Explained with ayahs 20–26
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت
حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الْمَآىِٕدَة 45
قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ جباروں سے ڈر رہے تھے ان کے درمیان سے دو شخص بول اٹھے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے دو شخصوں نے یہ بات کہی۔
Read the full tafseer →قرآن کریم نے اس جگہ ان دونوں بزرگوں کی دو صفتیں خاص طور پر ذکر فرمائی ہیں۔ ایک الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ یعنی یہ لوگ جو ڈرتے ہیں۔ اس میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس سے ڈرتے ہیں۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ڈرنے کے لائق سارے عالم میں صرف ایک ہی ذات ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ کیونکہ ساری کائنات اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کی مشیت و اذن کے بغیر کوئی نہ کسی کو ادنیٰ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ادنیٰ نقصان اور جب ڈرنے کے لائق ایک ہی ذات ہے اور وہ متعین ہے تو پھر اس کے تعین کی ضرورت نہ رہی۔
دوسری صفت ان بزرگوں کی قرآن کریم نے یہ بتلائی کہ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، اس میں اس…
Read the full tafseer →قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْهِمُ الْبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔
یوشع اور کالب کا مثالی کردار : رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا، رجلان سے مراد، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، یوشع اور کالب ہیں جو اس مہم کے ارکان میں تھے جو فلسطین کے حالات کی تفتیش کے لیے بھیجی گئی تھی۔ " الذین یخافون " میں عام طور پر لوگوں نے " یخافون " کے مفعول کو محذوف مانا ہے یعنی یخافون اللہ، وہ اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے۔ اگرچہ میرے استاذ ؒ کا…
Read the full tafseer →23۔ 1 قوم موسیٰ ؑ میں صرف یہ دو شخص صحیح معنوں میں ایماندار نکلے، جنہیں نصرت الٰہی پر یقین تھا انہوں نے قوم کو سمجھایا کہ تم ہمت تو کرو، پھر دیکھو کس طرح اللہ تمہیں غلبہ عطا فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
20: یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب (علیہما السلام) تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسیٰ ؑ کے وفادار رہے تھے اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا، انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرکے آگے بڑھو تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہوگے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِمَا ادْخُلُواْ عَلَیْْہِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوہُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللّہِ فَتَوَکَّلُواْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (23)
”(ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ ‘ جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے ‘ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو)
یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ پر بھروسے اور خدا خوفی کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ دو شخص وہ تھے جو اللہ سے ڈرتے تھے اور ان کی خدا خوفی ان کے اندر اس قدر…
Read the full tafseer →6 دو شخص حضرت یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا تھے جو خدا سے ڈرتے تھے اسی لئے عمالقہ وغیرہ کا کچھ ڈر ان کو نہ رہا۔
ہر کہ تر سید از حق وتقویٰ گزید ترسد ازوے جن وانس و ہر کہ دید
7 یعنی ہمت کر کے شہر کے پھاٹک تک تو چلو پھر خدا تم کو غالب کرے گا خدا اسی کی مدد کرتا ہے جو خود بھی اپنی مدد کرے۔
8 معلوم ہوا کہ اسباب مشروعہ کو ترک کرنا توکل نہیں۔ " توکل " یہ ہے کہ کسی نیک مقصد کے لئے انتہائی کوشش اور جہاد کرے پھر اس کے مثمر و منتج ہونے کے لئے خدا پر بھروسہ رکھے اپنی کوشش پر نازاں اور مغرور نہ ہو۔ باقی اسباب مشروعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں باندھتے رہنا توکل نہیں تعطل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 23 قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمَا
یہ دو اشخاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد اور قریبی حواری تھے۔ ایک تو یوشع بن نون تھے ‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے جانشین بھی ہوئے اور گمان غالب ہے کہ وہ نبی بھی تھے ‘ جبکہ دوسرے شخص کالب بن یفنّا تھے۔ ان دونوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ ہمت کرو :
ادْخُلُوْا عَلَیْہِمُ الْبَابَ ج۔
تم لوگ ایک دفعہ دروازے میں گھس کر ان کا سامنا تو کرو۔
Read the full tafseer →54 فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے بارہ افراد پر مشتمل جو وفد بھیجا گیا تھا ان میں دو آدمی یوشع بن نون اور کالب بھی تھے۔ اور یہ دونوں پکے مومن تھے یوشع تو غالباً وہی ہیں جنہوں نے سیدنا خضر کی تلاش میں سفر میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا تھا۔ اور بعد میں ان کے خلیفہ بھی بنے۔ ان دونوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق وہاں کے حالات کی عام لوگوں کے سامنے تشہیر نہیں کی تھی اور تمام حالات خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ سے بیان کیے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھی انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو اپنی قوم سے کہنے لگے، چونکہ اللہ نے فتح و نصرت کا ہم سے وعدہ کر رکھا ہے…
Read the full tafseer →98 ۔ (ان کم ہمتوں کو حوصلہ دلانے کے لیے) (آیت) ”۔ رجلن “۔ ان میں سے ایک کا نام یوشع بن نون تھا۔ اور دوسرے کا کالب بن یوقنا۔ یوشع سردار تھے قبیلہ بنی افرائیم کے اور کالب قبیلہ بنی یہودا کے۔ (آیت) ” من الذین یخافون “۔ یعنی وہ لوگ جن میں خوف خدا تھا۔ جن کے دلوں میں تقوی الہی اور خشیت تھی، ای یخافون اللہ سبحانہ ویتقونہ (بیضاوی) کانہ قیل رجلان من المتقین (کشاف) (آیت) ” انعم اللہ علیہما “۔ اللہ کا فضل وانعام اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ انہیں حق گوئی پرستی کی توفیق دی اور وہ شوکت کفار سے مرعوب نہ ہوئے۔ ای بالیقین والصلاح (قرطبی) موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسا کہ ہر دانشمند فوجی لیڈر کو ایسے موقع پر کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20 تا 26
ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے،…
Read the full tafseer →قال رجلن من الذین یخافون جو لوگ اللہ سے ڈرتے تھے ان میں سے دو آدمیوں نے یعنی کالب اور یوشع نے کہا۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے یہ دو آدمی اور تھے (بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے بلکہ) عمالقہ میں سے تھے جو مسلمان ہو کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس آگئے تھے اس صورت میں آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا کہ اس قوم کے دو آدمیوں نے کہا جن سے بنی اسرائیل ڈرتے تھے اس مطلب کی تائید سعید بن جبیر کی قرأت سے بھی ہوتی ہے جس میں یُخَافُوْنَکی جگہ یُخَافُوْنَ (بصیغۂ مجہول آیا ہے) اخرجہ ابن جریر عن سعید بن جبیر و رواہ الحاکم و صحیحہ ابن عباس۔
انعم اللہ علیہما جن کو اللہ نے (ایمان و اطمینان دے کر) نوازا تھا۔ یہ فقرہ…
Read the full tafseer →(23) مگر یوشع بن نون اور کالب بن یوقتا جو اللہ تعالیٰ سے خوف رکھنے والے تھے، انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی تائید میں فرمایا، ان لوگوں سے نہ ڈرو اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اس علاقے میں داخل ہوجاؤ۔ اس کے معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ یہ دونوں حضرات موسیٰ ؑ سے ڈرتے تھے اور ان کے زبردست لوگوں میں سے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرما کر انھیں دولت توحید سے بہرہ مند فرمایا۔
Read the full tafseer →قَالَ رَجُلٰنِ : اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کا ذکر بطور نکرہ فرمایا ہے اور کسی حدیث میں بھی ان کے ناموں کی صراحت نہیں آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر : 20 تا 26۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان ہے کہ ان کے اسلاف نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر سرکشی کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے اوپر سرکشی کی، یہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، یعنی اے ایمان والو ! اللہ کی نعمت کو یاد کرو، جو تم پر ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کو یاد کرو، حضرت عبداللہ بن کثیر (رح) سے مروی ہے کہ انہوں نے یا قوم اذکروا “۔ (میم کے ضمہ کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح جو اس کے مشابہ ہیں تقدیر یا ایھا القوم ہے۔ (آیت) ” اذ جعل فیکم انبیآء “ انبیاء غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(1) امام ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کی کہ انہوں نے لفظ آیت ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ان کے ایسے جسم اور ایسی صورتیں تھیں کہ ان کے علاوہ کسی کی نہیں تھیں۔
(2) امام عبد الرزاق اور عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے لفظ آیت قالوا یموسیٰ ان فیھا قوما جبارین کے بارے میں فرمایا کہ ہم سے زیادہ لمبے تھے جسم کے لحاظ سے اور سخت قوت والے تھے۔
(3) امام ابن عبد الحکم نے فتوح مصر میں ابو ضمرہ (رح) سے روایت کیا موسیٰ کی قوم سے ستر آدمیوں نے عمالیق میں سے ایک آدمی کے موزوں کے نیچے سایہ حاصل کیا۔
(4) امام بیہقی نے شعب الایمان میں…
Read the full tafseer →[ قَالَ رَجُلٰنِ : کہا مردوں نے ] [ مِنَ الَّذِيْنَ : ان میں سے جو ] [ يَخَافُوْنَ : ڈرتے ہیں (اللہ سے )] [ اَنْعَمَ : انعام کیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ عَلَيْهِمَا : جن پر ] [ ادْخُلُوْا : (کہ ) داخل ہوجاؤ] [ عَلَيْهِمُ : ان پر ] [ الْبَابَ ۚ فَاِذَا : پھر جب ] [ دَخَلْتُمُوْهُ : تم لوگ داخل ہوگے اس سے ] [ فَاِنَّكُمْ : تو یقینا تم لوگ ] [ غٰلِبُوْنَ ۥ ۚ : غلبہ پانے والے ہوگے ] [ وَعَلَي اللّٰهِ : اور اللہ پر ہی ] [ فَتَوَكَّلُوْٓا : پس تم لوگ بھروسہ کرو ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ] [ مُّؤْمِنِيْنَ : مومن ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا
ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
قصہ بدعہدی وبزدلی بنی اسرائیل در بارہ جہاد۔
قال تعالی، واذ قال موسیٰ لقومہ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الفاسقین۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی عہد شکنیوں کا بیان تھا اب ان ایات میں ان کی ایک عہد شکنی اور بزدلی اور اس کے انجام کا بیان ہے کہ اللہ کا کلیم تمہارے درمیان موجود تھا اس نے تم کو جہاد کی دعوت دی اور فتح کی بشارت بھی سنا دی کہ اللہ سے یہ زمین تمہارے لیے لکھ دی ہے یعنی رجسٹری کردی ہے مگر تم جہاد سے جان چرا گئے اور کلیم اللہ سے مجادلہ کرنے لگے حالت تو تمہاری یہ ہے کہ اور دعوی یہ ہے کہ ہم ابناء اللہ اور احباء اللہ ہیں اس قصہ میں ان کے دعوائے نحن ابناء اللہ واحباءہ کی تکذیب اور تردید ہے اور فلم…
Read the full tafseer →52 قَالَ رَجُلٰنِ الخ رجلان سے یوشع بن نون اور کالب بن یونا مراد ہیں۔ یَخافُوْنَ کا مفعول محذوف ہے یعنی اللہ جب بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مذکورہ بالا بزدلانہ جواب دیا تو ان میں جو لوگ خدا ترس تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم پر جہاد کے لیے تیار تھے ان میں سے دو شخص یوشع اور کالب جن کو اللہ تعالیٰ نے رسوخ فی الایمان اور ثبات و استقلال کی نعمت سے نوازا تھا اور وہ زبان موسیٰ سے امداد خداوندی اور فتح و نصرت کے وعدے پر پورا پورا اعتماد رکھتے تھے ھذان رجلان ھما یوشع بن نون و کالب بن یوقنا و کانا من الذین یخافون اللہ و انعم اللہ علیہما بالھدایۃ والشقۃ بعون اللہ والاعتماد علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ربط آیات
پہلے اہل کتاب کے دونوں گروہوں یہودو نصاریٰ کا رد فرمایا اور نصیحت کے طور پر یہ بات کہ دی کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول اور اس کی کتاب آگئی ہے۔ اگر تم خرابی سے نکلنا چاہتے ہو تو اس کا اتباع کرو۔ اس سے پہلے یہ بھی واضح فرمایا تھا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دل سخت ہوگئے پھر انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کا ارتکاب کیا۔ نصاریٰ کے متعلق فرمایا کہ ان کی طرف سے ترک نصیحت کے جرم میں ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی کا بیج بو دیا اور وہ آپس میں دست و گریباں رہے۔ اہل کتاب کی انہی خصلتوں کے پیش نظر اس سورة کی ابتداء میں اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا اوفوا…
Read the full tafseer →قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْہِمُ الْبَابَ 0ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ 0ۥۚ وَعَلَي اللہِ فَتَوَكَّلُوْٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 23
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟
ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ…
Read the full tafseer →قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللہ ُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ ج فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہٗ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ 5 ج وَ عَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 23)
(دو شخصوں نے ‘ جو تھے تو انہی ڈرنے والوں ہی میں سے اور اللہ کا ان پر فضل تھا ‘ للکارا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے پھاٹک میں گھس جاؤ۔ جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تمہی غالب رہو گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو ‘)
تاریخی روایات میں ہے کہ ان دو نوجوانوں کا نام یوشع اور کالب تھا۔ حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے۔ یہ دونوں بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : قوم کا موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکمت عملی کے تحت قوم کے سرداروں کو فلسطین کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے یہ کہہ کر روانہ کیا کہ ان کی فوجی طاقت کا جائزہ لے کر مجھے رپورٹ دینا لیکن یاد رکھنا یہ خبر بنی اسرائیل یعنی عوام کو نہیں پہنچنا چاہیے۔ اس کے باوجود بارہ میں سے دس لیڈروں نے موسیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے اپنے قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو صورت حال بتلائی کہ جس سر زمین کی طرف ہمیں پیش قدمی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے کڑیل جوان، جنگ جو اور بہادر لوگ ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں چناچہ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →آیت 23 : قَالَ رَجُلٰنِ (ان دو شخصوں نے کہا) رجلان سے مراد کالب اور یوشع ہیں۔ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ (ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف رکھتے تھے) گویا اس طرح کہا کہ دو متقی مردوں نے کہا۔
نحو : یہ محل رفع میں رجلان کی صفت ہے اس طرح انعم اللّٰہ علیہما بھی۔
غلبے کا وعدہ :
اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمَا (جن پر اللہ تعالیٰ نے (اپنے سے ڈرنے کا) انعام فرمایا تھا۔ ادْخُلُوا عَلَیْہِمُ الْبَابَ (تم ان کے شہر کے دروازہ میں داخل ہوجائو) فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ (جو نہی تم اس میں داخل ہوگے تم غالب آجائو گے) اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور غلبہ تمہیں حاصل ہوجائے گا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت نمبر 26, 25, 24, 23
تفسیر :(قال رجلن من الذین یخافون) (کہا دو مردوں نے اللہ سے ڈرنے والوں میں سے) یعنی اللہ سے ڈرنے والوں نے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ” یخافون “ کو یاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور کہا کہ یہ دو آدمی ان جبارین میں سے تھے جو السلام لے آئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ چل پڑے۔ (انعم اللہ علیھما) (کہ خدا کی نوازش تھی ان دونوں پر) توفیق اور گناہوں سے بچانے کے ساتھ۔ (ادخلوا علیھم الباب) (گھس جائو ان پر حملہ کرکے دروازہ میں) یعنی جبارین کی بستی میں داخل ہوجائو۔ (فاذا دخلتموہ فانکم غالبون) (پھر جب تم اس میں داخل ہوجائوگے تو تم ہی غالب ہوگے) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
(20 ۔ 26) ۔ اوپر گزرچکا ہے کہ مصر سے شام کے ملک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیا جاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے یہی ملک انبیاء کے رہنے کی جگہ ہے۔ ان آیتوں میں اسی لڑائی کا ذکر ہے اسی لڑائی کے قصہ کے ذکر میں آنحضرت ﷺ کی گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اے رسول اللہ نافع بن حرملہ وغیرہ نے تمہاری دل شکنی کی باتیں جو کی ہیں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے ان لوگوں کے بڑے اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑی بڑی دل شکنی کی باتیں کرچکے ہیں۔ حضرت اسحاق (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت 20
اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چناچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ “ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ…
Read the full tafseer →خوف کے ہوتے ہوئے حق گوئی کی عظمت
قول باری ہے (قال رجلان من الذی یخافون انعم اللہ علیھما ادخلوا علیھم الباب۔ ان ڈرنے والوں میں سے دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلہ میں دروازوں کے اندر گھس جائو “ )
قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (یخافون) سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ سے ڈرتے تھے، لیکن دوسرے اہل علم کا قول ہے کہ وہ لوگ ان جباروں سے ڈرتے تھے لیکن اس خوف اور ڈرنے نے انہیں کلمۂ حق کہنے سے باز نہیں رکھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دو مرد حق کی تعریف کی یہ چیز خوف اور ڈر کے موقعہ پر کلمۂ حق کہنے کی فضیلت اور اس کی شرف منزلت پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →64 اطاعت خدا و رسول ذریعہ فوز و فلاح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری وسیلہ فوز و فلاح اور کامیابی و سرفرازی ہے۔ـ سو جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق وہاں سے واپسی پر عمالقہ کے زور و قوت کا اظہار اپنی قوم سے نہیں کیا تھا اس کے نتیجہ میں وہ اپنی جماعت کے ان دوسرے لوگوں کی طرح کم ہمتی کا شکار بھی نہیں ہوئے۔ اور اس امتحان میں کامیاب بھی رہے۔ پس معلوم ہوا کہ مومن کی کامیابی دراصل خدا وند تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کو دل و جان سے ماننے اور اپنانے میں ہے اور بس۔ حیات دنیا کی اس عارضی فرصت میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بنی اسرائی کا جہاد سے منہ چڑانا
تشریح : ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ جب فرعون ان کے سامنے غرق ہوا تو مصر میں ان کو امن وامان کی زندگی مل گئی مگر نافرمانی سے باز نہ آئے، پھر جب ان کو جہاد شام کا حکم ہوا تو اس حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ ملک شام ارض مقدس، بیت المقدس پر اس وقت عمالقہ کا قبضہ تھا۔ جن سے وہ ڈر گئے، حالانکہ بارہ سرداروں میں سے دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا نے ان کو بڑی ہمت دلائی اور فتح کا یقین بھی دلایا۔ مگر وہ جہاد کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس پر چالیس سال تک وہ ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اسی دوران سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
رکوع نمبر 4 ۔ آیات نمبر 20 تا 26:
اسرار و معارف :
بنی اسرائیل کا بگاڑ :
دنیا میں انسانیت پہ اور بنی آدم پہ اللہ نے کیا کیا انعامات کئے اور کتنے احسانات فرمائے اس کا اندازہ انسان کے بس سے باہر ہے اور انسانوں سے کس قدر لغزشیں کوتاہیاں بلکہ نافرمانیاں وقوع پذیر ہوئیں یہ شمار کرنا بھی ناممکن مگر ایک بات سامنے آجاتی ہے کہ پھر اللہ ہی کی رحمت اور اسی کی شفقت گرتے پڑتے انسانوں کو تھام لیتی ہے اور وہ کتنا حلیم کس قدر بردبار اور عظیم ہے اس قدر کہ اس کے برابر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا رہے یہ بنی اسرائیل تو ان کی عمومی گمراہی کی بات تو ہوچکی ایک خاص واقعہ بھی سن لیجئے اور بڑی عجیب بات ہے کہ ایسے زمانے میں…
Read the full tafseer →ف 8 اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کا ذکر بطور نکرہ فرمایا ہے اور کسی حدیث میں بھی ان کے ناموں کی صراحت نہیں آئی تاہم تورات کی ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے تمام مفسرین نے ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یافنا بتایا ہے اور یہ دونوں ان بارہ نقیبوں میں تھے جن کا ذکر گزر چکا ہے (ابن کثیر قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(5:23) یخافون۔ ای یخافون اللہ۔ اللہ سے ڈرنے والے۔
انعم اللہ علیہما۔ یہ ان دو آدمیوں کی صفت ہے یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور وفاء عہد کی نعمت سے نوازا تھا۔
ادخلوا علیہم الباب۔ ای ادخلوا الباب علیہم ان پر (چڑھائی کرتے ہوئے) دروازے سے داخل ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
آیت نمبر 20 تا 26
لغات القرآن : ملوک (ملک) ۔ بارشاہ۔ حکمراں۔ اتکم (اس نے تمہیں دیا) ۔ لم یؤت (نہیں دیا) ۔ احد (کسی ایک کو) الارض المقدسۃ (پاک زمین۔ (سر زمین شام فلسطین) ۔ لاترتدوا (ارتداد۔ رد) تم نہ پلٹو) ۔ ادبار (دبر) ۔ پیٹھ۔ تنقلبوا (تم پلٹ جاؤ گے۔ تم ہوجاؤ گے) ۔ جبارین (جبار) ۔ زبردست۔ طاقت ور) ۔ لن ندخل (ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے) ۔ حتی یخرجوا (جب تک وہ نہ نکلیں) ۔ رجلان (رجل) ۔ دو مرد۔ دو آدمی) ۔ یخافون (وہ خوف رکھتے ہیں) ۔ انعم اللہ (اللہ نے انعام کیا تھا) ۔ الباب (دروازہ) ۔ دخلتموہ (تم داخل ہوگے اس میں) ۔ غلبون (غلبہ پانے والے۔ غالب آنے والے) ۔ ابدا (ہمیشہ۔ کبھی بھی) ۔ داموا (وہ ہیں) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–26
مطلب یہ ہے کہ ملک شام کا سفر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی غرض سے کیا تھا کہ قوم عمالقہ کو ملک شام کی بستیوں سے لڑکر نکال دیاجاوے اور بنی اسرائیل کو ان بستیوں میں آباد کردیا جاوے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کے رسول سچے ہیں۔ اس لڑائی کے بعد ملک شام میں بنی اسرائیل کی بادشاہی قائم ہوگی۔ اس کی نظیر کے لئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اور اس بادشاہت کی یادگار کے لئے بیت المقدس کی عمارت کافی ہے۔ '' دیا تم کو جو نہیں دیا کسی کو جہان میں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ کی وہ نعمتیں پائیں جو اس زمانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
[23] مراد ہے فلسطین کی سرزمین۔ اس کو مقدس اس لئے کہا گیا کہ وہاں کثرت سے پیغمبر ہوئے ہیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ ان کے لئے نامزد کردیا اور حکم دیا کہ اس کو جا کر فتح کرلو۔
Read the full tafseer →(ف 3) یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا صرف یہ دو آدمی تھے جو مجاہدانہ ولولوں کے ساتھ میدان جنگ میں آکودے ۔
(آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا “ سے مراد یہ ہے کہ خدا پر پورا بھروسہ اور اعتماد مترادف ہے جذبہ جہاد کے وہ لوگ جو کفر کے خلاف توکلا علی اللہ “ صف آراء ہوجاتے ہیں ‘ وہی لوگ غلبہ ونصرت سے دوچار ہوتے ہیں اور وہ جو قلت و کثرت اسلحہ و سامان کے جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں ان کے لئے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ۔
حل لغات :
ملوک : جمع ملک بمعنی بادشاہ ۔ صاحب اختیار ۔
جبارین : جمع جبار ۔ زبردست ، توانا اور قوی ۔
الباب : شہر کا دروازہ ۔
Read the full tafseer →ف 1 بنی اسرائیل کے اس خشک جواب پر ان دو شخصوں نے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے اور متقیوں میں سے تھے اور جن پر اللہ تعالیٰ نے نوازش فرمائی تھی ان دونوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے دروازے سے گھس جائو پھر جب تم شہر کے دروازے میں داخل ہو جائو گے۔ اور دروازے کا محاصرہ کرلو گے تو یقین جانو ! کہ تم ان پر غالب آ جائو گے اور اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو۔ (تیسیر)
ان دو شخصوں سے مراد بظاہر کالب اور یوشع ہیں جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ ان بارہ سرداروں میں سے دوسردار اپنے عہد پر قائم رہے اور انہوں نے جبابرہ کی قوت و شوکت کا اظہار نہیں کیا انہی کو فرمایا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 6۔ دنیا میں بھی کہ توسیع ملک سے محروم رہو گے اور آخرت میں کہ ترک فریضہ جہاد سے گناہ گار ہو گے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کے ان دو سرداروں کا بیان جو اللہ کا ڈر دل میں رکھتے تھے :
91: قوم بنی اسرائیل کی اکثریت نے جو جواب موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا اس کا ذکر گزر چکا ہے تاہم ان میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھنے والے تھے لیکن جو وعدے جمعیت کے ساتھ خاص ہوں وہ اس وقت تک کب پورے ہوتے ہیں جب تک جمعیت ہی صالح انسانوں کی مرسج نہ آئے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے جن وعدوں کا قوم کے ساتھ ذکر کیا وہ انفرادی نہیں بلکہ قومی وعدے تھے اس لئے جب تک قوم کی اکثر یت کی حالت نہ درست ہوئی وعدوں کا موخر ہونا لازم و ضروری تھا اور یہی کچھ ہوا۔ بہرحال ان دو شخصوں نے بھی اپنا زور بیان خرچ کیا تاکہ قوم…
Read the full tafseer →At this place, the Holy Qur'an has particularly mentioned two attributes of these two elders: (1) الَّذِينَ يَخَافُونَ , that is, 'those who fear.' Not said here is as to who it is that they fear. The hint thus given is that there is only one Being in this whole world who deserves to be feared, that is, Allah Jalla Sha'nuhu, because He is the Absolute Master of this entire universe. No one can, without His will and permission, bring the least benefit to anyone, nor cause any harm - and when only one Being is deserving of being feared, and that is already determined, then, there remains no…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
45. This could have two meanings: either that two of those who feared the high-handed people of the Promised Land made that statement or that two of those who feared God did so. (However, most Qur'anic commentators subscribe to the latter meaning - Ed.)
Read the full tafseer →