Al-Maaida 5:33

Al-Maaida · from ayah 33

5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ؕ— ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟ۙاِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ‌ؕ ذٰ لِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا‌ وَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the penalty for those who wage war against Allah and His Messenger and strive upon earth [to cause] corruption is none but that they be killed or crucified or that their hands and feet be cut off from opposite sides or that they be exiled from the land. That is for them a disgrace in this world; and for them in the Hereafter is a great punishment,

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:33

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت و رسوائی تو اُن کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے، یا سولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں زمین سے دور کردیا جائے یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے زبردست عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا غداب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے اور زمین میں فساد بپا کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں ان کی سزا تو یہی ہوسکتی ہے کہ انہیں اذیت کے ساتھ قتل کیا جائے یا سولی پر لٹکایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلاوطن کردیا جائے۔ ان کے لیے یہ ذلت تو دنیا میں ہے اور آخرت میں انہیں بہت بڑا عذاب ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں کی سزا، جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں، بس یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں بےترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا ملک سے باہر نکال دیے جائیں۔ یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عذاب عظیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے نہیں کہ سزا ان لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور وہ فساد مچاتے پھر ہیں (اللہ کی) اس زمین میں، یہی ہے کہ ان کو قتل کردیا جائے چن چن کر، یا ان کو لٹکا دیا جائے پھانسی پر، یا کاٹ ڈالے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے یا جلا وطن کردیا جائے ان کو، یہ تو ان کی رسوائی ہے دنیا میں، اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد پھیلانے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی سزا بس یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ ملک سے نکال دیئے جائیں۔ یہ تو ان کی رسوائی دنیا میں ہوئی۔ اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی ہے سزا ان لوگوں کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور زمین میں فساد پھیلاتے پھرتے ہیں کہ انہیں (عبرت ناک طور پر) قتل کیا جائے یا انھیں سولی چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کاٹ دیے جائیں یا انھیں ملک بدر کردیا جائے یہ تو ان کے لیے دنیا کی زندگی میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے (مزید) بہت بڑا عذاب ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے دوڑتے پھرتے ہیں کہ فساد پھیلائیں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا وہ جلا وطن کردیئے جائیں۔ یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who wage war against Allah and His Messenger, and go about the earth spreading mischief -indeed their recompense is that they either be done to death, or be crucified, or have their hands and feet cut off from the opposite sides or be banished from the land. Such shall be their degradation in this world; and a mighty chastisement lies in store for them in the World to Come

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who fight against Allah and His Messenger and run about trying to spread disorder on the earth, their punishment is no other than that they shall be killed, or be crucified, or their hands and legs be cut off from different sides, or they be kept away from the land (they live in). That is a humiliation for them in this world, and for them there is a great punishment in the Hereafter;

— Muhammad Taqi Usmani

Those who fight against Allah and His Messenger and run about trying to spread disorder on the earth, their punishment is no other than that they shall be killed, or be crucified, or their hands and legs be cut off from different sides, or they be kept away from the land (they live in). That is a humiliation for them in this world, and for them there is a great punishment in the Hereafter;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The recompense of those who wage war against Allah and His Messenger and do mischief in the land is only that they shall be killed or crucified, or their hands and their feet be cut off on opposite sides, or be exiled from the land. That is their disgrace in this world, and a great torment is theirs in the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The only reward of those who make war upon Allah and His messenger and strive after corruption in the land will be that they will be killed or crucified, or have their hands and feet on alternate sides cut off, or will be expelled out of the land. Such will be their degradation in the world, and in the Hereafter theirs will be an awful doom;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the penalty for those who wage war against Allah and His Messenger and strive upon earth [to cause] corruption is none but that they be killed or crucified or that their hands and feet be cut off from opposite sides or that they be exiled from the land. That is for them a disgrace in this world; and for them in the Hereafter is a great punishment,

— Saheeh International

The only proper recompense for those who fight against God and His Messenger and try to spread evil in the land is to be killed, crucified, or either to have one of their hands and feet cut from the opposite side or to be sent into exile. These are to disgrace them in this life and they will suffer a great torment in the life hereafter.

— Muhammad Sarwar

The punishment of those who wage war against Allah and His apostle and strive to make mischief in the land is only this, that they should be murdered or crucified or their hands and their feet should be cut off on opposite sides or they should be imprisoned; this shall be as a disgrace for them in this world, and in the hereafter they shall have a grievous chastisement,

— Muhammad Habib Shakir

The meed of those who wage war against Allah and His apostle and go about in the land corrupting is only that they shall be slain or crucified or their hands and feet be cut off on the opposite sides, or be banished from the land. Such shall be their humiliation in the world, and theirs shall be in the Hereafter a mighty torment.

— Abdul Majid Daryabadi

The punishment of those who wage war against Allah and His Messenger, and strive with might and main for mischief through the land is: execution, or crucifixion, or the cutting off of hands and feet from opposite sides, or exile from the land: that is their disgrace in this world, and a heavy punishment is theirs in the Hereafter;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–34

ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمَآىِٕدَة 55 زمین سے مراد یہاں وہ ملک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمہ داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو۔ اور خدا و رسول سے لڑنے کا مطلب اس نظام صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی کے لیے اس نے اپنا رسول بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اس چیز کو جو زمین پر ہے، امن بخشے، جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے، جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

جرم و سزا کے چند قرآنی ضابطے اِنَّمَا جَزٰۗؤ ُ ا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادً۔ خلاصہ تفسیر جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے لڑتے ہیں اور (اس لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ) ملک میں فساد (یعنی بدامنی) پھیلاتے پھرتے ہیں (مراد اس سے رہزنی یعنی ڈکیتی ہے، ایسے شخص پر جس کو اللہ نے قانون شرعی سے جس کا اظہار رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ہوا ہے امن دیا ہو یعنی مسلمان پر اور ذمی پر، اور اسی لئے اس کو اللہ اور رسول ﷺ سے لڑنا کہا گیا ہے، کہ اس نے اللہ کے دئیے ہوئے امن کو توڑا، اور چونکہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا ظہور ہوا اس لئے رسول کا تعلق بھی بڑھا دیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

33۔ 34:۔ اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۭ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَاوَلَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ " محاربہ " کا مفہوم : يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا، اللہ اور رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جراءت و جسارت، ڈھٹآئی اور بیباکی کے ساتھ اس نظام حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 اس کی شان نزول کی بابت آتا ہے کہ عکل اور عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو نبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے باہر، جہاں صدقے کے اونٹ تھے، بھیج دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب پیؤ، اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمائے گا۔ چناچہ چند روز میں وہ ٹھیک ہوگئے لیکن اس کے بعد انہوں نے اونٹوں کے رکھوالے اور چروا ہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہنکا کرلے گئے۔ جب نبی کو اس امر کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے جو انہیں اونٹوں سمیت پکڑ لائے۔ نبی نے ان کے ہاتھ پیر مخالف جانب سے کاٹ ڈالے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں، (کیونکہ انہوں نے بھی چروا ہے کے ساتھ ایسا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

26: پیچھے جہاں انسانی جان کی حرمت کا ذکر تھا وہاں یہ اشارہ بھی کردیا گیا تھا کہ جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کی جان کو یہ حرمت حاصل نہیں ہے، اب ان کی مفصل سزا بیان کی جارہی ہے، مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد وہ ڈاکو ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں، ان کے بارے میں یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان قوانین کی بےحرمتی کرتے ہیں اور ان کا لوگوں سے لڑنا گویا اللہ اور اس کے رسول سے لڑنا ہے، ان لوگوں کے لئے اس آیت میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں، ان سزاؤں کی تشریح امام ابوحنیفہ ؒ نے یہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 33 تا 34۔ یہ جرم جس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے اس کی حدود کیا ہیں ؟ یعنی کسی مسلم سربراہ مملکت کے خلاف بغاوت کرنا ‘ جو حکومت شریعت کے مطابق چلا رہا ہو۔ یہ خروج ایک جمعیت کی شکل میں ہو اور کوئی گروہ اس مملکت کے خلاف مغاوت پر اتر آیا ہو اور اس نے ایسی روش اختیار کرلی ہو جس سے دارالاسلام کے لوگوں کے اندر خوف وہراس پیدا ہو اور اس گروہ کی جانب سے باشندگان دارالاسلام کو مالی ‘ جانی اور عزت کے نقصان کے خطرات لاحق ہوں ۔ بعض فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی بد امنی کرنے کو اکثر مفسرین نے اس جگہ رہزنی اور ڈکیتی مراد لی ہے مگر الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہوجاتا ہے آیت کا جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوا وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو ان کے عموم پر رکھا جائے " اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا " یا " زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی، ناحق قتل و نہب، مجرمانہ سازشیں اور مغویانہ پروپیگنڈا سب داخل ہوسکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ان چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ٹھہرتا ہے۔ 6 یعنی داہنا ہاتھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 اِنَّمَا جَََزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ‘ یعنی اسلامی ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتے ہیں۔ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا واضح رہے کہ یہاں فعل یُقْتَلُوْا استعمال نہیں ہوا بلکہ یُقَتَّلُوْاہے کہ ان کے ٹکڑے کیے ‘ جائیں۔ اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا ایک پاؤں کاٹا جائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کی صورتیں اور سزائیں :۔ اس آیت میں اللہ اور رسول سے جنگ سے مراد عموماً حرابہ یعنی ڈکیتی یا راہزنی سمجھا جاتا ہے۔ پھر اس آیت میں چار قسم کی سزاؤں کو جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اس طرح متعلق کیا جاتا ہے کہ : (1) اگر مجرم نے قتل تو کردیا ہو مگر مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور (2) اگر قتل بھی کردیا ہو اور مال بھی لوٹ لیا ہو تو اسے سولی پر لٹکایا جائے گا۔ اور (3) اگر صرف مال ہی چھینا ہو قتل نہ کیا ہو تو اس کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹے جائیں گے اور (4) اگر ابھی قتل بھی نہ کیا اور مال بھی چھیننے سے پہلے گرفتار ہوجائے تو اسے جلاوطن کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

124 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ اور آیت کے ان دو جملوں میں باہمی تعلق کیا ہے ؟ اہل تحقیق کے نزدیک دونوں فقروں کے درمیان کا و واؤ تفسیری ہے، اور اس لیے دوسرا فقرہ (آیت) ” یسعون فی الارض “۔ پہلے فقرہ (آیت) ” الذین یحاربون اللہ ورسولہ “۔ کی تشریح و تفسیر اور اس کی مراد متعین کررہا ہے ویسعون فی الارض فسادا ھذا ھو معنی محاربۃ المسلمین (جمل) مراد یہاں رہزنوں اور ڈاکوؤں کے گروہ سے ہے، عام اس سے کہ وہ کافر ہوں یا مسلم، یہی گروہ جب نکلتا ہے تو ہتھیار باندھ کر، پوری شان و شوکت کے ساتھ کہ جن پر حملہ کیا جائے وہ بیچارے مقابلہ بھی نہ کرسکیں، عاصیوں اور نافرمانوں کے طبقہ میں یہ گروہ خصوصیت کے ساتھ محاربین کا مصداق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–34

شان نزول : اِنّما جزاءُ الذین یُحَاربون اللہ ورسولہ، (الآیۃ) اس آیت کے شان نزول میں کہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو انہیں نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر جہاں صدقے کے اونٹ رہتے تھے بھیج دیا اور فرمایا تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے گا، چناچہ چند روز میں وہ لوگ تندرست ہوگئے مگر انہوں نے یہ حرکت کی آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ یسار نامی ایک غلام تھا جو نماز بہت اطمینان سے دل لگا کر پڑھا کرتا تھا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو آزاد کردیا تھا۔ صدقات کے جانور جن میں بیت المال کی اونٹنیاں بھی شامل تھیں اور آپ کی اونٹنی بھی تھی، یسار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما جزآؤ الذین یحاربون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں۔ ویسعون فی الارض فسادا اور زمین پر بگاڑ پیدا کرنے کے لئے دوڑے پھرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے۔ اللہ سے لڑنے کا معنی ہے اللہ کے بندوں سے جنگ کرنا۔ اللہ کا رسول ﷺ راہ زندگی کا محافظ ہے اور اس کے جانشین خلیفہ ہوں یا بادشاہ رسول کے نائب ہیں (ان سب سے جنگ اللہ سے جنگ ہے) یا اللہ اور اللہ کے رسول سے جنگ کرنے سے مراد ہے دونوں کے احکام کی مخالفت اور اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت مالی و جانی میں رخنہ اندازی۔ بیضاوی نے لکھا ہے حرب کا اصلی معنی ہے چھیننا۔ قاموس میں ہے کہ حرب کا معنی معروف ہے (یعنی جنگ) اور مال چھیننے کو بھی کہتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) بنی کنانہ کی قوم نے رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تھا تاکہ اسلام قبول کرلیں مگر ہلال بن عویمر کی قوم نے جو مشرک تھے ان کو قتل کرڈالا اور ان کا سازوسامان سب چھین لیا تو اب اللہ تعالیٰ ان کی سزا بیان فرماتے ہیں۔ کہ ان لوگوں کی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور زمین میں گناہ اور قتل اور لوٹ مار جیسے گھناونے جرائم کرتے ہیں یہ سزا ہے کہ جس حالت میں انہوں نے صرف قتل کیا ہو اور مال نہ لیا ہو تو ان کو قصاصا قتل کردیا جائے اور اگر مال بھی لیا ہو تو ان کو سولی پر چڑھا دیا جائے اور اگر صرف ظلما مال ہی لیا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ۔۔ : یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے، مراد وہ لوگ ہیں جو اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام نافذ کرنے والی ہے اور اسلام کی سرزمین میں ڈاکا ڈالتے، لوٹ مار کرتے، فساد پھیلانے کی کوشش کرتے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ حاکم وقت ان چار سزاؤں میں سے کوئی بھی سزا انھیں دے سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی کو قتل کیا جائے گا جس نے قتل کیا ہو اور اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنا اس کا جرم ہوگا، مگر آیت کے صریح الفاظ اس کی موافقت نہیں کرتے، بلکہ ان لوگوں کا حکم حربیوں (جنگ کرنے والوں) کا ہے، حاکم وقت ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے سکتا ہے، عام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 33–34

آیت نمبر : 33 تا 34۔ اس آیت میں پندرہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اس آیت کے سبب نزول میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ عرنیین کے بارے میں نازل ہوئی، ائمہ نے روایت کیا ہے اور یہ لفظ ابوداؤد کے ہیں، حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ یا عرینۃ قبیلہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو انہیں مدینہ طیبہ کی ہوا راس نہ آئی رسول اللہ ﷺ نے انہیں اونٹوں کے پاس جانے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور انکے دودھ پئیں، وہ چلے گئے جب وہ ٹھیک ہوگئے تو انہوں نے نبی مکرم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، نبی مکرم ﷺ کو ان کی خبر دن کے آغاز میں پہنچی آپ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–34

(1) امام ابو داؤد اور نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انما جزؤا الذین یحاربون اللہ ورسولہ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان میں سے جس نے پہلے ہی توبہ کرلی اس سے پہلے کہ تم قابو پالو۔ اس پر کوئی سزا نہیں ہے اور اس آیت میں کسی مسلمان آدمی کو حد لگانے میں کوئی بچاؤ نہیں اگر وہ قتل کرے یا زمین میں فساد کرے یا اللہ اور اس کے رسول کے لڑے پھر وہ گرفتار ہونے سے پہلے کافروں سے مل جائے تو کوئی رکاوٹ نہیں کہ اس پر حد کو قائم کیا جائے جس جرم میں سے پکڑا جائے۔ (2) امام ابن جریر اور طبرانی نے الکبیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ : ان لوگوں کی سزا جو ] [ يُحَارِبُوْنَ : لڑتے ہیں ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ وَرَسُوْلَهٗ : اور اس کے رسول سے ] [ وَيَسْعَوْنَ : اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَسَادًا : (حقوق و فرائض کا ) توازن بگاڑنے کو ] [ اَنْ : (یہ ہے ) کہ ] [ يُّقَتَّلُوْٓا : وہ لوگ قتل کیے جائیں ] [ اَوْ يُصَلَّبُوْٓا : یا پھانسی دیئے جائیں ] [ اَوْ تُـقَطَّعَ : یا کاٹے جائیں ] [ اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھ ] [ وَاَرْجُلُهُمْ : اور ان کے پیر ] [ مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف ) سے ] [ اَوْ يُنْفَوْا : یا وہ قید کئے جائیں ] [ مِنَ الْاَرْضِ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دنیا اور آخرت میں ڈاکوؤں کی سزا ان آیات میں اللہ جل شانہ نے ڈاکوؤں اور راہزنوں کی سزا بیان فرمائی ہے جو دنیاوی احکام سے متعلق ہے اور آخر میں فرمایا کہ یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا۔ آیت شریفہ میں چار سزاؤں کا ذکر ہے ایک قتل دوسرے سولی پر چڑھانا تیسرے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دینا۔ یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں، چوتھے زمین سے دور کرنا۔ ڈکیتی اور رہزنی کو اللہ اور رسول سے لڑنے سے تعبیر فرمایا کیونکہ یہ لوگ اللہ کی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بندوں تک پہنچی ہے اور زمین میں جو امن وامان ہے اسے تباہ کرتے ہیں۔ آیت کریمہ اِنَّمَاجَزَآءُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

حکم دوازدہم، حد قطع طریق۔ قال تعالی، انما جزو الذین یحاربون اللہ ورسولہ۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں فساد فی الارض اور قتل ناحق کی شناعت بیان فرمائی چونکہ فساد کی ایک صورت قطع طریق یعنی رہزنی اور ڈکیتی بھی ہے اس لیے اب اس آیت میں سارق (چور) کی سزا کو بیان کرتے ہیں جو اسی حکم کے سابق کا تتمہ اور تکملہ ہے کیونکہ چوری بھی ایک قسم کا فساد ہے جزایں نیست کہ سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یعنی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس کے احکام کی علانیہ مخالفت کرتے ہیں اور زمین میں بارادہ فساد دوڑتے پھر تے ہیں یعنی قتل اور قطع طریق کرتے پھرتے ہیں ایسے لوگوں کی سزا یہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 33–34

60 اِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِیْنَ الخ اَلَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلُہٗ یعنی وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں یہ تعبیر اس پر شاہد ہے کہ اس سے مسلمان قطاع الطریق (ڈاکو) مراد نہیں ہیں بلکہ یہ آیت یہود قطاع الطریق کے حق میں ہے یعنی کفار کا مقابلہ کرو اور محاربین (یہود قطاع الطریق) سے قتال کرو تاکہ ان کو اپنے کیے کی سزا مل جائے۔ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ میں یہود قطاع الطریق کا ذکر تھا اب یہاں ان کی سزا بیان فرمائی ان ھذہ الایۃ فی ھؤلاء الذین حکی اللہ تعالیٰ عنہم من بنی اسرائیل انہم بعد ان غیض اللہ علیہم عقاب القتل العمد العدوان فھم مسرفون فی القتل مفسدون فی الارض فمن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–34

ربط آیات گذشتہ آیات میں اللہ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک نے ظلم وتعدی کے ساتھ دوسرے کو قتل کردیا اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے قتل ناحق کی مذمت بیان فرمائی ۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ بیماری بکثرت موجود تھی اس لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کی تعلیم کے لیے یہ بات لکھدی کہ جو کوئی کسی شخص کو بغیر قتل نفس اور بغیر فساد فی الارض کے قتل کرتا ہے وہ گویا تمام انسانوں کا قاتل ہے کیونکہ دنیا میں جس قدر قتل ناحق ہوتے ہیں ان سب کا ایک ایک و بال سب سے پہلے قاتل پر بھی پڑتا ہے۔ ایک شخص کا قاتل پوری دنیا کے انسانوں کے قتل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے برخلاف فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا اَوْ يُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ۝ 0ۭ ذٰلِكَ لَہُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ 33ۙ جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 33–34

ترکیب : جزا مضاف الذین مضاف الیہ یحاربون اللہ معطوف علیہ و یسعون معطوف الذین کا صلہ جملہ مبتدا ان یقتلوا مع اس کے عواطف کے مجموعہ خبر ذلک مبتداء لہم خزی جملہ خبر۔ تفسیر : پہلی آیت میں قتل ناحق کی سخت مذمت تھی۔ اب اس آیت میں اس قتل کی سزا بیان فرمائی جاتی ہے اور نیز یہ کہ کونسا جرم کس سزا کو چاہتا ہے ؟ جمہور کے نزدیک یہ آیت عرینیوں 1 ؎ کے حق میں نازل ہوئی جو کہ مرتد ہو کر قتل اور ڈاکے کے مرتکب ہوئے تھے۔ پھر وہ گرفتار کرکے لائے گئے اور ان کے ہاتھ پائوں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا گیا وہیں تڑپ کر مرگئے۔ اس فعل کی ممانعت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی جس میں حد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہ َ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (المائدہ : 33) ” ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں ‘ بس یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائیں جائیں یا ان کے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا ملک سے باہر نکال دیئے جائیں۔ یہ ان کے لیے اس دنیا میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ظلم و استبداد کو روکنے کے لیے ابتدا ہی سے فوج داری ضابطے نازل فرمائے گئے تاکہ ظالم دنیا ہی میں سزا پائیں اور آئندہ ایسے مظالم سے باز آجائیں۔ اسلام نے قتل انسان کو بڑا سنگین جرم قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود لوگ انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسے درندوں کے لیے اسلام سخت ترین سزا تجویز کرتا ہے تاکہ امن وامان قائم اور چادر اور چار دیواری کا تحفظ یقینی ہو سکے۔ اگر کسی ملک میں شاہراہیں غیر محفوظ اور لوگوں کی آمد و رفت پر خطربنا دی جائے تو اسلام ایسی صورت حال کو لمحہ بھر کے لیے بھی برداشت نہیں کرتا۔ ایسے لوگوں سے نمٹنے کے لیے اسلام سخت ترین کارروائی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

محاربین کی اقسام اربعہ : آیت 33 : اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ (بےشک ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کرتے ہیں) اللہ تعالیٰ کے محاربہ سے مراد اولیاء اللہ سے محاربہ ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں من اہان لی ولیًا فقد بار زنی بالمحاربۃ۔ جس نے میرے کسی دوست کی توہین کی اس نے محاربہ کے لئے مجھے دعوت دی۔ ابن ماجہ 3989 وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا (وہ زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں) یعنی وہ فساد کرنے والے ہیں۔ اور فساد اً مفعول بہ بھی بن سکتا ہے۔ یعنی وہ فساد کی خاطر زمین میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ اور جزائُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 33 تفسیر : (انما جزوا الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا) ( یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو لڑائی کرتے ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرنے کو۔ الخ) ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت اہل کتاب کی ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ان کے اور نبی کریم ﷺ کے مابین عہد تھا۔ انہوں نے عہد توڑ دیا اور ڈاکہ مار کر زمین میں فساد مچانے لگے۔ اور کلبی (رح) کہتے ہیں یہ ہلال بن عویمر کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہلال بن عویمر جو کہ ابوبردۃ الاسلمی ہیں سے یہ معاہدہ تھا کہ نہ ان کی کوئی مدد کریں گے اور نہ ان کے کسی دشمن کی ان کے خلاف اور جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 33–34

(33 ۔ 34) ۔ عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابن جریر نے حضرت انس ؓ کی روایت کے حوالے سے لکھا ہے کہ بحرین کے رہنے والے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ جو مرتد ہو کر صدقہ کے اونٹ چوری سے ہانک کرلے گئے تھے اور چرواہے کو بھی قتل کر گئے تھے جن کو آنحضرت نے پھر پکڑوایا اور مروا ڈالا ان کی شان میں یہ آیت اتری ہے اور جمہور مفسرین کا قول ہے کہ راہ زنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور جس طرح عبد الرزاق اور ابن جریر نے اپنی تفسیروں میں قبیلہ عرینہ کے قصے کو اس َآیت کا شان نزول قرار دیا ہے۔ اسی طرح ابو داؤد نے بھی اس قصہ کو شان نزول اس آیت کا قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 33–35

آیت 33 اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کردیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

محاربین کی حد یعنی سزا قول باری ہے (انما جزاء الذین یحادبون اللہ و رسولہ و یسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیھم و ارجلھم من خلاف او ینفوا من الارض، جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لئے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کئے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلاوطن کردیئے جائیں) ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (یجادبون اللہ) مجازی معنی پر محمول ہے۔ حقیقی معنی پر نہیں اس لئے کہ اللہ سے لڑنا امر محال ہے۔ اس میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک یہ کہ جو لوگ طاقت پکڑ کر کھلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–34

85 فساد فی الارض اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے برابر : سو اس سے فسادفی الارض کے جرم کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دراصل اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کا جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو امن وامان کو تباہ کرنا اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ رہزنی و ڈکیتی کا ارتکاب کر کے۔ اور اس کو خدا و رسول سے جنگ قرار دیا گیا کہ عدل و انصاف اور امن وامان قائم کرنا دین حق کا ایک بنیادی مقصد اور اہم تقاضا ہے۔ یہاں تک کہ دین حق کے نازل کرنے اور انبیائے کرام کے مبعوث فرمانے کا انتظام بھی بنیادی طور پر اسی لئے فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ سورة حدید کی آیت نمبر 25 میں اس کی تصریح فرما…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–34

بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔ اسرار و معارف : آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت قبیلہ عکل اور عرینہ کے ان لوگو کے بارے میں میں نازل ہوئی ہے جن کاْقصہ حضرت انس ؓ نے یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے لیکن وہاں کی آب وہوا انہیں موافق نہ آئی وہ بیمار ہوگئے نبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے باہر صدقہ اونٹوں میں رہنے کا حکم دیا کہ ان کا دودھ اور بیشاب پیئیں یہ لوگ وہاں چلے گئے تندرست ہونے کے بعد وہ اسلام سے پھرگئے اور چر واہے (لیسار نوبی) کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے جو انہیں پکڑ کر مدینہ منورہ لے آئے نبی ﷺ نے حکم دی ان کے ہاتھ پاوں کاٹ ڈالے جائیں اور انکی آنکھیں میں لو ہے کی گرم سلائیاں پھیری…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 33–37

(5:33) ینفوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب نفی مصدر (باب ضرب) نفی ینفی۔ ینفوا ان کو نکال دیا جائے۔ نفی الرجل من بلدہ۔ آدمی کو اس کے شہر سے شہر بدر کرنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 لغات القرآن : من اجل ذلک (اسی وجہ سے) ۔ کتبنا (ہم نے لکھ دیا۔ فرض کردیا) ۔ کانما (گویا کہ وہ۔ جیسا کہ وہ) ۔ مسرفون (حس سے آگے بڑھ جانے والے) ۔ یحاربون (محاربۃ) ۔ وہ لڑتے ہیں۔ لڑائی کرتے ہیں) ۔ یسعون (وہ دوڑتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں) ۔ ان یقتلوا (یہ کہ وہ قتل کئے جائیں) ۔ یصلبوا (سولی دئیے جائیں۔ بھانسی پر چڑھا دئیے جائیں) ۔ تقطع (کاٹ دئیے جائیں) ۔ ینفوا (نکال دئیے گئے ۔ نکال دئیے جائیں) ۔ خزی (رسوائی۔ ذلت۔ شرمندگی) ۔ تابوا (توبہ کرلی) ۔ ان یقدروا (یہ کہ تم قابو پاؤ) ۔ اعلموا (جان لو۔ خبردار رہو) ۔ تشریح : اسلامی قوانین میں قتل کے دو ہی جواز ہیں۔ (1) ایک ہے قاتل کا قتل۔ اس میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 33–34

راہزنی کرنے والا خواہ مرتد ہو یا مسلمان سب کی سزا کے بیان میں یہ آیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جس کا شان نزول یہ ہے کہ 6 ھ میں عرینہ کے چند لوگ مدینہ طیبہ میں آکر اسلام لائے اور بیمار ہوگئے، ان کے رنگ زرد ہوگئے اور پیٹ بڑھ گئے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ علاقہ کے اونٹوں کا دودھ اور پیشاب ملاکر پیاکریں۔ ایسا کرنے سے وہ تندرست ہوگئے اور تندرست ہوکر مرتد ہوگئے اور 15، اونٹ لے کر وہ اپنے وطن چلے گئے۔ حضور ﷺ نے اس کے طلب میں یسار ؓ کو بھیجا ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ایذائیں دیتے دیتے شہید کرڈالا۔ پھر جب یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں گفتار کرکے حاضر کے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[26] اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے کا مطلب اس صالح نظام کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلامی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ ایسے نظام کو خراب کرنے کی کوشش کرنا، خواہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس نظام کو ختم کرنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کرنا ہو دراصل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔ [27] یہاں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں اور امام وقت یا قاضی کو اختیار ہے کہ اپنے اجتہاد سے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا نافذ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) اس آیت سے پہلے انفرادی قتل واقدام کی مذمت کی تھی اب یہ بتایا ہے کہ یہی جذبہ عصیان اگر فساد فی الارض کی صورت اختیار کرے اور لوگ دین قدیم کی مخالفت کے جوش میں امن و عافیت کے تمام طریقے چھوڑ دیں اور فتنہ وہلاکت کی آگ لگا دیں تو ضروری ہے کہ امام یا ہیئت حاکمہ انہیں سخت سے سخت سزا دے ، چاہے قتل کردے ، چاہے سولی پر چڑھا دے ، چاہے ہاتھ پاؤں آڑے ترچھے کاٹ دے ، اور چاہے ملک بدر کر دے ، اسے اختیار ہے کہ حالات وظروف کے ماتحت انہیں موزوں سزا دے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 32–33

ف 1 اسی واقعہ کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا اور یہ حکم مقرر کردیا کہ جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسانی خون کے عوض جو اس نے ناحق کیا ہو یا بدون کسی شر و فساد کے جو اس نے ملک میں برپا کیا ہو قتل کر ڈالے تو یہ بےگناہ انسان کا قتل کر ڈالنا ایسا گناہ ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی بےگناہ انسان کو قتل ہونے سے بچا لیا تو بےقصور شخص کو بچا لینا ایسا ثواب ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بلاشبہ ہمارے بہت سے رسول بنی اسرائیل کے پاس صاف صاف احکام اور واضح دلائل لے کر آتے رہے یعنی یہ فرمان جاری کرنے کے بعد ہمارے بہت سے رسولبھی اس فرمان کی تائید…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ اور قتل ناحق کو جو بلا معاوضہ کسی شخص کے قتل کے یا فساد فی الارض کے لیے ہو شناعت و قباحت بیان فرمائی تھی آگے قتل اور اس کے توابع مثل قطع اطراف اور تعزیر کا جو کہ بالحق ہے یعنی بسبب فساد فی الارض وجنایت کے ہو مشروع اور مطلوب فی الشرع ہونا بیان فرماتے ہیں اس لیے اول قطاع الطریق کا حکم پھر سارق کا حکم مذکور ہوتا ہے اور اس کے درمیان اور مضمون بوجہ خاص مناسبت کے لایا گیا ہے۔ 4۔ مراد اس سے ہر زنی اور ڈکیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو قتل کردینا لازم و ضروری ہے : 108: پچھلی آیات میں ” قتل ناحق “ کا ذکر تھا اس کی پوری پوری وضاحت فرما دی کہ قتل ناحق کیا ہے ؟ اس کی سزا کیا ہے جو قتل ناحق کا خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ0033 (یعنی جیسی سزا ان کیلئے ضروری ہو انہیں دی جائے) یہ ان کیلئے دُنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذاب عظیم ہے (109) ۔ 33 مرتکب ہوا ہو ؟ اور جو کسی کو ” قتل ناحق “ سے بچالے اس کا اجر وثواب اور اس کی افادیت بیان کی تھی اب ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ” جن کو قتل کردینا حق ہے “ بلکہ ان کا قتل کردینا اور لازم وضروری ہے اور قتل نہ کرنا حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Qur'anic Laws are Unique and Revolutionary Mentioned in the previous verses (27-32) was the event of the killing of Habil (Abel) and its gravity as a crime. In the verses cited above, and in verses which follow, there is a description of the legal punishments for killing, plundering, robbery and theft. Prompted in between the description of the punishments for robbery and theft is the need to fear Allah and the desirability of seeking nearness to Him through acts of obedience. This approach of the Qur'an, acting in a very subtle manner, prepares the human mind to accept the desired…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. The 'land' signifies either the country or territory wherein the responsibility of establishing law and order has been undertaken by an Islamic state. The expression 'to wage war against Allah and His Messenger' denotes war against the righteous order established by the Islamic state. It is God's purpose, and it is for this very purpose that God sent His Messengers, that a righteous order of life be established on earth; an order that would provide peace and security to everything found on earth; an order under whose benign shadow humanity would be able to attain its perfection; an order…

Read the full tafseer →