Explained with ayahs 38–40
احکام جرم و سزا
حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 60
دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ اور امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ لا قطع علیٰ خَائنٍ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرقہ کا اطلاق خیانت وغیرہ پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اس فعل پر ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے مال کو اس کی حفاظت سے نکال کر اپنے قبضہ میں کرلے۔
پھر نبی ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ایک ڈھال کی قیمت نبی ﷺ کے زمانہ میں بروایت عبداللہ بن عباس ؓ دس درہم، بروایت ابن عمر ؓ تین درہم، بروایت انس بن مالک ؓ پانچ درہم اور بروایت حضرت عائشہ ؓ ایک چوتھائی دینار ہوتی…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں پھر جرائم کی سزاؤں کی طرف عود کیا گیا، اور چوری کی سزائے شرعی کا بیان فرمایا گیا، شرعی سزاؤں کی تین قسمیں جو پہلے بیان ہوچکی ہیں چوری کی سزا ان کی قسم حدود میں داخل ہے، کیونکہ قرآن کریم نے اس سزا کو خود متعین فرمایا، حکام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا اور بطور حق اللہ کے متعین فرمایا ہے، اس لئے اس کو حد سرقہ کہا جاتا ہے، آیت میں ارشاد ہے
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی ”چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کردار کے بدلہ میں، اور اللہ زبردست حکمت والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
38۔ 39:۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا۔ فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
چری کی سزا : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ کا عطف محاربین پر ہے جن کا ذکر اوپر گزرا، بیچ میں جو دو آیتیں آگئی ہیں یہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تعزیرات و حدود کے بیان کے سلسلے میں بطور تنبیہ و تذکری ہیں۔ سارق اور سارہ چونکہ صفت کے صیغے ہیں اس وجہ سے ان سے اشارہ نکلتا ہے کہ ارتکابِ فعل کی نوعیت ایسی ہو کہ اس کے ارتکاب پر چوری اور اس کے مرتکب پر چور کا اطلاق ہوسکے۔ اگر کوئی ناتربیت یافتہ…
Read the full tafseer →38۔ 1 بعض فقہا ظاہری کے نزدیک سرقہ کا یہ حکم عام ہے چوری تھوڑی سی چیز کی ہو یا زیادہ کی۔ اسی طرح محفوظ جگہ میں رکھی ہو یا غیر محفوظ۔ ہر صورت میں چوری کی سزا دی جائے گی۔ جب کہ دوسرے فقہا اس کے لئے حرز اور نصاب کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ پھر نصاب کے تعین میں ان کے مابین اختلاف ہے۔ محدثین کے نزدیک نصاب رابع دینار یا تین درہم (یا ان کے مساوی قیمت کی چیز) ہے اس سے کم چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح ہاتھ رسغ (پہنچوں) سے کاٹے جائیں گے۔ کہنی یا کندھے سے نہیں۔ جیسا کہ بعض کا خیال ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے کتب حدیث و فقہ اور تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
29: وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔
30: جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں ؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 38 تا 40۔
” اسلامی معاشرہ ‘ باشندگان دارالاسلام کے لئے ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی معتدل شخص چوری کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ‘ چاہے ان باشندوں کے عقائد ونظریات جو بھی ہوں۔ اسلامی معاشرہ اپنے باشندوں کو معاشی کفالت ‘ اخلاقی تربیت اور درست طرز عمل اختیار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ نیزانصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام بھی کرتا ہے کہ اس کے اندر انفرادی ملکیت کی شکل ایسی ہو کہ وہ پوری سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو اور وہ معاشرے کے لئے باعث اذیت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردینے کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسلام اسے سخت ترین سزا…
Read the full tafseer →3 یعنی پہلی مرتبہ چوری کرے تو داہنا ہاتھ گٹے پر سے کاٹ دو ۔ باقی تفاصیل کتب فقہ میں ملیں گی۔ پچھلے رکوع میں ڈکیتی وغیرہ سزا ذکر کی گئی تھی درمیان میں بعض مناسبات کی وجہ سے جن کو ہم بیان کرچکے ہیں مومنین کو چند ضروری نصائح کی گئیں اب پھر سے پچھلے مضمون کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یعنی وہاں ڈکیتی کی سزا مذکور ہوئی تھی اس آیت میں چوری کی سزا بتلا دی۔
4 یعنی جو سزا چور کو دی جارہی ہے وہ مال مسروق کا بدلہ نہیں بلکہ اس کے معل " سرقہ " کی سزا ہے تاکہ اسے اور دوسرے چوروں کو تنبیہ ہوجائے بلاشبہ جہاں کہیں یہ حدود جاری ہوتی ہیں، دو چار ہی کی سزا یابی کے بعد چوری کا دروازہ قطعاً بند ہوجاتا ہے آجکل مدعیان "…
Read the full tafseer →آیت 38 وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا
یعنی چور کا ایک ہاتھ کاٹ دو۔
جَزَآءًً م بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰہِ ط
دیکھئے قرآن خود اپنی حفاظت کس طرح کرتا ہے اور کیوں چیلنج کرتا ہے کہ اس کلام پر باطل حملہ آور نہیں ہوسکتا کسی بھی جانب سے حٰآ السجدہ : 42۔ ذرا ملاحظہ کیجیے اس آیت کے ضمن میں غلام احمد پرویز صاحب کہتے ہیں کہ یہاں چور کا ہاتھ کاٹنے کا مطلب ہے کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں کسی کو چوری کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ یہ تو ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسا نظام ہو ‘ ریاست کی طرف سے کفالت عامہ کی سہولت موجود ہو تاکہ کوئی شخص مجبوراً چوری نہ کرے ‘ لیکن فاقْطَعُوْٓا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
72 حرابہ یا ڈکیتی کی سزا بیان کرنے کے بعد اب چور کی سزا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ چور کی سزا میں دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ اور پہلی بار کی چوری پر دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ پہنچے تک کاٹا جائے گا۔ (اور یہ سب باتیں سنت سے ثابت ہیں) تاکہ وہ آئندہ کے لیے ایسی حرکت سے باز رہے اور دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ اور اگر اس سے مال مسروقہ برآمد ہوجائے تو وہ اصل مالک کو لوٹایا جائے گا اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث کا مطالعہ مفید ہوگا۔
1۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک مخزومی عورت (فاطمہ) نے چوری کی تو قریش کو (ہاتھ کٹ جانے پر) بہت فکر لاحق ہوئی۔ کہنے لگے کون ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں رسول اللہ سے بات کرے اور…
Read the full tafseer →135 ۔ (اے حکام) اجرائے حدود شرعی وقصاص کا حق صرف اہل حل وعقد یا حکومت اسلامی کے حکام ہی کو حاصل رہتا ہے، اس لیے خطاب بھی قدرۃ انہی سے ہے۔ خطاب مع قوم فیحتمل ان یکون واقعا علی شخص متعین منھم وھو امام الزمان کمایذھب الیہ الاکثرون (کبیر) (آیت) ” السارق والسارقۃ “۔ لا کر یہ بتا دیا گیا ہے کہ مجرم قابل تعزیر کی حیثیت سے مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں، یہ نہ ہوگا کہ مجرم اگر عورت ہے تو اس کی سزا کچھ بڑھا دی جائے یا عورت ہونے کی بنا پر اس کی سزا کچھ گھٹا دی جائے۔۔ دوسری قوموں کے قانون میں مرد و عورت کے درمیان سزا کی عدم مساوات کی مثالیں کثرت سے ملیں گی، سرقہ اپنے لغوی معنی میں تو مطلقا ہر چوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
شان نزول : والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما : جس مخزومی عورت کے چوری کے واقعہ کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں کچھ اس طرح مذکور ہے فتح مکہ کے وقت ایک مخزومی عورت نے چوری کی تھی یہ عورت چونکہ شریف اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے قریش کیلئے اس کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا، اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید سے آنحضرت ﷺ کی خدمت کی سفارش کرائی، آپ کو یہ سفارش سن کر غصہ آگیا تو آپ نے فرمایا تعزیرات الہیٰ میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ دخل ہوسکتا ہے ؟ بالفرض اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائیگا، غرض آپ نے اس عورت کا…
Read the full tafseer →والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما اور چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو ۔ باجماع اہل قرأت۔
السَّارِقُاور السَّارِقَۃُ پر رفع منقول ہے۔ حالانکہ ضابطہ نحو کا تقاضا ہے کہ ایسے مقام میں نصب (زبر) لایا جائے تاکہ کسی توجیہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس لئے سیبویہ اور دوسرے نحویوں نے اس جگہ خصوصی تاویل کی ہے۔ سیبویہ نے کہا یہ دو جملے ہیں السارق والسارقۃ مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے۔ یعنی حُکْمُہُمَا فِیْمَا یُتْلٰیچور مرد اور چور عورت کا حکم ان آیات میں موجود ہے جو تم کو سنائی جا رہی ہیں اور فاقطعواجزا ہے جس کی شرط محذوف ہے یعنی اگر ان کی چوری ثابت ہوجائے تو ہاتھ کاٹ دو ۔
مبرد نے کہا جملہ ایک ہی ہے اور فعل…
Read the full tafseer →(38) چور مرد اور چور عورت کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے یہ ان کی چوری کی سزا ہے اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہے وہ چور کو سزا دینے میں غالب اور ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرنے میں حکمت والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”والسارق والسارقۃ“۔ (الخ)
امام احمد وغیرہ نے عبدال بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک عورت نے چوری کی تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میری توبہ کی گنجائش ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی پھر جو شخص توبہ کرے اپنی زیادتی کے بعد“ (الخ)۔
Read the full tafseer →وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا۔۔ : اوپر کی آیت میں محاربین (جو لوٹ مار کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں) کی سزا بیان ہوئی تھی، اب اس آیت میں چوری کی حد (قانونی سزا) بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ حدیث میں اس کی تفصیل ہے، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر دینار کے ایک چوتھائی یا زیادہ میں۔“ [ مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ و نصابھا : 2؍1684 ]
چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جاسکتا ہے، بعد میں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ ﷺ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت نمبر : 38 تا 39۔
اس آیت میں ستائیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما “۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین میں کوشش اور فساد کے ذریعے اموال لینے کا ذکر کیا تو چور کے حکم کا ذکر بغیر حراب (جنگ) کے کیا جیسا کہ اس کا بیان باب کے درمیان آئے گا، اللہ تعالیٰ نے مراد چور کا ذکر عورت چور کے ذکر سے پہلے کیا جب کہ زانیہ کا ذکر زانی سے پہلی کیا اس کا بیان آخر میں آئے گا، زمانہ جاہلیت میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا زمانہ جاہلیت میں جس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا وہ ولید بن مغیرہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بھی چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مردوں میں سے…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے نجدہ الحنفی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما کے بارے میں پوچھا کہ (یہ حکم) خاص ہے یا عام ہے ؟ فرمایا عام ہے۔
(2) عبد بن حمید نے نجدہ بن نفیع (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت والسارق والسارقۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا مردوں اور عورتوں میں سے جو بھی یہ کرے گا۔ اس پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
(3) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابوالشیخ سے چند طریق سے ابن مسعود ؓ نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت فاقطعوا ایدیھما
(4) سعید بن منصور نے ابن جریر، ابن منذر اور ابوالشیخ نے ابراہیم نخعی…
Read the full tafseer →[ وَالسَّارِقُ : اور چوری کرنے والا ] [ وَالسَّارِقَةُ : اور چوری کرنے والی (جب چوری کریں)] [ فَاقْطَعُوْٓا : تو کاٹ دو ] [ اَيْدِيَهُمَا : ان دونوں کے ہاتھ ] [ جَزَاۗءًۢ: بدلہ ہوتے ہوئے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَسَـبَا : ان دونوں نے کمایا ] [ نَكَالًا : عبرت ہوتے ہوئے ] [ مِّنَ اللّٰهِ ۭ: اللہ (کی طرف ) سے ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَزِيْزٌ : بالا دست ہے ] [ حَكِيْمٌ: حکمت والا ہے ]
س ر ق : (ض) کوئی چیز چرانا ۔ يٰٓاَبَانَآ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [ اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ] ۔ 12:81 ۔ سارق ۔ اسم الفاعل ہے ، چوری کرنے والا ۔ چور آیت زیر مطالعہ ۔ (افتعال) ۔ استراقا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چوروں کی سزا کا بیان
چند آیات پہلے ڈاکوؤں کی سزائیں ذکر فرمائیں اب چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کی سزا بیان کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے کرتوت کی سزا ہے جس میں دوسرے کے لئے عبرت بھی ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چور کا داہنا ہاتھ گٹہ سے کاٹ دیا جائیگا اس کے بارے میں علماء امت کے مختلف اقوال ہیں کہ کم ازکم کتنی مالیت کے چرانے پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ اور عمر بن عبد العزیز اور امام اوزاعی اور امام شافعی (رح) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
حکم سیزدھم، حد سرقہ۔
قال تعالیٰ والسارق والسارقۃ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیت میں قطع الطریق کا بیان تھا جو سرقہ کبری کہلاتا ہے اب اس آیت میں سرقہ صغری چوری کی سزا کا بیان ہے ڈاکو کھلم کھلا لوٹتے ہیں اور چورچھپ کر کر چوری کرتے ہیں پہلی آیت میں ڈاکہ کا بیان کیا اب اس آیت میں چوری کا حکم بیان کرتے ہیں اور جو مرد چوری کرے اور سی طرح جو عورت چوری کرے تو کاٹ ڈالو ان کے داہنے ہاتھ گٹے پر سے بطور سزا کے اس کردار بد اور برے عمل کے عوض اور بدلہ میں خدا کی طرف سے عبرت اور تنبیہ کے لی یعنی یہ سزا جو چورکودی جارہی ہے وہ مال مسروق کا عوض اور بدلہ نہیں بلکہ اس کے فعل سرقہ کی سزا ہے تاکہ اس سے دوسروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
65 وَالسَّارِقُ الخ اس کا تعلق اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ سے ہے وہاں ان لوگوں کی سزا بیان فرمائی جو قتل و غارت گری کریں اور جبراً قہراً مال چھین لیں یہاں چور کی سزا بیان فرمائی یعنی جو چھپ کر مال چرا لے خواہ مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ فَمَنْ تَابَ الخ چوری کرنے کے بعد جس نے سچی توبہ کرلی اور چوری کا مال مالک کو واپس لوٹا دیا یا اس سے معاف کرالیا اور اگر مالک معلوم نہیں تو مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا تو ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرما لیگا اور آخرت میں اس گناہ کی ان کو سزا نہیں دے گا۔ باقی رہی چوری کی حد یعنی ہاتھ کاٹنا تو یہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ربط آیات
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فساد الارض کی ایک اہم شکل ڈکیتی کا ذکر کیا تھا کہ اس میں جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا ضیاع ہونا ہے ۔ پھر ڈکیتی کی چار اقسام اور ہر ایک قسم کے لیے مقررہ سزا کا بیان ہوچکا ہے۔ اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تقوی اور جہاد کی ترغیب دی۔ پھر اللہ نے کافروں کے برے انجام سے آگاہ فرمایا۔ اب آج کے درس میں فساد فی الارض کی ایک دوسری قسم سر قہ کا بیان ہے۔ ڈاکہ اور چوری ایک ہی قبیل سے ہیں۔ تاہم ڈاکے کی صورت میں بیگانے مال پر بزور قوت قبضہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جان کا اتلاف بھی ہوتا ہے۔ اسے سرقہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَہُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللہِ 0ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 38
سرق
السَّرِقَةُ : أخذ ما ليس له أخذه في خفاء، وصار ذلک في الشّرع لتناول الشیء من موضع مخصوص، وقدر مخصوص، قال تعالی: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ [ المائدة/ 38] ، وقال تعالی: قالُوا إِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ [يوسف/ 77] ، وقال : أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ [يوسف/ 70] ، إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ [يوسف/ 81] ،
اسْتَرَقَ
السّمع : إذا تسمّع مستخفیا، قال تعالی: إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ [ الحجر/ 18] ، والسَّرَقُ والسَّرَقَةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : والسارق معطوف علیہ والسارقۃ معطوف مبتداء سیبویہ کے نزدیک بوجہکے فاقطعوا خبر نہیں ہوسکتا پس خبر فیمایتلی علیکم محذوف ہے اور کہتے ہیں فاقطعوا کیونکہ الف لام السارق میں بمنزلہ الذی کے ہے۔ پس یہ مشابہ شرط ہے ‘کا خبر میں آنا درست ہوگیا۔ جزاء فاقطعوا کا مفعول لہ ہے وقس علیہ نکالا فمن تاب شرط فان اللّٰہ جواب۔
تفسیر : باغیوں اور لٹیروں کی سزا بیان کرنے کے بعد چور کی سزا بیان کرنا گویا اس بیان کا تکملہ کردینا ہے۔
والسارق والسارقۃ اگرچہ قرآن مجید میں عموماً احکام میں خطاب مردوں کی طرف ہے عورتیں تبعاً ان احکام میں شامل ہیں مگر اس آیت میں محض اس حکم کی تاکید ظاہر کرنے کی غرض سے سارق مرد چور اور…
Read the full tafseer →وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا جَزَآئًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللہِ ط وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ حَکِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 38)
” اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت ‘ پس ان کے ہاتھ کاٹ دو ۔ یہ ان کے کرتوت کی جزا اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے “۔
چوری کی حد کس وقت لاگو ہوتی ہے ؟
قرآن کریم کا عام انداز یہ ہے کہ وہ صرف مردوں کو خطاب کر کے احکام دیتا ہے اور عورتیں بھی ان احکام میں شامل ہوتی ہیں۔ لیکن حدود کے نفاذ میں چونکہ بہت احتیاط برتی گئی ہے ‘ اس لیے یہاں مردوں اور عورتوں کو الگ الگ ذکر فرمایا گیا ہے ‘ تاکہ کہیں اس شبے کا سہارا نہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ آیات میں ڈاکہ اور رہزنی کی سزا بیان کی گئی تھی درمیان میں حسب دستور نصیحت اور تنبیہ کی گئی۔ اب چور کی سزا بیان ہوتی ہے۔
ہر قوم اور معاشرے میں طاقت اور قوت کے زور پر مال لوٹنے والے کو ڈاکو اور چھپ کر کوئی چیز اٹھانے والے کو چور کہا جاتا ہے۔ اس لیے اہل لغت اور شارحین نے چوری کی یہ تعریف کی ہے ” ایسا مال جس کو حفاظت میں رکھا گیا ہو اسے ہتھیانے والے کو چور کہیں گے ایسے شخص پر چوری کی سزا نافذ کی جائے گی “ پہلی دفعہ چوری کرنے والے سے مال وصول کرتے ہوئے اس کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر دوسری دفعہ چوری کرتا ہے۔ تو اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے گا۔ بعض لوگ غیر مسلموں…
Read the full tafseer →چوری کی سزا :
آیت 38 : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ (اور جو مرد چوری کرے اور جو عورت چوری کرے)
نحو : یہ دونوں مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہیں۔ خبر ان کی محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ فیما یتلی علیکم السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیہما۔ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَہُمَا (سو ان دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو) ایدی بول کر دونوں دائیں ہاتھ مراد ہیں۔ اس کی دلیل قراءت عبداللہ بن مسعود ؓ ہے فا اس لئے ہے کہ سابقہ کلام میں شرط کا معنی متضمّن تھا۔ کیونکہ مطلب اس طرح ہے والذی سرق والتی سرقت وہ مرد جو چوری کرے اور وہ عورت جو چوری کرے تو ان کے ہاتھ کاٹ دو ۔ اسم موصول میں شرط کا معنی پایا جاتا ہے۔ نکتہ : البتہ سارق کہہ کر مرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نمبر 38, 37, 36, 35
تفسیر : (یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اور طل کرو ( الیہ الوسیلۃ) اس تک وسیلہ) یعنی قرب کا ذریعہ یہ فعیلتہ کے وزن پر ہے تو سل الی فلان سے لیا گیا ہے یعنی فلاں کی طرف قریب ہوگیا اس کی جمع وسائل آتی ہے ( وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون اور جہاد کرو اس کے راستہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو)
(ان الذین کفروا لوان لھم ما فی الارض جمیعاً و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیمۃ ماتقبل منھم جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سارا ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(38 ۔ 40) ۔ راہ زنوں کے ذکر کے بعد یہ چوروں کا ذکر فرمایا چور کا ہاتھ کاٹنا اور خون بہا کا ادا کرنا شریعت محمدی سے پہلے بھی قریش میں جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی میں اسی رواج کو قائم فرمادیا ہے۔ جس عورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں جو کچھ مذکور ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا اس لئے قریش نے اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت کی خدمت میں سفارش کرائی آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کیا تعزیرات الٰہی میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
آیت 36
1۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جزء بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کرجاتا ہے جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ (ص۔ ی)
قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہوگا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا، اور اتنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو درد…
Read the full tafseer →چور کے لئے قطع ید کی سزا کا بیان
قول باری ہے (والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو )
سفیان نے جابر سے اور انہوں نے عامر سے روایت کی ہے کہ حضرت عبد اللہ یک قرأت فاقطعوا ایدیھما ہے اور ابن عوف نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ان کی قرأت میں ” فاقطعوا ایمانھا “ ہے یعنی ان کے داہنے ہاتھ کاٹ دو ۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ امت کے اندر اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ پہلی دفعہ چوری کا ارتکاب کرنے پر چور کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ قول باری (ایدیھما) سے اللہ کی مراد ان کے داہنے ہاتھ ہیں۔
ظاہر لفظ دو شخصوں کے…
Read the full tafseer →95 چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ چوری کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو عبرتناک سزا کے طور پر اللہ کی طرف سے۔ یعنی تاکہ وہ عبرت بن کر دوسروں کو اس جرم سے باز رکھنے کا ذریعہ بن جائے اور معاشرہ ایسے گھناؤنے جرائم سے پاک وصاف ہوجائے۔ اور چور کی یہ سزا اس کے فعل سرقہ پر ہے نہ کہ مال سرقہ کے بدلے میں۔ اسی لیے یہ سزا مالک مال کے معاف کردینے سے بھی معاف نہیں ہوگی۔ (محاسن وغیرہ) ۔ یہاں پر { وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ } کا عطف محاربین پر ہے جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ بیچ کی دو آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں۔ ان کے بعد اب پھر تعزیرات اور حدود کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
چوری کی سزا
تشریح : چوری کا مطلب ہے کسی کی چیز چھپ کر بغیر اجازت کے لے لینا، اسلام میں اس کے لیے سزا بڑی سخت ہے، اس لیے پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ چوری کی گئی چیز کی مالیت کتنی ہے ؟ اور پھر چوری کرنے والا پاگل یا نابالغ تو نہیں۔ پھر چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت دونوں کو یہ سخت سزا ہی ملے گی اور پھر ہاتھ کاٹنے کی سخت سزا خاص حکمت پر مبنی ہے۔ کیونکہ اگر ایک کو یہ سزا مل جائے تو تمام لوگ کانپ اٹھیں گے اور عبرت حاصل کریں گے اور اس طرح ایک انتہائی غلط کام ( چوری) کی زبردست روک تھام ہوجائے گی۔ یہ حد اللہ کی طرف سے لگائی گئی ہے جو بڑا زبردست اور بہت حکمت والا ہے۔
اب اس مال کی مالیت دیکھی جائے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 3 اوپر کی آیت میں محارمین ( جو فساد پھیلاتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں) کی سزا تو یہ بیان فرمائی کہ ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیے جائیں اب اس آیت میں چوری کی حد قانونی سزا بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں مگر آیت میں عموم اور اجمال ہے حدیث میں ہے تقطع ید السا ق فی ربع دینار فصاعدا کہ کم از کم چوتھائی دینار سرقہ ہو تو کلائی کے پاس سے اس کا دہنا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا (قرطبی) مسئلہ اگر کوئی شخص قبر یا مسجد سے چوری کرے تو اس کے بھی یہی سزادی جائے گی جمہور علما نے کا یہی مذہب ہے اور نالامن نمہ فرما کر اشارہ فرمایا کہ یہ عقوبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے علاوہ ازیں مسرقہ مال اس کے مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(5:38) کسبا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ ان دونوں نے کمایا۔ نکالا۔ اسم نصوب۔ عبرت۔ عبرتناک سزا دینا۔ نکل ینکل تنکیلا (تفعیل) رسوا کرنا۔ بھگا دینا۔ اپنے سے ایک طرف کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت نمبر 38 تا 40
لغات القرآن : السارق (چوری کرنے والا مرد) ۔ السارقۃ (چوری کرنے والی عورت) ۔ اقطعوا (کاٹ ڈالو) ۔ کسبا (انہونے کمایا) ۔ نکالا (سزا۔ عبرت ) ۔ اصلح (اصلاح کرلی ) ۔
تشریح : مرد اور عورت دونوں کا نام وضاحت سے لے کر حکم دیا کہ چور کوئی بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالو۔ تمام فقہا متفق ہیں کہ ہاتھ گٹے پر سے کٹے اور گا اور پہلی چوری میں داہنا ہاتھ کٹے گا ۔ چور اگر چہ انسان کا مال چراتا ہے لیکن اللہ نے اسے اپنے حقوق کی پا مالی میں شمار کیا ہے ۔ اور حد قائم کردی ہے ۔ یوں سمجھ لیاجائے کہ بندہ اللہ کا ہے ۔ چناچہ بندۃ کا مال بھی اللہ کا مال ہے ۔ اگر بندہ کا مال چوری ہوگیا تو وہ حقوق اللہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
چور کی سزا کا حکم
شان نزول : یہ آیت ورت مخزومیہ کے ہاتھ کاٹنے کے وقت نازل ہوئی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ معظمہ کے وقت ایک عورت نے چوری کی تھی، قریش کو اس عورت کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا۔ اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید ؓ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سفارش کرائی۔ آپ کو یہ سفارش سن کر بڑا غصہ آیا اور آپ نے فرمایا :” کیا تعزیرات الہی میں بھی بندوں کا کچھ دخل ہوسکتا ہے۔ بالفرض محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی کچھ چرائے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ “ غرض آپ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جب اس کا ہاتھ کٹ چکا تو اس نے آپ سے پوچھا کہ یا حضرت ﷺ میری توبہ بھی قبول ہوگئی، آپ نے فرمایا :”…
Read the full tafseer →[31] دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ پہلی چوری پر داہنا ہاتھ پہنچے سے کاٹا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (ڈھال کی قیمت اس زمانے میں دس درہم تھی) ۔ پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی چوری پر آپ نے ہاتھ کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ مثلاً پھل، ترکاری اور کھانے پینے کی چیزیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
قطع ید کی حکمت :
(ف 2) اسلامی قانون تعزیرات کا مقصد یہ ہے عام انسانوں کو مضرت ونقصان سے بچایا جائے اور اگر اس سلسلے میں چند افراد کڑی سے کڑی سزا بھی جھیل لیں تو مضائقہ نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ قرون اولی میں جرائم کی رفتار تقریبا معدوم ہے اور جو چند ایسی مثالیں ملتی ہیں جن کی اخلاقی لحاظ سے مذموم کیا جاسکتا ہے تو وہاں بھی مذامت واعتراف کا یہ شان دار مظاہرہ ہے کہ مجرم خود عدالت میں آگیا ہے تاکہ اسے موزوں ومناسب سزا دی جائے ،
یہ درست ہے کہ اسلامی سزائیں ذرا سخت ہیں مگر کیا سختی ہی برکات وسعادات کا موجب نہیں ، بات یہ ہے کہ اگر ایک شخص ہاتھ کٹوا کرنا کارہ ہوجاتا ہے تو سیکڑوں انسان اس کی وجہ سے عبرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
ف 2 بلاشبہ جو لوگ کافر ہیں اور اپنے کفر پر قائم ہیں فرض کرو اگر ان میں سے ہر ایک کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور دنیا بھر کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہوں اور دنیا کی تمام چیزوں اور مال و متاع ہی پر کیا موقوف ہے بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں اور یہ سب سامان اس لئے ہو کہ وہ اس کو فدیہ میں دیکر قیامت کے عذاب سے بچ جائیں تب بھی یہ چیزیں اور یہ سب مال و متاع ہرگز ان سے قول نہ کیا جائے گا بلکہ ان کو درد ناک عذاب ہو کر رہے گا عذاب میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس امر کی خواہش کریں گے اور چاہیں گے کہ وہ آگ سے کسی طرح نکل جائیں حالانکہ ا ن کو اس آگ سے کبھی نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 1۔ اقل مقدار مال کی جس میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے دس درم ہے۔
Read the full tafseer →چور مرد ہو یا عورت ان کی دینوی سزا کا بیان واضح الفاظ میں :
114: پیچھے آپ ان کا حال پڑھ چکے ہیں جو زمین میں فساد بپا کرنے والے ہیں اور یہ بات بھی بالکل صحیح اور درست ہے کہ چور کا فعل بھی زمین میں فساد بپا کرنے کے ضمن میں آتا ہے اور کوئی شخص یہ بات نہیں کرسکتا کہ چوری کرنا ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ نہیں۔ پھر یہاں اس کی سزا الگ کر کے کیوں بیان کی گئی ہے ؟ نظم قرآنی سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ” فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ “ کی جو سزا وہاں بیان کی گئی ہے وہ محض چور کے لئے نہیں بلکہ ایک مجموعہ جرائم کی ملی جلی سزا تھی۔ اس لئے محض چور کی سزا کو اس آیت سے الگ کر کے بیان کردیا گا چ تاکہ کوئی بات مبہم نہ…
Read the full tafseer →The fourth verse (38) reverts to the subject of the punishment of crimes where the Islamic Legal Punishment of theft has been described. The punishment for theft belongs to the category of Hudud which is one of the three kinds of Islamic Legal Punishments dis-cussed earlier (under the Tafsir of verses 33 and 34). Since the Holy Qur'an has itself fixed this punishment, it has not been left at the discretion of the relevant authorities. The Holy Qur'an has determined it as the Right of Allah (Haqqullah), therefore, it is called the Hadd of Sariqah (The Islamic Legal Punishment of Theft). The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
60. The injunction is to cut off one not both hands. There is consensus among jurists that in the event of the first theft the right hand should be cut off. This punishment has been laid down for theft alone. The Prophet (peace be on him) declared: "There is no cutting off of a hand for he who embezzles.' (Abu Da'ud, 'Hudud', 14; Tirmidhi, 'Hudud', 18; Ibn Majah, 'Hudud', 36; Nasa'i, 'Qat' al-Sariq', 13 - Ed.) This shows that the punishment prescribed for theft does not cover acts involving embezzlement and other dishonest practices. It is applicable only to acts involving the seizure, by…
Read the full tafseer →