قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے
یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بےپرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لئے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا (والعین) پڑھنا بھی مروی ہے (ابو داؤد وغیرہ)…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 74
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو توراۃ کی کتاب خروج، باب 21۔ آیت 23-25۔
سورة الْمَآىِٕدَة 75
یعنی جو شخص صدقہ کی نیت سے قصاص معاف کر دے اس کے حق میں یہ نیکی اس کے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اسی معنی میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ من جرح فی جسدہ جراحۃ فتصدق بھا کفر عنہ ذنوبہ بمثل ما تصدق بہ۔ یعنی جس کے جسم میں کوئی زخم لگایا گیا اور اس نے معاف کردیا تو جس درجہ کی یہ معافی ہوگی اسی کے بقدر اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
اس کے بعد دوسری آیت میں احکام قصاص اس حوالہ سے بیان کئے گئے ہیں، کہ ہم نے یہ احکام تورات میں نازل کئے ہیں، ارشاد ہےوَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ، یعنی ہم نے یہود کے لئے توراة میں یہ حکم قصاص نازل کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلہ ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بدلہ ہے۔
بنو قریظہ، بنو نضیر کا جو مقدمہ حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا تھا وہ بنو نضیر نے اپنی قوت و شوکت کے بل بوتہ پر بنو قریظہ کو اس پر مجبور کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
تفسیر آیات 44۔ 45۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ…
Read the full tafseer →45۔ 1 جب تورات میں جان کے بدلے جان اور زخموں میں قصاص کا حکم دیا گیا تو پھر یہودیوں کے ایک قبیلے (بنو نفیر) کا دوسرے قبیلے (بنو قرظہ) کے ساتھ اس کے برعکس معاملہ کرنا اور اپنے مقتول کی دیت دوسرے قبیلے کے مقتول کی بنسبت دوگنا رکھنے کا کیا جواز ہے ؟ جیسا کہ اس کی تفصیل پچھلے صفحات میں گزری۔
45۔ 2 یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس قبیلے میں مذکورہ فیصلہ کیا تھا، یہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف تھا اور اس طرح انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ گویا انسان اس بات کا مکلف ہے کہ وہ احکامات الہی کو اپنائے اسی کے مطابق فیصلے کرے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کرے، اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
39: دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر، بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے، اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے، اگرچہ دونوں یہودی تھے مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرالیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا توقاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ خون بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا (وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من سیر کا ہوتا تھا) اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔
اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے…
Read the full tafseer →5 قصاص کا یہ حکم شریعت موسوی میں تھا۔ اور بہت سے علمائے اصول نے تصریح کی ہے کہ جو پچھلی شرائع قرآن کریم یا ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) نے نقل فرمائیں بشرطیکہ ان کی نسبت کسی جگہ حضور نے کوئی انکار یا ترمیم نہ فرمائی ہو تو وہ اس امت کے حق میں بھی تسلیم کی جائیں گی۔ گویا بدون رد و انکار کے ان کو سنانا تلقی بالقبول کی دلیل ہے۔
6 یعنی جروح کے قصاص کو معاف کردینا مجروح کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت کو جارح کے حق میں رکھا ہے یعنی اگر مجروح نے جارح کو معافی دے دی تو اس کا گناہ معاف ہوجائے گا والراجع ھو الاول۔
8 یہود نے حکم قصاص کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 45 وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِض وَالْعَیْنَ بالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّلا
وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ط
کسی نے ایک شخص کا کان کاٹ دیا ‘ اب وہ جواباً اس کا کان کاٹنے کا حق دار ہے ‘ لیکن اگر وہ قصاص نہیں لیتا اور معاف کردیتا ہے تو اسے اپنے بہت سے گناہوں کا کفارہ بنا لے گا۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجرم کو جب معاف کردیا گیا تو اس کے ذمے سے وہ گناہ دھل گیا۔ّ
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ
اور ظالم یہاں بمعنی مشرک ہے ‘…
Read the full tafseer →82 سابقہ شریعتوں کے احکام شریعت محمدی میں :۔ یہاں ایک بنیادی بات یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی حکم جو تورات میں یہود کو دیا گیا ہو اور قرآن اس کو یوں بیان کرے کہ اس میں کسی ترمیم و تنسیخ کا ذکر نہ کرے اور نہ ہی آپ نے نکیر فرمائی ہو تو وہ حکم بعینہ ہو تو وہ حکم مسلمانوں کے لیے بھی قابل عمل ہوگا اگرچہ قرآن اسے مسلمانوں کے لیے الگ سے بیان کرے یا نہ کرے اس کی ایک مثال تو یہی آیت ہے اور دوسری مثال رجم کا حکم ہے اور اس آیت میں قصاص کی جو صورت بیان ہوئی ہے احادیث اسی کی تائید و تشریح کرتی ہیں چناچہ درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے…
Read the full tafseer →166 ۔ (قتل عمد یا دانستہ ضرب رسانی کی صورت میں) (آیت) ” علیھم “۔ ضمیر یہود کی طرف ہے۔ ذکر انہی کا برابر چل رہا ہے، اور یہ بجائے خود ایک دلیل اس امر کی ہے کہ (آیت) ” من لم یحکم بما انز ل اللہ “۔ کا تعلق بھی یہود ہی سے ہے۔ (آیت) ” فیھا “۔ ضمیر متفقہ طور پر توریت کی جانب ہے۔ (آیت) ” وکتبنا “۔ سے اس کی صراحت ہوگئی کہ توریت کی تعزیرات اللہ ہی کی مقرر کی ہوئی ہیں ،۔
167 ۔ موجودہ توریت میں اتنے تحریفی انقلابات کے بعد بھی یہ حکم ان الفاظ میں موجود رہ گیا ہے :۔ ” اگر وہ اس صدمہ سے ہلاک ہوجائے تو تو جان کے بدلہ میں جان لے اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ، دانت کے بدلہ دانت۔ اور ہاتھ کے بدلہ میں ہاتھ پاؤں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
وَکتبنا عَلَیھم فیہا اَن النفس بالفس (الآیۃ) سابقہ آیت میں یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں آیت رجم کا انکار کیا تھا، اس آیت میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے حکم کے مطابق ان پر قصاص فرض تھا، لیکن یہود کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا، اور اپنی طرف سے حکم الہیٰ کے بر خلاف ایک اور دستور گھڑ لیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل : مدینہ کے گردو نواح میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، بنو قریظہ کے ہاتھوں اگر بنو نضیر کے کسی شخص کا قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا، اور دیت بھی اور اگر بنو قریظہ کا کوئی بنو نضیر کے ہاتھوں مارا…
Read the full tafseer →وکتبنا علیہم فیہا اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل پر فرض کردیا تھا۔
ان النفس بالنفس کہ جان کے بدلے جان یعنی قاتل آزاد ہو یا غلام۔ مرد ہو یا عورت۔ مسلمان ہو یا ذمی۔
مقتول کے بدلہ میں اس کو قتل کیا جائے۔ ہماری شریعت میں اس مسئلہ کی تحقیق سورة بقرہ کی آیت الحر بالحر کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
والعین بالعین اور آنکھ آنکھ کے عوض پھوڑی جائے۔
والانف بالانف اور ناک ناک کے بدلہ میں کاٹی جائے۔
والاذن بالاذن اور کان کان کے عوض کاٹا جائے۔
والسن بالسن اور دانت دانت کے عوض اکھاڑا جائے۔
والجروح قصاص اور (خاص) زخموں کا یہی بدلہ ہے۔ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔
لفظ قصاص چونکہ اپنے اندر مثلیت کا مفہوم رکھتا ہے…
Read the full tafseer →(45) اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل پر یہ چیز فرض کی تھی، اگر کوئی شخص کسی کو دانستا ناحق قتل کردے یا دانستا ناحق آنکھ پھوڑ دے یا ناحق دانستا ناک کاٹ دے یا ناحق دانستا کان کاٹ دے یا ناحق دانستا دانت توڑدے تو سب کا قصاص ہوگا اسی طرح دوسرے زخموں میں حکومت عدل ہے۔
پھر جو شخص زخمی کرنے والے کو معاف کردے تو یہ زخم یا زخمی کرنے والے کا کفارہ ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : اس آیت میں بھی یہود کو ڈانٹ ہے، یعنی انھوں نے جس طرح رجم (سنگ ساری) کے حکم کو تبدیل کردیا تھا اسی طرح ان پر نفوس (جانوں) اور جروح (زخموں) میں برابری رکھی گئی تھی، جو اب بھی تورات کی کتاب خروج، باب (21) فقرہ (23۔ 25) میں موجود ہے، مگر انھوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہودی قبائل میں سے بنو نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے، اس لیے یہودی بنو نضیر کا قصاص تو بنو قریظہ سے لے لیتے لیکن بنو قریظہ کا قصاص بنو نضیر سے نہیں لیتے تھے، بلکہ ان کے مقتول کی دیت ادا کردیتے۔ (ابن جریر) ”ھدایۃ المستنیر“ کے مصنف نے اسے حسن قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت نمبر : 45۔
اس آیت میں تیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکتبنا فیھا ان النفس بالنفس “۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے تورات میں نفسوں کے درمیان برابری کی ہے، پس یہود نے اس کی مخالفت کی اور گمراہ ہوئے، نضیری کی دیت زیادہ کردی تھی اور نضیری کو، قرظی کے بدلے میں قتل نہیں کیا جاتا تھا اور قرظی کو نضیری کے بدلے قتل کیا جاتا، جب اسلام آیا تو اس مسئلہ میں بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ سے رجوع کیا آپ نے برابری کا حکم فرمایا، بنونضیر نے کہا : آپ نے ہمارا مرتبہ کم کردیا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
(آیت) ” وکتبنا “ کا معنی ہے ہم نے فرض کیا، یہ پہلے گزر چکا ہے ان کی شریعت…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب بنو قریظہ نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے رجم کا حکم فرمایا ہے اور وہ اس کو اپنی کتاب میں چھپاتے تھے تو قریظہ اٹھ کھڑے ہوئی اور کہنے لگے اے محمد ﷺ ہمارے اور ہمارے بھائی بنو بضیر کے درمیان فیصلہ کیجئے اور ان کے درمیان ایک قتل کا جھگڑا چل رہا تھا۔ نبی ﷺ کے آنے سے پہلے۔ اور بنو نضیر بنو قریظہ کو اپنی دیتوں سے آدھی دیت دیتے تھے۔ آپ نے فرمایا بنو قریظہ کا جواب بنو نضیر کے خون کے برابر ہے۔ تو بنو نضیر والے غصہ ہوگئے اور کہنے لگے رجم کے بارے میں ہم آپ کی اطاعت نہیں کرتے۔ اور ہم اپنی حدود کو جاری کریں گے جس پر ہم ہیں۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت…
Read the full tafseer →[ وَكَتَبْنَا؛اور ہم نے لکھا ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ فِيْهَآ : اس میں ] [ اَنَّ : کہ ] [ النَّفْسَ : جان (کا بدلہ ہے )] [ بِالنَّفْسِ ۙ: جان سے ] [ وَالْعَيْنَ : اور آنکھ (کا بدلہ ہے )] [ بِالْعَيْنِ : آنکھ سے ] [ وَالْاَنْفَ؛اور ناک (کا بدلہ ہے ] [ بِالْاَنْفِ : ناک ہے ] [ وَالْاُذُنَ؛اور کان (کا بدلہ ہے )] [ بِالْاُذُنِ؛کان سے ] [ وَالسِّنَّ : اور دانت (کا بدلہ ہے )] [ بِالسِّنِّ ۙ: دانت سے ] [ وَالْجُرُوْحَ؛اور زخموں ) (کا بھی )] [ قِصَاصٌ ۭ: بدلہ ہے ] [ فَمَنْ؛تو جس نے ] [ تَصَدَّقَ بِهٖ؛اپنا حق چھوڑا ] [ فَهُوَ : تو یہ ] [ كَفَّارَةٌ: کفارہ ہے (گناہوں کا )] [ لَّهٗ ۭ: اس کے لیے ] […
Read the full tafseer →قصاص کے احکام :
اس کے بعد قصاص فی النفس اور قصاص فی الاعضاء کا حکم بیان فرمایا، توریت شریف میں جو قصاص کے احکام تھے عملی طور پر یہود نے ان کو بھی بدل دیا تھا، مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے تھے ایک قبیلہ بنی نضیر اور دوسرا بنی قریظہ تھا ان میں آپس میں لڑائی جھگڑا اور مار کاٹ کی واردتیں ہوتی رہتی تھی، بنی نضیر اپنے کو اشرف اور اعلیٰ سمجھتے تھے جب کوئی شخص بنی نضیر میں سے بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تھا تو اسے قصاص میں قتل نہیں ہونے دیتے تھے اور اس کی دیت میں ستر و سق کھجوریں بھی دے دیتے تھے اور جب کوئی شخص بنی قریظہ میں سے بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تھا تو قاتل کو قصاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ذکر خیانت یہود دربارہ حکم قصاص۔
قال تعالی، اناانزلنا التورۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فاو لئک ھم الظالمون۔
ربط) گذشتہ آیات میں حکم زنا میں یہود کی خیانت کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہودیوں کی حکم قصاص میں خیانت کا ذکر ہے اور مطلب یہ ہے کہ توریت اللہ کی اتاری ہوئی کتاب تھی جو سراپا نور اور ہدایت تھی اور تمام انبیاء اور علماء اس کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے اسی توریت میں قصاص کا بھی حکم دیا گیا تھا مگر یہود نے جس طرح حکم رجم کو بدل ڈالا اسی طرح قصاص کے حکم میں بھی تحریف کر ڈالی مدینہ منورہ میں یہود کے دو گروہ تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر چونکہ بنی نضیر غالب تھے اس لیے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بنی قریظہ پر فضیلت دے…
Read the full tafseer →82 یہ تورات میں قصاص کے حکم کا ذکر ہے۔ یعنی ہم نے تورات میں یہود پر قصاص نفس اور قصاص اطراف اور قصاص جروح کو فرض قرار دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ مقتول کے بدلے قاتل کو قتل کیا جائے اور اگر کوئی شخص دوسرے شخص کا عضو کاٹ ڈالے تو اس کا بھی وہ عضو کاٹا جائے اور اگر کوئی کسی کو زخمی کردے تو اسے بھی زخمی کیا جائے مگر انہوں ان حدود کو قائم نہ کیا اور امیر و غریب اور شریف و خسیس کا امتیاز قائم کردیا۔ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ اصل میں ذات قصاص تھا مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ فَمَنْ تَصَدَّقَ الخ جس نے اپنا قصاص معاف کردیا وہ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔
83 یہاں ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ‘ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اللہ کے نبی اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ‘ مگر اس میں بنی اسرائیل نے گڑ بڑ پید ا کردی وہ تورات پر عمل نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ اس میں انہوں نے لفظی اور معنوی اور دو طرح سے تحریف کردی۔ الفاظ کو بھی تبدیل کردیا اور معانی بھی الٹ پلٹ کردیے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اللہ کی نازل کردہ تورات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ‘ وہ کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام شریعت پر عدم اعتقاد اور اس کی تصدیق کفر کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کتاب اللہ کی تصدیق کرنے کے بعد اس…
Read the full tafseer →وَكَتَبْنَا عَلَيْہِمْ فِيْہَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ 0ۙ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ 0ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ 0ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَہُوَكَفَّارَۃٌ لَّہٗ 0ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ 45
كتب ( فرض)
ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1 ؎ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء بنی اسرائیل گزرے ہیں سلیمان ‘ داؤد ‘ الیاس ‘ الیسع ‘ عزیر ‘ لخمیا ‘ زکریا یحییٰ سب توریت کے پابند تھے جب بخت نصر وغیرہ کی حوادث میں توریت جاتی رہی تو ان ہی بزرگوں نے جو کچھ مل سکا بہم پہنچا کر اس کے احکام کو منضبط کیا یہ اس معنی سے اس کے امانت دار اور محافظ تھے اور ان کے سوا یہود کے ربی یعنی مشائخ تارک دنیا اور احباء علماء بھی اسی کی تعمیل کرتے تھے جس کو یہود نے یوں پس پشت ڈال دیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ لا وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ لا وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمْ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (المائدہ : 45)
” اور ہم نے ان پر فرض کیا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے تو جس نے اس کو معاف کردیا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں گے تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، یہاں تورات میں جو حدود و قصاص کے احکامات کی تفصیل بیان فرمائی ہے انجیل کا اس لیے ذکر نہیں کہ انجیل تورات ہی کا تتمّہ ہے۔
پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جن احکامات کا تورات میں ذکر ہے اگر وہ قرآن مجید میں من و عن یا ان کا جو حصہ قرآن مجید میں بطور نفاذ ذکر کیا گیا ہو تو اس پر عمل کرنا لازم ہے۔ یہاں تو رات اور قرآن مجید کی متفق علیہ حدود کا ذکر کرنے سے پہلے نصیحت کی گئی کہ لوگوں سے ڈرنے کی بجائے صرف اللہ سے ڈرا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو دنیاوی مفادات کے لالچ میں آکر ہرگز نہ چھوڑو کیونکہ ان کا نفاذ اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض قرار دیا ہے۔
”…
Read the full tafseer →یہود میں قصاص کی اصل نوعیت :
آیت 45 : وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَآ (ہم نے یہود پر فرض کردیا جو حکم تورات میں تھا) اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ (بیشک نفس قابل مواخذہ ہوگا۔ نفس مقتولہ کے بدلے میں) جو کہ اس نے ناحق قتل کیا ہو۔ وَ الْعَیْنَ (پھوڑی ہوئی آنکھ) بِالْعَیْنِ (بدلے آنکھ کے) وَالْاَنْفَ (ناک کٹا ہوا) بِالْاَنْفِ (بدلے ناک کے) وَالْاُذُنَ (کان کٹا ہوا) بِالْاُذُنِ (بدلے کان کے) وَ السِّنَّ (دانت اکھاڑا ہوا) بِالسِّنِّ (بدلے دانت کے) وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ (زخموں کا بدلہ جو قصاص والے ہوں) ورنہ حکومت عدل ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ مرد کو عورت کے بدلے میں قتل نہ کرتے تھے پس یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 45
تفسیر : (وکتبنا علیھم فیھا اور لکھ دیا ہم نے ان پر اس کتاب میں ) یعنی بنی اسرائیل پر تورات میں ہم نے یہ حکم واجب کیا (ان النفس بالنفس کہ جانے کے بدلے جان) یعنی مقتول کی جان کے بدلے میں قاتل کی جان لی جائے گی (والعین بالعین اور آنکھ کے بدلے آنکھ) پھوڑی جائے گی (والانف بالانف اور ناک کے بدلے ناک) کاٹی جائے گیا (والاذن بالاذن اور کان کے بدلے کان) کاٹا جائے گا۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تورات کے احکام کی خبر دی کہ وہ یہ تھا کہ ایک جان کے بدلے ایک جان لی جائے گی تو ان یہود کو کیا ہوگیا ہے کہ اس حکم کی کھلی مخالفت کرکے ایک جان کے بدلے دو جانیں لیتے ہیں او ایک آنکھ کے…
Read the full tafseer →اوپر یہود کی اس کارستانی کا بیان تھا کہ انہوں نے تورات میں سنگساری کی آیت کا انکار کیا ان آیتوں میں ان کی دوسری کارستانی کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات کے موافق ان پر قصاص فرض ہے لیکن ان کے بعض قبیلوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا تھا اور اپنی طرف سے حکم الٰہی کے مخالف ایک دستور قرار دے رکھا ہے۔ سورة بقرہ میں اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے کہ مدینہ منورہ کے گرونواح میں یہود کے دو قبیلے تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر ان میں سے بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ میں کے کسی آدمی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو اس کا قصاص لیا جاتا تھا اور اگر بنی قریظہ میں کا کوئی آدمی بنی نضیر کے کسی آدمی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو قصاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت 45
یہ احکامات، تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیوں اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کردیا جائے۔
آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ (والجروح قصاص) ” اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے “ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
قول باری ہے وکتبنا علیھم فیھا ان النفس بالنفس والعین و الانف بالانف ، تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک تا آخر آیت ۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں یہودیوں پر جان اور آیت میں مذکورہ اعضا کا قصاص لکھ دیا تھا۔ امام ابو یوسف نے ظاہر آیت سے جان کے سلسلے میں عورت اور مرد کے درمیان قصاص کے ایجاب پر استدلا ل کیا ہے۔
اس لیے کہ ارشاد باری ہے الفنس بالنفس یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابو یوسف کا مسلک یہ تھا کہ ہم سے پہلے انبیا (علیہم السلام) کی شریعتوں کا حکم جاری اور نافذ رہے گا یہاں تک کہ اس کی تنسیخ کا حکم حضور…
Read the full tafseer →119 حقِّ قصاص کو معاف کرنے کی ترغیب :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی صدقہ کردے اس [ حق قصاص ] کا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوجائے گا یعنی وہ صدقہ کر دے اپنے اس حق کا جو کہ قصاص کے سلسلے میں اس کو حاصل ہے۔ اور معاف کرنے کے اس عمل کو صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمانا اس کے لئے ترغیب وتحریض کے لئے ہے۔ (محاسن و معارف وغیرہ) ۔ سو حقِّ قصاص کو معاف کرنا معاف کرنے والے کے گناہوں کیلئے کفارہ ہوجائے گا۔ چناچہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی کے جسم میں کوئی زخم آیا اور اس نے اس کا صدقہ کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے لیے اسی کے برابر گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔ سو اس میں…
Read the full tafseer →تورات کے احکامات
تشریح : آیت 44 سے سورة مائدہ کا ساتواں رکوع شروع ہوچکا ہے۔ اس رکوع میں رب العالمین یہود کو مخاطب کر کے ان کو ان کی بدعہدی اور نافرمانی کا احساس دلاتے ہیں اور کتاب پر عمل نہ کرنے والوں کو کافر اور ظالم قرار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔
اسرار و معارف :
ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…
Read the full tafseer →ف 5 اس آیت میں بھی یہود کی توبیخ ہے یعنی انہوں نے جس طرح رجم (سنگساری) کے حکم کے تبدیل کرندیا تھا اسی طرح ان پر نفوس اور جر دح میں برابر رکھی گئی تھی جواب بھی تورات کی کتاب خروج باب 21 آیت 23 ۔ 25 میں موجود ہے مگر انہوں نے اس کو تبدیل کر کے معطل کر ڈالا اور عملا اس کی خلاف ورزی کر کے ظالم بن گئے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں یہو دی قبائل میں سئے بنی نضیر طاقتور اور بنو قریظہ کمزور تھے اس لیے یہوی بنو نضیر کا قصاص بنونضیر سے نہ لیتے تھے۔ (ابن کثیر۔ کبیر) اس آیت کے مشمولات کے حجت ہونے پر ا اجماع ہے پس عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا چناچہ آنحضرت ﷺ ن عمر و بن حزم کو جو کتاب لکھ کر بھیجی اس میں یہ حکم…
Read the full tafseer →(5:45) فیہا میں ھا ضمیر بما انزل اللہ کی طرف راجع ہے جس سے مراد تورات ہے۔ بالجروح۔ جروح کی جمع ۔ زخم۔
قصاص۔ بدلہ۔ ہر چوٹ کا بدلہ ویسی ہی چوٹ۔ قتل کا بدلہ قتل۔ عضو کا بدلہ عضو۔
تصدق۔ اس نے خیرات کی۔ اس نے بخش دیا۔ ماضی معروف (تفعل) واحد مذکر غائب ان اللہ یجزی المتصدقین (12:88) خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔ وان تصدقوا خیر لکم (2:28) اور اگر (نہ قرض) بخش دو تو تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے۔
کفارۃ۔ گناہ کا شرعی اتار۔ الکفارۃ جو چیز گناہ کو دور کر دے اور اسے ڈھانپ دے اسے کفارہ کہا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم (5:89) یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسمیں کھالو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
آیت نمبر 44 تا 47
لغات القرآن : لاتشتروا (تم نہ بیچو۔ فروخت نہ کرو) ۔ لم یحکم (فیصلہ نہ کیا) ۔ العین (آنکھ) ۔ الانف (ناک) ۔ الاذن (کان) ۔ السن (دانت) ۔ الجروح (جرح) ۔ زخم۔ قصاص (برابری) ۔ تصدق (تصدیق) ۔ صدقہ کر دے قصور معاف کر دے) ۔ کفارۃ (کفارہ۔ اتارنا) ۔ قفینا (ہم نے ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا) ۔ اثار (اثر) ۔ نشان۔ قدم) ۔ مصدق (تصدق کرنے والا۔ سچا بتانے والا) ۔ بین یدی (دونوں ہاتھوں کے درمیان۔ سامنے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے اور پھر نصاری یعنی عیسائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توریت جیسی…
Read the full tafseer →ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو ناحق قتل کیا تو اس کی جان مقتول کے بدلے میں لی جاوے گی۔ خواہ وہ مقتول مرد ہو یا عورت۔ آزاد ہو یا غلام۔ حضرت ابن عباس ؓ اسے روایت ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہ کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جو قاتل اپنے جرم سے نادم ہوکر وبال معصیت سے بچنے کے لئے بخوشی اپنے اوپر حکم شرعی جاری کرائے، تو قصاص اس کے جرم کا کفارہ ہوجائے گا، اور آخرت میں اس پر عذاب نہ ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان کئے کہ جو صاحب حق قصاص کو معاف کردے تو یہ معانی اس کے لئے کفارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ظلم و زیادتی کی معافی پر اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو بڑا درجہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[37] تورات میں زانی کے لئے سنگسار کرنے کا اور قاتل کے لئے قتل کئے جانے کا حکم ہے۔ لیکن جب کسی بڑے آدمی سے یہ جرائم سرزد ہوتے تو یہودیوں کے دنیا پرست علماء اسے سزا سے بچانے کے لئے طرح طرح کے شرعی حیلے نکالتے۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کے عہد میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا یہود نے خیال کیا کہ آپ کو تورات کے احکام کی خبر نہیں پس بہتر ہے کہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کردیا جائے تاکہ مجرم سزا سے بچ جائے اور ذمہ داری بھی ہمارے سر نہ پڑے۔ چناچہ جب معاملہ آپ کے سامنے پیش ہوا تو وحی الٰہی نے آپ کو مطلع کردیا۔ آپ نے تورات کے حکم کا ان سے اقرار کرایا اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہود میں قتل کا قصاص واجب ہے اور اس میں بڑے چھوٹے کی کوئی تخصیص نہیں اور یہودی اس لحاظ سے سخت مجرم ہیں کہ وہ حدود تعزیرات میں تحریف سے کام لیتے ہیں ۔
حل لغات :
الانف : ناک ۔
الاذن : کان ۔
السن : دانت ۔
الجروح : جمع جرح ۔ بمعنی زخم ۔
Read the full tafseer →ف 1 اور ہم نے یہود پر توریت میں یہ بات فرض کردی تھی اور حکم لکھ دیا تھا کہ اگر کوئی کسی کو ناحق قصداً قتل کر دے تو جان کے بدلے میں جا ن ہوگی یعنی مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کیا جائے گا اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے پھر جو شخص اس بدلے اور قصاص کو معاف کر دے تو یہ تصدق اور معاف کردینا اس معاف کرنے والے کے لئے کفارہ گناہ اور موجب اجر وثواب ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احاکم کے موافق حکم نہ کریں تو یہی لوگ ظالم اور ناانصاف ہیں۔ (تیسیر)
چونکہ اوپر کی آیت میں یہود کی تحریفات کا ذکر تھا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 1۔ یعنی معاف کرنا موجب ثواب ہے۔
2۔ مسائل : (ا) قصاص اس قتل یا جرم میں ہے جو حق ہو ورنہ حق پر قتل کرنا درست ہے اور عمدا ہو کیونکہ خطا میں دیت ہے۔ (2) النفس بالنفس میں آزاد اور غلام اور مسلمان اور کافر ذمی اور مرد اور عورت اور کبیر اور صغیر اور شریف اور رذیل اور بادشاہ اور رعیت سب داخل ہیں البتہ خود اپنے مملوک گلام اور اپنی اولاد کے قصاص میں نہ مارا جانا اجماع و حدیث سے ثابت ہے۔ (3) قتل میں دلی مقتول کو اور باقی صورتوں میں خود مقطوع ومجروح کو معاف کرنے کا حق حاصل ہے۔
Read the full tafseer →تورات کے وہ احکام جن کی حفاظت قرآن کریم نے اپنے ذمہ لے لی :
136: زیر نظر آیت 45 کے احکام وہ احکام ہیں جن کو بیان فرما کر قرآن کریم نے ان کو اپنے اندر محفوظ کرلیا ہے اور اپنے ماننے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان احکام کو حکومت اسلامی میں قانوناً نافذ کریں اور یہ وضاحت بھی فرمادی کہ یہی وہ احکام ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کئے گئے تھے لیکن یہود نے ان احکام کو چھوڑ کر غیر شرعی احکام کو شرعی قرار دے لیا اور انسانی قانون کو الٰہی قانون کہہ کر چلایا۔ مسلمانوں کو بتا دیا کہ مقتدایان یہود کا اصلی اور سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ اپنے گھڑے ہوئے قانون و مسائل کو خدائی قوانین ومسائل کہہ کر چلاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
In the second verse after that (45), there is a description of the injunctions of Qisas (Even Retaliation) with a particular reference stressing that ` We had revealed these injunctions in the Torah.' The words of the text are:
وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ
` We had revealed in the Torah this injunction of Qisas for the Jews that there will be life for life, eye for eye, nose for nose, ear for ear, tooth for tooth; and for wounds an equal…
Read the full tafseer →74. Cf. Exodus 21: 23-5.
75. Whoever forgoes his right of retaliation does a good deed which will atone for many of his sins. The same is confirmed by a tradition of the Prophet (peace be on him) in which he said: 'Whoever receives an injury on his body, then pardons (the inflictor of the injury), his sins are atoned for to the measure of his pardoning.' (Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 5, pp. 316, 329 - Ed.)
Read the full tafseer →