Explained with ayahs 41–44
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 71
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بددیانتی کو بالکل بےنقاب کردیا ہے۔ یہ ”مذہبی لوگ“ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علم کتاب کا سکہ جما رکھا تھا، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدعی تھے اس کے حکم کو چھوڑ کر نبی ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے ان کو بشدت انکار تھا۔ اس سے یہ راز بالکل فاش ہوگیا کہ یہ کسی چیز پر بھی صداقت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے، دراصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے، جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے منہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یہود کی ایک بری خصلت
پہلی خصلت یہ بتائی سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ للسُّحْتِ۔ یعنی یہ لوگ جھوٹی اور غلط باتیں سننے کے عادی ہیں۔ اپنے کو عالم کہلانے والے غدار یہودیوں کے ایسے اندھے متبع ہیں کہ احکام تو ارت کی کھلی خلاف ورزی دیکھنے کے باوجود ان کی پیروی کرتے رہتے ہیں اور ان کی غلط سلط بیان کی ہوئی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔
عوام کے لئے علماء کے اتباع کا ضابطہ
اس میں جس طرح تحریف کرنے والوں اور احکام خدا و رسول میں غلط چیزیں شامل کرنے والوں کے لئے وعیدیں ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہوگئے ہیں اس میں مسلمانوں…
Read the full tafseer →شریعت سے فرار کے لیے یہود کی دہری شرارت : وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ۔ یہ تعجب کا اظہار اس بات پر نہیں ہے کہ وہ تورات رکھتے ہوئے اپنے معاملات کے فیصلے کے لیے آپ کو حکم کس طرح بناتے ہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ آپ کو حکم بنا کر آپ کے فیصلے سے مکرتے کس طرح ہیں جب کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے فیصلے شریعت الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو احکام، بالخصوص تعزیرات و حدود، بنیادی طور پر تورات و قرآن دونوں میں یکساں ہیں۔ پھر آنحضرت ﷺ کا طریقہ یہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 1 سَمَّاعُوْن کے معنی ہیں بہت سننے والا اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لئے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لئے سننا، بعض مفسرینن نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
38: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑلیتے ہیں اور یہ بھی کہ حضور اقدس ﷺ سے فیصلے کی درخواست کرنے کے باجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تو اس سے منہ موڑلیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 43۔
” اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے)
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور پھر بھی مومن ہو ‘ یا وہ اللہ کے قانون پر راضی نہ ہو اور پھر بھی یہ زعم رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے ۔ یہ ہر گز ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی میں شریعت کا نفاذ کرنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے اور اس کا موقف اس قطعی نص کی بالکل ضد ہے ۔ (آیت) ” وما اولئک بالمومنین “ (5 : 43) (یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے) یہ معاملہ فقط اس حد تک نہیں ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی شریعت کانفاذ نہیں ہے بلکہ اگر محکوم لوگ بھی جن پر…
Read the full tafseer →7 یعنی تعجب کی بات ہے کہ آپ کو حکم ٹھہراتے ہیں اور جس تورات کو کتاب آسمانی مانتے ہیں اس کے فیصلہ پر بھی راضی نہیں تو حقیقت میں ان کا ایمان کسی پر بھی نہیں۔ نہ قرآن پر نہ تورات پر۔ اگلے رکوع میں تورات و انجیل کی مدح فرما کر متنبہ کیا ہے کہ کیسی عمدہ کتاب اور کیسے علوم ہدایت تھے جن کی ان نالائقوں نے بےقدری کی اور انہیں ایسا ضائع کیا کہ آج اصل چیز کا پتہ لگانا بھی مشکل ہوگیا۔ آخر حق تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے بالکل آخر میں وہ کتاب بھیجی جو ان سب پہلی کتابوں کے مطالب اصلیہ کی محافظ اور مصدق ہے۔ اور جس کی ابدی حفاظت کا انتظام نازل کرنے والے نے خود اپنے ذمہ لیا ہے فللّٰہ الحمد والمنہ۔
Read the full tafseer →آیت 43 وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰٹۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہود کی بدنیتی کو بالکل بےنقاب کردیا ہے کہ اگر ان کی نیت درست ہو تو تورات سے راہنمائی حاصل کرلیں۔
ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُولٰٓءِکَ بالْمُؤْمِنِیْنَ
اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان سے تہی دست ہیں ‘ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ یہ ہے ان کا اصل ‘ روگ۔
Read the full tafseer →79 یعنی ایک طرف تو آپ کو جھوٹا نبی سمجھتے ہیں اور پھر فیصلہ بھی آپ کے پاس لاتے ہیں۔ اور دوسری طرف تورات ہے جسے اللہ کی سچی کتاب سمجھتے تو ہیں لیکن حکم اس کا بھی نہیں مانتے اس سے بڑھ کر ان کے بےایمان ہونے کی کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →155 ۔ (جس کا کتاب الہی ہونا انہیں مسلم ہے) (آیت) ” کیف “۔ کلمہ تعجب ہے، یعنی اس پر اظہار حیرت ہے کہ یہ لوگ اپنی کتاب آسمانی رکھنے کے باوجود دین کے کسی معاملہ میں فیصلہ کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں ! تعجیب من تحکیمھم من لایؤمنون بہ والحال ان الحکم منصوص علیہ فی الکتب الذی ھو عندھم (بیضاوی) تعجیب من تحکیمھم (کشاف) اوپر کسی حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ یہود کا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا معرفت حق کے لیے تو ہوتا نہ تھا، اپنے مطلب اور اپنی غرض کے لیے شاید کوئی آسان ترحکم مل جائے، تنبیۃ علی انھم ما قصدوا بالتحکیم معرفۃ الحق واقامۃ الشرع وانما طلبوا بہ ما یکون اھون علیھم وان لم یکون حکم اللہ تعالیٰ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَاِنْ حکمتَ فاحکم بینَھُمْ بالقسط، ابتداء جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی یہودی اس وقت ایک باقاعدہ اسلامی ریاست کی باقاعدہ رعایا نہیں تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے، یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی ان کے مذہبی مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے، نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقررہ کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کیلئے وہ روئے قانون مجبور نہ تھے لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لئے نبی ﷺ کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان…
Read the full tafseer →وکیف یحکمونک عندہم التوراۃ فیہا حکم اللہ تعجب ہے کہ یہ آپ کو پنچ بنا رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس کے اندر اللہ کا حکم درج ہے۔ استفہام بقجی ہے یعنی تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسے نبی کو پنچ بنا رہے ہیں جس پر ان کا ایمان نہیں اور اس حکم کا فیصلہ کرا رہے ہیں جو ان کو خود معلوم ہے۔ تورات میں موجود ہے یعنی زانی کو سنگسار کردینا مگر یہ اس پر عمل نہیں کرتے۔ خلاصہ مطلب یہ ہے کہ تحکیم سے ان کا مطلب طلب حق اور اقامت شرع نہیں بلکہ سہل ترین حکم کی خواہش ہے۔ خواہ وہ اللہ کا حکم نہ ہو۔
ثم یتولون من بعد ذلک وما اولئک بالمؤمنین پھر (جب آپ ان کی تورات کے موافق حکم دیتے ہیں تو) اس کے بعد وہ منہ پھیر…
Read the full tafseer →(43) اور حیرت ہے کہ یہ آپ سے کیوں فیصلہ کراتے ہیں، جب کہ توریت میں رجم کا حکم موجود ہے، اور پھر توریت اور قرآن کریم کے حکم سے پھرجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ : یہاں ان کی جہالت و عناد کا بیان ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ جو مقدمہ وہ آپ کے پاس لا رہے ہیں، اس کا فیصلہ تورات میں موجود ہے، تاہم آپ کے پاس اس لیے مقدمہ لاتے ہیں کہ شاید آپ کا فیصلہ تورات کی بہ نسبت کچھ ہلکا ہو، لیکن جب آپ کا فیصلہ بھی وہی ہوتا ہے جو تورات کا ہوتا ہے تو وہ اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ تو وہ تورات پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آپ پر۔ اصل میں یہ اپنی اغراض کے بندے ہیں اور ان کا مقصد حیات ہی دنیوی مصالح کا حاصل کرنا ہے۔ (کبیر)
وَعِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِيْهَا حُكْمُ اللّہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تورات میں موجود رجم کے فیصلے کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 43۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ “۔ حسن نے فرمایا : اس سے مراد رجم ہے، قتادہ ؓ نے کہا : قصاص ہے (2)
کہا جاتا ہے : (آیت) ” فیھا حکم اللہ “۔ کو قول دلالت کرتا ہے کہ وہ منسوخ نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے۔ ابو علی نے کہا : ہاں اگر یہ منسوخ ہوتا تو نسخ کے بعد اس پر انہ حکم اللہ (یہ اللہ کا حکم ہے) کا اطلاق نہ ہوتا جیسا کہ شراب کی تحلیل یا ہفتہ کی پر اللہ کا حکم ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ (آیت) ” وما اولئک بالمؤمنین “۔ یعنی تیرے حکم سے وہ اللہ کی طرف سے ہے، ابو علی نے کہا : جس نے اللہ کے حکم کے علاوہ کو طلب کیا جب کہ وہ اس سے راضی نہیں تو وہ کافر…
Read the full tafseer →(1) امام ابن مردویہ براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی گزرا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور کوڑے لگائے گئے تھے۔ آپ نے ان لوگوں سے پوچھا اس شخص نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں سے پوچھا تم اپنی کتاب میں زنا کی کیا سزاپاتے ہو۔ انہوں نے کہا ہم اس کی سزا تو یہ پاتے ہیں اس کا منہ کالا کرنا اور کوڑے لگانا آپ نے ان سے پوچھا کون تم میں سے سب سے بڑا عالم ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ فلاں بڑا عالم ہے۔ آپ ﷺ نے اس کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا منہ کالا کرنا اور کوڑے مارنا پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قسم کھلائی کہ تم لوگ اپنی کتاب…
Read the full tafseer →[ وَكَيْفَ؛اور کیسے ] [ يُحَكِّمُوْنَكَ : وہ لوگ حکم مانیں گے آپ کو ] [ وَ؛اس حال میں کہ ] [ عِنْدَهُمُ : ان کے پاس ] [ التَّوْرٰىةُ؛تورات ہے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ حُكْمُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم ہے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ يَتَوَلَّوْنَ : منہ پھیرتے ہیں ] [ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ: اس کے (نزول ) کے بعد سے ] [ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ : اور وہ لوگ ] [ بِالْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والے نہیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یہودیوں کی حرام خور ی
اس کے بعد فرمایا (سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) کہ یہ لوگ جھوٹ سننے والے ہیں اور خوب کان لگانے والے ہیں (اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) خوب زیادہ حرام کھانے والے ہیں۔ علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ یہودی حکام کے بارے میں فرمایا یہ لوگ رشوت لیتے تھے اور جو شخص رشوت دینے کا اشارہ کردیتا تھا اس کی بات پر کان دھرتے تھے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کردیتے تھے اور جس نے رشوت نہ دی خواہ وہ کیسا ہی مظلوم ہو نہ اس کی بات سنی جاتی تھی نہ اس کے حق میں فیصلہ دیا جاتا تھا، لفظ سحت عربی زبان میں کسی چیز کو بالکل جڑ سے ختم کرنے کے لئے موضوع ہے اس کو رشوت کے لئے استعمال کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
تسلیہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم وذکر خیانت یہود درحکم زنا درتورات مذکور بود۔
قال تعالی، یا ایھا الرسول لایحزنک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بالمومنین۔
شان نزول۔
ان آیات میں اخیر رکوع تک یہود کی ایک خاص خیانت کا ذکر ہے قصہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ خیبر کے ایک معزز گھرانہ کے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت نے زنا کیا توریت میں زنا کی سزا سنگسار کرنا تھی لیکن جب یہودی اس سزا کو معزز گھرانوں پر جاری نہ کرسکے تو توریت میں تحریف کرکے اپنی طرف سے یہ سزابنائی کہ زانی اور زانیہ کا منہ کالا کرکے ان کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں پھراتے اور سو تازیانے لگاتے خبیر میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →76 وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ الخ استفہام تعجب کے لیے (روح) یہاں یہود کے روئیے پر دوہرے تعجب کا اظہار فرمایا۔ تعجب ہے یہ لوگ اپنے معاملات کے مقدمے آپ کے پاس کیوں لاتے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس اللہ کی کتاب تورات موجود ہے اس میں ان کے مقدمات کے فیصلے بھی موجود ہیں پھر اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ اس کے باوجود جب آپ کے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہیں پھر آپ کے فیصلوں اعراض کرتے ہیں وَ مَا اُولئِکَ بِالْمُؤمِنِیْنَ ۔ ان کا تو تورات پر بھی ایمان نہیں جس پر ایمان لانیکے وہ بڑے مدعی ہیں اگر تورات پر ان کا ایمان ہوتا تو اس کے احکام پر عمل کرتے اور قرآن پر بھی ایمان لے آتے جو تورات کے احکام کی تصدیق کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ربط آیات
گذشتہ رکوعات میں پہلے اہل کتاب کی طرف سے نقض عہد کا ذکر ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کی قباحت بیان فرمائی آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ ہوا ‘ ا ن میں سے ایک نے فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کردیا ‘ پھر بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں قاتل بھائی کی بیوقوفی کا ذکر بھی ہوا اور پھر اس کے آخرت کے انجام کی نشاندھی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قتل نفس کی برائی سے آگاہ کیا اور تورات میں موجود انسانی جان کے تحفظ کا قانون ان کو یاد کرایا پھر ڈاکے اور چوری کے جرائم کا تذکرہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سزائیں بھی بیان فرمائیں۔ اہل…
Read the full tafseer →وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰىۃُ فِيْہَا حُكْمُ اللہِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ 0ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ 43ۧ
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ […
Read the full tafseer →ترکیب : کیف ضمیر یحکمونک فاعل سے حال ہے وعندھم خبر التوراتہ مبتداء جملہ موضع حال میں ہے فیہا ھدی ونور جملہ حال ہے التوراتہ سے اسی طرح یحکم الخ للذین ھادوا کالام یحکم سے متعلق ہے والربانیون اور الاحبار معطوف ہیں النبیون پر بما اے بسبب الذین استحفظوہ ای استود عوہ اعنی استحفظہم اللہ ایاہ من کتاب حال ہے ما سے۔
تفسیر : اس جگہ خدا تعالیٰ نبی (علیہ السلام) سے یہود کے آنحضرت ﷺ کے پاس جھگڑا لانے اور فیصلہ پر راضی ہونے پر تعجب ظاہر فرماتا ہے کہ یہ لوگ باوجودیکہ توریت کے معتقد ہیں اور اس میں احکامِ الٰہی ہیں اور اس کو خاص اللہ نے نازل کیا تھا جس پر انبیاء اور مشائخ و علماء چلتے تھے مگر اس کے حکم سے…
Read the full tafseer →وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 43)
” اور یہ تمہیں ” حَکَم “ کس طرح بناتے ہیں ‘ جب کہ تورات ان کے پاس موجود ہے ‘ جس میں اللہ کا حکم موجود ہے۔ پھر ” حَکَم “ بنانے کے بعد برگشتہ ہوجاتے ہیں ‘ یہ ہرگز باایمان لوگ نہیں “۔
ایک قاری جب ان آیات کو پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچتا ہے تو اسے حیرت ہونے لگتی ہے کہ جب ان کے پاس خود اللہ کی کتاب ‘ تورات موجود ہے اور پھر اس میں اللہ کا حکم بھی موجود ہے ‘ یعنی اس مقدمہ کے بارے میں جو اس وقت ان کے سامنے ہے تو پھر یہ آنحضرت ﷺ کی عدالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب جھوٹ سننا اور حرام کھاناکسی فرد یا قوم کی عادت ہوجائے تو پھر اس کی اصلاح کے تمام راستے مسددد ہوجایا کرتے ہیں کیونکہ صالح کردار کے لیے اکل حلال اور صدق مقال شرط ہے۔ جھوٹ بولنے اور حرام کھانے میں کوئی قوم یہودیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی بعض مفسرین نے ” سُحْتَ “ کا معنٰی رشوت خوری بھی کیا ہے۔
رشوت کا لین دین ہو یا حرام خوری کا معاملہ یہودی اس سلسلہ میں ہمیشہ سرفہرست دکھائی دیں گے۔ یہاں مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے خیبر میں ہونے والی بدکاری کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جو خیبر کے کھاتے پیتے گھرانے کے ایک مرد اور عورت سے سرزدہوئی یہودیوں کے ہاں زنا…
Read the full tafseer →آپ کی تحکیم پر ان کی رضامندی قابل تعجب ہے :
آیت 43 : وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَہُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ (اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے) اس آیت میں ان کے آپ کی تحکیم پر راضی ہونے پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ حالانکہ وہ آپ کی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور نہ آپ پر ایمان رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ حکم خود ان کی کتاب میں موجود ہے جس کو ماننے کے وہ دعویدار ہیں۔ فِیْہَا حُکْمُ اللّٰہِ یہ تورات سے حال ہے۔ التورٰۃ مبتداء اور عندہم خبر ہے ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ (پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں) اس کا عطف یحکمونک پر ہے تقدیر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 43
تفسیر : وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ اور وہ آپ کو کس طرح منصف بنائیں گے اور ان کے پاس تو تورات ہے) یہ تعجب ہے نبی کریم ﷺ کے لیے اور اس میں اختصا رہے یعنی وہ آپ کو اپنا منصف بناکر آپ کے فیصلہ پر کیسے راضی ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تو تورات ہے (فیھا حکم اللہ جس میں اللہ کا حکم ہے) یعنی رجم کا حکم ہے ( لم یتولون من م بعدذلک ط وما اولئک بالمومنین) پھر اس کے پیچھے پھرے جاتے ہیں اور وہ ہرگز ماننے والے نہیں ہیں) یعنی آپ کی تصدیق نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(42 ۔ 44) ۔ اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے حکم کے موافق پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لنک جس وقت آگے کی آیت { وَاِنْ اَحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ } (49) نازل ہوئی تو وہ پہلو تہی کی صورت منسوخ ہوگئی۔ اور بعضوں نے کہا کہ ناسخ اور منسوخ میں ایک حکم کا دوسرے حکم کے مخالف ہونا ایک ضروری شرط ہے ان دونوں میں یہ شرط موجود ہے۔ کس لئے کہ پہلی آیت میں فیصلہ کرنے اور پہلو تہی کرنے کی دونوں صورتیں بیان فرما کر دوسری آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
چور اس شخص کو کہا اجتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔
سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔
(1) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
رشوت کا حکم
قول باری ہے سمعون للکذب اکالون للسحت جھوٹ پر بہت کان دھرنے والے اور بڑے حرام خور ہیں ۔ ایک قول ہے کہ سحت کے اصل معنی جڑ سے اکھاڑنے کے ہیں ۔ اگر کوئی شخص کسی کا استیصال کر کے اسے مٹا دے تو ایسے موقعہ پر یہ فقرہ کہا جاتا ہے۔ اسمتہ اسحاتا ً اس نے اس کا استیصال کردیا ہے۔ قول باری ہے افیسحتکم بعذاب پھر اللہ تعالیٰ عذاب کے ذریعے تمہارا استیصال کر دے گا یعنی تمہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے گا ۔ اگر کوئی شخص اپنا مال تباہ کردے اور اسے للے تللے میں اڑا دے تو اس موقع پر یہ فقرہ کہا جاتا ہے۔ اسحت مالہ حرام کو سخت کا نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں مال والے کے لیے کوئی برکت نہیں ہوتی اور یہ اس کی…
Read the full tafseer →109 ہر دعوے کیلئے عملی ثبوت کی ضرورت : ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ کو اپنا حکم اور منصف کس طرح بنائیں گے جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم موجود و مسطور ہے۔ جو ان کی اپنی کتاب ہے۔ اور اس پر یہ لوگ ایمان و یقین کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ اور اس میں اس مسئلے کا حل اور حکم بھی موجود ہے جس کے بارے میں فیصلہ کرانے کیلئے یہ لوگ آپ کے پاس آئے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ اپنے دعوائے ایمانی میں سچے ہوتے تو اپنی کتاب پر ضرور عمل کرتے کہ ہر دعوے کی صداقت کیلئے عملی ثبوت ضروری ہوتا ہے۔ بہرکیف یہود کو جب اس بات کا علم تھا آنحضرت ﷺ کا فیصلہ تورات کے حکم کے مطابق ہی تھا تو پھر یہ لوگ آپ ﷺ کے حکم و…
Read the full tafseer →یہود و نصارٰی کی اصلیت
تشریح : اللہ تعالیٰ یہودو نصارٰی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بس ہر چیز کو کھیل تماشا ہی سمجھے ہوئے ہیں نہ یہ تورات کو عمل میں لاتے ہیں نہ قرآن کو مانتے ہیں۔ ورنہ فیصلے خود ان کی کتاب میں موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 5 اس میں یہود کو تنبیہہ ہے جو حد رجم (سنگساری) کا انکار کرتے تھے اور ان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنے اسلاف۔ انبیا احبار اور علمائے ربانی کا مسلک اختیار کریں۔ (کبیر) بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) تک سینگڑوں پیغمبر ایسے گزرے ہیں جن پر کوئی نئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور وہ اپنے زمانے میں لوگوں کو تورات ہی پر عمل کرنے کی نصیحیت کرتے اور ان کے مابین اسی کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے تھے خود حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ ان کی بعثت کا مقصد تورات ہی کی شریعت کو زندہ کرنا تھا۔ الذین ا اسلموا یہ صفت مدح ہے اور ان انبیا (…
Read the full tafseer →(5:43) یحکمونک۔ تحکیم (تفعیل) مصدر وہ آپ کو منصف بناتے ہیں۔ وہ آپ سے فیصلہ کراتے ہیں۔ کیف یحکمونک۔ وہ کیسے آپ کو منصف بناتے ہیں جبکہ ۔۔ اس میں بھی اشارہ ہے مندرجہ بالا واقعۂ زناء کا۔ (5:41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت نمبر 41 تا 43
لغات القرآن : لایحزن (وہ رنجیدہ نہ کریں۔ غمگین نہ ہوں) ۔ یسارعون (مسارعۃ) ۔ وہ دوڑتے ہیں۔ افواہ (فوہ) منہ۔ لم تؤمن (ایمان نہیں لائے) ۔ ھادوا (جو یہودی بن گئے) ۔ سمعون (بہت زیادہ سننے والے۔ جاسوسی کرنے والے) لم یا توک (وہ تجھ تک نہیں پہنچے) ۔ اوتیتم (تم دئیے گئے) ۔ خذوا (پکڑلو۔ لے لو) ۔ لم تؤتوا (تمہیں نہ دئیے گئے) ۔ احذروا (بچتے رہو) ۔ لن تملک (تو ہرگز مالک نہ ہوگا۔ تیرے بس میں نہ ہوگا) ۔ ان یطھر (یہ کہ وہ پاک کئے جائیں) ۔ اکلون (بہت کھانے والے) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کو اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
یہود کا دھوکا اور قصاص کا حکم
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لیکن اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ ہماری قوم کے لوگوں سے مخالفت ہوگئی ہے، ہم چند مقدمے آپ کے پاس لے آویں گے اور چونکہ ہم لوگ عالم ہیں، اس لئے ہمارا اسلام دیکھ کر عام لوگ بھی مسلمان ہوجاویں گے اور باطن میں ان کے جی میں یہ فریب تھا کہ اگر آپ دھوکا کھاکر خلاف حکم الہی فیصلہ کردیں تو آپ نبوت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[37] تورات میں زانی کے لئے سنگسار کرنے کا اور قاتل کے لئے قتل کئے جانے کا حکم ہے۔ لیکن جب کسی بڑے آدمی سے یہ جرائم سرزد ہوتے تو یہودیوں کے دنیا پرست علماء اسے سزا سے بچانے کے لئے طرح طرح کے شرعی حیلے نکالتے۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ کے عہد میں بھی ایک ایسا واقعہ پیش آیا یہود نے خیال کیا کہ آپ کو تورات کے احکام کی خبر نہیں پس بہتر ہے کہ معاملہ آپ کے سامنے پیش کردیا جائے تاکہ مجرم سزا سے بچ جائے اور ذمہ داری بھی ہمارے سر نہ پڑے۔ چناچہ جب معاملہ آپ کے سامنے پیش ہوا تو وحی الٰہی نے آپ کو مطلع کردیا۔ آپ نے تورات کے حکم کا ان سے اقرار کرایا اور اسی کے مطابق فیصلہ کردیا۔
Read the full tafseer →(ف 2) (آیت) ” وکیف یحکمونک “۔ میں اظہار تعجب ہے یعنی جب تورات میں قتل کی سزا واضح طور پر مرقوم ہے تو پھر یہ کیا سمجھ کر آپ کو حکم بنا رہے ہیں مقصد یہ ہے کہ رعایت کے طالب ہیں ، ورنہ صحیح فیصلہ پر انہیں اطمینان خاطر نہیں ۔
حل لغات :
بالقسط : یعنی بلارعایت وجانب داری کے شریعت وآئین کے بالکل مطابق ۔
یحکمون : مصدر تحکیم ۔ حکم بنانا ، منصف بنانا ، ربانیون : اللہ والے ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور عجب بات ہے یہ لوگ اپنے دینی معاملات میں آپ کو کیسے منصف بناتے ہیں اور آپ سے کس طرح فیصلے کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توریت موجود ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا حکم مذکور ہے پھر تعجب ہے کہ آپ کے فیصلے کرنے کے بعد آپ کے فیصلے سے بھی پھرے جاتے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ یہ کسی پر اعتقاد رکھنے والے نہیں نہ توریت پر نہ محمد ﷺ پر (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اول تو یہی بات عجیب ہے کہ توریت ہوتے ساتے جب کہ اس میں احکام الٰہی مذکور ہیں پھر یہ آپ کو کیسے منصف بناتے ہیں اور آپ کے پاس اپنے دینی معاملات کیسے لاتے ہیں یا آپ کا فتویٰ معلوم کرنے کی غرض سے اپنے جاسوسوں کو کیسے بھیجتے ہیں یعنی جس شخص پر ان کو ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 7۔ یعنی قانون اسلام کے موافق۔
8۔ اور وہ عدل اب منحصر ہوگیا ہے قانون اسلام میں پس وہی لوگ محبوب ہوں گے جو اس قانون کے موافق فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
تورات کا مرتبہ قرآن کریم کی نظر میں :
132: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح طور پر ارشاد آج بھی موجود ہے کہ ” بلاشبہ ہم نے تورات نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی
ہے۔ “ مطلب بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا ہے لیکن کچھ لوگوں کے بازیچہ اطفال بنانے کے لئے نہیں بلکہ زندگی کی اعلیٰ اقدار کے تحفظ کے لئے ظاہر ہے کہ تورات سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی اور موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور دونوں پیغمبروں کے بعد بھی بنی اسرائیل قوم میں ان گنت نبی اس کے مطابق قوم یہود کو حکم دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی اسی کتاب میں جو یہود نا مسعود نے چالاکیاں کیں ان کی نشاندہی بھی کرتے رہے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
1. The first trait identified is: سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ (They are listeners of the lie). It means that they are used to listening to and going by what is false. They are the kind of blind followers of unfaithful Jews who see to it that they are called men of learning who would go on following them despite noticing that they were openly negating the injunctions of the Torah, worse still, they would continue being satisfied with their fictional interpretations of it.
Following ` Ulama': The Norm for People
The way those making alterations and adulterations in the injunctions of Allah and His…
Read the full tafseer →71. In this verse, God unmasks completely the dishonesty of these people. It shows how these so-called religious people who had cast the spell of their religious piety and knowledge of the Scriptures over the whole of Arabia had set aside a categorical injunction of the book which they themselves recognized to be the Book of God, and which they professed to believe in. They had referred that judicial case to the Prophet (peace be on him) for his decision even though they vehemently denied his prophethood. This made it quite clear that there was nothing to which they subscribed sincerely.…
Read the full tafseer →