Explained with ayahs 38–40
احکام جرم و سزا
حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
سورة الْمَآىِٕدَة 61
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اپنے نفس کو چوری سے پاک کر کے اللہ کا صالح بندہ بن جائے وہ اللہ کے غضب سے بچ جائے گا، اور اللہ اس کے دامن سے اس داغ کو دھو دے گا۔ لیکن اگر کسی شخص نے ہاتھ کٹوانے کے بعد بھی اپنے آپ کو بدنیتی سے پاک نہ کیا اور وہی گندے جذبات اپنے اندر پرورش کیے جن کی بنا پر اس نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ تو اس کے بدن سے جدا ہوگیا مگر چوری اس کے نفس میں بدستور موجود رہی، اس وجہ سے وہ خدا کے غضب کا اسی طرح مستحق رہے گا جس طرح ہاتھ کٹنے سے پہلے تھا۔ اسی…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایافَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی ”جو شخص اپنی بدکرداری اور چوری سے باز آگیا اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے کیونکہ اللہ بہت بخشنے والے اور مہربان ہیں“۔ ڈاکہ زنی کی شرعی سزا جس کا بیان چند آیات پہلے آیا ہے اس میں بھی معافی کا ذکر ہے، اور چوری کی سزا کے بعد بھی معافی کا ذکر ہے، لیکن دونوں جگہ کہ معافی کے بیان میں ایک خاص فرق ہے، اور اسی فرق کی بناء پر دونوں سزاؤں میں معافی کا مفہوم فقہاء کے نزدیک مختلف ہے، ڈاکہ زنی کی سزا میں تو حق تعالیٰ نے بطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 39:۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا۔ فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
چری کی سزا : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ کا عطف محاربین پر ہے جن کا ذکر اوپر گزرا، بیچ میں جو دو آیتیں آگئی ہیں یہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تعزیرات و حدود کے بیان کے سلسلے میں بطور تنبیہ و تذکری ہیں۔ سارق اور سارہ چونکہ صفت کے صیغے ہیں اس وجہ سے ان سے اشارہ نکلتا ہے کہ ارتکابِ فعل کی نوعیت ایسی ہو کہ اس کے ارتکاب پر چوری اور اس کے مرتکب پر چور کا اطلاق ہوسکے۔ اگر کوئی ناتربیت یافتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 1 اس توبہ سے مراد عند اللہ قبول توبہ ہے۔ یہ نہیں کہ توبہ چوری یا کسی اور قابل حد جرم کی سزا معاف ہوجائے گی حدود، توبہ سے معاف نہیں ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
31: ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلینے سے حد کی سزا معاف ہوجاتی تھی، یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں، لہذا امام ابوحنیفہ ؒ کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے، یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہوگا کہ اس کا گناہ معاف کردیا جائے گا، اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کرلے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا ان کو وہ سامان واپس کرے الا یہ کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)
” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام…
Read the full tafseer →6 یعنی توبہ اگر ٹھیک ٹھیک ہو جس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ چوری کا مال مالک کو واپس کرے اور اگر تلف ہوگیا ہو تو ضمان دے اور ضمان نہ دے سکے تو معاف کرائے۔ اور اپنے فعل پر نادم ہوا اور آئندہ کے لئے اس سے مجتنب رہنے کا عزم رکھے۔ تو اس طرح کی توبہ سے امید ہے کہ حق تعالیٰ اخروی عقوبت جس کے مقابلہ میں دنیاوی سزا کی کچھ حقیقت نہیں اس پر سے اٹھا لے۔
Read the full tafseer →آیت 39 فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
لیکن اس توبہ سے جرم کی سزا دنیا میں ختم نہیں ہوگی۔ یہ جرم ہے دنیا قانون کا اور گناہ ہے اللہ کا۔ جرم کی سزا دنیا میں ملے گی ‘ گناہ کی سزا اللہ نے دینی ہے ‘ اگر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور اگر توبہ نہیں کی تو اس کی سزا بھی ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
72 حرابہ یا ڈکیتی کی سزا بیان کرنے کے بعد اب چور کی سزا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ چور کی سزا میں دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ اور پہلی بار کی چوری پر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ پہنچے تک کاٹا جائے گا۔ (اور یہ سب باتیں سنت سے ثابت ہیں) تاکہ وہ آئندہ کے لیے ایسی حرکت سے باز رہے اور دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ اور اگر اس سے مال مسروقہ برآمد ہوجائے تو وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے گا اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث کا مطالعہ مفید ہوگا۔
1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک مخزومی عورت (فاطمہ) نے چوری کی تو قریش کو (ہاتھ کٹ جانے پر) بہت فکر لاحق ہوئی۔ کہنے لگے کون ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں رسول اللہ سے بات کرے اور…
Read the full tafseer →138 ۔ (رحمت کے ساتھ یوں کہ پچھلا گناہ معاف کردے گا، اور توبہ پر استقامت کی بھی توفیق دے گا) (آیت) ” فمن تاب “۔ یہ توبہ قاعدۂ شریعت کے مطابق ہونا چاہیے، فقہاء نے کہا ہے کہ چرائی ہوئی چیز مالک کو واپس کردینا چاہیے، اور اگر تلف ہوچکی ہو تو اس کا تاوان مالک کو دے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو، تو مالک سے معاف کرانے کی کوشش کرے، کہ یہ سب شرائط تکمیل توبہ میں سے ہیں، سزائے قطع ید جو حق العباد کی اتلاف کی سزا ہے، محض توبہ سے معاف نہیں ہوجاتی۔ فاما القطع فلا یستقط عنہ بالتوبۃ عندالاکثرین (معالم) والقطع لا یستط بالتوبۃ (قرطبی) لم یسقطہ شیء ولا توبۃ السارق (ابن العربی) وقال الجمھور لا یسقط عنہ ھذا الحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
شان نزول : والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما : جس مخزومی عورت کے چوری کے واقعہ کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں کچھ اس طرح مذکور ہے فتح مکہ کے وقت ایک مخزومی عورت نے چوری کی تھی یہ عورت چونکہ شریف اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے قریش کیلئے اس کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا، اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید سے آنحضرت ﷺ کی خدمت کی سفارش کرائی، آپ کو یہ سفارش سن کر غصہ آگیا تو آپ نے فرمایا تعزیرات الہیٰ میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ دخل ہوسکتا ہے ؟ بالفرض اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائیگا، غرض آپ نے اس عورت کا…
Read the full tafseer →فمن تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب علیہ پھر جس نے اپنی بےجا حرکت کے بعد توبہ کرلی اور عمل درست کرلیا تو کوئی شک نہیں کہ اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔
توبہ سے مراد ہے کئے ہوئے گناہ پر پشیمانی اور اس کے لئے استغفار اور استغفار کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا عہد اور اصلاح سے مراد ہے ‘ اپنے اعمال کو درست کرلینا (توبہ کا معنی ہے لوٹنا جب اس کے بعد لفظ علیٰ آتا ہے اور اللہ کی طرف توبہ کی نسبت کی جاتی ہے تو رحمت کے ساتھ بندہ کی طرف متوجہ ہونے اور توبہ قبول کرنے کے معنی ہوتے ہیں پس) یَتُوْبُ عَلَیْہِ کا معنی یہ ہے کہ اللہ بندہ پر رحم کریگا اور اس کی توبہ قبول کرے گا اور آخرت میں اس کو عذاب نہیں دے…
Read the full tafseer →(39) پھر جو چوری اور قطع ید (ہاتھ کاٹے جانے) کے بعد توبہ کرکے اپنی اصلاح کرے تو توبہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ۔۔ : یہاں ظلم سے مراد چوری ہے، یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلی اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توبہ کرلینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہوجائے گی۔ نبی ﷺ نے ایک چور کے متعلق فرمایا : ”اسے لے جاؤ، اس کا ہاتھ کاٹ دو ، پھر اسے داغ دو ، پھر میرے پاس لاؤ۔“ الغرض ! اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے فرمایا : ”اللہ سے توبہ کرو۔“ اس نے کہا : ”میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تیری توبہ قبول کرے۔“ [ مستدرک حاکم : 4؍381، ح : 8150 و صححہ و قال صاحب نیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت نمبر : 38 تا 39۔
اس آیت میں ستائیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما “۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین میں کوشش اور فساد کے ذریعے اموال لینے کا ذکر کیا تو چور کے حکم کا ذکر بغیر حراب (جنگ) کے کیا جیسا کہ اس کا بیان باب کے درمیان آئے گا، اللہ تعالیٰ نے مراد چور کا ذکر عورت چور کے ذکر سے پہلے کیا جب کہ زانیہ کا ذکر زانی سے پہلی کیا اس کا بیان آخر میں آئے گا، زمانہ جاہلیت میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا زمانہ جاہلیت میں جس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا وہ ولید بن مغیرہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بھی چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مردوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(1) امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت نے کہا کیا میرے لئے توبہ ہے یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ آج کے دن تو اپنی خطاؤں سے اس طرح پاک ہوگئی جس دن تیری ماں نے تجھے جنا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورة المائدہ میں (یہ آیت) نازل فرمائی۔ لفظ آیت فمن تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب علیہ ان اللہ غفور و رحیم
(2) امام عبد بن حمید اور ابن منذر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا لفظ آیت فمن تاب من بعد ظلمہ واصلح فان اللہ یتوب علیہ سے مراد ہے کہ حد اس (کے گناہوں) کا کفارہ ہے۔
(3) امام عبد الرزاق نے محمد بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول…
Read the full tafseer →[ فَمَنْ : پھر جس نے ] [ تَابَ : توبہ کی ] [ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ : اپنے ظلم کے بعد ] [ وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کی ] [ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ] [ يَتُوْبُ عَلَيْهِ : اس کی توبہ قبول کرتا ہے ] [ ۭاِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِيْمٌ: ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چوروں کی سزا کا بیان
چند آیات پہلے ڈاکوؤں کی سزائیں ذکر فرمائیں اب چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کی سزا بیان کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے کرتوت کی سزا ہے جس میں دوسرے کے لئے عبرت بھی ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چور کا داہنا ہاتھ گٹہ سے کاٹ دیا جائیگا اس کے بارے میں علماء امت کے مختلف اقوال ہیں کہ کم ازکم کتنی مالیت کے چرانے پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ اور عمر بن عبد العزیز اور امام اوزاعی اور امام شافعی (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
حکم سیزدھم، حد سرقہ۔
قال تعالیٰ والسارق والسارقۃ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیت میں قطع الطریق کا بیان تھا جو سرقہ کبری کہلاتا ہے اب اس آیت میں سرقہ صغری چوری کی سزا کا بیان ہے ڈاکو کھلم کھلا لوٹتے ہیں اور چورچھپ کر کر چوری کرتے ہیں پہلی آیت میں ڈاکہ کا بیان کیا اب اس آیت میں چوری کا حکم بیان کرتے ہیں اور جو مرد چوری کرے اور سی طرح جو عورت چوری کرے تو کاٹ ڈالو ان کے داہنے ہاتھ گٹے پر سے بطور سزا کے اس کردار بد اور برے عمل کے عوض اور بدلہ میں خدا کی طرف سے عبرت اور تنبیہ کے لی یعنی یہ سزا جو چورکودی جارہی ہے وہ مال مسروق کا عوض اور بدلہ نہیں بلکہ اس کے فعل سرقہ کی سزا ہے تاکہ اس سے دوسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
65 وَالسَّارِقُ الخ اس کا تعلق اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ سے ہے وہاں ان لوگوں کی سزا بیان فرمائی جو قتل و غارت گری کریں اور جبراً قہراً مال چھین لیں یہاں چور کی سزا بیان فرمائی یعنی جو چھپ کر مال چرا لے خواہ مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ فَمَنْ تَابَ الخ چوری کرنے کے بعد جس نے سچی توبہ کرلی اور چوری کا مال مالک کو واپس لوٹا دیا یا اس سے معاف کرالیا اور اگر مالک معلوم نہیں تو مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا تو ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیگا اور آخرت میں اس گناہ کی ان کو سزا نہیں دے گا۔ باقی رہی چوری کی حد یعنی ہاتھ کاٹنا تو یہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فساد الارض کی ایک اہم شکل ڈکیتی کا ذکر کیا تھا کہ اس میں جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا ضیاع ہونا ہے ۔ پھر ڈکیتی کی چار اقسام اور ہر ایک قسم کے لیے مقررہ سزا کا بیان ہوچکا ہے۔ اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تقوی اور جہاد کی ترغیب دی۔ پھر اللہ نے کافروں کے برے انجام سے آگاہ فرمایا۔ اب آج کے درس میں فساد فی الارض کی ایک دوسری قسم سر قہ کا بیان ہے۔ ڈاکہ اور چوری ایک ہی قبیل سے ہیں۔ تاہم ڈاکے کی صورت میں بیگانے مال پر بزور قوت قبضہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جان کا اتلاف بھی ہوتا ہے۔ اسے سرقہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللہَ يَتُوْبُ عَلَيْہِ 0ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 39
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : والسارق معطوف علیہ والسارقۃ معطوف مبتداء سیبویہ کے نزدیک بوجہکے فاقطعوا خبر نہیں ہوسکتا پس خبر فیمایتلی علیکم محذوف ہے اور کہتے ہیں فاقطعوا کیونکہ الف لام السارق میں بمنزلہ الذی کے ہے۔ پس یہ مشابہ شرط ہے ‘کا خبر میں آنا درست ہوگیا۔ جزاء فاقطعوا کا مفعول لہ ہے وقس علیہ نکالا فمن تاب شرط فان اللّٰہ جواب۔
تفسیر : باغیوں اور لٹیروں کی سزا بیان کرنے کے بعد چور کی سزا بیان کرنا گویا اس بیان کا تکملہ کردینا ہے۔
والسارق والسارقۃ اگرچہ قرآن مجید میں عموماً احکام میں خطاب مردوں کی طرف ہے عورتیں تبعاً ان احکام میں شامل ہیں مگر اس آیت میں محض اس حکم کی تاکید ظاہر کرنے کی غرض سے سارق مرد چور اور…
Read the full tafseer →فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہ َ یَتُوْبُ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 39)
” اور جس شخص نے اس ظلم و سرکشی کے بعد توبہ کرلی اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی ‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے ‘ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں ‘ رحم کرنے والے ہیں “۔
توبہ کے بعد ایک مجرم سے اسلامی معاشرے کا سلوک
تمام قوموں اور انسانی معاشروں میں یہ معمول رہا ہے کہ جب کسی مجرم کو سزا دی جاتی ہے تو اس کے بارے میں طبیعتوں میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ دوبارہ ایسے آدمی کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اب وہ شخص یا تو محرومیوں کی پوٹ بن کر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے لیے توبہ اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھ کر انہیں توبہ اور اصلاح کی ترغیب دی گئی ہے۔
دنیا کے دسا تیر اور قوانین میں اس بات کا اہتمام نہیں کیا جاتا کہ ایک مجرم کو سزا دینے کے بعد اس کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے۔ یہ اعزاز بھی صرف دین اسلام کو حاصل ہے کہ وہ مجرم کو سزا دینے کے بعد نہ صرف اسے اپنی اصلاح کا موقع دیتا ہے بلکہ وہ اسے اس بات کی یقین دہانی کرواتا ہے کہ جو شخص بھی سچے دل اور اصلاح کے ارادے کے ساتھ توبہ کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو رحیم وکریم پائے گا۔ اللہ کے نبی ﷺ مجرم کو توبہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔
(عَنْ أَبِی سَعِیدٍنِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ…
Read the full tafseer →تائبین کا ذکر :
آیت 39 : فَمَنْ تَابَ (جو شخص توبہ کرے) چوری سے مِنْ 0 بَعْدِ ظُلْمِہٖ (اپنے اس ظلم ( یعنی سرقہ) کے بعد) وَاَصْلَحَ (اور اپنی درستگی کرلے) مسروقہ مال واپس کر کے فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ (اللہ تعالیٰ توبہ قبول کر کے اس کی طرف توجہ فرمائیں گے) اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں اس کا گناہ بخش دیں گے اور رحیم ہیں اس پر رحمت فرمائیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 41, 40, 39
تفسیر : (فمن تاب من بعد ظلمہ پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد) یعنی اپنی چوری کے بدع (واصلح اور اصلاح کی) اپنے عمل کی (فان اللہ یتوب علیہ ط ان اللہ غفور رحیم تو اللہ قبول کرتا ہے اس کی توبہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہیض یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے کہ اس سے آخرت میں پکڑ نہ ہوگی۔ بہرحال دنیا میں ہاتھ کٹنا تو اکثر علماء کے نزدیک توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ چور کو توبہ کی ضرورت نہیں جب ہاتھ کاٹا جائے گا تو توبہ حاصل ہوجائے گی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ کاٹنا جرم کی سزا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ ” یہ اس کے عمل کی سزا ہے “ اس کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38 ۔ 40) ۔ راہ زنوں کے ذکر کے بعد یہ چوروں کا ذکر فرمایا چور کا ہاتھ کاٹنا اور خون بہا کا ادا کرنا شریعت محمدی سے پہلے بھی قریش میں جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی میں اسی رواج کو قائم فرمادیا ہے۔ جس عورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا اس لئے قریش نے اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت کی خدمت میں سفارش کرائی آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کیا تعزیرات الٰہی میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
آیت 36
1۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جزء بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کرجاتا ہے جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ (ص۔ ی)
قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہوگا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا، اور اتنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو درد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
بیت المال سے چوری پر سزا
بیت المال سے چوری کرنے والے کی قطع ید کے مسئلے میں اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ ، زفر امام ابو یوسف ، امام محمد اور امام شافعی کا قول ہے کہ بیت المال کے چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ حضرت علی ، ابراہیم نخعی اور حسن بصری کا یہی قول ہے۔ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ قطع ید ہوگی ۔ حماد بن ابی سلیمان کا بھی یہی قول ہے ۔ سفیان نے سماک بن حرب سے اور انہوں نے ابن عبید بن الابرض سے روایت کی ہے کہ حضرت علی ؓ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت کے پانچویں حصے سے ایک خود لوہے کی ٹوپی چرا لی تھی ۔ آپ نے اس کی قطع ید کا حکم نہیں دیا اور…
Read the full tafseer →96 آخرت میں معافی کیلئے سچی توبہ ضروری ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جس نے توبہ کرلی اپنے ظلم کے بعد اور اس نے اصلاح کرلی اپنے بگاڑ کی تو بیشک اللہ اس پر توجہ فرمائے گا اپنی رحمت و عنایت سے۔ یعنی آخرت کے بارے میں کہ وہاں اس کو سزا نہیں دے گا۔ رہ گئی قطع ید کی دنیاوی سزا تو وہ اس توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ پس معلوم ہوا کہ بغیر توبہ کے آخرت کی سزا معاف نہیں ہوتی۔ روایات میں ہے کہ ایک ملحد بےدین شخص نے قطع ید کی اس اسلامی سزا پر اعتراض کیا کہ اسلام نے جب ہاتھ کی دیت پانچ سو دینار رکھی تو پھر اسے پانچ درہم کی چوری میں کاٹ دینا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟ تو اس وقت کے اہل حق میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
چوری کی سزا
تشریح : چوری کا مطلب ہے کسی کی چیز چھپ کر بغیر اجازت کے لے لینا، اسلام میں اس کے لیے سزا بڑی سخت ہے، اس لیے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ چوری کی گئی چیز کی مالیت کتنی ہے ؟ اور پھر چوری کرنے والا پاگل یا نابالغ تو نہیں۔ پھر چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت دونوں کو یہ سخت سزا ہی ملے گی اور پھر ہاتھ کاٹنے کی سخت سزا خاص حکمت پر مبنی ہے۔ کیونکہ اگر ایک کو یہ سزا مل جائے تو تمام لوگ کانپ اٹھیں گے اور عبرت حاصل کریں گے اور اس طرح ایک انتہائی غلط کام ( چوری) کی زبردست روک تھام ہوجائے گی۔ یہ حد اللہ کی طرف سے لگائی گئی ہے جو بڑا زبردست اور بہت حکمت والا ہے۔
اب اس مال کی مالیت دیکھی جائے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 4 یہاں ظلم سے مراد مسرقہ چوری ہے یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلی اللہ تعالیٰ ان کا گناہ معاف فرامائے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ توبہ کرلینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہوجائے گی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں چورتوبہ کرتے ہوئے آتے لیکن آپ ﷺ ان پر حد جاری فرماتے دار قطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایک چورکا ہاتھ کٹوایا اور پھر اس سے فرمایا تب الی الہ یعنی توبہ کرو اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف فرمائے ( از فتح القدیر ( یہ باکل صحیح ہے کہ حد دو کفارہ میں محض ان کی حیثیت زواجر کی نہیں ہو ہے مگر ساتھ ہی توبہ کی بھی ضرورت ہے۔ (ماخوذ از قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(5:38) کسبا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ ان دونوں نے کمایا۔ نکالا۔ اسم نصوب۔ عبرت۔ عبرتناک سزا دینا۔ نکل ینکل تنکیلا (تفعیل) رسوا کرنا۔ بھگا دینا۔ اپنے سے ایک طرف کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت نمبر 38 تا 40
لغات القرآن : السارق (چوری کرنے والا مرد) ۔ السارقۃ (چوری کرنے والی عورت) ۔ اقطعوا (کاٹ ڈالو) ۔ کسبا (انہونے کمایا) ۔ نکالا (سزا۔ عبرت ) ۔ اصلح (اصلاح کرلی ) ۔
تشریح : مرد اور عورت دونوں کا نام وضاحت سے لے کر حکم دیا کہ چور کوئی بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ تمام فقہا متفق ہیں کہ ہاتھ گٹے پر سے کٹے اور گا اور پہلی چوری میں داہنا ہاتھ کٹے گا ۔ چور اگر چہ انسان کا مال چراتا ہے لیکن اللہ نے اسے اپنے حقوق کی پا مالی میں شمار کیا ہے ۔ اور حد قائم کردی ہے ۔ یوں سمجھ لیاجائے کہ بندہ اللہ کا ہے ۔ چناچہ بندۃ کا مال بھی اللہ کا مال ہے ۔ اگر بندہ کا مال چوری ہوگیا تو وہ حقوق اللہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چور کی سزا کا حکم
شان نزول : یہ آیت ورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت نازل ہوئی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ معظمہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی، قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا۔ اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سفارش کرائی۔ آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا :” کیا تعزیرات الہی میں بھی بندوں کا کچھ دخل ہوسکتا ہے۔ بالفرض محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی کچھ چرائے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ “ غرض آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جب اس کا ہاتھ کٹ چکا تو اس نے آپ سے پوچھا کہ یا حضرت ﷺ میری توبہ بھی قبول ہوگئی، آپ نے فرمایا :”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
[32] توبہ سے ہاتھ کاٹنے کی سزا ساقط نہیں ہوسکتی کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظام معیشت کے لئے ہے نہ کہ نفس کی پاکی کے لئے جو صرف توبہ ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قطع ید کی حکمت :
(ف 2) اسلامی قانون تعزیرات کا مقصد یہ ہے عام انسانوں کو مضرت ونقصان سے بچایا جائے اور اگر اس سلسلے میں چند افراد کڑی سے کڑی سزا بھی جھیل لیں تو مضائقہ نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ قرون اولی میں جرائم کی رفتار تقریبا معدوم ہے اور جو چند ایسی مثالیں ملتی ہیں جن کی اخلاقی لحاظ سے مذموم کیا جاسکتا ہے تو وہاں بھی مذامت واعتراف کا یہ شان دار مظاہرہ ہے کہ مجرم خود عدالت میں آگیا ہے تاکہ اسے موزوں ومناسب سزا دی جائے ،
یہ درست ہے کہ اسلامی سزائیں ذرا سخت ہیں مگر کیا سختی ہی برکات وسعادات کا موجب نہیں ، بات یہ ہے کہ اگر ایک شخص ہاتھ کٹوا کرنا کارہ ہوجاتا ہے تو سیکڑوں انسان اس کی وجہ سے عبرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
ف 2 بلاشبہ جو لوگ کافر ہیں اور اپنے کفر پر قائم ہیں فرض کرو اگر ان میں سے ہر ایک کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور دنیا بھر کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہوں اور دنیا کی تمام چیزوں اور مال و متاع ہی پر کیا موقوف ہے بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں اور یہ سب سامان اس لئے ہو کہ وہ اس کو فدیہ میں دیکر قیامت کے عذاب سے بچ جائیں تب بھی یہ چیزیں اور یہ سب مال و متاع ہرگز ان سے قول نہ کیا جائے گا بلکہ ان کو درد ناک عذاب ہو کر رہے گا عذاب میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس امر کی خواہش کریں گے اور چاہیں گے کہ وہ آگ سے کسی طرح نکل جائیں حالانکہ ا ن کو اس آگ سے کبھی نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 1۔ اقل مقدار مال کی جس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے دس درم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
ظلم کرنے کے بعد جس شخص نے توبہ کرلی اس نے اپنے آپ کو سنوار لیا :
116: زیر نظر آیت سے یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا توبہ کرنے سے دنیوی سزا بھی ساقط ہوجاتی ہے یا نہیں ؟ امام احمد ، امام شافعی اور کچھ دوسرے علماء نے اس آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ اگر چور نے گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلی تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ ان لوگوں نے سورة النساء کی آیت 16 میں جو الفاظ آتے ہیں کہ : فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا 1ؕسے بھی یہ استدلال کیا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان آیات سے حد کے سقوط کا تصور صحیح نہیں ہے جب کہ کسی ملک میں اسلامی قانون جاری ہو اور حدود نافذ ہوں ۔ ہاں ! اگر حدود نافذہی نہ…
Read the full tafseer →The next verse (39) says:
مَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّـهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿39﴾
And whoever repents after his transgression and corrects himself, then Allah shall relent towards him. Surely, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.
It will be recalled that forgiveness was also mentioned in connection with the Prescribed Punishment for robbery appearing a few verses earlier (34) - and forgiveness has been mentioned after the punishment for theft as well. But, the statement of forgiveness at both places has a particular difference…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
60. The injunction is to cut off one not both hands. There is consensus among jurists that in the event of the first theft the right hand should be cut off. This punishment has been laid down for theft alone. The Prophet (peace be on him) declared: "There is no cutting off of a hand for he who embezzles.' (Abu Da'ud, 'Hudud', 14; Tirmidhi, 'Hudud', 18; Ibn Majah, 'Hudud', 36; Nasa'i, 'Qat' al-Sariq', 13 - Ed.) This shows that the punishment prescribed for theft does not cover acts involving embezzlement and other dishonest practices. It is applicable only to acts involving the seizure, by…
Read the full tafseer →