Explained with ayahs 20–26
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت
حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْمَآىِٕدَة 45
قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ جباروں سے ڈر رہے تھے ان کے درمیان سے دو شخص بول اٹھے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے دو شخصوں نے یہ بات کہی۔
Read the full tafseer →مگر بنی اسرائیل نے جب اپنے پیغمبر موسیٰ ؑ کی بات نہ سنی تو ان دونوں بزرگوں کی کیا سنتے۔ پھر وہی جواب اور زیادہ بھونڈے انداز سے دیا کہ فاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔ یعنی آپ اور آپ کے اللہ میاں ہی جاکر ان سے مقابلہ کرلیں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کا یہ کلمہ اگر استہزاء کے طور پر ہوتا تو صریح کفر تھا اور اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا ان کے ساتھ رہنا۔ ان کے لئے میدان تیہ میں دعائیں کرنا۔ جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔ اس کا امکان نہ تھا۔
اس لئے ائمہ مفسرین نے اس کلمہ کا مطلب یہ قرار دیا کہ آپ جائیے اور ان سے مقابلہ کیجئے۔ آپ کا رب آپ کی مدد کرے گا۔ ہم…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔ یہ بنی اسرائیل کی طرف سے آخری جواب تھا۔ تورات میں یہ جواب ان لفظوں میں تو موجود نہیں ہے لیکن بنی اسرائیل کے گریہ و ماتم کا ذکر ہے۔
بنی اسرائیل کا واویلا : " تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہیں رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے " (گنتی 14:، 1۔ 3)۔ ظاہر…
Read the full tafseer →24۔ 1 لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، سوء ادبی اور سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تو اور تیرا رب جا کر لڑے۔ اس کے برعکس جب جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد و قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کے لئے بھرپور عزم کا اظہار کیا اور پھر یہ کہا کہ ' یارسول اللہ ! ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح قوم موسیٰ نے موسیٰ ؑ کو کہا تھا ' (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
20: یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب (علیہما السلام) تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ ؑ کے وفادار رہے تھے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب…
Read the full tafseer →9 یہ اس قوم کا مقولہ ہے جو نحن ابناء اللہ و احباوہ " کا دعویٰ رکھتی تھی مگر یہ گستاخانہ کلمات ان کے مستمر تمردو طغیان سے کچھ بھی مستبعد نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 24 قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْہَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا
گویا وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ساتھ اپنی یہ لٹھیا بھی لیتے جاؤ ‘ جس نے بڑے بڑے کارنامے دکھائے ہیں ‘ اس کی مدد سے ان جباروں کو شکست دے دو۔
اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوْنَ
ہم تو یہاں ٹکے ہوئے ہیں ‘ یہاں سے نہیں ہلیں گے ‘ زمین جنبد ‘ نہ جنبد گل محمد !
یہ مقام عبرت ہے ‘ تورات Book of Exsodus سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ لگ بھگ چھ لاکھ افراد نکلے تھے۔ ان میں سے عورتیں ‘ بچے اور بوڑھے نکال دیں تو ایک لاکھ افراد تو جنگ کے قابل ہوں گے۔ مزید محتاط اندازہ لگائیں…
Read the full tafseer →55 بنی اسرائیل کا موسیٰ کو جہاد کرنے سے جواب :۔ لیکن یہ قوم جو مدت دراز سے فرعونیوں کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی اور اللہ کی بجائے بچھڑے کی پرستش کر رہی تھی اس قدر پست ہمت اور بزدل بن چکی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جاتے ہم وہاں کبھی نہ جائیں گے اور نہ ہی اپنے آپ کو دیدہ دانستہ ہلاکت میں ڈالنے کو تیار ہیں اگر تمہیں جہاد پر اتنا ہی اصرار ہے تو جاؤ تم اور تمہارا رب جا کر ان سے مقابلہ کرو ہم تو یہاں سے آگے نہیں جائیں گے۔
Read the full tafseer →100 ۔ یہ کہنے والی بنی اسرائیل کی عام جماعت تھی، جو ان فہمائشوں سے غیر متاثر رہی تھی۔ توریت میں اس موقع کی منظر کشی یوں کی گئی ہے :۔” تب ساری جماعت چلا کر روئی اور لوگ اس رات بھر رویا کیے، پھر سارے بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر کڑکڑائے اور ساری جماعت نے انہیں کہا کہ اے کاش ہم مصر میں مرجاتے اور کاش کہ ہم اسی بیابان میں فنا ہوتے ! خداوند کس لیے ہم کو اس زمین میں لایا کہ تلوار سے گرجائیں اور ہماری جوروں اور بچے پکڑے جائیں “۔ (گنتی۔ 14: 1 ۔ 3) ” تب ساری جماعت نے چاہا کہ ان پر (یوشع اور کالب پر) پتھراؤ کرے “۔ (گنتی۔ 14: 10) (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ اسرائیلیوں کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20 تا 26
ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…
Read the full tafseer →قالوا یموسی انا لن ندخلہا ابدا ما داموا فیہا اور کہنے لگے موسیٰ جب تک وہ اس بستی میں ہیں ہم ہرگز کبھی وہاں نہیں جائیں گے۔
فاذہب انت وربک فقاتلا انا ہہنا قاعدون تم اور تمہارا خدا جا کر ان سے لڑیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (یہاں سے نہیں ہلیں گے) ۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل نے یہ بات خدا اور رسول کی اہانت کے طور پر کہی تھی ان کو اللہ اور اس کے رسول کی کوئی پرواہ نہ تھی۔
(میں کہتا ہوں) یہ بات غلط ہے ورنہ ان کا کافر ہونا لازم آجائے گا (اہانت خدا اور رسول موجب کفر ہے) اور کافر ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ رہنا ناممکن تھا۔ وہ لوگ تو حضرت کے ساتھی تھی من وسلویٰ انہیں پر اترا تھا…
Read the full tafseer →(24) مگر قوم بولی آپ اور آپ کا اللہ یا ہارون اور تم چلے جاؤ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا جیسا کہ تم دونوں کی فرعون اور اس کی قوم کی مقابلہ کے وقت مدد کی ہے، ہم نہیں جاسکتے تاہم انتظار میں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ اَبَدًا۔۔ : ان دو آدمیوں نے کہا تھا کہ تم لوگ ان پر حملے کے لیے بس دروازے میں داخل ہوجاؤ، یعنی اللہ کے وعدے اور بشارت کے مطابق تمہارے داخلے کی دیر ہے، دشمن بھاگ جائے گا لیکن انھوں نے حد سے بڑھا ہوا گستاخانہ جملہ کہا : ”جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔“ اس کے برعکس بدر کے موقع پر جنگ کے اچانک سامنے آنے کے باوجود اصحاب رسول ﷺ نے کمال عزم و ہمت اور شجاعت و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ مقداد بن اسود ؓ نے بدر کے دن عرض کیا : ”اے اللہ کے رسول ! ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر : 20 تا 26۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…
Read the full tafseer →(1) امام احمد النسائی اور ابن حبان نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو مسلمانوں سے مشورہ فرمایا اس میں عمر ؓ نے اشارہ کیا پھر ان سے مشورہ طلب کیا تو انصار سے کہا اے انصار کی جماعت کہ رسول اللہ ﷺ خاص کر تمہارا ارادہ رکھتے ہیں (کہ تمہاری کیا رائے ہے) اس پر انصار نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے جیسا بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا لفظ آیت فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر ان کے جگر کے ٹکڑوں کو برک الغماد تک لے جائیں ہم آپ کی اتباع کریں گے۔
(2) امام احمد اور ابن مردویہ نے عتبہ بن عبد السلمی سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنے…
Read the full tafseer →[ قَالُوْا : انھوں نے کہا ] [ يٰمُوْسٰٓى: اے موسیٰ ] [ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَآ : کہ ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے اس میں ] [ اَبَدًا : کبھی بھی ] [ مَّا دَامُوْا : جب تک وہ رہیں گے ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ فَاذْهَبْ : پس جائیں ] [ اَنْتَ : آپ ] [ وَرَبُّكَ : اور آپ کا رب ] [ فَقَاتِلَآ : پھر آپ دونوں جنگ کریں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ ھٰهُنَا : یہیں ] [ قٰعِدُوْنَ : بیٹھنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا
ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔
قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…
Read the full tafseer →53 قَالُوْا یٰمُوْسیٰ الخ ان دونوں کی باتوں کا بنی اسرائیل پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ انہوں نے ان کے وعظ و نصیحت کو کوئی اہمیت ہی نہ دی اور ان کو قابل خطاب بھی نہ سمجھا اور اپنی ضد پر اڑے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے وہی اپنا پہلا جواب دہرایا اور اس کے ساتھ مزید کہا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ الخ بعض مفسرین نے لفظ رب کو اس کے حقیقی مفہوم پر محمول کیا ہے یعنی تم اور تمہارا رب جائیں اور ان سے لڑیں ہم تو یہاں سے ہلیں گے بھی نہیں اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ تم جا کر ان سے لڑو اللہ تمہارا ساتھی ہوگا اور تمہارا ناصر و مددگار ہوگا۔ الوجہ فیہ ان یقال اذھب انت و ربک یعینک علی قتالک (مدارک ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ربطہ آیات :
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلانے کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے عظیم السطنت بادشاہ مقرر فرمائے اور تمہیں دنیا بھر میں فضیلت عطا کی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ۔۔ مقدس میں تیری اولاد کو آباد کروں گا لہٰذا اس پر قبضہ کرنے کے لیے جہاد کرو ‘ مگر قوم نے کہا کہ وہاں بڑے جبار لوگ رہتے ہیں۔ جب تک وہ وہاں سے چلے نہ جائیں۔ ہم وہاں داخل نہیں ہوں گے۔ البتہ ان میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان راسخ کیا تھا۔ اور…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْہَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰہُنَا قٰعِدُوْنَ 24
ابد
قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا .
وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل :
آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد ولیس من کلام العرب العرباء .
وقیل : أبد آبد وأبيد أي : دائم «2» ، وذلک علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟
ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَھَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ ۔ (المائدہ : 24)
(وہ بولے کہ اے موسیٰ ! ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے ‘ جب تک وہ اس میں موجود ہیں۔ تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو ‘ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کا کورا جواب
تورات میں بھی ان کے جواب کا ذکر کیا گیا ہے ‘ جو اگرچہ اس سے کچھ مختلف ہے۔ لیکن ان کی پست ہمتی اور بزدلی کا پوری طرح آئینہ دار ہے۔ تورات میں ہے
(تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء :
جب نا ہنجار اور نافرمان قوم نے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کا انکار کیا بلکہ پرلے درجے کی گستاخی کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تو اور تیرا رب جاکرقتال کریں۔ غور فرمائیں، جس قوم کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیشمار مصائب وآلام برداشت کیے اور جس کے لیے اتنی جدوجہد کی کہ اس کا جواب کتنا گستاخانہ اور بزدلانہ ہے۔ یہ سن کر جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دل پر کیا گزری ہوگی ؟ لیکن اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کچھ کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں فریاد کی کہ الٰہی !…
Read the full tafseer →جہاد سے پس و پیش :
آیت 24 : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَہَآ (انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز داخل نہ ہونگے) یہ تاکیدی انداز سے مستقبل میں داخل ہونے کی نفی ہے۔ اَبَدًا (ہمیشہ) یہ لفظ لا کر نفی مؤکد کو طویل زمانے سے معلق کیا گیا۔ مَّادَامُوْا فِیْہَا (جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں) یہ ابد ًا کا بیان ہے۔ فَاذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ (پس تو اور تیرا رب جائے) علماء کی ایک جماعت نے اس کا ظاہری معنی مراد لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ انہوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ مگر ایسا نہیں کیونکہ بطور اعتقادیہ بات ہوتی تو وہ کفر کرتے۔ تو موسیٰ ( علیہ السلام) ان سے جہاد کرتے۔ کیونکہ اس وقت جبارین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت نمبر 26, 25, 24, 23
تفسیر :(قال رجلن من الذین یخافون) (کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے) یعنی اللہ سے ڈرنے والوں نے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ” یخافون “ کو یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا کہ یہ دو آدمی ان جبارین میں سے تھے جو السلام لے آئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے۔ (انعم اللہ علیھما) (کہ خدا کی نوازش تھی ان دونوں پر) توفیق اور گناہوں سے بچانے کے ساتھ۔ (ادخلوا علیھم الباب) (گھس جائو ان پر حملہ کرکے دروازہ میں) یعنی جبارین کی بستی میں داخل ہوجائو۔ (فاذا دخلتموہ فانکم غالبون) (پھر جب تم اس میں داخل ہوجائوگے تو تم ہی غالب ہوگے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…
Read the full tafseer →قوم موسیٰ کا جنگی تعاون سے انکار
قول باری ہے (قالوا یموسی انا لن نذخلھا ابدا مادا مرا فیھ فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھتا قاعدون۔ انہوں نے پھر یہی کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں، بس تم اور تمہارا رب، دونوں جائو اور لڑو ہم یہاں بیٹھتے ہیں۔ )
قول باری (فاذھب انت وربک فقاتلا) میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے یہ بات بطور مجاز کہی تھی یعنی تم جائو اور تمہارا رب تمہاری مدد کرے گا “۔
دوسرے یہ کہ ذہاب یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے۔ اس صورت میں قائل کے اس قول کو اس کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو جسم اور…
Read the full tafseer →67 وفا اور بےوفائی کے دو متضاد اور عبرت انگیز نمونے : سو یہاں پر اصحاب موسیٰ کی بےوفائی اور ہمارے حضور ﷺ کے صحابہ کرام کی جاں نثاری کا ایک نمونہ بھی ملاحظہ ہو۔ ـ سو یہ تھا حال اس ناہنجار قوم کا۔ ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے اتنے معجزات دیکھے اور ان کے توسط سے وہ اللہ پاک کی گوناگوں نعمتوں سے سرفراز ہوئے۔ مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں نے آنجناب کے حکم و ارشاد کے جواب میں ایسی گستاخانہ بات کہتے ہوئے بھی کوئی شرم محسوس نہ کی۔ اس کے مقابلے میں ہمارے آقا ۔ صَلَوات اللّٰہِ وسَلَامُہٗ عَلَیْہِ ۔ کے جان نثار صحابہ کرام کی شان یہ تھی کہ غزوئہ بدر کے مشورے کے موقع پر انہوں نے عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26:
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کا بگاڑ :
دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…
Read the full tafseer →ف 9 ان برعکس صحابہ ؓ کرام نے ہر موقعہ پر عزم وہمت کا ثبوت دیا۔ اس کا انداز ہ جنگ بدر کے واقعہ سے ہوسکتا ہے کہ جب مہاجرین ؓ کے بعد آنحضرت ﷺ نے انصار کی رائے معلوم کرنی چاہی تو حضرت سعد بن معاذ ؓ اپنی تقریر میں فرمایا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ہمیں لے کر اس سمندر میں کود نا چاہیں تو ہم میں سے کسی کو انکار نہ ہوگا۔ ہم حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے کہا تھا آپ اور آپ کا پروردگار جا کر جنگ کریں ہم تویہاں بیٹھے ہیں۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(5:23) یخافون۔ ای یخافون اللہ۔ اللہ سے ڈرنے والے۔
انعم اللہ علیہما۔ یہ ان دو آدمیوں کی صفت ہے یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور وفاء عہد کی نعمت سے نوازا تھا۔
ادخلوا علیہم الباب۔ ای ادخلوا الباب علیہم ان پر (چڑھائی کرتے ہوئے) دروازے سے داخل ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر 20 تا 26
لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(ف 1) بدبختی اور شقاوت کی یہ انتہائی مثال ہے کہ قوم اس رکھائی سے خدا کے پیغمبر (علیہ السلام) کو جواب دیتی ہے ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ خدا اپنے فرستادوں کو ذلت ورسوائی سے کبھی دوچار نہیں ہونے دیتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی دعوت وشمولیت کے معنی یہ تھے کہ بنی اسرائیل قید غلامی سے نکل کر اوج حکومت پر جلوہ آراء ہوجائیں ، مگر وہ لوگ جو ذلت و حقارت کی تمام منزلیں طے کرچکے ہوں کہاں اس درجہ فریس ودانا ہو سکتے ہیں ۔
بات یہ ہے کہ غلامی جرات وجسارت ہی کو غارت نہیں کرتی عقل وہوش کو بھی مٹادیتی ہے ۔
Read the full tafseer →ف 2۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے جواب دیا اے موسیٰ ! جب تک وہ لوگ وہاں موجود ہیں ہم ہرگز کبھی بھی اس سرزمین میں قدم نہیں رکھیں گے اور اگر ان سے لڑنا ہی ہے تو اے موسیٰ ! تو اور تیرا رب دونوں جائو اور ان سے تم دونوں جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں اور ہم تو یہاں سے سرکنے والے نہیں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ہم تو کسی طرح اس سرزمین پر قبضہ اور تسلط رکھنے والوں سے لڑنے پر آمادہ نہیں ہیں اور اگر لڑنا ہی ہے اور ایسا کرنا ضروری ہے تو پھر اے موسیٰ تم چلے جائو اور تمہارا رب تمہاری مدد کرنے چلا جائے اور جا کر لڑ لو ہم تو یہاں سے قدم بڑھانے اور جہاد کرنے کو جانے والے نہیں بظاہر بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔
Read the full tafseer →نبی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسا جواب دیا جو ان کی ڈھٹائی پر دال ہے :
92: بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کی نافرمانی کی اور دشمن سے خائف ہو کر جہاد سے قطعی انکار کردیا جو ان کی ڈھٹائی کی کھلی دلیل ہے ۔ اس سے پوری قوم کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی بزدلی اور دہشت زدگی کا یہ عالم ہو ان کے لئے حضرت موسیٰ ، ہارون ، یوشع اور کالب کی یقین دہانی کہ ” خدا ہمارے ساتھ ہے تم ان کا خوف نہ کرو۔ “ بالکل بےسود تھی۔ وہ ایسے نازل موقع پر بھی طنز سے باز نہ آئے اور یہ بھی مردہ قوموں کی ایک واضح نشانی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی سانپ کی طرح ” دس گھولتی “ رہتی ہیں اور اس…
Read the full tafseer →But the Bani Isra'il who had not listened to their own prophet Sayyidna Musa (علیہ السلام) would have hardly listened to these elders. They gave them the same response, even in a manner which was more uncouth and grotesque. They said: فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ (So go, you and your Lord, and fight. As for us, we are sitting right here). Had this remark of the Bani Isra'il been by way of mockery, it would have been open blasphemy (Kufr). After that, the fact of Sayyidna Musa (علیہ السلام) living with them and praying for them in the wilderness of Tih which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
45. This could have two meanings: either that two of those who feared the high-handed people of the Promised Land made that statement or that two of those who feared God did so. (However, most Qur'anic commentators subscribe to the latter meaning - Ed.)
Read the full tafseer →