Explained with ayahs 27–31
حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة المائدہ 50
یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آجائے ، تیرے اپنے قاتلانہ اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ۔
" باثمی " و " اثمک " کا مفہوم : " باثمی و اثمک " دونوں میں مضاف محذوف ہے یعنی میں تمہارے قتل میں پہل اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ میں کوئی بارِ گناہ اپنے سر لیے ہوئے اپنے رب کی طرف پلٹنا نہیں چاہتا۔ اگر تم اس جرم کے لیے پہل کرنا چاہتے ہو تو کرو۔ اگر تم مجھے قتل کردوگے تو میرے قتل کا بار گناہ بھی تمہارے سر ہوگا اور میری طرف سے مدافعت کے نتیجے میں اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچ گیا یا تم قتل ہوگئے تو اس کا بار گناہ بھی تمہارے ہی سر ہوگا، اس لیے کہ اس کا سبب میں نہیں بلکہ تمہی…
Read the full tafseer →29۔ 1 میرے گناہ کا مطلب قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول جہنم میں کیوں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا (صحیح بخاری و مسلم کتاب الفتن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
23: اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے، لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا، ساتھ ہی اسے یہ جتلادیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی امید ہے مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو…
Read the full tafseer →(آیت) ” إِنِّیْ أُرِیْدُ أَن تَبُوء َ بِإِثْمِیْ وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاء الظَّالِمِیْنَ (29)
” میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ۔ “
اگر تم میری طرف قتل کیلئے ہاتھ بڑھاؤ تو میرا مزاج تو یہ نہیں ہے کہ میں یہی کام تمہارے ساتھ کروں ۔ نہ یہ میری طبیعت ہے اس لئے کہ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں اپنے بھائی کو قتل کر دو ۔ میرا ذہن ہی اس طرف نہیں جاتا۔ میں یہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ میں اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا ۔ اس لئے میں…
Read the full tafseer →8 یعنی میرے قتل کا گناہ بھی اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ حاصل کرلے۔ ابن جریر نے مفسرین کا اجماع نقل کیا ہے کہ " باثمی " کے معنی یہی ہیں۔ باقی جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ قیامت میں مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈالے جائیں گے وہ مضمون بھی ایک حیثیت سے صحیح ہے مگر محققین کے نزدیک وہ اس آیت کی تفسیر نہیں۔ اب ہابیل کے کلام کا حاصل یہ ہوا کہ اگر تو نے یہ ہی ٹھان لی ہے کہ میرے قتل کا وبال اپنے سر رکھے تو میں نے بھی ارادہ کرلیا ہے کہ کوئی مدافعت اپنی جانب سے نہ کروں حتی کہ ترک عزیمت کا حرف بھی مجھ پر نہ آنے پائے۔
9 یعنی تیرے عمر بھر کے گناہ تجھ پر ثابت رہیں اور میرے خون کا گناہ چڑھے اور مظلومیت کی وجہ سے میرے گناہ…
Read the full tafseer →آیت 29 اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓ اَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ج
اگر آپ اس انتہا تک پہنچ جائیں گے کہ مجھے قتل کر ہی دیں گے تو آپ اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ میری خطاؤں کا بوجھ بھی اپنے سر اٹھا لیں گے۔ ایک بےگناہ انسان کو قتل کرنے والاگویا مقتول کے تمام گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر اٹھا لیتا ہے۔ یعنی اگر آپ مجھے ناحق قتل کریں گے تو میرے گناہوں کا وبال بھی آپ کے سر ہوگا اور میرے لیے تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ البتہ اس جرم کی وجہ سے آپ جہنمی ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →61 یعنی ناحق قتل کرنے والے کی سزا صرف یہی نہیں ہوتی کہ اسے اس جرم کے عوض جہنم میں ڈال دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ مقتول کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ چناچہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر مجھے دو لشکروں یا دو صفوں میں سے کسی ایک صف میں زبردستی لایا جائے پھر کسی شخص کی تلوار میری گردن اڑا دے یا کسی کا تیر مجھے مار ڈالے تو ؟ آپ نے فرمایا قاتل اپنے اور تیرے گناہ سمیٹ کر اللہ کے پاس آئے گا اور وہ جہنمی ہے (اور تم پر کوئی گناہ نہیں) (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن مواقع القطر) نیز کئی احادیث میں صراحت سے مذکور ہے کہ قیامت کے دن ظالم کی…
Read the full tafseer →112 ۔ (جو کھلا ہوا نتیجہ تیری بدکرداریوں کا ہوتا ہے) اثمی کے معنی ” میرے “ گناہ کے نہیں، بلکہ اہل تحقیق کے نزدیک ” میرے قتل کے گناہ “ کے ہیں۔ اور تقدیر کلام یوں ہے، باثم قتلی من قتلک ایای (ابن جریر ابن عباس وابن مسعود ؓ ون اس من اصحاب الرسول) ای باثم قتلی (ابن کثیر عن ابن عباس ؓ ومجاہد والضحاک وقتادہ والسدی) ای باثم قتلی وھذا قول اکثر المفسرین (معالم) (آیت) ” اثمک “ سے مراد وہ گناہ ہیں جو قابیل اس تازہ اقدام گناہ سے قبل کرچکا تھا، یا وہ پہلا گناہ جس کے پاداش میں اس کی نذر قبولیت سے محروم رہ گئی تھی، واثمک فی معصیۃ اللہ بغیر ذلک من معاصیک (ابن جریر عن ابن عباس وابن مسعود ؓ ون اس من اصحاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…
Read the full tafseer →انی ارید ان تبوآ باثمی واثمک میں چاہتا ہوں کہ تو (اللہ کی طرف) میرا گناہ اور اپنا گناہ (دونوں گناہ) لے کر لوٹے یعنی جب تو مجھے قتل کر دے گا تو میری گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر پڑجائے گا اور اپنے پچھلے گناہوں کا اور اس قتل کے گناہ کا سب کا بار سمیٹ لے گا (تیرا کوئی گناہ معاف نہ ہوگا بلکہ میرے گناہ بھی تجھ پر پڑیں گے) کذا روی ابن نجیح عن مجاہد۔
فتکون من اصحب النار وذلک جزآؤ الظلمین پھر تو دوزخیوں میں سے ہوجائے گا اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ قیامت کے دن مظلوم کو ‘ ظالم کی نیکیاں ظلم کے عوض دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی یا ادائے حقوق کے لئے کافی نہ ہوں گی تو ظالم پر مظلوم کے گناہ ڈال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ۔۔ : میرا گناہ، یعنی جو مجھے اس صورت میں ہوتا جب میں بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا، جیسا کہ پیچھے حدیث میں گزرا ہے، یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے :”قیامت کے دن ظالم کو لایا جائے گا اور اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جائیں گی، اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“ [ بخاری، المظالم، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل۔۔ : 2449 ]
Read the full tafseer →آیت نمبر : 29۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لئن بسطت الی یدک “ یعنی تو اگر میرے قتل کا قصد کرے گا تو میں تیرے قتل کا قصد نہیں کروں گا، اس کی طرف سے تسلیم کرنا ہے خبر میں ہے ” جب فتنہ ہو تو ابن آدم کے بہتر بیٹے کی طرح ہوجا “ (1) (سنن ابی داؤد کتاب الفتن، جلد 2، صفحہ 229، ایضا، حدیث نمبر 3715، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر کوئی مجھ پر میرے گھر میں داخرحمۃ اللہ علیہ ہو اور میرے طرف وہ اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو ؟ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(1) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لئن بسطت الی یدک کے بارے میں فرمایا ان کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ کوئی آدمی اگر کسی دوسرے آدمی کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتا اور اپنا دفاع نہ کرتا۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا گیا تھا کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی پر دست اندازی کرتا تو دوسرا اس کا دفاع نہ کرتا یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کردیتا یا اس کو چھوڑ دیتا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لئن بسطت (الآیتہ)
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) سے…
Read the full tafseer →[ اِنِّىْٓ: بیشک میں ] [ اُرِيْدُ : چاہتا ہوں ] [ اَنْ : کہ ] [ تَبُوْۗاَ : تولوٹے ] [ بِاِثْمِيْ : میرے گناہ کے ساتھ ] [ وَاِثْمِكَ : اور اپنے گناہ کے ساتھ ] [ فَتَكُوْنَ : نتیجا تو ہوجائے ] [ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ: آگ والوں میں سے ] [ وَذٰلِكَ : اور یہ (ہی)] [ جَزٰۗؤُ ا الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کا بدلہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ہابیل نے مزید سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا (اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) یہ قابیل کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ بھی لے اور میرے گناہ بھی لے ان سب کو اپنے اوپر اٹھا لے اور دوزخ والوں میں ہوجائے، (وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ) اور یہ ظالموں کی جزا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے جو گناہ ہیں ان کا بوجھ تو تیرے اوپر ہے ہی اور ان میں میرے قتل کا گناہ بھی اپنے سر دھر نے کو تیار ہے۔ یہ سب گناہ مل کر تیرے دوزخ میں جانے کا سبب بن جائیں گے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
یہاں یہ اشکال پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
قصہ ہابیل وقابیل۔
قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔
ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
56 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ الخ یہ دشمن کے مقابلے میں خاموش بیٹھ رہنے اور اس کے حملے کی مدافعت نہ کرنے کے نتیجے کا دوسرا نمونہ ہے۔ یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو صلبی بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان فرمایا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہابیل نے اس کی مدافعت نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہید کردیا گیا اس سے مسلمانوں کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دشمن کے مقابلے میں خاموش مت بیٹھو دشمن کے مقابلے میں جہاد کرو۔ نہ خود مقتول بنو نہ دوسرے مسلمانوں کو قتل ہونے دو اگر تم نے دشمن سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو مارے جاؤ گے جس طرح ہابیل خاموشی کی وجہ سے قابیل کے ہاتھوں مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات
پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بزدلی کا حال ذکر کیا تھا۔ کہ وہ دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوئے جس کی پاداش میں چالیس سال تک سرزمین مقدس سے محروم رہے۔ جس طرح دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھائی بہت بری بات ہے اسی طرح قتل ناحق پر دلیر ہو ابھی قبیح خصلت ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیات میں آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حال ذکر کیا ہے۔
اس سے پہلے آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے نقض عہد کا تذکرہ فرمایا تھا۔ یہودی شکنی کی وجہ سے ملعون ٹھہرے ‘ پھر سنگدل ہوئے اور اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب۔ اسی عہد شکنی کی وجہ سے گروہ نصاریٰ باہمی جنگ و…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُوْۗاَ بِـاِثْمِيْ وَاِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ 0ۚ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِــمِيْنَ 29ۚ
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
1 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
لَئِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہ َ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓئَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ج وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 28۔ 29)
” اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر دست درازی کرو گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر دست درازی کرنے والا نہیں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں “۔ ” میں چاہتا ہوں کہ میرا گناہ اور اپنا گناہ دونوں تم ہی لے کر لوٹو اور جہنم والوں میں سے بنو۔ یہی سزا ہے ظالموں کی “۔
اگر تم میرے بھائی ہو کر بھی صرف اتنی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
قابیل کے چھوٹے بھائی ہابیل نے جب یقین کرلیا کہ قابیل مجھے قتل کرنے کا مصمّم ارادہ کرچکا ہے تو اس نے بڑے ادب سے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے تو میں آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھاؤں گا۔ جس میں یہ احساس دلانا مقصود تھا کہ میں تجھ سے لڑنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا تجھے بھی مجھ پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ پھر بھی تمہیں اس بات کا احساس نہیں تو یاد رکھنا تیرے گناہ کے ساتھ میرا گناہ بھی تیرے ذمہ ہوگا اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ انھوں نے اپنا دفاع نہیں کیا ہوگا بلکہ اپنی جان بچانا، عزت و مال کی حفاظت کرنا، ہر کسی کا فطری حق اور…
Read the full tafseer →آیت 29 : اِنِّیْٓ اُرِیْدُ (میں چاہتا ہوں) قراءت : مدنی نے اِنِّیَ پڑھا ہے۔ اَنْ تَبُوْا تو اٹھائے) یا لوٹے بِاِثْمِیْ (میرے قتل کے گناہ کے ساتھ) اگر تو نے مجھے قتل کردیا وَاِثْمِکَ (اور اپنے گناہوں کے ساتھ) جس کی بنا پر تیری قربانی قبول نہیں کی گئی۔ اور وہ والد کی نافرمانی ٗ حسد ٗ کینہ ہے قابل نے اس بات کا ارادہ کیا کیوں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو مسترد کر کے کفر کیا تھا یا وہ ظالم تھا اور ظالم کی سزا یہ مراد لی جاسکتی ہے۔ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ (تاکہ تو آگ والوں میں سے ہوجائے اور یہی ظالم کی سزا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت نمبر 30, 29, 28
تفسیر : (لئن م بسطت الی یدک لتقتلنی ماانا بباسط یدی الیک لاقتلک انی اخاف اللہ رب العلمین) (اگر تو ہاتھ چلائے گا) میری طرف مارنے کو میں نہ ہاتھ چلائوں گا تجھ پر مارنے کو میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا) ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہابیل اپنے بھائی سے زیادہ طاقتور تھے لیکن ان کو یہ شرم آئی کہ میں اپنے بھائی پر ہاتھ کیسے اٹھائوں اور شریعت میں یہ جائز ہے کہ کسی کو قتل کیا جارہا ہو تو وہ ثواب کے لیے مزاحمت نہ کرے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس وقت یہ بات فرض کی تھی کہ کوئی شخص کسی کو قتل کرنے لگے تو وہ بصر کرے مزاحمت نہ کرے۔
(انی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (انی ارید ان تبوء باتمی واتمک۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے) حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حسن، مجاہد، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” میرے قتل کا گناہ اور تیرا گناہ جو تو نے میرے قتل سے پہلے کیا تھا “۔ دوسرے حضرات کا قول ہے۔ ” تیرا گناہ جس کی وجہ سے تیری قربانی قبول نہیں ہوتی “۔ آیت میں مراد یہ ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ تو میرے اور اپنے گناہوں کی سزا سمیٹ لے، اس لئے کہ اثم یعنی گناہ کی حقیقت یہاں مراد لینا درست نہیں ہے اس لئے کہ کسی کو یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے یا کسی اور کی طرف سے اللہ کی نافرمانی کا ارادہ کرے جس طرح یہ جائز نہیں کہ وہ کسی کو اللہ کی…
Read the full tafseer →75 قاتل کیلئے دوہری سزا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس شخص نے اپنے بھائی سے کہا کہ تو سمیٹ لے میرے گناہ کو بھی اور اپنے گناہ کو بھی۔ یعنی میرے قتل کے گناہ کو یا میرے دوسرے تمام گناہوں کو۔ دونوں قول مروی ہیں۔ یعنی تو اپنے دوسرے گناہوں کے ساتھ میرے قتل ناحق کے اس گناہ کو بھی سمیٹ لے۔ یہ قول ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ وغیرہ کا ہے۔ امام جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ تیری گردن پر تیرے گناہ کا بوجھ بھی ہو اور میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے کہ قیامت کے روز مقتول مظلوم کی برائیاں قاتل پر ڈالی جائینگی۔ اس لیے تجھے اس روز یہ دونوں بوجھ اٹھانے ہوں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…
Read the full tafseer →ف 6 میرے گناہ کے ساتھ یعنی جو مجھ اس صورت میں ہوتا جب بھی تجھے قتل کرنے کے درپے ہوتا جیسا کہ اوپر کی حدیث میں بیان ہوچکا ہے یا یہ کہ میرے گناہوں کا بوجھ بھی تجھ پر ڈالا جائے گا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ظالم کو لایا جائے گا اور اس کی نیکیاں مظلوم کو دیدی جائیں گی اور مظلم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے (قرطبی)
Read the full tafseer →(5:29) تبوا۔ تو حاصل کرے۔ تو سمیٹے۔ تو کمائے۔ تو لوٹے۔ تو پھر جاوے۔ باء یبوء بوء او بوائ۔
ان تبوء باثمی واثمک (کہ تو ہی سمیٹ لے میرا گناہ اور اپنا گناہ) تیرا گناہ یعنی میرا قتل اور میرا گناہ۔ اس نقصان کا گناہ جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔ (تفہیم القرآن) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ باثمی سے مراد بحذف مضاف باثم قتلی (میرے قتل کرنے کا گناہ) یعنی اپنے سابقہ گناہوں میں تو میرے اس قتل کا گناہ بھی شامل کرلے۔ یا باثمی سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے سابقہ کردہ گناہ بھی تیرے کندھوں پر ہی پڑجائیں۔ اور مظلومیت کی وجہ سے ان کا بوجھ میرے کندھوں سے تیرے کندھوں پر چلا جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
دنیا میں سب سے پہلا خون یعنی ہابیل اور قابیل کا قصہ
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلان کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کی اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں نہیں تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیداشدہ بہن سے نکاح کرنا چاہا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم علیہ اسلام نے فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں، جس کی نیاز قبقل ہوگی اس کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا۔ پہلے زمانہ میں نیاز قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[24] یعنی یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کا ارادہ کر رہا ہے میں یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں کافر کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلے کی بات نہیں بلکہ معاملہ دو بھائیوں کے درمیان ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے اس صورت میں صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا بھائی اس کے قتل کے درپے ہے اس کے قتل کے لئے پہل نہ کرے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنا بچاؤ بھی نہ کرے۔ ہابیل نے پہل کرنے کی نفی کی ہے، بچاؤ کی نفی نہیں کی۔ اپنی جان و مال کی مدافعت کرنا اللہ کے خوف کے منافی بات نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
عدم تشدد :
(ف 2) ہابیل نے جب دیکھا کہ تیور اچھے نہیں تو پورے تقوی و استقلال سے کہا کہ دیکھو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں ظلم وسفا کی کا موقع دوں ۔
بات یہ تھی کہ ہابیل جہاں ایک متقی انسان تھا وہاں اس کے دل میں اخوت و برادری کے جذبات بھی موجزن تھے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہاتھ بھائی کے خون سے آلود ہوں
(آیت) ” لاقتلنک “۔ سے مراد یہ ہے کہ ہابیل نے مدافعت تو کی مگر نقصان نہیں پہنچایا ، کیونکہ ایسا عدم تشدد جس میں ظلم کے خلاف کوئی مدافعانہ کوشش نہ کی جائے اسلام میں جائز نہیں ۔
حل لغات :
بسطت الی یدک : دست درازی کرنا ہاتھ اٹھانا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 1 اے قابیل اگر تو مجھے قتل کرنے کی غرض سے مجھ پر اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور مجھ پر دست درازی کرے گا تب بھی میں تیرے قتل کرنے کے لئے تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا اور تجھ کو قتل کرنے کی غرض سے تجھ پر دست درازی نہ کروں گا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو جملہ کائنات اور تمام عالموں کا رب ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہوں کے ساتھ میرے قتل کا گناہ بھی حاصل کرلے اور تو میرا گناہ اپنے گناہوں کے ساتھ اپنے سر پر رکھ لے پھر تو اہل دوزخ میں شامل ہوجائے اور یہ دوزخیوں میں شامل ہوجانا ہی ظلم کرنے والوں کا صحیح بدلہ ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب ہابیل کی نیاز مقبول ہوگئی تو قابیل نے بجائے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ…
Read the full tafseer →ہابیل کی مزید وضاحت کہ میں ایسا کیوں کروں گا کہ اپنے قاتل کا قاتل بھی نہ بنوں :
100: اس لئے کہ یہاں کوئی کھلے دشمن کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلہ نہیں یہاں تو ایک بھائی کی غلط فہمی ، بےوقوفی اور ہٹ دھرمی کی صورت ہے اس صورت میں صحیح اور مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا ایک بھائی اس کے درپے قتل ہے وہ ایسے قاتل بھائی کے قتل کے لئے تیار نہ ہو بلکہ اس سے جو کچھ ہو سکے مدافعانہ طور پر ہو وہ اس کے وار کو اپنے اوپر سے بچائے گا اور اس پر وار کرتے ہوئے یہ خیال رکھے گا کہ وہ کہیں اس کے ہاتھ سے قتل نہ ہوجائے۔ ہاں ! اگر احتیاط کے باوجود مارنے والا اس کے ہاتھ سے مر بھی گیا تو یہ مارنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
Commentary
The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain)
In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah.
People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
50. The righteous son of Adam told his brother that rather than both of them becoming sinners by trying to kill each other, he would prefer to see the entire sin fall on the lot of the one who was intent on the murder - the sin of the aggressor's attempt to murder, as well as the sin of any injury that might be inflicted on him in self-defence.
Read the full tafseer →