Explained with ayahs 38–40
احکام جرم و سزا
حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْمَآىِٕدَة 61
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اپنے نفس کو چوری سے پاک کر کے اللہ کا صالح بندہ بن جائے وہ اللہ کے غضب سے بچ جائے گا، اور اللہ اس کے دامن سے اس داغ کو دھو دے گا۔ لیکن اگر کسی شخص نے ہاتھ کٹوانے کے بعد بھی اپنے آپ کو بدنیتی سے پاک نہ کیا اور وہی گندے جذبات اپنے اندر پرورش کیے جن کی بنا پر اس نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ تو اس کے بدن سے جدا ہوگیا مگر چوری اس کے نفس میں بدستور موجود رہی، اس وجہ سے وہ خدا کے غضب کا اسی طرح مستحق رہے گا جس طرح ہاتھ کٹنے سے پہلے تھا۔ اسی…
Read the full tafseer →بعد کی آیت میں ارشاد فرمایااَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی کیا آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و حکومت صرف اللہ کی ہے، اور اس کی یہ شان ہے کہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“۔
اس آیت کا ربط و مناسب پچھلی آیات سے یہ ہے کہ پچھلی آیات میں ڈاکہ اور چوری کی حدود شرعیہ جن میں ہاتھ پاؤں یا صرف ہاتھ کاٹ ڈالنے کے سخت احکام ہیں، ظاہر نظر میں یہ احکام شرافت انسانی اور اس کے اکرم المخلوقات ہونے کے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔
ایک تنبیہ : اَلَمْ تَعْلَمْ کا خطاب عام ہے۔ یہ عام خطاب کے ساتھ تنبیہ ہے کہ آسمان و زمین میں سارا اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی جس کو چاہے سزا دے گا جس کو چاہے بخشے گا، کسی دوسرے کے لیے اس میں کسی چون و چرا اور کسی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس وجہ سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے قانون کے تابع اور اس کے حوالے کرے نہ کوئی اس سے بھاگنے کی کوشش کرے، نہ کوئی اس سے دوسروں کو بچانے کی تدبیریں سوچے اور نہ کسی کے زور و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 1 اس توبہ سے مراد عند اللہ قبول توبہ ہے۔ یہ نہیں کہ توبہ چوری یا کسی اور قابل حد جرم کی سزا معاف ہوجائے گی حدود، توبہ سے معاف نہیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
31: ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلینے سے حد کی سزا معاف ہوجاتی تھی، یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں، لہذا امام ابوحنیفہ ؒ کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے، یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہوگا کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے گا، اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کرلے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا ان کو وہ سامان واپس کرے الا یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)
” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام…
Read the full tafseer →7 جب حقیقی سلطنت و حکومت اسی کی ہے تو بلاشبہ اسی کو یہ اختیار ہوگا کہ جسے مناسب جانے معاف کر دے اور جسے اپنی حکمت و عدل کے موافق سزا دینا ہے سزا دے اور نہ صرف یہ کہ اسے معاف کرنے اور سزا دینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں بلکہ ان اختیارات کے استعمال سے کوئی روکنے والا بھی نہیں کیونکہ ہر چیز پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 40 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
اب یہاں پھر ذکر آ رہا ہے ان لوگوں کا جو دوغلی پالیسی پر کاربند تھے ‘ لیکن سورة البقرۃ کی طرح یہاں بھی روئے سخن قطعیت کے ساتھ واضح نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اس کا انطباق منافقین پر بھی ہوگا اور اہل کتاب پر بھی۔ منافق اہل کتاب میں سے بھی تھے ‘ جن کا میلان اسلام کی طرف بھی تھا اور چاہتے بھی تھے کہ مسلمانوں میں شامل رہیں لیکن وہ اپنے ساتھیوں کو بھی چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔ تو یہ لوگ جو مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِک کی مثال تھے ‘ یہ دونوں طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
72 حرابہ یا ڈکیتی کی سزا بیان کرنے کے بعد اب چور کی سزا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ چور کی سزا میں دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ اور پہلی بار کی چوری پر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ پہنچے تک کاٹا جائے گا۔ (اور یہ سب باتیں سنت سے ثابت ہیں) تاکہ وہ آئندہ کے لیے ایسی حرکت سے باز رہے اور دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ اور اگر اس سے مال مسروقہ برآمد ہوجائے تو وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے گا اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث کا مطالعہ مفید ہوگا۔
1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک مخزومی عورت (فاطمہ) نے چوری کی تو قریش کو (ہاتھ کٹ جانے پر) بہت فکر لاحق ہوئی۔ کہنے لگے کون ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں رسول اللہ سے بات کرے اور…
Read the full tafseer →140 ۔ (اے مخاطب ! ) پھر یاد دلا دیا ہے کہ جس نے یہ سزائیں تجویز کی ہیں، بس وہی ایک مالک حقیقی اور قادر تحقیقی ہے۔ الم تعلم میں خطاب عام ہر انسان کے لیے ہے۔ قیل معناہ الم تعلم ایھا الانسان فیکون خطابا لکل واحد من الناس (معالم)
141 ۔ (اور کوئی چیز اس پر قدرت نہیں رکھتی) وہ حاکم مطلق ہے، آمر علی الاطلاق ہے۔ وہ کسی قانون سے مجبور نہیں کہ مجرم کو ہمیشہ سزا ہی دے۔ اس میں تردید آگئی ہندی مشرکوں کے قانون ” کرم “ (ناگزیر مکافات عمل) کی۔ (آیت) ” یعذب من یشآء “۔ لیکن وہ سزا اسی کو دیتا ہے جو سزا ہی کے لائق ہے (آیت) ” یغفرلمن یشآء “۔ یہ معافی چاہے صرف آخرت میں، چاہے دونوں جگہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
شان نزول : والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما : جس مخزومی عورت کے چوری کے واقعہ کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں کچھ اس طرح مذکور ہے فتح مکہ کے وقت ایک مخزومی عورت نے چوری کی تھی یہ عورت چونکہ شریف اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے قریش کیلئے اس کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا، اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید سے آنحضرت ﷺ کی خدمت کی سفارش کرائی، آپ کو یہ سفارش سن کر غصہ آگیا تو آپ نے فرمایا تعزیرات الہیٰ میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ دخل ہوسکتا ہے ؟ بالفرض اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائیگا، غرض آپ نے اس عورت کا…
Read the full tafseer →الم تعلم (اے نبی ! ) کیا آپ کو معلوم نہیں۔ خطاب رسول اللہ ﷺ کو اور رُوئے خطاب امت کی طرف ہے یا مخاطب عام ہے یعنی اے انسان کیا تو نہیں جانتا۔
ان اللہ لہ ملک السموات والارض کہ اللہ ہی کی ہے حکومت آسمانوں کی اور زمین کی۔
یعذب من یشآء ویغفرلمن یشآء (گناہگاروں میں سے) وہ جس کو (عذاب دینا) چاہے گا عذاب دے گا (صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ کیونکہ عدل کا تقاضا یہ ہی ہے کہ گناہ کی سزا دی جائے) اور (اپنے فضل سے جس کے گناہ) بخشنا چاہے گا بخش دے گا (یہ اس کے فضل کا تقاضا ہے خواہ توبہ کی ہو یا نہ کی ہو)
واللہ علی کل شی قدیر اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ‘ عذاب دینے پر بھی اور معاف کردینے پر بھی۔ لازم اس…
Read the full tafseer →(40) اے محمد ﷺ کیا قرآن کریم میں اس کا علم موجود نہیں کہ آسمان و زمین کے تمام خزانے اسی اللہ کی ملکیت ہیں۔ جو عذاب کا مستحق ہے، وہ اسے عذاب اور جو مغفرت کا اہل ہے، اس کی مغفرت فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چور کو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی۔ (موضح) اس آیت کا خطاب تو رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں، یا ہر شخص سے خطاب ہے۔ (فتح البیان) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی، جو بھی جرم کرے گا اسے سزا ملے گی، اس معاملے میں کسی بڑے مرتبے والے کو چھوٹے پر فوقیت نہیں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ جس جرم پر جو سزا چاہے مقرر فرما دے، اسے مخلوق پر کل اختیار ہے۔ (قرطبی) ایک ملحد شاعر ابو العلاء معری نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر اعتراض کیا کہ دیکھیے ایک ہاتھ جس کی دیت پچاس اونٹ تھی،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 40۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموت والارض “۔ یہ نبی مکرم ﷺ وغیرہ کو خطاب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اور کسی کے درمیان قرابت نہیں جو باہمی محبت کو ثابت کرے حتی کہ کوئی یہ کہے : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، حد ہر اس شخص پر قائم کی جائے گی جو حد کے موجب کا ارتکاب کرے گا، بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ جو چاہے حکم کرے اسی وجہ سے محارب اور سارق غیر محارب کے درمیان فرق کیا، اس آیت کی نظائر پہلے گزر چکی ہیں اور ان میں کلام بھی تفصیلا ہوچکی ہے پس اعادہ کا کوئی فائدہ نہیں، واللہ الموفق، یہ احکام تھے جو آیت سرقہ کے متعلق تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(1) امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے کہا کیا میرے لئے توبہ ہے یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ آج کے دن تو اپنی خطاؤں سے اس طرح پاک ہوگئی جس دن تیری ماں نے تجھے جنا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورة المائدہ میں (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت فمن تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب علیہ ان اللہ غفور و رحیم
(2) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا لفظ آیت فمن تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب علیہ سے مراد ہے کہ حد اس (کے گناہوں) کا کفارہ ہے۔
(3) امام عبد الرزاق نے محمد بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →اَلَمْ : کیا ] [ تَعْلَمْ : تو نے نہیں جانا ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰهَ : اللہ ] [ لَهٗ : اس کی ہی ہے ] [ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ: زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] [ يُعَذِّبُ : وہ عذاب دیتا ہے ] [ مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَغْفِرُ؛اور وہ بخشتا دیتا ہے ] [ لِمَنْ : اس کو جس ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ ۭوَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ: قادر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چوروں کی سزا کا بیان
چند آیات پہلے ڈاکوؤں کی سزائیں ذکر فرمائیں اب چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کی سزا بیان کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے کرتوت کی سزا ہے جس میں دوسرے کے لئے عبرت بھی ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چور کا داہنا ہاتھ گٹہ سے کاٹ دیا جائیگا اس کے بارے میں علماء امت کے مختلف اقوال ہیں کہ کم ازکم کتنی مالیت کے چرانے پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ اور عمر بن عبد العزیز اور امام اوزاعی اور امام شافعی (رح) نے…
Read the full tafseer →اثبات ملکیت ومشیت وقدرت برائے باری تعالی۔
قال تعالی، الم تعلم ان اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ قدیر۔ آیت۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مغفرت اور رحمت کا بیان تھا اب اس آیت میں اپنی مالکیت اور کمال قدرت کو بیان فرماتے ہیں اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے بخشے اور معاف کرے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے حکم دے اور جو چاہے سزا دے وہ مالک مطلق اور حاکم مطلق ہے کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →66 اَلَمْ تَعْلَم الخ اس کا تعلق لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ سے ہے ابتدا میں مسئلہ توحید اور شرک فی التصرف کی نفی کا بیان تھا اور یہی اصل مقصد سورت ہے اس کے تحت ان عیسائیوں پر کفر کا فتوی لگایا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا شریک فی التصرف بناتے تھے اس کے بعد فرمایا اگر وہ تم سے لڑیں تو تم بھی ان سے جہاد کرو اسلیے اب بعد عہد کی وجہ سے اَلَمْ تَعْلَمْ کی تعبیر سے اصل مسئلہ توحید اور نفی شرک فی التصرف کی یاد دہانی کرائی گئی جیسا کہ سورة بقرہ میں مختلف احکام بیان کرنے کے بعد رکوع 32 میں اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا فرما کر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فساد الارض کی ایک اہم شکل ڈکیتی کا ذکر کیا تھا کہ اس میں جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا ضیاع ہونا ہے ۔ پھر ڈکیتی کی چار اقسام اور ہر ایک قسم کے لیے مقررہ سزا کا بیان ہوچکا ہے۔ اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تقوی اور جہاد کی ترغیب دی۔ پھر اللہ نے کافروں کے برے انجام سے آگاہ فرمایا۔ اب آج کے درس میں فساد فی الارض کی ایک دوسری قسم سر قہ کا بیان ہے۔ ڈاکہ اور چوری ایک ہی قبیل سے ہیں۔ تاہم ڈاکے کی صورت میں بیگانے مال پر بزور قوت قبضہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جان کا اتلاف بھی ہوتا ہے۔ اسے سرقہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ 0ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 40
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : والسارق معطوف علیہ والسارقۃ معطوف مبتداء سیبویہ کے نزدیک بوجہکے فاقطعوا خبر نہیں ہوسکتا پس خبر فیمایتلی علیکم محذوف ہے اور کہتے ہیں فاقطعوا کیونکہ الف لام السارق میں بمنزلہ الذی کے ہے۔ پس یہ مشابہ شرط ہے ‘کا خبر میں آنا درست ہوگیا۔ جزاء فاقطعوا کا مفعول لہ ہے وقس علیہ نکالا فمن تاب شرط فان اللّٰہ جواب۔
تفسیر : باغیوں اور لٹیروں کی سزا بیان کرنے کے بعد چور کی سزا بیان کرنا گویا اس بیان کا تکملہ کردینا ہے۔
والسارق والسارقۃ اگرچہ قرآن مجید میں عموماً احکام میں خطاب مردوں کی طرف ہے عورتیں تبعاً ان احکام میں شامل ہیں مگر اس آیت میں محض اس حکم کی تاکید ظاہر کرنے کی غرض سے سارق مرد چور اور…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہ َ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 40)
” کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ اللہ ہی ہے ‘ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ وہی جس کو چاہے گا سزا دے گا اور جس کو چاہے گا بخشے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔
اس آیت کریمہ میں پورے سلسلہ مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے ‘ ایک جامع بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کے قانون کی تعمیل میں حیل و حجت کرنا یا اس کی حکمتوں کو سمجھنے میں پس و پیش کرنا ‘ پھر اس کے نفاذ میں بہانے تراشنا ‘ اُخروی نجات کے لیے مصنوعی سہارے تلاش کرنا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ، سزاء وجزا کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
چوری کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے جس کا معنی ہے کہ وہ اپنے فیصلے نافذ کرنے کی پوری قوت اور اختیار رکھتا ہے۔ اور اس کے ہر قانون اور فیصلے میں بڑی حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہر انسان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ باور کروا یا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون پر معترض، توبہ اور اپنی اصلاح سے اعراض کرنے والے کو یہ جاننا چاہیے کہ زمین و آسمان کی بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ کوئی انسان اللہ کی بادشاہی سے نہ باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی اسے چیلنج کرسکتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے…
Read the full tafseer →بخشش مطیع :
آیت 40 : اَلَمْ تَعْلَمْ (کیا تمہیں معلوم نہیں) اے محمد ﷺ یا اے مخاطب اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ (کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی سلطنت ہے جس کو چاہے عذاب دے) عذاب دیں گے جو کفر پر مرجائے گا۔ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ (اور بخش دیں گے جس کو چاہیں گے) جو کفر سے تائب ہوجائے گا۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ (اللہ تعالیٰ ہر چیز پر) یعنی عذاب و مغفرت وغیرہ پر قَدِیْرٌ (قادر ہیں) نکتہ : یہاں عذاب کو مغفرت سے پہلے اس لیے ذکر کیا۔ کیونکہ چوری توبہ سے قبل کی تھی۔ یہ لف و نشر مرتب کی قبیل سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 41, 40, 39
تفسیر : (فمن تاب من بعد ظلمہ پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد) یعنی اپنی چوری کے بدع (واصلح اور اصلاح کی) اپنے عمل کی (فان اللہ یتوب علیہ ط ان اللہ غفور رحیم تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہیض یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ اس سے آخرت میں پکڑ نہ ہوگی۔ بہرحال دنیا میں ہاتھ کٹنا تو اکثر علماء کے نزدیک توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ چور کو توبہ کی ضرورت نہیں جب ہاتھ کاٹا جائے گا تو توبہ حاصل ہوجائے گی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ کاٹنا جرم کی سزا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ ” یہ اس کے عمل کی سزا ہے “ اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38 ۔ 40) ۔ راہ زنوں کے ذکر کے بعد یہ چوروں کا ذکر فرمایا چور کا ہاتھ کاٹنا اور خون بہا کا ادا کرنا شریعت محمدی سے پہلے بھی قریش میں جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی میں اسی رواج کو قائم فرمادیا ہے۔ جس عورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا اس لئے قریش نے اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت کی خدمت میں سفارش کرائی آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کیا تعزیرات الٰہی میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
آیت 40
چور اس شخص کو کہا اجتا ہے جو کسی دوسرے کا قابل احترام مال، اس کی رضا مندی کے بغیر خفیہ طور پر ہتھیاتا ہے۔ چوری کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے جو بدترین سزا کا موجب ہے یعنی دائیاں ہاتھ کاٹنا، جیسا کہ بعض صحابہ کی قرأت میں آتا ہے۔ ہاتھ کا اطلاق کلائی کے جوڑ تک ہتھیلی پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے اور اس کے بعد اسے تیل میں داغ دیا جائے تاکہ رگیں مسدود ہوجائیں اور خون رک جائے۔
سنت نبوی نے اس آیت کریمہ کے عموم کو متعدد پہلوؤں سے مقید کیا ہے۔
(1) حفاظت : چوری کے اطلاق کے لئے ضروری ہے کہ مال محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یہاں مال کی حفاظت سے مراد وہ حفاظت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
بیت المال سے چوری پر سزا
بیت المال سے چوری کرنے والے کی قطع ید کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، زفر امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ بیت المال کے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ حضرت علی ، ابراہیم نخعی اور حسن بصری کا یہی قول ہے۔ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ قطع ید ہوگی ۔ حماد بن ابی سلیمان کا بھی یہی قول ہے ۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے ابن عبید بن الابرض سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت کے پانچویں حصے سے ایک خود لوہے کی ٹوپی چرا لی تھی ۔ آپ نے اس کی قطع ید کا حکم نہیں دیا اور…
Read the full tafseer →97 اللہ کی بعض اہم صفات کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بیشک اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی اس ساری کائنات کی۔ وہ عذاب دے جس کو چاہے اور معاف فرمائے جس کو چاہے کہ وہ مختار کل اور حاکم مطلق ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ جو چاہے کرے۔ کسی میں یارا نہیں کہ وہ اس کو اپنے ارادئہ و فیصلہ کی تنفیذ سے روک سکے۔ مگر وہ چونکہ قادر مطلق ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم مطلق بھی ہے، اس لیے اس کا جو بھی کام ہوتا ہے وہ حکمت اور اس کے تقاضوں سے خالی نہیں ہوسکتا۔ پس انسان کیلئے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس کی رضا و خوشنودی کی فکر و کوشش میں لگا…
Read the full tafseer →اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
تشریح : پچھلی آیات میں جرم و سزا اور بیشمار اخلاقی، مذہبی اور جسمانی موضوعات پر قرآنی قوانین کے بارے میں مفصل بیانات گزر چکے ہیں۔ کئی کم عقل، بیوقوف کفار و مشرکین ان قوانین پر الٹے سیدھے اعتراضات کرتے ہیں۔ تو اس آیت میں اللہ رب العزت اپنے اختیارات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنی پیدائش اور ان تمام سہولیات کی پیدائش کو دیکھ کر یہ یقین کرنے میں کیوں مشکل پیش آرہی ہے کہ آسمانوں، زمین اور ہر چیز کا مالک صرف اور صرف اللہ ہی ہے۔ اس نے یہ تمام سلسلہ چلانے کے لیے جو انتظامات کر رکھے ہیں وہ انسانی سمجھ سے باہر ہیں کیونکہ اللہ کے اندازے اور کاریگری اتنی عظیم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 5 یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چورکو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی ہے ( موضح) اس آیت کا خطاب تو آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں یا ہر شخص سے شخص سے خطاب ہے (فتح البیان) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی جو بھی جرم کا ارتکاب کرے گا اسے ضرور سزا ملے گی اس معاملہ میں کسی شریف کو وضیع پر فوقیت حاصل نہیں ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی جرم پر سزا چاہے مقرر فرمادے اسے مخلوق پر اختیار کلی حاصل ہے قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(5:38) کسبا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ ان دونوں نے کمایا۔ نکالا۔ اسم نصوب۔ عبرت۔ عبرتناک سزا دینا۔ نکل ینکل تنکیلا (تفعیل) رسوا کرنا۔ بھگا دینا۔ اپنے سے ایک طرف کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت نمبر 38 تا 40
لغات القرآن : السارق (چوری کرنے والا مرد) ۔ السارقۃ (چوری کرنے والی عورت) ۔ اقطعوا (کاٹ ڈالو) ۔ کسبا (انہونے کمایا) ۔ نکالا (سزا۔ عبرت ) ۔ اصلح (اصلاح کرلی ) ۔
تشریح : مرد اور عورت دونوں کا نام وضاحت سے لے کر حکم دیا کہ چور کوئی بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ تمام فقہا متفق ہیں کہ ہاتھ گٹے پر سے کٹے اور گا اور پہلی چوری میں داہنا ہاتھ کٹے گا ۔ چور اگر چہ انسان کا مال چراتا ہے لیکن اللہ نے اسے اپنے حقوق کی پا مالی میں شمار کیا ہے ۔ اور حد قائم کردی ہے ۔ یوں سمجھ لیاجائے کہ بندہ اللہ کا ہے ۔ چناچہ بندۃ کا مال بھی اللہ کا مال ہے ۔ اگر بندہ کا مال چوری ہوگیا تو وہ حقوق اللہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چور کی سزا کا حکم
شان نزول : یہ آیت ورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت نازل ہوئی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ معظمہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی، قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا۔ اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سفارش کرائی۔ آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا :” کیا تعزیرات الہی میں بھی بندوں کا کچھ دخل ہوسکتا ہے۔ بالفرض محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی کچھ چرائے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ “ غرض آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جب اس کا ہاتھ کٹ چکا تو اس نے آپ سے پوچھا کہ یا حضرت ﷺ میری توبہ بھی قبول ہوگئی، آپ نے فرمایا :”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
[32] توبہ سے ہاتھ کاٹنے کی سزا ساقط نہیں ہوسکتی کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظام معیشت کے لئے ہے نہ کہ نفس کی پاکی کے لئے جو صرف توبہ ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) بات یہ ہے کہ اسلام چونکہ ایک کامل اور ہمہ گیر دستور العمل کا نام ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ اس میں اخلاق وروحانیت کے پہلو بہ پہلو سیاست ملکی اور تعزیرات کی بھی بہ تفصیل بیان کیا جائے اور چونکہ اس کا انتساب اس ذات گرامی سے ہے جو پاتال سے لے کر طوبی تک حکمران ہے اس لئے لازما اس میں ہمہ گیری کا رنگ نمایاں نظر آنا چاہئے اور یہی وہ چیز ہے جو اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز ومتبائن قرار دیتی ہے ۔
(آیت) ” لہ ملک السموت والارض واللہ علی کل شیء قدیر “۔ میں اسی وسعت و تفصیل کی طرف اشارہ ہے یعنی چونکہ خدائے اسلام کی قدرتیں اور اختیارات لامحدود اور وسیع ہیں اس لئے وہ دین بھی جو سچا اور حقیقی دین ہے ، اسی…
Read the full tafseer →ف 1 اور چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کی سزا یہ ہے کہ اے حکام ان دونوں کے داہنے ہاتھ کاٹ ڈالو عقوبت اللہ تعالیٰ کی جانب سے بطور سزا کے ان کی کمائی کا عوض ہے اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے پھر جو شخص اپنے اس گناہ اور زیادتی کے بعد توبہ کرے اور شرعی قاعدے کے موافق تائب ہوجائے اور آئندہ کے لئے اپنے اعمال کی اصلاح اور درستی کرے تو اللہ تعالیٰ عفو و کرم کے ساتھ اس پر توجہ فرمائے گا یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے اے مخاطب کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب آسمانوں اور زمین کی حکومت ثابت ہے اور سب آسمان و زمین…
Read the full tafseer →ف 2۔ سورت کے تیسرے رکوع سے اہل کتاب کا ذکر چلاآرہا تھا درمیان میں قدرے قلیل بعض اور مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے اب آگے پھر اسی کا ذکر اہل کتاب کی طرف عود ہوتا ہے جن میں یہود اور ان یہود میں جو منافق تھے اور نصاری سب داخل ہیں اہل کتاب کے ان ہی تینوں فرقوں کا ذکر مختلط طور پر یہاں سے دور تک یعنی ختم پارہ تک چلا گیا ہے پھر ختم سورت کے قریب خاص نصاری کے متعلق کچھ بیان آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ظلم کرنے کے بعد جس شخص نے توبہ کرلی اس نے اپنے آپ کو سنوار لیا :
116: زیر نظر آیت سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا توبہ کرنے سے دنیوی سزا بھی ساقط ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ امام احمد ، امام شافعی اور کچھ دوسرے علماء نے اس آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ اگر چور نے گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلی تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ ان لوگوں نے سورة النساء کی آیت 16 میں جو الفاظ آتے ہیں کہ : فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا 1ؕسے بھی یہ استدلال کیا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان آیات سے حد کے سقوط کا تصور صحیح نہیں ہے جب کہ کسی ملک میں اسلامی قانون جاری ہو اور حدود نافذ ہوں ۔ ہاں ! اگر حدود نافذہی نہ…
Read the full tafseer →The later verse (40) says:
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّـهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿40﴾
Do you know that to Allah alone belongs the kingdom of the heavens and the earth? He punishes whomsoever He wills and He forgives whomsoever He wills. And Allah is powerful over everything.
This verse is linked with and homogeneous to previous verses which feature stringent injunctions of the Islamic Legal Punishments for robbery and theft. A shallow look at these injunctions could give the false…
Read the full tafseer →61. Forgiveness on the part of Allah does not mean that the hand of the thief should not be cut off. It means rather that one who repents and becomes righteous by purging his soul of the sin of stealing will be spared the wrath of God, Who will remove the stain of that sin from him. But if after his hand has been cut off the person concerned does not purge himself of evil intent and continues to nurture the same impure feelings which led to his stealing and thus to the cutting off of his hand, it is evident that even though his hand has been severed from his body, stealing remains ingrained…
Read the full tafseer →