Explained with ayahs 41–44
جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ
ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 62
یعنی جن کی ذہانتیں اور سرگرمیاں ساری کی ساری اس کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ جاہلیت کی جو حالت پہلے سے چلی آرہی ہے وہی برقرار رہے اور اسلام کی یہ اصلاحی دعوت اس بگاڑ کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ یہ لوگ تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نبی ﷺ کے خلاف ہر قسم کی رکیک سے رکیک چالیں چل رہے تھے۔ جان بوجھ کر حق نگل رہے تھے۔ نہایت بےباکی و جسارت کے ساتھ جھوٹ، فریب، دغا اور مکر کے ہتھیاروں سے اس پاک انسان کے کام کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے جو کام بےغرضی کے ساتھ سراسر خیر خواہی کی بنا پر عام انسانوں کی اور خود ان کی فلاح و بہبود کے لیے شب و روز محنت کر رہا تھا۔ ان کی ان…
Read the full tafseer →ربط آیات
سورة مائدہ کے تیسرے رکوع میں اہل کتاب کا ذکر چلا آرہا تھا، درمیان میں قدر قلیل اور بعض مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے۔ اب آگے پھر اہل کتاب ہی کا ذکر دور تک چلا گیا ہے۔ اہل کتاب میں یہود و نصاریٰ کے دو فرقے تو تھے ہی، ایک تیسرا فرقہ اور شامل ہوگیا تھا، جو حقیقت میں یہودی تھے، مگر منافقانہ طور پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرتے تھے اور اپنے ہم مذہب یہودیوں میں بیٹھتے تو اسلام اور مسلمانوں کا استہزاء کرتے تھے، مذکورہ تین آیتیں انہی تینوں فرقوں کے ایسے اعمال سے اور حالات سے متعلق ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایات کے مقابلہ میں…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 41 تا 50:۔ آگے چند آیات میں پہلے منافقین اور یہود کی اس ملی بھگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو انہوں نے شرعی احکام و قوانین، بالخصوص تعزیرات و حدود کی گرفت سے بچنے اور ایک دوسرے کو ان سے بچانے کے لیے باہم کر رکھی تھی۔ ان آیات کے زمانہ نزول تک مدینہ اور اس کے اطراف میں اگرچہ اسلام کو سیاسی اقتدار حاصل ہوگیا تھا لیکن ابھی یہ اقتدار مکمل نہیں تھا، آس پاس یہود کی جو بستیاں تھیں وہ اپنے حدود میں قبائلی نوعیت کا اقتدار رکھتی تھیں اور ان کے حکام ان لوگوں کے معاملات و نزاعات کا فیصلہ کرتے تھے جو ان کے دائرہ اثر میں تھے یا ان کی طرف رجوع کرتے۔ لیکن یہ عدالتیں قیام عدل و انصاف کے نقطہ…
Read the full tafseer →41۔ 1 نبی کریم کو اہل کفر و شرک کے ایمان نہ لانے اور ہدایت کا راستہ نہ اپنانے پر جو قلق اور افسوس ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو زیادہ غم نہ کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں تاکہ اس اعتبار سے
آپ کو تسلی رہے کہ ایسے لوگوں کی بابت عند اللہ مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی۔
41۔ 2 آیت نمر 41 تا 44 کی شان نزول میں دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں۔ ایک تو دو شادی شدہ یہودی زانیوں (مرد عورت) کا۔ انہوں نے اپنی کتاب تورات میں تو رد وبدل کر ڈالا تھا، علاوہ ازیں اس کی کئی باتوں پر عمل بھی نہیں کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک حکم رجم بھی تھا جو ان کی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے لئے تھا اور اب بھی وہ موجود ہے لیکن وہ…
Read the full tafseer →32: یہاں سے آیت نمبر : 50 تک کی آیتیں کچھ خاص واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جن میں کچھ یہودیوں نے اپنے کچھ جھگڑے اس امید پر آنحضرت ﷺ کے پاس لانے کا ارادہ کیا تھا کہ آپ ان کا فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق کریں گے، ان میں سے ایک واقعہ تو یہ تھا کہ خیبر کے دو شادی شدہ یہودی مرد و عورت نے زنا کرلیا تھا، جس کی سزا خود تورات میں یہ مقرر تھی کہ ایسے مرد و عورت کو سنگسار کرکے ہلاک کیا جائے، یہ سزا موجودہ تورات میں بھی موجود ہے (دیکھئے استثناء : 22، 23، 24) لیکن یہودیوں نے اس کو چھوڑ کر کوڑوں اور منہ کالا کرنے کی سزا مقرر کر رکھی تھی، شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس سزا میں بھی کمی ہوجائے اس لئے انہوں…
Read the full tafseer →ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئیں ‘ اس دور میں جب یہودی بدستور مدینہ میں موجود تھے ‘ کم از کم غزوہ احزاب سے پہلے کے زمانہ میں اور اس سے پہلے جب بنی قریظہ کو سزادی گئی یا اس سے بھی زیادہ پہلے یعنی یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب بنی نضیر اور بنی قینقاع مدینہ کے اردگرد موجود تھے ۔ ان میں سے اولی الذکر احد کے بعد اور آخر الذکر احد سے پہلے جلاوطن ہوئے ۔ اس دور میں یہودی مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف تھے اور اس دور میں منافقین ان کے ہاں اس طرح پناہ لینے کے لئے گھستے تھے جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں گھستا ہے اور یہ دونوں کفر میں بہت ہی آگے بڑھنے والے…
Read the full tafseer →8 پچھلی آیات میں ڈکیتی اور چوری وغیرہ کی حدود بیان کی گئی تھیں۔ اب بعض ان اقوام کا حال سناتے ہیں جنہوں نے " حدود اللہ " میں تحریف کر کے اپنے کو عذاب عظیم کا مستحق ٹھرایا۔ ان کا مفصل واقعہ بغوی نے یہ لکھا ہے کہ خیبر کے ایک یہودی مرد اور عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا۔ باوجودیکہ تورات میں اس جرم کی سزا " رجم " (سگنسار کرنا) تھی، مگر ان دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو " یثرب " میں ہے (یعنی محمد ﷺ ان کی کتاب میں " زانی " کے لئے " رجم " کا حکم نہیں، کوڑے مارنے کا ہے تو " بنی قریظہ " کے یہود میں سے کچھ آدمی ان کے پاس بھیجو کیونکہ وہ ان کے ہمسایہ…
Read the full tafseer →آیت 41 یٰٓاَ یُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ ج۔
آپ ﷺ ان لوگوں کی سرگرمیوں اور بھاگ دوڑ سے غمگین اور رنجیدۂ خاطر نہ ہوں۔
وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا ج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط
یعنی ایک تو یہ لوگ اپنے شیاطین کی جھوٹی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں ‘ جیسے سورة البقرۃ آیت 14 میں فرمایا : وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ لا قالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ…
Read the full tafseer →74 کفار اور منافقوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے آپ کی دل گرفتگی :۔ مکہ میں مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کو دکھ پہنچانے والے اور پریشانی میں مبتلا رکھنے والے صرف قریش مکہ تھے مگر مدینہ آ کر آپ کو چار قسم کے لوگوں سے دکھ پہنچ رہا تھا۔ ایک منافقین دوسرے یہود، تیسرے مشرک قبائل عرب اور چوتھے مشرکین مکہ جنہوں نے فتح مکہ تک اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی تاہم اس آیت میں صرف دو قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے ایک منافقین دوسرے یہود۔ اور ان کی معاندانہ سرگرمیاں بھی طرح طرح کی تھیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرنا، مسلمانوں میں ہی فتنہ کی آگ بھڑکانا، لوگوں کو اسلام لانے سے…
Read the full tafseer →142 ۔ یعنی آپ ایسے لوگوں کی باتوں سے رنج نہ قبول کریں۔ (آیت) ” یایھا الرسول “۔ قرآن مجید جیسی قیامت تک باقی رہنے والی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر صیغہ غائب میں صرف الرسول والنبی سے، اور صیغہ حاضر میں ایھا الرسول اور ایھا النبی سے بغیر صفات کے لانا بجائے خود اس امر کی طرف مشیر ہے کہ اب کوئی دوسرا شخص وصف نبوت و رسالت میں شریک آنے والا نہیں۔ (آیت) ” یسارعون فی الکفر “۔ یعنی کفریات کی طرف بےتکلف اور بہ شوق ورغبت لپکتے ہیں، (آیت) ” یسارعون “۔ مضارع ہے مسارعۃ، باب مفاعلۃ سے، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ کفر کی جانب ایسے ساعی ہیں، کہ گویا ایک دوسرے سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ…
Read the full tafseer →شان نزول : یٰاَیُّھا الرسول لا یحزنک (الآیۃ) آیت 41 اور 44 کے شان نزول میں دو واقعے بیان کئے گئے ہیں ایک تو شادی شدہ مرد و عورت کا ہے، تورات میں شادی شدہ زانیوں کی سزا سنگسار تھی اور آج بھی ہے لیکن یہ واقعہ چونکہ ایک بڑے گھرانے کا تھا اس لیے وہ سنگساری کی سزا سے بچنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے پاس فیصلہ کرائیں، اگر انہوں نے ہمارے ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق یعنی کوڑے مارنے اور منہ کالا کرکے گھمانے کی سزا تھویز کی تو مان لیں گے اور اگر سنگساری کا فیصلہ کیا تو نہیں مانیں گے، چناچہ عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور فیصلے ہوئے آپ نے…
Read the full tafseer →یایہا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر اے پیغمبر آپ کو ان لوگوں کی حرکت رنجیدہ نہ بنائے جو کفر میں تیزی کے ساتھ جا رہے ہیں۔ جس چیز کا شرعاً اعتقاد اور بشرط امکان اقرار بھی ضروری ہے۔ اس کا انکار کفر ہے۔
امام احمد اور مسلم نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک یہودی جس کو سزائے تازیانہ دے کر منہ کالا کردیا گیا تھا رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تمہاری کتاب میں زانی کی شرعی سزا یہی ہے یہودیوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ نے ایک یہودی عالم کو طلب فرمایا اور اس سے فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر توریت نازل کی تھی کیا زانی کی شرعی سزا تم کو…
Read the full tafseer →(41) اے محمد ﷺ جو لوگ کفار کے ساتھ دنیوی اور اخروی معاملات میں دوستی کے لیے پہل کرتے ہیں، آپ ان کی وجہ سے دکھی مت ہوں وہ صرف اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم نے دل سے تصدیق کی مگر ان منافق یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے دلوں نے تصدیق نہیں کی اور خواہ وہ بنو قریظہ کے یہودی کعب اور اس کے ساتھی ہوں وہ سب اہل خیبر کی وجہ سے یہ باتیں سنتے ہیں اور اہل خیبر سے جن باتوں کا ظہور ہوا بنوقریظہ نے ان کے متعلق آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا۔
انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت اور رجم کے حکم میں باوجود اس کے کہ توریت میں اس کا ذکر ہے، تبدیلی کی ہے اور ان کے سردار کمزوروں سے یا یہ کہ عبداللہ بن ابی منافق اور…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ۔۔ : رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے تو صرف مشرکین سے واسطہ تھا، مدینہ میں آئے تو منافقین اور یہود کی سازشیں بھی ساتھ مل گئیں، اس پر تسلی دینے کے لیے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کی وجہ سے غمگین نہ ہوں جو کفر میں دوڑ کر جاتے ہیں، یعنی جب بھی انھیں کوئی موقع ہاتھ آتا ہے فوراً کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں، کافروں سے مل جاتے ہیں۔ اس کا تعلق منافقین سے ہے۔ (رازی)
وَمِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا۔۔ : یعنی کفر میں دوڑ کر جانے والے یہودی بھی آپ کو غمگین نہ کریں۔ ”سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ“ جو جھوٹی باتیں بہت سنتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ان کو ان کے مذہبی پیشوا تورات میں تحریف کر کے اور رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 41۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الرسول لا یحزنک “۔ اس آیت کے سبب نزول میں تین اقوال ہیں۔
بعض علماء نے فرمایا : یہ بنی قریظہ اور بنی نضیر کے بارے نازل ہوئی ایک قریظی نے نضیری کو قتل کردیا، بنو نضیر جب بنی قریظہ کا قتل کرتے تو وہ انہیں قصاص نہ دیتے بلکہ وہ انہیں دیت دیتے تھے جیسا کہ آگے بیان آئے گا پس وہ فیصلہ نبی مکرم ﷺ کے پاس لائے آپ نے قرظی اور نضیری کے درمیان برابری کا فیصلہ کیا، نبو نضیر کو یہ اچھا نہ لگا اور انہوں نے اسے قبول نہ کیا (1) (زاد المسیر جلد 2 صفحہ 211)
بعض علماء نے فرمایا : یہ ابو لبابہ کے باے میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے اسے بنی قریظہ…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت یایھا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہودی ہیں۔ (اور) لفظ آیت من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم سے منافق مراد ہے۔
(2) امام احمد، ابو داؤد، ابن جریر، ابن منذر، الطبرانی، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت لفظ آیت ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون اللہ تعالیٰ نے یہود کی دو جماعتوں کے بارے میں اتاری ہے کہ وہ ان میں سے ایک دوسری پر غالب آگئی۔ زمانہ جاہلیت میں یہاں تک کہ دونوں…
Read the full tafseer →[ يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ : اے رسول ] [ لَا يَحْزُنْكَ : چاہیے کہ غمگین نہ کریں آپ کو ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يُسَارِعُوْنَ : دوڑ دھوپ کرتے ہیں ] [ فِي الْكُفْرِ : کفر میں ] [ مِنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جنھوں نے ] [ قَالُوْٓا : کہا ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِاَفْوَاهِهِمْ؛ اپنے مونہوں سے ] [ وَ : حالانکہ ] [ لَمْ تُؤْمِنْ : ایمان لائے ہی نہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ : اور ان میں سے جو ] [ هَادُوْا : یہودی ہیں ] [ ڔ سَمّٰعُوْنَ : بہت ٹوہ لگانے والے ہیں ] [ لِلْكَذِبِ : جھوٹ (پھیلانے ) کے لیے ] [ سَمّٰعُوْنَ : جاسوسی کرنے والے ہیں ] [ لِقَوْمٍ…
Read the full tafseer →یہودیوں کی شرارت اور جسارت اور تحریف کا تذکرہ
جیسا کہ ہم نے (یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الِّتیْ ) (آخر تک) کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہودی زمانہ قدیم سے آکر آباد ہوگئے تھے جب خاتم النّبیین ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں نے باوجود یکہ آپ کو جان لیا اور آپ کی جو صفات تورات شریف میں پڑھی تھیں ان کے مطابق آپ کو پالیا تب بھی باستثناء معدودے چند افراد کے یہ لوگ مسلمان نہ ہوئے اور طرح طرح سے مخالفت کرنے لگے اور تکلیفیں دینے لگے انہیں لوگوں میں سے منافق لوگ بھی تھے جنہوں نے ظاہر میں اسلام کا کلمہ پڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
تسلیہ رسول کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم وذکر خیانت یہود درحکم زنا درتورات مذکور بود۔
قال تعالی، یا ایھا الرسول لایحزنک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ بالمومنین۔
شان نزول۔
ان آیات میں اخیر رکوع تک یہود کی ایک خاص خیانت کا ذکر ہے قصہ یہ ہوا کہ ایک مرتبہ خیبر کے ایک معزز گھرانہ کے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت نے زنا کیا توریت میں زنا کی سزا سنگسار کرنا تھی لیکن جب یہودی اس سزا کو معزز گھرانوں پر جاری نہ کرسکے تو توریت میں تحریف کرکے اپنی طرف سے یہ سزابنائی کہ زانی اور زانیہ کا منہ کالا کرکے ان کو گدھے پر سوار کرکے شہر میں پھراتے اور سو تازیانے لگاتے خبیر میں جب یہ واقعہ پیش آیا تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →67 یَا ایُّھَا الرَّسُوْلُ الخ حصہ اول میں نفی شرک فعلی اور نفی شرک اعتقادی کے تفصیلی بیان کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دی۔ لَایَحْزُنْکَ یعنی جو لوگ کفر و شرک کی طرف دوڑ دوڑ کر جارہے ہیں ان کا رویہ آپ کو غم میں نہ ڈالے اور آپ کو پریشان نہ کرے اور یہ لوگ دو گروہ ہیں ایک منافقین دوم یہود۔ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا الخ۔ مِنْ بیانیہ ہے اور یہ اَلَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ کے پہلے گروہ کا بیان ہے یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زبانوں سے تو ایمان لانے کا اقرار اور شرک فعلی اور شرک اعتقادی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے ان کے دلوں میں وہی کفر و شرک کی پلیدی موجود ہے زبان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
ربط آیات
گذشتہ رکوعات میں پہلے اہل کتاب کی طرف سے نقض عہد کا ذکر ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کی قباحت بیان فرمائی آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ ہوا ‘ ا ن میں سے ایک نے فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کردیا ‘ پھر بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں قاتل بھائی کی بیوقوفی کا ذکر بھی ہوا اور پھر اس کے آخرت کے انجام کی نشاندھی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قتل نفس کی برائی سے آگاہ کیا اور تورات میں موجود انسانی جان کے تحفظ کا قانون ان کو یاد کرایا پھر ڈاکے اور چوری کے جرائم کا تذکرہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سزائیں بھی بیان فرمائیں۔ اہل…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ 0ۚۛ وَمِنَ الَّذِيْنَ ہَادُوْا 0ۚۛ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ 0ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ 0ۭ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ 0ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا 0ۭ وَمَنْ يُّرِدِ اللہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَـيْـــــًٔـا 0ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللہُ اَنْ يُّطَہِّرَ قُلُوْبَہُمْ 0ۭ لَہُمْ فِي الدُّنْيَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ترکیب : الذین یسارعون الخ فاعل لایحزنک مفعول من الذین قالوا۔ الذین یسارعون کا بیان۔ ومن الذین ھادوا معطوف ہے من الذین قالوا پر۔
تفسیر : پہلی آیات میں شرائع اور احکام بیان ہوئے جن کی مخالفت کرنا دو قوموں سے متوقع تھا۔ اس لئے نبی ﷺ کو تسلی کے طور پر فرماتا ہے کہ ان کفر میں کوشش کرنے والی قوموں من الذین قالوا امنا الخ منافقین اور من الذین ھادوا یہود سے کچھ رنج و غم نہ کرو کیونکہ امر حق کی مخالفت ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ منافقین کی یہ دو خصلتیں ہیں : اول سماعون کہ وہ جھوٹی باتیں بہت جلد قبول کرتے ہیں جو کوئی اسلام کی مذمت میں ان سے کیسی ہی بےاصل بات کیوں نہ کہے اس کو مان لیتے ہیں یا یہ معنی کہ آپ سے…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاھِھِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُھُمْ ج وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا ج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا ط وَمَنْ یُّرِدِ اللہ ُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَیْئًا ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللہ ُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْط لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ لا وَّلَھُمْ فِی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیاخطاب شروع ہوتا ہے۔
رسول کریم ﷺ کی شب و روز کی پر خلوص محنت کے باوجود منافق آپ کو تکلیف دینے، مسلمانوں کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خلاف ہر زہ سرائی کرنے میں آگے ہی بڑھتے جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ یہودیوں کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے جھوٹ سننے اور اسے آگے پھیلانے کا مستقل مشغلہ اختیار کر رکھا تھا۔
1۔ یہودی اپنے علماء سے جھوٹے مسائل سنتے اور ان کو آگے پھیلاتے تھے۔
2۔ یہودی جھوٹ سننا پسند کرتے اور جھوٹی باتیں لوگوں تک پہنچاتے تھے تاکہ لوگ نبی اکرم ﷺ اور اسلام سے دور رہیں۔
یہودیوں کی دوسری بدترین عادت یہ تھی اور ہے کہ یہ نبی ﷺ کے ارشادات کو توڑ مروڑ کر اور قرآن کو اس کے سیاق…
Read the full tafseer →منافقین کے منصوبوں کی پرواہ نہ کریں :
آیت 41 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ (اے رسول جو لوگ کفر میں دوڑ دوڑ گرتے ہیں آپ کو مغموم نہ کریں) لَایَحْزُنْکَکا معنی اہمیت نہ دیں کفر کی طرف منافقین کے جلد بھاگ جانے کو۔ اور پرواہ نہ کریں یعنی اسلام کے متعلق ان کی خفیہ تدابیر کے ظاہر ہوجانے کو زیادہ اہمیت نہ دیں۔ اور اسی طرح ان کی مشرکین کے ساتھ موالات ظاہر ہونے کی پرواہ نہ کریں۔ میں ان کے خلاف تمہارا مددگار اور ان کے شر کے لیے کافی ہوں۔ کہا جاتا ہے اسرع فیہ الشیب یعنی وہ جلد بوڑھا ہوگیا۔ اس طرح کفر میں ان کی مسارعت سے مراد جلد کفر اختیار کرنا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 41, 40, 39
تفسیر : (فمن تاب من بعد ظلمہ پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد) یعنی اپنی چوری کے بدع (واصلح اور اصلاح کی) اپنے عمل کی (فان اللہ یتوب علیہ ط ان اللہ غفور رحیم تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہیض یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ اس سے آخرت میں پکڑ نہ ہوگی۔ بہرحال دنیا میں ہاتھ کٹنا تو اکثر علماء کے نزدیک توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ چور کو توبہ کی ضرورت نہیں جب ہاتھ کاٹا جائے گا تو توبہ حاصل ہوجائے گی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ کاٹنا جرم کی سزا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ ” یہ اس کے عمل کی سزا ہے “ اس کے بعد…
Read the full tafseer →صحیح مسلم کی براء بن عازب ؓ کی روایت کے موافق صحیح شان نزول ان آیتوں کی وہی سنگساری کا قصہ ہے جس کا ذکر عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث کے حوالے سے آتا ہے 4 ؎۔ غرض دنیا کے چوروں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں جن کے چوروں کا ذکر فرمایا۔ ان چوروں میں ایک گروہ تو منافقوں کا تھا جو ظاہر میں مسلمان تھے۔ اور ان کے دل میں منافق پنے کا چور لگا ہوا تھا۔ دوسرا گروہ وہ یہود کا تھا کہ انہوں نے تورات کے بہت سے احکام اپنی طرف سے بنائے تھے اور اصل احکام کو اس طرح چھپا رکھا تھا جس طرح چور کسی چوری کی چیز کو چھپاتا ہے اپنے بنائے ہوئے احکام کو رواج دینے کے لئے یہود کے علماء یہ بھی شرارت کیا کرتے تھے کہ اپنے جاہل لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
چور اس شخص کو کہا اجتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔
سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔
(1) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
بیت المال سے چوری پر سزا
بیت المال سے چوری کرنے والے کی قطع ید کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، زفر امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ بیت المال کے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ حضرت علی ، ابراہیم نخعی اور حسن بصری کا یہی قول ہے۔ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ قطع ید ہوگی ۔ حماد بن ابی سلیمان کا بھی یہی قول ہے ۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے ابن عبید بن الابرض سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت کے پانچویں حصے سے ایک خود لوہے کی ٹوپی چرا لی تھی ۔ آپ نے اس کی قطع ید کا حکم نہیں دیا اور…
Read the full tafseer →98 ادب رسالت سے متعلق ایک اہم ادب کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد ربانی میں ادب رسالت سے متعلق ایک اہم ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ حضرت رسالت ماب ﷺ کو نام لے کر پکارنے کی بجائے انکو کسی خاص وصف ہی سے پکارا جائے۔ اسی لئے پورے قرآن مجید میں کسی ایک مقام پر بھی پیغمبر کو نام کے ساتھ، یعنی " یا محمد " کہہ کر نہیں پکارا گیا کہ نام لے کر پکارنا تقاضائے ادب کے خلاف ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے پنجاب کا بدعتی دھڑلے سے کہتا اور نظم بنا کر کہتا ہے کہ ۔ اسیں یا محمد کہندے رہنا اے ۔ انہاں نجدیاں جلدے رہنا اے ۔ اور پھر بھی دعویٰ ہے عشق رسول کا ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ نیز اس ارشاد ربانی میں نئی تہذیب کے…
Read the full tafseer →کفار کی چالیں اور سزا
تشریح : سورة مائدہ کے تیسرے رکوع سے اہل کتاب کا ذکر چلا آ رہا تھا، درمیان میں کچھ دوسرے خاص مضامین آگئے اب پھر اہل کتاب ہی کا ذکرشروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ اس آیت کا شان نزول دو واقعات کا سبب ہے۔ جو مدینہ کے آس پاس دو یہودی قبائل میں پیش آئے۔ ایک واقعہ قتل و قصاص کا اور دوسرا زنا کا ہے۔ یہود کی یہ پرانی عادت تھی کہ اپنے دنیاوی فائدں کے مطابق اپنی تورات سے ہٹ کر خود ہی فتوے بنا لیا کرتے تھے۔ خصوصاً سزائوں کے معاملہ میں تو امیر و غریب کی وجہ سے خود ہی ردوبدل کرلیا کرتے تھے۔ ان کے اس رویہ کو مذکورہ آیت میں بیان کیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ اہل ِ کتاب تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 6 کفر پر دوڑے پڑتے ہیں یعنی جب بھی انہیں کوئی مقع ہاتھ آتا ہے تو فورا کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں یا کافروں سے مل جاتے ہیں اس کا تعلق منافقین سے ہے ( کبیر )
7 جھوٹی باتیں سنتے ہیں یعنی جو کچھ ان کے روسا تورات میں تحریف کرکے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طعن پر کہتے ہیں اسے قبول کرلیتے ہیں اور پھر یہ ان لوگوں کے جاسوس بن کر آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں جو وازراہ تکبر آپ ﷺ کی مجلس میں آنا پسند نہیں کرتے (کبیر)8 یعنی تورات میں تحریف کرتے ہیں اسکے الفاظ بھی بد دیتے ہیں اور غلط تاویلیں بھی کرتے ہیں جس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہیں مثلا انہوں نے رجم (سنگساری) کی بجائے جلدکوڑوں کی کی سزا مقرر کررکھی…
Read the full tafseer →(5:41) لا یحزنک تجھے رنجیدہ نہ کرے۔ تجھے دلگیر نہ کرے۔
یسارعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مسارعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ دوڑ لگاتے ہیں اس میں دو گروہوں کا ذکر ہے الذین یسارعون فی الکفر اور الذین ھادو۔ اور اگر ایک ہی گروہ مثلاً الذین یسارعون فی الکفر مراد ہے تو پھر اس گروہ کے آدمیوں کا آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کے لئے دوڑ لگانا ہے۔
سمعون۔ خوب کان لگا کر سننے والے جاسوس۔ مسع سے مبالغہ کا صیغہ جمع مذکر سماع کی جمع۔ خوب کان لگا کر سننا۔ کبھی تو نقص بینی اور جاسوسی کے لئے ہوتا ہے اور کبھی قبول کرنے اور ماننے کے لئے۔ چناچہ سماع کا استعمال جاسوس اور مطیع دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
آیت نمبر 41 تا 43
لغات القرآن : لایحزن (وہ رنجیدہ نہ کریں۔ غمگین نہ ہوں) ۔ یسارعون (مسارعۃ) ۔ وہ دوڑتے ہیں۔ افواہ (فوہ) منہ۔ لم تؤمن (ایمان نہیں لائے) ۔ ھادوا (جو یہودی بن گئے) ۔ سمعون (بہت زیادہ سننے والے۔ جاسوسی کرنے والے) لم یا توک (وہ تجھ تک نہیں پہنچے) ۔ اوتیتم (تم دئیے گئے) ۔ خذوا (پکڑلو۔ لے لو) ۔ لم تؤتوا (تمہیں نہ دئیے گئے) ۔ احذروا (بچتے رہو) ۔ لن تملک (تو ہرگز مالک نہ ہوگا۔ تیرے بس میں نہ ہوگا) ۔ ان یطھر (یہ کہ وہ پاک کئے جائیں) ۔ اکلون (بہت کھانے والے) ۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کو اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →ان آیتوں میں دنیا کے چوروں کا ذکر فرمایا ۔ چوروں کے ذکر کے بعد دین کے چوروں کا ذکر فرمایا۔ ان چوروں میں ایک گروہ تو منافقوں کا تھا جو ظاہر میں مسلمان تھے اور ان کے دل میں منافقت کا طور تھا۔ دوسرا گروہ یہود کا تھا کہ انہوں کے توریت کے بہت سے احکام اپنی طرف سے بنائے تھے اور اصل احکام ایسے چھپائے تھے جیسے چور چوری کی چیز چھپاتا ہے۔ اپنے بنائے ہوئے احکام کو رواج دینے کے لئے یہود کے علماء یہ بھی شرارت کیا کرتے تھے کہ اپنے جاہل لوگوں کے بعضے مقدمات آنحضرت ﷺ کے پاس فیصلہ کو بھیج دیا کرتے تھے، اور ان کو ہدایت کردیا کرتے تھے کہ توریت کے موافق فیصلہ کریں تو مان لینا ورنہ ہرگز نہیں۔ یہود اور منافقوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[33] یعنی جھوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اس کو یہ جی لگا کر سنتے ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ خبریں اس لئے سنتے ہیں کہ جھوٹ بولیں اور افواہیں پھیلائیں۔
[34] یعنی جاسوس بن کر آتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے مسلمانوں کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ غلط بیانیاں اور افترا پردازیاں کرنے کے لئے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ ان لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جنہیں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے براہ راست تعلقات پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔
[53] یعنی ان کے مطلب کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔
[63] اللہ کی طرف سے کسی کو آزمائش میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →انبیاء (علیہم السلام) کی بےچینی :
(ف 2) مقصد یہ ہے کہ رسول چونکہ پیکر ہوتا ہے خلوص اور شفقت کا اور حضور ﷺ ختم الرسل ہیں یعنی خلوص اور شفقت کی انتہائی اور آخری صورت اس لئے ضرور ہے کہ آپ ﷺ کو کفر ونفاق سب سے زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو ۔
(آیت) ” لایحزنک “ میں تلقین یہ ہے کہ آپ ﷺ جس درد سے بےچین ہیں ‘ اس میں تخفیف پیدا کیجئے کیونکہ جب یہی لوگ کفر ونفاق کی وجہ سے دکھ محسوس نہیں کرتے تو آپ کیوں حزن وملال سے کام لیں ۔
باوجود حضور ﷺ کی شفقتوں کے یہ منافقین کا گروہ ہمیشہ اسلام کی برکات سے محروم رہا اور ان کے دل آیات وبراہین دیکھنے کے باوجود خبث وکفر کے حامل رہے ، اس لئے خدا نے فرمایا کہ جب یہی اصلاح و…
Read the full tafseer →ف 2 اے رسول وہ لوگ جو کفر کی باتوں میں جلدی سے جاگرتے ہیں اور دوڑ دوڑ کر کفر کی باتوں میں گرتے ہیں یہ لوگ آپ کو متاسف اور غمگین نہ کریں یعنی آپ ان کی حرکات سے متاثر نہ ہوں خواہ یہ لوگ ان میں سے ہوں جو اپنے منہ سے اور اپنی زبانوں سے تویوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے …… اور خواہ یہ لوگ ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں یہ لوگ جھوٹی اور غلط باتیں سننے کے عادی ہیں یہ آپ کی باتیں دوسرے لوگوں تک پہنچانے کو خوب کان لگا کر سنتے ہیں وہ دوسرے لوگ وہ ہیں جنہوں نے خود آپ کی خدمت میں حاضر ہونا گوارہ نہیں کیا اور خود آپ تک نہیں آئے۔ ان دوسرے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ کلام الٰہی کو…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی بےتکلف رغبت سے ان باتوں کو کرتے ہیں۔
4۔ مراد منافقین ہیں جو کہ ایک واقعہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
5۔ یہ تخلیقی منظوری اس گمراہ کے عزم گمراہی کے بعد ہوتی ہے۔
6۔ کیونکہ یہ عزم ہی نہیں کرتے اس لیے اللہ تطہیر تخلیقی نہیں فرماتے بلکہ ان کے عزم گمراہی کی وجہ سے تخلیقا ان کا خراب ہونا ہی منظور ہے۔ پس قاعدہ مذکورہ کے موافق کوئی شخص ان کو ہدایت نہیں کرسکتا مطلب یہ کہ جب یہ خود خراب رہنے کا عزم رکھتے ہیں اور عزم کے بعد اس فعل کی تخلیق عادت الہیہہ ہے اور تخلیق الہی کو کوئی روک نہیں سکتا تو پھر ان کے راہ پر آنے کی کیا توقع کی جائے اس سے رسول اللہ ﷺ کو زیادہ تسلی ہوسکتی ہے جس سے کلام…
Read the full tafseer →سزائیں تجویز کرنے والا مالک الملک بھی ہے اور قادر مطلق بھی :
117: زیر نظر آیت کا ربط و مناسبت پچھی آیات سے یہ ہے کہ پچھلی آیات میں ڈاکہ اور چوری کی حدود شرعیہ جن میں ہاتھ پاؤں یا صرف ہاتھ کاٹ ڈالنے کے سخت احکام ہیں۔ ظاہر نظر میں یہ احکام شرافت انسانی اور اس کے اکرم المخلوقات ہونے کے منافی ہیں۔ اس شبہ کے ازالہ کے لئے اس آیت میں اللہ جل و شانہ نے پہلے اپنا مالک حقیقی ہونا سارے جہان کے لئے بیان فرمایا ہے پھر اپنے قادر مطلق ہونے کا ذکر فرمایا اور انکے درمیان میں ارشاد فرمایا کہ وہ صرف سزایا عذاب ہی نہیں دیتا بلکہ معاف بھی فرماتا ہے اور اس معافی اور سزا کا مدار اس کی حکمت پر ہے کیونکہ وہ جس طرح…
Read the full tafseer →Sequence of the Verses
Continued from the third Section of Surah al-Ma'idah was the subject around the People of the Book. In between, some other subjects, though very few, appeared where particularly appropriate. Now, the text resumes that subject again which goes on further ahead. The People of the Book already had two groups among them. Joining them was a third group. They were really Jews who had become Muslims hypocritically. They would show their Muslim face before Muslims but when they sat with their coreligionist Jews, they mocked Islam and Muslims. The three verses appearing above…
Read the full tafseer →62. This verse refers to those who devoted all their capacities and efforts to ensure that the status quo ante of Jahiliyah remained intact, and that the reformative mission of Islam should fail to set right the corruption that had come down to them from the past. Disregarding all moral scruples, these people used the vilest methods against the Prophet (peace be on him). They deliberately suppressed the truth and resorted to lying, deceit, treachery and low cunning in order to frustrate the mission of the Prophet (peace be on him) who was engaged in a tireless struggle actuated by absolute…
Read the full tafseer →