Explained with ayahs 27–31
حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 49
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے آئے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لیے بیٹھ جاؤں گا اور مدافعت نہ کروں گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے تو ہو، میں تیرے قتل کے درپے نہ ہوں گا۔ تو میرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تجھے اختیار ہے، لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کی تیاریاں کر رہا ہے، یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کردینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نہ کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…
Read the full tafseer →لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ۔
قابیل کے ارادہ قتل کے مقابل میں ہابیل کا مومنانہ رویہ : بسط ید کے معنی ہاتھ بڑھانے اور دست درازی کرنے کے ہیں۔ یہاں بارادۂ قتل ہاتھ بڑھانے کا ذکر ہے اس وجہ سے اس کے معنی اقدامِ قتل کے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم، جیسا کہ دھمکی دے رہے ہو، میرے قتل کے لیے اقدام کرنا چاہتے ہو تو میں یہ فرض کر کے کہ تم میرے قتل کے درپے ہو، تمہارے قتل کے لیے پہل کرنے والا نہیں ہوں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں جس نے مجھ کو اور تم کو دونوں کو پیدا کیا ہے، اور جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 1 آدم ؑ کے ان دو بیٹوں کے نام ہابیل اور قابیل تھے۔
27۔ 2 یہ نذرانہ یا قربانی کس لئے پیش کی گئی ؟ اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتداء میں حضرت آدم وحوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی۔ دوسرے حمل سے پھر لڑکا اور لڑکی ہوتی، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بھائی بہن سے کردیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی، جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کی بجائے اپنی ہی بہن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
22: پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک بامقصد جہاد میں کسی کی جان لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے ؛ لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے، بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی ؛ لیکن بہت سے بےگنا ہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا، اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے، اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم ؑ کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی اس پر دوسرے کو غصہ آگیا اور اس نے…
Read the full tafseer →(آیت) ” لَئِن بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ یَدِیَ إِلَیْْکَ لَأَقْتُلَکَ إِنِّیْ أَخَافُ اللّہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ (28)
” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا ۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔
یوں امن تقوی اور صلح کل کے نمونے کو مصور انداز میں یہاں پیش کردیا جاتا ہے ۔ یہ نمونہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں ایک عام انسانی ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو ۔…
Read the full tafseer →6 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ناحق کسی کو مارنے لگے اس کو رخصت ہے کہ ظالم کو مارے اور اگر صبر کرے تو شہادت کا درجہ ہے اور یہ حکم اپنے مسلمان بھائی کے مقابلہ میں ہے ورنہ جہاں انتقام و مدافعت میں شرعی مصلحت و ضرورت ہو وہاں ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنا جائز نہیں۔ مثلاً کافروں یا باغیوں سے قتال کرنا۔ ( وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ ) 42 ۔ الشوری :39) ۔
7 یعنی میں تجھ سے ڈر کر نہیں بلکہ خدا سے ڈر کر یہ چاہتا ہوں کہ جہاں تک شرعاً گنجائش ہے بھائی کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین نہ کروں ایوب سختیانی فرماتے تھے کہ امت محمدیہ میں سے پہلا شخص جس نے اس آیت پر عمل کر کے…
Read the full tafseer →آیت 28 لَءِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج
یعنی اگر ایسا ہوا تو یہ یکطرفہ قتل ہی ہوگا
Read the full tafseer →60 جب قابیل کی قربانی مردود ہوگئی تو اس کا طیش انتقام میں بدل گیا اور اس نے علی الاعلان اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دے دی کہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا (شاید قابیل کا یہ خیال ہو کہ ہابیل کے مرنے کے بعد اس لڑکی پر میرا ہی حق باقی رہ جائے گا) اس کا جواب ہابیل نے یہ دیا کہ اگر تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ بلکہ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے اس صورت میں شاید تمہاری قربانی قبول ہوجاتی اور اگر تم مجھے مارنے پر ہی تلے ہوئے ہو تو میرا ایسا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے میں بہرحال اس معاملہ میں ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اسے بہت بڑا ظلم سمجھتا ہوں۔
Read the full tafseer →109 ۔ (باوجود اپنے اس علم کے کہ میں بےقصور ہوں)
110 ۔ (حالانکہ تیرے ارادۂ قتل پر مطلع ہو کر اور تیری آمادگی قتل دیکھ میرے پاس جواز قتل کا عذر بھی موجود ہے) فقرہ کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ تم جس طرح آغاز قتل میں دلیر ہو، میں ابتداء بالقتل کی جرأت نہیں رکھتا، یہ مطلب نہیں کہ مدافعت میں تلوار اٹھانا جائز نہ ہو، شریعت اسلامی میں جب قرآئن قوی سے یہ معلوم ہوجائے کہ قاتل حملہ کیا ہی چاہتا ہے، تو جواب ومدافعت میں تلوار اٹھانا بالکل جائز ہے، بلکہ اگر مصلحت اسلامی اس کی مقتضی ہو، تو اسے موقع پر واجب ہوجاتا ہے۔ قال ابن عباس ؓ لئن بدأتنی بقتل لم ابدأک بہ ولم یردانی لا ادفعک علی نفسی اذا قصدت قتلی (جصاص)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…
Read the full tafseer →لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لا قتلک (ہابیل نے جواب میں کہا) اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے میری طرف ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے دست درازی نہیں کروں گا۔
انی اخاف اللہ رب العلمین کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا مالک ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا بخدا مقتول قاتل سے زیادہ طاقتور تھا لیکن تقویٰ نے اس کو دست درازی کرنے سے روکا یعنی اللہ کے ڈر سے اس نے خود سپردگی سے کام لیا۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ اس وقت دفاع جائز نہ تھا۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں حکم تھا کہ اگر کوئی کسی کو قتل کرنا چاہے تو مقتول ہونے والا دفاع نہ کرے صبر سے کام لے یا ہابیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے…
Read the full tafseer →لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ۔۔ : یعنی میں تمہیں قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تمہاری طرف نہیں بڑھاؤں گا، اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ اٹھاؤں تو الگ بات ہے، کیونکہ اپنا دفاع تو ضروری ہے اور اس پر امت مسلمہ کا بھی اجماع ہے۔ (قرطبی) اگر مقتول بھی اپنے قاتل کو قتل کرنے کے پیچھے لگا ہوا ہو تو ایسی صورت میں دونوں جہنمی ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔“ احنف بن قیس ؓ نے پوچھا : ”اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے، مقتول کا کیا قصور ہے ؟“ فرمایا : ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر حریص تھا۔“ [ بخاری، الایمان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت نمبر : 27۔
اس آیت میں دو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق “۔ اس آیت کا ماقبل سے تعلق اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہود کا ظلم کرنا اور ان کا عہود اور مواثیق کو توڑنا ابن آدم کے اپنے بھائی پر ظلم کی طرح ہے معنی یہ ہے کہ اگر ان انہوں نے اے محمد ﷺ تیرے ساتھ زیادتی کی ہے تو انہوں نے تجھ سے پہلے انبیاء کو قتل کیا ہے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا شر بہت پرانا ہے انہیں یہ قصہ یاد دلایا اور یہ سچا واقعہ ہے جھوٹی احادیث کی طرح نہیں ہے۔
اس میں اسلام کے مخالف کو خاموش کرنا ہے اور نبی مکرم ﷺ کو تسلی دینا ہے، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(1) امام ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت لئن بسطت الی یدک کے بارے میں فرمایا ان کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ کوئی آدمی اگر کسی دوسرے آدمی کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کو چھوڑ دیتا اور اپنا دفاع نہ کرتا۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا گیا تھا کہ جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی پر دست اندازی کرتا تو دوسرا اس کا دفاع نہ کرتا یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کردیتا یا اس کو چھوڑ دیتا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت لئن بسطت (الآیتہ)
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر نے مجاہد (رح) سے…
Read the full tafseer →[ لَىِٕنْۢ: البتہ اگر ] [ بَسَطْتَّ : تو بڑھائے گا ] [ اِلَيَّ : میری طرف ] [ يَدَكَ : اپنا ہاتھ ] [ لِتَقْتُلَنِيْ : تاکہ تو قتل کرے مجھ کو ] [ مَآ اَنَا : تو میں ] [ بِبَاسِطٍ : بڑھانے والا نہیں ہوں ] [ يَّدِيَ : اپنا ہاتھ ] [ اِلَيْكَ : تیری ] [ لِاَقْتُلَكَ ۚ: کہ میں قتل کروں تجھ کو ] [ اِنِّىْٓ: بیشک میں ] [ اَخَافُ : ڈرتا ہوں ] [ اللّٰهَ : اللہ سے ] [ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کہ فتنوں کے زمانہ میں کیا کریں
اخیر زمانہ میں فتنے بہت زیادہ ہوں گے۔ اس وقت قتل و خون بہت ہوگا اس وقت بھی ہابیل کا طریقہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہوں گے ان فتنوں میں انسان صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس وقت تم اپنی کمانوں کو توڑ دینا اور ان کی نانتوں کو کاٹ دینا اور اپنی تلواروں کو پتھروں سے کچل دینا، اور اپنے گھروں میں اندر بیٹھ جانا پھر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
قصہ ہابیل وقابیل۔
قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔
ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
56 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ الخ یہ دشمن کے مقابلے میں خاموش بیٹھ رہنے اور اس کے حملے کی مدافعت نہ کرنے کے نتیجے کا دوسرا نمونہ ہے۔ یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو صلبی بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان فرمایا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہابیل نے اس کی مدافعت نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہید کردیا گیا اس سے مسلمانوں کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دشمن کے مقابلے میں خاموش مت بیٹھو دشمن کے مقابلے میں جہاد کرو۔ نہ خود مقتول بنو نہ دوسرے مسلمانوں کو قتل ہونے دو اگر تم نے دشمن سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو مارے جاؤ گے جس طرح ہابیل خاموشی کی وجہ سے قابیل کے ہاتھوں مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات
پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بزدلی کا حال ذکر کیا تھا۔ کہ وہ دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوئے جس کی پاداش میں چالیس سال تک سرزمین مقدس سے محروم رہے۔ جس طرح دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھائی بہت بری بات ہے اسی طرح قتل ناحق پر دلیر ہو ابھی قبیح خصلت ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیات میں آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حال ذکر کیا ہے۔
اس سے پہلے آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے نقض عہد کا تذکرہ فرمایا تھا۔ یہودی شکنی کی وجہ سے ملعون ٹھہرے ‘ پھر سنگدل ہوئے اور اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب۔ اسی عہد شکنی کی وجہ سے گروہ نصاریٰ باہمی جنگ و…
Read the full tafseer →لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِيْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ 0ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ 28
بسط
بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ،
( ب س ط )
بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
1 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
لَئِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہ َ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓئَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ج وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 28۔ 29)
” اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر دست درازی کرو گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر دست درازی کرنے والا نہیں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں “۔ ” میں چاہتا ہوں کہ میرا گناہ اور اپنا گناہ دونوں تم ہی لے کر لوٹو اور جہنم والوں میں سے بنو۔ یہی سزا ہے ظالموں کی “۔
اگر تم میرے بھائی ہو کر بھی صرف اتنی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
قابیل کے چھوٹے بھائی ہابیل نے جب یقین کرلیا کہ قابیل مجھے قتل کرنے کا مصمّم ارادہ کرچکا ہے تو اس نے بڑے ادب سے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں گے تو میں آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے نہیں بڑھاؤں گا۔ جس میں یہ احساس دلانا مقصود تھا کہ میں تجھ سے لڑنا نہیں چاہتا۔ لہٰذا تجھے بھی مجھ پر زیادتی نہیں کرنا چاہیے۔ پھر بھی تمہیں اس بات کا احساس نہیں تو یاد رکھنا تیرے گناہ کے ساتھ میرا گناہ بھی تیرے ذمہ ہوگا اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ انھوں نے اپنا دفاع نہیں کیا ہوگا بلکہ اپنی جان بچانا، عزت و مال کی حفاظت کرنا، ہر کسی کا فطری حق اور…
Read the full tafseer →آیت 28 : لَپنْم بَسَطْتَّ (اگر تو نے دراز کیا) اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ ( اپنا ہاتھ میری طرف تاکہ تو مجھے قتل کرے تو میں اپنا ہاتھ پھیلانے والا نہیں تیری طرف) قراءت : مدنی ابوعمرو اور حفص نے یَدِیَپڑھا ہے۔
ہابیل کو بیخبر ی میں قتل کیا گیا :
لِاَقْتُلَکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (تاکہ میں تجھے قتل کروں میں بیشک اللہ رب العالمین سے ڈرنے والا ہوں) روایت میں ہے کہ وہ قابیل سے زیادہ طاقتور تھے۔ اور زیادہ مضبوط۔ لیکن اپنے بھائی کے قتل کو گناہ سمجھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس کے سامنے ہاتھ نہیں اٹھایا کیونکہ اس زمانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت نمبر 30, 29, 28
تفسیر : (لئن م بسطت الی یدک لتقتلنی ماانا بباسط یدی الیک لاقتلک انی اخاف اللہ رب العلمین) (اگر تو ہاتھ چلائے گا) میری طرف مارنے کو میں نہ ہاتھ چلائوں گا تجھ پر مارنے کو میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو پروردگار ہے سب جہان کا) ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہابیل اپنے بھائی سے زیادہ طاقتور تھے لیکن ان کو یہ شرم آئی کہ میں اپنے بھائی پر ہاتھ کیسے اٹھائوں اور شریعت میں یہ جائز ہے کہ کسی کو قتل کیا جارہا ہو تو وہ ثواب کے لیے مزاحمت نہ کرے جیسا کہ حضرت عثمان ؓ نے کیا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس وقت یہ بات فرض کی تھی کہ کوئی شخص کسی کو قتل کرنے لگے تو وہ بصر کرے مزاحمت نہ کرے۔
(انی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (لئن بسطت الی یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لاقتلک اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھائوں گا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس کے معنی ہیں کہ اگر تو مجھے قتل کرنے میں پہل کرے گا تو میں پہل نہیں کروں گا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جب تو میرے قتل کا قصد و ارادہ کرے گا تو میں اپنا دفاع نہیں کروں گا۔
روایت ہے کہ اس نے دھوکے سے قتل کردیا تھا۔ جب وہ نیند میں تھا اس پر ایک بڑا پتھر لڑھکا دیا جس سے اس کا سر پاش پاش ہوگیا۔ حسن اور مجاہد سے یہ روایت ہے کہ ان پر یہ فرض کردیا گیا تھا کہ جب کوئی کسی کے قتل کا ارادہ کرے تو وہ اسے ایسا کرلینے دے اور…
Read the full tafseer →74 اِقدام قتل سے بچنے کی تلقین : سو اس نیک بخت بھائی نے اپنے بھائی کی اس دھمکی کے جواب میں کہا کہ اگر تو نے مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ یعنی تیرے قتل کا اقدام نہیں کروں گا۔ نہ یہ کہ اپنا دفاع بھی نہیں کروں گا۔ کہ اپنی جان اور اپنے مال کی حفاظت میں لڑنا نہ صرف یہ کہ جائز اور مسموح ہے بلکہ اس راہ میں مارا جانا بھی شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ یعنی میں ایسا نہیں ہوں کہ برائی کے بدلے میں برائی کا ارتکاب کروں کہ ایسا کرنا تقویٰ و پرہیزگاری کی اس روش کیخلاف ہے جو میرے خالق ومالک کو پسند ہے اور جس پر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی میں تیرے قتل کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھا ونگا ورنہ مدافعت تو ضروری ہے اس پر امت کا اجماع ہے (قرطبی) اگر مقتول بھی اپنے قتل کے درپے ہو تو ایسی صورت میں دونوں جہنمی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قاتل کے ساتھ مقتول بھی جہنمی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قاتل کے ساتھ مقتول بھی جہنم میں جائے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ مقتول بھی جہنم میں جائے گا کیونکہ وہ اپنے ساتھ کو قتل کرنے کے در بے تھا۔ ( بخاری )
Read the full tafseer →(5:28) بسطت الی۔ تو نے میری طرف (ہاتھ) بڑھایا۔ تو نے مجھ پر (ہاتھ) اٹھایا۔ (یعنی مارنے یا حملہ کرنے کے لئے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
دنیا میں سب سے پہلا خون یعنی ہابیل اور قابیل کا قصہ
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلان کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کی اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں نہیں تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیداشدہ بہن سے نکاح کرنا چاہا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم علیہ اسلام نے فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں، جس کی نیاز قبقل ہوگی اس کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا۔ پہلے زمانہ میں نیاز قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[24] یعنی یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کا ارادہ کر رہا ہے میں یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں کافر کے ساتھ میدان جنگ میں مقابلے کی بات نہیں بلکہ معاملہ دو بھائیوں کے درمیان ہے۔ ایک بھائی دوسرے بھائی کو قتل کی دھمکی دے رہا ہے اس صورت میں صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ آدمی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا بھائی اس کے قتل کے درپے ہے اس کے قتل کے لئے پہل نہ کرے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنا بچاؤ بھی نہ کرے۔ ہابیل نے پہل کرنے کی نفی کی ہے، بچاؤ کی نفی نہیں کی۔ اپنی جان و مال کی مدافعت کرنا اللہ کے خوف کے منافی بات نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
عدم تشدد :
(ف 2) ہابیل نے جب دیکھا کہ تیور اچھے نہیں تو پورے تقوی و استقلال سے کہا کہ دیکھو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں ظلم وسفا کی کا موقع دوں ۔
بات یہ تھی کہ ہابیل جہاں ایک متقی انسان تھا وہاں اس کے دل میں اخوت و برادری کے جذبات بھی موجزن تھے ، وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہاتھ بھائی کے خون سے آلود ہوں
(آیت) ” لاقتلنک “۔ سے مراد یہ ہے کہ ہابیل نے مدافعت تو کی مگر نقصان نہیں پہنچایا ، کیونکہ ایسا عدم تشدد جس میں ظلم کے خلاف کوئی مدافعانہ کوشش نہ کی جائے اسلام میں جائز نہیں ۔
حل لغات :
بسطت الی یدک : دست درازی کرنا ہاتھ اٹھانا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 5 اور اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنایئے اور ہابیل و قابیل کا واقعہ ان کو ٹھیک ٹھیک طرح پڑھ کر سنا دیجیے۔ یہ قصہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب کہ ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی نیاز پیش کی ۔ سو ان دونوں میں سے ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی یعنی ہابیل کی اور دوسرے کی مقبول نہیں ہوئی یعنی قابیل کی اس پر وہ دوسرا یعنی قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں ضرور تجھ کو قتل کر ڈالوں گا ۔ ہابیل نے جواب دیا میرا اس میں کیا قصور ہے اللہ تعالیٰ تو بس پرہیز گاروں ہی کا عمل قبول کیا کرتا ہے۔ (تیسیر)
نباء کے معنی خبر انباء کے معنی خبریں ہم نے ترجمہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ…
Read the full tafseer →قتل کرنے والے کو قتل نہ کرنا ” اپنے دفاع کو مانع نہیں ہوتا “
99: اپنے قتل کی دھمکی سن کر بھی اس اللہ کے بندے نے قطعاً گرمی نہیں کھائی حالانکہ مظلوم ہو کر ظالم کے حق میں منہ سے کسی بات کا نکل جانا بالکل ایک فطری امر ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس کی اجازت دی ہے کہ ” تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لئے جائز ہے دوسروں کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔ “ (النساء 4 : 148)
” بسطید “ کے معنی ہاتھ بڑھانے اور دست درازی کرنے کے ہیں اور اس جگہ بار ادہ قتل ہاتھ بڑھانے کا ذکر ہے اس لئے یہاں اس کے معنی ” اقدام قتل “ کے ہوں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ تم جس طرح میرے قتل کرنے کا اقدام کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
Commentary
The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain)
In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah.
People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…
Read the full tafseer →49. This does not mean, that his brother assured him that when the latter stepped forward to kill him he would keep his hands tied and stretch out his own neck to be cut down rather than defend himself. What this statement amounts to is an assurance on the part of the first brother that, even though the other was intent on killing him, he himself had no such intention. In other words, he assured his brother that even though the latter was busy planning his murder he would not take the initiative in killing him despite his knowledge of the latter's intent.
In view of the fact that the…
Read the full tafseer →