Explained with ayahs 78–81
امر معروف سے گریز کا انجام
ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
سورة الْمَآىِٕدَة 102
ہر قوم کا بگاڑ ابتداءً چند افراد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملہ میں تساہل شروع کردیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انہیں سوسائیٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے، تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدود تھی، پوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کی موجب ہوئی۔
حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے جو لعنت بنی اسرائیل پر کی گئی اس کے لیے ملاحظہ ہو زبور 10 و 50…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
بنی اسرائیل کا انجام بد
دوسری آیت میں ان بنی اسرائیل کا انجام بدذکر کیا گیا ہے جو اس افراط وتفریط کی گمراہی میں مبتلا تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی، اول داؤد ؑ کی زبان سے جس کے نتیجے میں ان کی صورتیں مسخ ہو کر خنزیر بن گئے، پھر حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے یہ لعنت ان پر مسلط ہوئی، جس کا اثر دنیا میں یہ ہوا کہ مسخ ہو کر بندر بن گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ بتقاضائے مقام صرف دو پیغمبروں کی زبانی ان پر لعنت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر لعنت کی ابتداء حضرت موسیٰ ؑ سے ہوئی اور انتہا حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر ہوئی۔ اس طرح مسلسل چار پیغمبروں کی زبانی ان لوگوں پر لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
تفیسر آیات 78 تا 81:۔ لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۭذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ۔ كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭلَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِـــطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ۔ وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِيِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ۔
یہود پر…
Read the full tafseer →79۔ 1 وہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے نہیں تھے جو بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔ بعض مفسرین نے اسی ترک نہی کو عصیان اور اعتدا قرار دیا ہے جو لعنت کا سبب بنا۔ بہرحال دونوں صورتوں میں برائی کو دیکھتے ہوئے برائی سے نہ روکنا، بہت بڑا جرم اور لعنت غضب الہی کا سبب ہے۔ حدیث میں بھی اس جرم پر بڑی سخت وعیدیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا " سب سے پہلا نقص جو بنی اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو برائی کرتے ہوئے دیکھتا تو کہتا، اللہ سے ڈر اور یہ برائی چھوڑ دے، یہ تیرے لیے جائز نہیں۔ لیکن دوسرے روز پھر اسی کے ساتھ اسے کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے میں کوئی عار یا شرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
54: یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی تھی اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسیٰ ؑ پر اتری تھی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (79
” انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔
سرکشی اور ظلم ہر معاشرے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے کہ ہر معاشرے میں شریر ‘ مفسد اور منحرف لوگ ہوتے ہیں ، یہ زمین کسی بھی وقت شروفساد سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ معاشرے کے اندر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی روش نرالی ہوتی ہے لیکن معاشرے کا اجتماعی مزاج شر اور منکر کو برداشت نہیں کرتا اور سرکشی اور ظلم کو معاشرے کے مسلمات قرار پانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے سرکشی اور ظلم کا ارتکاب کسی بیدار معاشرے کے…
Read the full tafseer →3 لَا یَتَنَاھَوْنَ کے دو معنی ہوسکتے ہیں (1) " نہیں رکتے تھے " کما فی روح المعانی (2) " نہیں روکتے تھے ایک دوسرے کو " کما ہوالمشہور جب بدی کسی قوم میں پھیلے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہ ہو تو عذاب عام کا اندیشہ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 79 کَانُوْا لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ ط۔
جس معاشرے سے نہی عن المنکر ختم ہوجائے گا ‘ وہ پورا معاشرہ سنڈاس بن جائے گا۔ یہ تو گویا انتظام صفائی ہے۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد نگاہ رکھے ‘ ایک دوسرے کو روکتا رہے کہ یہ کام غلط ہے ‘ یہ مت کرو ! جس معاشرے سے یہ تنقید اور احتساب ختم ہوجائے گا ‘ اس کے اندر لازماً خرابی پیدا ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →125 برائی سے منع نہ کرنے والوں پر لعنت :۔ کسی معاشرہ میں جب کوئی برائی رواج پاتی ہے تو ابتدائ ً چند ہی لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کا بروقت اور سختی سے محاسبہ کیا جائے تو وہ برائی رک بھی جاتی ہے لیکن اگر اس سلسلہ میں نرم گوشہ اختیار کیا جائے تو اس بدی کا ارتکاب کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ اس بدی سے بچنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ بدی کرنے والوں کو روکتے نہیں، بلکہ ان سے میل ملاپ رکھنے اور شیر و شکر بن کر رہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور بدی عام پھیل جاتی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے پھر اس عذاب سے نہ بدی کرنے والے بچتے…
Read the full tafseer →263 ۔ (باوجود بار بار کی تبلیغ وہدایت کے) یعنی بجائے ندامت و استغفار کے انہیں اپنی کفریات پر شدید اصرار تھا۔ ای کانوا لاینتھون عن منکراتوہ (ابن جریر) التناھی بمعنی الانتھاء (روح) دوسرے معنی لایتناھون کے یہ ہوسکتے ہیں کہ ” وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے “ اور یہی معنی اکثر نے لیے ہیں۔ وھو الذی علیہ الجمھور انہ تفاعل من النھی ای کان لاینھی بعضھم بعضا (کبیر) اور یہ معنی لے کر فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ منکرات سے ایک دوسرے کو نہ روکنا بڑا سنگین گناہ اور امت کے لیے بڑی حسرت کی چیز ہے۔ فیہ دلیل علی ان ترک النھی عن المنکر من العظائم فیاحسرۃ علی المسلمین فی اعراضھم عنہ (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 82
ترجمہ : بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی یعنی ان کے لئے بددعا کی گئی، جس کی وجہ سے ان کو بندر کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ ایلہ کے باشندے تھے، اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبانی لعنت کی گئی اس طریقہ پر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کیلئے بددعاء کردی جس کے نتیجے میں ان کو سور کی شکل میں مسخ کردیا گیا، اور وہ اصحاب مائدہ تھے، یہ لعنت اس وجہ سے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر گئے تھے، انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، ان کا یہ طرز عمل برا تھا، جو انہوں نے اختیار کیا، اے محمد آپ ان…
Read the full tafseer →کانوا لا ینتاہوں عن منکر فعلوہ (نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے کی تشریح یہ ہے کہ) وہ آپس میں برے کام (دوبارہ) کرنے سے نہ روکتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ جب بعض لوگ برے کام کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو دوسرے لوگ ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ برائی سے منع نہ کرنے کا تقاضا ہے کہ سب پر عذاب آجائے۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خود سنا آپ فرما رہے تھے کہ لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو اغلب ہے کہ اللہ کا عذاب ان سب پر آجائے۔ رواہ الاربعۃ۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ نسائی کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب لوگ برے کام (ہوتے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(78۔ 79) بنی اسرائیل میں جو کافر ہیں وہ حضرت داؤد ؑ کی دعا سے بندر اور حضرت عیسیٰ ؑ کی بددعا سے سور ہوگئے ہیں اور یہ لعنت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ ہو ہفتہ کے روز میں اور اکل مائدہ میں اور انبیاء کرام کے قتل کرنے اور معاصی کو حلال سمجھنے میں اللہ کی نافرمانی کرتے تھے اور جو کچھ وہ نافرمانیاں اور حد سے تجاوز کرتے تھے، اس سے توبہ بھی نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَر ”لَا يَتَنَاهَوْنَ“ باب تفاعل سے ہے، اس کا معنی باز آنا بھی ہے اور ایک دوسرے کو منع کرنا بھی۔ یہاں پچھلی آیت میں مذکور ان کی نافرمانی اور حد سے گزرنے کی تفسیر ہے کہ ایک تو وہ جب کوئی برا کام کرتے اس پر ڈٹ جاتے، باز ہی نہیں آتے تھے، یعنی گناہ پر ندامت کے بجائے اس پر اصرار کرتے تھے۔ دوسرا یہ کہ وہ ایک دوسرے کو برائی سے منع نہیں کرتے تھے، ان کے نیک لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اگر کچھ لوگ برے کام کر رہے ہیں تو کرتے رہیں، ان کا وبال خود ان پر ہوگا، ہم تو اپنی جگہ نیک ہیں، حالانکہ اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو اور دل سے نفرت بھی نہ ہو تو ایمان کا آخری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
آیت نمبر : 79
اس میں دو مسئلے ہیں ؛
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : کانوا لا یتناھون یعنی ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ آیت : لبئس ما کونوا یفعلوان منع کونے کو ترک کرنے کی وجہ سے ان کی مذمت کی گئی ہے، اسی طرح اس کی بھی مذمت ہے جس نے ان جیسا فعل کیا۔ ابو داود نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے پہلے بنی اسرائیل کی بےدینی کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک شخص پہلی مرتبہ کسی بدکار سے ملتا تو اسے کہتا : اے فلاں ! اللہ سے ڈر اور جو تو کر رہا ہے اسے چھوڑ، کیونکہ یہ تیرے لیے حلالل نہیں، پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اسے اس…
Read the full tafseer →(1) امام عبد الرزاق، احمد، عبد بن حمید، ابو داؤد، الترمذی (نے اس کو حسن بھی کہا ہے) ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ (اے آدمی) اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دے جو (برا) کام کررہا ہے۔ یہ تیرے لئے حلال نہیں۔ پھر اس سے اگلے دن ملاقات کرتا تھا تو اس کا یہ کردار اسے نہ روکتا تھا۔ اس کے ساتھ سے اس کے ساتھ اور اس کے ساتھ بیٹھنے سے جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے ٹکڑا دیئے (یعنی ایک جیسا کردیا) اسی کو فرمایا لفظ آیت لعن الذین کفروا من…
Read the full tafseer →كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ [ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے ] عَنْ مُّنْكَرٍ [ کسی برائی سے ] فَعَلُوْهُ ۭ [ جو انھوں نے کیں ] لَبِئْسَ [ تو کتنا برا ہے ] مَا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Read the full tafseer →امت محمدیہ میں نہی عن المنکر کا فقدان
یہ نقص جو بنی اسرائیل میں تھا دور حاضر کے مسلمانوں میں بھی ہے گناہوں سے روکنے کی قدرت ہوتے ہوئے گناہوں پر نہیں ٹوکتے، گناہگاروں سے ملتے جلتے ہیں ان سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلقات کشیدہ ہونے کے ڈر سے ان کو گناہ سے نہیں روکتے، خالق مالک جل مجدہ، کی ناراضگی کا خیال نہیں کرتے مخلوق کی ناراضگی کا خیال کرتے ہیں کہ اسے گناہ سے روک دیا تو یہ ناراض ہوجائیگا۔
بنی اسرائیل کے اسی طرز کو بیان فرما کر ارشاد فرمایا (لَبِءْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ) کہ برا ہے وہ عمل جو وہ کرتے تھے۔ بنی اسرائیل والے طریقے مدعیان اسلام نے بھی اپنا لئے اسی لئے دنیا میں عام عذاب اور عقاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–82
تنبیہ اہل کتاب برسبب گمراہی ایشان، وممانعت از اتباع گمراہان پیشینان۔
قال اللہ تعالی، قال یا اھل الکتاب لاتغلوا فی دینکم۔۔۔ الی۔۔۔ یستکبرون۔
ربط) ۔ اوپر کی آیتوں میں نصاری کے عقائد باطلہ اورا ن کی طمراہی کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل کتاب کی گمراہی اور تباہی کا سبب بیان کرتے ہیں اور گمراہوں کی پیروی سے منع فرماتے ہیں اہل کتاب کی گمراہی کا سبب یہ ہوا کہ ان لوگوں نے دین میں غلو کیا اور افراط اور تفریط سے کام لیا نصاری نے حضرت عیسیٰ کے حق میں یہ غلو کیا کہ ان کو خدا ٹھہرایا یہ افراط ہوا اور یہود نے ان کو ایسا گھٹایا کہ ان کی نبوت کو بھی نہ مانا اور انکو ساحر اور کذاب بتلایا اور ان کی والدہ ماجدہ…
Read the full tafseer →139 یہ ان ملعونین کی نافرمانی اور تجاوز عن الحد کی تفصیل ہے۔ یعنی جو برے افعال اور بد اعمالیاں ان کی قوم میں رائج تھیں اور جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے ان سے وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کے باطل اعتقادات کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بعینہ خدا ماننا یا ان کو تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیمہ کرنا یا انہیں متصرف فی الامور خیال کرنا ، سب گمراہ کن عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) تو خلاص توحید کی تبلیغ کرتے تھے کفر اور شرک سے روکتے تھے کیونکہ مشرک ابدی جہنمی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی پوزیشن بھی صاف کی کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک نیک اور راست باز خاتون تھی اور وہ یہود کی طرف سے تفریط…
Read the full tafseer →كَانُوْا لَا يَتَنَاہَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْہُ 0ۭ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 79
نهى
النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10]
( ن ھ ی ) النهي
کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
مُنْكَرُ
والمُنْكَرُ : كلُّ فِعْلٍ تحكُم العقولُ الصحیحةُ بقُبْحِهِ ، أو تتوقَّفُ في استقباحِهِ واستحسانه العقولُ ، فتحکم بقبحه الشّريعة، وإلى ذلک قصد بقوله : الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع…
Read the full tafseer →کَانُوْا لاَ یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہٗ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 79)
” جس برائی کو اختیار کرلیتے ‘ اس سے باز نہ آتے۔ نہایت ہی بری بات تھی ‘ جو یہ کرتے تھے “۔
3 لاَ یَتَنَاھَوْنَ کے دو معنی ہیں ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو برائی کرنے سے روکتے نہیں تھے۔ گویا ان کے اندر تبلیغ و دعوت کا سلسلہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جذبہ نہ صرف کہ سرد ہوگیا تھا بلکہ مرگیا تھا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس قوم کا اجتماعی مزاج یہ بن گیا تھا کہ اگر انھیں کسی برائی سے روکا جاتا تھا تو برائی سے رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ ظاہر ہے یہ دوسرا رویہ پہلے رویے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
فہم القرآن
ربط کلام : دین میں غلو کرنے، خود گمراہ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بننے کی وجہ سے اہل کتاب لعنت کے سزاوار ٹھہرے۔
امام رازی (رح) نے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اہل کتاب پر موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء ( علیہ السلام) نے لعنت کی یہاں تک کہ قرآن مجید نے بھی انہیں مغضوب، گمراہ اور لعنت کا مستحق قرار دیا ہے اس مقام پر حضرت داوٗد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر کرنے کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →منکر پر ترک ممانعت اعتداء ہے :
آیت 79 : پھر ان کی معصیت اور اعتداء کی وضاحت کی۔ کَانُوْا لَا یَتَنَاہَوْنَ (کہ وہ ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے) ۔ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ (اس برائی سے جو وہ کرتے تھے) ۔ آیت میں منکر کی صفت فعلوہ سے کی ہے۔ حالانکہ فعل کے بعد تو نہی نہیں ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس برائی کے باربار کرنے سے وہ باز نہیں رہتے تھے۔ جس کو ایک دفعہ کرلیتے یا اس برائی کی مثل وہ دوسرے کام کرنے سے باز نہیں رہتے تھے۔ جس برائی کو اختیار کرتے یا جس منکر کے کرنے کا ارادہ کرتے اس کے کرنے سے باز نہیں رہتے تھے۔ یا مراد یہ ہے اس منکر سے نہ رکتے تھے جس کو کرلیتے بلکہ ایسی برائی پر اصرار کرتے۔ کہا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
آیت نمبر 79, 78, 77, 76
تفسیر : (قل اتعبدون من دون اللہ مالا یملک لکم ضرا ولا نفعاط واللہ ھوالسمیع العلیم آپ کہہ دیں کیا تم ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے برے کی اور نہ بھلے کی اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا)
(قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیرالحق آپ کہہ دیجئے اے اہل کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کی بات میں ناحق کا) یعنی حد سے تجاوز نہ کرو اور بڑائی اور کوتاہی میں سے ہر ایک دین میں برا ہے اور اللہ کا فرمان ” غیرالحق “ یعنی تمہارے دین میں جو حق کے مخالف بات ہو کیونکہ انہوں نے اپنے دین میں حق کی مخالفت کی۔ پھر اس پر ڈٹ کر غلو کیا (اور مت چلو خیالات پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(78 ۔ 81) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس بات کے جتلانے کو نازل فرمائی ہے کہ بنی اسرائیل خاص کر کچھ اب قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے میں ایسی نافرمانی نہیں کرتے جس کے سبب سے قرآن شریف میں اکثر آیتیں ان پر لعنت کی اتری ہیں بلکہ ہمیشہ سے ان کا یہی حال ہے کہ سابق کے انبیاء کے زمانہ میں سابق کی آسمانی کتابوں میں بھی ان کی نافرمانی کے سبب سے ان پر لعنت اتر چکی ہے مسند امام احمد ترمذی، ابوداؤد ابن ماجہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں جب طرح طرح کے گناہ پھیلے تو ان کے علماء نے پہلے تو کچھ منع کیا پھر عالم لوگ بھی جاہلوں سے مل جل گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
آیت 77
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا : (قل یاھل الکتب لاتغلوا فی دینکم غیر الحق) ” اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو “ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انہوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا (ولاتتبعوآ اھوآء قوم قد ضلوا من قبل) ” اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ “ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ (واضلوا کثیراً ) ” اور (دوسرے) بہت سوں کو…
Read the full tafseer →قول باری ہے کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا یعنی وہ ایک دوسرے کو منکرات کے ارتکاب سے روکتے نہیں تھے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ہے ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں عبد اللہ بن محمد نفیلی نے ، انہیں یونس بن راشد نے علی بن بذیمہ سے ، انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔ بنی اسرائیل کے اندر سب سے پہلے جس خرابی نے جڑ پکڑ لی وہ تھی کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص سے ملتا اور اسے کسی برائی میں مبتلا دیکھ کر اس سے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور یہ برا کام مت کر اس لیے کہ یہ کام تیرے لیے جائز نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →199 بنی اسرائیل کے اس ہولناک انجام کے اسباب و وجوہ کا ذکر وبیان : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ ان بدبختوں کا یہ ہولناک انجام اس لیے ہوا کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی ہی کرتے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے تھے۔ اور یہ لوگ رکتے تھے ان برائیوں سے جن کا ارتکاب یہ کر رہے تھے۔ اور بڑے ہی برے کام تھے وہ جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ سو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ مسلمان آج اس اہم فریضے سے غافل ہے ۔ اِلا ماشاء اللہ ۔ حالانکہ حضور نے فرمایا کہ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے بنی اسرائیل پر لعنت کا سبب
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہود و نصارٰی کو خبردار کر رہے ہیں کہ تمہاری بری عادتوں کی وجہ سے تنگ آکر تم پر دو بڑے معتبر رسول سیدنا داود اور سیدنا عیسیٰ (علیہما السلام) لعنت بھیج چکے ہیں۔ اگر تم اس لعنت سے نکلنا چاہو تو اسلام قبول کرلو اور سیدھا راستہ اختیار کرلو۔ لعنت بھیجنے کی تین وجوہات تھیں۔
1 گناہوں میں بری طرح پھنس چکے تھے۔
2 دین کی مقرر کی ہوئی تمام حدوں کو توڑ چکے تھے۔
3 نہ خود گناہوں سے بچتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو برے کاموں سے روکتے تھے۔
جب بھی کوئی قوم ان بری عادات کی عادی ہوجاتی ہے تو پھر اس کی بربادی یقینی ہوجاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–86
رکوع نمبر 11 ۔ آیات 78 تا 86 ۔
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کے کفار پر تو ہر عہد کے نبی نے اللہ کی ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ان پر لعنت کی گئی حضرت داود (علیہ السلام) سے انہیں وہی پیغام دلوایا گیا جو عیسیٰ (علیہ السلام) نے دہرایا اور یہ مسلسل اظہار نا رضا مندی کسی نسلی امتیازیا ذاتی تعصب یا رنگ کے فرق پر نہ تھا بلکہ اس کی وجہ ان کا کفر تھا اور اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور حدود الہی سے تجاوز کرنا اس کا باعث تھا یہ ایسے بد نصیب تھے کہ کسی کو برائی سے روکتے بھی نہ تھے خواہ خود نہ بھی کرتے ہوں یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو خود برائی نہیں کرتے تھے مگر انہیں دوسرے کی برائی سے دکھ نہیں ہوتا تھا اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ف 5 یعنی کفار (مشرکین مکہ) سے دوستی قائم کرکے انہوں نے مسلمانو کے خلاف جو تیار کی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان پر اللہ کا غضب ہو اور وہ آخرت میں بھی دائمی عذاب کے مستحق قرار پائے
Read the full tafseer →(5:79) کانوا لا یتناھون۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری نہی۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
آیت نمبر 78 تا 81
لغات القرآن : لعن (لعنت کی گئی) ۔ لسان (زبان) ۔ لایتناھون (وہ منع نہ کرتے تھے) ۔ عن منکر (برائی سے) ۔
فعلوہ (وہ جو انہوں نے کیا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ تری (آپ نے دیکھا) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ سخط (اللہ نے) غصہ کیا) ما اتخذوا (وہ نہ بناتے تھے) ۔
تشریح : یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معبود نہ ہونے کے بارے میں ایک اور دلیل دی گئی ہے ۔ جو لوگ انہیں الوھیت میں شریک مانتے ہیں ان پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بھی) لعنت فرمائی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نصاریٰ کے پیغمبر ہیں۔ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ یہود حد سے بڑھ کر طرح طرح کے گناہ کرتے تھے اور ان گناہوں پر آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ سب ایک دل ہوگئے تھے۔ یہ اعمال تو ان کے برے تھے علاوہ اس کے یہ بھی تھا کہ اہل کتاب ہوکر اسلام کی مخالفت میں مکہ کے مشرکوں سے انہوں نے دوستی پیدا کی تھی۔ جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے ہمیشہ کے غصہ اور عذاب کے یہ لوگ مستحق ٹھر گئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کرکے نالائق پھٹکار قراردیا۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کی لعنت کے ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کے دل میں بھی کتاب آسمانی کا ایسا ہی یقین ہوتا جس طرح سے یہ لوگ کتاب آسمانی کی پابندی ظاہر کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →[84] اس آیت سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو برائی سے روکنا واجب ہے اور منع کرنے سے باز رہنا سخت گناہ ہے۔ کسی قوم کا بگاڑ اسی وقت سے شروع ہوجاتا ہے جب اس کے غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کی بجائے قوم انہیں غلط کاری کے لئے آزاد چھوڑ دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ناز بےجا :
(ف 2) بنی اسرائیل کو سب سے بڑا غرور اس بات پر تھا کہ ہماری رگوں میں انبیاء اور صلحاء کا خون دوڑ رہا ہے اور ہم (آیت) ” ابنآء اللہ واحبآء ہ “۔ کے لقب سے متفخر ہیں ۔
قرآن حکیم نے متعدد مواقع پر اس ناز بےجا کا جواب دیا ہے اس آیت میں بھی ان کے طلسم پندار کو توڑا ہے اور کہا ہے کہ کیا تم وہی نہیں جنہوں نے سبت کے معاملہ میں خدا کی صریح نافرمانی کی اور اس کی پاداش میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کی زبان فیض ترجمان سے ملعون کا خطاب ملا ، اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ تم نے نزول مائدہ کی درخواست کی ، اور اس کے بعد پھر روگردانی کی جس کی وجہ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تمہیں لعنتی ٹھہرایا ۔
جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ف 1 بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کافرانہ روش اختیار کی تھی وہ لوگ دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ملعون قرار دیئے گئے یعنی زبور اور انجیل میں ان پر لعنت کی گئی یہ لعنت اس لئے کی گئی کہ وہ نافرمانی کرنے کے عادی تھے اور شریعت الٰہی کی مخالفت کیا کرتے تھے اور اس نافرمانی میں حد سے بہت دور نکل جاتے تھے انہوں نے جو برے کا م اختیار کر رکھے تھے اس سے آپس میں ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے اور اس برے کام سے باز نہ آتے تھے واقعی ان کا یہ فعل جس کے وہ مرتکب تھے بہت برا تھا۔ (تیسیرا)
خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اور بد اعمالی کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا ان پر زبور اور انجیل میں لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 5۔ یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی جیسے قرآن مجید میں بھی ہے فلعنة اللہ علی الکافرین۔ چونکہ یہ کتابیں حضرت داود حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں اس لیے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہرہوا۔
Read the full tafseer →برائی برائی ہی ہے چھوٹی ہو یا بڑی اس لئے کہ جو چھوٹی برائی کرتا ہے وہ بڑی بھی کرسکتا ہے :
200: ” وہ برائیوں میں پڑجاتے تو پھر ان سے باز نہیں آتے تھے “ ان کے جرائم کو آیت کے اس ٹکڑے نے واضح کردیا اور یہ بھی بتا دیا کہ جس کو برائی کی چاٹ لگ جاتی ہے وہ روز وبروز ترقی کرسکتا ہے لیکن برائی سے باز نہیں آتا۔ ان لوگوں کو اللہ کے فرستادوں نے براہ راست روکنے کی کوشش کی لکنن انہوں نے ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے سے بھی باز نہ آئے ۔ ان
راہ دکھانے والوں کے دشمن بن گئے تو ظاہر ہے کہ کسی قوم کی اخلاقی و ایمانی تباہی کی یہی وہ حد ہے جس پر پہنچ کر وہ سنت اللہ کے مطابق اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
The Sad End of Bani Isra'Il
Mentioned in the second verse (78) is the sad end of those from the Bani Isra'il who were involved in this error of excess and deficiency. On them fell the curse of Allah Almighty. Firstly, it came through the tongue of Sayyidna Dawud (علیہ السلام) as result of which they were transformed into swines. Then, this curse fell upon them through the tongue of Sayyidna 'Isa (علیہ السلام) the temporal effect of which was that they were transformed into monkeys. Some commentators have pointed out that the reference to the curse mentioned here as coming through only two…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
102. The corruption of any nation begins with that of a few individuals. If the collective conscience of that nation is alive, the pressure of public opinion keeps those persons in check and prevents the nation as a whole from becoming corrupted. But if instead of censuring such individuals, the nation leaves them free to behave corruptly, the corruption originally confined to a few continues to spread till it engulfs the whole nation. It was this which ultimately caused the degeneration of Israel. (For the curse against Israel in the words of David and Jesus see Psalms 10, 50 and Matthew 23.)
Read the full tafseer →