Explained with ayahs 41–44
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 69
یہاں خاص طور پر ان کے مفتیوں اور قاضیوں کی طرف اشارہ ہے جو جھوٹی شہادتیں لے کر اور جھوٹی رودادیں سن کر ان لوگوں کے حق میں انصاف کے خلاف فیصلے کیا کرتے تھے جن سے انہیں رشوت پہنچ جاتی تھی یا جن کے ساتھ ان کے ناجائز مفاد وابستہ ہوتے تھے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 70
یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکوت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے۔ ان معاہدات کی رو سے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یہود کی ایک بری خصلت
پہلی خصلت یہ بتائی سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ للسُّحْتِ۔ یعنی یہ لوگ جھوٹی اور غلط باتیں سننے کے عادی ہیں۔ اپنے کو عالم کہلانے والے غدار یہودیوں کے ایسے اندھے متبع ہیں کہ احکام تو ارت کی کھلی خلاف ورزی دیکھنے کے باوجود ان کی پیروی کرتے رہتے ہیں اور ان کی غلط سلط بیان کی ہوئی کہانیاں سنتے رہتے ہیں۔
عوام کے لئے علماء کے اتباع کا ضابطہ
اس میں جس طرح تحریف کرنے والوں اور احکام خدا و رسول میں غلط چیزیں شامل کرنے والوں کے لئے وعیدیں ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہوگئے ہیں اس میں مسلمانوں…
Read the full tafseer →سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ۭ فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۔
" سحت " کا مفہوم : " اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ " سحت کے معنی کسب حرام کے ہیں۔ کسب حرام کی یوں تو مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں لیکن اس لفظ کا غالب استعمال رشوت کے لیے ہے۔ اسی معنی میں یہ یہاں بی استعمال ہوا ہے اور قرآن میں جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے اسی معنی میں ہوا ہے۔
جھوٹ اور رشوت نظام عدل کو ختم کردیتے ہیں : یہ اس گروہ منافقین و یہود کی، جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 1 سَمَّاعُوْن کے معنی ہیں بہت سننے والا اس کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لئے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لئے سننا، بعض مفسرینن نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے۔
Read the full tafseer →36: یہاں حرام سے مراد وہ رشوت ہے جس کی خاطر یہودی پیشوا تورات کے احکام میں تبدیلیاں کردیتے تھے۔
37: جو یہودی فیصلہ کرانے آئے تھے ان سے جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا مگر وہ باقاعدہ اسلامی حکومت کے شہری نہیں تھے، اس لئے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کا فیصلہ کردیں اور چاہیں تو انکار فرمادیں، ورنہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں ملک کے عام قوانین میں ان کا فیصلہ بھی اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا ضرری ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے البتہ ان کے خاص مذہبی قوانین جو نکاح طلاق اور وراثت وغیرہ سے متعلق ہیں ان میں انہی کے مذہب کے مطابق فیصلہ انہی کے ججوں کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 42۔
” یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں ‘ لہذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ‘ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔
مکرر طور پر یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ جھوٹ سننے کے عادی ہیں ‘ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ اس کے عادی ہوگئے ہیں ۔ جھوٹ اور باطل اور ناحق سننے کے لئے انکے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور خوشی سے لپکتے ہیں اور سچائی اور حق سننے سے انہیں سخت انقباض ہوتا ہے ۔ اور اس قسم کی گمراہ اور منحرف…
Read the full tafseer →5 ابن عباس، مجاہد اور عکرمہ وغیرہ اکابر سلف سے منقول ہے کہ حضور ﷺ کو یہ اختیار ابتداء میں تھا۔ آخر میں جب اسلام کا تسلط اور نفوذ کامل ہوگیا تو ارشاد ہوا (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ) 5 ۔ المائدہ :49) یعنی ان کے نزاعات کا فیصلہ قانون شریعت کے موافق کردیا کرو۔ مطلب یہ کہ اعراض اور کنارہ کشی کی ضرورت نہیں۔
6 قرآن کریم نے بار بار اس پر زور دیا ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی شریر ظالم اور بدمعاش کیوں نہ ہو مگر اس کے حق میں بھی تمہارا دامن عدالت ناانصافی کے چھینٹوں سے داغدار نہ ہونے پائے۔ یہ ہی وہ خصلت ہے جس کے سہارے زمین و آسمان کا نظام قائم رہ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 42 سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ ج
آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ چاہیں تو ان کا مقدمہ سنیں اور فیصلہ کردیں اور چاہیں تو مقدمہ لینے ہی سے انکار کردیں ‘ کیونکہ ان کی نیت درست نہیں ہوتی اور وہ آپ ﷺ ‘ کا فیصلہ لینے میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ لہٰذا ایسے لوگوں پر اپنا وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ اندیشہ بھی تھا کہ وہ پراپیگنڈا کریں گے کہ دیکھو جی ہم تو گئے تھے محمد ﷺ کے پاس مقدمہ لے کر ‘ یہ کیسے نبی ہیں کہ مقدمے کا فیصلہ کرنے کو ہی تیار نہیں ! اس ضمن میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور ﷺ کو اطمینان…
Read the full tafseer →77 ان لوگوں کے خبث باطن کی دیگر وجوہات کے علاوہ دو وجوہ یہ بھی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مسلمانوں کی اور آپ کی مجالس میں آتے ہی اس لیے ہیں کہ یہاں سے جو کچھ سنیں اسے اپنے لفظوں میں ڈھال کر اور توڑ موڑ کر اس طرح پیش کریں جس سے انہیں مسلمانوں کو اور پیغمبر اسلام کو بدنام اور رسوا کرنے کا موقع ہاتھ آئے۔ اور دوسری وجہ یہ کہ وہ حرام خور ہیں اور حرام خوری کے اثرات جو نفس انسانی پر مترتب ہوتے ہیں وہ اس قدر قبیح اور گندے ہوتے ہیں کہ ایسے شخص کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ دعا۔
78 گویا آپ کو یہ اختیار تو دے دیا گیا کہ چاہے تو یہودیوں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کریں اور چاہے تو نہ کریں۔ لیکن اگر کرنا چاہو تو…
Read the full tafseer →151 ۔ (آیت) ” سمعون للکذب “۔ یہ وصف یہود کے خواص وعوام دونوں کا بیان ہوا۔ سمع میں یہ اں سننے کے ساتھ کذب و باطل کا قبول کرنا بھی داخل ہے ابھی یہ لفظ آیت ماقبل میں گزر چکا ہے۔ دوبارہ زور وتاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ کر رہ تاکیدا وتعظیما (قرطبی) کر را للتاکید (مدارک) (آیت) ” اکلون للسحت “۔ سحت ہر حرام خوری کے لیے عام ہے۔ السحت الحرام اوما خبث من المکاسب (قاموس) وھو کل مالایحل کسبہ (مدارک) یہاں مراد رشوت ہے اور یہی معنی اب اس کے خاص ہوگئے ہیں، سمی الرشوۃ فی الحکم سحتا (راغب) قال الزجاج سمیت الرشوۃ التی کانو ایاخذونھا بالسحت (کبیر) وفی الحدیث ھو الرشوۃ فی الحکم (مدارک) ھو الرشوۃ (ابن کثیر) یہ وصف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَاِنْ حکمتَ فاحکم بینَھُمْ بالقسط، ابتداء جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی یہودی اس وقت ایک باقاعدہ اسلامی ریاست کی باقاعدہ رعایا نہیں تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے، یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی ان کے مذہبی مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے، نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقررہ کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کیلئے وہ روئے قانون مجبور نہ تھے لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لئے نبی ﷺ کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان…
Read the full tafseer →سمعون للکذب اکالون للسحت جھوٹ کو خوب سننے والے اور بڑے حرام خور ہیں۔
سَمَّاعُوْنَ کی تکرار محض تاکید کے لئے ہے۔ سحت سے مراد حرام روزی ہے۔ اصل لغت میں سحت کا وضعی معنی ہے ہلاکت۔ اللہ نے فرمایا ہے فیسحتکم بعذاب یعنی یہلککم اخفش نے کہا ہر غیر حلال کمائی کو سحت کہا جاتا ہے۔
اس آیت کا نزول یہودی حکام جیسے کعب بن اشرف وغیرہ کے حق میں ہوا۔ یہ لوگ رشوتیں لے کر مقدمات کی ڈگریاں دے دیا کرتے تھے اور رشوت دینے والے کی جھوٹی باتیں سن کر قبول کرلیا کرتے تھے اور فریق ثانی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے تھے۔
حسن۔ قتادہ۔ مقاتل اور ضحاک نے کہا سحت وہ رشوت ہے جو مقدمہ کے فیصلہ کے سلسلہ میں لی جائے۔ حسن نے کہا باطل…
Read the full tafseer →(42) احکام خداوندی میں تبدیلی کرکے یہ لوگ رشوت اور حرام کھانے والے ہیں، اے محمد ﷺ آپ کے پاس بنوقریظہ، اور نضیر یا خیبر والے آئیں اگر آپ ﷺ چاہیں تو ان کے درمیان سنگسار کرنے کا فیصلہ فرما دیجیے یا اعراض کیجیے یہ آپ ﷺ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر آپ ﷺ فیصلہ فرمائیں تو رجم کا فیصلہ فرمائیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں اور کتاب اللہ (تورات) کے حکم رجم پر عمل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، جاسوسی کرنے کے لیے زیادہ باتیں سننا یا دوسروں کی باتیں ماننے اور قبول کرنے کے لیے سننا۔ یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں، جیسا کہ آیت (41) کے حاشیہ (2) میں دونوں قسم کے گروہوں کا بیان ہوا ہے۔
لِلسُّحْتِ ۭ: اس کے لفظی معنی مٹانے اور ہلاک کرنے کے ہیں، گویا حرام مال وہ چیز ہے جو انسان کی نیکیوں کو اکارت کردیتا ہے اور ہر اس خسیس مال پر ”سُحْتٌ“ کا لفظ بولا جاتا ہے جس کے لینے میں عار ہو اور خفیہ طور پر لیا جائے، اس میں رشوت بھی شامل ہے اور احادیث میں زانیہ کی اجرت، کتے، شراب اور مردار کی قیمت کو ”سُحْتٌ“ کہا گیا ہے۔ سود، چوری کا مال اور جوئے سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 42۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” سمعون للکذب “ تاکید اور تفخیم کے لیے مکرر ذکر کیا۔
مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اکلون للسحت “۔ یعنی کثرت سے رشوت کھاتے ہیں، سحت کا لغوی معنی ہلاکت اور شدت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فیسحتکم بعذاب (طہ : 61) وہ تمہارا نام ونشان مٹا دے گا کسی عذاب سے،
فرزدق نے کہا :
وعض زمان یا بن مروان لم یدع من المال الا مسحیا او مجلف “۔
اس طرح روایت ہے۔ اومجلف “ مرفوع ہے معنی پر عطف کی بنا پر، کیونکہ لم یدع کا معنی ہے لم یبق حالق (مونڈنے والے) کو کہا جاتا ہے : اسحت یعنی اس نے اسے جڑ سے اکھیڑ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت سمعون للکذب اکلون للسحت سے مراد ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں رشوت لی اور ناحق فیصلہ کیا۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا کہ لفظ آیت سمعون للکذب اکلون للسحت سے مراد ہے کہ یہ یہود کے احکام ہیں کہ وہ جھوٹ کو قبول کرتے اور رشوت لیتے تھے۔
(3) امام عبد الرزاق الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن مسعود ؓ سے روایت فرمایا سحت سے مراد ہے دین میں رشوت لینا۔ سفیان نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینا۔
(4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے…
Read the full tafseer →[ سَمّٰعُوْنَ : بہت ٹوہ لگانے والے ] [ لِلْكَذِبِ : جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے ] [ اَكّٰلُوْنَ؛رج کے کھانے والے ] [ لِلسُّحْتِ ۭ: حرام کی کمائی کے لیے ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ جَاۗءُوْكَ : وہ لوگ آئیں آپ کے پاس ] [ فَاحْكُمْ؛تو آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ اَوْ : یا ] [ اَعْرِضْ : اعراض کریں ] [ عَنْهُمْ ۚ: ان سے ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تُعْرِضْ : آپ اعراض کریں گے ] [ عَنْهُمْ : ان سے ] [ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ : تو وہ ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے آپ کو ] [ شَـيْـــًٔـا ۭ: کچھ بھی ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ حَكَمْتَ : آپ فیصلہ کریں ] [ فَاحْكُمْ : تو آپ فیصلہ کریں ] [ بَيْنَهُمْ : ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یہودیوں کی حرام خور ی
اس کے بعد فرمایا (سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) کہ یہ لوگ جھوٹ سننے والے ہیں اور خوب کان لگانے والے ہیں (اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) خوب زیادہ حرام کھانے والے ہیں۔ علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ یہودی حکام کے بارے میں فرمایا یہ لوگ رشوت لیتے تھے اور جو شخص رشوت دینے کا اشارہ کردیتا تھا اس کی بات پر کان دھرتے تھے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کردیتے تھے اور جس نے رشوت نہ دی خواہ وہ کیسا ہی مظلوم ہو نہ اس کی بات سنی جاتی تھی نہ اس کے حق میں فیصلہ دیا جاتا تھا، لفظ سحت عربی زبان میں کسی چیز کو بالکل جڑ سے ختم کرنے کے لئے موضوع ہے اس کو رشوت کے لئے استعمال کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
تسلیہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم وذکر خیانت یہود درحکم زنا درتورات مذکور بود۔
قال تعالی، یا ایھا الرسول لایحزنک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بالمومنین۔
شان نزول۔
ان آیات میں اخیر رکوع تک یہود کی ایک خاص خیانت کا ذکر ہے قصہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ خیبر کے ایک معزز گھرانہ کے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت نے زنا کیا توریت میں زنا کی سزا سنگسار کرنا تھی لیکن جب یہودی اس سزا کو معزز گھرانوں پر جاری نہ کرسکے تو توریت میں تحریف کرکے اپنی طرف سے یہ سزابنائی کہ زانی اور زانیہ کا منہ کالا کرکے ان کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں پھراتے اور سو تازیانے لگاتے خبیر میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →73 سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ الخ یہ پہلے سَمّٰعُوْنَ سے بدل ہے۔ اور اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ کی زیادتی کے لیے اس کا اعادہ کیا گیا ہے السحت ای الحرام وہ رشوتیں جو علماء یہود محرف مسائل پر عوام سے لیا کرتے تھے اور وہ نذرانے جو احبارو رہبان عوام کے دلوں میں نَحْنُ اَبْنَاءُ اللہِ وَ اَحِبَّاءۃ کا سکہ بٹھا کر ان سے وصول کرتے تھے اور غیر اللہ کی نیازیں وغیرہ سب سحت میں داخل ہیں جیسا کہ علامہ شامی فرماتے ہیں۔ ولم یثبت فی الشرع جواز الصرف للاغنیاء للاجماع علی حرمۃ النذر للمخلوق و لا ینعقد و لا تشتغل الذمۃ بہ و لانہ حرام بل سحت (رد المحتار حاشیۃ الدر المختار ج 2 ص 128) مطبوعۃ مجتبائی قبیل باب الاعتکاف)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ربط آیات
گذشتہ رکوعات میں پہلے اہل کتاب کی طرف سے نقض عہد کا ذکر ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کی قباحت بیان فرمائی آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ ہوا ‘ ا ن میں سے ایک نے فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کردیا ‘ پھر بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں قاتل بھائی کی بیوقوفی کا ذکر بھی ہوا اور پھر اس کے آخرت کے انجام کی نشاندھی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قتل نفس کی برائی سے آگاہ کیا اور تورات میں موجود انسانی جان کے تحفظ کا قانون ان کو یاد کرایا پھر ڈاکے اور چوری کے جرائم کا تذکرہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سزائیں بھی بیان فرمائیں۔ اہل…
Read the full tafseer →سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ 0ۭ فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ 0ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا 0ۭ وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَہُمْ بِالْقِسْطِ 0ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 42
(أكّالون)
، جمع أكّال مبالغة اسم الفاعل من أكل يأكل باب نصر وزنه فعّال بفتح الفاء وتشدید العین .
سحت
السُّحْتُ : القشر الذي يستأصل، قال تعالی: فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذابٍ. [ طه/ 61] ، وقرئ :
فَيَسْحِتَكُمْ يقال : سَحَتَهُ وأَسْحَتَهُ ، ومنه : السَّحْتُ والسُّحْتُ للمحظور الذي يلزم صاحبه العار، كأنه يسحت دينه ومروء ته، قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ترکیب : الذین یسارعون الخ فاعل لایحزنک مفعول من الذین قالوا۔ الذین یسارعون کا بیان۔ ومن الذین ھادوا معطوف ہے من الذین قالوا پر۔
تفسیر : پہلی آیات میں شرائع اور احکام بیان ہوئے جن کی مخالفت کرنا دو قوموں سے متوقع تھا۔ اس لئے نبی ﷺ کو تسلی کے طور پر فرماتا ہے کہ ان کفر میں کوشش کرنے والی قوموں من الذین قالوا امنا الخ منافقین اور من الذین ھادوا یہود سے کچھ رنج و غم نہ کرو کیونکہ امر حق کی مخالفت ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ منافقین کی یہ دو خصلتیں ہیں : اول سماعون کہ وہ جھوٹی باتیں بہت جلد قبول کرتے ہیں جو کوئی اسلام کی مذمت میں ان سے کیسی ہی بےاصل بات کیوں نہ کہے اس کو مان لیتے ہیں یا یہ معنی کہ آپ سے…
Read the full tafseer →سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآئُوْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ ج وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا ط وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللہ َ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (المائدہ : 42)
” یہ لوگ جھوٹ کے رسیا اور پرلے درجے کے حرام خور ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے ‘ خواہ ان کے معاملے کا فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو اور اگر تم ان کو ٹال دو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان قانون عدل کے مطابق فیصلہ کرو ‘ اللہ قانون عدل پر عمل کرنے والوں ہی کو دوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جب جھوٹ سننا اور حرام کھاناکسی فرد یا قوم کی عادت ہوجائے تو پھر اس کی اصلاح کے تمام راستے مسددد ہوجایا کرتے ہیں کیونکہ صالح کردار کے لیے اکل حلال اور صدق مقال شرط ہے۔ جھوٹ بولنے اور حرام کھانے میں کوئی قوم یہودیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی بعض مفسرین نے ” سُحْتَ “ کا معنٰی رشوت خوری بھی کیا ہے۔
رشوت کا لین دین ہو یا حرام خوری کا معاملہ یہودی اس سلسلہ میں ہمیشہ سرفہرست دکھائی دیں گے۔ یہاں مفسرین نے اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے خیبر میں ہونے والی بدکاری کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جو خیبر کے کھاتے پیتے گھرانے کے ایک مرد اور عورت سے سرزدہوئی یہودیوں کے ہاں زنا…
Read the full tafseer →آیت 42 : سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ (یہ جھوٹ کو سننے والے ہیں) یہ دوبارہ تاکید کے لائے ہے یعنی وہ جھوٹ کو سننے والے ہیں اور اس کی مثل۔ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ہے (کہ وہ حرام کو کھانے والے ہیں) السحت ہر وہ چیز جس کا کھانا حرام ہو۔ یہ سحتہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی جڑ سے اکھاڑنا ہے کیونکہ اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے حدیث میں فرمایا گیا فیصلوں میں رشوت لینا اس سے مراد ہے وہ احکام پر رشوت لینے اور حرام کو حلال کرنے کے لئے بھی رشوت لیتے۔ قراءت : للسحت۔ مکی اور بصری اور علی نے ثقیل سے پڑھا ہے۔
فیصلہ کرنے میں اختیار یا لزوم :
فَاِنْ جَآئُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْہُمْ (اگر وہ آپ کے پاس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 42
تفسیر :(سمعون للکذب الکون للسحت جاسوسی کرنے والے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے اور بڑے تمام کھانے والے ہیں) ابن کثیر، ابو جعفر، اہل بصرہ اور کسائی نے ” للسحت “ کو حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے حاء کے سکون کے ساتھ۔
” سحت “ کا اصل معنی ہلاکت اور سختی ہے اور یہاں مراد ” حرام “ ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد باری ہے ” فسحتکم بعذاب “ (پس تم کو عذاب سے ہلاک کردے گا)
سمعون للکذب کا شان نزول
یہ آیت یہود کے حکام کعب بن اشرف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ کسی سے رشوت لے کر اس کے حق میں فیصلہ کردیتے تھے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے حاکم کے پاس جب کوئی رشت لاتا تو اپنی آستین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
(42 ۔ 44) ۔ اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت کے حکم کے موافق پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لنک جس وقت آگے کی آیت { وَاِنْ اَحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ } (49) نازل ہوئی تو وہ پہلو تہی کی صورت منسوخ ہوگئی۔ اور بعضوں نے کہا کہ ناسخ اور منسوخ میں ایک حکم کا دوسرے حکم کے مخالف ہونا ایک ضروری شرط ہے ان دونوں میں یہ شرط موجود ہے۔ کس لئے کہ پہلی آیت میں فیصلہ کرنے اور پہلو تہی کرنے کی دونوں صورتیں بیان فرما کر دوسری آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
چور اس شخص کو کہا اجتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔
سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔
(1) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
رشوت کا حکم
قول باری ہے سمعون للکذب اکالون للسحت جھوٹ پر بہت کان دھرنے والے اور بڑے حرام خور ہیں ۔ ایک قول ہے کہ سحت کے اصل معنی جڑ سے اکھاڑنے کے ہیں ۔ اگر کوئی شخص کسی کا استیصال کر کے اسے مٹا دے تو ایسے موقعہ پر یہ فقرہ کہا جاتا ہے۔ اسمتہ اسحاتا ً اس نے اس کا استیصال کردیا ہے۔ قول باری ہے افیسحتکم بعذاب پھر اللہ تعالیٰ عذاب کے ذریعے تمہارا استیصال کر دے گا یعنی تمہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے گا ۔ اگر کوئی شخص اپنا مال تباہ کردے اور اسے للے تللے میں اڑا دے تو اس موقع پر یہ فقرہ کہا جاتا ہے۔ اسحت مالہ حرام کو سخت کا نام اس لیے دیا گیا کہ اس میں مال والے کے لیے کوئی برکت نہیں ہوتی اور یہ اس کی…
Read the full tafseer →106 یہود کی ضرب المثل حرام خوری کا ذکر وبیان :ـسو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پکے حرام خور ہیں کہ یہ لوگ رشوت خوری، چور بازاری، سود خوری اور فتویٰ فروشی وغیرہ کے عادی ہیں۔ اور آج تک دنیا بھر میں ان کے اطوار یہی ہیں۔ یہ سود خور، جوا باز اور چکر باز ہیں۔ شاید اسی لئے یہاں پر " آکلون " نہیں " اَکَّالُون " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ مبالغے کا صیغہ ہے کہ یہ لوگ بڑے ہی حرام خور لوگ ہیں۔ سو ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اسی فرق اور زور بیان کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَب اللہ التوفیق ولہ الحمد والشکر قبل کل شییئٍ وَ بَعْدَ کُلّ شْیئٍ ۔ اللہ تعالیٰ تمام یہودیانہ خصلتوں سے امت مسلمہ کو محفوظ رکھے ۔ آمین ثم امین…
Read the full tafseer →نبی اکرم ﷺ کو انصاف کرنے کا حکم
تشریح : یہاں یہود کی بری خصلتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ جھوٹی اور غلط بات کرنے اور سننے کے عادی ہیں، اس لیے ان کے علماء نے تورات کے تمام قوانین کو مرضی کے مطابق بدل ڈالا ہے۔ دوسری بری خصلت ان کی یہ ہے کہ یہ پکے منافق ہیں یہ یہاں ایمان کی پختگی کے لیے نہیں آتے بلکہ صرف جاسوسی کرنے آتے ہیں۔ تیسری بری خصلت ان کی یہ ہے کہ یہ ہر کام میں رشوت لے کر ٹھیک کو غلط اور غلط کو ٹھیک کہہ دیتے ہیں، اس لیے اے نبی ﷺ ! آپ کے پاس جب بھی یہ کسی فیصلہ کے لیے آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کرنے کے پابند نہیں۔ اگر فیصلہ کریں تو صرف اور صرف اللہ کی فرمانبرداری کو سامنے رکھتے ہوئے بالکل ٹھیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 1 علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ یہود میں سے ایک مر اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کرلیا وہ دونوں شاد ی شدہ تھے۔ ان کے علماے نے باہم مشورہ کر کے طے کیا اس مقدمہ کا فیصلہ محمد ﷺ سے کر الیتے ہیں کیونکہ وہ نرم شریعت لے کر آئے ہیں۔ْ اگر انہوں نے کوڑے مارنے کا حکم دی اتو ہماری مراد بر آئے گی اور اگر انہوں نے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو ہم ان کا فیصلہ ٹھکرا دیں گے چناچہ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) کتب صحاح میں ہے کہ جب یہودی اپنا یہ مقدمہ لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں تورات پڑھنے کا حکم دیا تو چناچہ ایک آدمی پڑھنے لگا اور جب وہ آیت رجم پر پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ کر…
Read the full tafseer →(5:42) اکلون۔ بڑے کھانے والے۔ اکل سے سابقہ کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ للسحت۔ سحت۔ حرام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت نمبر 41 تا 43
لغات القرآن : لایحزن (وہ رنجیدہ نہ کریں۔ غمگین نہ ہوں) ۔ یسارعون (مسارعۃ) ۔ وہ دوڑتے ہیں۔ افواہ (فوہ) منہ۔ لم تؤمن (ایمان نہیں لائے) ۔ ھادوا (جو یہودی بن گئے) ۔ سمعون (بہت زیادہ سننے والے۔ جاسوسی کرنے والے) لم یا توک (وہ تجھ تک نہیں پہنچے) ۔ اوتیتم (تم دئیے گئے) ۔ خذوا (پکڑلو۔ لے لو) ۔ لم تؤتوا (تمہیں نہ دئیے گئے) ۔ احذروا (بچتے رہو) ۔ لن تملک (تو ہرگز مالک نہ ہوگا۔ تیرے بس میں نہ ہوگا) ۔ ان یطھر (یہ کہ وہ پاک کئے جائیں) ۔ اکلون (بہت کھانے والے) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کو اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
یہود کا دھوکا اور قصاص کا حکم
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے اہل کتاب جب آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی جھگڑا فیصلہ کرنے کو لاتے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا تھا کہ خواہ آپ فیصلہ کریں یا پہلو تہی کر جاویں لیکن اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود کے چند علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ ہماری قوم کے لوگوں سے مخالفت ہوگئی ہے، ہم چند مقدمے آپ کے پاس لے آویں گے اور چونکہ ہم لوگ عالم ہیں، اس لئے ہمارا اسلام دیکھ کر عام لوگ بھی مسلمان ہوجاویں گے اور باطن میں ان کے جی میں یہ فریب تھا کہ اگر آپ دھوکا کھاکر خلاف حکم الہی فیصلہ کردیں تو آپ نبوت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[33] یعنی جھوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اس کو یہ جی لگا کر سنتے ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ خبریں اس لئے سنتے ہیں کہ جھوٹ بولیں اور افواہیں پھیلائیں۔
[34] یعنی جاسوس بن کر آتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے مسلمانوں کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ غلط بیانیاں اور افترا پردازیاں کرنے کے لئے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ ان لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جنہیں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے براہ راست تعلقات پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔
[53] یعنی ان کے مطلب کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔
[63] اللہ کی طرف سے کسی کو آزمائش میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →قضیہ تحکیم :
(ف 1) یہودی پستی اور ذلت کی اس حد تک پہنچ چکے تھے جہاں احکام الہی کا وقار باقی نہیں رہتا اور طبیعتیں مداہنت وتحریف کی طرف مائل ہوجاتی ہیں اور جہاں مذہب کا مقصود محض ریاکاری اور فریب رہ جاتا ہے ، اس لئے جب ان میں کا کوئی معزز آدمی گناہ کا ارتکاب کرتا تو یہودی علماء تورات میں تحریف معنوی سے کام لیتے اور کہتے ، اس جرم کی سزا زیادہ سنگین نہیں اور جب کوئی غریب اور بےکس انسان بتقاضائے بشریت بھول چوک سے دو چار ہوجاتا تو ان کا جذبہ علم وقضا پورے جوش میں آجاتا ، اور اسے سنگین سے سنگین سزا دیتے ، قصہ یہ ہوا کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر میں کسی بات پر جھگڑا ہوگیا اور جھگڑے نے طول کھینچا نتیجہ…
Read the full tafseer →ف 1 یہ لوگ جھوٹی باتیں سننے کے بہت عادی ہیں حرام مال کے بہت کھانے والے ہیں تو اگر یہ لوگ آپ کے پاس اپنا کوئی مقدمہ فیصلہ کرانے کے لئے آئیں تو آپ کو اختیار ہے خواہ ا ن کے مابین ان کے معاملہ کا فیصلہ کردیجیے خواہ ان کو نظر انداز کردیجیے اور ان سے تغافل کا برتائو کیجیے اور اگر آپ ان سے روگردانی اور تغافل کا برتائو کریں گے تو وہ آپ کو ہرگز ذرا بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ کی رائے فیصلہ کرنے کی ہو اور آپ فصلہ کریں تو ان کے مابین انصاف اور عدل کے موافق فیصلہ کردیجیے بلاشبہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (تیسیر)
سماعون للکذب کا مطلب ہم بیان کرچکے ہیں کہ دین کے بارے میں غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 7۔ یعنی قانون اسلام کے موافق۔
8۔ اور وہ عدل اب منحصر ہوگیا ہے قانون اسلام میں پس وہی لوگ محبوب ہوں گے جو اس قانون کے موافق فیصلہ کریں۔
Read the full tafseer →یہود کے خواص جھوٹ گھڑنے اور سنانے کے ماہر تھے اور عوام سننے اور قبول کرنے کے شیدائی :
125: سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ کے الفاظ آیت 41 میں گزرے اور اب دوبارہ اس آیت 42 میں بیان ہو رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ دوبارہ ان الفاظ کا بیان کرنا تاکید کے لئے ہی معلوم ہوتا ہے اور یہی بات مفسرین نے بھی بیان کی ہے : کر رہ تاکیدا وتعظیما (قرطبی) کر رللتدکید (مدارک) یہ وقف دراصل یہود کے خواص اور عوام دونوں کا بیان ہوا ہے اور ظاہر ہے خواص وعوام میں جو فرق ہے وہ اس جگہ بھی یقینا ہے وہ اس طرح کہ یہود کے خواص جھوٹ گھڑنے اور اس کے بیان کرنے میں ماہر تھے اور عوام کو ان جھوٹوں کے سننے اور ان کو قبول کرنے میں بڑا مزا آتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
1. The first trait identified is: سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ (They are listeners of the lie). It means that they are used to listening to and going by what is false. They are the kind of blind followers of unfaithful Jews who see to it that they are called men of learning who would go on following them despite noticing that they were openly negating the injunctions of the Torah, worse still, they would continue being satisfied with their fictional interpretations of it.
Following ` Ulama': The Norm for People
The way those making alterations and adulterations in the injunctions of Allah and His…
Read the full tafseer →69. Here pointed reference is made to judges and jurisconsults who accept false evidence and invent reports in order to issue verdicts contrary to justice and in favour of either those who bribe them or with whom their illegitimate interests lie.
70. Until then the Jews had not become full-fledged subjects of the Islamic state. Their relations with that state were based on agreements according to which the Jews were to enjoy internal autonomy, and their disputes were to be decided by their own judges and in accordance with their own laws. They were not legally bound to place their disputes…
Read the full tafseer →