Al-Maaida 5:30

Al-Maaida · from ayah 30

5:30

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۟فَطَوَّعَتۡ لَهٗ نَفۡسُهٗ قَـتۡلَ اَخِيۡهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And his soul permitted to him the murder of his brother, so he killed him and became among the losers.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:30

آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آماده کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈاﻻ، جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہوگیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

آخر کار اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا، چنانچہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا، اور نامرادوں میں شامل ہوگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اسکے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس (قابیل) کے نفس نے اس کے لئے اپنے بھائی (ہابیل) کا قتل آسان (اور مرغوب) کر دکھایا، سو اس نے اس کو قتل کردیا، پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس کے لیے اس کے نفس نے اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنادیا، سو اس نے اسے قتل کردیا، پس خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بالآخر دوسرے کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر ہی لیا۔ چناچہ اسے مار ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بالآخر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا اور وہ اس کو قتل کرکے نامرادوں میں سے ہوگیا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی آمادہ کرلیا اس کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر، سو اس نے اسکو قتل کر ڈالا جس کے نتیجے میں وہ ہوگیا خسارہ اٹھانے والوں میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

غرض اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا تو اس نے اسے مار (ہی) ڈالا۔ جس سے وہ بڑا نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بالآخراس کے نفس نے آمادہ کر ہی لیا اسے اپنے بھائی کے قتل پر تو اس نے اسے قتل کردیا اور ہوگیا تباہ ہونے والوں میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخر کار اسکے نفس نے بھائی کے قتل پر اس کو راضی کرلیا، اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

At last his evil soul drove him to the murder of his brother, and he killed him, whereby he himself became one of the losers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

His self, however, prompted him to kill his brother, so he killed him and became one of the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

His self, however, prompted him to kill his brother, so he killed him and became one of the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So the soul of the other encouraged him and made fair-seeming to him the murder of his brother; he murdered him and became one of the losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But (the other's) mind imposed on him the killing of his brother, so he slew him and became one of the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And his soul permitted to him the murder of his brother, so he killed him and became among the losers.

— Saheeh International

(Cain's) soul prompted him to kill his own brother. In doing so he became of those who lose.

— Muhammad Sarwar

Then his mind facilitated to him the slaying of his brother so he slew him; then he became one of the losers

— Muhammad Habib Shakir

Then his soul made the slaying of his brother agreeable to him, so he slew him, and he became of the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

The (selfish) soul of the other led him to the murder of his brother: he murdered him, and became (himself) one of the lost ones.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–31

حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة المائدہ 50 یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آجائے ، تیرے اپنے قاتلانہ اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–32

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

30۔ 31:۔ فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۔ فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ لِيُرِيَهٗ كَيْفَ يُوَارِيْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ ۭ قَالَ يٰوَيْلَتٰٓى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِيَ سَوْءَةَ اَخِيْ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ۔ قابیل کی نامرادی : فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِيْهِ ، کے معنی ہوں گے اس کے نفس نے اس کو بالآخر اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر ہی لیا۔ اس اسلوب بیان سے اس اندرونی کشمکش کا اظہار ہورہا ہے جو اول اول اس ارادۂ قتل سے اس کے اندر پیدا ہوئی۔ انسان کے اندر قدرت نے ایک نفس لوّامہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–31

30۔ 1 چناچہ حدیث میں آتا ہے (لَا تَقْتُلُ نَفْسً ظُلُمًَا اِلَّا کَانَ عَلٰی اِبْنِ آدَمْ کفل من دمہا، لانہ کان اول من سن القتل) (الصحیح بخاری) جو قتل بھی ظلمًا ہوتا ہے (قاتل کے ساتھ) اس کے خون ناحق کا بوجھ آدم کے اس پہلے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا امام ابن کثیر فرماتے ہیں ' کہ ظاہر بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قابیل کو ہابیل کے قتل ناحق کی سزا دنیا میں ہی فوری طور پردے دی گئی تھی۔ حدیث میں آتا ہے نبی نے فرمایا (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی یہ دونوں گناہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرنے والوں کو دنیا میں ہی جلد سزا دے دے، تاہم آخرت کی سزا اس کے علاوہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

23: اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے، لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا، ساتھ ہی اسے یہ جتلادیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی امید ہے مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (30) ” آخرکا اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کردیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ ان تمام کوششوں کے باوجود اس وعظ ‘ اس نصیحت اور ڈراوے کے باوجود یہ شریر شخصیت جرم پر آمادہ ہوجاتی ہے اور جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے ۔ اس کے نفس نے اس کے لئے تمام نتائج آسان کردیئے ۔ تمام رکاوٹیں دور کردیں ۔ قتل پر وہ آسانی سے آمادہ کردیا گیا ۔ اس نے قتل کر ہی دیا لیکن کسے ؟ اپنے بھائی کو اور اب وہ خوفناک انجام کا مستحق ہے ۔ (آیت) ” فاصبح من الاخسرین “۔ (5 : 30) (وہ نقصان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 شاید ابتدا میں کچھ جھجک ہوگی شدہ شدہ نفس امارہ نے خیال پختہ کردیا اور یہ ہی کیفیت عموماً معاصی کی ابتدا میں ہوتی ہے۔ 11 دنیاوی خسران تو یہ کہ ایسا نیک بھائی جو قوت بازو بنتا ہاتھ سے کھویا اور خود پاگل ہو کر مرا۔ حدیث میں ہے کہ " ظلم " اور " قطع رحم " دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا آخرت سے پہلے یہاں بھی ملتی ہے اور اخروی خسران یہ کہ ظلم، قطع رحم، قتل عمد اور بدامنی کا دروازہ دنیا میں کھول دینے سے ان سب گناہوں کی سزا کا مستوجب ہوا اور آئندہ بھی جتنے اس نوعیت کے گناہ دنیا میں کئے جائیں گے سب میں بانی ہونے کی وجہ سے اس کی شرکت رہی جیسا کہ حدیث میں مصرح ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ ان الفاظ کے بین السطور اس کے ضمیر کی کش مکش کا مکمل نقشہ موجود ہے۔ ایک طرف اللہ کا خوف ‘ نیکی کا جذبہ ‘ خون کا رشتہ اور دوسری طرف شیطانی ترغیب ‘ حسد کی آگ اور نفسانی خواہش کی اکساہٹ۔ اور پھر بالآخر اس اندرونی کشمکش میں اس کا نفس جیت ہی گیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک ہابیل زندہ رہے گا اس کا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہوسکتا لہذا اسے ختم کردینے سے ہی اسے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نفس کے شیطان نے اسے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے۔ پھر جب اس نے اسے مار ڈالا تو اس پر ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پڑنے لگی کہ ایسے نیک سیرت اور مشفق بھائی کو اس نے بےقصور مار ڈالا ہے اور آخرت میں جو اس کے لیے سزا ہے وہ تو بہرحال مل کے رہے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114 ۔ ہابیل کی اس مؤثر تقریر سے قابیل ذرا بھی متاثر نہ ہوا، بلکہ مقابلہ ومزاحمت کی طرف سے بےفکر ہو کر عجب نہیں جو قتل پر اور زیادہ آمادہ ہوگیا ہو (آیت) ’ فقتلہ “۔ توریت میں ہے۔” اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن اپنے بھائی ہابل پر اٹھا اور اسے مار ڈالا “۔ (پیدائش 4:8) (آیت) ” فطوعت لہ نفسہ “۔ یعنی اسے نفس نے اس کام پر رفتہ رفتہ دلیر ومستعد بنا دیا اور اسے اس کی نظر میں خوشگوار کردکھایا۔ ای فحسنت وسولت نفسہ وشجعتہ علی قتل اخیہ (ابن کثیر) یہ حال ہر بدی ومعصیت کا ہے، ابتداء ہر فطرت سلیم اس سے رکتی ہے، ہچکچاتی ہے، لیکن نفس رفتہ رفتہ اس کی جانب مائل اور اس پر گرویدہ ہوتا جاتا ہے، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–32

آیت 27 تا 34 ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ پھر اس کے جی نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا۔ لَہٗ کا لفظ زیادتی ربط کے لئے بڑھایا گیا ہے۔ جیسے حَفِظْتُ لِزَیدٍ مَالَہٗمیں نے زید کے لئے اس کے مال کی حفاظت کی۔ گویا قابیل نے اپنے نفس کو قتل ہابیل کی دعوت دی اور نفس مان گیا۔ صحاح میں ہے کہ طَوَّعَتْمیں اطاعت سے زیادہ زور ہے۔ قابیل نے جب ہابیل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کس طرح قتل کرے۔ ابن جریح کا بیان ہے کہ شیطان بھیس بدل کر اس کے سامنے آیا اور ایک پرندہ کو پکڑ کر پرندہ کا سر پتھر پر رکھ کر اوپر سے دوسرا پتھر مار دیا اور اس طرح سر کچل کر قتل کردیا قابیل نے بھی یہ سب کچھ دیکھا اور ہابیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–31

(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کا مستحق ٹھہرا، کیونکہ ہر بعد والے قتل کا گناہ اس کی گردن پر بھی ہوگا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 30۔ اس آیت میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فطوعت لہ نفسہ “۔ یعنی اس کے نفس نے اس پر قتل کا معنی آسان کردیا نفس نے اسے تشجیع کی اور اپنے بھائی کو قتل کرنے کی صورت آسان بنادی، کہا جاتا ہے طاع الشی یطوع یعنی آسان کردیا، اطاعت کی، طوعہ فلان لہ یعنی اس نے اسکے لیے معاملہ آسان کردیا، ہر وی نے کہا : طوعت و اطاعت کا ایک معنی ہے، کہا جاتا ہے طاع لہ کذا جب کوئی کسی کے پاس خوشی سے آئے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے طاوعتہ نفسہ فی قتل اخیہ، حرف جر کو ہٹا دیا اور قتل اخیہ منصوب ہوگیا، روایت ہے کہ وہ ناواقف تھا کہ وہ اپنے بھائی کو کیسے قتل کرے، ابلیس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت ہے لفظ آیت فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ کے بارے میں فرمایا کہ طوعت کا معنی ہے زینت یعنی اس کے دل نے یہ کام اس کے لئے مزین کردیا۔ (2) امام ابن جریر نے ابن مسعود اور صحابہ ؓ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے لفظ آیت فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ (اس کے نفس نے اس بات پر آمادہ کیا) کے اس کو قتل کر دے اس وجہ سے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں میں نکل گیا۔ ایک دن وہ اپنے بھائی کے پاس آیا جبکہ وہ اپنی بکریاں چرا رہا تھا اس حال میں کہ وہ سویا ہوا تھا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اس سے اس کا سر کچل ڈالا جس سے وہ مرگیا۔ اس نے اس کو کھلے میدان میں چھوڑ دیا اور وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَطَوَّعَتْ : پس راضی کیا ] [ لَهٗ : اس کو ] [ نَفْسُهٗ : اس کے نفس نے ] [ قَتْلَ اَخِيْهِ : اپنے بھائی کے قتل پر ] [ فَقَتَلَهٗ : تو اس نے قتل کیا اس کو ] [ فَاَصْبَحَ : نتیجتا وہ ہوگیا ] [ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ اٹھانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

ہابیل نے مزید سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا (اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) یہ قابیل کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ بھی لے اور میرے گناہ بھی لے ان سب کو اپنے اوپر اٹھا لے اور دوزخ والوں میں ہوجائے، (وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ) اور یہ ظالموں کی جزا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے جو گناہ ہیں ان کا بوجھ تو تیرے اوپر ہے ہی اور ان میں میرے قتل کا گناہ بھی اپنے سر دھر نے کو تیار ہے۔ یہ سب گناہ مل کر تیرے دوزخ میں جانے کا سبب بن جائیں گے۔ ایک اشکال اور اس کا جواب یہاں یہ اشکال پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–31

قصہ ہابیل وقابیل۔ قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔ ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57 فَطَوَّعَتْ لَہٗ الخ یعنی نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر خوشی سے آمادہ کردیا اور اس کا قتل اس پر آسان اور سہل کردیا ای فمھلتہ لہ و سعتہ (روح ج 6 ص 114) قابیل نے ہابیل کو کیوں قتل کیا اصل وجہ عداوت کیا تھی اس کے بارے میں صحیح وہی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے فرمایا ہے کہ ہابیل نے نہایت اعلیٰ درجہ کا مینڈھا اللہ کی نیاز میں دیا وہ قبول ہوگیا اور قابیل نے ردی قسم کا اناج اللہ کی نذر کیا وہ قبول نہ ہوا اس وجہ سے اس کے دل میں ہابیل کے خلاف حسد پیدا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 30–31

ربط آیات آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے درمیان تنازعہ کا ابتدائی حصہ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا۔ دونوں نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کی ۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوگی جب کہ قابیل کی نہ ہوئی۔ اس نے غصے میں آکر اپنے بھائی کو قتل کی دہمکی دی مگر ہابیل نے کہا کہ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اللہ کے ہاں قربانی کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ متقیوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تم بھی تقوے کی صفت متصف ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی بھی قبول فرما لیتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا ئیگا۔ تو میں تیرے قتل کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا ‘ کیونکہ میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِيْہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ 30 طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–31

1 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 30) ” بالآخر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور وہ اس کو قتل کر کے نامرادوں میں سے ہوگیا “۔ حسد ایک شدید ترین جذبہ ہے : فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ (بالآخر اسے اس کے نفس نے آمادہ کر ہی لیا) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس انتہائی اقدام پر آسانی سے تیار نہیں ہوگیا ‘ بلکہ اسے ایک بڑی کشمکش سے گزرنا پڑا کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ اللہ نے انسان میں دو طرح کے داعیات رکھے ہیں۔ ایک اس کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور دوسرا اس کو برائی کی دعوت دیتا ہے اور جب آدمی اس برائی کی دعوت کو قبول کرنے لگتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔ 1۔ نفس مطمئنہّ ۔ ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27) 2۔ نفس لوّامہ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس (القیامۃ : 2) 3۔ نفس امّارہ۔ گناہ پر ابھارنے والا نفس (یوسف : 53) یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفس امارہ اور نفس لوامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے۔ جب نفس امارہ غالب آجائے تو آدمی برائی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ” فطوعت لہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 30 : (فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ ) (اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا) طوعت کا معنی آسان کردیا گنجائش پیدا کردی یہ طالع لہ المرتع کہ چراگاہ آسانی سے اس کو میسر آگئی ٗ سے بنا ہے۔ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (پس اس نے اس کو قتل کردیا پس وہ ہوگیا خسارہ پانے والوں میں سے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 28–30

آیت نمبر 30, 29, 28 تفسیر : (لئن م بسطت الی یدک لتقتلنی ماانا بباسط یدی الیک لاقتلک انی اخاف اللہ رب العلمین) (اگر تو ہاتھ چلائے گا) میری طرف مارنے کو میں نہ ہاتھ چلائوں گا تجھ پر مارنے کو میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا) ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہابیل اپنے بھائی سے زیادہ طاقتور تھے لیکن ان کو یہ شرم آئی کہ میں اپنے بھائی پر ہاتھ کیسے اٹھائوں اور شریعت میں یہ جائز ہے کہ کسی کو قتل کیا جارہا ہو تو وہ ثواب کے لیے مزاحمت نہ کرے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس وقت یہ بات فرض کی تھی کہ کوئی شخص کسی کو قتل کرنے لگے تو وہ بصر کرے مزاحمت نہ کرے۔ (انی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–31

(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–31

آیت 27 یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔ یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کردیا) مجاہد کا قول ہے ” اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کا معاملہ بڑے مسجع اور منقش انداز میں پیش کیا۔ قتادہ کا قول ہے۔ ” اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے سامنے مزین کر کے پیش کیا “ ایک قول ہے۔ اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل کے معاملے میں اس کی مساعدت کی “ تمام اقوال میں ایک معنی مشترک ہے وہ یہ کہ اس نے بخوشی اس قتل کا ارتکاب کیا تھا اس کام کو اس نے ناپسند نہیں کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ عرب کہتے ہیں ” طاع لھذہ الظبیۃ اصول الشجر یا ” طاع لفادن “ (درختوں کی جڑیں اس ہرنی کے لئے خود بخود فرمانبردار ہوگئیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

77 تمردو سرکشی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ نفس و شیطان کی طغیانی پند و نصیحت کا اثر قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس موقع پر ہابیل نے قابیل کو ایسا وقیع اور موثر وعظ کیا تاکہ وہ قتل کے اس انتہائی سنگین جرم کے ارتکاب سے باز رہے۔ مگر اس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ کیونکہ نفس و شیطان کی طغیانی جب انسان پر مسلط ہوجائے تو کوئی کلمہ وعظ و نصیحت اس پر اثر نہیں کرتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نفس و شیطان کی طغیانی انسان کو مہالک میں ڈالنے والی چیز ہے ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے ۔ آمین ۔ { فَطَوَّعَتْ لَہٗ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 27–34

بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–34

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔ اسرار و معارف : آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 7 یعنی اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور آخرت میں بھی سخت ترین عذاب کا مستحق قرار پایا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں کوئی شخص ظلم کی راہ سے قتل نہیں ہوتا مگر آدم ( علیہ السلام) کا پہلا بیٹا یعنی قابیل بھی اس کے وبال میں شریک ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کی سنت جاری کی (بخاری مسلم)8 اور نقل میں یو آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشمیان ہوا (از مو ضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے۔ قرآن کے ظاہر الفاظ جو چیز معلوم ہوتی ہے ہو یہی ہے یہ اسے زمین کرید تے دیکھا ہے اس نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(5:30) طوعت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ تطویع (تفعیل) سے اس (کے نفس) نے رغبت دلائی۔ اس نے راضی کرلیا۔ اس نے آمادہ کرلیا۔ اس نے آسان کردیا۔ اس کے نفس نے تسویل و ترغیب سے اس پر آمادہ کرلیا اور وہ اس کام کے کرنے پر رضا مند ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–31

آیت نمبر 27 تا 31 لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–30

دنیا میں سب سے پہلا خون یعنی ہابیل اور قابیل کا قصہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلان کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کی اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں نہیں تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیداشدہ بہن سے نکاح کرنا چاہا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم علیہ اسلام نے فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں، جس کی نیاز قبقل ہوگی اس کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا۔ پہلے زمانہ میں نیاز قبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–30

[24] یعنی یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کا ارادہ کر رہا ہے میں یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں کافر کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلے کی بات نہیں بلکہ معاملہ دو بھائیوں کے درمیان ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے اس صورت میں صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا بھائی اس کے قتل کے درپے ہے اس کے قتل کے لئے پہل نہ کرے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنا بچاؤ بھی نہ کرے۔ ہابیل نے پہل کرنے کی نفی کی ہے، بچاؤ کی نفی نہیں کی۔ اپنی جان و مال کی مدافعت کرنا اللہ کے خوف کے منافی بات نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 28–30

عدم تشدد : (ف 2) ہابیل نے جب دیکھا کہ تیور اچھے نہیں تو پورے تقوی و استقلال سے کہا کہ دیکھو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں ظلم وسفا کی کا موقع دوں ۔ بات یہ تھی کہ ہابیل جہاں ایک متقی انسان تھا وہاں اس کے دل میں اخوت و برادری کے جذبات بھی موجزن تھے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہاتھ بھائی کے خون سے آلود ہوں (آیت) ” لاقتلنک “۔ سے مراد یہ ہے کہ ہابیل نے مدافعت تو کی مگر نقصان نہیں پہنچایا ، کیونکہ ایسا عدم تشدد جس میں ظلم کے خلاف کوئی مدافعانہ کوشش نہ کی جائے اسلام میں جائز نہیں ۔ حل لغات : بسطت الی یدک : دست درازی کرنا ہاتھ اٹھانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 29–30

ف 1 اے قابیل اگر تو مجھے قتل کرنے کی غرض سے مجھ پر اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور مجھ پر دست درازی کرے گا تب بھی میں تیرے قتل کرنے کے لئے تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور تجھ کو قتل کرنے کی غرض سے تجھ پر دست درازی نہ کروں گا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو جملہ کائنات اور تمام عالموں کا رب ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہوں کے ساتھ میرے قتل کا گناہ بھی حاصل کرلے اور تو میرا گناہ اپنے گناہوں کے ساتھ اپنے سر پر رکھ لے پھر تو اہل دوزخ میں شامل ہوجائے اور یہ دوزخیوں میں شامل ہوجانا ہی ظلم کرنے والوں کا صحیح بدلہ ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب ہابیل کی نیاز مقبول ہوگئی تو قابیل نے بجائے اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 26–30

ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔ 2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انجام کار قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا جس سے وہ خود ہی تباہ و برباد ہوا : 101: ہابیل کی کتنی موثر تقریر تھی جو اس نے کی اور کتنا پیار انداز تفہیم تھا جوا س نے اختیار کیا لیکن قابیل کی شقاوت و قساوت قلبی کا یہ عالم تھا کہ اس پر ذرا بھی اثر نہ ہو بلکہ مقابلہ ومزاحمت کی طرف سے بےفکر ہو کر قتل پر اور بھی زیادہ آمادہ ہوگیا اور انجام کار موقع پا کر اس کو قتل کر ہی دیاجیسا کہ تورات میں بھی ہے کہ ” اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن اپنے بھائی ہابیل پر اٹھا اور اسے مار ڈالا۔ “ (پیدائش 4 : 8) زیر نظر آیت میں ہے کہ ” پھر ایسا ہوا کہ اس کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا ، تو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–32

Commentary The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain) In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah. People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

50. The righteous son of Adam told his brother that rather than both of them becoming sinners by trying to kill each other, he would prefer to see the entire sin fall on the lot of the one who was intent on the murder - the sin of the aggressor's attempt to murder, as well as the sin of any injury that might be inflicted on him in self-defence.

Read the full tafseer →