Explained with ayahs 41–44
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 72
یہاں ضمناً اس حقیقت پر بھی متنبہ کردیا گیا کہ انبیاء سب کے سب ”مسلم“ تھے، بخلاف اس کے یہ یہودی ”اسلام“ سے ہٹ کر اور فرقہ بندی میں مبتلا ہو کر صرف ”یہودی“ بن کر رہ گئے تھے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 73
ربانی = علماء۔ احبار = فقہاء
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربطیہ سورة مائدہ کا ساتواں رکوع ہے اس میں حق تعالیٰ نے یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو یکجائی طور پر ایک اہم اور خاص حکم شرع پر متنبہ فرمایا ہے، جس کا ذکر سورة مائدہ میں متفرق طور پر اوپر سے چلا آیا ہے، اور وہ معاملہ ہے اللہ جل شانہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کا اور اس کے بھیجے ہوئے احکام میں تغیر وتبدل اور تحریف و تاویل کا جو یہود و نصاریٰ کی دائمہ خصلت و عادت بن گیا تھا۔
اس رکوع میں حق تعالیٰ نے اول اہل تورات یہود کو مخاطب فرما کر ان کو اس کج روی اور اس کے انجام بد پر ابتدائی دو آیتوں میں متنبہ فرمایا، اور اس کے ضمن میں قصاص کے متعلق بعض احکام بھی اس مناسبت سے ذکر فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
تفسیر آیات 44۔ 45۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ…
Read the full tafseer →44۔ 1 (لِلَّذیْنَ ھَادوْ ا) اس کا تعلق یَحُکْمُ سے ہے۔ یعنی یہودیوں سے متعلق فیصلے کرتے تھے۔
44۔ 2 اَ سْلَمُوْا یہ نبِیِّنّّ کی صفت بیان کی گئی ہے کہ سارے انبیاء دین اسلام ہی کے پیروکار تھے جس کی طرف محمد دعوت دے رہے ہیں۔ یعنی تمام پغمبروں کا دین ایک ہی رہا ہے۔ اسلام جس کی بنیادی دعوت یہ تھی کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ ہر نبی نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہی دعوت توحید و اخلاص پیش کی۔ (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21:25 ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے، سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
38: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑلیتے ہیں اور یہ بھی کہ حضور اقدس ﷺ سے فیصلے کی درخواست کرنے کے باجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑلیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔
اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے…
Read the full tafseer →8 یعنی وصول الی اللہ کے طالبین کے لئے ہدایت کا اور شبہات و مشکلات کی ظلمت میں پھنس جانے والوں کے لئے روشنی کا کام دیتی ہے۔
1 یعنی تورات میں ایسا عظیم الشان دستور العمل اور عین ہدایت تھا کہ کثیر التعداد پیغمبر اور اہل اللہ اور علماء برابر اسی کے موافق حکم دیتے اور نزاعات کے فیصلے کرتے رہے۔
2 یعنی تورات کی حفاظت کا ان کو ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ قرآن کریم کی طرح " انا لہ لحافظون " کا وعدہ نہیں ہوا۔ تو جب تک علماء واحبار نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا، " تورات " محفوظ و معمول رہی۔ آخر دنیا پرست علمائے سوء کے ہاتھوں سے تحریف ہو کر ضائع ہوئی۔
3 یعنی لوگوں کے خوف یا دنیاوی طمع کی وجہ سے آسمانی کتاب…
Read the full tafseer →سورة المائدۃ کا یہ ساتواں رکوع حسن اتفاق سے سات ہی آیات پر مشتمل ہے۔ اس میں بہت سخت تہدید ‘ تنبیہہ اور دھمکی ہے ان لوگوں کے لیے جو کسی آسمانی شریعت پر ایمان کے دعوے دار ہوں اور پھر اس کے بجائے کسی اور قانوں کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہوں۔ قرآن حکیم کی طویل سورتوں میں کہیں کہیں تین تین آیتوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ ملتے ہیں جو معانی و مفہوم کے لحاظ سے بہت جامع ہوتے ہیں ‘ جیسا کہ سورة آل عمران کی آیات 102 ‘ 103 اور 104 ہیں۔ ابھی سورة المائدۃ میں بھی تین آیات پر مشتمل نہایت جامع احکامات کا حامل ایک مقام آئے گا۔ اسی طرح کہیں کہیں سات سات آیات کا مجموعہ بھی ملتا ہے۔ جیسے سورة البقرۃ کے پانچویں رکوع…
Read the full tafseer →80 یہودی مذہب الہامی نہیں :۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہودی مذہب کوئی الہامی مذہب نہیں۔ نہ ہی کتاب اللہ میں انہیں یہودی بننے کو کہا گیا تھا بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عقائد و اعمال میں بہت کچھ شامل کرلیا تھا اور اپنے آپ کو یہودی کہلانے لگے تھے اور اللہ نے جو کتاب تورات نازل کی تھی وہ ایک ایسا دستور العمل تھا جس کے مطابق تمام مسلمان (فرمانبردار) انبیاء خود بھی عمل پیرا تھے اور ان یہودیوں کے تنازعات کے فیصلے بھی اسی کتاب اللہ کے مطابق کیا کرتے تھے اور ان کے متقی علماء و مشائخ کا بھی یہی حال تھا کہ وہ اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ کی…
Read the full tafseer →159 ۔ (آیت) ” ھدی “۔ یعنی عقائد ومسائل سے متعلق ہدایات و احکام تھے۔ (آیت) ” نور “۔ یعنی وضوح تھا احکام عملی سے متعلق۔ توریہ پر حاشیہ سورة آل عمران کے شروع میں گزر چکا۔ (آیت) ” انا انزلنا التورۃ “۔ اس میں رد آگیا یہود کے موجودہ عقیدہ کا کہ توریت، صاحب الہام انبیاء کی مرتب کی ہوئی ایک انسانی کتاب ہے۔ توریت اسلامی عقیدہ کے مطابق، خدا کے ہاں سے نازل شدہ کتاب ہے۔
160 ۔ مقصود توریت کی اہمیت وشرف کا اظہار ہے۔ یہ وہ کتاب الہی ہے جو پچھلی صدیوں میں معیار حق وعدل رہا کی ہے۔ علماء ومشائخ وانبیاء بنی اسرائیل کیلیے۔ (آیت) ” النبیون الذین اسلموا “۔ یہود کی اصطلاح میں ” نبوت “ اسلامی نبوت سے بالکل الگ ایک…
Read the full tafseer →آیت 44 تا 50
ترجمہ : ہم نے تورات نازل کی جس میں گمراہی سے ہدایت اور روشنی تھی (یعنی) احکام کا بیان تھا، بنی اسرائیل کے تمام انبیاء جو کہ
مسلمان اللہ کے تابع فرمان تھے، یہودیوں کیلئے اسی کے ذریعہ فیصلہ کرتے تھے اور ان کے علماء اور فقہاء بھی (اسی کے ذریعہ فیصلے کرتے تھے) اس سبب سے کہ ان کو اللہ نے اس کا محافظ بنایا تھا یعنی ان کو اس پر امین بنایا تھا بایں طور کہ ان سے کتاب اللہ کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا، اس میں ردوبدل کرنے سے، اور وہ اس کے برحق ہونے پر شاہد تھے، پس اے یہود تم محمد ﷺ کی ان صفات کے اور رجم وغیرہ کے اظہار کے بارے میں جو تمہارے پاس ہیں لوگوں سے مت ڈرو (بلکہ) ان کے چھپانے کے بارے…
Read the full tafseer →انا انزلنا التوراۃ فیہا ہدی ونور ہم نے توریت نازل کی ہے جس کے اندر ہدایت اور نور ہے۔
اس سے اللہ کے احکام معلوم ہوجاتے ہیں اور اگر دل سخت نہ پڑگئے ہیں تو ان میں روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔
یحکم بہا النبیون اس کے ذریعہ سے انبیاء فیصلے کرتے تھے۔ یعنی موسیٰ اور موسیٰ کے بعد والے انبیاء جن میں سب سے آخری نبی محمد ﷺ ہیں۔ رجم کا فیصلہ کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ حسن اور سدی نے کہا النبیون سے مراد رسول اللہ ﷺ : کی ذات ہے۔ آپ نے سنگسار کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا (کسی جماعت کے سردار کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کرلیا جاتا ہے) اس جگہ بھی صیغۂ جمع اسی طرح آیا ہے جس طرح آیت اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ…
Read the full tafseer →(44) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ پر توریت نازل کی تھی، جس میں رجم کا بیان تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار انبیاء کرام اسی کے مطابق حکم دیا کرتے تھے۔
اور وہ تقریبا ایک ہزار نبی آئے ہیں، اسی طرح اہل اللہ بھی اور علماء بھی توریت کے مطابق حکم دیا کرتے تھے اور وہ پارسا بھی جو گرجاؤں میں رہتے تھے، کیونکہ اس کتاب اللہ پر عمل کرنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لہذا آیت رجم اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت چھپانے میں مجھ سے ڈریں، اور آپ کی نعت وصفت اور آیت رجم کو چھپا کر کھانے کی معمولی چیز مت لو اور توریت میں حضور کی نعت وصفت اور آیت رجم کرو…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ۔۔ : اس میں یہود کو تنبیہ ہے جو حد رجم (سنگ ساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے اسلاف، انبیاء، احبار اور علمائے ربانیین کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں بھی موسیٰ ؑ کے بعد عیسیٰ ؑ تک بہت سے پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے اور ان کے درمیان اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ خود عیسیٰ ؑ کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی، بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ ”الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا“ یہ صفت مدح…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 44۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور “۔ یعنی بیان اور روشنی اور تعریف کہ حضرت محمد ﷺ حق ہیں ھدی محل رفع میں ہے مبتدا کی حیثیت سے اور (آیت) ” نور “ اس پر معطوط ہے (آیت) ” یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا “۔ بعض علماء نے فرمایا (آیت) ” النبیون “۔ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں آپ کو جمع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (1) (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 214)
بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ہر وہ نبی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تو رات کی اقامت کے ساتھ مبعوث کیا گیا تھا یہود نے کہا : انبیاء یہود تھے، نصاری نے کہا : انبیاء نصاری تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کا…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یعنی ہدایت سے گمراہی سے اور روشنی ہے اندھے پن سے۔ لفظ آیت یحکم بھا النبیون وہ فیصلہ کرتے رہے ان حکموں کے ساتھ جو تورات میں ہیں موسیٰ سے عیسیٰ تک لفظ آیت للذین ھادوا جو ان کے حق میں تھے ان کے خلاف تھے۔ پھر فرمایا صوفیا علماء بھی فیصلہ کرتے رہے۔ لفظ آیت والربنیون والحبار یعنی تورات کے ساتھ لفظ آیت بما استحفظوا من کتب اللہ وہ فیصلہ رجم کا تھا اور محمد ﷺ پر ایمان لانے کا تھا۔ لفظ آیت وکانوا علیہ شھداء فلا تخشوا الناس اور وہ اس پر گواہ تھے محمد ﷺ کے معاملہ میں پھر فرمایا کہ تم محمد ﷺ اور رجم…
Read the full tafseer →[ اِنَّآ : بیشک ہم نے ] [ اَنْزَلْنَا : نازل کیا ] [ التَّوْرٰىةَ : تورات کو ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ هُدًى: ہدایت ہے ] [ وَّنُوْرٌ ۚ: اور نور ہے ] [ يَحْكُمُ : فیصلہ کیا کرتے تھے ] [ بِهَا؛اس سے ] [ النَّبِيُّوْنَ : انبیاء کرام ] [ الَّذِيْنَ : جنھوں نے ] [ اَسْلَمُوْا؛تابعداری کی ] [ لِلَّذِيْنَ؛ان کے لیے جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ : اور اللہ والے لوگ (بھی ) ] [ وَالْاَحْبَارُ : اور علماء (بھی)] [ بِمَا؛اس وجہ سے کہ ] [ اسْتُحْفِظُوْا : وہ محافظ بنائے گئے ] [ مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ؛اللہ کی کتاب میں سے ] [ وَكَانُوْا؛اور وہ لوگ تھے ] [ عَلَيْهِ : اس پر ] [ شُهَدَاۗءَ :…
Read the full tafseer →توریت شریف میں ہدایت تھی اور نور تھا
ان آیات میں اول تو توریت شریف کی صفت بیان فرمائی کہ ہم نے توریت کو نازل کیا اس میں ہدایت تھی اور نور یعنی روشنی تھی جو حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر کرتی تھی۔
پھر فرمایا کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) اللہ کے فرماں بردار بندے تھے توریت کے ذریعے فیصلے فرماتے تھے انکے یہ فیصلے یہودیوں کے حالات اور معاملات سے متعلق تھے پھر النَّبِیُّوْنَ پر عطف فرمایا (وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ ) کہ ربانی اور احبار بھی توریت شریف کے ذریعہ حکم فرماتے تھے۔ ربانی رب کی طرف منسوب ہے یعنی رب والے لوگ جنہیں ہماری اصطلاح میں اللہ والے کہا جاتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ذکر خیانت یہود دربارہ حکم قصاص۔
قال تعالی، اناانزلنا التورۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فاو لئک ھم الظالمون۔
ربط) گذشتہ آیات میں حکم زنا میں یہود کی خیانت کا ذکر تھا اب ان آیات میں یہودیوں کی حکم قصاص میں خیانت کا ذکر ہے اور مطلب یہ ہے کہ توریت اللہ کی اتاری ہوئی کتاب تھی جو سراپا نور اور ہدایت تھی اور تمام انبیاء اور علماء اس کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے اسی توریت میں قصاص کا بھی حکم دیا گیا تھا مگر یہود نے جس طرح حکم رجم کو بدل ڈالا اسی طرح قصاص کے حکم میں بھی تحریف کر ڈالی مدینہ منورہ میں یہود کے دو گروہ تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر چونکہ بنی نضیر غالب تھے اس لیے کہ انہوں نے اپنے آپ کو بنی قریظہ پر فضیلت دے…
Read the full tafseer →78 اِنَّا اَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃ پہلے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ قسط اور حق کے مطابق فیصلے کریں جس سے مراد یہ تھی کہ آپ اللہ کے نازل کردہ قرآن کے مطابق فیصلے فرمائیں یہاں فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری جو سراپا ہدایت اور روشنی تھی تاکہ وہ اور ان کے بعد آنیوالے اسرائیلی اور احبارو رہبان اس پر عمل کرکے اس کے مطابق اپنے جھگڑے چکائیں۔ چناچہ تمام بنی اسرائیلی اور تمام سچے صوفی اور درویش اور تمام علماء صادقین جو بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد گذرے وہ تورات کے احکام پر عمل کرتے رہے کیونکہ اللہ کی کتاب تورات کی تعلیمات کی حفاظت اور ان کی ترویج کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی…
Read the full tafseer →ربط آیات
گذشتہ درس میں اہل کتاب کی ندمت کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ کیسے متفق ہو سکتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے اگر یہ تورات میں مذکور حکم الٰہی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ظاہر ہے۔ کہ یہ بددیانت ہیں۔ اور آپ کے پاس اپنا مقدمہ اس لیے لائے ہیں کہ یہ اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ معاملہ زنا کا تھا جس کی سزا موت ہزاروں تغیرات کے بعد بھی تورات میں موجود ہے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اگر آپ کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ہوگا تو مان لیں گے ‘ ورنہ نہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان…
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىۃَ فِيْہَا ہُدًى وَّنُوْرٌ 0ۚ يَحْكُمُ بِہَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِيْنَ ہَادُوْا وَالرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللہِ وَكَانُوْا عَلَيْہِ شُہَدَاۗءَ 0ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰـتِيْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا 0ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ 44
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1 ؎ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء بنی اسرائیل گزرے ہیں سلیمان ‘ داؤد ‘ الیاس ‘ الیسع ‘ عزیر ‘ لخمیا ‘ زکریا یحییٰ سب توریت کے پابند تھے جب بخت نصر وغیرہ کی حوادث میں توریت جاتی رہی تو ان ہی بزرگوں نے جو کچھ مل سکا بہم پہنچا کر اس کے احکام کو منضبط کیا یہ اس معنی سے اس کے امانت دار اور محافظ تھے اور ان کے سوا یہود کے ربی یعنی مشائخ تارک دنیا اور احباء علماء بھی اسی کی تعمیل کرتے تھے جس کو یہود نے یوں پس پشت ڈال دیا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ ج یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآئَ ج فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (المائدہ : 44)
” ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا ‘ فیصلہ کرتے تھے اسی تورات کے مطابق وہ نبی ‘ جو خود اس کے فرمانبردار تھے یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا اور اسی طرح علمائے حقانی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تورات کی تعلیمات کی مزید وضاحت۔ قانون کی بالادستی اور حدود اللہ کا نفاذ۔
حدود الٰہی کو دل و جان سے تسلیم کرنا مجرمانہ ذہنیت کے لیے ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب کسی معاشرے میں جرم سرزد ہوتا ہے تو وہ سخت نفرت کا اظہار اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جونہی کچھ عرصہ گزر جائے تو اکثریت کی ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ نہ صرف ختم ہوجاتی ہیں بلکہ مجرم کو سزا دینے کے وقت ان کو مجرم پر ترس آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے سورة نور آیت 2 میں حکم دیا کہ جب مجرموں کو سزا دی جائے تو مومنوں کو اس پر ترس نہیں آنا چاہیے۔ حدود کے نفاذ اور اس کی…
Read the full tafseer →تورات ہدایت ونور ہے :
آیت 44 : اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹۃَ فِیْہَا ہُدًی (ہم نے تورات نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی) ہُدًی یعنی حق کی طرف راہنما ہے وَّنُوْرٌ (اور روشنی تھی) وہ کھول کر بیان کرتی ہے مبہم احکامات کو۔ یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا (انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے حکم دیا کرتے تھے) اسلموا کا معنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی جو تورات میں تھی یہ النَّبِیُّوْنَ کی صفت ہے جو ان کی مدح و توصیف کے لئے لائی گئی ہے اور اس کو لا کر یہود پر تعریض کی گئی کیونکہ وہ ملت اسلامیہ سے بہت دور تھے۔ جو کہ تمام انبیاء ( علیہ السلام) کا دین ہے۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر 44
تفسیر :(انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بھا النبیون الذین اسلموا ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے ) یعنی اللہ کے حکم کو ماننے والے اور اس کی اطاعت کرنے والے تھے جیسا کہ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر دی (اذ قال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العالمین کہ جب ان کو ان کے ربنے کہا آپ مطیع ہوجائیں تو انہوں نے کہا میں مطیع ہوا جہان والوں کے رب کا) اور اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا (ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعاً و کرھا اور اسی کے فرمانبردار ہیں آسمان اور زمین والے خوشی اور ناپسندی سے) اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(42 ۔ 44) ۔ اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے حکم کے موافق پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لنک جس وقت آگے کی آیت { وَاِنْ اَحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ } (49) نازل ہوئی تو وہ پہلو تہی کی صورت منسوخ ہوگئی۔ اور بعضوں نے کہا کہ ناسخ اور منسوخ میں ایک حکم کا دوسرے حکم کے مخالف ہونا ایک ضروری شرط ہے ان دونوں میں یہ شرط موجود ہے۔ کس لئے کہ پہلی آیت میں فیصلہ کرنے اور پہلو تہی کرنے کی دونوں صورتیں بیان فرما کر دوسری آیت میں…
Read the full tafseer →آیت 44
رسول اللہ ﷺ مخلوق پے بےحد شفقت فرماتے تھے اس لئے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپ ﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہوجاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزہ نہ ہوا کریں، کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بنا بریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (من الذین قالوا امنا بافواھم ولم تو من قلوبھم) ” ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل…
Read the full tafseer →قول باری ہے انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی و نوریحکم بھا النبیون الذین اسلم اللذین ھادوا ۔ ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔ سارے نبی جو مسلم تھے اسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے۔ حسن ، قتادہ اور عکرمہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس لیے درست ہے کہ جب حضور ﷺ نے ان میں بدکاری کے مرتکب ایک جوڑے پر رجم کا حکم نافذ کردیا تو آپ نے اس موقعہ پر یہ کلمات ادا فرمائے۔
اے میرے اللہ ! میں پہلا شخص ہوں جس نے اس سنت کو زندہ کیا جسے انہوں نے مٹا دیا تھا۔ یہ بات تورات کے احکام میں شامل تھی ، اسی طرح حضور ﷺ نے دیتوں کو…
Read the full tafseer →111 تورات کے ہدایت اور نور ہونے کا مطلب :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے اتارا تورات کو جس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔ یعنی اپنے دور میں مسافران راہ حق کے لئے۔ پس اس سے منہ موڑ کر ان لوگوں کا آپ ﷺ کے پاس اپناکیس لانا اور اس پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھنا دراصل ان کی شرارت اور بدنیتی کی بنا پر ہے نہ کہ طلب و تلاش حق کے لئے۔ سو وہ تورات جو اپنے دور میں مسافران راہ حق کیلئے ہدایت و نور کا سرچشمہ تھی اس کو اس کے ان حاملین نے اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ بنادیا۔ یہاں تک کہ اس اصل تورات کا انہوں نے وجود ہی ختم کردیا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری تھی۔ اور اب جو کچھ ان…
Read the full tafseer →تورات کے مضامین
تشریح : تورات میں بھی توحید اور ہدایت کا سبق دیا گیا تھا اور ان کے علماء اور فقہاء بھی مسلم ہی تھے مگر یہود نے سب کچھ برباد کردیا اور کفار میں شامل ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
رکوع نمبر 7 ۔ آیات نمبر 44 تا 50 ۔
اسرار و معارف :
ورنہ ہم نے تو انہیں تورات سے نوازا تھا اور تورات بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب تھی جس میں دونوں کمال موجود تھے ہدایت بھی اور نور بھی۔ ہدایت سے مراد زندگی گذارنے کا وہ طریقہ جو اللہ کریم کا پسندیدہ ہو اور جس کا اس نے حکم دیا ہو۔ نور یعنی روشنی بظاہر تو اس کا بھی وہی معنی بنتا ہے مگر حق یہ ہے کہ اس سے مراد کیفیات اور برکات ہیں جو کتاب کے ہر ہر لفظ میں موجود تو وہتی ہیں مگر جس طرح معانی کے ہم صاحب کتاب کے محتاج ہیں اسی طرح اس نور کے حاصل کرنے کی ضرورت بھی ہے اس سے جو خلوص قلبی اور جو قرب الہی نصیب ہوتا ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا جس کو…
Read the full tafseer →ف 1 آیت میں بما استحفظو کی با کا تعلق الریا یو ن والا حبار سے ہے مطلب یہ ہے کہ جس زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوتا تھا ویہ درویش اور تعلیم یافت لوگ یہودیوں کے مابین تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے کیونکہ انبیا ( علیہ السلام) نے انہی کو اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کا محافظ قرار دیا تھا اور ان کی ذمہ داری تھی کہ اس میں کو تحریف نہ ہونے پائے اور شھدآ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ تورات کے من عند الہ ہونے پر گواہ تھے بعض علما نے بما اتحفظوا کی با کا تعلق یحکم سے بیان کیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی جو امانت ہ ان کے سپرد کی گئی تھی وہ اس کے مطابق فیصل کرتے تھے۔ ّ (قرطبی، کبیر) یعنی تم بھی اپنے انبیا اور…
Read the full tafseer →(5:44) اسلموا۔ وہ تابع ہوئے۔ وہ حکم بردار ہوئے۔ یعنی تورات کے احکام کے خود بھی فرماں بردار تھے۔ اور لوگوں کو بھی اسی کی تعلیم دیتے رہے۔ یہاں نبیین سے مراد وہ انبیاء میں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آئے اور ان کی اپنی الگ کتاب یا شرع نہ تھی۔
الربنیون۔ زاہد۔ خدا پرست۔ درویش۔ اللہ والے۔ مربی۔ مرشد۔ سریانی لفظ ہے۔ اہل عرب کے کلام میں قلیل الوجود ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ رب کی طرف منسوب ہے۔ بعض کے نزدیک رب مصدر کی طرف منسوب ہے یعنی ربانی وہ ہے کہ جو علم کی پرورش کرے۔ یا علم کے ذریعے اپنے نفس کی تربیت کرے۔
احبار۔ حیر کی جمع ۔ علمائ۔ ربنیون اور احبار کا عطف النبیون پر ہے۔ یعنی اس کے مطابق حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
آیت نمبر 44 تا 47
لغات القرآن : لاتشتروا (تم نہ بیچو۔ فروخت نہ کرو) ۔ لم یحکم (فیصلہ نہ کیا) ۔ العین (آنکھ) ۔ الانف (ناک) ۔ الاذن (کان) ۔ السن (دانت) ۔ الجروح (جرح) ۔ زخم۔ قصاص (برابری) ۔ تصدق (تصدیق) ۔ صدقہ کر دے قصور معاف کر دے) ۔ کفارۃ (کفارہ۔ اتارنا) ۔ قفینا (ہم نے ایک کے بعد دوسرے کو بھیجا) ۔ اثار (اثر) ۔ نشان۔ قدم) ۔ مصدق (تصدق کرنے والا۔ سچا بتانے والا) ۔ بین یدی (دونوں ہاتھوں کے درمیان۔ سامنے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے اور پھر نصاری یعنی عیسائیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو توریت جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
یہود کا دھوکا اور قصاص کا حکم
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لیکن اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ ہماری قوم کے لوگوں سے مخالفت ہوگئی ہے، ہم چند مقدمے آپ کے پاس لے آویں گے اور چونکہ ہم لوگ عالم ہیں، اس لئے ہمارا اسلام دیکھ کر عام لوگ بھی مسلمان ہوجاویں گے اور باطن میں ان کے جی میں یہ فریب تھا کہ اگر آپ دھوکا کھاکر خلاف حکم الہی فیصلہ کردیں تو آپ نبوت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[37] تورات میں زانی کے لئے سنگسار کرنے کا اور قاتل کے لئے قتل کئے جانے کا حکم ہے۔ لیکن جب کسی بڑے آدمی سے یہ جرائم سرزد ہوتے تو یہودیوں کے دنیا پرست علماء اسے سزا سے بچانے کے لئے طرح طرح کے شرعی حیلے نکالتے۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کے عہد میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا یہود نے خیال کیا کہ آپ کو تورات کے احکام کی خبر نہیں پس بہتر ہے کہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کردیا جائے تاکہ مجرم سزا سے بچ جائے اور ذمہ داری بھی ہمارے سر نہ پڑے۔ چناچہ جب معاملہ آپ کے سامنے پیش ہوا تو وحی الٰہی نے آپ کو مطلع کردیا۔ آپ نے تورات کے حکم کا ان سے اقرار کرایا اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا۔
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی تورات میں ہدایت ونور کا کافی سامان ہے ، تمام گزشتہ انبیاء کا دستور العمل تورات ہی رہی ہے ، احبار وعلماء بھی مکلف تھے کہ تورات کو یاد رکھیں اور بلالومۃ لائم اس کے موافق فیصلہ کریں اور دنیوی اغراض کے لئے خدا کے احکام کو بیچ نہ دیں ۔
آیت کا یہ مقصد نہیں کہ تورات مسلمانوں کے لئے حجت ہے یا اب بھی یہودی تو رات ہی کو ماننے کے مکلف ہیں ، کیونکہ آفتاب ہدایت کے بعد ستاروں کی روشنی ماند پڑجاتی ہے اور دن نکل آنے کے بعد کوئی گھروں میں چراغ نہیں جلاتا ،
غرض صرف یہ ہے کہ مسلمات میں تحریف بدترین بدیانتی ہے جس کا یہودی ارتکاب کرتے ہیں ۔
(آیت) ” بما انزل اللہ “ سے مراد صرف قرآن نہیں بلکہ اسوہ رسول ﷺ…
Read the full tafseer →ف 3 یقینا ہم نے توریت نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت اور روشنی تھی یعنی عقائد صحیحہ کی بھی تفصیل تھی اور اعمال کی بھی وضاحت تھی …… انبیائے بنی اسرائیل جو اللہ تعالیٰ کے مطیع اور فرمانبردار تھے یہود کو اسی توریت کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور اسی طرح اہل اللہ اور علماء بھی توریت ہی کے موافق حکم دیا کرتے تھے اور ان لوگوں کا توریت کے موافق حکم کرنا اس بنا پر تھا کہ ان کو کتاب اللہ کی حفاظت اور نگہداشت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور وہ اس کتاب الٰہی پر نگہبان تھے۔ لہٰذا اے یہود تم لوگوں سے نہ ڈرو اور یہ اندیشہ نہ کرو کہ اگر ہم اسلام قبول کرلیں گے تو لوگوں کی نظروں میں ذلیل ہوجائیں گے۔ تم صرف مجھ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 7۔ یعنی قانون اسلام کے موافق۔
8۔ اور وہ عدل اب منحصر ہوگیا ہے قانون اسلام میں پس وہی لوگ محبوب ہوں گے جو اس قانون کے موافق فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تورات کا مرتبہ قرآن کریم کی نظر میں :
132: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح طور پر ارشاد آج بھی موجود ہے کہ ” بلاشبہ ہم نے تورات نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی
ہے۔ “ مطلب بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا ہے لیکن کچھ لوگوں کے بازیچہ اطفال بنانے کے لئے نہیں بلکہ زندگی کی اعلیٰ اقدار کے تحفظ کے لئے ظاہر ہے کہ تورات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی اور موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور دونوں پیغمبروں کے بعد بھی بنی اسرائیل قوم میں ان گنت نبی اس کے مطابق قوم یہود کو حکم دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی اسی کتاب میں جو یہود نا مسعود نے چالاکیاں کیں ان کی نشاندہی بھی کرتے رہے جیسے…
Read the full tafseer →Sequence of the Verses
This is the third Section of Surah al-Ma` idah. Here, Allah Almighty has asked the Jews, the Christians and the Muslims to pay heed to a particular injunction of the creed they all share as being the three communities attached to the Prophetic Tradition. Appearing in different contexts through verses which have gone earlier, this is the serious matter of acting against the pledges given to Almighty Allah and that of changes, alterations and false interpretations made in injunctions sent to them - something which had become a chronic compulsion of habit with the Jews and…
Read the full tafseer →72.Here the verse tells the Jews that all the Prophets were muslims (submitters to God) whereas the Jews had deviated from islam (submission to God), and true to their chauvinistic sectarianism, were content with remaining merely 'Jews'.
73.Rabbani = religious scholars, theologians. Ahbar = religious jurists.
Read the full tafseer →