Explained with ayahs 20–26
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت
حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…
Read the full tafseer →سورة الْمَآىِٕدَة 46
اس قصے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دشت فاران سے بنی اسرائیل کے 12 سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کرکے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زو آور ہیں۔۔۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں، اور ہم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قوم کی انتہائی بےوفائی اور حضرت موسیٰ ؑ کا انتہائی عزم و استقلال
قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ
قوم بنی اسرائیل کے سابقہ حالات و واقعات اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ ؑ کے معاملات کا جائزہ لینے والا اگر سرسری طور پر بھی اس کو سامنے رکھے کہ جو قوم بنی اسرائیل صدیوں سے فرعون کی غلامی میں طرح طرح کی ذلتیں اور عذاب برداشت کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تعلیم اور ان کی برکت سے ان کو خدائے عزوجل نے کہاں سے کہاں پہنچایا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے کیسے کیسے مظاہر آئے۔ فرعون اور قوم فرعون کو حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے ہاتھوں اپنے…
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۭ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔
بنی اسرائیل کو صحراگردی کی سزا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی علیحدگی کی درخواست تو منظور نہیں فرمائی، اس لیے کہ پیغمبر قوم کے لیے بمنزلہ روح ہوتا ہے۔ قوم سے اس کی علیحدگی، اور وہ بھی اعلان براءت کے ساتھ، پوری قوم کے لیے پیغام ہلاکت ہوتی ہے لیکن بنی اسرائیل کی اس ناقدری اور بےیقینی کی سزا ان کو یہ دی کہ چالیس سال کے لیے سرزمین مقدس کو ان کے لیے حرام کردیا اور یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ مدت یہ اسی صحرا گردی میں گزاریں گے۔ تورات میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔ " اور…
Read the full tafseer →26۔ 1 یہ میدان تیہ کہلاتا ہے جس میں چالیس سال یہ قوم اپنی نافرمانی اور جہاد سے اعراض کی وجہ سے سرگرداں رہی۔ اس میدان میں اس کے باوجود ان پر من وسلویٰ کا نزول ہوا جس سے اکتا کر انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ روز روز ایک ہی کھانا کھا کر ہمارا جی بھر گیا ہے۔ اپنے رب سے دعا کر کہ وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور دالیں ہمارے لئے پیدا فرمائے۔ یہیں ان پر بادلوں کا سایہ ہوا، پتھر پر حضرت موسیٰ ؑ کی لاٹھی مارنے سے بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری ہوئے اور اس طرح کے دیگر انعامات ہوتے رہے۔ چالیس سال بعد پھر ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ یہ بیت المقدس کے اندر داخل ہوئے۔
26۔ 2 پیغمبر جب دیکھتا ہے دعوت و تبلیغ کے…
Read the full tafseer →21: بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک فلسطین میں ان کا داخلہ بند کردیا گیا، یہ لوگ صحرائے سینا کے ایک مختصر علاقے میں بھٹکتے رہے، نہ آگے بڑھنے کا راستہ ملتا تھا نہ پیچھے مصر واپس جانے کا، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت کالب (علیہم السلام) بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے اور انہی کی برکت اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی بہت سی نعمتیں ان پر نازل ہوئیں، جن کا ذکر پیچھے سورة بقرہ (آیات 57 تا 60) میں گزرچکا ہے، بادل کے سائے نے انہیں دھوپ سے بچایا، کھانے کے لئے من وسلوی نازل ہوا، پینے کے لئے پتھر سے بارہ چشمے پھوٹے، بنی اسرائیل کے لئے خانہ بدوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب…
Read the full tafseer →1 یعنی جدائی کی دعا حسی اور ظاہری طور پر تو قبول نہ ہوئی۔ ہاں معناً جدائی ہوگئی کہ وہ سب تو عذاب الہٰی میں گرفتار ہو کر حیران و سرگرداں پھرتے تھے اور حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) پیغمبرانہ اطمینان اور پورے قلبی سکون کے ساتھ اپنے منصب ارشاد و اصلاح پر قائم رہے جیسے کسی بستی میں عام وبا پھیل پڑے اور ہزاروں بیماروں کے مجمع میں دو چار تندرست اور قوی القلب ہوں جو ان کے معالجہ، چارہ سازی اور تفقد احوال میں مشغول رہیں۔ اگر " فافرق بیننا " کا ترجمہ جدائی کر دے کی جگہ " فیصلہ کر دے " ہوتا تو یہ مطلب زیادہ واضح ہوجاتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ سب قصہ اہل کتاب کو سنایا اس پر کہ تم پیغمبر…
Read the full tafseer →آیت 26 قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج ‘۔
یہ ہماری طرف سے ان کی بزدلی کی سزا ہے۔ اگر یہ بزدلی نہ دکھاتے تو ارض فلسطین ابھی ان کو عطا کردی جاتی ‘ مگر اب یہ چالیس سال تک ان پر حرام رہے گی۔
یَتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط ۔
اس صحرائے سینا میں یہ چالیس سال تک مارے مارے پھرتے رہیں گے۔
فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ ۔
اب آپ ان نافرمانوں کا غم نہ کھایئے۔ اب جو کچھ ان پر بیتے گی اس پر آپ علیہ السلام کو ترس نہیں کھانا چاہیے۔ آپ بہرحال ان کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ‘ جب تک زندگی ہے آپ کو ان کے ساتھ رہنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل چالیس…
Read the full tafseer →57 وعدہ میں چالیس سال کی تاخیر سے بطور علاج :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی بزدل اور نافرمان قوم کی سزا یہ ہے کہ ان سے جو فلسطین کی فتح و نصرت کا وعدہ تھا وہ چالیس سال تک کے لیے موخر کردیا جاتا ہے۔ یہ چالیس سال کی تاخیر دراصل اس بزدل اور پس ہمت قوم کی امراض کا علاج تھا کہ وہ اتنی مدت اسی جنگل میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکے کھاتی پھرے جنگل میں زندگی گزارنے کی صعوبتیں برداشت کریں۔ اس چالیس سال کے عرصہ میں اس قوم کی جوان اور بزدل نسل مر کھپ جائے اور جو نئی نسل پیدا ہو آزاد فضاؤں میں پرورش پائے۔ نرمی گرمی برداشت کرنے کی عادی اور ہمت والی بن جائے۔ پھر وہ لوگ اس قابل ہوں گے کہ اگر انہیں…
Read the full tafseer →102 ۔ (اور اسی جزیرہ نمائے سینا میں ٹھوکریں کھاتے رہیں گے) (آیت) ” محرمۃ علیھم “۔ یعنی ان کے لیے تکوینی طور پر اب یہ ممکن ہی نہ ہوگا کہ 40 سال سے قبل اس ارض مقدس میں داخل ہوسکیں اور جو نعمت انہیں تھوڑی سی جدوجہد کے بعد فی الفور ملی جارہی تھی، اب اس کیے لیے انہیں 40 سال کا انتظار کرنا ہوگا، اور ان کی موجودہ نسل کا بڑا حصہ اسی انتظار میں ختم ہوجائے گا۔ (آیت) ” کتب اللہ لکم “۔ میں ان سے جو وعدہ تھا وہ بالکل مطلق اور غیر مشروط صورت میں نہ تھا وہ مشروط تھا ان کی جدوجہد کے ساتھ۔ والمراد بقولہ کتب اللہ لکم ای بشرط ان تجاھدوا اھلھا فلما ابوالجھاد قیل فانھا محرمۃ علیہم (مدارک) ینبغی ان یکون اللہ قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20 تا 26
ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…
Read the full tafseer →قال فانہا محرمۃ علیہم اللہ نے فرمایا وہ سرزمین ان کے لئے حرام کردی گئی یعنی ان کو وہاں داخل ہونے سے روک دیا گیا وہاں ان کا داخلہ نہ ہوگا یہ وہاں نہ رہ سکیں گے۔ تحریم سے مراد تحریم تعبدی (یعنی حکم ممانعت) نہیں ہے (داخلہ کا وجوبی حکم تو دیا گیا ہی تھا ‘ جو بدستور برقرار تھا) بلکہ تحریم سے مراد ہے محروم کردینا۔
اربعین سنۃ چالیس برس تک۔ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً کا بظاہر تعلق مُحَرَّمَۃٌسے ہے اس صورت میں تحریم داخلہ محدود ہوگی دوامی نہ ہوگی اور کَتَبَ اللّٰہَ لَکُمْکا معنی اگر لوح محفوظ میں لکھنا اور مقدر کردینا ہی ہو تب بھی دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہ ہوگا (کیونکہ تحریم دوامی نہ تھی وقتی تھی) اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(25۔ 26) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں تو محض اپنے اوپر اور اپنے بھائی پر اختیار رکھتا ہوں، ان کی سرکشی کی حد ہوگئی اب ہمارے اور ان نافرمان قوم کی درمیان فیصلہ فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ اب ان پر اس جگہ داخل ہونا حرام ہوگیا یہ وادی تیہ ہی میں بطور سزا جس کی مسافت سات فرسخ کے برابر ہے، چکر کھاتے رہیں گے نہ یہ وہاں سے نکل سکیں گے اور نہ ان کو کوئی راستہ ہی ملے گا، اب آپ فکر مت کیجیے۔
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ۔۔ : ”ۚ يَتِيْھُوْنَ“ ”تَاہَ یَتِیْہُ تَیْھًا“ بھٹکتے پھرنا۔ ”اَرْضٌ تِیْہٌ“ وہ زمین جس میں کوئی راستہ نہ ملے۔ (قاموس) اس کے بعد یہ لوگ چالیس سال تک بیابان میں بھٹکتے رہے اور اس کا نام ”صحرائے تیہ“ پڑگیا۔ یہیں پہلے ہارون ؑ کا انتقال ہوا، پھر موسیٰ ؑ بھی وفات پا گئے۔ بعد میں کسی وقت بنی اسرائیل ارض مقدس میں داخل ہوئے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کو قصہ سنایا، اس پر اگر تم پیغمبر ﷺ کی رفاقت نہ کرو گے تو یہ نعمت اوروں کو نصیب ہوگی۔ آگے اس پر قصہ سنایا ہابیل قابیل کا کہ حسد مت کرو، حسد والا مردود ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر : 20 تا 26۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فانھا محرمۃ علیھم یعنی یہ شہروں پر پیشہ کے لئے حرام کردیا گیا اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت یتیھون فی الارض سے مراد کہ وہ چالیس سال تک اس صحراء میں بھٹکتے رہے۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ آدمیوں کو بطور جاسوس بھیجا ہر قبیلہ میں سے ایک آدمی تھا تاکہ قوم کے بارے میں خبر لے آئیں (ان میں سے) دس نے اپنی قوم کو بزدل بنایا اور اس میں داخل ہوتا ناپسند کیا۔ لیکن یوشع بن نون اور ان کے ساتھی نے داخل ہونے کا حکم دیا اور اللہ کے حکم پر قائم رہے اور انہوں نے اپنی قوم کو اس بارے…
Read the full tafseer →[ قَالَ : کہا (اللہ نے )] [ فَاِنَّهَا : تو یہ ] [ مُحَرَّمَةٌ: حرام کی گئی ہے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً ۚ: چالیس سال تک ] [ يَتِيْھُوْنَ : یہ لوگ سرگرداں پھریں گے ] [ فِي الْاَرْضِ ۭ: زمین میں ] [ فَلَا تَاْسَ : تو آپ افسوس نہ کریں ] [ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانی کرنے والی قوم پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا
ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔
قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…
Read the full tafseer →55 قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ الخ یہ حضرت موسیٰ کی مناجات کا جواب ہے فرمایا ان کے تمردو سرکشی کی وجہ سے ہم نے ان کو یہ سزا دی ہے کہ وہ اب چالیس سال تک ارض مقدسہ میں داخل نہیں ہوسکیں گے اور زمین میں ذلت و رسوائی کے ساتھ در در کے دھکے کھاتے پھریں گے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ یَتِیْھُوْنَ کے معنی ہیں وہ بےعزت اور خوار رہیں کے یہ معنی نہیں کہ وہ چالیس سال جنگل میں گھومتے رہیں گے اور انہیں راستہ نہیں ملیگا جیسا کہ عام تفسیروں میں لکھا ہے کیونکہ اس جنگل کا طول چالیس میل اور عرض پندرہ میل سے کچھ زائد بیان کیا گیا ہے۔ پھر اسی میدان تیہ میں جب بنی اسرائیل نے غلے اور ترکاری کا مطالبہ کیا تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ربطہ آیات :
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلانے کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے عظیم السطنت بادشاہ مقرر فرمائے اور تمہیں دنیا بھر میں فضیلت عطا کی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ۔۔ مقدس میں تیری اولاد کو آباد کروں گا لہٰذا اس پر قبضہ کرنے کے لیے جہاد کرو ‘ مگر قوم نے کہا کہ وہاں بڑے جبار لوگ رہتے ہیں۔ جب تک وہ وہاں سے چلے نہ جائیں۔ ہم وہاں داخل نہیں ہوں گے۔ البتہ ان میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان راسخ کیا تھا۔ اور…
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَيْہِمْ اَرْبَعِيْنَ سَـنَۃً 0ۚ يَتِيْھُوْنَ فِي الْاَرْضِ 0ۭ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ 26ۧ
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم من جهة القهر لا بالتسخیر الإلهي، وقوله تعالی: إِنَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟
ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…
Read the full tafseer →قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدہ : 26)
(فرمایا کہ یہ سرزمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام ٹھہری۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تو ان نافرمان لوگوں کا غم نہ کھا)
انکار جہاد پر بنی اسرائیل کو سزا
تورات نے بھی اس کا ذکر کیا ہے :
(اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا میں کب تک اس خبیث گروہ کو جو میری شکایت کرتا رہتا ہے ‘ برداشت کروں۔ بنی اسرائیل جو میرے برخلاف شکایتیں کرتے رہتے ہیں ‘ میں نے سب شکایتیں سنیں ‘ سو تم ان سے کہہ دو خداوند کہتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسے تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء :
جب نا ہنجار اور نافرمان قوم نے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کا انکار کیا بلکہ پرلے درجے کی گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو اور تیرا رب جاکرقتال کریں۔ غور فرمائیں، جس قوم کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیشمار مصائب وآلام برداشت کیے اور جس کے لیے اتنی جدوجہد کی کہ اس کا جواب کتنا گستاخانہ اور بزدلانہ ہے۔ یہ سن کر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر کیا گزری ہوگی ؟ لیکن اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کچھ کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فریاد کی کہ الٰہی !…
Read the full tafseer →آیت 26 : قَالَ فَاِنَّہَامُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ (فرمایا وہ ان پر حرام کردی گئی) ہا کی ضمیر سے الارض المقدسہ مراد ہے۔ محرمۃ کا مطلب روک دینا ہے۔ کہ وہ اس میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ یہ حرمت تعبدی نہیں جیسا دوسری آیت میں ہے : وَحَرَّمْنَا عَلَــیْہِ الْمَرَاضِعَ [ القصص : 12]
ایک اعتراض :
پچھلی آیات میں کتب اللّٰہ لکم فرمایا۔ اور یہاں محرمۃ فرما دیا۔
جواب : کتب اللّٰہ کا معنی وہ سرزمین تمہارے لیے لکھ دی۔ اس شرط سے کہ تم وہاں کے رہنے والوں سے جہاد کرو۔ جب انہوں نے جہاد سے انکار کردیا تو فرمایا فانہا محرمۃ علیہم کہ وہ ان پر حرام کردی گئی یہ حرمت چالیس سال کے لیے تھی۔ جب چالیس سال گزر گئے تو جو لکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت نمبر 26, 25, 24, 23
تفسیر :(قال رجلن من الذین یخافون) (کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے) یعنی اللہ سے ڈرنے والوں نے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ” یخافون “ کو یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا کہ یہ دو آدمی ان جبارین میں سے تھے جو السلام لے آئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے۔ (انعم اللہ علیھما) (کہ خدا کی نوازش تھی ان دونوں پر) توفیق اور گناہوں سے بچانے کے ساتھ۔ (ادخلوا علیھم الباب) (گھس جائو ان پر حملہ کرکے دروازہ میں) یعنی جبارین کی بستی میں داخل ہوجائو۔ (فاذا دخلتموہ فانکم غالبون) (پھر جب تم اس میں داخل ہوجائوگے تو تم ہی غالب ہوگے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…
Read the full tafseer →تحریم بمعنی بندش وغیرہ
قول باری ہے (فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ یتیھون فی الارض۔ اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے) اکثر اہل علم کا قول ہے کہ یہ تحریم انہیں روک دینے کی صورت میں تھی اس لئے کہ جس جگہ یہ شام کرتے تھے وہیں ان کی صبح ہوتی تھی۔
اس مقام کی مساحت چھ فرسخ یا اٹھارہ میل تھی۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ یہ تحریم تعبد کے طور پر تھی یعنی اسے بجا لانا ان پر لازم تھا۔ اس لئے کہ تحریم کے اصل معنی بندش اور منع کے ہیں۔
قول باری ہے (وحرمنا علیہ المراضع من قبل۔ اور ہم نے موسیٰ پر دائیوں کی بندش پہلے ہی کر رکھی تھی) یہاں تحریم سے مراد بندش…
Read the full tafseer →70 بدکاروں کے انجام بد پر افسوس نہ کرنے کی ہدایت :ـسو حضرت موسیٰ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ افسوس نہیں کرنا ان بدکار لوگوں کے انجام پر کہ یہ اسی انجام کے لائق تھے۔ اور یہ ان کے اپنے ہی عمل و کردار کا نتیجہ تھا۔ یہاں سے اس شفقت اور ہمدردی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے جو حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصّلوۃُ والسلام ۔ کو اپنی امتوں سے ہوتی ہے کہ اللہ پاک ان کو اس طرح غم اور افسوس نہ کرنے کی تلقین و ہدایت فرماتا ہے۔ تاکہ امت کی بےراہ روی پر ان کو فرط شفقت کی وجہ سے خواہ مخواہ غم اور تکلیف نہ اٹھانا پڑے ۔ صلوات اللہ وسلامُہ علیھم اجمعین ۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ فسق و فجور کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26:
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کا بگاڑ :
دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ لوگ چالیس سال تک بیابان (دشت فاران بیابان شور اور دشت صین) میں پڑے بھٹکتے رہے، جب چالیس سال گزر گئے (یعنی تقریباتو (اولا) حضرت ہارون ( علیہ السلام) اور ان کے کچھ عرصہ بعد حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کوہ عباریم پر وفات پاگئے (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی عمر اس وقت ایک سو بیس سال تھی) اور ہر اس شخص کا نتقال ہوگیا جس کی عمر چالیس سال زیادہ تھی جب چالیس ساگزرگئے تو حضرت یوشع ( علیہ السلام) جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد ان کے خلیفہ مقرر ہوئے۔ باقیماندہ لوگوں کو لے کر ورانہ ہوئے اور انہوں نے مشرق کی جانب سے دریائے اور دن پار کر کے اریحا فتح کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(5:23) یخافون۔ ای یخافون اللہ۔ اللہ سے ڈرنے والے۔
انعم اللہ علیہما۔ یہ ان دو آدمیوں کی صفت ہے یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور وفاء عہد کی نعمت سے نوازا تھا۔
ادخلوا علیہم الباب۔ ای ادخلوا الباب علیہم ان پر (چڑھائی کرتے ہوئے) دروازے سے داخل ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر 20 تا 26
لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Read the full tafseer →(ف 2) آزادی و حکومت کے مواقع سے ایک لمحہ غفلت بعض دفعہ برسوں تک کی مسلسل غلامی پر منتج ہوتی ہے بنی اسرائیل نے جب جہاد سے انکار کیا تو انہیں آبادیوں میں سے دور جنگل میں چالیس سال کے لئے حیران وسرگردان چھوڑ دیا گیا تاکہ انکار وتمرد کی تلخیاں برداشت کریں اور یہ محسوس کریں کہ حکومت واختیار خدا کی زبردست نعمت ہے اور نیز یہ کہ اس طویل عرصے میں بیکار اور مردہ صفت لوگ مٹ مٹا جائیں گے اور آئیندہ نئی نسل مجاہد اور جفاکش پیدا ہو گویا چالیس برس کسی قوم کی ٹرینگ اور تربیت کے لئے ہیں جو بالکل مردہ ہوچکی ہو اس کے بعد ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ پامردی سے جہاد میں حصہ لیں گے ،
حل لغات :
یتیھون : مادہ تیہ ،…
Read the full tafseer →ف 4 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا بس اب یہ مقدس سر زمین ان پر چالیس سال کے لئے روک دی گئی اور یہ ملک چالیس سال تک ان کے ہاتھ نہ لگ سکے گا یہ زمین کے ایک خاص حصے میں یونہی سرمارتے پھریں گے یعنی چالیس سال تک نہ گھر واپس جاسکیں گے اور نہ ملک شام میں داخل ہونا نصیب ہوگا۔ لہٰذا اے موسیٰ ! تم اس نافرمان قوم کی حالت پر بالکل افسوس نہ کرو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کی جانب میں دعا کی تو ارشاد ہوا اچھا ہم فیصلہ کئے دیتے ہیں اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ چالیس سال تک نہ تو ان کو گھر جانا نصیب ہوگا اور نہ ملک شام ان کے ہاتھ آئے گا بلکہ یہ ایک حصہ زمین میں حیران و سرگرداں مارے مارے پھریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
ف 1۔ چناچہ چالیس برس تک ایک محدود حصہ زمین میں حیران و پریشان پھر اکیے حتی کہ سب وہاں ہی ختم ہوچکے اس مدت میں جو ان کے اولاد پیدا ہوئی ان کو رہائی حاصل ہوئی حضرت موسیٰ اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور ان سے ذرا مدت پہلے حضرت ہارون بھی اسی وادی میں جسے وادی تیہ کہتے ہیں انتقال فرماگئے اور حضرت یوشع پیغمبر ہوئے۔ اور پھر ان کی معرفت اس نئی نسل بنی اسرائیل کو اس ملک کی فتح کا حکم ہوا چناچہ سب نے ان کے ہمراہ ہوکرجہاد کیا اور فتح نصیب ہوئی۔
2۔ اوپر من جملہ شنائع اہل کتاب کے ان کا یہ قول نقل فرمایا تھا کہ نحن ابناء اللہ جس کا منشاء انبیاء کی اولاد میں ہونے پر فخر تھا اللہ اس گھمنڈ…
Read the full tafseer →فیصلہ الٰہی صادر ہوگیا کہ اس مردہ قوم سے زندہ قوم پیدا کرنے کے لئے وقت درکار ہے :
94: موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ہاں جو علیحدگی کی درخواست دی تھی دراصل وہ قوم سے بیزاری کا نتیجہ تھی لیکن دربار الٰہی میں وہ منظور نہ ہوئی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ پیغمبر قوم کے لئے بمنزلہ روح ہوتا ہے قوم سے اس کی علیحدگی اور وہ بھی اعلان برات کے ساتھ پوری قوم کے لئے پیغام ہلاکت ہوتی ہے اور اس قوم کو اس کی نافرمانی کے باوجود ابیئ ہلاک کرنا خلاف قانون تھی کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی ہلاکت کا وقت ابھی نہیں آیا تھا جو قانون الٰہی میں طے ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ اس مردہ قوم سے اس حی قیوم خدا کو ایک زندہ قوم پیدا کرنی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
The Determination of Sayyidna Musa (علیہ السلام) against the Treachery of his People
The prayer of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ; قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي "0 My Lord, I have no control except over myself" should be seen in the perspective of the events in the life of the people of Bani Isra'il, the favours of Allah bestowed upon them and the conduct of their prophet, Sayyidna Musa (علیہ السلام) in their case. An impartial observer would not fail to notice that the people of Bani Isra'il had been suffering from all sorts of pain and disgrace as slaves and serfs of the…
Read the full tafseer →46. The details of this incident are found in the Bible in Numbers, Deuteronomy and Joshua. The essence of the story is that Moses sent twelve heads of Israel to spy out Palestine. They returned after forty days and said: 'We came to the land to which you sent us; it flows with milk and honey. Yet the people who dwell in the land are strong, and the cities are fortified and very large; and besides, we saw the descendants of Anak there . . . and all the people that we saw in it are men of great stature. And there we saw the Nephilim (the sons of Anak, who come from the Nephilim); and we seemed…
Read the full tafseer →