Explained with ayahs 32–34
ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل
فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 53
یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر انہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار آدم کے اس ظالم بیٹے نے لیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمان خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے۔ البتہ تلمود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے ”جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا، کتاب اللہ کے نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی“۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 32۔ 34: قانون قصاص کی بنیاد : آگے فرمایا کہ چونکہ انسان اپنی سرشت کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر ہابیل جیسے خدا ترس اور حق و عدل پر قائم رہنے والے بھی ہیں اور قابیل جیسے سنگ دل اور خونی بھی۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی شریعت میں قصاص کو ایک جماعتی فرض قرار دیا کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل اور ایک کا بچانے والا سب کا بچانے والا ٹھہرے گا۔ پھر اس قانون کی تجدید یاد دہانی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر اپنے نبی و رسول بھی بھیجے لیکن اس سارے اہتمام کی بنی اسرائیل نے کوئی پروا نہ کی بلکہ وہ برابر قابیل کی سنت بد کی پیروی میں خدا کی زمین میں فساد و خوں ریزی…
Read the full tafseer →32۔ 1 اس قتل ناحق کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی قدر و قیمت کو واضح کرنے کے لئے بنو اسرائیل پر یہ حکم نازل فرمایا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسانی خون کی کتنی اہمیت اور تکریم ہے اور یہ اصول صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے نہیں تھا، اسلام کی تعلیمات کے مطابق بھی یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے۔ سلیمان بن ربعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا یہ آیت ہمارے لئے بھی ہے جس طرح بنو اسرائیل کے لئے تھی، انہوں نے فرمایا، ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بنو اسرائیل کے خون اللہ کے ہاں ہمارے خونوں سے زیادہ قابل احترام نہیں تھے (تفسیر ابن کثیر)
32۔ 2 اس میں یہود کو…
Read the full tafseer →25: مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر : 32۔
اس وجہ سے ‘ یعنی انسانیت کے اندر ایسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے ‘ امن پسند ‘ صلح کل ‘ نیک فطرت اور پاک طینت لوگوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ جو شر اور ظلم سے بہت دور بھاگتے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ بعض نہایت ہی فطری سرپسندوں پر واعظ ونصیحت اور ڈراوا کوئی اثر نہیں کرتا اور اس وجہ سے کہ اگر شر انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جائئے تو ایسے لوگوں کے ساتھ امن اور آشتی مفید مطلب نہیں ہوتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کو گناہ کبیرہ اور جرم عظیم قرار دیا ۔ اسے اس قدر عظیم جرم قرار دیا کہ گویا اس مجرم نے تمام موجودہ انسانی نسل کو قتل کردیا ۔ پھر جس عمل کے ذریعے ایک…
Read the full tafseer →14 یعنی ناحق قتل میں جو دنیاوی اور اخروی خسران ہے اور جو بد نتائج اس پر مرتب ہوتے ہیں حتیٰ کہ خود قاتل بھی اس حرکت کے بعد بسا اوقات پچھتاتا اور کف افسوس ملتا ہے۔ اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ ہدایت کی۔ الخ۔
1 ملک میں فساد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ مثلاً اہل حق کو دین حق سے روکے یا پیغمبروں کی اہانت کرے یا " العیاذ باللہ " مرتد ہو کر اپنے وجود سے دوسروں کو مرتد ہونے کی ترغیب دے وقس علیٰ ذٰلک۔۔
2 یعنی اول روئے زمین پر بڑا گناہ یہ ہی ہوا کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا اس کے بعد رسم پڑگئی اسی سبب سے تورات میں اس طرح فرمایا کہ " ایک کو مارا جیسے سب کو مارا " یعنی ایک کے ناحق خون کرنے سے دوسرے…
Read the full tafseer →آیت 32 مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَج کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ج والا فقرہ پچھلی آیت کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور اس آیت کے ساتھ بھی ‘ یہ دونوں طرف بامعنی بن سکتا ہے۔
اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ
یعنی اگر کسی نے قتل کیا ہے اور وہ اس کے قصاص میں قتل کیا جائے تو یہ قتل ناحق نہیں ہے۔
اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ
اگر کوئی شخص ملک میں فساد پھیلانے کا مجرم ہے اور اسے اس جرم کی سزا کے طور پر قتل کردیا جائے تو اس کا قتل بھی قتل ناحق نہیں۔ لیکن ان صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے کسی بےقصور انسان کا قتل کردیا۔
فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط۔
اس کا یہ فعل ایسا…
Read the full tafseer →64 جن صورتوں میں قتل جائز ہے :۔ شریعت نے صرف تین صورتوں میں قتل کو جائز قرار دیا ہے (1) قتل کے بدلے قتل یعنی قصاص (2) شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کرے تو حد قائم کرنے کی صورت میں انہیں رجم کر کے مار ڈالنا اور (3) ارتداد کے جرم میں قتل کرنا۔ ان تینوں صورتوں کے علاوہ جو بھی قتل ہوگا وہ قتل ناحق اور فساد فی الارض کے ضمن میں ہی آئے گا اور ایسے ہی قتل کے متعلق یہ لکھا تھا کہ جس نے ایک آدمی کو بھی ناحق قتل کیا اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا۔ کیونکہ ایسا آدمی پوری انسانیت کا اور امن عامہ کا دشمن ہوتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اسے یہ جرم کرتے دیکھ کر اس پر دلیر ہوجاتے ہیں لہذا اس جرم کی سزا کا اظہار ان…
Read the full tafseer →119 ۔ (اور اس طرح قتل ناحق کا مرتکب ہو) آیت سے ظاہر ہوگیا کہ جو بھی قتل ارادی بجزان دو صورتوں کے کیا جائے، وہ قتل ناحق ہوگا : (آیت) ” نفسا بغیر نفس “۔ یعنی وہ قتل بہ طور قصاص یا کسی قتل کے عوض میں ہو (آیت) ” فساد فی الارض “۔ یعنی وہ قتل کسی ایسے جرم کے پاداش میں ہو جس سے ملک میں بدامنی اور فساد کی بنیاد پڑ رہی ہو، اور نظام عالم پر اس سے ضرب لگ رہی ہو، مثلا جرم رہزنی، جرم ارتداد، جرم حرامکاری وغیرہ، (آیت) ” من اجل ذلک “۔ یعنی ان مفاسد کے باعث جو قتل ناحق سے پیدا ہوتے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ سے اشارہ قصہ قتل ہابیل کی جانب نہیں، بلکہ ان مفاسد کی جانب ہے جو قتل ناحق سے لازم آتے ہیں، ھو اشارۃ الی ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…
Read the full tafseer →من اجل ذلک اسی وجہ سے یعنی ابن آدم سے جرم عظیم صادر ہونے اور قتل کا دروازہ بند کرنے کی وجہ سے۔
اَجَلَ شَرًّایا جَل (ماضی و مضارع) شر کو کھینچ کر لایا۔ قاموس میں ہے اجل الشر علیہم مرتکب شر ہوا اور شر کو ان پر بھڑکایا۔ لفظ اجل کا یہ وضعی لغوی مفہوم ہے اس کے بعد کسی جرم کی علت اور سبب بیان کرنے کیلئے اس لفظ کا استعمال ہونے لگا۔ پھر استعمال میں مزید توسیع کی گئی تو ہر چیز کی علت بیان کرنے کے لئے اس کا استعمال کرنے لگے۔ (یعنی اجل کا معنی علت و سبب ہوگیا) کتبنا علی بنی اسرائیل ہم نے بنی اسرائیل کے لئے (یہ حکم) لکھ دیا (مقرر کردیا) یعنی حکم ذیل کی ابتدا سبب مذکور کی وجہ سے ہوئی۔
من قتل نفسا بغیر نفس…
Read the full tafseer →(32) قابیل کے ہابیل کو ظلما قتل کرنے کی وجہ سے توریت میں بنی اسرائیل پر یہ مقرر کردیا ہے کہ جو کسی شخص کو دانستہ قتل کرے تو ایک تو ایک شخص کے قتل کی وجہ سے اس پر دوزخ لازم ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ وہ تمام انسانوں کو مار ڈالے ،
اور جو قتل سے اپنا ہاتھ روکے تو ایک شخص سے ہاتھ روکنے کی وجہ سے اس کے لیے جنت ثابت ہوگئی یہ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ اس نے تمام لوگوں کو بچا لیا۔
اور بنی اسرائیل کی طرف اوامر ونواہی اور دلائل کے ساتھ سے بہت سے رسول آئے مگر وہ زیادتی کرنے والے ہی رہے۔
Read the full tafseer →مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : دیکھیے اس سے پہلے آیت (27) کا حاشیہ (3) حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کے خون دوسرے مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہ تھے۔ (ابن کثیر)
وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ : یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 32۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” من اجل ذلک “۔ یعنی قاتل کی اس جرات کی وجہ سے زجاج نے کہا : اس کی جنایت کی وجہ سے کہا جاتا ہے : اجل الرجل علی اھلہ شرا یا جل اجلا، جب کوئی زیادتی کرے مثلا اخذ یاخزا اخذا خنوت نے کہا :
واھل خباء صالح کنت بینھم قد احتربوا فی عاجل انا اجلہ :
یعنی میں خیانت کرنے والا ہوں، بعض علماء نے فرمایا : میں ان پر زیادتی کرنے والا ہوں، عدی بن زید نے کہا :
اجل اللہ قد فضلکم فوق من احکا صلبا بازار :
اس کی اصل الجر ہے، اسی سے الاجل مدت ہے، کیونکہ وہ وقت ہوتا ہے جس کی طرف پہلی عقد کھینچی جاتی ہے، اسی سے الاجل نقیض العاجل ہے یعنی متقدم امر اس کی طرف کھینچا جاتا ہے،…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت من اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا کہ اس آدم کے بیٹے کی وجہ سے جس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کردیا۔
(2) امام ابن جریر نے ابن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا کہ لفظ آیت من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا یعنی ناحق قتل کرنے کا گناہ اتنا ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ پھر فرمایا لفظ آیت ومن احیاھا یعنی جس نے اس کو ہلاک ہونے سے بچا یا لفظ آیت فکانما قتل الناس جمیعا بچنے والے کے نزدیک اس نے گویا سب انسانوں کو بچا لیا۔
(3) امام ابن جریر نے ابن ابی حاتم سے اور ابن…
Read the full tafseer →[ مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ : اس وجہ سے ] [ كَتَبْنَا : ہم نے لکھا ] [ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل پر ] [ اَنَّهٗ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [ مَنْ : جس نے ] [ قَتَلَ : قتل کیا ] [ نَفْسًۢا : کسی جان کو ] [ بِغَيْرِ نَفْسٍ : کسی جان کے (بدلے کے ] [ اَوْ : یا ] [ فَسَادٍ : کسی فساد کے بغیر ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ فَكَاَنَّمَا : تو گویا کہ ] [ قَتَلَ : اس نے قتل کیا ] [ النَّاسَ : انسانوں کو ] [ جَمِيْعًا : تمام کے تمام ] [ ۭوَمَنْ : اور جس نے ] [ اَحْيَاهَا : زندہ رکھا اس کو ] [ فَكَاَنَّمَآ : تو گویا کہ ] [ اَحْيَا : اس نے زندہ رکھا ] [ النَّاسَ : انسانوں کو ] [ جَمِيْعًا : تمام…
Read the full tafseer →جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا تمام انسانوں کو قتل کیا
یعنی اس وجہ سے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی پر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے قتل کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر یہ بات لکھ دی یعنی ان کے لئے شریعت بناد ی اور اس کا اعلان کردیا کہ جو بھی کوئی شخص کسی شخص کو قتل کر دے اور یہ قتل کرنا کسی جان کے عوض نہ ہو اور زمین میں جو فساد ہوا سے روکنے کے لئے نہ ہو تو گویا کہ اس قاتل نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی جان کو زندہ کردیا یعنی کسی جان کو ہلاکت سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا۔
علامہ قرطبی ج 6 ص 146 لکھتے ہیں کہ اس آیت میں جو تشبیہ ہے اس کے بارے میں…
Read the full tafseer →تمہید مشروعیت حدود وتعزیرات بنا برظہور ایں چنیں جنایات۔
قال تعالی، من اجل ذالک کتبنا علی بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ لمسرفون۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں ایک ناحق قتل کا واقعہ بیان فرمایا اب ارشاد فرماتے ہیں کہ اسی قسم کی خرابیوں کی وجہ سے اللہ نے حدود تعزیرات کو مشروع فرمایا تاکہ فساد کا انسداد ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں اسی واقعہ کی وجہ سے یعنی انہی خرابیوں کی وجہ سے جو بےگناہ کے قتل میں پیش آتی ہیں کہ قائل کو دنیا میں ندامت اور فضیحت اور آخرت میں عقوبت ہم نے بنی اسرائیل پر خصوصا اور تمام بنی آدم پر عموما یہ حکم لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بلاعوض اور بلا بدلہ کے یا زمین میں بغیر فساد کے قتل کرڈالے فساد کی…
Read the full tafseer →59 مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ۔ مِنْ اجلیہ ہے یعنی خاموش بیٹھے رہنے کی وجہ سے۔ کَتَبْنَا عَلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ ۔ کَتَبْنَا کا مفعول محذوف ہے یعنی القتال یعنی خاموش بیٹھنے میں چونکہ ذلت و رسوائی ہے اس لیے ہم نے بنی اسرائیل کو دشمن سے قتال کا حکم دیا اور کہا کہ خاموش مت بیٹھو بلکہ مخلوق خدا کو ظالم کے ظلم سے بچاؤ تم نے اگر ایک جان کو بچا لیا تو گویا سب کو بچا لیا۔ اّنَّہٗ مَنْ قَتَلَ یہ فعل محذوف کا معول ہے ای و قلنا۔ قالہ الشیخ روح اللہ روحہ لیکن دیگر مفسرین نے کَتَبْنَا کا مفعول القصاص مقدر کیا ہے اور ذٰلِکَ سے مذکورہ واقعہ قتل مراد لیا ہے یعنی قتل و خون ریزی کو روکنے کے لیے ہم نے قاتل سے قصاص…
Read the full tafseer →ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ فرمایا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو تعدی اور ظلم کے ساتھ قتل کردیا چونکہ اس سے پہلے روئے زمین پر کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی ‘ اس لیے قاتل اپنے بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے سے متعلق پریشان ہوگیا۔ اس عظیم گناہ کی وجہ سے اس کی عقل اس حد تک جواب دے چکی تھی کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس لاش کو کیا کرے آخر کار اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیج کر مردہ کو دفن کر نیکی تدبیر بتلائی۔ قاتل بھائی اس فعل پر نادم ضرور ہوا مگر یہ ندامت توبہ کی ندامت نہ تھی بلکہ یہ اس کی کمزوری اور کم عقلی کی بنا پر تھی کہ وہ ایک پرندے…
Read the full tafseer →مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ 0ۚۛؔ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا 0ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا 0ۭ وَلَقَدْ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنٰتِ 0ۡثُمَّ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِي الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ 32
كتب ( فرض)
ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي…
Read the full tafseer →ترکیب : من اجل متعلق ہے کتبنا سے علی بنی اسرائیل بھی کتبنا سے متعلق ہے انہ جملہ الی جمیعا مفعول ہے کتبنا کا۔ اس جملہ میں انہ کی ضمیر شان ہے اور من شرطیہ بغیر نفس حال ہے۔ ضمیر قتل سے ای من قتل نفسًا ظالمًا او فسادًا معطوف ہے نفس پر فکانما جملہ جواب شرط بعد ذلک ظرف ہے لمسرفون کا۔
تفسیر : من اجل ذلک سے یہ مراد نہیں ہے کہ قابیل کے قتل کرنے سے بنی اسرائیل پر قصاص مقرر کردیا کیونکہ اس کے قتل سے بنی اسرائیل کو کیا خصوصیت ہے بلکہ ذلک سے اشارہ مفاسد قتل کی طرف ہے کہ چونکہ قتل ناحق میں یہ کچھ خرابی ہے۔ اس لئے جب توریت اور شریعت نازل ہوئی تو بنی اسرائیل پر ہم نے قصاص مقرر کردیا جنہوں نے باوجود اس کے…
Read the full tafseer →مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ج کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط ولَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ز ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ۔ (المائدہ : 23)
” اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا کہ جس کسی نے کسی کو قتل کیا ‘ بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سب کو قتل کیا اور جس نے اس کو بچایا تو گویا اس نے سب کو بچایا اور ہمارے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عربی گرائمر میں ” مَنْ “ کا لفظ سبب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے دو مفہوم ہیں یہ قانون روز آفرنیش سے ہی لاگو کیا گیا تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی وجہ سے یعنی قتل و غارت کو روکنے کے لیے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ قانون نافذ کیا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ناحق قتل کیا تو قاتل کو اس کے بدلے میں قتل کردیا جائے۔ اور یہی سزا قتل و غارت کرنے والوں کی ہوگی۔ کیونکہ جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا کہ وہ پوری انسانیت کا قاتل ٹھہرا۔ جس نے کسی ایک کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کا تحفظ کیا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب اور قانون انسان کو تحفظ نہیں دے سکتا۔…
Read the full tafseer →آیت 32 : مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ (اس قتل کی وجہ سے) اجل کا معنی سبب و علت ہے اور ذالک کا مشارٌ الیہ قتل مذکور ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ پہلی آیت سے متصل ہے۔ پس اس صورت میں اس پر وقف کریں گے۔ تقدیر عبارت یہ ہوگی فاصبح من النادمین لاجل حملہٖ ولا جل قتلہٖ کہ وہ اس کے اٹھانے اور قتل کرنے کی وجہ سے شرمندگی والوں میں سے ہوگیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور النادمین پر وقف ہے۔ اور مِنْ کا تعلق کَتَبْنَا سے ہے نادمین سے نہیں ہے۔
بنی اسرائیل کیلئے قانون قصاص :
کَتَـبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ (ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا) بنی اسرائیل کا خصوصیت سے تذکرہ فرمایا۔ حالانکہ تمام ہی اس میں شریک…
Read the full tafseer →آیت نمبر 32
تفسیر : (من اجل ذلک) (اسی سبب سے ) ابو جعفر (رح) نے ” من اجل ڈالک “ کو نون کے کسرہ کے ساتھ ملا کر پڑھا ہے اور اکثر قراء نے نون کے جزم اور ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ جدا کرکے۔ یعنی اس قاتل کی سزا اور چٹی کی وجہ سے (کتبنا علیٰ بنی اسرآء یل انہ من قتل نفساً بغیر نفس) ( لکھا ہم نے بنی اسرائیل پر کہ جو کوئی قتل کرے ایک جان کو بلا عوض جان کے) قتل کیا اس کو تو اس سے قصاص لیا جائے گا۔ ( اوفساد فی الارض) (یا ملک میں فساد کرنے کے بغیر) یعنی بغیر قصاص لینے اور کفر ، زنا ، ڈاکہ وغیرہ کے ذریعے ملک میں فساد کرنے کے بغیر قتل کیا۔ (فکانما قتل الناس جمیعاً ) ( تو گویا قتل کر ڈالا اس نے سب لوگوں کو) اس…
Read the full tafseer →یہ آیت گویا ہابیل اور قابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے ایک ذرا سے حسد پر اپنے بھائی کو بےدھڑک مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ بھی خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ تورات میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرما دی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا تو اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا اور یہ رسم پھیل کر دنیا میں جس قدر خون ناحق ہوں گے ہر ایک خون کے وقت قابیل کی طرح اس رسم کے پھیلانے والے شخص کے نامہ اعمال میں بھی ایک خون کا وبال لکھا…
Read the full tafseer →آیت 32
-1 صحیح مسلم، الزکاۃ باب الحث علی الصدقۃ۔۔۔ الخ، حدیث :1018
-2 جامع الترمذی، العلم، باب ماجاء ان الدال علی الخیر کفاعلہ، حدیث 2683
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (من اجل ذلک ) ” یعنی آدم کے بیٹوں کے اس واقعہ کے بعد جس کا ہم نے ذکر کیا ہے جس میں ان میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور اپنے مابعد قتل کا طریقہ جاری کردیا اور یہ کہ قتل کا انجام دنیا و آخرت میں انتہائی مضر اور خسارے والا ہے (کتبنا علی بنی اسرآئیل ) ” ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا “ یعنی ان لوگوں پر جنہیں کتب سماویہ سے نوازا گیا۔ (انہ من قتل نفساً بغیر نفس او فساد فی الارض) ” جس نے کسی جان کو بغیر جان کے یا بغیر فساد…
Read the full tafseer →قول باری ہے (من اجل ذلک کتبنا علی بنی اسرائیل اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا تھا) تاآخر آیت۔ اس میں اس بات کا اظہار ہے جس کے سبب بنی اسرائیل پر وہ فرمان لکھ دیا تھا جس کا ذکر آیت کے اندر ہے۔ یہ اس لئے تھا کہ بنی اسرائیل کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں۔
یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ بعض اوقات نصوص ایسے معانی لے کر وارد ہوتے ہیں جن کا احکام کے اثبات کے سلسلے میں دوسری چیزوں کے اندر بھی اعتبار کرنا واجب ہوتا ہے اس میں قیاس کے اثبات کی دلیل موجود ہے نیز یہ کہ ان معانی کا اعتبار بھی واجب ہے جن کے ساتھ احکام کو معلق کردیا گیا ہے اور جنہیں ان احکام کے لئے علل اور نشانات کا…
Read the full tafseer →80 قتل کے بدلے قتل کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے کسی کو قتل کیا بغیر کسی جان کے کہ اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو تو اس کے بدلے میں اس کو قتل کیا جائے کہ یہ صحیح ہے۔ اور اسے قتل کی اجازت ہے کہ دوسرے کو قتل کردینے کے بدلے میں قاتل کو اس کے قصاص میں قتل کرنا جائز ہے۔ کہ ۔ { النَّفْسُ بالنَّفْسِ } ۔ کے ضابطہ عام کا تقاضا یہی ہے کہ جان کے بدلے میں جان لی جائے۔ کیونکہ قتل کے بعد قاتل کو قتل کرنا ایک امر مطلوب و محمود ہے کہ اس میں سب کی جانوں کی حفاظت ہے۔ ورنہ کسی کی بھی جان محفوظ نہیں رہے گی۔ اسی لیے سورة بقرۃ میں " اولوا الالباب " یعنی عقل خالص رکھنے والوں کو خطاب کر کے اور ان کے قلوب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی بھائی کے مر نے پر نہ کہ اپنے فعل پر کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار اور تو بہ کرتا گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوئے ہیں اس کا گناہ اس پر نہ ہوتا (قرطبی)6 یعنی ایسے شخص کو ناحق مار ڈالے جس نے نہ کوئی خون کیا ہو نہ ازراہ بغاوت کوئی فساد برپا کیا ہو۔ گناہ کی شدت بیان کرنے کے لیے جمیعا کہ دیا ہے کہ گو یا سب کو قتل کرڈالا ورنہ اسے گناہ تو ایک کے قتل کا ہی ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ جیسے سب کے قتل کرنے سے انسان جہنم میں جائے گا کسی ایک مسلمان کے ناحق قتل کردینے کی سزا بھی جہنم ہے یعنی تشبیہ نہ نفس عتاب کے لحاظ سے ہے کہ کمیت و کیفیت عذا کے اعتبا سے (قرطبی کبیر )
3 یعنی اگر کسی…
Read the full tafseer →(5:32) مسرفون ۔ اسراف سے حد اعتدال یا حد مقررہ سے آگے بڑھنے والے۔ بیجا صرف کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
لغات القرآن : من اجل ذلک (اسی وجہ سے) ۔ کتبنا (ہم نے لکھ دیا۔ فرض کردیا) ۔ کانما (گویا کہ وہ۔ جیسا کہ وہ) ۔ مسرفون (حس سے آگے بڑھ جانے والے) ۔ یحاربون (محاربۃ) ۔ وہ لڑتے ہیں۔ لڑائی کرتے ہیں) ۔ یسعون (وہ دوڑتے ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں) ۔ ان یقتلوا (یہ کہ وہ قتل کئے جائیں) ۔ یصلبوا (سولی دئیے جائیں۔ بھانسی پر چڑھا دئیے جائیں) ۔ تقطع (کاٹ دئیے جائیں) ۔ ینفوا (نکال دئیے گئے ۔ نکال دئیے جائیں) ۔ خزی (رسوائی۔ ذلت۔ شرمندگی) ۔ تابوا (توبہ کرلی) ۔ ان یقدروا (یہ کہ تم قابو پاؤ) ۔ اعلموا (جان لو۔ خبردار رہو) ۔
تشریح : اسلامی قوانین میں قتل کے دو ہی جواز ہیں۔ (1) ایک ہے قاتل کا قتل۔ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خون ناحق کا ذکر
اس آیت میں گویا ہابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے حسد پر اپنے بھائی کو مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ کھول دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ توریت میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرمائی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا، اور جو مظلوموں کی مدد کرے گا خقن ناحق کو روکے گا وہ اس رسم بد کا روکنے والا اور جہان بھر کی زیست و امن کے اجر کا باعث ٹھرے گا۔ آگے فرمایا باوجود اس سخت حکم کے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[25] یہود اپنے کو اللہ کا بیٹا اور اس کا چہیتا سمجھتے تھے (آیت 18) اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گھمنڈ کو توڑنے کے لئے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ دونوں بھائی آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہونے کی وجہ سے برابر تھے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی مقبول ہوا جو متقی رہا۔ دوسرے نے ظلم کا ارتکاب کیا تو وہ مردود ہوگیا اور آدم (علیہ السلام) کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →(ف 2) (آیت) ” من اجل ذلک “ سے یہ مراد ہے کہ جب ابن آدم حسد وبغض کے جذبات سے متاثر ہو کر اپنے سگے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے تو عام انسانوں کے لئے اس نوع کے اقدام میں کوئی باک نہ ہوگا ۔ لہذا ضروری ہے کہ انہیں اس کی اہمیت جتا دی جائے ، چناچہ ارشاد ہے کہ انسان کے خون کی قیمت نہایت گراں اور پیش بہا ہے ایک فرد کو قتل کرنا پوری قوم وامت کے قتل کے مترادف ہے اور اسی طرح کسی شخص کو مہلکات سے بچانا پوری ملت کو بچانا ہے ۔
(ف 3) (آیت) ” ولقد جآء تھم رسلنا “۔ سے یہودیوں کی مذمت مقصود ہے کہ یہ لوگ باوجود انبیاء کی زبان فیض التیام سے امن و عافیت کے برکات سننے کے اور باوجود قتل وسفک کے خلاف تعلیمات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ف 1 اسی واقعہ کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرمان لکھ دیا اور یہ حکم مقرر کردیا کہ جو شخص کسی انسان کو بلا کسی انسانی خون کے عوض جو اس نے ناحق کیا ہو یا بدون کسی شر و فساد کے جو اس نے ملک میں برپا کیا ہو قتل کر ڈالے تو یہ بےگناہ انسان کا قتل کر ڈالنا ایسا گناہ ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس شخص نے کسی بےگناہ انسان کو قتل ہونے سے بچا لیا تو بےقصور شخص کو بچا لینا ایسا ثواب ہے گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا اور بلاشبہ ہمارے بہت سے رسول بنی اسرائیل کے پاس صاف صاف احکام اور واضح دلائل لے کر آتے رہے یعنی یہ فرمان جاری کرنے کے بعد ہمارے بہت سے رسولبھی اس فرمان کی تائید…
Read the full tafseer →ف 2۔ بہتر اس لیے فرمایا کہ بعض مطیع و فرمانبردار بھی تھے
Read the full tafseer →ہر برائی بنی اسرائیل کے لئے بھی برائی ہی تھی وہ اس سے مستثنیٰ نہیں تھے :
104: اس تمثیل سے جو آیت 27 سے 31 تک پانچ آیات میں بیان کی گئی پہلے بھی بنی اسرائیل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی بنی اسرائیل ہی کا ذکر شروع ہوگیا جس سے یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ اس اصول سے کوئی قوم مستثنیٰ نہیں کہ جو برائی کرتا ہے وہ برا ہے اور ہر برا اپنی برائی کا وبال اٹھاتا تھا اٹھاتا ہے اور اٹھاتا رہے گا۔ گویا اس میں قوم بنی اسرائیل کے اس گھمنڈ کا جواب دے دیا گیا کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ دوسری وجہ اس تمثیل کے بیان کی یہ تھی کہ قوم بنی اسرائیل کے اندر وہ ساری صفات پائی جاتی تھیں جو اس قاتل میں بیان ہوئیں جس کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
Commentary
The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain)
In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah.
People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…
Read the full tafseer →53.Since the same qualities which had been displayed by the wrong doing son of Adam were manifest in the Children of Israel, God strongly urged them not to kill human beings and couched His command in forceful terms. It is a pity that the precious words which embody God's ordinance are to be found nowhere in the Bible today. The Talmud, however, does mention this subject in the following words:
To him who kills a single individual of Israel, it shall be reckoned as if he had slain the whole race and he who preserves a single individual of Israel, it shall be reckoned in the Book of God as if…
Read the full tafseer →