Al-Maaida 5:25

Al-Maaida · from ayah 25

5:25

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَاَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۟قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ لَاۤ اَمۡلِكُ اِلَّا نَفۡسِىۡ وَاَخِىۡ‌ فَافۡرُقۡ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَ الۡـقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ‏

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "My Lord, indeed I do not possess except myself and my brother, so part us from the defiantly disobedient people."

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Maaida

All translations of 5:25

اس پر موسیٰؑ نے کہا "اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ کہنے لگے الٰہی! مجھے تو بجز اپنے اور میرے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں، پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں جدائی کردے

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : اے میرے پروردگار سوائے میری اپنی جان کے اور میرے بھائی کے کوئی میرے قابو میں نہیں ہے۔ اب آپ ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان الگ الگ فیصلہ کردیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے عرض کی کہ اے رب! میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے میرے رب! میں اپنی ذات اور اپنے بھائی (ہارون علیہ السلام) کے سوا (کسی پر) اختیار نہیں رکھتا پس تو ہمارے اور (اس) نافرمان قوم کے درمیان (اپنے حکم سے) جدائی فرما دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : اے میرے پروردگار ! میرا اختیار تو صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائی پر ہے لہذا ہمارے اور نافرمان لوگوں کے درمیان جدائی ڈال دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار، میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کچھ زور نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان علیحدگی کردے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر موسیٰ نے (اپنے رب کے حضور) عرض کیا کہ اے میرے رب میں کوئی اختیار نہیں رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو جدائی ڈال دے ہمارے اور ان بدکار لوگوں کے درمیان،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) عرض کی اے میرے پروردگار میں تو سوا اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار رکھتا نہیں سو تو ہی ہمارے اور (اس) بےحکم قوم کے درمیان فیصلہ کردے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسٰی ؑ نے عرض کیا پروردگار مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی (ہارون ؑ کی جان) کے تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس پر موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! میرے اختیار میں کوئی نہیں سوائے میری اپنی ذات کے یا اپنے بھائی کے، پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے علیحدہ کر دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon Moses said: 'My Lord! I have control over none but my own self and my brother; so distinguish between us and the transgressing people.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O my Lord, I have no control except over myself and my brother. So, make a distinction between us and the sinning people.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O my Lord, I have no control except over myself and my brother. So, make a distinction between us and the sinning people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He [Musa] said: "O my Lord! I have power only over myself and my brother, so Ifruq us from the rebellious people!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: My Lord! I have control of none but myself and my brother, so distinguish between us and the wrong-doing folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "My Lord, indeed I do not possess except myself and my brother, so part us from the defiantly disobedient people."

— Saheeh International

(Moses) said, "Lord, I can only speak for myself and my brother; keep us away from the evil-doers".

— Muhammad Sarwar

He said: My Lord! Surely I have no control (upon any) but my own self and my brother; therefore make a separation between us and the nation of transgressors.

— Muhammad Habib Shakir

Said he: my Lord control not but myself and my brother, so decide Thou between us and this transgressing people.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O my Lord! I have power only over myself and my brother: so separate us from this rebellious people!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 5:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–26

تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة الْمَآىِٕدَة 45 قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ جباروں سے ڈر رہے تھے ان کے درمیان سے دو شخص بول اٹھے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے دو شخصوں نے یہ بات کہی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–26

قوم کی انتہائی بےوفائی اور حضرت موسیٰ ؑ کا انتہائی عزم و استقلال قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ قوم بنی اسرائیل کے سابقہ حالات و واقعات اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ ؑ کے معاملات کا جائزہ لینے والا اگر سرسری طور پر بھی اس کو سامنے رکھے کہ جو قوم بنی اسرائیل صدیوں سے فرعون کی غلامی میں طرح طرح کی ذلتیں اور عذاب برداشت کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تعلیم اور ان کی برکت سے ان کو خدائے عزوجل نے کہاں سے کہاں پہنچایا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے کیسے کیسے مظاہر آئے۔ فرعون اور قوم فرعون کو حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے ہاتھوں اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔ حضرت موسیٰ کی درخواست بارگاہ الٰہی میں : بنی اسرائیل کے مذکورہ بالا جواب کے بعد ان سے کسی خیر آخری امید بھی ختم ہوگئی اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے نہایت غم اور صدمے کے ساتھ اپنے پروردگار سے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کوئی زور نہیں، اس وجہ سے اب تو ہمارے اور اس بدعہد قوم کے درمیان علیحدگی کردے۔ " علیحدگی کردینے " کا منشا ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ اب ان کی قیادت و اصلاح کے بار عطیم سے ان کو سبکدوش کردیا جائے۔ اتنی طویل جدوجہد، اور اتنے بیشمار خوارق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 اس میں نافرمان قوم کے مقابلے میں اپنی بےبسی کا اظہار بھی ہے اور برات کا اعلان بھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–25

20: یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب (علیہما السلام) تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ ؑ کے وفادار رہے تھے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہوگے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 24–26

(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24) (لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سخت دلگیر ہو کر یہ دعا فرمائی۔ چونکہ تمام قوم کی عدول حکمی اور بزدلانہ عصیان کو مشاہدہ فرما رہے تھے۔ اس لئے دعا میں بھی اپنے اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے سوا کہ وہ بھی نبی معصوم تھے اور کسی کا ذکر نہیں کیا۔ یوشع اور کالب بھی دونوں کے ساتھ تبعاً آگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ الاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ باقی یہ پوری قوم انکار کر رہی ہے۔ میرا کسی پر کچھ زور نہیں ہے۔ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۔ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کے رویے ّ سے اس درجہ آزردہ خاطر ہوئے کہ قوم سے علیحدگی کی تمنا کرنے لگے کہ میں اب ان ناہنجاروں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ انہوں نے تیری عطا کردہ کیا کچھ نعمتیں برتی ہیں اور میرے ہاتھوں سے کیا کیا معجزے یہ لوگ دیکھ چکے ہیں ‘ اس کے باوجود ان کا یہ حال ہے تو مجھے ان سے علیحدہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی لیکن اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے یہ جواب سن کر سخت مایوس اور غمگین ہوگئے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ ایسی قوم سے تو میں اکیلا ہی بھلا۔ جیسے تو حکم دے میں خود حاضر ہوں یا پھر میرا بھائی ہارون۔ جو خود نبی تھے اور مصر میں فرعون اور فرعونیوں کے سامنے ہر دکھ سکھ میں شریک رہے تھے، جو میرے کہنے میں ہے۔ اگر ایسی نافرمان قوم میری بات نہیں مانتی تو اب میں کیا کرسکتا ہوں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

101 ۔ یعنی فیصلہ ان دو فریقوں کے درمیان، جن میں ایک طرف ہم دو بھائی ہیں، بےبس وبے اختیار، اور دوسری طرف یہ جم غفیر ہے، ہر طرح گستاخ ونافرمان۔ (آیت) ” اخی “۔ بھائی سے مراد حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے، جو خود بھی پیغمبر برحق تھے، یہ دعا ظاہر ہے کہ ان پیغمبران برحق نے اپنی ناکارہ قوم کی سرکشی اور بغاوت اور اپنی بےبسی پوری طرح محسوس کرنیکے بعد ہی کی، توریت کے صفحات اسرائیلیوں کی گستاخانہ روش کے تذکرہ سے لبریز ہیں۔ آیت میں بڑی تسکین کا سامان اکابر امت کیلیے ہے، قوم جب سرکشی اور نافرمانی کے لیے تل جائے، تو پیغمبران برحق تک کی کوششیں ناکام رہتی ہیں۔ پھر کسی ولی یا بزرگ کی سعی اصلاح اگر نام رہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 تا 26 ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب انی لا املک الا نفسی واخی کہا میرے رب مجھے صرف اپنے اوپر اختیار ہے اور میرا بھائی بھی صرف اپنے اوپر اختیار رکھتا ہے (قوم والوں پر ہمارا بس نہیں) ۔ یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ مجھے اپنے نفس پر اور اپنے بھائی پر قابو ہے۔ یہ حصر حقیقی نہیں (کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو کسی اور پر قابو نہ ہو بلکہ) اضافی ہے یعنی نافرمانوں پر میرا قابو نہیں ‘ اس صورت میں یوشع اور کالب کا اطاعت سے خارج ہونا لازم نہیں آتا۔ حقیقت میں یہ کلام بطور شکایت ہے (یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ سے بنی اسرائیل کی شکایت کی تھی کہ یہ لوگ نافرمان ہیں ان نافرمانوں پر میرا قابو نہیں) فافرق بیننا وبین القوم الفسین پس میرے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 25–26

(25۔ 26) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں تو محض اپنے اوپر اور اپنے بھائی پر اختیار رکھتا ہوں، ان کی سرکشی کی حد ہوگئی اب ہمارے اور ان نافرمان قوم کی درمیان فیصلہ فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ اب ان پر اس جگہ داخل ہونا حرام ہوگیا یہ وادی تیہ ہی میں بطور سزا جس کی مسافت سات فرسخ کے برابر ہے، چکر کھاتے رہیں گے نہ یہ وہاں سے نکل سکیں گے اور نہ ان کو کوئی راستہ ہی ملے گا، اب آپ فکر مت کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ۔۔ : اس پر موسیٰ ؑ ایسے بددل ہوئے کہ انھوں نے دعا کی کہ پروردگار ! میرے اختیار میں میری جان اور اپنے بھائی کے سوا کچھ نہیں، تو ہمیں ان لوگوں سے علیحدہ کر دے، ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب آئے اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں۔ (کبیر، ابن کثیر) معلوم ہوا کہ جب کوئی قوم سرکشی اور نافرمانی پر تل جائے تو بڑے بڑے جلیل القدر انبیاء اور مصلحین کی بھی وہاں کچھ پیش نہیں جاتی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر : 20 تا 26۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کی ہے کہ موسیٰ غصہ ہوئے جب قوم نے ان سے کہا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون تو ان پر بددعا کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت فقال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین اور یہ جلد بازی تھی جو موسیٰ نے (اس بددعا کرنے میں) جلد بازی فرمائی اور جب ان کو میدان میں سزا ملی (کہ چالیس سال تک اس میں گھومتے رہے) تو موسیٰ (اس پر) نادم ہوگئے جب نادم ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی فرمائی۔ اور فرمایا لفظ آیت فلا تاس علی القوم الفسقین کہ اس قوم پر غم نہ کریں جن کو اللہ تعالیٰ نے فاسقین کا نام دیا ہے۔ (2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے علی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : کہا (موسی نے )] [ رَبِّ : اے میرے رب ] [ اِنِّىْ : کہ میں ] [ لَآ اَمْلِكُ : اختیار نہیں رکھتا ] [ اِلَّا : سوائے ] [ نَفْسِيْ : اپنی جان ] [ وَاَخِيْ : اور اپنے بھائی کے ] [ فَافْرُقْ : پس تو جدائی ڈال دے ] [ بَيْنَنَا : ہمارے درمیان ] [ وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ : اور نافرمانی کرنے والی قوم کے درمیان ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–26

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–26

قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔ قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

54 قَالَ رَبِّ الخ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کا گستاخانہ جواب سنا اور احکام ربانی سے ان کی بےاعتنائی اور بےرخی ملاحظہ فرمائی تو ان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے مناجات کرنے لگے کہ اے اللہ اس سرکش اور متمرد قوم پر میرا کوئی بس اور زور نہیں چلتا اور وہ تیرے احکام کو نہایت حقارت آمیز طریق سے ٹھکرا رہے ہیں۔ مجھے تو بس اپنی ذات اور اپنے بھائی ہارون پر اختیار ہے اس لیے ہم حاضر ہیں۔ دعاء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ صرف حضرت ہارون (علیہ السلام) ہی کا ذکر کیا ہے حالانکہ یوشع اور کالب بھی مخلص اور فرمانبردار تھے ان کا ذکر نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اخلاص چونکہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 24–26

ربطہ آیات : گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلانے کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے عظیم السطنت بادشاہ مقرر فرمائے اور تمہیں دنیا بھر میں فضیلت عطا کی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ۔۔ مقدس میں تیری اولاد کو آباد کروں گا لہٰذا اس پر قبضہ کرنے کے لیے جہاد کرو ‘ مگر قوم نے کہا کہ وہاں بڑے جبار لوگ رہتے ہیں۔ جب تک وہ وہاں سے چلے نہ جائیں۔ ہم وہاں داخل نہیں ہوں گے۔ البتہ ان میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان راسخ کیا تھا۔ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۝ 25 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–26

ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔ تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟ ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدہ : 25) (موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کچھ زور نہیں ‘ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان علیحدگی کر دے ‘) بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیزاری علیحدگی کردینے کا مفہوم جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجھے ان کی قیادت و اصلاح کے بار عظیم سے سبکدوش کردیا جائے کیونکہ اتنی طویل جدوجہد اور اتنے بیشمار خوارق و عجائب کے بعد بھی ان کی بےیقینی کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں اور جنھیں اپنی زندگی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–26

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء : جب نا ہنجار اور نافرمان قوم نے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کا انکار کیا بلکہ پرلے درجے کی گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو اور تیرا رب جاکرقتال کریں۔ غور فرمائیں، جس قوم کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیشمار مصائب وآلام برداشت کیے اور جس کے لیے اتنی جدوجہد کی کہ اس کا جواب کتنا گستاخانہ اور بزدلانہ ہے۔ یہ سن کر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر کیا گزری ہوگی ؟ لیکن اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کچھ کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فریاد کی کہ الٰہی !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غم و شکوہ کا اظہار : آیت 25 : قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ (کہا اے میرے رب میں اختیار نہیں رکھتا) تیرے دین کی مدد کے لئے اِلاَّ نَفْسِیْ وَاَخِیْ (مگر اپنے اوپر اور بھائی پر) : اخی کا عطف نفسی پر ہو تو یہ معنی ہے مجھے اپنے نفس پر اور بھائی پر قابو ہے یا اِنّ کے اسم پر عطف ہو تو یہ معنی ہوگا۔ میں اختیار نہیں رکھتا مگر اپنے نفس پر اور میرا بھائی بھی اختیار نہیں رکھتا مگر اپنے نفس پر۔ یا یہ مرفوع ہے جبکہ اس کا عطف اِنّ اور اس کے اسم دونوں کے محل پر ہو۔ یا لا املک کی ضمیر پر اس کا عطف ہو اور فصل کے لیے یہ درست ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی ولا یملک اخی الا نفسہ اور میرا بھائی بھی مالک نہیں مگر اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 23–26

آیت نمبر 26, 25, 24, 23 تفسیر :(قال رجلن من الذین یخافون) (کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے) یعنی اللہ سے ڈرنے والوں نے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ” یخافون “ کو یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا کہ یہ دو آدمی ان جبارین میں سے تھے جو السلام لے آئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے۔ (انعم اللہ علیھما) (کہ خدا کی نوازش تھی ان دونوں پر) توفیق اور گناہوں سے بچانے کے ساتھ۔ (ادخلوا علیھم الباب) (گھس جائو ان پر حملہ کرکے دروازہ میں) یعنی جبارین کی بستی میں داخل ہوجائو۔ (فاذا دخلتموہ فانکم غالبون) (پھر جب تم اس میں داخل ہوجائوگے تو تم ہی غالب ہوگے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–26

(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 20–26

آیت 20 اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

انسان اپنے نفس کا کہاں تک مالک ہے قول باری ہے (قال رب انی لا املک الا نفسی واحی۔ اس پر موسیٰ نے کہا۔ ” اے میرے رب ! میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی) یہ بات بھی مجازا کہی گئی ہے اس لئے کہ کوئی انسان نہ اپنی ذات کا حقیقۃً مالک ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے آزاد بھائی کا۔ یہ اس لئے کہ ملک کے اصل معنی قدرت کے ہیں۔ اور یہ بات محال ہوتی ہے کہ کوئی شخص اپنی ذات پر یا اپنے بھائی پر قدرت رکھتا ہو پھر ملک کے اسم کا تصرف کے معنوں پر اطلاق کیا گیا اور اس طرح مملوک کو اس شخص کے حکم میں کردیا گیا جو پوری طرح قابو میں ہو۔ اس لئے کہ قابو پانے والا انسان یعنی آقا اپنے مملوک کو اسی طرح اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

68 اللہ کے سوا کوئی بھی مختار کل نہیں : سو اس پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ اے میرے رب میں کوئی اختیار نہیں رکھتا سوائے اپنی ذات کے اور اپنے بھائی کے بارے میں۔ اور جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اس شان کا مالک ہو اور اس کو مختار کل مانا جائے ؟۔ سو مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس اس سے اہل بدعت کے مختار کل کے خود ساختہ شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ خدا کرے ایسی باتیں ان کے لئے سرمہ بصیرت ثابت ہوں۔ ان کو ہدایت مل جائے اور وہ ان شرکیات سے باز آجائیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ۔ بہرکیف قوم کے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–26

بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 20–26

رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26: اسرار و معارف : بنی اسرائیل کا بگاڑ : دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی ہم کو ان سے علیحدہ کردے ایسا نہ ہو کہ تیرا عذاب نازل ہو اور ان کے ساتھ ہم بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں (کبیر، ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 23–26

(5:23) یخافون۔ ای یخافون اللہ۔ اللہ سے ڈرنے والے۔ انعم اللہ علیہما۔ یہ ان دو آدمیوں کی صفت ہے یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور وفاء عہد کی نعمت سے نوازا تھا۔ ادخلوا علیہم الباب۔ ای ادخلوا الباب علیہم ان پر (چڑھائی کرتے ہوئے) دروازے سے داخل ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 20–26

آیت نمبر 20 تا 26 لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 20–26

مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–27

[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 24–25

(ف 1) بدبختی اور شقاوت کی یہ انتہائی مثال ہے کہ قوم اس رکھائی سے خدا کے پیغمبر (علیہ السلام) کو جواب دیتی ہے ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ خدا اپنے فرستادوں کو ذلت ورسوائی سے کبھی دوچار نہیں ہونے دیتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی دعوت وشمولیت کے معنی یہ تھے کہ بنی اسرائیل قید غلامی سے نکل کر اوج حکومت پر جلوہ آراء ہوجائیں ، مگر وہ لوگ جو ذلت و حقارت کی تمام منزلیں طے کرچکے ہوں کہاں اس درجہ فریس ودانا ہو سکتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ غلامی جرات وجسارت ہی کو غارت نہیں کرتی عقل وہوش کو بھی مٹادیتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3۔ بنی اسرائیل کے اس گستاخانہ جواب کو سن کر حضرت موسیٰ نے جناب باری میں عرض کیا اے میرے پروردگار ! میں سوائے اپنے اور اپنے بھائی کے اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا یعنی میرا کسی پر بس نہیں چلتا مگر میری جان پر اور میرے بھائی پر بس چلتا ہے لہٰذا اب آپ ہمارے اور اس نافرمان قوم کے مابین فیصلہ فرما دیجئے۔ (تیسیر) یہ جو فرمایا الانفسی واخی اس میں علماء نے کم و بیش چھ طرح ترکیب بیان کی ہے ہم نے ایک شکل کو اختیار کرلیا ہے ایک مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے میرے رب میں سوائے اپنی جان کے کسی اور پر اختیار نہیں رکھتا اور میرا بھائی سوائے اپنی جان کے کسی اور کا اختیار نہیں رکھتا…… بہر حال حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–25

ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کا لیڈر جب بےبس ہوجائے تو کیا کرے ؟ قوم سے بیزاری کا اظہار : 93: موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے جواب سے مایوس ہو کر بارگاہ رب ذوالجلال میں اپنی عرضی پیش کرتے ہیں کہ ” اے اللہ ! میں اپنی جان کے سوا اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا پس تو ہم میں اور ان نافرمانوں میں فیصلہ کردے۔ “ اس سے ایک تو یہ رہنمائی حاصل ہوئی کہ قوم جب اپنے لیڈر کے احکام کی نافرمانی کرے تو لیڈر ایسی قوم کو چھوڑ کر دو سری طرف نہ بھاگ جائے اور دوسری طرف ان کی اس نافرمانی پر پردہ ڈال کر اس کی کوئی غلط تعبیر بھی نہ کرے بلکہ اپنا کردار بالکل صاف رکھے نہ تو ان کی ہاں میں ملائے اور نہ ہی ان کو بھٹکتا چھوڑ کر راہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–26

The Determination of Sayyidna Musa (علیہ السلام) against the Treachery of his People The prayer of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ; قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي "0 My Lord, I have no control except over myself" should be seen in the perspective of the events in the life of the people of Bani Isra'il, the favours of Allah bestowed upon them and the conduct of their prophet, Sayyidna Musa (علیہ السلام) in their case. An impartial observer would not fail to notice that the people of Bani Isra'il had been suffering from all sorts of pain and disgrace as slaves and serfs of the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–25

45. This could have two meanings: either that two of those who feared the high-handed people of the Promised Land made that statement or that two of those who feared God did so. (However, most Qur'anic commentators subscribe to the latter meaning - Ed.)

Read the full tafseer →