Explained with ayahs 27–31
حسد و بغض سے ممانعت
اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 48
یعنی تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ میں تقویٰ نہیں ہے، لہٰذا میری جان لینے کے بجائے تجھ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم ؑ کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 31:۔ آگے آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔ یہ قصہ یوں مذکور تو تورات میں بھی ہے لیکن تورات کے عام انداز کے مطابق، اس کی نوعیت بس نسل آدم کی ابتدائی تاریخ کے ایک قصے کی ہے۔ اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کے اندر وہ کیا حکمت و موعظت ہے جس کے لیے یہ قصہ بیان ہوا ہے۔ قرآن نے اس کو اس کی حکمت و موعظت کے ساتھ بیان فرمایا اور اس کے ان حصوں کو بھی واضح کیا جو تورات کے راویوں نے ضائع کردیے تھے حالانکہ وہ سبق آموزی کے لیے نہایت ضروری تھے۔ یہ قصہ یہاں قرآن میں جن حقائق کو واضح کرنے کے لیے بیان ہوا ہے ان کی تفصیل تو آیات کی تفسیر کے ضمن میں آئے گی۔ لیکن چند اصولی باتوں کی طرف ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 1 آدم ؑ کے ان دو بیٹوں کے نام ہابیل اور قابیل تھے۔
27۔ 2 یہ نذرانہ یا قربانی کس لئے پیش کی گئی ؟ اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں۔ البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتداء میں حضرت آدم وحوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی۔ دوسرے حمل سے پھر لڑکا اور لڑکی ہوتی، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بھائی بہن سے کردیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی، جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی۔ اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی بہن کے ساتھ اور قابیل کا نکاح ہابیل کی بہن کے ساتھ ہونا تھا۔ لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ ہابیل کی بہن کی بجائے اپنی ہی بہن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
22: پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آجانے کے باوجود اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک بامقصد جہاد میں کسی کی جان لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے ؛ لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے، بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی ؛ لیکن بہت سے بےگنا ہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا، اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جارہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے، اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم ؑ کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی اس پر دوسرے کو غصہ آگیا اور اس نے…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 27 تا 31۔
یہ ایک قصہ ہے جو بطور نمونہ شر اور ظلم یہاں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسے صریح ظلم کا نمونہ ہے جس کے لئے کوئی وجہ جواز نہ ہو اور یہی قصہ ایک ایسا نمونہ بھی پیش کرتا ہے جو نیک نفسی اور رواداری کا اعلی نمونہ ہے اور یہ نمونہ نہایت ہی پاک طینت اور صلح کل نمونہ ہے ۔ اس قصے میں یہ دونوں نمونے ایک دوسرے کے بالمقابل پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہر اک اپنے مزاج کے مطابق اور اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ یہ قصہ اس جرم کی نقشہ کشی کرتا ہے ‘ جو بدی اور صریح ظلم کا مظہر ہے اور اسے پڑھ کر انسانی ضمیر میں جوش آتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ایسے صریح ظلم کے خلاف قانون قصاص ضروری ہے ۔ ایک…
Read the full tafseer →2 یعنی آدم کے دو صلبی بیٹوں قابیل و ہابیل کا قصہ ان کو سناؤ۔ کیونکہ اس قصہ میں ایک بھائی کے دوسرے بھائی کی مقبولیت اور تقویٰ پر حسد کرنے اور اسی غیظ میں اس کو ناحق قتل کر ڈالنے کا ذکر ہے اور ناحق خون کرنے کی عواقب بیان کئے ہیں۔ پچھلے رکوع میں یہ بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل کو جب یہ حکم دیا گیا کہ ظالموں اور جابروں سے قتال کرو تو خوف زدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ اب ہابیل و قابیل کا قصہ سنانا اس کی تمہید ہے کہ متقی اور مقبول بندوں کا قتل جو شدید ترین جرائم میں سے ہے اور جس سے ان لوگوں کو بےانتہا تہدید و تشدید کے ساتھ منع کیا گیا تھا اس کے لئے یہ ملعون ہمیشہ کیسے مستعد اور تیار نظر آتے ہیں۔ پہلے بھی کتنے…
Read the full tafseer →آیت 27 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بالْحَقِّ 7 فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ط
آدم علیہ السلام کے یہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ہابیل بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور قابیل کاشت کار تھا۔ ان دونوں نے اللہ کے حضور قربانی دی۔ ہابیل نے کچھ جانور پیش کیے ‘ جبکہ قابیل نے اناج نذر کیا۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی مگر قابیل کی قبول نہیں ہوئی۔ اس زمانے میں قربانی کی قبولیت کی علامت یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک شعلہ نیچے اترتا تھا اور وہ قربانی کی چیز کو جلا کر بھسم کردیتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اللہ نے قربانی کو قبول فرما لیا۔
قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ط اس نے کہا…
Read the full tafseer →58 بنی اسرائیل کا جہاد سے اس طرح گریز کرنے کا قصہ بیان کرنے کے بعد اب آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ان میں سے قابیل عمر میں بڑا تھا۔ کاشت کاری کرتا تھا۔ جسم کا قوی اور تند مزاج تھا اس کا چھوٹا بھائی ہابیل بھیڑ بکریاں پالتا اور چرایا کرتا تھا۔ نیک، سرشت، فرمانبردار اور منکسر المزاج تھا۔ ان دونوں میں کسی بات پر تنازعہ پیدا ہوا اور بالآخر قابیل نے ظلم و تشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائی کو جان ہی سے مار ڈالا۔ سابقہ آیات سے اس قصہ کا ربط یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود بھی مظلوموں کے قتل میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے…
Read the full tafseer →104 ۔ (اے ہمارے پیغمبر ! ) (آیت) ” علیہم “ َ میں ضمیر کس طرف ہے ؟ اہل کتاب، خصوصا معاندین اہل کتاب کی طرف ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔ واتل علی اھل الکتاب (کبیر) ای اقصص علی ھولاء البغاۃ الحسدۃ (ابن کثیر) واتل علی ھولاء الیھود الذین ھموا ان یبسطوا ایدیھم الیکم (ابن جریر) لیکن عام نوع انسانی بھی مراد ہوسکتی ہے۔ واتل علی الناس (کبیر) قصہ کا مقصد دو امور کی تعلیم دینا ہے، ( 1) ایک یہ کہ نسب کی بزرگی مطلق کام نہیں آتی، مقبول صرف وہی ہوتا ہے جو حکم کا مطیع ہوتا ہے۔ (2) دوسرے یہ کہ انسان حسد سے متاثر ہو کر کیسی کیسی شیطانی حرکتیں کر گزرتا ہے۔ (آیت) ” ابنی ادم “۔ مراد قابیل وہابیل ہیں، یا بہ اصطلاح توریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟…
Read the full tafseer →واتل علیہم نبا ابنی ادم بالحق اور ان کو سنائیے آدم ( علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کی سچی خبر۔ یعنی ایسی خبر جو گزشتہ انبیاء کی کتابوں کی صراحت کے موافق ہے۔
اذ قربا قربانا جب دونوں نے قربانی پیش کی۔
قربان وہ چیز جو بطور بھینٹ پیش کی جائے ‘ جس سے اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو خواہ وہ ذبیحہ ہو یا کوئی اور چیز۔ جیسے حلوان اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی کو دی جائے۔ اصل لغت میں قربان مصدر ہے ‘ اسی لئے تثنیہ نہیں لایا گیا (باوجودیکہ ہر ایک کی قربانی جدا جدا تھی) بعض علماء نے لکھا ہے کہ قَرَّبَا کا مطلب ہے قَرَّبَ کُلُّ واَحدٍِ منِہُمَا یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی قربانی پیش کی۔ قربانی پیش کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 تا 31) اے محمد ﷺ آپ بذریعہ قرآن کریم ان لوگوں کو یہ قصہ بھی سنائیے کہ ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، اور قابیل کی قربانی نہ ہوئی تو قابیل نے ہابیل سے کہا میں تجھے قتل کروں گا، ہابیل نے کہا کیوں قابیل نے کہا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی تو قبول کرلی اور میری قربانی قبول نہیں کی، ہابیل نے کہا جو قول وعمل میں چنے ہوتے ہیں اور ان کے دل پاکیزہ ہوتے ہیں انکا عمل قبول ہوتا ہے اور تو پاکیزہ قلب والا نہیں اس لئے اللہ نے تیری قربانی قبول نہیں کی اور اگر تو ظلم سے مجھ پر دست درازی کرے گا تو میں جوابا ایسا نہیں کروں گا تاکہ میرے خون سے پہلے جو تیرے اور گناہ ہیں اور میرے جو گناہ ہیں تو سب اپنے…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بالْحَقِّ : آدم ؑ کے ان دو بیٹوں کا نام ہابیل اور قابیل مشہور ہے، اگرچہ قرآن یا حدیث میں یہ نام نہیں آئے۔
ۘاِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ۔۔ : یہ نذر یا قربانی کس لیے پیش کی گئی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں، البتہ مشہور یہ ہے کہ ابتدا میں آدم اور حوا ؑ کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے تھے، دوسرے حمل سے پھر لڑکا لڑکی ہوتے، ایک حمل کے بہن بھائی کا نکاح دوسرے حمل کے بہن بھائی سے کردیا جاتا۔ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن بد صورت تھی، جبکہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی، اس وقت کے اصول کے مطابق ہابیل کا نکاح قابیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت نمبر : 27۔
اس آیت میں دو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق “۔ اس آیت کا ماقبل سے تعلق اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ یہود کا ظلم کرنا اور ان کا عہود اور مواثیق کو توڑنا ابن آدم کے اپنے بھائی پر ظلم کی طرح ہے معنی یہ ہے کہ اگر ان انہوں نے اے محمد ﷺ تیرے ساتھ زیادتی کی ہے تو انہوں نے تجھ سے پہلے انبیاء کو قتل کیا ہے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا شر بہت پرانا ہے انہیں یہ قصہ یاد دلایا اور یہ سچا واقعہ ہے جھوٹی احادیث کی طرح نہیں ہے۔
اس میں اسلام کے مخالف کو خاموش کرنا ہے اور نبی مکرم ﷺ کو تسلی دینا ہے، حضرت…
Read the full tafseer →آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کی قربانی
(1) امام ابن جریر نے ابن مسعود اور صحابہ میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی جو بھی اولاد پیدا ہوتی تھی۔ لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوتی تھی۔ اس پیٹ کے لڑکے کی شادی دوسرے پیٹ کی لڑکی سے کرتے تھے۔ اور اس پیٹ کی لڑکی کی شادی دوسرے پیٹ کے لڑکے سے کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دو لڑکے پیدا ہوئے جن کو قابیل اور ھابیل کہا جاتا تھا۔ قابیل کھیتی باڑی والا آدمی تھا اور ہابیل مویشیوں والا آدمی تھا۔ قابیل ان دونوں میں سے بڑا تھا اور اس کی بہن (جو اس کے ساتھ پیدا ہوئی تھی) وہ ہابیل کی بہن سے زیادہ خوبصورت تھی۔ ہابیل نے قابیل کی بہن سے نکاح کرنا…
Read the full tafseer →[ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ : اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو ] [ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ : حضرت آدم کے دو بیٹوں کی خبر ] [ بِالْحَقِّ ۘ: حق کے ساتھ ] [ اِذْ : جب ] [ قَرَّبَا : ان دونوں نے پیش کی ] [ قُرْبَانًا : ایک قربانی ] [ فَتُقُبِّلَ : تو قبول کی گئی ] [ مِنْ اَحَدِهِمَا : ان دونوں کے ایک سے ] [ وَلَمْ يُتَقَبَّلْ : اور نہیں قبول کی گئی ] [ مِنَ الْاٰخَرِ ۭ: دوسرے سے ] [ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۭ : اس نے کہا میں لازما قتل کروں گا تجھ کو ] [ قَالَ : اس نے کہا ] [ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَتَقَبَّلُ : قبول کرتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ : تقوی کرنے والوں سے ]
ب…
Read the full tafseer →حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ، ایک کا دوسرے کو قتل کرنا، پھر اس کی لاش کو لئے ہوئے پھرنا
یہاں قرآن مجید آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ نقل فرمایا ہے مشہور یہی ہے کہ یہ دونوں حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے اور آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے تھے۔ کیونکہ حقیقی معنی صحیح ہوسکتے ہوں تو مجازی معنی لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اگرچہ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں بھائی (قاتل ومقتول) بنی اسرائیل میں سے تھے اور مجازاً دوردراز پوتوں (اِبْنَیْ اٰدَم) (آدم کے دو بیٹوں) سے تعبیر فرمایا ہے۔
قصہ کیوں پیش آیا اور اس کے اسباب و محرکات کیا تھے اس کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
قصہ ہابیل وقابیل۔
قال تعالی، واتل علیھم نبا ابنی۔۔۔۔ الی۔۔۔ من النادمین۔
ربط) گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے اس فخر اور دعوے (نحن ابناء اللہ) کا رد فرمایا اب آگے ہابیل وقابیل کا قصہ ذکر فرماتے ہیں کہ دونوں آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے مگر جس نے اطاعت کی وہ مقبول ہوا اور جس نے نافرمانی کی وہ مردود ہوا اور آدم کا بیٹا ہونا کچھ کام نہ آیا معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا یہ گھمنڈ کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔ نیز اس قصہ سے بنی اسرائیل کو نصیحت کرنا مقصود ہے کہ حسد کا انجام کیسا برا ہوتا ہے لہذا تم کو چاہیے کہ بنی امی فداہ نفسی وابی وامی۔ کے فضل و کمال پر حسد نہ کرو بلکہ اس پر نظر کرو کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
56 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ الخ یہ دشمن کے مقابلے میں خاموش بیٹھ رہنے اور اس کے حملے کی مدافعت نہ کرنے کے نتیجے کا دوسرا نمونہ ہے۔ یہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو صلبی بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان فرمایا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہابیل نے اس کی مدافعت نہ کی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شہید کردیا گیا اس سے مسلمانوں کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دشمن کے مقابلے میں خاموش مت بیٹھو دشمن کے مقابلے میں جہاد کرو۔ نہ خود مقتول بنو نہ دوسرے مسلمانوں کو قتل ہونے دو اگر تم نے دشمن سے جہاد نہ کیا اور خاموش بیٹھے رہے تو مارے جاؤ گے جس طرح ہابیل خاموشی کی وجہ سے قابیل کے ہاتھوں مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ربط آیات
پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بزدلی کا حال ذکر کیا تھا۔ کہ وہ دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوئے جس کی پاداش میں چالیس سال تک سرزمین مقدس سے محروم رہے۔ جس طرح دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھائی بہت بری بات ہے اسی طرح قتل ناحق پر دلیر ہو ابھی قبیح خصلت ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیات میں آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حال ذکر کیا ہے۔
اس سے پہلے آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے نقض عہد کا تذکرہ فرمایا تھا۔ یہودی شکنی کی وجہ سے ملعون ٹھہرے ‘ پھر سنگدل ہوئے اور اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب۔ اسی عہد شکنی کی وجہ سے گروہ نصاریٰ باہمی جنگ و…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ ابْنَيْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ 0ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ 0ۭ قَالَ لَاَقْتُلَـنَّكَ 0ۭ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ 27
تلاوة
تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31]
التلاوۃ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
1 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان…
Read the full tafseer →تمہید
اس سے پیشتر کے رکوع میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ اللہ نے ان پر بیشمار انعامات فرمائے ‘ تورات ان پر نازل کی گئی ‘ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر نبی ان کی طرف مبعوث ہوا۔ لیکن اس کے باوجود جب انھیں فلسطین کو فتح کرنے کا حکم دیا گیا تو صرف اس لیے انھوں نے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کردیا کہ فلسطین میں ایک طاقتور قوم آباد ہے۔ ہم اپنے اندر اس کے مقابلے کی ہمت نہیں پاتے۔ جس کے نتیجے میں انھیں یہ سزا دی گئی کہ بیس سال کی عمر سے اوپر کے تمام لوگ اسی صحرائے تیہ میں سرگرداں رہیں گے اور یہیں ان کو موت آئے گی۔ فلسطین کو فتح کرنے کی توفیق ان کی اولاد کو ہوگی ‘ لیکن یہ اس سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قابیل اور ہابیل کا واقعہ پڑھنے کا مقصد یہودیوں کو بتانا ہے کہ تمہارے اور قابیل کے کردار میں کوئی فرق نہیں جس طرح وہ اپنے بھائی پر ظلم کرنے کے بعد پچھتایا تھا۔ عنقریب تمہیں بھی اپنے کیے پر پچھتاوا ہوگا۔ کیونکہ تم بھی اپنے بعد والی امت پر ظلم کر رہے ہو۔
قربانی کا لفظ ” قربان “ بروزن ” سلطان “ سے نکلا ہے عربی محاورات میں قربان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے جیسا کہ امام ابوبکر جصاص مرحوم نے احکام القرآن میں نقل کیا۔ ” والقربان مایقصد بہ القرب من رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ من اعمال البرّ “”’ قربان ہر اس نیک کام کو کہا جاتا ہے جس کا مقصد اللہ کی قربت حاصل کرنا…
Read the full tafseer →مناہیلؔ و قابیلؔ کا واقعہ :
آیت 27 : پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حکم فرمایا کہ اپنے حاسدین کو وہ واقعہ سنائو جو حسد کی وجہ سے پیش آیا۔ تاکہ وہ حسد کو چھوڑ دیں۔ اور آپ پر ایمان لے آئیں۔
وَاتْلُ عَلَیْہِمْ (آپ ان اہل کتاب کو پڑھ کر سنائیں)
نَبَاَ ابْنَیْ ٰادَمَ (آدم کے دو صلبی بیٹے ہابیل و قابیل کا) یا وہ بنی اسرائیل کے دو آدمی تھے۔
بِالْحَقِّ (ایسی اطلاع جو حق سے ملی ہوئی ہے) اور پہلی کتب کے بالکل موافق ہے۔ یا ایسی تلاوت جو حق و صحت سے ملی ہوئی ہے۔ یا آپ ان کو پڑھ کر سنائیں کہ آپ حق بیان کرنے والے سچے ہیں۔ اِذْ قَرَّبَایہ نبأ کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی قصتہما وحدیثہما فی ذالک الوقت۔ یعنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
تفسیر : (واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق) ( اور آپ سنائیں ان کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حقیقی حال) اور وہ دونوں ہابیل اور قابیل تھے اور اس کو قابین بھی کہا جاتا ہے۔
ہابیل و قابیل کا واقعہ
(اذقربا قربانا) (جب نیاز کی ان دونوں نے کچھ نیاز) اور ان کی اس قربانی کا سبب اہل علم نے یہ ذکر کیا ہے کہ حوا (علیہا السلام) سے ہر بطن میں ایک لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتی اور ان کی تمام اولاد چالیس بچے تھے۔ بیس بطن سے ان میں سے پہلا قابیل اور اس کی جڑواں بہن اقلیما تھی اور آخری عبدالمغیث اور اس کی جڑواں بہن امۃ المغیث تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں برکت دی۔ ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(27 ۔ 31) ۔ اوپر ذکر تھا کہ نافع بن حرملہ وغیرہ یہود نے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی ذیل میں اللہ تعالیٰ نے یہ قابیل اور ہابیل کا قصہ فرما کر یہود کی تنبیہ فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تورات میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف جو تھے ان اوصاف سے یہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کو ایسا پہچانتے تھے جس طرح ہر شخص اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ لیکن فقط اس حد کے سبب سے یہ لوگ آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے کہ بنی اسماعیل میں یہ نبی کیوں پیدا ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب سے پہلے حسد کرنے والے شخص قابیل کا انجام ان لوگوں کو یاد دلا کر یہ سمجھایا کہ حسد کا آخری انجام برا ہے۔ قابل نے اپنے حقیقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدم کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ” دو بیٹوں “ سے مراد صلبی بیٹے ہیں، جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔
یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انہوں نے تقرب کے لئے قربانی کی جس نے انہیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ (اذ قربا قربانا) ” جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔ “ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ…
Read the full tafseer →ہابیل وقابیل کی قربانی
قول باری ہے (واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق اذ قربا قربانا اور ذرا ابن آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بےکم و کاست سنا دو ، جب ان دونوں نے قربانی کی) حضرت ابن حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہ دونوں حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے، ہابیل اور قابیل۔ ہابیل مومن تھا جبکہ قابیل کافر تھا۔ ایک قول ہے کہ وہ ایک برا انسان تھا۔
حسن کا قول ہے کہ یہ دونوں بنی اسرائیل میں سے تھے اس لئے قربانی قبول ہونے کی نشانی بنی اسرائیل سے پہلے نہ تھی۔ قربان یا قربانی اس کارخیر کو کہتے ہیں جس میں اللہ کی رحمت سے مقصود ہوتا ہے۔ قربان قرب سے فلعان کے وزن پر ہے جس طرح فرقان…
Read the full tafseer →71 آدم کے دو بیٹوں کی قربانیوں کی نوعیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو جبکہ ان میں سے ہر ایک نے ایک ایک قربانی پیش کی۔ یہ قربانیاں ان دونوں نے کس بنا پر پیش کی تھیں اس کا ذکر کسی آیت کریمہ یا صحیح حدیث میں نہیں ملتا۔ البتہ بعض آثار اور تفسیری روایات میں اس کا یہ قصہ مذکور ہے کہ اس کی ضرورت ان کے رشتے کے سلسلے میں باہمی تنازع کی بنا پر پیش آئی تھی۔ (قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ کچھ بھی ہو بہرکیف ان دونوں میں سے ہر ایک نے الگ الگ قربانی پیش کی تھی جن میں سے ایک کی قربانی اس کے صدق و اخلاص کی بنا پر قبول فرمائی گئی اور دوسرے کی شرف قبولیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
بےگناہ کا قتل اور فسادیوں کی سزا
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ اہل ِ کتاب اور پوری امت کو سیدنا آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کے بارے میں مکمل واقعہ سنا دیں۔ ہابیل اور قابیل سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے جیسا کہ آیات میں بیان کیا جاچکا ہے۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد آئندہ نسلوں کو عبرت دلانا اور نصیحت کرنا ہے اور کچھ شرعی احکامات بھی بیان کرنا مقصود ہے، یعنی اگر کسی نے بغیر وجہ کسی شخص کو قتل کردیا تو گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا اور جس نے ایک شخص کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
ایک اہم اصول یہاں اور بیان کیا گیا ہے کہ اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–34
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 27 تا 34 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا واقعہ سنائیے اور درست اور ٹھیک ٹھیک سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو یعنی حق کے ساتھ کہ آپ ﷺ کی بعثت ہی حق ہے اور آپ کا سنانا اللہ کے بتانے یعنی اعلام من اللہ سے ہے جو حق ہوتا ہے اور بیان کرنے والے کا حق سے ہٹنا بعض اوقات قوموں کو عروج وزوال سے متصادم کردیتا ہے کہ ان تاریخی باتوں کے اثرات ہمیشہ دور رس ہوتے ہیں اس لیے ان کے بیان میں حق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اسی طرح پڑھنے اور سننے والے کو بھی تحقیق کرلینا چاہئے یہ تب کی بات ہے جب انہوں نے قربانی پیش کی۔ مفسرین نے بڑی تحقیق و جستجو سے جو واقعات کا خلاصہ پیش…
Read the full tafseer →ف 3 اوپر کی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ مخالفین ہر طرح سے مسلمان پر مصائب وشدائد لانا چاہتے ہیں (وھمو ان یبسطوا الیکم الخ) مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کی حفاظت کررہا ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کچھ واقعات بیان فرمائے جن سے یہ ثابت کرنا مقصو ہے کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ نے دینی اور دنیاوی نعتوں سے نوا زا ہے لوگ اس سے ہمیشہ حسد وبغض سے پیش آتے رہے ہیں چناچہ یہود و نصاری کی مخالف بھجی ان کے تمرد اور حسد وبضض پر منبی ہے فلا تاس علی القوم الفا سقین لہذا ان پر افسوس اور غم نہ کیجئے اب یہاں ابنی ادم کا قصہ بیان کیا ج و اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے کیونکہ ایک بھائی کا…
Read the full tafseer →(5:27) واتل۔ ای واتل یا محمد ﷺ ۔ اتل تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ تو پڑھ کر سنا۔ تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔
علیہم۔ میں ھم ضمیر جمع مذکر غائب اہل یہود کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ انہیں رنج تھا کہ آنحضرت ﷺ جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ان کو نبی بنا کر کیوں بھیجا گیا۔
قربا قربانا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب تقویب مصدر۔ دونوں نے قربانی دی۔ تقریب پیش کرنا۔ نزدیک لانا۔ قرب حاصل ہونے کی امیر پر بھینٹ دینا۔ تقریب کا مادہ قرب ہے ۔ قربان اس چیز کو کہتے ہیں جو قرب خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہو۔ خواہ کوئی چیز ہو جاندار ہو یا بےجان یا اعمال صالحہ۔ اسلامی عرف میں اس ذبیحہ کو قربان کہا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
لغات القرآن : اتل (تلاوت کر۔ پڑھ۔ سنا) ۔ نبا (خبر۔ واقعہ) ۔ ابنی ادم (آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے) ۔ بالحق (حق کے ساتھ۔ سچائی کے ساتھ۔ قربا (دونوں نے قریب کیا۔ دونوں نے پیش کیا۔ قربان (نیاز۔ منت) ۔ تقبل (قبول کرلی گئی) ۔ اقتلن (میں ضرور قتل کردوں گا) ۔ یتقبل (قبول کرتا ہے) ۔ بسطت (تونے کھولا ۔ پھیلا دیا) ۔ الی (میری طرف) ۔ باسط (کھولنے والا۔ پھیلانے والا) ۔ اخاف (میں ڈرتا ہوں۔ میں خوف رکھتا ہوں) ۔ تبوء (تو حاصل کرے) ۔ القمی (میرا گناہ) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ جزآء (بدلہ) ۔ طوعت (تطویع) ۔ برے کام کو اچھا کرکے دکھانا۔ اس نے رغبت دلائی) اصبح (ہوگیا) ۔ بعث (بھیجا) ۔ غرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
دنیا میں سب سے پہلا خون یعنی ہابیل اور قابیل کا قصہ
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلان کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح اس ضرورت سے جائز تھا کی اس وقت سوائے بہن کے اور کوئی غیر لڑکی دنیا میں نہیں تھی۔ ایسے نکاح میں اس قدر احتیاط کرنا ضرور تھا کہ ایک حمل کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا۔ قابیل نے اپنے ساتھ کی پیداشدہ بہن سے نکاح کرنا چاہا حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا۔ جب قابیل نے اصرار کیا تو حضرت آدم علیہ اسلام نے فیصلہ کیا کہ قابیل اور ہابیل دونوں بھائی مل کر اللہ کی نیاز کریں، جس کی نیاز قبقل ہوگی اس کا نکاح اس لڑکی سے کردیا جائے گا۔ پہلے زمانہ میں نیاز قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Read the full tafseer →پہلا انتقام :
(ف 1) حسد وبغض پرانا جذبہ ہے ، قابیل نے جب دیکھا کہ اس کی قربانی خدا کے حضور میں مقبول نہیں ہوئی تو مارے غصے کے بےتاب ہوگیا ، کہنے لگا میں تمہیں ضرور قتل کر دوں گا ، ہابیل نے کہا ، اگر چاہتے ہو کہ تمہاری عبادتیں اور نیازیں اللہ کے ہاں قبول ہوں تو اخلاص وتقوی پیدا کرو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 5 اور اے پیغمبر ! آپ ان اہل کتاب کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنایئے اور ہابیل و قابیل کا واقعہ ان کو ٹھیک ٹھیک طرح پڑھ کر سنا دیجیے۔ یہ قصہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب کہ ان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی نیاز پیش کی ۔ سو ان دونوں میں سے ایک کی نیاز تو قبول ہوگئی یعنی ہابیل کی اور دوسرے کی مقبول نہیں ہوئی یعنی قابیل کی اس پر وہ دوسرا یعنی قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں ضرور تجھ کو قتل کر ڈالوں گا ۔ ہابیل نے جواب دیا میرا اس میں کیا قصور ہے اللہ تعالیٰ تو بس پرہیز گاروں ہی کا عمل قبول کیا کرتا ہے۔ (تیسیر)
نباء کے معنی خبر انباء کے معنی خبریں ہم نے ترجمہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ…
Read the full tafseer →دو آدم زادوں کا قصہ بطور تمثیل بیان کیا جاتا ہے :
95: اہل کتاب کا اور خصوصاً یہود کا ذکر ہو رہا تھا اور انہی کی تفہیم کے لئے یہ تمثیل کی گئی تھی اور اس تمثیل کے بعد پھر یہود کا ذکر چلتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ” ابن آدم “ سے سیدنا آدم (علیہ السلام) کی دو حقیقی بیٹیوں کا ذکر ہوں ضروری نہیں بلکہ اولاد آدم میں سے دو بھائیوں کا بیان ہے خواہ بنی اسرائیل ہی سے ہوں یا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کے عرفی بیٹے کیونکہ ” ابن آدم “ سے حقیقی بیٹے مراد لینا ضروری نہیں کیونکہ سارے انسان بنی آدم ہی ہیں اور حسن (رح) اور ضحاک (رح) نے بنی اسرائیل ہی کے دو آدمی مراد لئے ہیں۔ تاہم جس کہانی کے تحت ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
Commentary
The Story of Habil (Abel) and Qabil (Cain)
In these verses, Allah Ta` a1a has instructed the Holy Prophet ﷺ that he should relate the story of the two sons of Adam truthfully to the people of the Book, or to the whole Ummah.
People who are blessed with insight into the Holy Qur'an know that it is no book of folklore, fiction or history where the purpose is to relate an event from the beginning to the end. But, events of the past and accounts of earlier peoples carry many lessons and wise counsels within their fold. That is the real essence of history. Then, in them, there are such…
Read the full tafseer →48. God's refusal to accept the sacrifice of one of the two brothers was not due to any wrong the other brother might have committed but to his own lack of piety. Hence, rather than attempt to kill his brother he should be concerned with cultivating piety.
Read the full tafseer →