Explained with ayahs 27–31
حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 51
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی ندامت صرف اسی بات تک محدود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کرتا ہے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 52
یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 31:۔ فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ ۭ قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ۔
قابیل کی نامرادی : فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ ، کے معنی ہوں گے اس کے نفس نے اس کو بالآخر اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر ہی لیا۔ اس اسلوب بیان سے اس اندرونی کشمکش کا اظہار ہورہا ہے جو اول اول اس ارادۂ قتل سے اس کے اندر پیدا ہوئی۔ انسان کے اندر قدرت نے ایک نفس لوّامہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30۔ 1 چناچہ حدیث میں آتا ہے (لَا تَقْتُلُ نَفْسً ظُلُمًَا اِلَّا کَانَ عَلٰی اِبْنِ آدَمْ کفل من دمہا، لانہ کان اول من سن القتل) (الصحیح بخاری) جو قتل بھی ظلمًا ہوتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم کے اس پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں ' کہ ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قابیل کو ہابیل کے قتل ناحق کی سزا دنیا میں ہی فوری طور پردے دی گئی تھی۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی یہ دونوں گناہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرنے والوں کو دنیا میں ہی جلد سزا دے دے، تاہم آخرت کی سزا اس کے علاوہ…
Read the full tafseer →24: یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردہ کو دفن کررہا تھا، اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا ؛ بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31)
” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا)
روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے…
Read the full tafseer →12 چونکہ اس سے پہلے کوئی انسان مرا نہ تھا اس لئے قتل کے بعد اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ لاش کو کیا کرے۔ آخر ایک کوے کو دیکھا کہ زمین کرید رہا ہے یا دوسرے مردہ کوے کو مٹی ہٹا کر زمین میں چھپا رہا ہے اسے دیکھ کر کچھ عقل آئی کہ میں بھی اپنے بھائی کی لاش کو دفن کر دوں اور افسوس بھی ہوا کہ میں عقل و فہم اور بھائی کی ہمدردی میں اس جانور سے بھی گیا گزرا ہوا شاید اسی لئے حق تعالیٰ نے ایک ادنیٰ جانور کے ذریعہ سے اسے تنبیہ فرمائی کہ وہ اپنی وحشت اور حماقت پر کچھ شرمائے جانوروں میں کوے کی یہ خصوصیت ہے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کھلا چھوڑ دینے پر بہت شور مچاتا ہے۔
13 پچھتانا وہ نافع ہے جس کے ساتھ گناہ سے معذرت…
Read the full tafseer →آیت 31 فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ
یہ پہلا خون تھا جو نسل آدم میں ہوا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل تو کردیا لیکن اب اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بھائی کی لاش کا کیا کرے ‘ اسے کیسے dispose off کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کو بھیج دیا جو اس کے سامنے اپنی چونچ سے زمین کھودنے لگا۔
لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَ ‘ ۃَ اَخِیْہِ ط۔
کوّے کے زمین کھودنے کے عمل سے اسے سمجھ آجائے کہ زمین کھود کر لاش کو دفن کیا جاسکتا ہے۔
قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَ ‘ ۃَ اَخِیْ ج۔
افسوس مجھ پر ! کیا میرے اندر اس کوّے جیسی عقل بھی نہ تھی…
Read the full tafseer →63 دنیا میں پہلا قتل اور وہ بھی ناحق :۔ قابیل نے اپنے نیک سیرت بھائی کو جب مار ڈالا تو تھوڑی دیر بعد لاش میں سڑانڈ اور بدبو پیدا ہونے لگی۔ اب اسے یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس لاش کو کیا کرے ؟ یہ تو امر واقع ہے کہ روئے زمین پر نوع انسانی میں یہ پہلا قتل تھا اور وہ بھی ناحق قتل تھا۔ اور غالب خیال یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی انسان مرا بھی نہ تھا ورنہ اگر انسان کی لاش کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوتا تو قابیل تذبذب میں نہ پڑتا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اس کی رہنمائی کے لیے دو کوے بھیجے جو آپس میں لڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک کوے نے دوسرے کو چونچیں مار کر ہلاک کر ڈالا۔ پھر اس نے اپنی چونچ سے زمین کو کریدنا…
Read the full tafseer →116 ۔ یہ روئے زمین پر پہلا قتل تھا، اور قابیل غریب کو یہ بھی خبر نہ تھی، کہ اپنے مقتول بھائی کی لاش کو آخر کرے کیا۔ آخر ایک معمولی اور حقیر ساپرندہ، انتظامات تکوینی کے ماتحت اس قاتل کو دفن کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا۔ (آیت) ” سوء ۃ “۔ کے لفظی معنی جسم کے پوشیدہ رکھے جانے والے حصہ کے ہیں، یہاں مراد نعش سے ہے۔ ای جیفۃ اخیہ (کبیر) قیل جمیع جیفتہ فان المیت کلہ عورۃ (بحر)
117 ۔ قاتل اب بہ کمال حسرت وندامت کہہ رہا ہے، کہ مجھے تو اس مردار خوار جانور کے برابر بھی فہم و شعور نہیں ! توریت میں تو ہابیل کی تدفین کا کچھ ذکر نہیں، البتہ شارحین توریت نے ایک پرندہ کا ذکر کیا ہے، کہ اس کے عمل تدفین کو دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…
Read the full tafseer →فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یورای سواۃ اخیہ اس کے بعد اللہ نے ایک کوا بھیجا کہ وہ زمین کھودتا تھا تاکہ وہ (اللہ یا کوا) قابیل کو بتادے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے۔
اس جگہ اراء تکا معنی ہے بتادینا تعلیم دینا۔ دکھانا مراد نہیں ہے کیونکہ دیکھنے میں کوے کا دفن کرنا آیا تھا۔ ہابیل کی لاش کو دفن کرنا اور چھپانا تو نہیں دکھایا گیا۔ سواۃ سے مراد ہے مردہ لاش۔ مردہ لاش کو دیکھنا برا معلوم ہوتا ہے (سوۃ کا لغوی ترجمہ برائی ہے) بعض کے نزدیک جسم کا قابل ستر حصہ مراد ہے جس کی بےپردگی جائز نہیں۔ کوے کو دفن کرنے کی تدبیر بتائی اور براہ راست قابیل کو نہیں بتائی بلکہ کوے کو رہنما بنایا یہ تنبیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے…
Read the full tafseer →فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ : اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا، اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشیمان ہوا۔ (موضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، قرآن کے ظاہر الفاظ سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے زمین کریدتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے۔ (قرطبی)
فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ : یعنی بھائی کے مرنے پر، پھر اسے ٹھکانے لگانے کی بات جلد سمجھ میں نہ آنے پر پشیمان ہوا، کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا اور توبہ کرتا تو گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوتے ہیں ان کا گناہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 31۔
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض “۔ مجاہد ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے دو کوے بھیجے وہ آپس میں لڑے حتی کہ ایک نے دوسرے کو قتل کردیا پھر گڑھا کھود کر اسے دفن کردیا (3) (تفسیر طبری، جلد 6، صفحہ 237)
ابن آدم پہلا تھا جو قتل کیا گیا، بعض علماء نے فرمایا : کوئے نے زمین کو اپنی خوراک کے لیے کھودا تاکہ وہ ضرورت کے وقت تک اسے چھپائے رکھے، کیونکہ ایسا کرنا کوے کی عادت ہے پس اس کے ذریعے قابیل اپنے بھائی کو پوشیدہ کرنے آگاہ ہوگیا، اور روایت ہے کہ قابیل نے جب ہابیل کو قتل کیا تو اسے ایک بوری میں رکھ دیا اور اسے سو سال اپنی…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے عطیہ (رح) سے روایت کی کہ جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تو نادم ہوا۔ اس کو اٹھا کر چل دیا یہاں تک کہ لاش خراب ہونے لگی۔ اور اس نے اس پر پرندوں اور جنگلی جانوروں کو روکے رکھا جو اس انتظار میں تھے کہ یہ کب اس کو پھینکے گا کہ ہم اس کو کھا لیں قابیل نے یہ ناپسند کیا کہ آدم (علیہ السلام) آئیں اور یہ دیکھ کر غمگین ہوں تو اللہ تعالیٰ نے دو کوؤں کو بھیجا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ اور وہ اس کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے اپنی چونچ اور پانے پنجوں سے ایک گھڑا کھودا یہاں تک کہ اس کے لئے (جگہ بنانے پر) قادر ہوگیا پھر اس کو دھکیلا یہاں تک کہ اس کو گھڑے میں ڈال…
Read the full tafseer →[ فَبَعَثَ : پھر بھیجا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ غُرَابًا : ایک ایسا کوا ] [ يَّبْحَثُ : جو کریدتا ہے ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ لِيُرِيَهٗ : تاکہ وہ دکھائے اس کو (یعنی اللہ ] [ كَيْفَ : (کہ ) کیسے ] [ يُوَارِيْ : وہ چھپائے ] [ سَوْءَةَ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کی لاش کو ] [ ۭ قَالَ : اس نے کہا ] [ يٰوَيْلَتٰٓى: ہائے میری بدبختی ] [ اَعَجَزْتُ : کیا میں عاجز ہوا ] [ اَنْ : (اس سے بھی ) کہ ] [ اَكُوْنَ : میں ہوتا ] [ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ :: اس کوے کے جیسا ] [ تو میں چھپاتا ] [ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ: اپنے بھائی کی لاش کو ] [ فَاَصْبَحَ : پھر وہ ہوگیا ] [ مِنَ النّٰدِمِيْنَ :…
Read the full tafseer →قابیل کو پریشانی کہ مقتول بھائی کی لاش کا کیا کرے ؟
قتل تو کردیا لیکن اس سے پہلے کوئی میت دیکھی نہ تھی کوئی مرجائے تو کیا کیا جائے اس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اب قابیل حیران تھا کہ بھائی کی اس لاش کو کیا کرے اسی حیرانی اور پریشانی میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دو کوے بھیجے دونوں آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار دیا پھر اسی مارنے والے کوے نے زمین کو کریدا اور مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا (فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَ ۃَ اَخِیْہِ ) (سو اللہ نے بھیج دیا ایک کوا جو کرید رہا تھا زمین کو تاکہ وہ اسے دکھائے کہ کیسے چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
قصہ ہابیل وقابیل۔
قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔
ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ…
Read the full tafseer →58 لِیُرِیَہٗ الخ اس میں لام تعلیلیہ نہیں بلکہ یہ لام عاقبت ہے یعنی ایک کوا اڑتا ہوا آیا اور قابیل کے سامنے زمین کریدنے لگاجس کا نتیجہ اور انجام یہ ہوا کہ اسے اپنے مقتول بھائی کی نعش چھپانے کی ترکیب سوجھ گئی ورنہ کوا غیب دان نہیں تھا کہ ہابیل کے قتل کا اسے علم تھا اور نہ قابیل کو دفن کرنے کا طریقہ سکھانے آیا تھا لام عاقبت کے لیے قرآن مجید میں عام مستعمل ہے جیسا کہ قصص ع 1 میں ہے فَالْتَقَطَہٗ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عَدُوَّا وَّ حَزَناً یہاں لِیَکُوْنَ میں لام عاقبت کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ربط آیات
آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے درمیان تنازعہ کا ابتدائی حصہ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا۔ دونوں نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کی ۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوگی جب کہ قابیل کی نہ ہوئی۔ اس نے غصے میں آکر اپنے بھائی کو قتل کی دہمکی دی مگر ہابیل نے کہا کہ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اللہ کے ہاں قربانی کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ متقیوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تم بھی تقوے کی صفت متصف ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی بھی قبول فرما لیتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا ئیگا۔ تو میں تیرے قتل کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا ‘ کیونکہ میں…
Read the full tafseer →فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَہٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَۃَ اَخِيْہِ 0ۭ قَالَ يٰوَيْلَــتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَۃَ اَخِيْ 0ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ 31ۚۙۛ
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة،
فالبعث ضربان :
- بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة .
- وإلهي، وذلک ضربان :
- أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
1 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان…
Read the full tafseer →فَبَعَثَ اللہ ُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْاَۃَ اَخِیْہِ ط قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْاَۃَ اَخِیْ ج فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 31)
” پھر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین میں کریدتا تھا تاکہ وہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح چھپائے۔ وہ بولا کہ ہائے میری کمبختی ! کیا میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو ڈھانپ دیتا۔ سو وہ اس پر شرمسار ہوا “۔
کوے کے اس عمل نے قابیل کے سامنے ایک طریقہ واضح کیا کہ تم اگر اس لاش کو ٹھکانے لگانا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے قتل اور فوت ہونے والا شخص ہابیل تھا اس لیے قابیل کو معلوم نہ تھا کہ میت کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اس بات کے ساتھ اس کا دوسرا مفہوم بھی ذہن میں رکھنا چاہیے جو واقعہ کے ساتھ گہری نسبت رکھتا ہے جب قاتل کسی شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اپنا جرم چھپانے کے لیے لاش کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ممکن ہے قابیل اسی کشمکش میں مبتلا ہو گھبراہٹ اور بےقراری کے عالم میں اس کی عقل پر پردہ پڑگیا ہو۔ کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کہاں ٹھکانے لگائے جس کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعے یہ کام کروایا۔ ایک کوّے نے…
Read the full tafseer →آیت 31 : فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ (اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا بھیجا کہ وہ اللہ تعالیٰ اس کو دکھائے یا وہ کوّا اس کو دکھائے) کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْئَ ۃَ اَخِیْہِ (کہ وہ کس طرح بھائی کی لاش چھپائے) سَوْئَ ۃَکا معنی ستر اور وہ چیز جسم میں جس کا کھولنا جائز نہیں۔ روایت میں ہے کہ سب سے پہلا مقتول زمین پر بنی آدم میں یہی تھا۔ جب اس کو قتل کردیا تو چٹیل میدان میں چھوڑ دیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کا کیا کرے۔ پس اس کو خطرہ ہوا کہ اس کو درندے پھاڑ دیں گے۔ پس ایک تھیلے میں ڈال کر اپنی پشت پر ایک سال تک اٹھائے پھرتا رہا۔ یہاں تک کہ اس سے بدبو پیدا ہوئی۔ اور اس پر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 31
(فبعہ اللہ غراباً یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سوء ۃ اخیہ) ( پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا جو زمین کو کریدتا تھا تاکہ اس کو دکھلا دے کہ کیسے چھپانی ہے اپنے بھائی کی لاش) جب قابیل نے کوے کو یہ کرتے دیکھا تو (قال …سواۃ اخی) (بولا اے افسوس ! مجھ سے اتنا نہ ہوسکا کہ اس کوے کے برابر ہو جائوں کہ اپنے بھاء ی کی لاش کو چھپائوں) یعنی بھائی کی لاش چھپائوں بعض نے کہا اس کی شرمگاہ کو چھپائوں کیونکہ قابیل نے ان کے کپڑے اتار لیے تھے۔ (فاصبح من النادمین) (پھر پچھتانے لگا) اس کی لاش کندھے پر اٹھانے پر شرمندہ ہوا نہ کہ قتل پر اور بعض نے کہا کہ بھائی کی جدائی پر افسوس ہوا اور بعض نے کہا اس کے قتل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ…
Read the full tafseer →مردوں کی تدفین
قول باری ہے (فبعث اللہ غرابا یبحث فی الارض لیریہ کیف یواری سواۃ اخیہ۔ پھر اللہ نے ایک کو آ بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے)
حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، مجاہد، معتدی، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس لاش کو کیسے ٹھکانے لگائے حتیٰ کہ ایک کوا نمودار ہوا جس نے زمین کھود کر ایک مردہ کوے کو دفنانا شروع کردیا۔
اس میں حسن بصری کے اس قول کے بطلان کی دلیل موجود ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں سے بنی اسرائیل کے دو افراد مراد ہیں۔ اس لئے کہ اگر یہ بات ایسی ہوتی تو مردے کو دفنانے کی بات اسے اس واقعہ سے پہلے معلوم…
Read the full tafseer →79 ندامت مطلوب و معتبر کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ندامت اٹھانے والوں میں سے ہوگیا لیکن یہ ندامت اس کو کچھ کام آنے والی نہ تھی۔ کیونکہ ندامت وہی معتبر اور مفید ہوتی ہے جو خوف خداوندی کی بنا پر ہو۔ ـ مگر اس کی یہ ندامت خوف خدا کی وجہ سے نہ تھی۔ تاکہ توبہ قرار پاتی اور گناہ کی معافی کا ذریعہ بنتی۔ بلکہ یہ ندامت محض دنیاوی رسوائی کی بنا پر تھی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " الندم توبۃ " کا ارشاد امت مسلمہ کی خصوصیت ہو۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ بہرکیف قابیل کی یہ ندامت اس بنا پر نہیں تھی کہ میں نے ایسے گناہ اور جرم عظیم کا ارتکاب کیوں کیا۔ اور یہ کہ مجھے اس سے توبہ کرنی چاہیے جو کہ حضور ﷺ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 7 یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت ترین عذاب کا مستحق قرار پایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں کوئی شخص ظلم کی راہ سے قتل نہیں ہوتا مگر آدم ( علیہ السلام) کا پہلا بیٹا یعنی قابیل بھی اس کے وبال میں شریک ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کی سنت جاری کی (بخاری مسلم)8 اور نقل میں یو آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشمیان ہوا (از مو ضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے۔ قرآن کے ظاہر الفاظ جو چیز معلوم ہوتی ہے ہو یہی ہے یہ اسے زمین کرید تے دیکھا ہے اس نے…
Read the full tafseer →(5:31) فبعث اللہ غرابا۔ پس بھیجا اللہ نے ایک کوا۔اس فقرہ میں محذوف عبارت پر دلالت کرتا ہے۔ علماء نے مابعد کے فقرہ لیریہ کیف یواری سراۃ اخیہ (تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو مردار خور جانوروں درندوں پر ندوں سے کیسے محفوظ کرے۔ اسی الجھن میں وہ لاش کو کئی دن اٹھائے پھرتا رہا۔ تاآنکہ اللہ نے کووں کا ایک جوڑا بھیجا ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار دیا اور پھر اپنی چونچ اور پنچوں سے زمین کو کھود کر اس گڑھے میں مردہ کو لے کر دفن کردیا۔
یبحث۔ مضارع واحد مذکر غائب بحث مصدر باب فتح سے بمعنی کریدنا۔ کھودنا۔ تلاش کرنا ۔ اسی سے بحث مشتق ہے کہ بحث میں بھی مختلف پہلوؤں کو لاکر اصلی نکتہ کو تلاش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
خون ناحق کا ذکر
اس آیت میں گویا ہابیل کے قصہ کا نتیجہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے حسد پر اپنے بھائی کو مارڈالا اور اس کے خون ناحق کا کچھ خیال نہ کیا بلکہ آئندہ خون ناحق کا اوروں کے لئے دنیا میں ایک راستہ کھول دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس گناہ عظیم کے روکنے کا یہ انتظام فرمایا کہ توریت میں بنی اسرائیل کو خون ناحق سے روکنے کے لئے یہ تاکید فرمائی کہ جو شخص ایک خون ناحق کرے گا اس کو خون ناحق کا پھیلانے والا شمار کیا جائے گا، اور جو مظلوموں کی مدد کرے گا خقن ناحق کو روکے گا وہ اس رسم بد کا روکنے والا اور جہان بھر کی زیست و امن کے اجر کا باعث ٹھرے گا۔ آگے فرمایا باوجود اس سخت حکم کے بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[25] یہود اپنے کو اللہ کا بیٹا اور اس کا چہیتا سمجھتے تھے (آیت 18) اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گھمنڈ کو توڑنے کے لئے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ دونوں بھائی آدم (علیہ السلام) کے بیٹے ہونے کی وجہ سے برابر تھے مگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی مقبول ہوا جو متقی رہا۔ دوسرے نے ظلم کا ارتکاب کیا تو وہ مردود ہوگیا اور آدم (علیہ السلام) کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →سنت تدفین :
(ف 1) اسلام چونکہ دین فطرت اور خالص حق سے اس لئے ضروری ہے کہ اس کی ہر بات عدل کے ترازو میں تل کر نکلے اصول سے لے کر فروع تک ہر چیز میں ایک قدرتی نکھار ہو اور کوئی حصہ مذہب ایسا نہ ہو جسے انانی دماغ کا کرشمہ واختراع کہا جاسکے ،
مردوں کے متعلق قدیم سے مختلف زاویہ ہائے نگاہ رہے ہیں ، قدیم مصری لاشوں کو مخفی کر کے خواب گاہوں میں بحفاظت تام رکھتے تھے ہندوؤں کا خیال ہے کہ لاش کو گھی وغیرہ ڈال کر جلا دیا جائے ،
اسلام اس باب میں بالکل سادہ اور فطری طریق اختیار کرتا ہے یعنی تدفین ، کوے کا قصہ اس لئے بیان کیا ہے تاکہ ابن آدم کا ذہن فورا تدفین کی طرف منتقل ہو سکے چناچہ یہی ہوا ۔
Read the full tafseer →ف 2 آخر کار قابیل کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل آسان کردیا اور اس کو خوشنما اور خوش منظر دکھایا اور قابیل کو اس کے جی نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور اس قابیل نے اس کو یعنی ہابیل کو قتل کر ڈالا لہٰذا وہ قابیل سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا پھر لالہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگاتا کہ وہ کوا قابیل کو یہ بتادے اور یہ سکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے قابیل کوے کی اس فراست کو دیکھ کر کہنے لگا ہائے افسوس میرے حال پر کہ میں اس قابل بھی نہ ہوسکا اور میں ا سے بھی گیا گذار ہوگیا کہ اس کوے ہی کے برابر ہوتا اور اس کوے ہی جیسا ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو…
Read the full tafseer →ف 1۔ آخر آیت میں جو اس کی ندامت مذکور ہے یہ ندامت بقول مفسرین قتل پر نہیں تاکہ توبہ کا شبہ ہو بلکہ قتل پر جو مضرتیں مرتب نظرآئیں ان پر ہوئی جیسے نعش کے دفن میں حیران ہونا اور بداحواس ہونا یا بعض مفسرین نے لکھا ہے بدن کا سیاہ ہوجانا اور آدم (علیہ السلام) کا ناراض ہوجانا۔
Read the full tafseer →ہابیل نے ابدی نیند سو کر قابیل کی عارضی زندگی کو دکھوں کا گھر بنا دیا :
102: دنیا کا کئی بھی مجرم جب کہ اس میں کچھ بھی انسانیت باقی ہو جرم کرلینے کے بعد کف افسوس ملنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ایک تو اس کی وہ آتش غضب بجھ جاتی ہے جس سے اندھا ہو کر اس نے وہ اخلاقی جرم کیا ہوتا ہے اور اس کو اس جرم کی سزا بھی چونکا دینا شروع کردیتی ہے جو اس دنیا میں اس کے سامنے آموجود ہوتی ہے۔ یہی کچھ قابیل کے ساتھ بھی ہوا ہابیل کو ابدی نیند سلا کر اس کی آتش غضب بجھ گئی اور قتل کر چکنے کے بعد اب اس نے اپنے انجام قتل کے متعلق سوچنا شروع کیا کہ اب کیا ہوگا ؟ قتل کے بدلے میں قتل یا قید و بند کی سزا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
Commentary
The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain)
In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah.
People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…
Read the full tafseer →51. In this way God made this errant son of Adam realize his ignorance and folly. Once his attention turned to self-appraisal, his regret was not confined to realizing that in his effort to hide his brother's corpse he proved to be even less efficient than the raven. He also began to feel how foolish he was to have killed his own brother. The later part of the sentence indicates this remorse.
52.The purpose of mentioning this particular incident is to reproach the Jews subtly for the plot they had hatched to assassinate the Prophet (peace be on him) and some of his illustrious Companions (see…
Read the full tafseer →