Al-Maaida 5:34

Al-Maaida · from ayah 34

5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ ۚ— فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟۠اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ‌ۚ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except for those who return [repenting] before you apprehend them. And know that Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:34

مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہاں وہ لوگ اس سے مستثنی ہیں جو تمہارے ان کو قابو میں لانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں ایسی صورت میں یہ جان رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر وہ جنہوں نے توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر جن لوگوں نے، قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پا جاؤ، توبہ کرلی، سو جان لو کہ اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پاؤ تو جان لو کہ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔ (انہیں یہ سزائیں نہیں دی جائیں گی) تمہیں علم ہونا چاہئے کہ اللہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مگر جو لوگ تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بجز ان کے جو (سچے دل سے) توبہ کرلیں قبل اس سے کہ تم ان پر قابو پالو، تو (ان سے حد ساقط ہوئی۔ سو) تم یقین جان لو کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابوپاؤ تو جانے رہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے ان کے جو توبہ کرلیں اس سے پہلے کہ تم ان پر قابو پاؤ پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمانے والا مہربان ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

except for those who repent before you have overpowered them. Know well that Allah is All-Forgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

except those who repent before you overpower them. Then, be sure that Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

except those who repent before you overpower them. Then, be sure that Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except for those who (having fled away and then) came back (as Muslims) with repentance before they fall into your power; in that case, know that Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Save those who repent before ye overpower them. For know that Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except for those who return [repenting] before you apprehend them. And know that Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

As for those who repent before you (the legal authorities) have control over them (by proving their guilts). They should know that God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Except those who repent before you have them in your power; so know that Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Save those who repent ere ye have them in your power; for know that Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Except for those who repent before they fall into your power: in that case, know that Allah is Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 57 یعنی اگر وہ سعی فساد سے باز آگئے ہوں اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا الٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں اور ان کا بعد کا طرز عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند مطیع قانون اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں اور اس کے بعد ان کے سابق جرائم کا پتہ چلے تو ان سزاؤں میں سے کوئی سزا ان کو نہ دی جائے گی جو اوپر بیان ہوئی ہیں البتہ دو آدمیوں کے حقوق پر اگر کوئی دست درازی انہوں نے کی تھی تو اس کی ذمہ داری ان پر سے ساقط نہ ہوگی مثلا اگر کسی انسان کو انہوں نے قتل کیا تھا یا کسی کا مال لیا تھا یا کوئی اور جرم انسانی جان ومال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوجداری مقدمہ ان پر قائم کیا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ میں ایک استثناء ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ڈاکو اور باغی اگر حکومت کے گھیرے میں آنے اور ان پر قابو پانے سے پہلے پہلے جب کہ ان کی قوت و طاقت بحال ہے، اس حالت میں اگر توبہ کرکے رہزنی سے خود ہی باز آجائیں تو ڈاکہ کی یہ حد شرعی ان سے ساقط ہوجائے گی، یہ استثناء عام قانون حدود سے مختلف ہے، کیونکہ دوسرے جرائم چوری زنا وغیرہ میں جرم کرنے اور قاضی کی عدالت میں جرم ثابت ہوجانے کے بعد اگر مجرم سچے دل سے توبہ بھی کرے تو گو اس توبہ سے آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی، مگر دنیا میں حد شرعی معاف نہ ہوگی، جیسا کہ چند آیتوں کے بعد چوری کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

33۔ 34:۔ اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۭ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاوَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ " محاربہ " کا مفہوم : يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا، اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جراءت و جسارت، ڈھٹآئی اور بیباکی کے ساتھ اس نظام حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اسلامی حکومت کی اطاعت کا اعلان کردیں تو پھر انہیں معاف کردیا جائے، مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ لیکن پھر اس امر میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انہوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا ابرو ریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا، بعض علماء کے نزدیک معاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کا قصاص لیا جائے گا۔ (امام شوکانی اور امام ابن کثیر کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انہیں معاف کردیا جائے گا اور اسی کو ظاہر آیت کا مقتضی بتلایا ہے۔ البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے۔ وہ مستحق سزا ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

28: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کرلیں اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کردیں تو ان کی مذکورہ سزائیں معاف ہوجائیں گی، البتہ چونکہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے اس لئے اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تو وہ مالک کو لوٹانا ہوگا، اور اگر کسی کو قتل کیا ہے تو اس کے وارثوں کو حق ملے گا کہ وہ ان کو قصاص کے طور پر قتل کرنے کا مطالبہ کریں، ہاں اگر وہ بھی معاف کردیں یا قصاص کے بدلے خون بہا لینے پر راضی ہوجائیں تو ان کی جان بخشی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(34) ” (مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) توبہ کرنے والوں کی سزا اور جرم معاف کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلا یہ کہ ان کی توبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے ‘ جبکہ وہ پر قوت تھے ‘ بغاوت جاری رکھ سکتے تھے اور یہ ان کی جانب سے اصلاح پذیری اور ہدایت پر آجانے کی قوی دلیل ہے ۔ دوسرا پہلو یہ ہوگا انہیں دیکھ کر اس قسم کے دوسرے لوگ بھی توبہ کرنے اور راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی مذکور بالا سزائیں جو حدود اور حق اللہ کے طور پر تھیں وہ گرفتاری سے قبل توبہ کرلینے سے معاف ہوجاتی ہیں۔ حقوق العباد معاف نہیں ہوں گے۔ مثلاً اگر کسی کا مال لیا تھا تو ضمان دینا ہوگا، قتل کیا تھا تو قصاص لیا جائے گا۔ ہاں ان چیزوں کے معاف کرنے کا حق صاحب مال اور ولی مقتول کو حاصل ہے (تنبیہ) اس حد کے سوا باقی حدود مثلاً حد زنا، حد شرب خمر، حد سرقہ، حد قذف توبہ سے مطلقاً ساقط نہیں ہوتیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہِمْ ج یعنی پکڑے جانے سے پہلے ایسے لوگ اگر توبہ کرلیں تو ان کے لیے رعایت کی گنجائش ہے ‘ لیکن جب پکڑ لیے گئے تو توبہ کا دروازہ بند ہوگیا۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ حضرت علی رض نے خوراج کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا کہ اگر تم اپنے غلط عقیدے کو اپنے تک رکھو تو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا ‘ لیکن اگر تم خونریزی کرو گے ‘ قتل و غارت کرو گے تو پھر تمہارے ساتھ رعایت نہیں کی ‘ جاسکتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

67 اسلام اور توبہ سے سابقہ گناہوں کی معافی :۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ کوئی شخص حالت کفر میں فساد فی الارض کرتا رہا پھر مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آگیا اور اپنی سب سابقہ عادات ترک کردیں تو اس سے سابقہ گناہوں پر مواخذہ نہ ہوگا کیونکہ اسلام لانا ہی ایسا عمل ہے جو اپنے سے پہلے گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لا کر بھی فساد کا مجرم رہا لیکن بعد میں اس نے توبہ کرلی اور امن پسند اور مطیع قانون بن کر زندگی گزارنے لگا۔ تو اب اس کے سابقہ گناہوں کا سراغ لگا کر اسے سزا نہیں دی جائے گی اس سے سرکاری جرائم تو معاف ہوجائیں گے لیکن بندوں کے جو حقوق اس نے غصب کیے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128 ۔ (اس لیے وہ توبہ کرنے والوں سے حد بھی ساقط کیے دیتا ہے) اب نہ ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، نہ سولی اور نفی فی الارض (حبس) کا اختیار باقی رہے گا، یہ متعین حدود جو اللہ کی مقرر کی ہوئی تھیں، توبہ کے بعد ساقط ہوجائیں گی، اور کوئی دعوی اور مطالبہ اب حکومت اسلامی کی طرف سے باقی نہیں رہے گا البتہ وارثوں اور مدعیوں کو اب بھی اختیار ہے کہ خواہ معاف کردیں، خواہ مال پر صلح کرلیں، خواہ کون کے بدلہ میں خون کا مطالبہ کریں اب معاملہ صرف بندوں کے درمیان رہ گیا، وان اخذ بعد ما تاب وقد قتل عمدا فان شاء الاولیاء قتلوہ ون شاء واعفوا عنہ لان الحد فی ھذہ الجنایۃ لا یقام بعد التوبۃ (ہدایہ) ومتی سقط الحد المذکور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–34

شان نزول : اِنّما جزاءُ الذین یُحَاربون اللہ ورسولہ، (الآیۃ) اس آیت کے شان نزول میں کہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو انہیں نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر جہاں صدقے کے اونٹ رہتے تھے بھیج دیا اور فرمایا تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے گا، چناچہ چند روز میں وہ لوگ تندرست ہوگئے مگر انہوں نے یہ حرکت کی آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ یسار نامی ایک غلام تھا جو نماز بہت اطمینان سے دل لگا کر پڑھا کرتا تھا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو آزاد کردیا تھا۔ صدقات کے جانور جن میں بیت المال کی اونٹنیاں بھی شامل تھیں اور آپ کی اونٹنی بھی تھی، یسار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیہم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم : مگر جن لوگوں نے تمہارے قابو میں آجانے سے پہلے توبہ کرلی تو اللہ غفور رحیم ہے (ان کو معاف کر دے گا) بغوی نے لکھا ہے جن علماء کے نزدیک اس آیت کا نزول کافروں کے حق میں ہوا ان کے نزدیک اس کا مطلب اس طرح ہوگا کہ جن (مجرم ‘ قاتل ‘ رہزن) کافروں نے قابو میں آنے سے پہلے شرک سے توبہ کرلی اور مسلمان ہوگئے ان پر حدود جاری نہ ہوں گی اور حالت کفر میں انہوں نے جو کچھ کیا ہوگا خون کیا ہو یا مال چھینا ہو ‘ کسی فعل کا مواخذہ نہ ہوگا۔ میں کہتا ہوں اسی طرح حربی کافر گرفت میں آنے کے بعد (بھی) اگر شرک سے توبہ کرلے گا تو گزشتہ جرائم کا کوئی مواخذہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) بنی کنانہ کی قوم نے رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تھا تاکہ اسلام قبول کرلیں مگر ہلال بن عویمر کی قوم نے جو مشرک تھے ان کو قتل کرڈالا اور ان کا سازوسامان سب چھین لیا تو اب اللہ تعالیٰ ان کی سزا بیان فرماتے ہیں۔ کہ ان لوگوں کی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور زمین میں گناہ اور قتل اور لوٹ مار جیسے گھناونے جرائم کرتے ہیں یہ سزا ہے کہ جس حالت میں انہوں نے صرف قتل کیا ہو اور مال نہ لیا ہو تو ان کو قصاصا قتل کردیا جائے اور اگر مال بھی لیا ہو تو ان کو سولی پر چڑھا دیا جائے اور اگر صرف ظلما مال ہی لیا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کا قصور معاف کردیا جائے گا اور انھیں مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ ان کا گرفتار ہونے سے پہلے از خود اپنے آپ کو حوالے کردینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے جرائم سے توبہ کرلی ہے، لیکن پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انھوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا آبروریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی ہے یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا ؟ بعض علماء کے نزدیک یہ معاف نہیں ہوں گے، ان کا قصاص لیا جائے گا۔ ابن کثیر اور شوکانی کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انھیں معاف کردیا جائے گا، انھوں نے آیت کے ظاہر الفاظ کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–34

آیت نمبر : 33 تا 34۔ اس آیت میں پندرہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اس آیت کے سبب نزول میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی، ائمہ نے روایت کیا ہے اور یہ لفظ ابوداؤد کے ہیں، حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ یا عرینۃ قبیلہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو انہیں مدینہ طیبہ کی ہوا راس نہ آئی رسول اللہ ﷺ نے انہیں اونٹوں کے پاس جانے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور انکے دودھ پئیں، وہ چلے گئے جب وہ ٹھیک ہوگئے تو انہوں نے نبی مکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، نبی مکرم ﷺ کو ان کی خبر دن کے آغاز میں پہنچی آپ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–34

(1) امام ابو داؤد اور نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انما جزؤا الذین یحاربون اللہ ورسولہ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان میں سے جس نے پہلے ہی توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم قابو پالو۔ اس پر کوئی سزا نہیں ہے اور اس آیت میں کسی مسلمان آدمی کو حد لگانے میں کوئی بچاؤ نہیں اگر وہ قتل کرے یا زمین میں فساد کرے یا اللہ اور اس کے رسول کے لڑے پھر وہ گرفتار ہونے سے پہلے کافروں سے مل جائے تو کوئی رکاوٹ نہیں کہ اس پر حد کو قائم کیا جائے جس جرم میں سے پکڑا جائے۔ (2) امام ابن جریر اور طبرانی نے الکبیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِلَّا الَّذِيْنَ : سوائے ان کے جنھوں نے ] [ تَابُوْا : توبہ کی ] [ مِنْ قَبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَقْدِرُوْا : تم لوگ قابو پاؤ] [ عَلَيْهِمْ ۚ : ان پر ] [ فَاعْلَمُوْٓا : پس جان لو ] [ اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (مگر وہ لوگ جنہوں نے اس سے پہلے توبہ کرلی کہ ان پر تم قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے) اس کے بارے میں حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ حکومت کے گھیراؤ میں آنے اور قابو پانے سے پہلے ڈاکو توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی توبہ قبول ہے لیکن اس سے توبہ سے صرف حد شرعی ساقط ہوجائے گی۔ حق العبد معاف نہ ہوگا۔ اگر عمداً کسی کو قتل کیا تو مقتول کے اولیاء کو اختیار ہے کہ قتل کردیں یا معاف کردیں اور جو مال لیا ہے اس کا واپس کرنا بھی واجب ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ توبہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

حکم دوازدہم، حد قطع طریق۔ قال تعالی، انما جزو الذین یحاربون اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں فساد فی الارض اور قتل ناحق کی شناعت بیان فرمائی چونکہ فساد کی ایک صورت قطع طریق یعنی رہزنی اور ڈکیتی بھی ہے اس لیے اب اس آیت میں سارق (چور) کی سزا کو بیان کرتے ہیں جو اسی حکم کے سابق کا تتمہ اور تکملہ ہے کیونکہ چوری بھی ایک قسم کا فساد ہے جزایں نیست کہ سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یعنی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کے احکام کی علانیہ مخالفت کرتے ہیں اور زمین میں بارادہ فساد دوڑتے پھر تے ہیں یعنی قتل اور قطع طریق کرتے پھرتے ہیں ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

60 اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ الخ اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلُہٗ یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یہ تعبیر اس پر شاہد ہے کہ اس سے مسلمان قطاع الطریق (ڈاکو) مراد نہیں ہیں بلکہ یہ آیت یہود قطاع الطریق کے حق میں ہے یعنی کفار کا مقابلہ کرو اور محاربین (یہود قطاع الطریق) سے قتال کرو تاکہ ان کو اپنے کیے کی سزا مل جائے۔ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ میں یہود قطاع الطریق کا ذکر تھا اب یہاں ان کی سزا بیان فرمائی ان ھذہ الایۃ فی ھؤلاء الذین حکی اللہ تعالیٰ عنہم من بنی اسرائیل انہم بعد ان غیض اللہ علیہم عقاب القتل العمد العدوان فھم مسرفون فی القتل مفسدون فی الارض فمن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–34

ربط آیات گذشتہ آیات میں اللہ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک نے ظلم وتعدی کے ساتھ دوسرے کو قتل کردیا اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے قتل ناحق کی مذمت بیان فرمائی ۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ بیماری بکثرت موجود تھی اس لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کی تعلیم کے لیے یہ بات لکھدی کہ جو کوئی کسی شخص کو بغیر قتل نفس اور بغیر فساد فی الارض کے قتل کرتا ہے وہ گویا تمام انسانوں کا قاتل ہے کیونکہ دنیا میں جس قدر قتل ناحق ہوتے ہیں ان سب کا ایک ایک و بال سب سے پہلے قاتل پر بھی پڑتا ہے۔ ایک شخص کا قاتل پوری دنیا کے انسانوں کے قتل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے برخلاف فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْہِمْ۝ 0ۚ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 34ۧ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–34

ترکیب : جزا مضاف الذین مضاف الیہ یحاربون اللہ معطوف علیہ و یسعون معطوف الذین کا صلہ جملہ مبتدا ان یقتلوا مع اس کے عواطف کے مجموعہ خبر ذلک مبتداء لہم خزی جملہ خبر۔ تفسیر : پہلی آیت میں قتل ناحق کی سخت مذمت تھی۔ اب اس آیت میں اس قتل کی سزا بیان فرمائی جاتی ہے اور نیز یہ کہ کونسا جرم کس سزا کو چاہتا ہے ؟ جمہور کے نزدیک یہ آیت عرینیوں 1 ؎ کے حق میں نازل ہوئی جو کہ مرتد ہو کر قتل اور ڈاکے کے مرتکب ہوئے تھے۔ پھر وہ گرفتار کرکے لائے گئے اور ان کے ہاتھ پائوں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا گیا وہیں تڑپ کر مرگئے۔ اس فعل کی ممانعت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی جس میں حد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–37

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 34) ” مگر جو لوگ تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔ اگر یہ باغی لوگ اور یہ بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد حکومت کی دسترس میں آنے سے پہلے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلیں تو پھر ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر ان کو یہ سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ بلکہ ان کے ساتھ رحم اور مروت کا معاملہ ہوگا۔ البتہ ان لوگوں نے جو دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ‘ یہ اگر خود اس کا اعتراف کرلیں یا اس کے گواہ موجود ہوں تو پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اسلامی سزاؤں کا فلسفہ یہ ہے کہ جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ مگر صرف سزا کا نفاذ ہی اصلاح کا ذریعہ نہیں ہوا کرتا اگر مجرموں کو سزا پر سزا دی جاتی رہے تو بسا اوقات وہ قومی مجرم اور پیشہ ور لٹیرے ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے دوسرے جرائم کی طرح سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے لیے بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ لیکن اس کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ وہ انتظامیہ کی پکڑ میں آنے اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے پہلے تائب ہوجائیں۔ اس میں بھی کچھ صورتوں کو ناقابل معافی قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسے شخص نے کوئی قتل کیا ہے تو اسے قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 34 : اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہِمْ (مگر وہ لوگ جو تمہارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں) تو ان سے یہ حدود ساقط ہوجائیں گی۔ وہ معاملات جو بندوں کے حقوق کے متعلق ہیں۔ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس یقین کرلو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں) ان کی توبہ سے ان کو بخش دیں گے اور رحیم ہیں رحم فرما کر ان کو عذاب نہ دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 34 تفسیر : (الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم مگر جنہوں نے توبہ کی تمہارے قابو پانے سے پہلے تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جن حضرات کے نزدیک یہ آیت کفار کے بارے میں نازل ہوئی ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ مگر جن لوگوں نے اپنے شرک سے توبہ کی اور ان پر قابو پانے سے پہلے اسلام لے آئے اور مطیع ہوگئے تو ان پر کوئی حد جاری نہ ہوگی اور کفر کی حالت میں جو خون بہائے اور مال لوٹے وہ معاف ہوں گے اور بہرحال مسلمان جنگجو جوان میں سے پکڑے جانے سے قبل توبہ کرلیں تو ان سے حقوق اللہ تو معاف ہوجائیں گے اور ان حقوق اللہ میں کوتاہی کی سزائیں بھی لیکن حقوق العباد میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

(33 ۔ 34) ۔ عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابن جریر نے حضرت انس ؓ کی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ بحرین کے رہنے والے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ جو مرتد ہو کر صدقہ کے اونٹ چوری سے ہانک کرلے گئے تھے اور چرواہے کو بھی قتل کر گئے تھے جن کو آنحضرت نے پھر پکڑوایا اور مروا ڈالا ان کی شان میں یہ آیت اتری ہے اور جمہور مفسرین کا قول ہے کہ راہ زنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور جس طرح عبد الرزاق اور ابن جریر نے اپنی تفسیروں میں قبیلہ عرینہ کے قصے کو اس َآیت کا شان نزول قرار دیا ہے۔ اسی طرح ابو داؤد نے بھی اس قصہ کو شان نزول اس آیت کا قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت 33 اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کردیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 34–37

قول باری ہے (الا الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیم۔ مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پائو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے) ۔ آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کے لئے استثناء ہے جو قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں اس جملے کے ذریعے انہیں ان لوگوں سے نکال دیا گیا ہے جن پر اللہ نے حد واجب کردی اس لئے کہ استثناء میں بعض افراد کو اس مجموعے سے خارج کردیا جاتا ہے جس میں یہ افراد شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ قول باری ہے (الا آل لوط انا لمنجوھم اجمعین الا امراتہ آل لوط کے سوا، ہم ان سب کو بچا لینے والے ہیں مگر اس کی بیوی) اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–34

85 فساد فی الارض اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے برابر : سو اس سے فسادفی الارض کے جرم کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دراصل اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کا جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو امن وامان کو تباہ کرنا اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ رہزنی و ڈکیتی کا ارتکاب کر کے۔ اور اس کو خدا و رسول سے جنگ قرار دیا گیا کہ عدل و انصاف اور امن وامان قائم کرنا دین حق کا ایک بنیادی مقصد اور اہم تقاضا ہے۔ یہاں تک کہ دین حق کے نازل کرنے اور انبیائے کرام کے مبعوث فرمانے کا انتظام بھی بنیادی طور پر اسی لئے فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں اس کی تصریح فرما…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–34

بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔ اسرار و معارف : آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی ایسے لوگوں کا قصو معاف کردیا کیونکہ ان کا گرفتا ہونے سے پہلے ازخود اپنے آپ کو حوالے کردینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انہوں نے اپنے جرائم سے توبہ کرلی ہے مگر انہوں نے جو حقوق بندوں کے تلف کیے ہو نگے وہ معاف نہیں ہو کئے جاسکتے ان میں بہر حال ان کو پکڑا جائے گا اسی طرح شراب، زنا سرقہ وغیرہ کی حد بھی توبہ سے معاف نہیں ہوسکتی ہاں ان گناہوں پر دنیا میں اللہ تعالیٰ پردہ ڈال دے تو عند الہ توبہ سے معاف سکتے ہیں (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–37

(5:33) ینفوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نفی مصدر (باب ضرب) نفی ینفی۔ ینفوا ان کو نکال دیا جائے۔ نفی الرجل من بلدہ۔ آدمی کو اس کے شہر سے شہر بدر کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 لغات القرآن : من اجل ذلک (اسی وجہ سے) ۔ کتبنا (ہم نے لکھ دیا۔ فرض کردیا) ۔ کانما (گویا کہ وہ۔ جیسا کہ وہ) ۔ مسرفون (حس سے آگے بڑھ جانے والے) ۔ یحاربون (محاربۃ) ۔ وہ لڑتے ہیں۔ لڑائی کرتے ہیں) ۔ یسعون (وہ دوڑتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں) ۔ ان یقتلوا (یہ کہ وہ قتل کئے جائیں) ۔ یصلبوا (سولی دئیے جائیں۔ بھانسی پر چڑھا دئیے جائیں) ۔ تقطع (کاٹ دئیے جائیں) ۔ ینفوا (نکال دئیے گئے ۔ نکال دئیے جائیں) ۔ خزی (رسوائی۔ ذلت۔ شرمندگی) ۔ تابوا (توبہ کرلی) ۔ ان یقدروا (یہ کہ تم قابو پاؤ) ۔ اعلموا (جان لو۔ خبردار رہو) ۔ تشریح : اسلامی قوانین میں قتل کے دو ہی جواز ہیں۔ (1) ایک ہے قاتل کا قتل۔ اس میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

راہزنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جس کا شان نزول یہ ہے کہ 6 ھ میں عرینہ کے چند لوگ مدینہ طیبہ میں آکر اسلام لائے اور بیمار ہوگئے، ان کے رنگ زرد ہوگئے اور پیٹ بڑھ گئے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ علاقہ کے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب ملاکر پیاکریں۔ ایسا کرنے سے وہ تندرست ہوگئے اور تندرست ہوکر مرتد ہوگئے اور 15، اونٹ لے کر وہ اپنے وطن چلے گئے۔ حضور ﷺ نے اس کے طلب میں یسار ؓ کو بھیجا ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ایذائیں دیتے دیتے شہید کرڈالا۔ پھر جب یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں گفتار کرکے حاضر کے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[28] یعنی گرفتار کرلو۔ [29] یعنی توبہ کرنے والوں سے مذکورہ حدود توبہ کے بعد ساقط ہوجائیں گی بشرطیکہ وہ اپنے طرز عمل سے اپنی نیک چلنی اور امن پسندی ثابت کردیں۔ البتہ وارثوں اور مدعیوں کو اب بھی اختیار ہے کہ خواہ معاف کردیں، خواہ مال پر صلح کرلیں، خواہ ان کے بدلے میں خون کا مطالبہ کریں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ مجرم اگر عدالت سے پہلے پہلے گناہ سے تائب ہوجائے تو مواخذہ نہیں یعنی ہر گناہ کے بعد توبہ وانابت کے دروازے کھلے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 ان لوگوں کی سزا جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد و بدامنی برپا کرنے کو دوڑے دوڑے پھرتے ہیں بس یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف اور مقابل جانب سے کاٹے جائیں یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پائوں یا وہ شہر بدر کر دیئیجائیں اور شہری آزادی سے ان کو محروم کردیا جائے یہ مذکورہ سزا سزا ان کے لئے دنیا میں سخت ذلت و رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے مگر ہاں وہ لوگ جو اس سے پہلے پہلے کہ تم ان پر قابو پائو اور ان کو گرفتار کرو وہ توبہ کرلیں تو یقین جانو ! اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کو بڑا بخشنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ مطلب یہ ہے کہ اوپر جو سزامذکور ہوئی ہے وہ حد اور حق اللہ کے طور پر ہے جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی قصاص وحق العبد کے طور پر نہیں جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے پس جب قبل گرفتاری کے ان لوگوں کا تائب ہوناثابت ہوجائے تو حد ساقط ہوجائے گی جو کہ اللہ تعالیٰ کا حق تھا البتہ حق العبد باقی رہے گا پس اگر مال لیا ہوگا تو اس کا ضمان دیناپڑے گا اور قتل کیا ہوگا تو اس کا قصاص لیا جائے گا لیکن اس ضمان وقصاص کے معاف کرنے کا حق صاحب مال اور ولی مقتول کو حاصل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مغلوب ہونے سے پہلے اصلاح حاصل کرلینے والوں کا حکم : 110: مذکورہ سزائیں جو اوپر ذکر کی گئی ہیں یہ صرف ان باغیوں کے خلاف استعمال کی جائیں گی جو حکومت کے حالات پر قابوپانے سے پہلے تک اپنی بغاوت پر اڑے رہے ہوں اور حکومت نے اپنی طاقت سے ان کو مغلوب و مقہور کیا ہو جو لوگ حکومت کے ایکشن سے پہلے ہی توبہ کر کے اپنے رویہ کی اصلاح کرچکے ہوں ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بناء پر اس قسم کا کوئی اقدام جائز نہیں ہوگا بلکہ اب ان کے ساتھ عام قانون کے تحت معاملہ ہوگا اگر ان کے ہاتھوں عام شہریوں کے حقوق تلف ہوئے ہیں تو حتی الامکان ان کی تلافی کرادی جائے گی اور یہ بھی بیان کا پ گیا ہے کہ جب وہ گرفتار ہونے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (34) : إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُ‌وا عَلَيْهِمْ (... except those who repent before you overpower them), an exception has been mentioned. The exception is that should the robbers and rebels were to repent - before they are surrounded and overpowered by government forces, and are in a state when their position of strength is still operative - and decide on their own to abandon their practice of highway robbery, then, this Prescribed Punishment will stand dropped in their case. This exception is different from the general Law of Hudud because in other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57. If they give up subversion and abandon their endeavour to disrupt or overthrow the righteous order, and their subsequent conduct shows that they have indeed become peace-loving, law-abiding citizens of good character, they need not be subjected to the punishments mentioned here even if any of their former crimes against the state should come to light. If their crime involves violation of the rights of other men they may not be absolved from their guilt. If, for instance, they have either killed a person, seized someone's property or committed any other crime against human life or property…

Read the full tafseer →