تھی اور توریت کے سچے احکام کی تصدیق اور طرح طرح کی نصیحت بھی اس میں موجود تھی۔ آخر میں فرمایا کہ نصاریٰ کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انجیل میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–46

[37] تورات میں زانی کے لئے سنگسار کرنے کا اور قاتل کے لئے قتل کئے جانے کا حکم ہے۔ لیکن جب کسی بڑے آدمی سے یہ جرائم سرزد ہوتے تو یہودیوں کے دنیا پرست علماء اسے سزا سے بچانے کے لئے طرح طرح کے شرعی حیلے نکالتے۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کے عہد میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا یہود نے خیال کیا کہ آپ کو تورات کے احکام کی خبر نہیں پس بہتر ہے کہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کردیا جائے تاکہ مجرم سزا سے بچ جائے اور ذمہ داری بھی ہمارے سر نہ پڑے۔ چناچہ جب معاملہ آپ کے سامنے پیش ہوا تو وحی الٰہی نے آپ کو مطلع کردیا۔ آپ نے تورات کے حکم کا ان سے اقرار کرایا اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مسیح (علیہ السلام) کی تعلیمات تورات سے قدرے مختلف ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کے غرض ومقصد میں اختلاف وتضاد ہے بلکہ یہ ہے کہ حالات وواقعات کے ماتحت تعلیمات کا بظاہر فروع میں مختلف ہونا لابدی اور ضروری ہے مگر اصول و اساس میں پوری وحدت ویکسانی ہوتی ہے جس طرح یہ ضروری ہے کہ قدرت کے دوسرے مظاہر مادیہ میں وحدت یکجہتی ہو اسی طرح شرائع اور ادعیان بھی باوجود تنوع کے ایک محسوس وحدت اپنے اندر پنہاں رکھتے ہیں سب کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ انسان کو روح وجسم سمیت ارتقاء کی سب سے اونچی سیڑھی پر چڑھایا جائے اور اس میں حالات وظروف کے ماتھت اس نوع کی استعداد پیدا کی جائے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور ہم نے ان انبیائے مذکورہ کے بعد جن کی طرف یحکم بھا النبیون میں اشارہ کیا گیا ہے ان ہی انبیائے ما سبق کے نقش ہائے قدم پر حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جن کا حال یہ تھا کہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتے تھے جو ان سے پہلے نازل ہوئی تھی یعنی توریت کی تصدیق فرماتے تھے اور اس کو منزل من اللہ کہتے تھے اور ہم نے ان عیسیٰ بن مریم کو انجیل عطا کی تھی اس انجیل کی یہ حالت تھی کہ اس میں روشنی تھی اور صحیح راہ کی راہنمائی تھی اور وہ بھی اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرنے والی تھی اور اس کو منجانب اللہ بتاتی تھی اور وہ انجیل اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–46

ف 1۔ یعنی معاف کرنا موجب ثواب ہے۔ 2۔ مسائل : (ا) قصاص اس قتل یا جرم میں ہے جو حق ہو ورنہ حق پر قتل کرنا درست ہے اور عمدا ہو کیونکہ خطا میں دیت ہے۔ (2) النفس بالنفس میں آزاد اور غلام اور مسلمان اور کافر ذمی اور مرد اور عورت اور کبیر اور صغیر اور شریف اور رذیل اور بادشاہ اور رعیت سب داخل ہیں البتہ خود اپنے مملوک گلام اور اپنی اولاد کے قصاص میں نہ مارا جانا اجماع و حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل میں دلی مقتول کو اور باقی صورتوں میں خود مقطوع ومجروح کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

138: اس آیت میں بتایا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر جو احکام نازل کئے گئے تھے اور ان احکام کے مطابق قوم بنی اسرائیل کے بہت سے نبی بھی حکم دے چکے اور فیصلے کرچکے تھے اور بالاخر قوم بنی اسرائیل کے سلسلہ کے خاتم سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تو ان کو بھی وہی احکام دے کر مبعوث کیا گیا بلکہ ان احکام کو انجیل کی صورت میں محفوظ کردیا گیا جب تک عیسیٰ (علیہ السلام) قوم بنی اسرائیل میں رہے انہیں ہدایات اور احکامات کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ انجیل کی اصطلاح میں ” شریعت “ سے مراد شریعت موسوسی یا توریت ہی ہوتی ہے اور اس کے متعلق آج بھی انجیل میں یہ تصریح موجود ہے کہ ” آسمان و زمین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–46

In the second verse after that (45), there is a description of the injunctions of Qisas (Even Retaliation) with a particular reference stressing that ` We had revealed these injunctions in the Torah.' The words of the text are: وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُ‌وحَ قِصَاصٌ ` We had revealed in the Torah this injunction of Qisas for the Jews that there will be life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth; and for wounds an equal…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

76.The Messiah did not expound a new religion. That very religion which had been the religion of all the Prophets was also his religion, and it is towards that religion that he called people. He believed in the true teachings of the Torah which were extant in his time, and the Gospels (Injil) confirm this (see, for example, Matthew 5: 17-18). The Qur'an repeatedly stresses the fundamental fact that none of the Prophets of God, no matter in which part of the world they appeared, denied the Prophets who had preceded them. On the contrary, each Prophet confirmed the message of his predecessors…

Read the full tafseer →