Explained with ayahs 35–37
تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے
تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد، حضرت وائل، حضرت حسن، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
سورة الْمَآىِٕدَة 58
یعنی ہر اس ذریعہ کے طالب اور جویاں رہوں جس سے تم اللہ کا تقرب حاصل کرسکو اور اس کی رضا کو پہنچ سکو۔
سورة الْمَآىِٕدَة 59
اصل میں لفظ جاھِدُوْ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض ”جدوجہد“ سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خدا کی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، جو تم کو پوری طرح خدا کی بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدوجہد کرو۔…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں یہ بھی واضح کردیا کہ کفار کا یہ عذاب دائمی ہوگا، جس سے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لِيَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔
خدا کے سوا دوسرے وسائل پر اعتماد کرنے والوں کا انجام : اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا، سیاق وسباق دلیل ہے کہ یہاں " ان الذین کفروا " سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے فلاح کی اس راہ سے الگ راہ اختیار کی جو اوپر والی آیت میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی انہوں نے خدا ہی سے ڈرنے، خدا ہی کا قرب تلاش کرنے اور…
Read the full tafseer →37۔ 1 یہ آیت کافروں کے حق میں ہے، کیونکہ مومنوں کو بالاخر سزا کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
29: وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔
30: جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں ؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)
(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے…
Read the full tafseer →2 احادیث کثیرہ سے ثابت ہے کہ بہت سے گنہگار مومنین ایک مدت تک دوزخ میں رہ کر پھر نکالے جائیں گے اور حق تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل کرے گا یہ آیت ان احادیث کے مخالف نہیں کیونکہ یہاں شروع آیت سے صرف کفارہ کا بیان کیا گیا ہے مومنین کے متعلق اس آیت میں کوئی حرف نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 37 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاز وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْم
یعنی ان کو مسلسل دائم اور قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →71 یہ معاملہ تو کافروں سے ہوگا مگر بہت سے گنہگار مسلمان بھی دوزخ میں جائیں گے جو اپنے اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر اور گناہوں سے پاک صاف ہو کر مختلف اوقات میں جنت میں داخل ہوتے رہیں گے۔ بلکہ بعض علماء کا خیال ہے کہ کافروں کو بھی کبھی نہ کبھی دوزخ سے نجات مل جا ئیگی۔ صرف مشرکین ہی وہ لوگ ہو نگے جنہیں کبھی بھی دوزخ سے نجات حاصل نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →134 ۔ (آیت) ” عذاب مقیم “۔ وہ عذاب بائدار ومستقل ہے، جو کبھی ہٹنے والا اور مٹنے والا نہیں۔ معناہ دائم ثابت لایزول ولا یحول (قرطبی) عذاب دائم ثابت لا یزول عنھم ولا ینتقل ابدا “۔ (ابن جریر) (آیت) ” یریدون ان یخرجوا من النار “۔ عذاب اور وہ بھی عذاب الیم !۔۔ ظاہر ہے کہ دوزخیوں کو کیسی کچھ تڑپ، کیسی کچھ حسرت، کیسی کچھ تمنا اس عذاب سے نکل بھاگنے کی ہوگی ! (آیت) ” ما ھم بخرجین منھا ولھم عذاب مقیم “۔ اس ارشاد سے ان حسرت نصیبوں کی حسرت نصیبی پر گویا مہرلگ گئی۔ عذاب سے نکلنے کا نہ کوئی امکان ہے، نہ کوئی تدبیر کام دے سکتی ہے، بلکہ اب یہ بھی سنادیا گیا کہ یہ عذاب جس درجہ کا شدید وہولناک ہوگا، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اِنَّ الذین کفروا لو انّ لھم ما فی الارض جمیعا (الآیۃ) حدیث میں آتا ہے کہ ایک جہنمی کو جہنم سے نکال کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش کیا جائیگا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیگا، تو نے اپنی آرام گاہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا بدترین آرام گاہ ہے اللہ تعالیٰ فرمائیگا کیا تو زمین بھر فدیہ دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا پسند کر گا ؟ وہ اثبات میں جواب دیگا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا میں نے تو دنیا میں اس سے بھی کم کا تجھ سے مطالبہ کیا تھا، تو نے وہاں اس کی پرواہ نہیں کی، اور اسے دوبارہ جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔ (صحٰح مسلم صفۃ القیامہ بخاری شریف کتاب الرقاق والانبیاء) ۔
والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما (الآیۃ) سرقہ…
Read the full tafseer →یریدون ان یخرجوا من النار وما ہم بخارجین منہا وہ آگ سے ہرچند نکلنا چاہیں گے مگر نکلنے والے ہی نہ ہوں گے (یعنی نہ نکل سکیں گے) یعنی نکلنے کا ارادہ کریں گے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے۔ کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہایا یہ مطلب کہ اللہ سے نکلنے کی تمنا اور درخواست کریں گے جیسے دوسری آیت میں دوزخیوں کی دعا کو نقل کیا گیا ہے۔ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْہَا۔
وَمَاہم بخارجین بصورت جملۂ اسمیہ کلام میں صرف زور پیدا کرنے کے لئے فرمایا (کیونکہ جملہ فعلیہ حدوث پر دلالت کرتا ہے اور فعلیہ کی جگہ جملۂ اسمیہ کا استعمال دوام کو ظاہر کرتا ہے)
ولہم عذاب مقیم اور ان کے لئے لازوال عذاب مخصوص ہے۔
جملۂ سابقہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(36۔ 37) اگر کفار کے پاس پوری دنیا کا مال بلکہ اس سے دو گنا بھی ہو اور پھر اسے اپنی جانوں کے فدیہ کے طور پر ادا کریں، پھر بھی یہ فدیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ دوزخ سے کسی طرح بھی نہیں نکلیں گے اور ہمیشہ عذاب میں رہیں گے جس میں کبھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Read the full tafseer →يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ: یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورة حج کی آیت (22) اس کی ہم معنی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 37۔
یزید الفقیر نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ سے کہا گیا : اے اصحاب محمد ! تم کہتے ہو کہ ایک قوم آگ سے نکلے گی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” وما ھم بخرجین منھا “۔ جابر نے کہا : تم عام کو خاص بناتے ہو اور خاص کو عام بناتے ہو، یہ کفار میں خاص ہے میں نے یہ آیت اول سے آخر تک پڑھی یہ کفار میں خاص ہے (آیت) ” مقیم “ اس کا معنی دائم ثابت ہے جو نہ زائل ہوگا نہ پھرے گا۔
شاعر نے کہا :
فان لکم بیوم الشعب منی عذابادائما لکم مقیما :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(1) مسلم، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم آگ سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہوگی۔ یزید بن فقیر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں لفظ آیت یریدون ان یخرجوا من النار وما ھم بخرجین منھا فرمایا پہلی آیت کی تلاوت کر (یعنی) لفظ آیت ان الذین کفروا لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیامۃ خبردار بلاشبہ وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں۔
مسلمان جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے
(2) امام بخاری نے، الادب المفرد، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں طلق بن حبیب ؓ سے روایت کیا کہ میں لوگوں…
Read the full tafseer →[ يُرِيْدُوْنَ : وہ لوگ چاہیں گے ] [ اَنْ : کہ ] [ يَّخْرُجُوْا : وہ نکلیں ] [ مِنَ النَّارِ : آگ سے ] [ وَمَا : حالانکہ ] [ هُمْ : ھم ] [ بِخٰرِجِيْنَ : نکلنے والے نہیں ہیں ] [ مِنْهَا ۡ: اس سے ] [ وَلَهُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ: ایک ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا ھُمْ بِخَارِ جِیْنَ مِنْھَا) کہ وہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نکلنے والے نہیں، سورة الم سجدہ میں فرمایا (کُلَّمَا اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا) (کہ جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں واپس لوٹا دیے جائیں گے)
پھر فرمایا (وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ) اور ان کے لئے عذاب ہے جو ہمیشہ رہے گا۔ اوپر ڈاکہ زنی کی دنیا میں سزا بیان فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے پھر چند آیات کے بعد چوروں کی سزا بیان فرمائی (جوا گلی آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
خطاب باہل ایمان۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین آمنوا اتقواللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ مقیم۔ آیت۔
ربط) اب ان آیات میں اہل ایمان سے خطاب ہے کہ تم بنی اسرائیل کی طرح شرارت نہ کرنا تم کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچو اور اعمال صالحہ کو تقرب الٰہی کا ذریعہ اور وسیلہ بناؤ بنی اسرائیل کی طرح بزدلی نہ دکھاؤ اور اس کے بعد آخرت میں کافروں کی جو بری حالت ہوگی وہ بیان کی تاکہ مسلمانوں کو عبرت ہو اور وہ ان جیسے افعال نہ اختیار کریں چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ تم خدا سے ڈرتے رہو اور اس کی نافرمانی نہ کرو اس لیے کہ اللہ کی نافرمانی اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ ہے اور زمین میں فساد ہے…
Read the full tafseer →64 یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا الخ وہ جہنم سے نکلنے کی خواہش کریں گے مگر انہیں کبھی اس سے نکلنا نصیب نہیں ہوگا اور وہ جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ربط آیات
بنی اسرائیل کے نقض عہد کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا۔ ایک بیٹے نے ظلم وتعدی کی اور دوسرے کو ناحق قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حفاظت جان کی تعلیم دی اور فرمایا کہ ایک انسانی جان کا قتل پوری نسل انسانی کے قتل کے برابر ہے اور ایک جان کی حفاظت تمام انسانی سوسائٹی کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ پھر اللہ نے فساد فی الارض کی مذمت بیان فرمائی اور اس کی ایک قسم ڈکیتی کی سزا کا ذکر کیا۔ اس دورس کے بعد فساد فی الارض کی دوسری قسم سرقہ کا بیان ہوگا تاہم درمیان میں اہل ایمان سے خطاب کرکے بعض چیزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ بنی اسرائیل میں پائی…
Read the full tafseer →يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْہَا 0ۡوَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ 37
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ترکیب : الیہ الوسیلۃ ممکن ہے کہ ابتغوا سے متعلق ہو اور جائز ہے کہ خود الوسیلۃ سے کیونکہ یہ بمعنی المتوسل بہ ہے الذین کفروا صلہ موصول اسم ان لو ان شرط الخ جواب مجموعہ خبران۔
تفسیر : اس پہلی آیت میں ان مفسدوں اور باغیوں کی مذمت تھی جو خدا سے لڑتے تھے اور رسول اور قرآن کے حکم سے جو خدا تعالیٰ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ اور حبل المتین ہے چھوڑ کر دائرہ اطاعت سے باہر ہوتے تھے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں رسوائی اور خواری ہے۔ اس مقام پر ان کے برخلاف اس وسیلہ الٰہی کو اختیار کرکے ہر ایک قسم کی نیکی اور بھلائی کرنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور اس کے برخلاف کرنے میں آخرت کا انجامِ بد بتایا جاتا ہے۔ واضح ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 34)
” مگر جو لوگ تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔
اگر یہ باغی لوگ اور یہ بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد حکومت کی دسترس میں آنے سے پہلے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلیں تو پھر ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر ان کو یہ سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ بلکہ ان کے ساتھ رحم اور مروت کا معاملہ ہوگا۔ البتہ ان لوگوں نے جو دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ‘ یہ اگر خود اس کا اعتراف کرلیں یا اس کے گواہ موجود ہوں تو پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : اے لوگو ! فساد فی الارض میں صلاحیتیں ضائع کرنے اور اللہ سے دوری اختیار کرنے کی بجائے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی قوتیں صرف کرو تاکہ تمہیں اللہ کا قرب اور کامیابی حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے منکر نہ صرف اس کے قرب سے محروم ہوں گے بلکہ انھیں جہنم میں پھینکا جائے گا جس سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
جو لوگ نیک اعمال کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہنے اور پانے کی بجائے یہود و نصاریٰ کا رویہ اختیار کرتے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں فلاح اور کامیابی کے راستے پر چلنے کی بجائے بغاوت اور سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں انھیں قیامت کے دن جہنم میں جھونکا جائے گا۔ جس سے نکلنے کے…
Read the full tafseer →آیت 37 : یُرِیْدُوْنَ (وہ چاہیں گے) یعنی تمنا کریں گے یا مطالبہ کریں گے۔ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ (کہ دوزخ سے نکل آویں اور وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہوگا) مقیم کا معنی دائمی عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–38
آیت نمبر 38, 37, 36, 35
تفسیر : (یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اور طل کرو ( الیہ الوسیلۃ) اس تک وسیلہ) یعنی قرب کا ذریعہ یہ فعیلتہ کے وزن پر ہے تو سل الی فلان سے لیا گیا ہے یعنی فلاں کی طرف قریب ہوگیا اس کی جمع وسائل آتی ہے ( وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون اور جہاد کرو اس کے راستہ میں تاکہ تمہارا بھلا ہو)
(ان الذین کفروا لوان لھم ما فی الارض جمیعاً و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیمۃ ماتقبل منھم جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس جو کچھ زمین میں ہے سارا ہو اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتا کہ بدلہ میں دیں اپنے قیامت کے عذاب سے تو ان سے قبول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
(35 ۔ 37) ۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو دنیا کے تھوڑے سے مال و متاع کے لالچ میں پھنس کر مرتد ہوگئے تھے اور راہزنی کرنے لگے تھے۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کو ان آیتوں میں اس طرح کے خیالات سے روکا اور فرمایا کہ ہر ایمان دار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایمان دار شخص ہاتھ سے پیر سے جان سے مال سے زبان سے غرض جس طرح ہو سکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں لگا رہے تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار 2 ؎ پا سکیں پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں ہیں یہی باتیں ایسی ہیں جن سے عقبیٰ میں انسان کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے فِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
آیت 36
1۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا محبوب انسان اپنے تمام اعضاء کو اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اللہ پسند کرتا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا جزء بن جاتا یا اللہ اس میں حلول کرجاتا ہے جیسا کہ بعض مشرکین میں اس قسم کے عقیدے پائے جاتے ہیں۔ (ص۔ ی)
قیامت کے روز کفار کا جو بدترین حال ہوگا اور وہ جس قبیح ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس روز اگر وہ زمین بھر سونا، اور اتنا ہی اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کریں تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ فدیہ کوئی فائدہ ہی دے گا۔ کیونکہ فدیہ دینے کا موقع تو وہ گنوا بیٹھے، اب تو درد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
قول باری ہے (الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم۔ مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے) ۔
آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کے لئے استثناء ہے جو قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں اس جملے کے ذریعے انہیں ان لوگوں سے نکال دیا گیا ہے جن پر اللہ نے حد واجب کردی اس لئے کہ استثناء میں بعض افراد کو اس مجموعے سے خارج کردیا جاتا ہے جس میں یہ افراد شامل ہوتے ہیں۔
مثلاً یہ قول باری ہے (الا آل لوط انا لمنجوھم اجمعین الا امراتہ آل لوط کے سوا، ہم ان سب کو بچا لینے والے ہیں مگر اس کی بیوی) اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط…
Read the full tafseer →94 کافر کیلئے دوزخ کا دائمی عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے دائمی عذاب ہوگا کہ نہ وہ عذاب کبھی ختم ہوگا اور نہ ایسے کافروں کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ ان کو ہمیشہ اسی میں پڑے جلنا ہوگا۔ سو کافر کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ کا عذاب ہے۔ اور وہ بڑا ہی بدبخت اور برا انسان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں جابجا اور طرح طرح سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة البینۃ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اولئک ھُمْ شَر البریۃ } ۔ (البینۃ : 6) یعنی کفار خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا دوسرے کھلے مشرکوں میں سے ان سب کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہے جس میں ان کو ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
کفر کا عذاب ضرور ملے گا
تشریح : جیسا کہ ترجمہ سے مطلب صاف واضح ہوگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ایمان اور اعمال کی پاکیزگی کے سوا کوئی چیز نجات نہ دلا سکے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 35 تا 43 ۔
اسرار و معارف :
ان لوگوں سے بات چل رہی ہے جنہیں اپنے ایمان کا دعوی ہے اور بڑا لطف آتا ہے جب قرآن حکیم بڑے پیار بھرے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ! ایک شفقت کا پہلو ، ایک محبت کا انداز ، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ گناہ چھوڑ دو اللہ کی نافرمانی نہ کرو اور ایمان لا کر جو تعلق اللہ سے قائم کرلیا ہے اسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو۔
وسیلہ کی تحقیق :
اس کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔ وسیلہ کا معنی علماء نے محبت سے یا پیار سے جڑنا لکھا ہے اگر یہ ' س ' سے لکھا جائے جیسا کہ یہاں ہے اور اگر ' ص ' سے لکھا جائے تو مطلقا جڑنا…
Read the full tafseer →ف 2 یہ آیت کفارکے حق میں ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں انا بصراحت ذکر کیا گیا ہے را ہے گنہگار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ ان کو گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
(5:33) ینفوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نفی مصدر (باب ضرب) نفی ینفی۔ ینفوا ان کو نکال دیا جائے۔ نفی الرجل من بلدہ۔ آدمی کو اس کے شہر سے شہر بدر کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت نمبر 36 تا 37
لغات القرآن : ماتقبل (قبول نہ کیا جائے گا ) ۔ خادجین (نکلنے والے ) ۔ عذاب مقیم (کھڑا رہنے والا عذاب ۔ ہمیشہ کا عذاب ) ۔
تشریح : جرائم کون کرتا ہے اور توبہ نہیں کرتا۔ جرائم میں کون لگا رہتا ہے ۔ وہی اللہ کا حکم نہیں مانتا۔ وہ کیوں لگا رہتا ہے تاکہ مال پر مال بٹور تار ہے ۔ مگر یہ مال اس کے لئے کتنے دن کا۔ چور کا مال خود بھی چوری ہوسکتا ہے ۔ ڈاکو کا مال پھر بھی کوئی اور ڈاکو لے جاسکتا ہے ۔ راشی کا مال حرام میں اڑاجاتا ہے ۔ اور اگر مال رہ بھی گیا تو موت کے بعد بےکار۔ اگر کسی نافرمان نے اتنا مال بھی جمع کرلیا کہ تمام دنیا سمٹ کر اس کی جیب میں آگئی ۔ اور پھر اسی قدر مال اور بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ ہر ایماندار کو اس طرح کی باتوں سے ہمیشہ پرہیز لازم ہے اور یہ بھی لازم ہے کہ ہر ایماندار شخص ہاتھ سے پیر سے، جان سے، مال سے، زبان سے غرض جس طرح ہوسکے خالص راہ خدا کے نیک کاموں میں ل گا رہے۔ تاکہ وہ نیک کام اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کا ذریعہ قرار پاسکیں ۔ پھر فرمایا کہ یہ باتیں جو بتائی گئیں یہ ایسی ہیں جن سے عقبیٰ کی بہتری اور کامیابی کی صورت نکل سکتی ہے ۔ نیک کام خالص راہ خدا کی نیت سے کیا جاوے تو بارگاہ الہی میں قبول ہوتا ہے۔ وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو دنیا کے تھوڑے سے مال ومتاع کے لئے ایسے کام کرتے ہیں جس سے وہ عقبیٰ کو ہاتھ سے دے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[30] اصل میں لفظ '' وسیلہ '' استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی قرب کے ہیں۔ اہل لغت اور تابعین سے یہی معنی مروی ہیں اور قرب کا بہترین ذریعہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ کفر وہ بندنصیبی ہے جس کی تلافی ساری کائنات دے کر بھی نہیں ہو سکتی ، وہ لوگ جو اس دنیا میں حقائق سے منہ پھیر لیتے ہیں ، حشر میں شفقت ورحمت کے چشموں کو سوکھا ہوا پائیں گے اور کوئی کوشش انہیں جہنم کے عذاب مقیم سے باہر نہ نکال سکے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
ف 2 بلاشبہ جو لوگ کافر ہیں اور اپنے کفر پر قائم ہیں فرض کرو اگر ان میں سے ہر ایک کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور دنیا بھر کی تمام چیزیں ان کے پاس موجود ہوں اور دنیا کی تمام چیزوں اور مال و متاع ہی پر کیا موقوف ہے بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں اور یہ سب سامان اس لئے ہو کہ وہ اس کو فدیہ میں دیکر قیامت کے عذاب سے بچ جائیں تب بھی یہ چیزیں اور یہ سب مال و متاع ہرگز ان سے قول نہ کیا جائے گا بلکہ ان کو درد ناک عذاب ہو کر رہے گا عذاب میں ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس امر کی خواہش کریں گے اور چاہیں گے کہ وہ آگ سے کسی طرح نکل جائیں حالانکہ ا ن کو اس آگ سے کبھی نکلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 6۔ وہ کامیابی اللہ کی رضامندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے۔
Read the full tafseer →وہ آگ سے نکلنا چاہیں گے لیکن نہیں نکل سکیں گے ، کیوں ؟ ان کا عذاب ابدی ہوگا :
113: دنیا میں ان کو باربار بتایا گیا اور مثالیں دے دے کر سمجھایا گیا لیکن وہ اتنے ضدی تھے کہ انہوں نے ہر سنی بات کو اَن سنی کردیا اور کسی کی مطلق پروانہ کی پھر ان کی یہ ضد کیا تھی ؟ ان کی یہ ضد ان کا ایک عمل ہی تو تھا پھر جب ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ باندھ دیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اس عمل کا نتیجہ نہ پائیں فرمایا جب وہ اس عمل کے نتیجہ سے دو چار ہوں گے تو وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مجھ میں اور میرے عمل میں یعنی عمل کے نتیجہ میں اتنی دوری ہوجائے جتنے آسمان و زمین ایک دوسرے سے دور ہیں یا جس قدر…
Read the full tafseer →That this punishment would be everlasting for disbelievers has been made clear through the third verse (37).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
58. People are urged to solicit all means which might bring them close to God and enable them to please Him.
59. The English imperative 'strive hard' does not do full justice to the actual word used in the Qur'an: jahidu. The verbal form mujahadah signifies and carries the nuance of doing something in defiance of, or in opposition to someone. The true sense of the Qur'anic injunction 'strive hard' in the way of Allah is that the Muslims ought to use all their strength and engage in vigorous struggle against those forces which either forcefully prevent them from living in obedience to God or…
Read the full tafseer →